Shukr All cross-references →
Hadith 3062
Bukhari 3062
Read the original at sunnah.com ↗

Hadith numbering is edition-dependent — verify against the source.

Explained in 24 book passages and 19 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

God And The Universe (p. 27) A original + quote

…exploring other phenomena in the universe. However, this method proves inapplicable to the Creator (God), leading to their ultimate failure. The situation regarding secular philosophers and religious theologians is similar in this regard.

A tradition in the books of Hadith states: “God will certainly make a non-religious person support this religion.” (Sahih al-Bukhari, Hadith No. 3062 I Sahih al-Bukhari, Hadith No. 4203). In this Hadith, the term ‘al-Rajul al-Fajir’ refers to a secular person. This authentic clue suggests that a secular figure would provide initial guidance in this matter. As we have seen, philosophers and Muslim theologians have failed to find the correct guidance.

I have contemplated this topic extensively and realized that the ‘al-Rajul al-Fajir’ (secular person) mentioned in Sahih al-Bukhari is most likely the Italian scientist Galileo Galilei, born four hundred years ago. Galileo’s contribution…

Al-Risala May 2022 A original + quote

Scientific temper refers to an attitude of logical and rational thinking.

موجودہ زمانے کو ایج آف ریزن (age of reason)کہا جاتا ہے۔ ایج آف ریزن کا مطلب ہےآزاد یٔ فکر (free thought) کا دور یا فری انکوائری کا دور۔ ایج آف ریزن نے تاریخ میں پہلی بار سوچنے کی راہ میں تمام رکاوٹوں کاخاتمہ کردیا ۔ فری انکوائری میں ہر چیز جو رکاوٹ بنتی تھی، وہ سب ہٹ گئی۔ اس حقیقت کی طرف اس حدیث رسول میں اشارہ ہےإِنَّ اللہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی بیشک اللہ اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے کرے گا۔ دور جدید کے اعتبار سے اس حدیثِ رسول کا مطلب یہ ہے کہ غیر مسلم، بشمول فاجر انسان (including the irreligious)کے ذریعے برپا کیے ہوئے سائنسی اور فکری انقلاب سے دین کی مدد ہوگی۔

سائنس اور تعقل پسندی (rationalism) دونوں اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ہیں۔ سائنس نے دراصل پہلی بار علمی غور وفکر کے لیے ایک ریلائبل فریم ورک (reliable framework)دیا، یعنی عقلی فریم ورک(rational framework)۔ سائنس کے دور سے پہلے انسان کے پاس…

Al-Risala January 2022 A original + quote

…یہ کیا کہ مسلم لیڈروں کے سامنے سیاسی معاملے کو عظیم بنا کر پیش کیا، اور خدا کی معرفت اور دعوت کے میدان کو غیر حقیقی بنا کر پیش کیا۔ چنانچہ مسلم دنیا سترھویں صدی سے لے کر اب تک اسی تزئین میں پھنسی ہوئی ہے، اور اس سے باہر نہیں نکل پائی ہے۔

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے إِنَّ اللہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی بے شک اللہ تعالی فاجر انسان کے ذریعے اس دین کی تائید کرے گا۔ایک اور روایت میں اس کو’’غیر اہل دین‘‘کے الفاظ میں بیان کیا گیاہے:إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا ھُمْ مِنْ أَھْلِہ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ یعنی بے شک اللہ تعالی اس دین کی تائید ان لوگوں کے ذریعے کرے گا جو غیر اہل دین ہوں گے۔

یہ بہت اہم پیشین گوئی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانہ میں ، جب کہ اسلام اجنبی بن جائے گا،اس وقت یہی بے دین اور غیر اہل دین، خدائی دین کے مددگار ثابت ہوں گے، خواہ بالواسطہ انداز میں ہو یا بلاواسطہ انداز میں۔ یہی لوگ ہوں گےجن کے ذریعے…

Al-Risala February 2021 A original + quote

…مسلم سلطنتوں کو زیر کرلیا۔ مثلاً عثمانی ایمپائر، مغل ایمپائر، وغیرہ۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اس سیاسی محرومی کو برداشت نہ کرسکے، اور تقریباً تمام مسلمان مغرب کے خلاف نفرت یا تشدد میں مبتلا ہوگئے، جس کو ہم نے عمومی ویسٹوفوبیا کا نام دیا ہے۔

اس موقع پر مسلم رہنماؤں پر فرض کے درجے میں ضروری تھا کہ وہ مغربی تہذیب اور مغرب کے سیاسی غلبے کو الگ کرکے دیکھیں۔ مگر انھوں نے انتہائی بےخبری کی بنا پر دونوں کو ایک سمجھ لیا۔ مغربی تہذیب (western civilization)حدیث کی پیشین گوئی (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر111)کے مطابق، اسلام کے لیے تائیدی تہذیب (supportive civilization) کی حیثیت رکھتی تھی۔ مگر مسلم رہنماؤں نے مغربی تہذیب کو مغربی استعمار (western colonialism) کے ہم معنی سمجھ لیا۔

قرآن کی اشاعت

Al-Risala September 2020 A original + quote

…تاریخ میں مختلف تدبیروں کے ذریعے جاری رہتا ہے۔ انذار کا یہ عمل اتنا اہم ہے کہ اللہ نے اس کے لیے مقدر کردیا کہ وہ اہل ایمان کے علاوہ غیراہل ایمان کے ذریعے بھی دنیا میں پھیلے۔ تائید کے اس عمل میں غیر اہل دین اور فاجر (بُرے) لوگ بھی شریک ہوں۔

اس تائیدی عمل کا ذکر حدیث کی اکثر کتابوںمیں آیا ہے۔ مثلاً قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا ہُمْ مِنْ أَہْلِہ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ اس معنی کی حدیث صحیح البخاری میں ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِر (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ان دونوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اسلام کی تائید کا کام ان لوگوں سے لے گا، جو اہل دین نہ ہوں گے۔ اس میں اس بات کا اشارہ ہے کہ اس معاملے میں اہل ایمان کو اتنا زیادہ باشعور ہونا چاہیے کہ وہ تاریخ میں تائید کے اس عمل کو پہچانیں، اورمنصوبہ بند انداز میں تائید کے مواقع کو قرآن کی عالمی اشاعت کے لیے استعمال کریں۔

Al-Risala March 2020 A original + quote

فاجر کے ذریعے تائید ِ دین

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح بخاری کے الفاظ یہ ہیں وَإِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر3062)۔ یعنی بے شک اللہ ضرور اس دین کی تائید فاجر آدمی کے ذریعے کرے گا۔ صحی بخاری کی شرح میں ابن حجر نے رجل کے لفظ کو جنس کے معنی میں لیا ہے (یُحْتَمَلُ أَنْ تَکُونَ لِلْجِنْسِ )فتح الباری، جلد 7، صفحہ 473۔ یعنی رجال (افراد)۔ راقم الحروف کا خیال ہے کہ یہاں رجل سے مراد سیکولر افراد ہیں، یعنی اللہ تعالی اس دین کی تائید سیکولر افراد کے ذریعے کرے گا۔

سیکولر افرادکے ذریعے دین کی تائید کا مطلب کیا ہے۔ غالباً اس کا مطلب یہ ہے کہ سیکولر لوگوں کے درمیان غور و فکر کا کام نان اسٹاپ (non-stop) انداز میں جاری رہتا ہے۔ اگر آپ افکار کی تاریخ دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ مسلم اہلِ علم کے درمیان…

…پر وہ ہر ایک کی دسترس میں آگئے۔ دنیا میں مکمل معنوں میں مذہبی آزادی کا دور آیا،جس میں ہر ایک کو یہ موقع تھا کہ وہ جس مذہب کو چاہیں اختیار کرے، اور اس کی تبلیغ کرے، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ آدمی تشدد (violence) سے مکمل طور پر پرہیز کرے۔

جدید تہذیب مسلمانوں کے لیے حدیث کی زبان میں مؤید دین تہذیب ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062، مسند احمد، حدیث نمبر 20454، المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640) تھی۔ وہ مسلمانوں کے لیے ایک عظیم موقع (great opportunity) تھا، جس کو استعمال کرکے مسلمان جدید معیار کے مطابق زیادہ مؤثر انداز میں اسلام کی اشاعت کا کام کرسکتے تھے۔ جدیدتہذیب نے یہ کیا کہ اجارہ داری کے دور کو ختم کردیا۔ اس طرح انسانی آزادی کا وہ مطلوب ماحول پیدا ہوگیا، جو خدا کے نقشۂ تخلیق کے مطابق درکار تھا۔

Al-Risala November 2019 A original + quote

…علم تک پہنچنا۔ پیغمبر موسی کے تجربے کی صورت میں یہ رہنمائی تاریخ میں ساڑھے تین ہزار سال سے موجود تھی، لیکن اہل علم کبھی اس طریقہ کار (methodology)کو اختیار نہ کرسکے۔ وہ بدستور اس کوشش میں لگے رہے کہ وہ خالق کو براہ راست دریافت کرسکیں۔

حدیث کی مشہور کتاب صحیح البخاری میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہےإِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر3062)۔یعنی بیشک اللہ ضرور ہی اس دین کی تائید فاجر آدمی کے ذریعے کرے گا۔ اس حدیث میں الرجل الفاجر سے مراد سیکولر انسان ہے۔ اس طرح حدیث میں مستند طور پر یہ سراغ (clue) موجود تھا کہ اس معاملے میں ایک سیکولر انسان ہوگا جو ابتدائی رہنمائی فراہم کرے گا۔ لیکن فلاسفہ اور مسلم متکلمین دونوں اس معاملے میں صحیح رہنمائی تک نہ پہنچ سکے۔

راقم الحروف لمبی مدت تک اس موضوع پر غور کرتا رہا ہے،اور آخر کار اس دریافت تک پہنچا کہ صحیح البخاری میں جس الرجل الفاجر (سیکولر انسان) کا ذکر ہے، وہ غالباًاٹلی کا سائنسداں گلیلیو گلیلی (Galileo Galilei) ہے، جو چار سو سال پہلے پیدا ہوا۔ اس…

Al-Risala September 2018 A original + quote

…ریسرچ (objective research) ہونے لگی۔ مختلف اسباب کی بنا پر یہ کام تمام تر اہل مغرب نے انجام دیا۔ یہ عمل گلیلیو اور نیوٹن کے زمانے میں شروع ہوا۔ اسی عمل (process) کا نقطۂ انتہا وہ ظاہرہ تھا، جس کو تہذیب (civilization) کہا جا تا ہے۔

مغربی تہذیب دراصل اللہ کے تخلیقی عجائب (wonders of creation) کا نام تھی۔ اس تہذیب کے تحت جو سائنس پیدا ہوئی، وہ در اصل وہی چیز تھی، جس کے ذریعے وہی کام انجام پایا جس کو قرآن میں تبیین ِحق (فصلت،41:53) کہا گیا ہے، یعنی خالق کی معرفت بذریعہ تخلیق۔ جیسا کہ حدیث میں پیشین گوئی کے طو رپر آیا ہے:إِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی اللہ اس دین کی مدد فاجر آدمی سے کرے گا۔

مگر معاملہ یہ پیش آیا کہ جس چیز پر مسلمان بھڑک گئے، وہ ان کا فاجر ہونا تھا۔حالاں کہ اس حدیث کا مطلب یہ تھا کہ کلچرل اعتبار سے اگرچہ وہ ایسی باتوں میں مبتلا ہوں گے، جوبرا ہوگا، مگر وہ جو کام انجام دیں گے، وہ اسلام کی تائید کا کام بن جائے…

Al-Risala July 2018 A original + quote

دین، تائیدِ دین

دین کا کام کرنے کی دو سطحیں ہیں۔ ایک ہے ، براہ راست اور عمداً دین کا کام کرنا۔ اور دوسرا یہ ہے کہ آدمی کا ارادہ کچھ اور ہو، لیکن وہ ایسا کام کرے، جو بالواسطہ طور پر دین کے لیے تائید (support)فراہم کرنے والا ہو۔ اس سلسلے میں ایک حدیث رسول آئی ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے: اللہ ضرور اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے کرے گا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔

اس حدیث رسول میں فاجر کا لفظ آیا ہے۔ فاجر کا مطلب بدعمل (wicked) آدمی ہے۔ یعنی شریعت کی زبان میں گناہ گار آدمی۔ یہاں یہ سوال ہے کہ کوئی شخص جو ذاتی اعتبار سے ایک گناہ گار آدمی ہو، وہ کیسے دین کے لیے موید (supporter) بن سکتا ہے۔ یہ…

Al-Risala July 2018 A original + quote

…کرو۔ اس طرح جاپان کے ذریعے یہ مثال قائم ہوئی کہ کس طرح بربادی کے بعد نئی پلاننگ کے ذریعے دوبارہ ایک بڑی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ گویا حالات کی زبان تھی، اور تاریخ میں خالق کا مینجمنٹ اسی طرح حالات کے دباؤ کے تحت اپنا کام کرتا ہے۔

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ الطبرانی نے یہ روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے: إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا ہُمْ مِنْ أَہْلِہِ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640) ۔ یعنی ضرور اللہ تعالی اسلام کی مدد ان لوگوں کے ذریعے کرے گا جو دین میں سے نہ ہوں گے۔ صحیح البخاری میں یہ روایت ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِر (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی ضرور اللہ تعالی اس دین کی مدد فاجر انسان کے ذریعے کرے گا۔ یہ در اصل اسلام کے حق میں ایک پیشین گوئی (prediction) ہے۔ یہ پیشین گوئی الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ حدیث کی اکثرمشہور کتابوں میں آئی ہے۔

اس حدیث پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عالمی حالات میں ایک نیا تاریخی عمل (historical process) شروع ہوگا، جو اس حد تک پہنچے گا کہ اللہ کے دین کو عمومی اعتراف (general acceptance) کا درجہ حاصل…

Al-Risala May 2018 A original + quote

…قرآن ہے۔ قرآن کو ہر انسان تک پہنچانا کسی پر اسرار طریقے پر نہیں ہوگا، بلکہ وہ دوسرے واقعات کی طرح اسباب کے ذریعے ہوگا۔ بعد کے دور میں ایسے اسباب انسان کے دسترس میں آئیں گے جن کو استعمال کرکے امت خدا کی کتاب کو تمام انسانوں تک پہنچادے ۔

قرآن کو سارے عالم تک پہنچانا ایک ایسا کام ہے جو امت مسلمہ محض اپنی طاقت سے نہیں کرسکتی۔ اس لیے اللہ نے تاریخ کو اس طرح مینج (manage)کیا کہ دوسری قومیں بھی اس تاریخی کام میں تائیدی رول (supporting role) ادا کریں۔ یہی بات حدیث رسول میں اس طرح بیان کی گئی ہے:إِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر3062)۔ اللہ ضرور اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے بھی کرے گا۔ اس حدیث میں فاجر انسان سے مراد سیکولر انسان ہے۔ یعنی مستقبل میں ایسے لوگ اٹھیں گے جو بظاہر اپنے مادی مقاصد کے لیے اسباب پیدا کریں گے، مگر یہ اسباب عملاً اہل دین کے لیے سپورٹ بن جائیں گے۔

اس حدیث میں سیکولر موید (secular supporter) سے مراد وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب (western civilization) کہا جاتا ہے۔یہ ایک واقعہ ہے کہ مغربی تہذیب ایک مادی تہذیب ہے۔ اس نے اپنے مادی مقاصد کے لیے بہت سے نئے اسباب پیدا کیے۔…

Al-Risala March 2018 A original + quote

…امت کا فائنل رول کیا ہوگا۔ وہ رول یہ ہوگا کہ امت اپنے زمانے کےاعتبار سے ایک عالمی منصوبہ بندی کرے، اور مواقع کو استعمال کرتے ہوئے اللہ کے کلام (word of God) کو دنیا کے ہرگوشے میں پہنچادے۔ یہاں تک کہ کوئی عورت یا مرد اس سے بے خبر نہ رہے۔

اس حدیث میں کلمۃ الاسلام سے مراد قرآن ہے۔ قرآن کو ہر انسان تک پہنچانا کسی پر اسرار طریقے پر نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ دوسرے واقعات کی طرح اسباب کے ذریعے ہوگا۔ بعد کے دور میں ایسے اسباب انسان کے دسترس میں آئیں گے، جن کو استعمال کرکے امت خدا کی کتاب کو تمام انسانوں تک پہنچادے ۔ قرآن کو سارے عالم تک پہنچانا ایک ایسا مشن ہے، جو امت مسلمہ صرف اپنی طاقت سے نہیں کرسکتی۔ اس لیے اللہ نے تاریخ کو اس طرح مینج (manage)کیا کہ دوسری قومیں بھی اس تاریخی مشن میں تائیدی رول (supporting role) ادا کریں۔ یہی بات مذکورہ حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:إن اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، حدیث نمبر3062)۔ یعنی اللہ ضرور اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے کرے گا۔ اس حدیث میں فاجر انسان سے مراد سیکولر انسان ہے۔ یعنی مستقبل میں ایسے لوگ اٹھیں گے، جو بظاہر اپنے مادی محرکات (commercial interest)کے تحت ایک عمل کریں گے۔ مگر یہ اسباب عملاً اہل دین کے لیے سپورٹر بن جائیں گے۔

اس حدیث میں سیکولر مؤید (supporter) سے مراد وہی واقعہ ہے، جس کو موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب (western civilization) کہا جاتا ہے۔یہ ایک واقعہ ہے کہ مغربی تہذیب ایک مادی تہذیب ہے۔ اس نے اپنے مادی مقاصد کے لیے بہت سے نئے اسباب پیدا کیے۔ مگر…

Al-Risala March 2018 A original + quote

مغربی اقوام، دوست اقوام

نزول قرآن کے زمانے میں انسانی تاریخ جس مرحلے میں تھی، اس کے لحاظ سے اہل ایمان کو یہ فارمولا بتایا گیا کہ اگر کوئی بظاہرتم کو دشمن نظر آئے تو اس کے ساتھ تم ردعمل کا سلوک نہ کرو، بلکہ اس کے ساتھ یک طرفہ طور پر حسن سلوک کا طریقہ اختیار کرو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمھارا دشمن تمھارا دوست بن جائے گا(فصلت34:)۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حسن سلوک کا یہ طریقہ ایک وقتی تدبیر کا طریقہ تھا۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے تاریخ میں ایسا عمل (process) جاری کیا ، جس کے نتیجے میں دنیا ایک نئے دور (age) میں داخل ہوگئی، جب کہ قومیں خود حالات کے تقاضے کے تحت عملاً اسلام کی مؤید (supporter) بن گئیں۔ یہ انسانی تاریخ میں ایک انوکھا انقلاب تھا۔ اس انقلاب کی پیشگی خبر پیغمبر اسلام نے اپنی امت کو دے دی تھی۔ یہ روایت حدیث کی اکثر کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں:إِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی اللہ ضرور اس دین کی مدد فاجر انسان کےذریعہ کرے گا۔ یہاں غالباً فاجر کا لفظ اپنےلغوی معنی میں نہیں ہے، بلکہ فاجر انسان کا مطلب ہے سیکولر انسان۔ غیر مسلم اقوام کے ذریعہ اسلام کی تائید کی پیشین گوئی سب سے زیادہ مغربی اقوام پر صادق آتی ہے۔

مغربی اقوام نے غیر معمولی کوشش کے ذریعہ جو مادی تہذیب برپا کی، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے پوری طرح مؤید اسلام تہذیب ہے۔ مغربی اقوام کا مؤید اسلام ہونا، عملاً ایک واقعہ بن چکا ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ مسلمان اس امکان کو جانیں، اور اس کو…

…انسانی تاریخ کا ایک عظیم منصوبہ تھا۔ اللہ نے ایسے حالات پیدا کیے کہ اہل ایمان کی جماعت کے علاوہ دوسرے لوگ بھی اس میں موید (supporter) بن گیے۔ یہ پیشین گوئی زیادہ واضح الفاظ میں حدیث کی مختلف کتابوںمیں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ آئی ہے:

1۔ إن اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر (۔ صحیح البخاری ،حدیث نمبر3062)۔

2 ۔ إن اللہ عز وجل لیؤید الإسلام برجال ما ہم من أہلہ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر56)۔

Al-Risala September 2016 A original + quote

…کی بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے کچھ بندوں کو کھڑا کرے گا، وہ زمین و آسمان میں تحقیق کریں گے۔ پھر وہ تحقیق کے ذریعے ایسی علمی حقیقتیں دریافت کریں گے جوعقلی بنیاد (rational ground) پر اسلام کی صداقت کو ثابت شدہ بنانے والے ہوں۔

فطرت کے قانون کے مطابق زندگی کا نظام باہمی وابستگی (interdependence) یا باہمی تعاون کے اصول پر قائم ہے۔ اس دنیا میںدینی واقعات بھی اسی اصول پرظاہر ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اللہ اس دین کی تائید فاجر انسان (سیکولر انسان) کے ذریعے بھی کرے گا۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر3062)جس واقعہ کو قرآن میں متکلم کے صیغہ میں بیان کیا گیا تھا، اس کو حدیث میں غائب کے صیغہ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے تفہیمِ قرآن میں حدیث کا رول معلوم ہوتا ہے۔ حدیث قرآن کے اجمال کو مفصل کرتی ہے۔ حدیث قرآن کے اصولی بیان کو تعین کی زبان میں واضح کرتی ہے۔ تمام ترقیاں ، خواہ وہ دینی ہوں یا سیکولر، وہ ہمیشہ اسی باہمی وابستگی کے اصول پر انجام پاتی ہیں۔ مثلاً اسلام نے جمہوریت کا آغاز کیا لیکن اس کی تکمیل فرانس میں ہوئی۔ اسلام نے مذہبی رکاوٹوں کو ختم کرنے کا آغاز کیا لیکن اس کی تکمیل جدید تہذیب کے ذریعے ہوئی۔ اسلام نے انسانی غلامی کے خاتمے کا آغاز کیا لیکن اس کی تکمیل امریکا میں ہوئی۔ اسلام نے سائنسی دور کا آغاز کیا لیکن اس کی تکمیل مغربی دنیا میں ہوئی، وغیرہ۔ آغاز کے بعد تکمیل کا یہ کام تاریخی عمل (historical process)کے ذریعے انجام تک پہنچا۔

Al-Risala August 2016 A original + quote

…وہ تمام تر نظریاتی معنی میں ہے۔ یعنی کفر جس نظریاتی بنیاد (ideological base)پر کھڑا ہے، اس نظریاتی بنیاد کودلائل کے ذریعے بے وزن بنادینا۔ کفر کے عقیدے کو اس کی نظریاتی اساس سے محروم کردینا۔ اس معاملے کا کوئی تعلق جنگ و قتال سے نہیں ہے۔

کفر ایک عقیدہ ہے جو انسان کے دماغ میں بطور ایک فکر کے موجود ہوتا ہے۔ فکر کو جنگ کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ بلکہ فکر کو صرف جوابی فکرکے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی کوششوں سے عرب میں ایک انقلابی عمل (revolutionary process) جاری ہوا، جو نہایت موثر طور پر پوری تاریخ میں چلتا رہا۔ جیسا کہ حدیث ( البخاری، حدیث نمبر 3062)میں آیاہے۔ اس انقلابی عمل میں سیکولر لوگوںکی تائید بھی ضرور حاصل ہوگی۔ یہاں تک کہ یہ انقلابی عمل اپنی آخری حد تک پہنچ جائے ۔

موجودہ زمانے میں جس چیز کو ماڈرن سویلائزیشن کہا جاتا ہے، وہ اسی انقلابی عمل کی تکمیل ہے۔ اب اکیسویں صدی میں ’’کفر‘‘ اپنی نظریاتی طاقت کو کھوچکا ہے۔ آج کی دنیا میں انسان کو مکمل معنوں میںمذہبی آزادی حاصل ہے۔ اب وسائل پر کسی کی اجارہ داری…

Al-Risala April 2016 A original + quote

…کا خاتمہ اسی پہلو سے تعلق رکھتا ہے۔ شرک کے دور کا خاتمہ رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے شروع ہوا، اور انھیں کے زمانے میں عملا تکمیل تک پہنچ گیا۔ شرک کا کلچر اگرچہ اب بھی بعض گوشوں میں بظاہر موجود ہے، لیکن اب وہ کہیں بھی غالب حیثیت میں نہیں۔

اظہارِ دین کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو قرآن و حدیث میں مستقبل کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلا آیات کے ظہور کے بعدحق کی کامل تبیین (فصلت53)، یا حدیث کا یہ ارشاد: لیبلغن ہذا الأمر ما بلغ اللیل والنہار، ولا یترک اللہ بیت مدر ولا وبر إلا أدخلہ اللہ ہذا الدین، بعز عزیز أو بذل ذلیل (مسند احمد، حدیث نمبر16957)، وغیرہ۔ اظہارِ دین کا یہ دوسرا پہلو، ایک ایسا پہلو تھا جو نسل در نسل گہری کوشش کے بعد مکمل ہونے والا تھا۔ اس لیے اللہ نے یہ مقدر کردیا کہ اس کام میں سیکولر لوگوں کی تائید بھی بھرپور طور پر حاصل ہو۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: إن اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، حدیث نمبر3062)۔

اظہارِ دین کا یہ انقلاب اکیسویں صدی میں اپنےآخری تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔ اب اہل ایمان کا یہ کام ہے کہ وہ اس پیدا شدہ مواقع کو بھر پور طور پر دین خداوندی کی عالمی دعوت کے لیے استعمال کریں۔ تاکہ کوئی پیدا ہونے والا انسان اس سے بےخبر نہ رہے کہ…

Al-Risala April 2016 A original + quote

…شروع کیا جائے۔ جو انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، مختلف مراحل سے گزرے۔ اور پھر وہ اپنے نقطۂ انتہا (culmination) تک پہنچے۔ یہ عمل عرب میں شروع ہوا۔ اور مغرب میں جدید تہذیب (modern civilization)کی صورت میں اپنی تکمیل تک پہنچا۔

اس انقلاب کے دو پہلو تھے۔ ایک یہ تھا کہ علوم کی ترقی اس طرح ہو کہ تمام علمی اور سائنسی دلائل دینِ خداوندی کی تصدیق بن جائیں۔ یہ مستقبل میں پیش آنے والا واقعہ تھا ، جس کی پیشین گوئی قرآن میں ان الفاظ میں کی گئی تھی: سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ اس انقلاب کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ عملی اعتبار سے یہ اسباب دینِ خداوندی کے مویّد (supporter) بن جائیں۔ یہ انقلاب صرف اہل ایمان کے ذریعے نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لیے اللہ نے اس کے لیے دوسری قوموں کو بھی اس عمل کا موید بنا دیا۔ یہ پیشین گوئی ایک حدیثِ رسول میں اس طرح ملتی ہے: إن اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، حدیث نمبر3062 ) ۔

اکیسویں صدی میں یہ تائیدات اپنی آخری صورت میں حاصل ہوچکی ہیں۔ مثلا موجودہ زمانے میں قول و عمل کی آزادی کا انسان کے لیے ایک ناقابلِ تنسیخ حق قرار پانا، ٹکنالوجی کی ترقی کے ذریعے ہر قسم کے امکانات کا اعلی سطح پر کھل جانا، پرامن طریقۂ کا ر…

Al-Risala February 2016 A original + quote

اس حدیث میں اُس آنے والے دور کو بتایا گیا ہے جب کہ پر امن جدو جہد (peaceful activism) ہر قسم کی کامیابی کے لیے کافی ہوگی۔

6- اسی طرح ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: إن اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، حدیث نمبر3062)۔یعنی اللہ ضرور اس دین کی مدد فاجر انسان کے ذریعے سے کرے گا۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے دور میں اسلام کے لیے موافق حالات اتنے عام ہوجائیں گے کہ سیکولر لوگوں کا عمل بھی اس کےحق میں تائید بن جائے گا۔

7-اس نوعیت کی ایک آیت فرعون کے ذیل میں اس طرح آئی ہے: فَالْیَوْمَ نُنَجِّیکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُونَ لِمَنْ خَلْفَکَ آیَةً (یونس 92 :) یعنی (اللہ نے فرعون سے کہا کہ)پس آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لئے نشانی…

Al-Risala December 2015 A original + quote

…قرآن ہے۔ قرآن کو ہر انسان تک پہنچانا کسی پر اسرار طریقے پر نہیں ہوگا، بلکہ وہ دوسرے واقعات کی طرح اسباب کے ذریعے ہوگا۔ بعد کے دور میں ایسے اسباب انسان کے دسترس میں آئیں گے جن کو استعمال کرکے امت خدا کی کتاب کو تمام انسانوں تک پہنچادے ۔

قرآن کو سارے عالم تک پہنچانا ایک ایسا کام ہے جو امت مسلمہ محض اپنی طاقت سے نہیں کرسکتی۔ اس لیے اللہ نے تاریخ کو اس طرح مینیج (manage)کیا کہ دوسری قومیں بھی اس تاریخی کام میں تائیدی رول (supporting role) ادا کریں۔ یہی بات حدیث رسول میں اس طرح بیان کی گئی ہے: إن اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، حدیث نمبر3062)۔ اللہ ضرور اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے بھی کرے گا۔ اس حدیث میں فاجر انسان سے مراد سیکولر انسان ہے۔ یعنی مستقبل میں ایسے لوگ اٹھیں گے جو بظاہر اپنے مادی مقاصد کے لیے اسباب پیدا کریں گے، مگر یہ اسباب عملاً اہل دین کے لیے سپورٹر بن جائیں گے۔

اس حدیث میں سیکولر موید (secular supporter) سے مراد وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب (western civilization) کہا جاتا ہے۔یہ ایک واقعہ ہے کہ مغربی تہذیب ایک مادی تہذیب ہے۔ اس نے اپنے مادی مقاصد کے لیے بہت سے نئے اسباب پیدا کیے۔…

Al-Risala September 2020 A original + quote

…تاریخ میں مختلف تدبیروں کے ذریعے جاری رہتا ہے۔ انذار کا یہ عمل اتنا اہم ہے کہ اللہ نے اس کے لیے مقدر کردیا کہ وہ اہل ایمان کے علاوہ غیراہل ایمان کے ذریعے بھی دنیا میں پھیلے۔ تائید کے اس عمل میں غیر اہل دین اور فاجر (بُرے) لوگ بھی شریک ہوں۔

اس تائیدی عمل کا ذکر حدیث کی اکثر کتابوںمیں آیا ہے۔ مثلاً قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا ہُمْ مِنْ أَہْلِہ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ اس معنی کی حدیث صحیح البخاری میں ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِر (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ان دونوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اسلام کی تائید کا کام ان لوگوں سے لے گا، جو اہل دین نہ ہوں گے۔ اس میں اس بات کا اشارہ ہے کہ اس معاملے میں اہل ایمان کو اتنا زیادہ باشعور ہونا چاہیے کہ وہ تاریخ میں تائید کے اس عمل کو پہچانیں، اورمنصوبہ بند انداز میں تائید کے مواقع کو قرآن کی عالمی اشاعت کے لیے استعمال کریں۔

Al-Risala March 2020 A original + quote

فاجر کے ذریعے تائید ِ دین

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح بخاری کے الفاظ یہ ہیں وَإِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر3062)۔ یعنی بے شک اللہ ضرور اس دین کی تائید فاجر آدمی کے ذریعے کرے گا۔ صحی بخاری کی شرح میں ابن حجر نے رجل کے لفظ کو جنس کے معنی میں لیا ہے (یُحْتَمَلُ أَنْ تَکُونَ لِلْجِنْسِ )فتح الباری، جلد 7، صفحہ 473۔ یعنی رجال (افراد)۔ راقم الحروف کا خیال ہے کہ یہاں رجل سے مراد سیکولر افراد ہیں، یعنی اللہ تعالی اس دین کی تائید سیکولر افراد کے ذریعے کرے گا۔

سیکولر افرادکے ذریعے دین کی تائید کا مطلب کیا ہے۔ غالباً اس کا مطلب یہ ہے کہ سیکولر لوگوں کے درمیان غور و فکر کا کام نان اسٹاپ (non-stop) انداز میں جاری رہتا ہے۔ اگر آپ افکار کی تاریخ دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ مسلم اہلِ علم کے درمیان…

Al-Risala March 2020 A original + quote

…پر وہ ہر ایک کی دسترس میں آگئے۔ دنیا میں مکمل معنوں میں مذہبی آزادی کا دور آیا،جس میں ہر ایک کو یہ موقع تھا کہ وہ جس مذہب کو چاہیں اختیار کرے، اور اس کی تبلیغ کرے، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ آدمی تشدد (violence) سے مکمل طور پر پرہیز کرے۔

جدید تہذیب مسلمانوں کے لیے حدیث کی زبان میں مؤید دین تہذیب ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062، مسند احمد، حدیث نمبر 20454، المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640) تھی۔ وہ مسلمانوں کے لیے ایک عظیم موقع (great opportunity) تھا، جس کو استعمال کرکے مسلمان جدید معیار کے مطابق زیادہ مؤثر انداز میں اسلام کی اشاعت کا کام کرسکتے تھے۔ جدیدتہذیب نے یہ کیا کہ اجارہ داری کے دور کو ختم کردیا۔ اس طرح انسانی آزادی کا وہ مطلوب ماحول پیدا ہوگیا، جو خدا کے نقشۂ تخلیق کے مطابق درکار تھا۔

In the lectures

Cited at 262s — opens the lecture at this moment.

Cited at 352s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1087s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1212s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1295s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1541s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1649s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2617s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2977s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3011s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3461s — opens the lecture at this moment.

Cited at 288s — opens the lecture at this moment.

Cited at 669s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2232s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2631s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2671s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3000s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4663s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4811s — opens the lecture at this moment.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Give to king what is due to the king. And give to God what is due to God.

Similarly, a Hadith cited by Al-Bukhari says:

Give the ruler his rights. Ask for your rights from God. Peace under all circumstances

…غلط ہے۔ اس بنا پر اس وقت پہلا کام یہ ہے کہ اسلام کی امیج کو درست کیا جائے۔ امیج کو درست کرنے کا یہ کام موثر طور پر لٹریچر کے ذریعے ہوسکتا ہے۔اس مقصد کے لیے ادارہ الرسالہ نے مختلف مضامین اور کتابیں شائع کی ہیں۔ ان میں سے چار کتابیں یہ ہیں:

1. Quranic Wisdom. (pp. 352)

2. Islam and World Peace. (pp. 200)

semantic Deen-e-Insaniayat (p. 103) other source

…مسجد کے اندر کھڑا ہو کر پیشاب کرنے لگا۔ لوگوں نے اس کو تنبیہہ کرنا چاہا مگر آپ نے منع فرما دیا۔ آپ نے کہا کہ دیہاتی کو چھوڑ دو ا ور ایک ڈول پانی لا کر وہاں بہا دو۔ چنانچہ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ (بخاری، مسلم، نسائی، ترمذی، ابو داؤد، مؤطا)

(Sahih al-Bukhari: 220, Sunan al-Nasai: 56, Sunan al-Tirmidhi: 147, Sunan Abi Dawud: 380, Musnad Ahmad: 10533)

دیہاتی پر اس واقعہ کا بہت اثر پڑا۔ اپنے قبیلہ میں واپس جا کر اس نے لوگوں سے پورا قصہ بیان کیا۔ اس نے کہا کہ میں نے یہ حرکت کی کہ عبادت خانہ میں پیشاب کر دیا۔ مگر خدا کی قسم، محمد نے مجھ پر غصہ نہیں کیا۔ انھوں نے مجھے نہیں جھڑکا (مسند…

صحیح البخاری، کتاب الانبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ واتّخذ اللہ ابراہیم خلیلاً

(رقم الحدیث : 3364 )

ہاجرہ کے شوہر حضرت ابراہیم بن آزر تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے اور 175 سال کی عمر پا کر اُن کی وفات ہوئی۔ اُنہوں نے اپنے زمانہ کے لوگوں کو توحید کی دعوت دی۔ مگر شرک اور بُت پرستی کا غلبہ ان لوگوں کے ذہن پر اتنا زیادہ…