Place
Turkey
A country straddling Eastern Europe and Western Asia
Mentioned in 169 book passages
and 31 lecture moments.
Cite / permalink: entity/place/turkey
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…by what is most suitable for them. They adopt those routes in which they have to pass over the least possible stretches of the sea because, over dry land, they can come down if and when needed, but for them to land at sea is impossible.
One flock of these birds, coming from Europe, reaches a point where they encounter the Caspian Sea. Here, they turn. Departing from the edge of the Caspian Sea, they fly into Asia. The second group of birds flies till it reaches the Black Sea. There, they divide into two groups. One group travels by the western coast of the Black Sea, and the other by the eastern coast till they enter Asia. The third set of birds comes to Bulgaria and turns towards Turkey. Then, flying over coastal Syria and Lebanon, they arrive at the Suez. From there, they enter Egypt and advance further into Africa. The fourth set of birds passes over Greece and crosses the sea in the narrowest region, clearly adopting this route so that they fly as little as possible over the sea. The fifth group of birds travels towards France and, turning towards Spain, arrives near Gibraltar, where the sea is only around 10 miles wide. To cross the sea, the birds choose the most appropriate location. From here, they fly over the sea and land in Africa.
These journeys of the birds are truly unique. When humans go on these lengthy journeys, they use many different instruments and sources of information. However, these birds have neither a human mind nor access to various…
شکر میں جینا سیکھیے
ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ انسان کی زبان میں تقریباً دس ہزار ذائقہ خانے (taste buds) ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان کے اندر جتنے ذائقہ خانے ہیں۔ ان سب کے مطابق، ہمارے آس پاس کی دنیا میں فل فلمینٹ (fulfilment ) کا سامان بھی موجود ہے۔ یہ معرفت کا ایک اعلیٰ درجہ ہے۔ کیسے ایسا ہوا ۔ کیوں کہ انسان کا جو تجربہ ہم نے کیا ہے، وہ یہ ہے کہ انسان کسی ذائقے کو اس وقت جانتا ہے، جب کہ اس کا تجربہ کرے۔ ذاتی تجربے کے بغیر کسی ذائقے کو جاننا یہ انسان کی طاقت سے باہر ہے۔
ایسی حالت میں انسان جب دنیا میں جیتا ہے، اور زندگی کے دوران کسی ذائقے کا تجربہ کرتاہے، وہ شکر کے جذبے سے اوور ویلم (overwhelm) ہو جاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ اس نعمت کا اعتراف کرے، لیکن وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں، جن کے…
…خواص امت کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ انھوںنے اپنے آپ کو مکمل طورپر سیاسی نزاعات سے دور رکھا۔ انھوں نے اپنی ساری طاقت حدیث کی جمع وتدوین میں لگادی۔ اِس کا یہ نتیجہ ہے کہ آج حدیث کا ذخیرہ محفوظ حالت میں ہمارے پاس موجود ہے۔
بنو عباس کے اِس عہد میں علما کا دوسراگروہ پیدا ہوا، جس کو عام طورپر فقہائے اسلام کا گروہ کہاجاتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، فقہا کے زمانے میں ہرقسم کے سیاسی بگاڑ پائے جارہے تھے، لیکن اِن فقہا نے سیاسی بگاڑ میںاصلاح کی کوئی مہم نہیں چلائی۔ مثلاً انھوں نے یہ کوشش نہیں کی کہ ملوکیت کو ختم کرکے دوبارہ خلافت کا نظام قائم کریں۔ فقہا کی جماعت نے یا تو اپنے زمانے کے حکم رانوں سے موافقت کا طریقہ اختیار کیا، یا اُن سے الگ رہ کر وہ یکسوئی کے ساتھ اسلام کی خدمت کے کام میں لگے رہے۔ اِسی پالیسی کا یہ نتیجہ تھا کہ فقہ کی تدوین کا عظیم کام انجام پایا۔
اِس کے بعد وہ دور آتا ہے جس کو صوفیا کا دور کہاجاتا ہے۔ یہ دور بنوعباس کے آخری زمانے میں شر وع ہوا، اور مغل کے خاتمے تک پوری طاقت کے ساتھ جاری رہا۔ اِس زمانے میں بھی وہ حالات مسلسل طور پر جاری رہے، جن کو سیاسی بگاڑ کہاجاتا ہے۔ لیکن صوفیا…
معلومات اور تجزیہ
ایک صاحب نے ایک جریدہ دکھایا۔ اس میں سید جمال الدین افغانی کے بارے میں ایک مفصل مضمون تھا۔ اس مضمون کا خاتمہ اس طرح ہوا تھا: سید جمال الدین افغانی نے زندگی کے آخری ایام استنبول میں سخت ذہنی اذیت میں گزارے۔ ان کی زندگی کا واحد مقصد عالم اسلام کا اتحاد تھا جو یہاں پورا ہوتا نظر نہ آتا تھا۔ خفیہ طور پر ان کی جاسوسی بھی کی جاتی۔ آخر اسی کرب میں 1897 کو بعمر اٹھاون برس سرطان کے عارضہ میں انھوں نے استنبول میں وفات پائی۔
سید جمال الدین افغانی کو اپنے زمانہ میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ افغانستان، مصر، ایران، ترکی وغیرہ میں ان کو بہت زیادہ مواقع ملے۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد وہ ہر ملک سے نکال دیئے جاتے کیوں کہ وہ جہاں پہنچتے وہاں وہ حکومت کے خلاف اشتعال انگیز…
نتیجہ خیز آغاز
ایک صاحب لکھتے ہیں:میں آپ کی کئی تقریروں کو سننے کے بعد آپ کی اوریجنل اور گہری فکر سے مَیں کافی متاثر ہوا ہوں۔ لیکن آپ کی باتوں کو سننے کے بعد آپ کے اسٹیٹس کو (status quo)کے نظریے کے بارے میں میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا ہے۔ وہ یہ کہ اگر اسٹیٹس کو کو قبول کرنا، اتنا ونڈر فل معاملہ ہے تو ہندستان برٹش حکومت کے ماتحت ہی رہتا۔ دوسرے ممالک، جیسے ترکی، ملیشیا، انڈونیشیا، سوڈان، اور نائیجیریا وغیرہ تو اپنے غیر ملکی رولر (rulers)کے تحت ہی باقی رہتے۔ آپ مجھے ان مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے جواب دیجیے۔ (جاوید اظہر خان، پاکستان)
جواب: اسٹیٹس کو کامطلب ہے حالت موجودہ، بطور خاص سماجی اور سیاسی معاملات میں:
دعوتی سیاحت:
سی پی ایس انٹرنیشنل کے چیرمین جناب ثانی اثنین خان نے اکتوبر 2016 میں
فرانکفرٹ، جرمنی میں منعقد ہونے والے بک فیر میں شرکت کی اور مختلف لوگوں کے درمیان
دعوتی لٹریچر تقسیم کیا۔ اس کے بعد فن لینڈ، سویڈن،ناروے،انگلینڈاور ترکی کا دورہ کیا۔
یہاں انھوں نے مختلف اسلامی آرگنائزیشن کے ذمہ داروں سے ملاقات کی، اور دعوتی کام
کو آگے بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا۔ اسکنڈے نیوین ممالک میں ایک بڑی ضرورت محسوس کی
کئی کہ مقامی زبان میں پاکٹ سائز ترجمہ قرآن موجود نہیں ہے۔ ان تمام لوگوں نے موجودہ
انگریزی ترجمہ قرآن کو دیکھ کر یہ کہا کہ آپ ہمیں اس سائز کا ترجمہ قرآن مقامی زبان
میں چھاپ کردیں، تو ہمارے لیے دعوت کا کام آسان ہوگا۔ اس کے علاوہ دوسرے دعوہ لٹریچر
کو بھی بہت پسند کیا اور کہا کہ ہم لوگ ان کو دعوتی کام کے لیے ضرور استعمال کریں گے۔
انگلینڈ میں دیگر لوگوں کے علاوہ مشہور نومسلم داعی عبد الرحیم گرین کی آرگنائزیشن
کےذمہ داران سے ملاقات کی۔ انھوں نے دعوتی کام میں تعاون کا یقین دلایا۔ نیز ترکی کا
سفر بھی کافی امید افزا رہا۔
فتووں کی شریعت
پرنٹنگ پریس 1440 ءمیں ایجاد ہوا۔ ا س کا موجد جرمنی کا گوٹن برگ (Johannes Gutenberg) ہے۔ مسلم دنیا میں پرنٹنگ پریس زیادہ دیر میں عام ہوا۔ 1727ء میں ترکی میں ابراہیم متفرقہ نے پرنٹنگ پریس قائم کیا۔پریس کا قیام کوئی معمولی واقعہ نہ تھا..... (مگراس وقت کے) بااقتدار علماء نے اسے ــ’’بدعت‘‘ تصور کیا، شیخ الاسلام نے فتوی دیا کہ (اس پر) مذہبی کتابوں کا چھاپنا شرعاً ممنوع ہے۔ (اشخاص و افکار، ضیاء الحسن فاروقی، ص 16-17،این سی پی یو ایل، نئی دہلی، 2011)۔
حرمت کے فتووں کا رواج اصحابِ رسول کے زمانے میں موجود نہ تھا۔ بعد کے زمانے میں جب امت میں زوال آیا تو علماء تقلید کی روش پر قائم ہوچکے تھے۔ وہ ہر نئی چیز کو توحش کی نظر سے دیکھنے لگے۔ وہ ہر نئی چیز کو شریعت کے خلاف سمجھنے لگے۔ یہی وہ زمانہ…
…تھی اس کے حوالے سے قرآن کی بعض آیات کو سمجھنا۔ اس اصول کے مطابق غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں من آیاتناسے مراد غالباً مستقبل کاوہ واقعہ ہے جو کمیونی کیشن بذریعہ ٹکنالوجی کی صورت میں بعد کوظہور میں آنے والا تھا۔
اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکا،اسنا (ISNA)کی دعوت پر میرا ایک سفر امریکا کے لیے ہوا۔ 26 اگست 2015 کو دہلی سے روانگی ہوئی۔ تو دہلی سے ایر انڈیا کے ذریعے روانگی ہوئی۔ 9ستمبر2015کو دہلی واپس پہنچا۔ یہ سفر ایک قافلے کی صورت میں تھا۔ اس میں دس آدمی شامل تھے۔ اس سفر کے دوران نیو یارک، واشنگٹن، شکاگو، اور پنسلوانیا میں مختلف پروگرام ہوئے۔
اس سفر کے دوران ایک خاص تجربہ وہ تھاجو 4ستمبر2015 کو پیش آیا۔ شکاگو ایرپورٹ کے پاس ایک ادارہ ٹرکش امریکن سوسائٹی(Turkish American Society) کے نام سے قائم ہے۔ اس سینٹر کے ذمے دار مجھ کو وہاں لے گئے۔ تقریبا ایک دن وہاں ٹھہرنے کا موقع ملا۔…
…کی۔پروگرام کے بعد تمام طلبہ کے درمیان قرآن کا انگریزی ترجمہ اور صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ تقسیم کیا گیا، جسے تمام لوگوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ یا د رہے اس سے پہلے بھی سی پی ایس ٹیم اس کالج کے پروگرام میں شرکت کر چکی ہے۔
8- 29نومبر2014کو ترکی ریفارمر فتح اللہ گولن کی ٹیم کے ایک گروپ نے صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی۔ دورانِ ملاقات صدر اسلامی مرکز نے ان کے ساتھ ایک گھنٹہ تک انٹر ایکشن کیا۔ آخر میں تمام لوگوں کو انگریزی ترجمۂ قرآن اور صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ دیا گیا جسے انھوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔
9- 30 نومبر 2014 کو میزورم کے کرشچن اسکالرس کی ایک ٹیم نے پیس ہال سہارن پور کا دورہ کیا۔ ان کا مقصد قرآن کے بارے میں جاننا تھا۔ تمام لوگوں کو قرآن کا ترجمہ اور صدر اسلامی مرکز کی کتابوں کا ایک سیٹ دیا گیا۔
اٹلی اور اسپین کا دعوتی سفر
گڈورڈ بکس اور سی پی ایس انٹرنیشنل کے تحت بڑے پیمانے پر ترجمہ قرآن کی نشر واشاعت کا کام ہورہا ہے- اِس سلسلے میں مقامی پروگراموں کے علاوہ، اسفار کے ذریعے بھی ملک اور ملک کے باہر کے مختلف مقامات پر یہ کام کیا جاتا ہے- اِس سلسلے میں نومبر 2014 میں میرایورپ اور ایشیا کے مختلف ملکوں کا سفر ہوا— اٹلی، اسپین، ترکی اور دبئی-
میرے اٹلی کے سفر کا محرک ایک پروگرام تھا- یہ پروگرام 17 جولائی 2014 کو اسلامی مرکز (نئی دہلی) میں ہوا- اِس میں اٹلی کے اسپریچول رہنما مسٹر ماریو (Mario)کی قیادت میں اٹلی کے 90 مسیحی خواتین و حضرات شامل تھے- اِس موقع پر امن اور اسلام اور…
مشرق اور مغرب
ایک مشہور مسلم لیڈر اگست 2012 میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے ترکی گئے- وہاں انھوں نے میڈیا کو انٹرویو دیتےہوئے کہا کہ — یہ بہت اچھی بات ہے کہ ترکی نے مغرب کے بجائے مشرق کی طرف دیکھنا شروع کردیا ہے:
It is very good that Turkey has started looking East instead of West.
… وجعلناہا اٰیۃً للعالمین (29:15)یعنی ہم نے ا س(کشتی) کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنادیا۔ دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے: ولقد ترکناہا اٰیۃً فہل من مدّکر (54:15) یعنی ہم نے اُس (کشتی) کو ایک نشانی کے طور پر باقی رکھا، پھر کوئی ہے سوچنے والا۔
اِس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت نوح کے معاملے میں کشتی کا طریقہ اِس لیے اختیار کیاگیا، تاکہ وہ محفوظ رہے اور بعد کے لوگوں کے لیے علامتی طورپر وہ خدا کے تخلیقی منصوبے کو جاننے کا ذریعہ بنے۔
کشتی اور طوفان کا طریقہ
…واقعہ بیان کرنے کے علاوہ، ایک اور بات بتائی گئی ہے، وہ یہ کہ حضرت نوح کی کشتی اللہ تعالیٰ کے خصوصی انتظام کے تحت محفوظ رکھی گئی اور بعد کے زمانے میں ظاہر ہو کر وہ لوگوں کے لئے سبق بنے گی۔ اس سلسلے میں قرآن کی آیتیں یہاں درج کی جاتی ہیں:
فأنجیناہ وأصحاب السفینۃ وجعلناہا اٰیۃً للعالمین (29: 15) یعنی پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو بچا لیا۔ اور ہم نے اس (کشتی) کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔
ولقد ترکنا ہا آیۃً فہل من مدّکر (54: 15) یعنی ہم نے اس (کشتی) کو نشانی کے طورپر باقی رکھا، تو کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا۔
…دراصل کشتی نوح کا تمثیلی نام ہے۔ دابہ کے لفظی معنی ہیں — رینگنے والا۔ کوئی بھی چیز جو رینگنے کی رفتارسے چلے، اس کو دابہ کہاجائے گا۔ کشتی نوح پانی کے اوپر رینگ کر چلی تھی، اس لیے یہ قیاس کرنا درست ہوگاکہ تمثیلی طورپر اس کو دابہ کہہ دیا گیا۔
ترکی کی ایک امتیازی خصوصیت ہے جو کسی دوسرے ملک کو حاصل نہیں، وہ یہ کہ ترکی وہ ملک ہے جو دورِ اول کے پیغمبر حضرت نوح کی کشتی کی آخری منزل بنا۔جیسا کہ عرض کیاگیا ، تقریباً 5 ہزار سال پہلے حضرت نوح کے زمانے میں ایک بڑا طوفان آیا۔ اُس وقت حضرت نوح اپنے ساتھیوں کو لے کر ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ یہ کشتی قدیم عراق) میسوپوٹامیا) سے چلی اور ترکی کی مشرقی سرحد پر واقع کوہِ ارارات (Ararat Mountain) کی چوٹی پر ٹھہر گئی۔
اِس واقعے کا ذکر بائبل میں اور قرآن میں نیز مختلف تاریخی کتابوں میں بشکلِ کہانی موجود تھا، لیکن کسی کو متعین طورپر معلوم نہ تھا کہ وہ کشتی کہاںہے۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ بعد کے زمانے میں مسلسل برف باری کے دوران یہ کشتی برف کی موٹی تہ…
…لوگوں کو دینے کے لیے تیار کئے جاسکیں، دنیا کھلے پن (openness) کے دور میں پہنچ چکی ہو، اِسی کے ساتھ دنیا سے کچھ چیزوں کا خاتمہ ہوچکا ہو۔ مثلاً مذہبی جبر، کٹر پن (rigidity)، علاحدگی پسندی (separatism)،تنگ نظری (narrow-mindness) ، وغیرہ۔
ترکی کے پہاڑ (ارارات) پر کشتی نوح کا موجود ہونا استثنائی طورپر ایک انوکھا واقعہ ہے۔ گلیشیر کاپگھلنا جب اِس نوبت کو پہنچے ، جب کہ پوری کشتی ظاہر ہوجائے اور وہاں تک پہنچنے کے راستے بھی ہموار ہوجائیں تو بلاشبہہ یہ اتنا بڑا واقعہ ہوگا کہ ترکی نقشہ سیاحت (tourist map) میں نمبر ایک جگہ حاصل کرلے گا۔ ساری دنیا کے لوگ اِس قدیم ترین عجوبہ کو دیکھنے کے لیے ترکی میں ٹوٹ پڑیں گے۔
اِس طرح اہلِ ترکی کو یہ موقع مل جائے گا کہ وہ اپنے ملک میں رہتے ہوئے ساری دنیا تک خدا کے پیغام کو پہنچادیں۔ یہ وہ وقت ہوگا کہ جب کہ ترکی میں آنے والے سیاحوں کے لیے قرآن سب سے بڑا گفٹ آئٹم (gift item) بن جائے گا جس میں پیشگی طور پر کشتی…
…معاملے کو فرضی کہانی سمجھا جاتا تھا، مگر اب خالص تاریخی شواہد کی بنا پر یہ مان لیا گیا ہے کہ اس علاقے میں ایک ایسا بڑا سیلاب آیا تھا جو نہ اس سے پہلے کبھی آیا اور نہ اس کے بعد۔ یہاں اِس سلسلے میں تفسیر ماجدی سے ایک حوالہ نقل کیا جاتا ہے:
The story of Noachion deluge, so long dismissed as legendary, has at last come to be recognized as 'hisotorical disaster' for which material evidence has bee found in the soil of Ur. (Woolly, ‘Abraham’, p. 170)
Archaelogical evidence has established the reality of the Flood. ( Marston, ‘The Bible Comes Aline’, p. 33)
…ایک بات بائبل میں سرے سے موجود نہیں، اور وہ یہ پیشین گوئی ہے کہ کشتی نوح بعد کے زمانے میں ظاہر ہوگی اور وہ اللہ کی آیت (نشانی) بنے گی۔ کشتی نوح کے اِس پہلو کا ذکر قرآن میں ایک سے زیادہ بار آیا ہے، لیکن بائبل میں وہ سرے سے موجود نہیں۔
یہ اِس بات کا اشارہ تھا کہ قرآن کے مومنین بعد کے زمانے میں کشتی نوح کو تلاش کریں اور اس کو دریافت کرکے بعد کے لوگوں کے لیے اس کو حجت بنادیں۔ یہ کام وہ لوگ کرسکتے تھے جن کے اندر سائنسی تحقیق کا ذوق ہو، مگر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ سائنسی تحقیق کے ذوق سے مکمل طورپر خالی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر مسیحی اور یہودی علما اِس معاملے کی تحقیق نہ کرتے تو شاید تاریخِ نبوت کے اِس معاملے سے انسان ابھی تک بے خبر رہتا۔
کشتی نوح کا ظاہر ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ قیامت سے پہلے قیامت کی آمد کا اعلان ہے۔ یہ اُس تاریخی واقعے کا اعلان ہے کہ خالق نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے اپنی مرضی سے باخبر کیا، مگر انسان نے اِس کو نظر انداز کیا۔ یہ تخلیقِ خداوندی اور تاریخ…
…اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر، ترکی (Turkey) تھا-اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم تھا کہ بعد کے زمانے میں ترکی ایک مسلم ملک بنے گا- اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ ترکی ایسا ملک ہے جو مشرقی دنیا اور مغربی دنیا کے درمیان جنکشن (junction) کی حیثیت رکھتا ہے-
اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ مختلف اسباب سے ترکی میں ساری دنیا کے سیاح کثرت سے آئیں گے- اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یہ بھی معلوم تھا کہ مسلم ملکوں کی لمبی فہرست میں ترکی وہ واحد ملک ہوگا جو مذہبی کٹرپن (religious fanaticism) سے خالی ہوگا اور اس بنا پر وہ سب سے زیادہ موزوں ملک ہوگا جہاں سے کشتی نوح کا مطلوب رول ادا کیا جاسکے-
یہ مطلوب رول کیا ہے- وہ بلا شبہہ دعوت ہے، یعنی اللہ کے تخلیقی منصوبہ سے تمام مرد اور عورت باخبر ہوجائیں- اِس مقصد کے لئے کشتی نوح ایک تاریخی شہادت (historical evidence) کی حیثیت رکھتی ہے- وہ اُس خدائی منصوبہ کی ایک تاریخی یادگار ہے جس کا…
Turkey Rediscovered
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشن 610 عیسوی میں مکہ میں شروع کیا۔ تقریباً 13 سال کے بعد 622 عیسوی میں آپ مکہ سے مدینہ چلے گئے۔ اِس واقعے کو اسلامی تاریخ میں ہجرت کہاجاتاہے۔ ہجرت سے پہلے آپ نے پیشین گوئی کے انداز میں ایک بات کہی تھی جو حدیث کی کتابوں میں اِن الفاظ میں آئی ہے: أمرتُ بقریۃ تأکل القری۔ یقولون: یثرب، وہی المدینۃ (صحیح البخاری، رقم الحدیث:1748) یعنی مجھے ایک بستی کا حکم دیاگیا ہے، وہ تمام بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اُس کو یثرب کہتے ہیں، لیکن وہ مدینہ ہے۔
یہ حدیث سادہ طورپر مدینہ کی پراسرار فضیلت کے بارے میں نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ اِس حدیث میں تاریخ کا ایک قانون بیان کیاگیا ہے۔ یہ قانون تاریخ میں بار بار واقعہ بنا ہے، پھر یہی قانون، مدینہ (یثرب) کے حق میں واقعہ بنا۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش…
ترکی سے میرا تعلق
میں 1938 میں تعلیم کے لئے انڈیا کے ایک عربی مدرسہ (الاصلاح) میں داخل ہوا۔ اسی سال ترکی میں مصطفی کمال اتاترک کا انتقال ہوا تھا۔ اس طرح تقریباً 75 سال سے میں ترکی اور اتاترک کا نام سنتا رہا ہوں۔ اس موضوع کے بارے میں جو کچھ اردو، عربی اور انگریزی میں لکھاگیا ہے، اس کا بھی ایک قابل لحاظ حصہ میں نے پڑھا ہے- لیکن ترکی حقیقت میں کیا ہے، اس کے بارے میں بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی بے خبری میں جی رہا تھا، ترکی اور اتاترک کا نام میرے ذہن میں، دوسروں کی دی ہوئی معلومات کی بنیاد پر ایک منفی نام تھا، جو ابھی حال تک باقی رہا۔
یکم مئی 2012 کو پہلی بار مجھے موقع ملا کہ میں ترکی کا سفر کروں۔ یہ سفر ’’سیرتِ رسول‘‘ کے موضوع پر ہونے والی ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کے لئے تھا۔ اِس میں 60 ملکوں کے نمائندے شریک ہوئے۔ اِس سلسلے میں مجھے تقریباً ایک ہفتہ ترکی میں…
…ترکی میں ہوا- اتاترک کے زمانے میں حکومت کی کارروائی سے مذہب ظاہری سطح پر کسی درجے میں غیر موثر ہوگیا تھا، لیکن اتاترک کے بعد رفتہ رفتہ وہ پوری طرح زندہ ہوگیا-اب کمال ازم صرف کچھ کتابوں میں پایا جاتا ہے، خود ترکی میں اس کا کوئی وجود نہیں-
اصل یہ ہے کہ واقعات کی رپورٹنگ میں انسان کا مزاج ہمیشہ یک طرفہ رپورٹنگ کا رہاہے۔ لوگوں کی یہ قدیم عادت ہے کہ اگر کوئی اچھی بات ہو تو وہ اس کی رپورٹنگ نہیں کریں گے، لیکن اگر کوئی بظاہر بری بات ہو تو وہ اس کو فوراً رپورٹ کریں گے اور ہر جگہ مزید اضافے کے ساتھ اس کا چرچا ہونے لگے گا۔ یہی ترکی کے ساتھ ہوا۔ ترکی، کمال اتاترک کی روش سے زیادہ ، لوگوں کے اِس غلط مزاج کا شکار ہوا ہے۔ جدید ترکی جس بدنامی کا شکار ہوا ہے، وہ زیادہ تر لوگوں کے اِسی مزاج کا نتیجہ ہے، نہ کہ معروف معنوں میں، خود اتاترک کے فعل کا نتیجہ۔
مثال کے طور پر خلافت کے زمانے میں ترکی زبان عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔ اتاترک نے ایک قانون بنا کر ترکی زبان کے لئے رومن رسم الخط کو لازمی قرار دے دیا۔ یہ بات جس طرح بھیانک انداز میں رپورٹ کی گئی، حقیقت میں وہ اتنی بھیانک نہ تھی۔ اصل…
ایک علامتی مثال
اہلِ عرب اور شام (Syria) کے درمیان تعلقات قدیم زمانے سے قائم تھے۔ شام کے علاقے سے گزر کر ترکی پہنچنا بہت آسان تھا۔ یہ فاصلہ 500 میل سے بھی کم تھا۔ چناں چہ اصحاب رسول کی جماعت ساتویں صدی عیسوی میں شام کے علاقے سے گزر کر ترکی پہنچنے لگی۔ اِس آمد ورفت کے دوران ترکی میں اسلام پھیلنے لگا، یہاں تک کہ ترکی کے باشندوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔
لیکن قانونِ فطرت کے مطابق، بعد کو زوال شروع ہوا۔ انیسویں صدی کے آخر میں ترکی کے مسلمانوں کا یہ زوال آخری حد تک پہنچ گیا۔ اِس دور میں ترکی کے علما کا کیا حال تھا، اُس کا اندازہ ایک علامتی مثال سے ہوتا ہے۔
…کے خلاف نظر آئے۔ اِس کی ایک مثال اٹلی کا سائنس داں گلیلیو (وفات: 1642 ) ہے- گلیلیو کو آفتاب مرکزی نظریہ (helio-centric theory) پیش کرنے پر سخت سزا دی گئی، صرف اِس لیے کہ آفتاب مرکزی نظریے کو چرچ نے اپنے مذہبی عقیدے کے خلاف سمجھ لیا تھا۔
مگر یہ صرف فکری زوال کا مسئلہ تھا، وہ خدائی مذہب کا مسئلہ نہ تھا۔ اِس معاملے میں اسلام کا موقف اُس حدیث سے معلوم ہوتاہے جو صحیح مسلم میںآئی ہے۔ مدینہ میں ’تابیر نخل‘ کا مسئلہ پیدا ہوا۔ اُس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اصولی بات اِن الفاظ میں فرمائی: أنتم أعلم بأمر دنیاکم ( صحیح مسلم، رقم الحدیث:2363) یعنی تم اپنی دنیا کے معاملے میں زیادہ جانتے ہو۔
تابیر نخل یا پالی نیشن (pollination) کا معاملہ ایک سیکولر شعبے سے تعلق رکھتا ہے۔اِسی طرح ٹکنالوجی یا سائنس کی دریافتیں سیکولر شعبے سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں۔ اِس طرح کے معاملات میں سائنٹفک رسرچ کا لحاظ کیا جائے گا، اُن کو عقیدے سے جوڑ…
…ہوئی تھی۔ میں نے اپنی تقریر میں دعوت الی اللہ کی اہمیت کو بتاتے ہوئے کہا کہ اصحاب رسول میں سے کئی افراد دعوت وتبلیغ کے لیے ترکی آئے۔ یہاں ان کی قبریں ابھی تک موجود ہیں۔ یہ اصحاب، زبانِ حال سے پیغمبر کی امت کو پکاررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں:
O Ummat-e-Muhammad, where are you? Rise and complete the prophetic mission by doing dawah work in the present world.
میں نے اپنا یہ جملہ بتکرار دہرایا، دورانِ تقریر میں نے کئی بار رسول اللہ کا نام لیا، مگر وہاں یہ حال ہوا کہ لوگ میری بات کو سن کر رونے لگے۔ اجتماع کے بعد بہت سے لوگ مجھ سے ملے اور انھوں نے کہا کہ آپ نے اصل بات کی طرف توجہ دلائی، آپ نے ہم…
…یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انھوںنے ترکی میں قدیم پولٹکل انفراسٹرکچر (political infrastructure) کی جگہ بڑے پیمانے پر ایک نیا سوشل انفراسٹرکچر (social infrastructure) قائم کردیا جو کہ اگلے مرحلے کے کام کے لیے ایک مضبوط بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔
اکیسویں صدی کے ربع اول میں اب وقت آگیا ہے کہ ترکی میں اگلے مرحلے کا کام کیا جائے۔ یہ دعوت الی اللہ کا کام ہے۔ دعوت الی اللہ کا کام دراصل اُس کام کی تکمیل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں صحابہ اور تابعین کے ذریعے ترکی میں انجام پایا تھا اور پھر دھیرے دھیرے وہ تقریباً ختم ہوگیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ صحابہ اور تابعین کے دعوتی مشن کو دوبارہ زندہ کیا جائے اور ترکی میں سماجی اور تمدنی اعتبار سے جو نئی بنیاد قائم ہوئی ہے، اس کو بھر پور طور پر استعمال کرتے ہوئے پیغمبراسلام کے دعوتی مشن کی تکمیل کی جائے۔
دورِ شمشیر کا خاتمہ
ترکی کا پلس پوائنٹ
ترکی میں مصطفی کمال اتاترک کو 18 سال1920-1938) (تک سیاسی اقتدار حاصل رہا۔ اِس مدت میں انھوںنے جو ریڈیکل کام کئے، اس کو کمال ازم (Kemalism) کہاجاتا ہے۔ کمال ازم کا اگر موضوعی مطالعہ (objective study) کیاجائے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ کمال ازم اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک خدائی بلڈوزر (divine bulldozer) کی حیثیت رکھتا تھا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے زوال یافتہ بوسیدہ کلچر کو ڈھادیا، تاکہ اس کی جگہ ایک نئی عمارت کی تعمیر کی جاسکے۔ کمال ازم کا یہ معاملہ ترکی کے مشہور صوفی شاعر جلال الدین رومی کے اِس شعر کا مصداق تھا کہ — جب کسی عمارت کو آباد کرنا ہوتاہے تو پہلے پرانی عمارت کو ڈھادیتے ہیں:
چوں بنائے کہنہ آباداں کنند اولاً تعمیر را ویراں کنند
سیاسی ماڈل کا نقصان
ترکی کی اسلامی خلافت کیا تھی، وہ اسلام کے نام پر خاندانی بادشاہت تھی۔ مگر اسلام کا ٹائٹل دینے کی بنا پر وہ ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے سیاست کا ماڈل بنی ہوئی تھی۔ ہر جگہ مسلمان اسی نہج کا ماڈل قائم کرنے کے لیے سیاست کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے۔ اِس راہ میں جان ومال کی قربانی کو انھوں نے اپنے لیے نجاتِ آخرت کا ذریعہ سمجھ لیا تھا۔
ترکی کی مسلم خلافت 1924 میں ختم ہوئی، لیکن تمام دنیا کے علما اُس کو دشمنوں کی سازش قرار دے کر اس کے خلاف شکایت اور احتجاج میں مشغول رہے۔ کسی نے اِس راز کو نہیں سمجھا کہ خلافت کا ’’اِلغاء‘‘ دراصل ایک خدائی آپریشن تھا۔ اِس کا مقصد یہ تھا…
…بنا۔ موجودہ زمانےمیں پرنٹنگ پریس کا دور اِس لیے آیا تھا کہ خدا کی کتاب کا ترجمہ ہر زبان میں چھاپ کر اس کو تمام انسانوں تک پہنچایا جائے، مگردورِپریس پر تین سو سال سے زیادہ کی مدت گزر گئی اور ذہنی جمود کی بنا پراب تک یہ کام انجام نہ پاسکا۔
اِس مثال کے برعکس، ترکی میں ایک دوسری مثال سامنے آئی۔ یہاں ترکی کے شہر استانبول میں ایک تاریخی مسجد (رستم پاشا مسجد) ہے۔ یہ بڑی مسجد ہے اور یہاں کثرت سے سیاح آتے ہیں۔ یہاں کے ترکی امام کو ہمارے ساتھیوں نے قرآن کے انگریزی ترجمہ (بغیر متن) کی کاپیاں دیں۔ امام صاحب نے اس کو خوشی کے ساتھ لیا۔ اس کے بعد انھوں نے بڑی تعداد میں قرآن کا یہ انگریزی ترجمہ ترکی سے چھپوایا اور اس کو مزید پرکشش بنانے کے لیے قرآن کے سائز کا ایک خوب صورت بیگ تیار کیا۔ اب وہ اس کو باقاعدہ نظم کے تحت مسجد میں آنے والے سیاحوں کو دے رہے ہیں۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ انھوںنے مسجد کے صحن میں ایک میز پر قرآن کے ترجمے رکھ دئے ہیں۔ یہاں انھوں نے لکھ دیاہے کہ — یہ آپ کے لیے مسجد کی طرف سے فری اسپریچول گفٹ (free spiritual gift) ہے۔ چناں چہ مسجد میں آنے والے غیر مسلم سیاح یہاں سے بڑی…
…یہ عمل دھیرے دھیرے تقریباً 140 ملین سال تک جاری رہا۔ اس کے بعد سطحِ زمین کا پانی سمندروں کی صورت میں جمع ہوگیا اور خشکی کے علاقے 5 الگ الگ براعظم بن گئے۔ گویا کہ ترکی کا موجودہ جغرافی نقشہ بننے میں ایک سو ملین سال سے زیادہ وقت لگ گیا۔
ترکی کا یہ مختلف جغرافیہ اتفاقاً نہیں بنا۔ اس کے پیچھے یقیناً خالق کی منصوبہ بندی شامل تھی۔ اِسی مختلف جغرافی ساخت کی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ بعد کے زمانے میں ترکی انسانی تاریخ میں ایک مختلف رول ادا کرسکے۔
اسلام کا ظہور عرب میں ہوا۔ مخصوص اسباب کی بنا پر عرب کے لوگ بڑی تعداد میں شام (Syria) جایا کرتے تھے۔ شام کا ملک ترکی سے ملاہوا ہے۔ اسلام کا ظہور جب عرب میں ہوا اور اہلِ ایمان عرب کے باہر اطراف کے ملکوں میں تبلیغ کے لیے جانے لگے، تو اُن کی…
کمال ازم کی حقیقت
کمال اتاترک کی تحریک کو کمال ازم (Kemalism) کہاجاتا ہے- کمال ازم کی تحریک اینٹی اسلام تحریک نہ تھی- اپنی حقیقت کے اعتبار سے، کمال ازم کی تحریک مخالفِ جمود (anti-stagnation) تحریک تھی- ترکی میں کمال اتاترک کا دور 1920 کے بعد شروع ہوتاہے- اس سے پہلے ترکی مکمل طور پر ذہنی جمود کا شکار ہوچکا تھا- یہ وقت تھا جب کہ ترکی کے پڑوسی علاقہ یورپ میں ماڈرن ایجوکیشن اور ماڈرن انڈسٹری آچکی تھی، مگر ترکی قدیم روایتی دور میں پڑا ہوا تھا- اِس صورتِ حال کے ردِ عمل کے طورپر ترکی کے بہت سے لوگوں میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ ترکی کو ماڈرنائز کیا جائے- کمال اتاترک دراصل اِسی ذہن کے قائد کے طورپر ابھرے-
ترکی میں کمال اتاترک کو 1923 میں سیاسی اقتدار ملا- اِس کے بعد انھوں نے ملک میں ریڈیکل اصلاحات کیں- خاص طورپر تعلیم اور انڈسٹری میں ترکی کو یورپ کی ترقیاتی سطح پر لانے کی کوشش کی- اتاترک سے پہلے ترکی میں تعلیم کی شرح بمشکل 20 فی صد تھی،…
ترکی کی جدید تصویر
مشہور مستشرق فلپ کے ہٹی (Philip K. Hitti) نے عرب کی تاریخ پر ایک کتاب لکھی ہے- یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک مستند کتاب مانی جاتی ہے اور یونیورسٹیوں میں داخل نصاب ہے- اِس کتاب کا ترجمہ مختلف زبانوں میں ہوچکا ہے- اصل انگریزی کتاب کا ٹائٹل یہ ہے:
History of the Arabs:
…اِس سلسلے میں سلطان نے ترکی کی فوج کو مغربی آلاتِ حرب سے مسلح کرنے کی کوشش کی، مگر اُس وقت ترکی کے حالات اِس قسم کی تجدید کاری کے لیے موافق نہ تھے- چناں چہ مصلحین کی کوششیں زیادہ کامیاب نہ ہوسکیں اور خود سلطان سلیم کو تخت چھوڑ دینا پڑا-
جیسا کہ معلوم ہے، ترکی میں اسلام عہدِ صحابہ میں پہنچ چکا تھا- ترکی اِس سے پہلے رومی سلطنت کے قبضے میں تھا- مسلمانوں نے جب رومی سلطنت کو توڑا تو اس کے بعد ترکی مسلم مملکت کا ایک حصہ بن گیا- رومی سلطنت کے زمانے میں ترکی کی آبادی زیادہ تر مسیحی مذہب کو ماننے والی تھی- نئے حالات کے تحت یہاں اسلام تیزی سے پھیلنے لگا- عربی زبان وسیع پیمانے پر رائج ہوگئی- ترکی کے شہروں میں کثیر تعداد میں عربی مدرسے قائم ہوئے-
ترکی کے یہ عربی مدرسے آخر تک اپنے روایتی انداز پر قائم رہے- اِن مدرسوں کا ماحول مکمل طورپر قدامت پرستی کا ماحول تھا- اِن مدرسوں سے بڑی تعداد میں علما پیدا ہوئے- دھیرے دھیرے ترکی میں علما کو نہایت مضبوط حیثیت حاصل ہوگئی، یہاں تک کہ نئے…
…کام تدریج کے اصول پر عملاً ممکن نہیں ہے- اِس کے بعد تاریخ کی فطری رفتار کے مطابق، سوچنے والے دماغوں میں ریڈیکل تبدیلی (radical change) کا ذہن پیدا ہوا- یہی ریڈیکل تبدیلی کا ذہن ہے جس نے بالآخر کمال اتاترک (1881-1938) کی صورت اختیار کرلی-
ریڈیکل تبدیلی (radical change) کا مزاج تدریجی تبدیلی (gradual change) سے بالکل مختلف ہوتا ہے- تدریجی تبدیلی ہمیشہ اعتدال کے اصول پر چلتی ہے، مگر ریڈیکل تبدیلی میں ہمیشہ انتہا پسندی (extremism) کا عنصر شامل ہوجاتا ہے- یہی جدید ترکی میں پیش آیا- جس کام کو پچھلے مصلحین اعتدال کے ساتھ کرنے میں ناکام ہوگئے، اُس کو کمال اتاترک نے انتہا پسندانہ انداز میں کرڈالا- بعض خرابیاں جو کمال ازم کے اندر پائی جاتی ہیں، وہ اِسی انتہا پسندی کا نتیجہ ہیں-
تاہم یہ ترکی کی خوش قسمتی تھی کہ کمالی ریڈیکل ازم بہت دیر تک نہ چل سکا- بہت جلد ترکی میں ایسے مصلحین پیدا ہوئے جنھوں نے کمال ازم کی تصحیح کی، جنھوں نے ترکی کے انقلاب کو کامیابی کے ساتھ اعتدال کی طرف لوٹایا- اِن ترک مصلحین میں سے دو خاص…
…ہے۔ جدید کمیونی کیشن نے اِس بات کوممکن بنا دیا ہے کہ دنیا میں پولٹکل ایمپائر کی جگہ الکٹرانک ایمپائر بنایا جاسکے۔ یہ الکٹرانک ایمپائر بلا شبہہ قدیم ایمپائر سے ہزاروں گنا زیادہ بڑاہے، رقبہ کے اعتبار سے بھی اور حصولِ مقصد کے اعتبار سے بھی۔
دور جدید کا الکٹرانک ایمپائر اُس قوم کے لئے مقدر ہے جس کے پاس انسان کے لیے کوئی نظریہ حیات یا آئڈیالوجی (ideology) ہو۔ اسلام بلاشبہہ اس قسم کی ایک ابدی آئڈیالوجی ہے۔ وہ قرآن پر مبنی ہے جو کہ واحد محفوظ الہامی کتاب ہے۔ امت مسلمہ کو عموماً اور اہلِ ترکی کو خصوصاً یہ موقع حاصل ہے کہ وہ اسلام کی مبنی بر قرآن آئڈیالوجی کو لے کر اٹھیں اور اکیسویں صدی میں اپنا ایک الکٹرانک ایمپائر بنا دیں۔
پچھلے دور میں پولٹکل ایمپائر بالادستی حاصل کرنے کے لئے ہوتا تھا، لیکن نیا الکٹرانک ایمپائر خدائی بلیسنگ کو عام کرنے کے لئے ہوگا۔ قدیم پولیٹکل ایمپائر ٹیکنگ اسپرٹ کا حامل ہوتا تھا، موجودہ الکٹرانک ایمپائر گونگ اسپرٹ (giving spirit) کا حامل…
…مضبوط سیاسی بنیاد کے بغیر قدیم زمانے میں اسلام کو فروغ حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔ عثمانی ترکوں نے ایک مدت تک، نہ صرف ترکی، بلکہ مسلم دنیا کے بڑے حصے کو سیاسی دبدبہ کی یہی بنیاد فراہم کی۔ اِس اعتبار سے عثمانی سلطنت کا کارنامہ ناقابلِ انکار ہے۔
لیکن بیسویں صدی میں عالمی حالات مکمل طورپر بدل چکے تھے۔ اب نئے حالات کے مطابق، سیاست کا رول ثانوی (secondary) بن چکا تھا۔ اب ترکی میں اسلام کے فروغ کے لیے ضرورت تھی کہ وہاں غیر سیاسی دائرے میں ایک مضبوط تعمیری بنیاد قائم کی جائے۔
قدیم زمانہ سیاسی اقتدار کا زمانہ تھا۔ موجودہ زمانہ اس کے بجائے اداروں (institutions) کا زمانہ ہے، یعنی غیر سیاسی شعبوں میں پُرامن تنظیمیں بنانا، مثلاً تعلیم، صحافت، سماجی ترقی کے ادارے، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا استعمال، وغیرہ۔…
…ideas in order to address the challenges Muslims face now. In some ways the Risale-i Nur functions as an interpretation of the Qur’an for the contemporary world, millions within and outside Turkey have found solace in the interpretation.
اِس سلسلے میں دوسرا نام استاد محمدفتح اللہ گولنülen) (Fethullah Gکا ہے۔ وہ اکیسویں صدی عیسوی کے ترکی میں مقبول رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں۔ان کے پیرو ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ انھوں نے تعلیم، صحت، سوشل ریفارم جیسے تعمیری شعبوں میں ممتاز کام انجام دئے ہیں، ترکی میں بھی اور ترکی کے باہر بھی۔ میںنے ترکی کے سفر کے دوران ان کے پیروؤں کے قائم کئے ہوئے کچھ اداروں کو دیکھا۔ اِن اداروں کا معیار وہی تھا جو یورپ کے اداروں کا معیار ہوتاہے۔
فتح اللہ گولن کا یہ سوچا سمجھا نظریہ ہے کہ — پُرامن انداز میں تعمیری کام کرو اور عملی سیاست سے دور رہو۔یہاں استاذ فتح اللہ گولن کے ایک سیرت نگار کا ایک اقتباس نقل کیا جاتاہے:
…اُن کی عمر تقریباً 80 سال ہوچکی تھی۔ یہاں پہنچ کر شدید بیماری کی حالت میں ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کی تدفین قسطنطنیہ میں ہوئی- قسطنطنیہ کا موجودہ نام استانبول ہے۔ ترکی میں متعدد صحابہ کی قبریں ہیں۔ ابو ایوب انصاری کی قبر اُن میں سے ایک ہے۔
میں نے سوچا کہ ابو ایوب انصاری اور دوسرے صحابہ عرب میں پیداہوئے۔ اس کے بعد وہ پرمشقت سفر کرکے ترکی پہنچے اور پھر وہ یہاں کی سرزمین میں مدفون ہوگئے۔ یہ سوچتے ہوئے مجھے تاریخ کا وہ واقعہ یاد آیا جو 632 عیسوی میں عرب کے میدانِ عرفات میں پیش آیا تھا۔ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے اصحاب کو خطاب کیا تھا۔ آپ نے فرمایا تھا: إن اللہ بعثنی رحمۃً للناس کافۃً فأدّوا عنّی (معرفة الصحابة لأبی نُعیم، رقم الحدیث: 3438) یعنی اللہ نے مجھے ساری دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، پس تم میری طرف سے اِس پیغام رحمت کو تمام انسانوں تک پہنچا دو۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس ہدایت کے مطابق، آپ کے اصحاب، عرب کے باہر نکلے اور اطراف کے ملکوں میں وہ آپ کا پیغام پہنچانے لگے۔ مگر یہ جدید کمیونکیشن سے پہلے کا زمانہ تھا۔ چناں چہ ایک حد پر پہنچ کر اُن کا دعوتی قافلہ رک گیا اور…
…الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: رسلاً مبشرین ومنذرین لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل 4: 165) )یعنی اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بناکر بھیجا، تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت باقی نہ رہے:
They were messengers, bearing good news and giving warning, so that mankind would have no excuse before God.
جغرافی اعتبار سے ترکی کا جائے وقوع بہت عجیب ہے۔ اس کا نصف حصہ ایشیا میں ہے اور بقیہ نصف حصہ یورپ میں۔ اِس طرح ترکی گویا کہ مشرق اور مغرب کے درمیان پل کی حیثیت رکھتا ہے:
اخوانِ رسول
اب سوال یہ ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو کمیونی کیشن کے دور میں ادخالِ کلمہ کا یہ رول ادا کریں گے۔ اِس کا جواب ایک حدیث میںملتاہے۔ اُس کے الفاظ یہ ہیں: وددتُ أنا قد رأینا إخواننا۔ قالوا: أولسنا إخوانک یا رسول اللہ، قال: أنتم أصحابی، وإخواننا الذین لم یأتوا بعد (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 249) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میری خواہش ہے کہ ہم اپنے اخوان (بھائیوں) کو دیکھیں۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو، ہمارے اخوان وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔
دونوں حدیثوں میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول دونوں کا مشن زمانے کے فرق کے ساتھ، ایک ہی ہے، یعنی دعوت الی اللہ۔ فرق صرف یہ ہے کہ اصحابِ رسول نے دعوت کے اس کام کو قبل کمیونی کیشن دور (pre-communication age) میں…
…تک کہ حدیث رسول کی پیشین گوئی کے مطابق، دین ِ حق کا کلمہ ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں داخل ہوجائے۔ یہی اخوانِ رسول کا رول ہے۔ مستقبل انتظار کر رہا ہے کہ بڑھنے والے آگے بڑھیں اور فرشتوں کے ریکارڈ میں اخوانِ رسول کی حیثیت سے اپنا اندراج کرائیں۔
ترکی میں مدفون صحابہ خاموش زبان میں آواز دے رہے ہیں کہ اے اہلِ ترکی، تم دوبارہ اٹھو اور پیغمبر کے دعوتی مشن کو اس کی آخری تکمیل تک پہنچا دو۔ پھر وہ وقت آنے والا ہے جب کہ حشر کے میدان میں دوبارہ آواز دینے والا فرشتہ آواز دے کہ وہ لوگ آئیں جن کی بابت پیغمبر نے پیشگی خبر دی تھی، اور پھر سارے پیدا ہونے والے لوگ رشک کی نظروں سے دیکھیں گے کہ کتنے خوش قسمت تھے وہ لوگ جنھوں نے دعوتی کام کیا جس کے نتیجے میں آج اُن کو اخوانِ رسول کا درجہ مل رہا ہے۔
اجتہادی رول
…رول ہے۔ کمال اتاترک فطری طورپر ایک جرأت مند اور باعزم آدمی تھے۔ یہ کمال اتاترک ہی تھے جو ترکی میں ریڈیکل ریفارم (radical reform) لے آئے۔ مثلا رومن رسم الخط کو ترکی زبان کا رسم الخط بنانا، مغربی طرزِ تعلیم کو ترکی میں رائج کرنا، وغیرہ۔
کمال اتاترک جو تبدیلیاں لائے، اُن کو مخالفِ مذہب(anti-religion)کہنا درست نہ ہوگا۔ زیادہ صحیح طورپر اتاترک کا مشن مخالفِ جمود (anti-stagnation)مشن تھا۔ ترکی کے سفر میں وہاں کی مشہور نیوز ایجنسی (Anadolia Ajansi)کے نمائندہ کو انٹرویو دیتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ جدید ترکی کا کیس اسلام کو سیکولر بنانا نہیں تھا، بلکہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے، وہ سیکولرزم کو اسلامی بنانا تھا:
The case of modern Turkey was not one of secularization of Islam, but in terms of result, it was Islamization of secularism.
…چڑھائی کرکے ارارات کی چوٹی پر پہنچے اور کشتی کا براہِ راست مشاہدہ کیا، پھر انھوںنے کشتی کا ایک ٹکڑا لے کر اس کی سائنٹفک جانچ کی۔ اِس سے معلوم ہوا کہ کشتی کی عمر متعین طورپر چار ہزار آٹھ سو سال ہے، یعنی وہی زمانہ جب کہ طوفانِ نوح آیا تھا:
A group of Chinese and Turkish evangelical explorers said they believe they may have found Noah’s Ark—four thousand meters up a mountain in Turkey. The team say they recoverd wooden specimes from a structure on Mount Ararat in eastern Turkey that carbon dating proved was 4,800 years old, around the same time the Ark is said to have been afloat. (The Times of India, New Delhi, April 28, 2010)
قرآن میں کشتی نوح کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے۔ اُن میں سے ایک وہ ہے جو سورہ العنکبوت میں پایا جاتا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: فأنجینٰہ وأصحٰبَ السفینۃ، وجعلناہا اٰیۃً للعالمین (29:15)یعنی پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو بچا لیا۔ اور…
کشتی نوح اور ترکی
جیسا کہ عرض کیا گیا، حضرت نوح کی کشتی قدیم عراق (میسوپوٹامیا) کے علاقہ سے روانہ ہوئی- وہ اپنے چاروں طرف مختلف مقامات کی طرف جاسکتی تھی، لیکن اس نے ایک خاص رخ پر اپنا سفر کیا- پھر وہ چلتی ہوئی ترکی کی مشرقی سرحد پر واقع ایک پہاڑ کے اوپر ٹھہر گئی- یہ سخت سردی کا علاقہ تھا- چناں چہ کشتی بھاری اسنوفال (heavy snow fall) کے نتیجے میں برف کے بہت بڑے تودے کے نیچے دب گئی- اس طرح لمبی مدت تک فاسِلائزیشن (fossilization) کے عمل کے نتیجے میں وہ پتھر جیسی ہوگئی- اس طرح کشتی محفوظ رہی اور اکیسویں صدی میں برف پگھلنے کے نتیجے میں وہ ظاہر ہو کر لوگوں کے سامنے آگئی-
ایسا کیوں ہوا- حضرت نوح کی کشتی کے لئے مختلف آپشن (option) موجود تھے، لیکن اس نے صرف ایک ہی آپشن لیا اور وہ ترکی کے پہاڑ کا آپشن تھا- ایسا بلا شبہہ خدا کی ہدایت پر ہوا- اِس معاملے کو اتفاقی واقعہ کے طورپر نہیں لے سکتے- ہمارے لئے لازم ہے…
…انتظام کیا جائے کہ کشتی نوح کے حوالے سے پیغمبرانہ مشن لوگوں کے سامنے اطمینان بخش صورت میں آسکے- گویا کہ کشتی نوح کے ظہور کا یہ مقام صرف ایک کشتی کے ظہور کا مقام نہ رہے، بلکہ وہ پورے معنوں میں جدید ترین معیار کا ایک دعوتی سنٹر بن جائے-
خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، ہماری زمین کے لئے دو سیلاب مقدر تھا —— ایک، حضرت نوح کے زمانے کا سیلاب اور دوسرا، وہ جو تاریخ بشری کے خاتمے پر پیش آئے گا- کشتی نوح پہلے سیلاب کے لئے تاریخی یادگار کی حیثیت رکھتی ہے، اور دوسرے سیلاب کے لئے اس کی حیثیت تاریخی ریمائنڈر (historical reminder) کی ہے- اکیسویں صدی عیسوی کے ربعِ اول میں کشتی نوح کا ظہور گویا اِس بات کی وارننگ ہے کہ لوگو، تیاری کرو، کیوں کہ آخری طوفان کا وقت قریب آگیا ہے-
خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اِس خدائی منصوبے کو سمجھیں اوراس کی تکمیل کرکے اللہ کے یہاں اجرِ عظیم کے مستحق بنیں- حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں سال تک برف کے تودے میں دبے رہنے کے بعد کشتی نوح کا ظاہر ہونا صورِ اسرافیل سے پہلے کے دور کا سب سے بڑا واقعہ…
خصوصی شمارہ ۔ ترکی کا سفر
راقم الحروف کا ایک سفر ترکی کے لیے ہوا۔ یکم مئی 2012 کی صبح کو دہلی سے روانگی ہوئی اور 7مئی 2012 کی صبح کو دہلی واپسی ہوئی۔ یہ نئے تجربات سے بھرا ہوا ایک سفر تھا۔ اِس سفر کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔ اِس سفر میں میرے ساتھ حسب ذیل افراد تھے — مسٹر رجت ملہوترا، مولانا محمد ذکوان ند وی، ڈاکٹر فریدہ خانم۔
ترکی میں ایک غیر سیاسی تحریک ہے۔ اس کو سوشیوایجوکیشنل (Socio-educational) تحریک کہا جاسکتا ہے۔ یہ تحریک دنیا کے تقریباً 90 ملک میںکام کررہی ہے۔ اِس تحریک کے بانی اور قائد استاد محمد فتح اللہ گولن (M. Fethullah Gülen) ہیں۔ موجودہ سفر اسی…
…کشادہ اور ہموار تھیں۔ سڑکوں پر ہندستان جیسا رش (rush)نظر نہیں آیا۔ سڑک کے دونوں طرف جدید طرز کی کثیر منزلہ خوب صورت عمارتیں نظر آئیں۔ جگہ جگہ سرسبز علاقے دکھائی دے رہے تھے۔ سڑک کے دونوں طرف کثرت سے مسجدوں کے بلند مینار دکھائی دے رہے تھے۔
میرا اندازہ ہے کہ ترکی میں جو اعلی انفراسٹرکچر ہے، وہ غالباً دوسرے کسی مسلم ملک میں موجود نہیں۔ ترکی کی شہری پلاننگ بظاہر مغربی طرز کی ہے، لیکن ترکی کے شہروں اور مغربی ملکوں کے شہروں میں ایک نمایاں فرق نظر آتا ہے، وہ یہ کہ مغربی ملک کے ایک شہر میں بلڈنگیں ہوں گی، لیکن مسجد کے مینار وہاں دکھائی نہیں دیںگے ۔ لیکن ترکی میں جدید طرز کی بلڈنگوں کے ساتھ ترکی طرز کے مینار دونوں کے درمیان فرق کو نمایاں کررہے ہیں۔ استانبول کا شہر ایک پہاڑی علاقے میں واقع ہے، اِس لیے اس کے مختلف حصوں میں بہت زیادہ نشیب وفراز پایا جاتا ہے۔
ترکی، شرقِ اوسط کا ایک ملک ہے۔ وہ جزئی طورپر ایشیا میں واقع ہے اور جزئی طور پر یورپ میں۔ دو براعظم کے درمیان اُس کا واقع ہونا اس کی تاریخ بنانے میں ایک مرکزی عامل ہے، اس کے کلچر میں اور اس کی سیاست میں۔ عام طورپر یہ کہا جاتا ہے کہ ترکی،…
…بوٹ، اس کےاوپر اڑتے ہوئے پرندے، ہواؤں سے ہلتے ہوئے سرسبز درخت، آسمان کا منظر، سورج کی روشنی، یہ تمام چیزیں مل کر ایمان افروز منظر کا نمونہ بنی ہوئی تھیں۔ میں جب بھی کمرے میں ہوتا، اس کو دیکھ کر خالق کو اور اس کی تخلیق کو یاد کرتا رہتا۔
دوپہر کا کھانا ہم لوگوں نے اِسی ہوٹل میں کھایا۔ کھانا سادہ تھا اور مغربی ذوق کے مطابق، مرچ مسالے سے خالی۔یہاں وجیٹیرین فوڈ اور نان ویجٹیرین فوڈ دونوں موجود تھے، مگر میں نے اپنی عادت کے مطابق، صرف ویجیٹیرین فوڈ لیا۔
ترکی میں غالباً سگریٹ اسموکنگ کا کافی رواج ہے، لیکن عجیب بات ہے کہ وہ لوگ اندر کمرے میں یا لوگوں کے درمیان اسموکنگ(smoking) نہیں کرتے، وہ جاکر کھلے ایریا میں اسموکنگ کرتے ہیں۔یہ طریقہ ترکی میں کئی جگہ نظرآیا۔ ہوٹل میں بھی یہی منظر دکھائی…
…کرتا رہا اور ان کی باتیں سنتا رہا۔ میں نے پایا کہ مسٹر علی کا حافظہ بہت اچھا ہے۔ اُن کو بہت سے واقعات یاد ہیں۔ تاریخ سے ان کو خصوصی دل چسپی ہے۔ وہ ترکی کے علاوہ، انگریزی اور رشین زبان جانتے ہیں۔ آج کل وہ عربی اور اردو زبان سیکھ رہے ہیں۔
اِس سلسلے میں گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ ترکی میں ایک مقولہ ہے — ایک زبان، ایک انسان۔ دوزبان، دو انسان۔تین زبان تین انسان:
Bir lisan bir insan, iki lisan iki insan, Üç insan üç insan
…کیا۔ انھوں نے ناقابلِ حصول کو اپنا نشانہ بنا لیا، حالاں کہ انھیں صرف قابلِ حصول کو اپنا نشانہ بنانا چاہیے۔ میں نے کہا کہ اِس دنیا میں آئڈیل (ideal) کا حصول ممکن نہیں۔ جو آدمی آئڈیل کا طالب ہو، اس کو چاہیے کہ وہ آخرت کے لیے عمل کرے۔
چمل جہ (Camlica)سے روانہ ہو کر ہم لوگ رات کو 10بجے ہوٹل پہنچے۔ یہاں ایک مجلس میں میں نے اپنے ساتھیوں سے گفتگو کرتےہوئے اپنا ایک تاثر اِس طرح بیان کیا۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں کمائی کے مواقع بہت بڑھ گئے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں ساری دنیا میں ایک ظاہرہ دکھائی دیتاہے، وہ ہے ذہنی ارتقا کا رک جانا۔ موجودہ زمانے میں فکری اعتبار سے، اعلی درجے کے لوگ پیدا نہیں ہورہے ہیں۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ اِس زمانے میں تقریباً ہر آدمی پروفیشنل (professional) بناہوا ہے۔ اِس طرح کے لوگوں کو ایک شخص نے حیوانِ کاسب (earning animal) کا نام دیا تھا۔ اِس کلچر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لوگوں کا ذہنی ارتقا رک گیا ہے۔ اِس مسئلے کو ایک لفظ میں ذہنی بونا پن (intellectual dwarfism) کہاجاسکتا ہے۔
اگلے دن 2 مئی 2012 کی صبح کو 9 بجے ہوٹل سے گولن تحریک کے تحت قائم اکیڈمی (Akademi) کے لیے روانگی ہوئی۔ ہوٹل سے اکیڈمی بذریعے کار 15 منٹ کے فاصلے پر تھی۔ یہاں صبح کا ناشتہ کیاگیا۔ اِس دوران ہر ایک نے مختصر انداز میں اپنا تعارف پیش کیا۔ میں…
…کا ترجمہ پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً حال میں استانبول کے ایک مقام پر سیرتِ رسول کے موضوع پر ایک پروگرام ہوا۔ اِس پروگرام میں غیر ملکی لوگ بھی شامل تھے۔ اِس موقع پر انھوں نے ایک ہزار لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ برائے مطالعہ دیا۔
امام صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے ایک بات یہ کہی کہ ایک رپورٹ کے مطابق، 2011 میں 31 ملین سے زیادہ غیر ملکی سیاح ترکی میں آئے۔ یہ لوگ معروف معنوں میں صرف سیاح نہیں، بلکہ وہ ہمارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ اپنے ملک سے نکل کر یہاں آتے ہیں اور ہمارے دروازےپر آکر دستک دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے حاملینِ قرآن، ہم یہاں ہیں، لاؤ تم ہم کو خدا کا وہ کلام دو جو تم کو پیغمبر اسلام کے ذریعے ملا ہے۔ امام صاحب نے میری بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ آنے والے سیاح نہ صرف یہ کہ ہمارے ملک میں آکر ہم کو دستک دے رہے ہیں،بلکہ وہ ہماری مسجدوں میں داخل ہو کر ہم سے پوچھتے ہیں کہ اسلام کیا ہے اور قرآن کیا ہے۔
میں نے کہا کہ اِس طرح کا دعوتی ماحول ہر مسلم ملک میں موجود ہے، مگر مذہب کے نام پر ہونے والی باہمی لڑائیوں نے وہاں کے مسلمانوں کو دعوتی مزاج سے محروم کر رکھا ہے، جب کہ ترکی میں کمال آپریشن کے بعد آنے والے کھلے پن (openness) کی وجہ سے یہاں…
…کہ ہم لوگ اِس وقت 6 آدمی ہیں۔ آپ صرف 4 کھانا منگوائیے۔ وہ ہم سب کے لیے کافی ہوجائےگا۔ حدیث میں آیا ہے: طعام الواحد یکفی الاثنین (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2059) مگر یہ بات عام رواج کے خلاف تھی، اِس لیے میری تجویز کے خلاف زیادہ کھانا آگیا۔
اِس معاملے میں ایک طریقہ یہ ہے کہ کھانا بقدر ضرورت منگایا جائے، تاکہ وہ ضائع نہ ہو۔ دوسرا طریقہ وہ ہے جو امریکا میں رائج ہے۔ وہاں لوگ بچے ہوئے کھانے کو رکھ کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور اگلے وقت ا س کو استعمال کرتے ہیں، اس کے لیے میزبان اور ہوٹل دونوں نہایت خوشی سے ایک خوب صورت بیگ مہیا کردیتے ہیں۔
یہاں ترکی کے ایک پبلشر اور مصنف مسٹر محمد امین اپنے والد کے ساتھ مجھ سے ملنے کے لیے آگئے تھے۔ وہ کھانے میں شریک رہے اور آخر میں کھانے کا بل بھی انھوں نے ادا کیا۔ بعد کو انھوں نے مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو استانبول میں واقع اپنے گھر پر…
…ہوگیا۔ جس طرح سورج کا نکلنا اِس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ لوگ نئے دن میں نیا کام کریں۔ اِسی طرح خلافت کے سیاسی ادارے کا خاتمہ اِس بات کا اشارہ تھا کہ مسلمان نئے مواقع کو سمجھیں اور دورِ جدید میں ان کو دعوت الی اللہ کے لیے استعمال کریں۔
ترکی میں ہم لوگوں کے لیے ہر قسم کی سہولتوں کا انتظام تھا، لیکن حقیقی سکون پھر بھی حاصل نہیں تھا۔ اِس پر بات کرتے ہوئے میرے ساتھی مولانا محمد ذکوان ندوی نے کہا کہ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ — انسان غیرِ جنت کا تحمل بھی نہیں کرسکتا، پھر وہ جہنم کا تحمل کیسے کرسکے گا۔ یہ صورتِ حال بلاشبہہ ایک عظیم دعا کے لیے پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) کی حیثیت رکھتی ہے، اور وہ ہے— جنت کی دعا۔ مومن وہ ہے جس کو دنیا کا ہر خوش گوار تجربہ جنت کی یاد دلائے اور ہر ناخوش گوار تجربہ اس کے اندر جہنم سے پناہ مانگنے کا شدید جذبہ پیدا کردے۔
3 مئی 2012کو ہم لوگ واپس ہو کر اپنے ہوٹل پہنچے۔ یہاں ہم نے عصر کی نماز ادا کی۔ اس کے بعد ہم لوگ اپنے کمرے کے اُس حصے میں بیٹھ گئے جہاں سے باسفورس کا منظر نہایت صاف دکھائی دیتا تھا۔ اُس وقت میں نے گفتگو کے دوران اپنے ساتھیوں سے کچھ باتیں…
…تازہ پھل دئے گئے۔ اس کو دیکھ کر ہمارے ایک ساتھی نے کہا کہ عام طور پر لوگوں کا یہ حال ہےکہ وہ آبِ زمزم کا ایک ایک قطرہ پی لیتے ہیں، جب کہ عام پانی کے معاملے میں وہ ایسا نہیں کرتے، حالاں کہ دونوں پانی یکساں طور پر اللہ کی عظیم نعمتیں ہیں۔
استاذ فتح اللہ گولن نے سب سے زیادہ زور تعلیم (education)پر دیا ہے۔ یہ بلاشبہہ صحیح اسٹارٹنگ پوائنٹ (right starting point)ہے۔ اِس کے حوالے سے میں نے ایک مجلس میں کہا کہ یہ بلاشبہہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ استاذ فتح اللہ گولن کے اندر صحیح طرز فکر پایا جاتا ہے۔
یہاں سب سے پہلے مجھ کو بولنے کا موقع ملا۔ میں نے تعلیم کے موضوع پر انگریزی زبان میں 15منٹ کی ایک مختصر تقریر کی۔ اِس کا بر وقت عربی ترجمہ پروفیسر زبیر احمد فاروقی نے کیا۔ اِس کے بعد مجلس کے دوسرے شرکا نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
…کے قیام کے لیے اِس ہوٹل کے فرسٹ فلور پر ڈبل بیڈ کا ایک دوسرا روم دیاگیا تھا۔ ہوٹل میں ہر قسم کی راحت کا سامان موجود تھا، لیکن مجھے اِس قسم کے سامانوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ میں اپنے سادہ انداز میں ہوٹل میں رہا اور پھر واپس آگیا۔
5 مئی 2012 کو صبح کا ناشتہ اِسی ہوٹل میں تھا۔ کانفرنس کے تمام شرکا نے ایک بڑے ہال میں میزوں کے گرد بیٹھ کر ناشتہ کیا۔یہ پورا ہال کھانے کے مختلف آئٹم سے بھرا ہوا تھا، مگر میں نے اپنی عادت کے مطابق، ناشتے کے لیے صرف دو چیزیں لیں۔ شہد اور براؤن بریڈ۔
ناشتے کے بعد ہم لوگ شہر کے اُس مقام پر گئے جہاں کانفرنس کی کارروائی کا انتظام تھا۔ یہ جدید طرز کا ایک انتہائی وسیع ہال تھا۔ یہاں رسپشن کے پاس کئی بک اسٹال تھے۔ ہمارے ساتھی کئی کارٹن میں ہمارے یہاں کی چھپی ہوئی کتابیں لے گئے تھے۔ مثلاً…
…میں مختصر پروگرام ہوا۔ اِس پروگرام میں میں نے دعوت الی اللہ کی اہمیت کے بارے میں کچھ باتیں کہیں۔ آدھ گھنٹے کے خطاب کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔یہاں میں انگریزی میں گفتگو کررہا تھا۔ مسٹر علی اکیز ترکی زبان میں اس کا ترجمہ کررہے تھے۔
گھر کی ایک خاتون نے سوال کیا کہ آپ قرآن کے ترجمے کو لوگوں کے درمیان ڈسٹری بیوٹ (distribute)کرنے پر بہت زور دیتے ہیں۔ کیا صرف قرآن ڈسٹری بیوٹ کرنے سے دعوت کا حق ادا ہوجائے گا۔
اِس کے جواب میں میں نے کہا کہ ہاں، قرآن مکمل دعوت ہے۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دعوت کا مقصد کنورژن (conversion) نہیں ہے۔ دعوت کا مقصد انذار وتبشیر (19:97) ہے، یعنی خدائی ہدایت نامے کو لوگوں تک پہنچا دینا، اور قرآن پہنچانے کے…
واپسی کے سفر میں جہاز کے اندر کچھ چیزیں مطالعے کے لئے موجود تھیں۔ اُن میں سے ایک مشہور ترک اخبار زمن (Zaman) تھا۔ اس کا انگریزی ایڈیشن ٹوڈیز زمن (Today's Zaman) کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ 6مئی 2012 میں ایک مضمون اِس عنوان کے تحت تھا:
Book Reading: Not Appropriate As A Punishment
مضمون نگار کا نام یہ تھا— Erol Yilmaz ۔ مضمون میں بتایا گیا تھا کہ ترکی کی عدالت نے پچھلے دس سال سے ایک نیا تجربہ شروع کیاہے، وہ ہے چھوٹے جرائم (minor crimes) پر مطالعہ کتب کی سزادینا۔ مضمون میں بتایا گیا تھا کہ اِس قسم کے بعض جرائم مثلاً…
ک I can not attend the meeting in the evening as today in the morning I have got a copy of the Quran which I have to read. (Prof Valdimer, Iceland)
ک I was planning to buy Quran for long. Thanks for presenting. I will definitely read this and other books and send you my comments. (Mr. Thor, Director, Iceland)
ک After reading the chapter “Negative Thinking Alien to Islam” of The Prophet of Peace, she commented – Truly nice, excellent!. So clearly explained without any ambiguity. (Ms. Shifa Modak, England)
20 - غالب اکیڈمی (نظام الدین، نئی دہلی) میں 21 فروری 2011 کو تنظیم ابنائِ قدیم دار العلوم دیوبند کی طرف سے ایک آل انڈیا کنونشن ہوا۔ اِس موقع پر سی پی ایس (نئی دہلی) کی طرف سے حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیاگیا۔
21 - فلسطین کے کنونشن سنٹر(یروشلم) میں 20-25فروری 2011 کو ایک انٹرنیشنل بک فئر (Jerusalem International Book Fair)ہوا۔ اِس بک فئر میں گڈر ورڈ بکس (نئی دہلی) نے بھی اپنا اسٹال لگایا۔یہاں بڑی تعداد میں وزٹرس آئے۔ اِس موقع پر فلسطین کے یہودی اور مسیحی لوگوں کو بڑے پیمانے پر قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ مسجد اقصیٰ کے قریب ایک بڑے ہوٹل میں قرآن کا اسٹینڈ رکھاگیاہے۔یہاں سے بڑی تعداد میں غیر مسلم زائرین قرآن کا ترجمہ حاصل کررہے ہیں۔یہاں چند وزٹرس کے تبصرے (comments) نقل کئے جاتے ہیں:
“I would love to have it, I don’t have one”.
کشتی ٔ نوح کی دریافت
حضرت نوح ابتدائی دور کے پیغمبر ہیں۔ ان کی بعثت عراق کے علاقہ میسو پوٹامیہ (Mesopotamia) میں ہوئی۔ لمبی مدت تک دعوت و تبلیغ کے باوجود بہت کم لوگ اُن پر ایمان لائے، یہاں تک کہ ایک عظیم طوفان کے ذریعے پوری قوم کو بتاہ کردیاگیا۔ اُس وقت اللہ کے حکم سے حضرت نوح نے ایک بڑی کشتی بنائی۔ حضرت نوح نے اِس کشتی میں اُس وقت کے تمام اہلِ ایمان کو بٹھایا۔ طوفان میں بہتی ہوئی یہ کشتی آخر کار مشرقی ترکی کے پہاڑ ارارات (Ararat) پر ٹھہر گئی۔ اس کے بعد اس میں بیٹھے ہوئے تمام لوگ کشتی سے نکل کر مختلف علاقوں میں آباد ہوگئے۔
یہ واقعہ پانچ ہزار سال پہلے کا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا تھا کہ یہ کشتی محفوظ رہے گی اور بعد کے زمانے میں دریافت ہو کر لوگوں کے لیے نشانی (sign) بن جائے گی۔ قرآن کی سورہ نمبر 54 میں حضرت نوح کے تذکرہ کے بعد یہ آیت آئی ہے: ولقد ترکناہا…
Quran and Dawah Material Distribution
CPS International and Goodword Books have placed Order Free Quran forms on their websites, www.goodwordbooks.com and www.cpsglobal.org. They are sending Quran copies of the Quran translated by Maulana Wahiduddin Khan in English and dawah material in response to the daily requests coming from people from all over the world. Some of the prominent places are USA, Mexico, Canada, UK, Germany, Sweden, Lithuania, Nigeria, Ghana, Australia, South Africa, Saudi Arabia, Morocco, UAE, Turkey, Singapore, Malaysia, Malta, Philippines, Poland, Russian, Kazakhstan, Ukraine, Uzbekistan, Pakistan and India.
Dayees from all over the world are also spreading the translations of the Quran by Maulana Wahiduddin Khan in English and Hindi and dawah material during interactions or through emails either individually or in groups.
Quran and Dawah Material Distribution
CPS International and Goodword Books have placed Order Free Quran forms on their websites, www.goodwordbooks.com and www.cpsglobal.org. They are sending Quran copies of the Quran translated by Maulana Wahiduddin Khan in English and dawah material in response to the daily requests coming from people from all over the world. Some of the prominent places are USA, Mexico, Canada, UK, Germany, Sweden, Lithuania, Nigeria, Ghana, Australia, South Africa, Saudi Arabia, Morocco, UAE, Turkey, Singapore, Malaysia, Malta, Philippines, Poland, Russian, Kazakhstan, Ukraine, Uzbekistan, Pakistan and India.
Dayees from all over the world are also spreading the translations of the Quran by Maulana Wahiduddin Khan in English and Hindi and dawah material during interactions or through emails either individually or in groups.
پیچھے کی سیٹ
انگریزی زبان کی ایک مشہور مثل ہے کہ — ٹاپ کی جگہ ہمیشہ خالی رہتی ہے:
There is always room at the top
…پرندوں اور جانوروں سے پیغام رسانی کا کام لیتے رہتے۔جدید الیکٹری سٹی کے ظہور کے بعد بھی ہم چراغوں اور دِیوں کے ذریعے اپنے گھروں کو روشن کرتے رہتے۔ زرعی ٹریکٹروں کے ظہور میں آنے کے بھی ہم ہَل اور بیل کے ذریعے زراعت کا کام جاری رکھتے، وغیرہ۔
اللہ تعالیٰ کی یہ ایک عظیم حکمت تھی کہ اُس نے قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی رہ نمائی کو بتانے کے لیے اُسوۂ حسنہ کا لفظ استعمال کیا۔ اگر اِس آیت میں اسوۂ کاملہ کا لفظ ہوتا تو لوگ یقینی طورپر غلط فہمی میں پڑ جاتے۔ لوگ الدین اور منہاج میں فرق کرنے سے قاصر رہتے۔ وہ غلط فہمی کی بنا پر یہ سمجھ لیتے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم، جس طرح الدین کے بارے میں ابدی اور کامل نمونہ ہیں، اِسی طرح منہاج اور طریقِ کار کے معاملے میں بھی آپ کا طریقہ ابدی ہے۔ اِس غلط فہمی کا یہ نتیجہ ہوتاکہ اسلام جمود کا شکار ہوجاتا۔ دوسری قومیں جدید ترقیاتی طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتیں اور مسلمانوں کا قافلہ اُن سے بہت زیادہ پیچھے ہوجاتا۔
اِس غلط فہمی اور اس کے غیر مطلوب نتائج کی ایک مثال تُرکی میں ملتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ عثمانی خلافت کا فوجی نظام، قدیم طرز کے مطابق چلا آرہا تھا، یعنی اُن کی فوجی تیاری تلواروں اور گھوڑوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ پھر نشاۃِ ثانیہ کے بعد مغربی…
معلومات اور تجزیہ
ایک صاحب نے ایک جریدہ دکھایا۔ اس میں سید جمال الدین افغانی کے بارے میں ایک مفصل مضمون تھا۔ اس مضمون کا خاتمہ اس طرح ہوا تھا: سید جمال الدین افغانی نے زندگی کے آخری ایام استنبول میں سخت ذہنی اذیت میں گزارے۔ ان کی زندگی کا واحد مقصد عالم اسلام کا اتحاد تھا جو یہاں پورا ہوتا نظر نہ آتا تھا۔ خفیہ طور پر ان کی جاسوسی بھی کی جاتی۔ آخر اسی کرب میں ۱۸۹۷ کو بعمر اٹھاون برس سرطان کے عارضہ میں انھوں نے استنبول میں وفات پائی۔
سید جمال الدین افغانی کو اپنے زمانہ میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ افغانستان، مصر، ایران، ترکی وغیرہ میں ان کو بہت زیادہ مواقع ملے۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد وہ ہر ملک سے نکال دیئے جاتے کیوں کہ وہ جہاں پہنچتے وہاں وہ حکومت کے خلاف اشتعال انگیز…
قومیت کا مسئلہ
سید جمال الدین افغانی ۱۸۳۸ میں پیدا ہوئے اور ۱۸۹۷ میں اُن کی وفات ہوئی۔ وہ اُس نظریہ کی ایک علامت ہیں جو ترکی کے سلطان عبدالحمید کی حمایت سے شروع ہوئی اور جس کو اتحادِاسلامی(پان اسلامزم) کہا جاتا ہے۔ سید جمال الدین افغانی کے زمانہ میں تقریباً پوری مسلم دنیا انگریزوں اور فرانسیسیوں کی سیاسی ماتحتی میں آگئی تھی۔ جمال الدین افغانی اس مغربی اقتدار کو ختم کرنے کے لیے اُٹھے ۔ اس مقصد کو طاقت دینے کے لیے اُنہوں نے اتحادِ اسلامی کا نظریہ بنایا۔ اُن کا کہنا تھا کہ تمام دنیا کے مسلمان، خواہ وہ اکثریتی ملک میں ہوں یا اقلیتی ملک میں، وہ سب کے سب ایک واحداُمّت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ سب کے سب ایک ہی سیاسی وحدت میں بندھے ہوئے ہیں۔
سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اسی نظریہ کے مطابق کہا کہ تمام دنیا کے مسلمان ایک انٹرنیشنل پارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آیت اللہ خمینی اور دوسرے رہنماؤں نے اس کو الأمّہ(Ummah) کا لفظ دیا جو بہت جلد تمام دنیا کے مسلمانوں میں مقبول ہوگیا۔ اسی…
۱۸ اپریل ۲۰۰۳
بی بی سی ورلڈ سروس اپنے سامعین کو کوئی سوال دیتا ہے جس کا جواب وہ ٹیلی فون یا ای میل کے ذریعہ بی بی سی لندن کو بھیجتے ہیں۔ یہ جوابات روزانہ صبح کے نشریہ میں سنائے جاتے ہیں۔ اب چونکہ عراق کی صدام حکومت ختم ہوگئی ہے اور یہ سوال سامنے ہے کہ آئندہ عراق میں کس قسم کی حکومت بنے۔ بی بی سی لندن نے لوگوں کے سامنے یہ سوال رکھا:
Who should rule Iraq in the future?
…of birds has a unique regularity in Africa. The standard-wing night jar, which nests in a belt extending from Senegal in the west to Kenya in the east along the equatorial forest, migrates northward to avoid the wet season (12/180).
یہ چڑیاں ٹھیک یہی معاملہ بحرِاسود کے ساتھ بھی کرتی ہیں۔ چنانچہ ان کا جھنڈ یہاں پہنچ کر دو ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ ان کا ایک حصہ بحراسود کے مغربی ساحل سے اور دوسرا حصہ مشرقی ساحل سے اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایشیائی علاقہ میں داخل ہو جاتا ہے۔
ایک ماہر طیور نے لکھا ہے کہ یہ بخوبی طور پر الگ الگ راستے غالباً چڑیوں نے اس لیے اختیار کیے ہیں کہ وہ سمندر کے اوپر لمبی پرواز سے بچ سکیں
’’حالی اب آئو پیرویٔ مغربی کریں‘‘
سرسید نے جب انگلستان سے واپس آ کر دسمبر1870ء میں تہذیب الاخلاق نکالنا شروع کیا تو انہوں نے پہلے پرچہ کے شروع میں لکھا
’’اس پرچہ کے اجراء سے مقصد یہ ہے کہ ہندستان کے مسلمانوں کو کامل درجہ کی سویلائزیشن یعنی تہذیب اختیار کرنے پر راغب کیا جائے تاکہ جس حقارت سے سویلائزڈ یعنی مہذب قومیں ان کو دیکھتی ہیں وہ رفع ہو اور وہ بھی دنیا میں معززو مہذب قوم کہلائیں۔‘‘
…اور منزل طے کرتا ہے۔ ایسے آدمی کا کیس یہ ہے کہ پہلے اگر وہ سادہ معنوں میں حق کی طرف سفر کررہا تھا، تو اب وہ حق کی طرف چھلانگ (jump) کرکے آگے بڑھتا ہے۔ پہلے اگر اس کی معرفت ایک سادہ معرفت تھی، تو اب اس کی معرفت ایک زندہ معرفت بن جاتی ہے۔
حق کی طرف دوبارہ لوٹنا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی نے حق کو دوبارہ دریافت کیا، اس نے اپنی دریافت اول پر دریافت ثانی کا اضافہ کیا۔اس نے ثبوت دیا کہ وہ تخلیقی ذہن (creative mind) کا مالک ہے۔
راقم الحروف کا ایک سفر ترکی کے لیے ہوا۔ یکم مئی 2012 کی صبح کو دہلی سے روانگی ہوئی اور 7مئی 2012 کی صبح کو دہلی واپسی ہوئی۔ یہ نئے تجربات سے بھرا ہوا ایک سفر تھا۔ اس میں سے ایک یہ تھا کہ دورانِ پرواز جب کھانا دیاگیا تو اس سے پہلے خوب صورت…
…بھی موجود ہے۔ یہ معرفت کا ایک اعلیٰ درجہ ہے۔ کیسے ایسا ہوا ۔ کیوں کہ انسان کا جو تجربہ ہم نے کیا ہے، وہ یہ ہے کہ انسان کسی ذائقے کو اس وقت جانتا ہے، جب کہ اس کا تجربہ کرے۔ ذاتی تجربے کے بغیر کسی ذائقے کو جاننا یہ انسان کی طاقت سے باہر ہے۔
ایسی حالت میں انسان جب دنیا میں جیتا ہے، اور زندگی کے دوران کسی ذائقے کا تجربہ کرتاہے، وہ شکر کے جذبے سے اوور ویلم (overwhelm) ہو جاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ اس نعمت کا اعتراف کرے، لیکن وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں، جن کے ذریعے وہ اس عظیم نعمت کا اعتراف کرسکے۔ یہ اس کے لیے ایک مائنڈ باگلنگ (mind boggling) تجربہ ہوتاہے۔ اسی تجربے کا نام شکر ہے۔
میں ترکی گیا، تو وہاں مجھ کو جو پانی پینے کے لیے دیا گیا، وہ پانی اتنا زیادہ فریش (fresh) تھا، اور پینے میں اتنا زیادہ میرے اعلیٰ ذوق کے مطابق تھا کہ میں نے پانی کا گلاس میز پر رکھ دیا، اور یہ سوچنے لگا کہ خالق نے کیسے یہ جانا کہ میرے بندے…
4 جون 1983
زیاد بن ابی سفیان نے کہا کہ عقل مند وہ نہیں ہے جو معاملہ میں پڑ جانے کے بعد اس کی تدبیر کرے ۔ عقل مند وہ ہے جو پہلے ہی تدبیر کرے تاکہ وہ معاملہ میں نہ پڑے ۔ تال زید بن ابی سفیان ليس العـاقـلالذيوقعفيالامـراتالله. ولكنالعاقليعتالللامرحتى لا يقع فيه
اس "عقل" کو حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ مشورہ ہے۔ وہ انسان بہت خوش قسمت ہے جس کو صاحب فہم افراد مشورہ دینے کے لئے مل جائیں مشورہ کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس میں کئی آدمیوں کے تجربات اکھٹا ہو جاتے ہیں ۔ اس طرح ایک شخص کو موقع مل جاتا ہے کہ…
یکم جولائی1983
کسی شخص کا قول ہے کہ کامیابی کبھی آخری نہیں ہوتی اور ناکامی کبھی قطی نہیں ہوتی۔ یہ دراصل حوصلہ ہے جو اہمیت رکھتا ہے :
Success is never final and failure never fatal. It's courage that counts.
…سخت ذہنی اذیت میں گزارے۔ ان کی زندگی کا واحد مقصد عالم اسلام کا اتحاد تھا جو یہاں پورا ہوتا نظر نہ آتا تھا۔ خفیہ طور پر ان کی جاسوسی بھی کی جاتی۔ آخر اسی کرب میں 1897 کو بعمر اٹھاون برس سرطان کے عارضہ میں انھوں نے استنبول میں وفات پائی۔
سید جمال الدین افغانی کو اپنے زمانہ میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ افغانستان، مصر، ایران، ترکی وغیرہ میں ان کو بہت زیادہ مواقع ملے۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد وہ ہر ملک سے نکال دیئے جاتے کیوں کہ وہ جہاں پہنچتے وہاں وہ حکومت کے خلاف اشتعال انگیز تقریر شروع کردیتے۔ سیدجمال الدین افغانی کی شخصیت کے بارے میں لوتھروپ سٹوڈراڈ نے درست طور پر لکھا ہے: ان کے خیال کے مطابق، مغرب مشرق کا دشمن ہے۔ یوروپ کے سینے میں آج بھی وہی صلیبی روح کام کررہی ہے جو راہب پطرس کے زمانہ میں مصروف کار تھی۔ اہلِ مغرب میں اب بھی وہی تعصب جاری وساری ہے۔ یہ ہر طریقہ سے مسلمانوں کی اصلاح و ترقی کی تحریکات کو نیست و نابود کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں عالم اسلام پر واجب ہے کہ وہ اپنی بقا کے لیے متحد ہوجائے۔
سید جمال الدین افغانی اپنی غیر معمولی مقبولیت کے باوجود مکمل طور پر ناکام رہے۔ اس کا سبب تلاش کرتے ہوئے ایک بنیادی بات میری سمجھ میں یہ آتی ہے کہ ان کے اندر غیر معمولی حافظہ تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی کتاب ایک بار پڑھنے کے بعد ان کے سینے…
26 نومبر 1983
مفتی محمد شفیع دیوبندی (مہاجر کراچی) نے لکھا ہے: جنگ عظیم اول کے موقع پر جب انگریز ترکی حکومت کے خلاف جنگ کر رہے تھے تو ہندستان کے تمام مشاہیر علماء، حضرت شیخ الہند، حضرت مولانا حسین احمد مدنی وغیرہ نے ترکی حکومت کی جنگ کو جہاد قرار دے کر اس کے لیے چندے کئے تھے، ار یہ کہا تھا کہ جو لوگ انگریزوں کی فوج میں شامل ہو کر ترکی کے خلاف لڑتے ہوئے مارے جائیں گے وہ کتے کی موت مریں گے ۔ (ماہنامہ بینات، کراچی، فروری 1966، صفحہ 25)
میرے نزدیک اس قسم کے فتوے بالکل لغو تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ اس کی پشت پر ’’مشاہیر ‘‘ اور ’’اکابر‘‘ کے نام تھے، وہ ہوا میں اڑ گئے اور ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔
اس کتاب کا اردو ترجمہ "اسلام اور موسیقی" کے نام سے شائع ہوا ہے۔ اس اردو ترجمہ پر اس کے مترجم مولانا محمد عبد المعز صاحب کا مفصل دیباچہ ہے۔ اس دیباچہ میں وہ لکھتے ہیں:
” خدا کے حکم میں حکمتیں تلاش کرنا ضعف ایمانی کی دلیل ہے ۔ علم اسرار وحکم قرون اولی میں ناپید تھا ، صفحہ 56
قرون اولی میں مصنوعی با ریکیاں نکالنے کا بے شک رواج نہ تھا۔ مگر کلام الہی میں جوفطری حکمت چھپی ہوتی ہے اس کی تلاش روز نبوت سے لے کر بعد کے ہر زمانہ میں جاری رہی ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کے لئے قرآن میں تدبر کا حکم دیا گیا ہے ۔
…کہ مارچ 1978 میں انھوں نے وزیر اعظم مسٹر مرارجی ڈیسائی سے کہا کہ آپ کے لڑکے کا نتی ڈیسائی کے بارے میں کرپشن کی شکایات ہیں۔ اس کی باقاعدہ انکوائری کرائی جانی چاہئے اور اس کے لئے ایک کمیشن مقرر کیا جانا چاہئے ۔ (ٹائمس آف انڈیا 7 جولائی1978 )
اس کے جواب میں مسٹر مرار جی ڈیسائی خفا ہوگئے۔ باہمی اختلاف یہاں تک بڑھا کرجولائی1978 میں مسٹرڈیسائی نے مسٹر چرن سنگی سے استعفا کا مطالبہ کیا ۔ دونوں میں سخت رنجش پیدا ہوگئی۔ مسٹر اٹل بہاری واجپیئی کے بیان کے مطابق ڈیسائی ، چرن سنگھ ملاقات اس لئے نہ ہوسکی کہ مسٹر ڈیسائی کا اصرار تھا کہ چرن سنگھ میرے یہاں آکرملیں ۔ یہ کشمکش یہاں تک بڑھی کہ جنتا حکومت ختم ہوگئی۔ (ٹائمس آف انڈیا 8 جولائی 1978ء )
لفظوں میں کان پکڑوانا کتنا آسان ہے اور عمل میں کان پکڑوانا کتنا مشکل۔
…کی جاتی تھی۔ مولانا اسماعیل صاحب نے اپنے مواعظ میں اس کے خلاف بولنا شروع کیا۔ ایک روز ایک بڑھیا اپنے گھر سے غصہ کی حالت میں نکلی ۔ اس کو ایک مولوی صورت آدمی مل گئے۔ اس نے ان سے کہا : یہ موا اسماعیل کون ہے جو بی بی کی صحنک کو منع کرتا ہے۔
یہ بزرگ خود مولانا اسماعیل شہید تھے۔ انھوں نے برجستہ جواب دیا : اسماعیل نہیں منع کرتا، بی بی جی کے ابا منع کرتے ہیں۔ بڑھیا پر اس جواب کا بہت اثر ہوا۔ اس نے اس قسم کی بدعات سے توبہ کر لی ۔ (علماء ہند کی شاندار ماضی، حصہ سوم، صفحہ 27)
بعض اوقات ہلکا پھلکا ایک جواب علمی اور منطقی جواب سے زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے۔
حدیث کی کتابوں میں دوا علاج کے بارہ میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ یہ روایتیں عام طور پر باعتبارسند زیادہ قوی نہیں ہیں۔ ممکن ہے کہ عرب کے اقوال ان میں شامل ہوگئے ہوں۔ تاہم ان میں بڑی حکمت کی باتیں ہیں ۔
مثلا ایک روایت میں ہے کہ : المعدة بيت الداء ( معدہ یماریوں کا گھر ہے)
یہ ایک حقیقت ہے کہ بیشتر بیماریوں کا سرچشمہ معدہ ہوتا ہے ۔ اگرخوراک کے بارہ میں کامل احتیاط برتی جائےاور پرخوری سے پرہیز کیا جائے تو آدمی بیشتر بیماریوں سے محفوظ رہے گا۔
…: صوت الثورة الاسلامیہ ( اسلامی انقلاب کی آواز) اس اخبار کے شمارہ 6 ستمبر 1990میں صفحہ اول پر ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی مسلم امت (الشعب المسلم في المنطقة ) خادم الحرمین الشریفین کی مخالف ہوگئی ہے ۔
اس کے ثبوت میں یہ واقعہ درج کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کے ایک بدو نے امریکی فوج میں کام کرنے والی ایک عورت سے کہا کہ تم نیم برہنہ رہتی ہو حالاں کہ تم کو پردہ کا اہتمام کرنا چاہئے۔ (دها مجندة اميركية شبه عارية الى تقوى الله والالتزام بالحجاب) امریکی عورت نے ترجمان کی مددسے بد و کوجواب دیا کہ کیا تم کوشرم نہیں آتی کہ تم اور فہد اپنے گھروں میں بیٹھے رہے اور تم نے امریکی عورتوں کو بلایا کہ وہ تمہارے ملک کا بچاؤ کریں۔ (الاتخجل انت وفهد حینما تجلسان في بيوتكما وتسمحان للنساء الاميركيات بالدفاع عن بلادكما )
جواب کا یہ انداز ایرانیوں کا ہے ، وہ امریکیوں کا انداز کلام نہیں ۔ اور اگر بالفرض یہ واقعہ صحیح ہو تو یہ بدترین جنرلائزیشن ہے۔ ایک بدو اور ایک امریکی عورت کی گفتگو کو پوری پوری قوم پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔
…انھوں نے کہا کہ بہت سا سبق۔ اس میں سے خاص سبق جو میں نے لیارہ اعراض ہے۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ کے علاوہ میں نے کہیں صبرو اعراض کی بات نہیں سنی۔ حالاں کہ یہ زندگی کا راز ہے۔ اور خود میں نےاپنے تجربہ میں پایا ہے کہ یہ مسائل کا بہترین حل ہے۔
الرسالہ کے پڑھنے والے بیشتر لوگ اسی قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلم رہناؤں نے قوم کے افرا دکو صرف لڑنا بھڑنا ، جلسہ جلوس کرنا ، نعرہ لگانا سکھایا۔ کسی نے بھی یہ نہیں کیا کہ وہ لوگوں کو زندگی کار ازبتائے۔
24 جنوری 1990
5 نومبر 1990
قدیم زمانہ میں ترکی کے پاس بہت بڑا بحری بیڑا تھا۔ مگرجب بحری جہازوں کو بھاپ سے چلانے کا دور آیا تو وہ اتنا پچھڑ گئے کہ نئے طرز کی کشتیوں کو حاصل کرنے اور ان کو استعمال کرنے کو بھی وہ اپنے لئے خطرناک سمجھنے لگے۔
کہا جا تا ہے کہ سلطان عبدالحمید ثانی نے بھاپ کی طاقت سے چلنے والا بحری بیڑہ (اسطول )تیار کرایا تو ترکی کے علماء نے اصرار کیا کہ اس کو استعمال کرنے سے پہلے اس پر بخا ری شریف کا ختم ہونا چاہئے۔ علماء کا اصرار جب بڑھ گیا توکسی فوجی افسر نے ان…
…Society) کے نام سے قائم ہے۔ اس سینٹر کے ذمے دار مجھ کو وہاں لے گئے۔ تقریبا ایک دن وہاں ٹھہرنے کا موقع ملا۔ یہ ایک بڑا سینٹر ہے جو امریکا کے ترقیاتی معیار پر قائم کیا گیا ہے۔ یہ فتح اللہ گولن کی تعلیمی تحریک کے مرکز کے طور پر بنایا گیا ہے۔
فتح اللہ گولن کی تحریک ایک غیر سیاسی تحریک ہے۔ اس کے ممبروں کی تعداد تقریبا دو ملین ہے۔ یہ لوگ جدید اسٹینڈرڈ کے مطابق ساری دنیا میں انگریزی اسکول قائم کرتے ہیں۔ ان کے اسکولوں اور تعلیمی مرکزوں کی تعداد مختلف ملکوں میں تقریبا ڈیڑھ ہزار ہے۔ یہ تعلیمی ادارے تقریباً ایک سو ساٹھ ملکوں میں قائم ہیں۔ امریکا میں ان کا جو اسکول ہے وہ امریکا کے دس اعلیٰ اسکولوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
جدید ترکی کا میں عرصہ سے مطالعہ کر رہاہوں۔ پہلی بار ترکی کے لیے میرا سفر مئی 2012 میں ہوا تھا۔ یہ سفر فتح اللہ گولن کے ادارہ کی دعوت پر ہوا تھا۔ دوسری بار امریکا کے سفر کے دوران جدید ترکی کے بارے میں مزید معلومات مجھے حاصل ہوئیں۔اس مطالعے…
…کے ساتھ عظیم مسجد قرطبہ کی تعمیر کی- اس تعمیر پر دو سال میں 80 ہزار دینار خرچ ہوئے- عیسائیوں کو جب دوبارہ سیاسی غلبہ ملا تو انھوں نے مسجد کے توسیعی حصہ کو چھوڑ دیا-تاہم سینٹ ونسنٹ چرچ کی ابتدائی جگہ کو دوبارہ انھوں نے گرجا میں تبدیل کردیا-
مسجد قرطبہ کے قریب ایک اسلامی سینٹر تھا-اس میں مسجد کے علاوہ ایک ادارہ بھی قائم ہے- میں اس ادارے میں گیا تو معلوم ہوا کہ اس وقت یہاں ترکی حکومت کے تعاون سے ریسٹوریشن (restoration) کا کام چل رہا ہے، اس وجہ سے یہ ادارہ فی الحال بند ہے- یہ ایک بڑا ادارہ تھا جس میں مسجد اور اسلامک سینٹرقائم ہے- اس ادارے کا پورا نام یہ ہے:
مسجد الأندلسیین (Mezquita De Los Andaluces)
…،جس سے اس کی لگام اٹک جائے ،اور اس آدمی کو وہاں اٹکی ہوئی مل جائے؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول اس کو بہت زیادہ خوشی ہوگی، رسول اللہ نے کہا:خدا کی قسم، اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس آدمی کی سواری مل جانے کی خوشی سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے۔
اس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ حق کی طرف واپسی آدمی کو ڈبل ثواب کا مستحق بناتی ہے۔ جب آدمی حق کو قبول کرنے کا عمل کرتا ہے، تو وہ اپنے آپ کو ایک ثواب کا مستحق بناتا ہے، اس کے بعد اگر وہ بھٹک جائے، اور دوبارہ حق کی طرف واپس آئے، تو وہ زیادہ بڑے ریوارڈ کا مستحق بن جاتا ہے۔ کیوں کہ اس نے حق کو دوبارہ دریافت (rediscover) کیا۔
دریافت نو (rediscovery) کا انعام زیادہ اس لیے ہے کہ ایسا آدمی اپنی معرفتِ حق میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ ایک دریافت پر دوسری دریافت کا اضافہ کرتا ہے۔ وہ اپنے ذہنی ارتقا کے راستے میں ایک اور منزل طے کرتا ہے۔ ایسے آدمی کا کیس یہ ہے کہ پہلے اگر…
…ہو جاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ اس نعمت کا اعتراف کرے، لیکن وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں، جن کے ذریعے وہ اس عظیم نعمت کا اعتراف کرسکے۔ یہ اس کے لیے ایک مائنڈ باگلنگ (mind boggling) تجربہ ہوتاہے۔ اسی تجربے کا نام شکر ہے۔
میں ترکی گیا، تو وہاں مجھ کو جو پانی پینے کے لیے دیا گیا، وہ پانی اتنا زیادہ فریش (fresh) تھا، اور پینے میں اتنا زیادہ میرے اعلیٰ ذوق کے مطابق تھا کہ میں نے پانی کا گلاس میز پر رکھ دیا، اور یہ سوچنے لگا کہ خالق نے کیسے یہ جانا کہ میرے بندے کو ایسا پانی چاہیے، اور اس نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میرے بندے کے عین طلب کے مطابق، اس کو پانی فراہم کرو۔
یہ تجربہ اتنا زیادہ اعلیٰ تجربہ ہے کہ انسان اس تجربے سے گزرتے ہوئے اتنا اوورویلم ہوجائے گا کہ شکر کا لفظ بولنا اس کو اتنا کم لگے کہ وہ چاہے گا کہ میری شخصیت پوری کی پوری زبان ہوتی، اور میں اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنے رب کا شکر ادا کرتا۔…
…بنو اُمیّہ کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ اُس وقت اصحابِ رسول بڑی تعداد میںموجود تھے، لیکن واقعات بتاتے ہیں کہ اس ٹکراؤ سے اصحابِ رسول تقریباً مکمل طورپر علاحدہ رہے۔ یہ جنگ عملاً دو قبیلوں کی جنگ تک محدود رہی، اصحابِ رسول اُس میں شریک نہیں ہوئے۔
اِس کے بعد بنو امیہ کا دور آیا۔ اُس زمانے میں سیاسی بگاڑ بڑے پیمانے پر پیدا ہو چکا تھا، لیکن صحابہ اور تابعین نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ وہ سیاسی اصلاح کے نام پر بنو امیہ سے جنگ چھیڑ دیں۔صحابہ اور تابعین کی پوری جماعت اِس زمانے میں اُسی اصول پر قائم رہی جو پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا، یعنی سیاسی ٹکراؤ سے اعراض اور تعلیم اور دعوت کے میدان میںاسلام کی خدمت انجام دیتے رہنا۔
اِس کے بعد مسلم تاریخ کا وہ دور آیا جس کو بنو عباس کا دور کہا جاتا ہے۔ اِس دور میں بھی مبیّنہ طورپر حکم رانوں میں ہر قسم کے سیاسی بگاڑ موجود تھے۔ مثلاً انھوں نے اسلامی خلافت کو خاندانی ملوکیت میں تبدیل کردیا، وغیرہ۔ اُس زمانے میں علمائے…
…یعنی ہم نے اس ( کشتی ) کو نشانی کے لیے چھوڑ دیا، پھر کوئی ہے سوچنے والا۔ یہی بات سورہ العنکبوت میں اِن الفاظ میں آئی ہے:وَجَعَلْنَاہَا آیَةً لِلْعَالَمِینَ (29:15) ۔یعنی پھر ہم نے اس (کشتی) کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔
انیسویں صدی کے آخر میں جب ہوائی پرواز کا زمانہ آیا تو کچھ لوگوں نے ارارات پہاڑ کے اوپر پرواز کرتے ہوئے برف کے ذخائر (glacier)کے اندر چھپی ہوئی ایک کشتی کے آثار دیکھے۔ لیکن بار بار کوشش کے باوجود اِس معاملے میں کچھ زیادہ معلومات حاصل نہ ہوسکیں۔ اکیسویں صدی میں جب گلوبل وارمنگ کے نتیجے میںبرف کے ذخائر (glacier) پگھلنے لگے تو ہوائی پرواز کے دوران معلوم ہوا کہ کوہِ ارارات پر ایک پوری کشتی موجود ہے۔ اِس کے بعد وہاں چین اور ترکی کے مسیحیوں کا ایک گروپ پہنچا۔ انھوں نے جدید آلات کی مدد سے کاربن ڈیٹنگ (carbon dating) کے ذریعے مذکورہ کشتی کی عمر معلوم کی۔ اب معلوم ہوا کہ یہ کشتی عین اُسی زمانے کی ہے، جب کہ یہاں طوفانِ نوح آیا۔ اِس دریافت کی رپورٹ میڈیا میں آچکی ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (28 اپریل2010)میں اِس کی تفصیل حسب ذیل الفاظ میں شائع ہوئی ہے:
HONG KONG: A group of Chinese and Turkish evangelical explorers said they believe they may have found Noah's Ark — four thousand metres up a mountain in Turkey. The team say they recovered wooden specimens from a structure on Mount Ararat…
…کی زندگی میں اس واقعہ کا تجربہ اس طرح کرایا گیا کہ ہجرت سے ایک سال پہلے 622 عیسوی میں ایک رات کو مکہ سے یروشلم تک کے سفر کا وہ واقعہ پیش آیا جس کو قرآن میں اسراء کہا گیا ہے۔ واضح ہو کہ مکہ سے یروشلم تک کی دوری تقریبا دوہزار کلو میٹر ہے۔
اس سلسلے میں قرآن کی سورہ نمبر 17 میں یہ الفاظ آئے ہیں:سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَى بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا (الاسراء1:) ۔ اس آیت میں لنریہ من آیاتنا میں من تبعیضیہ ہے۔ اس کا ترجمہ اردو مترجمین نے ’’کچھ‘‘کے لفظ سے کیا ہے۔اورشاہ ولی اللہ دہلوی نے درست طور پران الفاظ کا فارسی ترجمہ اس طرح کیا ہے:تا بنمایم اش بعض نشانہائے خود(تاکہ ہم دکھائیں اس کو اپنی نشانیوں میں سے بعض )۔
قرآن کی تفسیر میں جس چیز کو شان نزول کی روایات کہا جاتا ہے، ان میں قیاساًتاریخ بھی شامل ہے۔ یعنی نزولِ قرآن کے وقت جو تاریخ تھی اس کے حوالے سے قرآن کی بعض آیات کو سمجھنا۔ اس اصول کے مطابق غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت…
…ہے- میں اس ادارے میں گیا تو معلوم ہوا کہ اس وقت یہاں ترکی حکومت کے تعاون سے ریسٹوریشن (restoration) کا کام چل رہا ہے، اس وجہ سے یہ ادارہ فی الحال بند ہے- یہ ایک بڑا ادارہ تھا جس میں مسجد اور اسلامک سینٹرقائم ہے- اس ادارے کا پورا نام یہ ہے:
مسجد الأندلسیین (Mezquita De Los Andaluces)
الجامعة الإسلامیة الدولیة ابن رشد-الأندلس
…سے ملاقات ہوئی- مسجد رستم پاشا ایک تاریخی مسجد ہے- اِس مسجد کی تعمیر سولھویں صدی عیسوی میں ہوئی تھی- اِس مسجد کی تعمیر میں استعمال کیے گئے ٹائلس (tiles) دنیا میں سب سے خوب صورت مانے جاتے ہیں- اِس لیے یہاں بہت زیادہ سیاح (tourists)آتے ہیں-
اس مسجد کے امام اسماعیل (Ismail Karakelle)سے تقریباً چار سال پہلے ترکی کے ایک سفر میں میری ملاقات ہوئی تھی- اُس وقت اُن سے زائرین کے درمیان مولانا وحید الدین خاں کے انگریزی ترجمہ قرآن کے ڈسٹری بیوشن کی بات ہوئی تھی- انھوں نے اس سے دلچسپی ظاہر کی- چنانچہ میں نے اُن کو ترکی کے ایک پریس (Imak Printers) سے چھپوا کر اس کی تیس ہزار کاپیاں ان کو مسجد میں آنے والے زائرین کےدرمیان ڈسٹری بیوٹ کرنے کے لیے دی تھیں- اس کے بعد سے یہاں مسلسل قرآن ڈسٹری بیوشن کا کام جاری ہے- اب کچھ مقامی اہلِ خیر کے تعاون سے ترکی ہی میں ہمارا انگریزی ترجمہ قرآن چھاپ کر لوگوں کو دیا جاتا ہے- اب تک اِس ترجمے کی ایک لاکھ 80 ہزار کاپیاں زائرین کے درمیان تقسیم کی جاچکی ہیں-
ترکی سے مجھے 11 نومبر 2014 کو دبئی جانا تھا- یہاں شارجہ میں ایک بک فیر (Sharjah International Book Fair) تھا- یہاں پرہمارا بھی اسٹال تھا جس کو بک لینڈ کے لوگ مینج کررہے تھے- یہ ایک بہت بڑا بک فیر تھا- اِس میں کثرت سے عالمِ عرب کے تقریباً…
…ایک ایسا درخت ہے جو صرف زہریلے پھل دے سکتا ہے۔ کسی نے بتایا کہ مغربی تہذیب اپنی موت آپ مررہی ہے، تاکہ مسلمانوں کو دوبارہ ان کا بلند مقام حاصل ہوجائے۔ کسی نے بتایا کہ دنیا کا اسٹیج مسلمانوں کی نشاۃِ ثانیہ (Renaissance)کا انتظار کررہا ہے:
اُٹھ، کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے مشرق و مغرب میں تیرے دَور کا آغاز ہے
موجودہ زمانے میں شاعروں اور خطیبوں اور انشا پردازوں کے علاوہ، ایک اور طبقہ پیداہوا جس کو مسلم ڈبیٹر (مُناظر) کہا جاسکتا ہے۔ انھوں نے شان دار اسٹیج بنائے اور وہاں پُرجوش تقریریں کیں۔ انھوںنے ٹی وی کے اسکرین پر مناظرانہ مظاہرے کیے۔ انھوں نے…
…باقی رکھنے کے قابل نہ رہا، اِس لیے اس کو ہٹا کر بنو امیہ کا دور لایا گیا- بنو امیہ کا خاص کارنامہ یہ تھا کہ انھوں نے عربی زبان اور عرب کلچر (المروءة، وغیرہ) کے فروغ کا شدت سے اہتمام کیا جو کہ اُس وقت قرآن کی کامل حفاظت کے لیے ضروری تھا-
بنو امیہ کی حکومت تقریباً 90 سال تک جاری رہی- ان کے دورِ حکومت کے آخری زمانے میں یہ بات واضح ہوگئی کہ عربیت کے تحفظ میں انھوں نے عالمی تقاضے کو فراموش کردیا- چناں چہ اس کے بعد بنو امیہ کو اقتدار کے مقام سے ہٹا کر ان کی جگہ بنو عباس کو لایا گیا- بنو عباس کےدور میں کئی بڑے بڑے کام انجام پائے — احادیث کو جمع کرنا، علومِ اسلامی کی تدوین، اسلام کی اشاعت، وغیرہ- اِس کے علاوہ انھوں نے اُس وقت کے سیکولر علوم کو حاصل کیا اور ان کو فروغ دیا- اِس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر عالمی فکر پیدا ہوا- بنو عباس کے دبدبے کے تحت حفاظتِ دین کا کام کامیابی کے ساتھ جاری رہا- واضح ہو کہ دورِ قدیم میں حفاظتِ دین کےلیے سیاسی دبدبہ ضروری تھا، مگر اب پرنٹنگ پریس اور دوسرے موافق اسباب کے ظہور کے بعد سیاسی دبدبے کے بغیر خدا کا دین کامل طور پر محفوظ ہے-
بنو عباس کی سلطنت تقریبا 500 سال تک جاری رہی- اس کے بعد فطری طورپر بنو عباس میں جمود کا دور آگیا- وہ ترقی کے سفر کو مزید جاری رکھنے کے قابل نہ رہے- چناں چہ تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاریوں کے ذریعے ایک آپریشن کیاگیا اور اِس طرح عباسی سلطنت…
…نوح ایک معمولی انسان نظر آتے تھے(11:27)۔ اس کے بر عکس، ماضی کی شخصیتیں ان کو بہت بڑی دکھائی دیتی تھیں۔ یہی غلط تقابل تھا جس نے اُن کے اندر وہ بے اصل یقین (false conviction) پیدا کردیا جس کی بنا پر وہ اپنے معاصر پیغمبر کا انکار کردیں۔
جب یہ بات واضح ہوگئی کہ قوم کے اندر اب مزید کوئی فرد ایمان لانے والا نہیں ہے تو اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ اُس علاقے میں ایک عظیم سیلاب لایا جائے جس میں صالح افراد بچالیے جائیں اور غیرصالح افراد سب کے سب ہلاک کردئے جائیں۔ اثریاتی شواہد کے مطابق، قومِ نوح کا مسکن دجلہ اور فرات کے درمیان کا وہ علاقہ تھا جس کو تاریخ میں میسوپوٹامیا (Mesopotamia) کہاجاتا ہے۔
کشتی نوح کا معاملہ
…say they recoverd wooden specimes from a structure on Mount Ararat in eastern Turkey that carbon dating proved was 4,800 years old, around the same time the Ark is said to have been afloat. (The Times of India, New Delhi, April 28, 2010)
قرآن میں کشتی نوح کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے۔ اُن میں سے ایک وہ ہے جو سورہ العنکبوت میں پایا جاتا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: فأنجیناہ وأصحابَ السفینۃ، وجعلناہا اٰیۃً للعالمین (29:15)یعنی پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو بچا لیا۔ اور ہم نے اس(کشتی) کو سارے عالم کے لیے ایک نشانی بنادیا:
Then we saved him and those who were with him in the Ark, and made it a sign for mankind.
…پہلے بہت بڑا سیلاب آیا تھا۔ یہ سیلاب اتنا بڑا تھا کہ اس نے اُس وقت کی آباد دنیا کو پوری طرح تباہ کردیا ۔ اس موضوع پر بہت سی تحقیقات چھپ چکی ہیں۔ ان میں سے ایک اہم تحقیق درج ذیل کتاب کی صورت میں شائع ہوئی ہے جس کو دو مصنفین نے تیار کیاہے:
Noah's Flood: The New Scientific Discoveries About the Event that Changed History, by William Ryan and Walter Pitman, Published: 1999 by Simon & & Schuster, USA, 320 pages
اِن تحقیقات سے یہ بات علمی طورپر ثابت ہوچکی ہے کہ ہزاروں سال پہلے ایک عظیم سیلاب آیا، لیکن محققین اپنے سیکولر (secular) ذہن کی وجہ سے یہ کہتے ہیں کہ مختلف قوموں میں اور اِسی طرح بائبل میں نوح کا جو قصہ بیان ہوا ہے، وہ بعد کو اِسی تاریخی…
…یہ جسم اہرامِ مصر میں موجود تھا۔ انیسویں صدی کے آخر میں کچھ مغربی ماہرین نے اس کو نکالا اور کاربن ڈیٹنگ (carbon datinhg) کے ذریعے اس کی تاریخ معلوم کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ جسم اُسی فرعون کا ہے جو حضرت موسیٰ کا معاصر (contemporary) تھا۔
فرعون کے جسم کا اِس طرح محفوظ رہنا کوئی سادہ بات نہیں، وہ ایک تاریخی واقعے کی علامتی مثال ہے۔ فرعون کا یہ جسم جو قاہرہ (مصر) کے میوزیم میں محفوظ ہے، وہ اپنی خاموش زبان میں یہ بتا رہا ہے کہ آخر کار انسان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، وہ یہ کہ خدائی منصوبے کے تحت، صالح بندوں کو غیرصالح بندوں سے الگ کردیا جائے اور پھر صالح بندوں کو ابدی جنت میں عزت کی جگہ دی جائے اور غیرصالح لوگوں کو ابدی جہنم میں ذلت کی زندگی گزارنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔
اس قسم کی دوسری مثال حضرت نوح کی ہے۔ حضرت نوح قدیم عراق (Mesopotamia) کے علاقہ میںآئے۔ وہ بہت لمبی مدت تک وہاں کے لوگوں کو بتاتے رہے کہ اللہ نے تم کو پیدا کرکے آزاد نہیں چھوڑ دیا ہے، بلکہ وہ تمھارا امتحان لے رہا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ کون…
Both Sumerian and Hebrew legends speak of a flood which destroyed the habitable world as they knew it. (Lt. Col. Wagstaff, a distinguished explorer)
یہی معاملہ کشتی نوح کا ہے۔ قدیم زمانے میں کشتی نوح کا معاملہ ایک مذہبی افسانہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب وہ ایک تاریخی واقعہ بن چکا ہے۔
کوئی بھی شخص ترکی کی مشرقی سرحد پر واقع پہاڑی سلسلے کے اوپر ہوائی پرواز کرکے کشتی کو دیکھ سکتا ہے۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ یہ مقام ٹورسٹ میپ (tourist map) میں خصوصی جگہ حاصل کرلے۔خبروں سے معلوم ہوا ہے کہ ترک گورنمنٹ اِس علاقے کو…
…اپنی مرضی سے باخبر کیا، مگر انسان نے اِس کو نظر انداز کیا۔ یہ تخلیقِ خداوندی اور تاریخ انسانی کے درمیان فرق کو ختم کرنے کا اعلان ہے جس کو انسان نے قائم کررکھا تھا، یعنی خالق کے مقرر کردہ منصوبہ تخلیق کو نظر انداز کرکے زمین پر زندگی گزارنا۔
قیامت کا دن حقیقت کے کلّی ظہور کا دن ہے۔ اِس سے پہلے کشتی نوح (Noa’s Ark) کا ظہور حقیقت کے جزئی ظہور کا دن ہوگا۔ کشتی نوح کا ظہور علامتی طورپر بتائے گا کہ دنیا کے خالق نے انسان کے لیے جو نقشۂ حیات مقرر کیا تھا اور پیغمبروں کے ذریعے جس کا علم بھیجا تھا، انسان نے اس کو کامل طورپر نظر انداز کیا، حتی کہ اس کو اپنی تاریخ سے حذف کردیا۔ کشتی نوح کا ظہور اِس حذف شدہ تاریخ کو دوبارہ سامنے لانے کے ہم معنی ہوگا۔
یہی وہ وقت ہوگا جب کہ خدا کی محفوظ کتاب قرآن کو تمام انسانوں کے سامنے لایا جائے، کیوں کہ قرآن واحد کتاب ہے جس میں پیغمبروں کی تاریخ اور خدا کے منصوبۂ تخلیق کو واضح طورپر بتایا گیاہے۔ کشتی نوح کا ظہور تاریخ انسانی کے ایک گم شدہ باب کی…
…کا محسوس اعلان ہوجائے کہ انسان کے بارے میں اللہ کا منصوبۂ تخلیق کیا تھا- کشتینوح اس خدائی منصوبہ تخلیق (creation plan of God) کی ایک ناقابلِ انکار شہادت ہے- اور مختلف اسباب سے اِس شہادت کی ادائیگی کے لئے سب سے زیادہ موزوں مقام ترکی تھا-
ضرورت ہےکہ تمام دنیا کے مسلمان عموماً اور ترکی کے مسلمان خصوصاً اس خدائی منصوبے کو سمجھیں اور اس منصوبے کی تکمیل کے لئے وہ سارا اہتمام کریں جو اس کے لئے ضروری ہو- مثال کے طورپر وہ کشتی نوح کے مقام کو ایک اعلیٰ درجہ کے ٹورسٹ اسپاٹ (Tourist Spot) کے طورپر ڈولپ (develop) کریں- وہ وہاں آمد ورفت کی تمام سہولتیں مہیا کریں- پھر وہاںاعلیٰ معیار پر وہ یہ انتظام کریں کہ وہاں تربیت یافتہ افراد موجود ہوں، لائبریری موجود ہو- وہاں قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں میں برائے ڈسٹری بیوشن یا برائے فروخت موجود ہو- وہاں اِس بات کا اعلیٰ انتظام کیا جائے کہ کشتی نوح کے حوالے سے پیغمبرانہ مشن لوگوں کے سامنے اطمینان بخش صورت میں آسکے- گویا کہ کشتی نوح کے ظہور کا یہ مقام صرف ایک کشتی کے ظہور کا مقام نہ رہے، بلکہ وہ پورے معنوں میں جدید ترین معیار کا ایک دعوتی سنٹر بن جائے-
خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، ہماری زمین کے لئے دو سیلاب مقدر تھا —— ایک، حضرت نوح کے زمانے کا سیلاب اور دوسرا، وہ جو تاریخ بشری کے خاتمے پر پیش آئے گا- کشتی نوح پہلے سیلاب کے لئے تاریخی یادگار کی حیثیت رکھتی ہے، اور دوسرے سیلاب کے لئے…
…حدیث کی کتابوں میں اِن الفاظ میں آئی ہے: أمرتُ بقریۃ تأکل القری۔ یقولون: یثرب، وہی المدینۃ (صحیح البخاری، رقم الحدیث:1748) یعنی مجھے ایک بستی کا حکم دیاگیا ہے، وہ تمام بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اُس کو یثرب کہتے ہیں، لیکن وہ مدینہ ہے۔
یہ حدیث سادہ طورپر مدینہ کی پراسرار فضیلت کے بارے میں نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ اِس حدیث میں تاریخ کا ایک قانون بیان کیاگیا ہے۔ یہ قانون تاریخ میں بار بار واقعہ بنا ہے، پھر یہی قانون، مدینہ (یثرب) کے حق میں واقعہ بنا۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا، جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے اور یہاں اپنے پیغمبرانہ مشن کی منصوبہ بندی کی۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جب تک آپ مکہ میں تھے، آپ کا مشن عملاً ایک مقامی مشن کی حیثیت رکھتا تھا، مگر جب آپ ہجرت کرکے مدینہ آئے تو آپ کا مشن بہت جلد پورے ملک (عرب) میں پھیل گیا۔ اگر چہ پیشگی طور پر کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ مستقبل میں کیا…
…ہوئے۔ اِس سلسلے میں مجھے تقریباً ایک ہفتہ ترکی میں قیام کا موقع ملا۔ یہ سفر میرے لئے ترکی کی دریافت کے ہم معنی بن گیا۔ 5 مئی 2012 کو جب میں نے ترکی کے ایک شہر (Gaziantep) میں مذکورہ کانفرنس میں افتتاحی خطاب کیا تو شروع ہی میں میں نے کہا:
It was my first visit to Turkey, but it proved to be a discovery visit.
اِس سفر سے پہلے میں ترکی کو دوسروں کی فراہم کردہ معلومات کی بناپر جانتا تھا، مگر جب میں نے خود ترکی کا سفر کیا تو مجھے موقع ملا کہ میں ترکی کو زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھوں اور براہِ راست طورپر اس کو جاننے کی کوشش کروں۔ اِس کے نتیجے میں جو…
…رسم الخط (Armenian Script) میں لکھی جاتی تھی، جس کا نام یہ تھا — Orkon۔نویں صدی عیسوی تک یہی آرمینین رسم الخط ترکی میں رائج رہا۔ اس کے بعد اسلام کے فروغ اور عربوں کے اختلاط کے نتیجے میں دھیرے دھیرے ترکی میں عربی رسم الخط رائج ہوگیا۔
اس کے بعد جب ترکی میں اسلام پھیلا اور عربوں کو غلبہ حاصل ہوا تو دھیرے دھیرے انٹریکشن کے نتیجے میں یہ واقعہ ہوا کہ ترکی زبان عربی رسم الخط میں لکھی جانے لگی۔ یہ ترکی زبان کے رسم الخط کو بدلنے کا پہلا واقعہ تھا۔ اس کے بعد بیسویں صدی کے ربع اول میں اتاترک نے ترکی زبان کے رومن رسم الخط میں لکھے جانے کا حکم جاری کیا۔ یہ ترکی زبان کے رسم الخط کو بدلنے کا دوسرا واقعہ تھا۔ یہ واقعہ بھی اتفاقاً نہیں ہوا۔ اصل یہ ہے کہ جس طرح اِس سے پہلے عربوں کے اختلاط سے ترکی زبان میں عربی رسم الخط کا رواج ہوا تھا، اِسی طرح بعد کے زمانے میں یورپ کے اختلاط سے وہ ماحول پیداہوا جس کے زیر اثر اتاترک نے ترکی رسم الخط کو رومن رسم الخط میں تبدیل کردیا۔ اِس پس منظر میں رسم الخط کے معاملے کو اگر دیکھا جائے تو وہ زیادہ سنگین نظر نہیں آئے گا۔
اِس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ ترکی کے رسم الخط کو بدلنا وقت کا ایک تقاضا بن چکا تھا۔ ترکی جزئی طورپر یورپ کا ایک حصہ ہے۔ یورپ کی تمام زبانیں رومن رسم الخط میں لکھی جاتی ہیں۔ ایسی حالت میں یہ بالکل فطری تھا کہ ترکی زبان بھی اپنے پڑوسی…
…انجن کے ذریعہ چلانے کا دورآیا تو ترکی اس میدان میں بہت پیچھے ہوگیا۔ اُس وقت وہاں کے مذہبی طبقے کا فکری زوال اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ نئے طرز کی دخانی کشتیوں کو حاصل کرنا اور ان کو استعمال کرنا بھی اُن کو ایک غیرمذہبی فعل نظر آنے لگا۔
سلطان عبد الحمید ثانی (وفات: 1918 )پہلا شخص تھا جس نے بھاپ کی طاقت سے چلنے والا بحری بیڑہ (اُسطول) تیار کرایا۔ کہاجاتا ہے کہ جب دُخانی کشتیاں تیار ہوگئیں تو اس کے بعد وقت کے تُرک علما نے اصرار کیا کہ اس کو استعمال کرنے سے پہلے اُس پر ختمِ بخاری کی رسم ادا کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر کشتیوں کو سمندر میں داخل کرنا ان کے نزدیک خطرناک تھا۔ علما کا اصرار جب بڑھا تو اُس وقت کے ایک دانش ور جمیل صدقی الزھاوی (وفات: 1936 ) نے اِس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ — اِس زمانے میں بحری بیڑا بخار (بھاپ) سے چلتا ہے، نہ کہ بخاری سے: إن الأساطیل فی ہذا العصر تسیر بالبخار، لابالبخاری۔
یہ معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ اِس سے معلوم ہوتاہے کہ انیسویں صدی کے ترک علما فکری زوال کی اُس حالت تک پہنچ چکے تھے، جہاں 500 سال پہلے یورپ کے مسیحی علما تھے۔ اُس زمانے کے مسیحی علما نے یہ کیا تھا کہ انھوں نے سائنس کو اپنے مذہبی عقیدے کے…
…یعبد محمداً فإن محمداً قد مات، ومن کان یعبد اللہ فإن اللہ حی لا یموت (صحیح ابن ماجہ، رقم الحدیث:1329) یعنی جو شخص محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد کی وفات ہوگئی، اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ زندہ ہے، اس کی وفات ہونے والی نہیں۔
کچھ پاکستانی مسلمان میرے اِس جملے پر زور زور سے بولنے لگے۔انھوں نے اتنا ہنگامہ کیا کہ اجتماع کو انتشار کی حالت میں ختم کرنا پڑا۔ ایک پاکستانی نوجوان نے اسٹیج پر آکر غصے میں کہا:
You cited our Prophet by name several times, but you never said: صلی اللہ علیہ وسلم
…career, he recognized Islam as the latest and most perfect of all religion; this declaration, however, equated Islam with the natural religion he fancied. (Kemalism, The Oxford Encyclopedia of the Modern Islamic world, Vol. 2, page. 411)
کمال اتاترک نے جو انقلابی کارروائیاں کیں، اُس کا مثبت تجزیہ کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس کے بعد ترکی میں شخصی سلطنت کے بجائے جمہوریت (democracy) کے دور کا آغاز ہوا، قدیم مذہبی تعلیم کی جگہ سیکولر تعلیم رائج ہوئی، مشرقی کلچر کی جگہ مغربی کلچر اختیار کیا گیا، روایتی نظام کی جگہ ہر شعبے میں ماڈرن طریقے رائج ہوئے، وغیرہ۔
اتاترک آپریشن کے بعد ترکی میں جو نئے مواقع کھلے، اُس کے نتیجے میں ترکی میں ریفارمر (reformers)پیدا ہوئے۔ مثلاً سعید نورسی(وفات: 1960) اور استاذ محمد فتح اللہ گولن (پیدائش: 1941)، وغیرہ۔ استاد فتح اللہ گولن اور ان کے پیروؤں نے ترکی میں…
کمال اتاترک نے ترکی میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد جو کچھ کیا، وہ اپنے عملی نشانے کے اعتبار سے یہی تھا، یعنی ترکی کو دورِ شمشیر سے نکال کر دورِ سائنس میں داخل کرنا۔ کمال اتاترک نے اپنی آئڈیالوجی کو خود اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا تھا:
Science is the most reliable guide in life. (EB. 2/257)
آج جو شخص ترکی کا سفر کرتاہے ، وہ واضح طورپر دیکھتاہے کہ قدیم ترکی کی تعمیر اگر ’’شمشیر‘‘کے ذریعے کی گئی تھی، تو جدید ترکی کی تعمیر ’’سائنس‘‘ کے ذریعے کی جارہی ہے۔ جدید ترکی کے ہرشعبے میں سائنسی ترقی کے آثار واضح طورپر دکھائی دے رہے ہیں۔
…دین ہے۔ یہ تائیدی رول (supporting role) کوئی بھی شخص انجام دے سکتاہے، حتی کہ سیکولر افراد یا سیکولر نظام بھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے موقع پر عبد اللہ بن ارقط کا سفری رہنما کا رول اسی قسم کے ایک تائیدی رول کی حیثیت رکھتاہے-
اگر یہ مانا جائے کہ کمال اتاترک محض ایک سیکولر آدمی تھے، وہ نہ کوئی مذہبی آدمی تھے اور نہ ان کا مشن کوئی مذہبی مشن تھا، تب بھی یہ ماننا ہوگا کہ مذکورہ حدیث کے مطابق، اسلام یا مسلمانوں کے لیے کمال اتاترک کا تائیدی رول ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔
سیاسی ماڈل کا نقصان
…کے ساتھ لیا۔ اس کے بعد انھوں نے بڑی تعداد میں قرآن کا یہ انگریزی ترجمہ ترکی سے چھپوایا اور اس کو مزید پرکشش بنانے کے لیے قرآن کے سائز کا ایک خوب صورت بیگ تیار کیا۔ اب وہ اس کو باقاعدہ نظم کے تحت مسجد میں آنے والے سیاحوں کو دے رہے ہیں۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ انھوںنے مسجد کے صحن میں ایک میز پر قرآن کے ترجمے رکھ دئے ہیں۔ یہاں انھوں نے لکھ دیاہے کہ — یہ آپ کے لیے مسجد کی طرف سے فری اسپریچول گفٹ (free spiritual gift) ہے۔ چناں چہ مسجد میں آنے والے غیر مسلم سیاح یہاں سے بڑی تعداد میں قرآن کا انگریزی ترجمہ بخوشی حاصل کررہے ہیں۔
اِس فرق سے جدید ترکی کے مثبت پہلو کا اندازہ ہوتاہے۔ اتاترک آپریشن کے بعد ترکی میں یہ ہوا کہ جمود ٹوٹ گیا اور لوگوں کے اندر کھلا پن (openness) آیا۔ اِس کے مختلف مظاہر میں سے ایک مظہر یہ تھا کہ لوگوں کے اندر مذہبی جمود کا مزاج ختم ہوگیا۔…
…کا حامل بن گیااور دوسری طرف آبنائے باسفورس کے اوپر برٹش انجینئروں کا بنایا ہوا جدید طرز کا پُل علامتی طورپر، یورپی ٹکنالوجی کی یاد دلاتا ہے۔ اِس طرح ترکی گویا مشرقی تہذیب اور مغربی تہذیب کے درمیان ایک سنگم (junction) کا کام کررہا ہے۔
ترکی کا یہ مخصوص جغرافیہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ ترکی کا مشن کیا ہے۔ وہ مشن ہے— مشرق سے ملی ہوئی خدائی ہدایت (divine guidance)کو اہلِ مغرب تک پہنچانا۔
اِس وقت دنیا میں تقریباً 60 مسلم ملک یا مسلم اکثریت کے علاقے ہیں، مگر اِن میں سے کوئی بھی ایسا ملک نہیں جہاں مذکورہ حالات پائے جاتے ہوں۔ یہ مطلوب حالات استثنائی طورپر صرف ترکی میں پائے جاتے ہیں۔ اِس لیے تقریباً یقین کے ساتھ کہا جاسکتاہے…
…کی مانند ایک ترقی یافتہ ملک ہے- ترکی کے ادارے (institutions) ، ترکی کی انڈسٹری، ترکی کے شہر، ترقی کے اعتبار سے یورپ کے ملکوں سے پیچھے نہیں ہیں، حتی کہ جو ورک کلچر (work culture) یورپ میں پایا جاتا ہے، وہی ورک کلچر ترکی میں بھی موجود ہے-
یہ ایک واقعہ ہے کہ کمال اتاترک نے اپنے 18 سالہ دورِ اقتدار میں کئی غلطیاں کیں، مگر یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ ہر مصلح غلطیاں کرتاہے، اِس میں کسی مصلح کا کوئی استثنا (exception) نہیں- دیکھنے کی اصل چیز بعد کا نتیجہ ہے، نہ کہ آپریشن کے زمانے کی بعض غلطیاں- آج ترکی کو ترقی کے اعتبار سے جو درجہ حاصل ہے، وہ بلاشبہہ کمال اتاترک کی ریڈیکل اصلاحات کا نتیجہ ہے- یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اِس اعتبار سے، ترکی دوسرے مسلم ملکوں کے لیے ایک نمونہ ہے- دوسرے مسلم ملکوں کو چاہیے کہ وہ اتاترک آپریشن کے بعض منفی پہلوؤں کو نظر انداز کریں اور اس کے مثبت پہلوؤں کی پیروی کرتے ہوئے اپنے ملکوں کو جدید معیار پر ترقی یافتہ بنائیں-
ترکی کی جدید تصویر
…یا سیکولرائزیشن(secularization) کہاجاتا ہے- اِس تحریک کے علم بردار بہت سے نئے ترکی مفکرین تھے- مثلاً محمد نامق کمال (1840-1888) اور محمد ضیا گوکلپ (1875-1924)، وغیرہ- مشہور تنظیم ینگ ترک Young Turk)) بھی اِسی کا ایک حصہ تھی-
ترکی کا سلطان سلیم اول(وفات: 1520ء) سیاسی دائرے میں اِس تحریک کا حامی تھا- وہ چاہتا تھا کہ ترکی کی تجدید کاری (modernization) کی جائے- خاص طورپر حکومتی ادارے کو ماڈرنائز کرنا- اِس سلسلے میں سلطان نے ترکی کی فوج کو مغربی آلاتِ حرب سے مسلح کرنے کی کوشش کی، مگر اُس وقت ترکی کے حالات اِس قسم کی تجدید کاری کے لیے موافق نہ تھے- چناں چہ مصلحین کی کوششیں زیادہ کامیاب نہ ہوسکیں اور خود سلطان سلیم کو تخت چھوڑ دینا پڑا-
جیسا کہ معلوم ہے، ترکی میں اسلام عہدِ صحابہ میں پہنچ چکا تھا- ترکی اِس سے پہلے رومی سلطنت کے قبضے میں تھا- مسلمانوں نے جب رومی سلطنت کو توڑا تو اس کے بعد ترکی مسلم مملکت کا ایک حصہ بن گیا- رومی سلطنت کے زمانے میں ترکی کی آبادی زیادہ تر…
…شامل ہوجاتا ہے- یہی جدید ترکی میں پیش آیا- جس کام کو پچھلے مصلحین اعتدال کے ساتھ کرنے میں ناکام ہوگئے، اُس کو کمال اتاترک نے انتہا پسندانہ انداز میں کرڈالا- بعض خرابیاں جو کمال ازم کے اندر پائی جاتی ہیں، وہ اِسی انتہا پسندی کا نتیجہ ہیں-
تاہم یہ ترکی کی خوش قسمتی تھی کہ کمالی ریڈیکل ازم بہت دیر تک نہ چل سکا- بہت جلد ترکی میں ایسے مصلحین پیدا ہوئے جنھوں نے کمال ازم کی تصحیح کی، جنھوں نے ترکی کے انقلاب کو کامیابی کے ساتھ اعتدال کی طرف لوٹایا- اِن ترک مصلحین میں سے دو خاص مصلحین یہ ہیں— بدیع الزماں سعید نورسی (1876-1960) ، اور استاد محمد فتح اللہ گولن (پیدائش: 1941)-
کمال اتاترک نے اپنے انتہا پسندانہ مزاج کی بنا پر سیکولر شعبہ اور مذہبی شعبہ کے درمیان فرق نہیں کیا- انھوں نے یہ کیا کہ سیکولر شعبوں میں ضروری اصلاحات لانے کے ساتھ مذہبی شعبوں کے اوپر بھی بلڈوزر چلا دیا، جو بلاشبہہ غیر ضروری تھا- لیکن جہاں…
ترکی کی اسلامی تاریخ
اسلام سے پہلے ترکی کے باشندوں کی اکثریت مسیحی مذہب (Christianity) کو ماننے والی تھی۔ ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں یہاں اسلام داخل ہوا۔ اِس کے بعدیہاں مسلسل اسلام کا فروغ ہوتا رہا۔ اِس وقت ترکی کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 99 فی صد ہے۔
ترکی میں اسلام اور مسلمانوں کا استحکام بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچا کہ یہاں ایک طاقت ور مسلم سلطنت قائم ہوگئی۔ اس کو عثمانی خلافت (Ottoman Empire)کہاجاتا ہے۔ یہ سلطنت 1299 ء میں قائم ہوئی اور 1924 ء تک باقی رہی۔ عثمانی سلطنت کے عروج کے زمانے…
…چاہتے تھے۔ وہ دورِجدید میں مسلمانوں کے احیائِ نو کے علم بردار تھے۔ سعید نورسی کے ایک سیرت نگار کے الفاظ میں، ان کا مشن اسلامی تہذیب کی تعمیر نو (rebuilding of Islamic civilization) تھا۔ سعیدنورسی کے پیروؤں کی تعداد کئی ملین تک پہنچتی ہے۔
Said Nursi (1876-1960), the most influential Islamic scholar in modern Turkish history, is the inspiration behind the hugely popular Nur movement. Guided by his masterwork, the Risale-i Nur, Nursi's followers shun political ambition, focusing instead on a revival of personal faith through study, self-reform and service of others. Nursi lived through the upheavals that led to the establishement of a vigorously secular Turkish republic in place of the dismembered Ottoman caliphate. Nursi was educated through the medrese system in the tradional Islamic disciplines but also mastered modern Western philosophical and scientific ideas in order to address the challenges Muslims face now. In some ways the Risale-i Nur functions as an interpretation of the Qur’an for the contemporary world, millions within and outside Turkey have found solace in the interpretation.
اِس سلسلے میں دوسرا نام استاد محمدفتح اللہ گولنülen) (Fethullah Gکا ہے۔ وہ اکیسویں صدی عیسوی کے ترکی میں مقبول رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں۔ان کے پیرو ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ انھوں نے تعلیم، صحت، سوشل ریفارم جیسے تعمیری شعبوں میں ممتاز…
They were messengers, bearing good news and giving warning, so that mankind would have no excuse before God.
جغرافی اعتبار سے ترکی کا جائے وقوع بہت عجیب ہے۔ اس کا نصف حصہ ایشیا میں ہے اور بقیہ نصف حصہ یورپ میں۔ اِس طرح ترکی گویا کہ مشرق اور مغرب کے درمیان پل کی حیثیت رکھتا ہے:
Turkey is like a geographical bridge between East and West.
…دعوت الی اللہ۔ فرق صرف یہ ہے کہ اصحابِ رسول نے دعوت کے اس کام کو قبل کمیونی کیشن دور (pre-communication age) میں انجام دیا، اور اخوانِ رسول وہ لوگ ہوں گے جو اِسی دعوتی مشن کو بعد کمیونی کیشن دور (post-communication age) میں انجام دیں گے۔
اصحابِ رسول کو قرآن میں خیرِ امت (3:110)کہاگیا ہے۔ خیر امت کے بارے میں حضرت عمر فاروق کا ایک قول اِن الفاظ میں نقل ہوا ہے: من سرّہ أن یکون من ہذہ الأمۃ فلیؤد شرط اللہ فیہا (الطبری، 5/494 )- ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: من فعل فعلہم، کان مثلہم (القرطبی، 4/170)- دونوں روایتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ خیر امت یا اصحابِ رسول کوئی پراسرار ٹائٹل نہیں۔ یہ دراصل ایک رول (role) کا عنوان ہے، اور وہ رول دعوتی رول ہے۔ پچھلے زمانے میں دعوتی رول ادا کرنے کے نتیجے میں اصحاب رسول کو اصحابِ رسول ہونے کا درجہ ملا۔ اِسی طرح بعد کے زمانے میں جو لوگ مطلوب دعوتی رول اداکریں گے، اُن کو اخوانِ رسول کا درجہ ملے گا۔ اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول دونوں تاریخی رول ہیں، نہ کہ پراسرار ٹائٹل۔
ترکی کی جو امتیازی خصوصیات ہیں، اُن کی بنا پر یہ کہا جاسکتاہے کہ اہلِ ترکی کے لیے امکانی طورپر وہ مواقع حاصل ہیں جن کو استعمال کرکے وہ اسلام کی تاریخ میں وہ رول ادا کریں جس کو حدیث میں اخوانِ رسول کا رول کہاگیا ہے- اِس معاملے میں دوسرے…
یہ قیاس ترکی کی چند متعین خصوصیات کی بنا پر قائم ہوتاہے۔ یہ خصوصیات بظاہرکسی دوسرے مسلم ملک میں موجود نہیں۔ اِن خصوصیات میں سے چند یہ ہیں:
1 - ترکی کا جغرافیہ ایک انوکھا جغرافیہ ہے۔ ترکی مسلم دنیا میں وہ واحد ملک ہے جس کو اپنے جائے وقوع کے اعتبار سے مشرق اور مغرب کے درمیان سنگم (junction) کی حیثیت حاصل ہے۔
2 - ترکی مسلم دنیا کا واحد ملک ہے جو مختلف اسباب کی بنا پر سیاحت کے نقشہ (tourist map) میں ٹاپ کا درجہ رکھتاہے۔ اِس طرح ترکی وہ واحد مسلم ملک بن گیا ہے جہاں ساری دنیا کے مدعو خود سفر کرکے داعی کے پاس پہنچ رہے ہیں۔
…سال پہلے حضرت نوح کے زمانے میں ایک بڑا طوفان آیا۔ اُس وقت حضرت نوح اپنے ساتھیوں کو لے کر ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ یہ کشتی قدیم عراق) میسوپوٹامیا) سے چلی اور ترکی کی مشرقی سرحد پر واقع کوہِ ارارات (Ararat Mountain) کی چوٹی پر ٹھہر گئی۔
اِس واقعے کا ذکر بائبل میں اور قرآن میں نیز مختلف تاریخی کتابوں میں بشکلِ کہانی موجود تھا، لیکن کسی کو متعین طورپر معلوم نہ تھا کہ وہ کشتی کہاںہے۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ بعد کے زمانے میں مسلسل برف باری کے دوران یہ کشتی برف کی موٹی تہ (glacier) کے اندر چھپ گئی۔ موجودہ زمانے میں گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں جگہ جگہ گلیشیر پگھلنے لگے۔ چناں چہ ارارات پہاڑ کے گلیشیر بھی پگھل گئے۔ اس کے بعد کشتی قابلِ مشاہدہ بن گئی۔
بیسویں صدی کے آخر میں کچھ لوگوں نے ہوائی جہاز میں پرواز کرتے ہوئے پہاڑ کے اوپر اِس کشتی کو دیکھا۔ اِس طرح کی خبریں برابر آتی رہیں ، یہاں تک کہ 2010 میں یہ خبر آئی کہ کچھ ماہرین پہاڑ پر چڑھائی کرکے ارارات کی چوٹی پر پہنچے اور کشتی کا…
… کے نتیجے میں برف کے بہت بڑے تودے کے نیچے دب گئی- اس طرح لمبی مدت تک فاسِلائزیشن (fossilization) کے عمل کے نتیجے میں وہ پتھر جیسی ہوگئی- اس طرح کشتی محفوظ رہی اور اکیسویں صدی میں برف پگھلنے کے نتیجے میں وہ ظاہر ہو کر لوگوں کے سامنے آگئی-
ایسا کیوں ہوا- حضرت نوح کی کشتی کے لئے مختلف آپشن (option) موجود تھے، لیکن اس نے صرف ایک ہی آپشن لیا اور وہ ترکی کے پہاڑ کا آپشن تھا- ایسا بلا شبہہ خدا کی ہدایت پر ہوا- اِس معاملے کو اتفاقی واقعہ کے طورپر نہیں لے سکتے- ہمارے لئے لازم ہے کہ ہم اس کو خالق کے منصوبے کے تحت پیش آنے والا واقعہ سمجھیں-
—اس معاملے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح کی کشتی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو جو رول مطلوب ہے، اس رول کے لئے زیادہ موزوںمقام اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر، ترکی (Turkey) تھا-اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم تھا کہ بعد کے زمانے میں ترکی ایک مسلم…
…کی حیثیت رکھتی ہے، اور دوسرے سیلاب کے لئے اس کی حیثیت تاریخی ریمائنڈر (historical reminder) کی ہے- اکیسویں صدی عیسوی کے ربعِ اول میں کشتی نوح کا ظہور گویا اِس بات کی وارننگ ہے کہ لوگو، تیاری کرو، کیوں کہ آخری طوفان کا وقت قریب آگیا ہے-
خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اِس خدائی منصوبے کو سمجھیں اوراس کی تکمیل کرکے اللہ کے یہاں اجرِ عظیم کے مستحق بنیں- حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں سال تک برف کے تودے میں دبے رہنے کے بعد کشتی نوح کا ظاہر ہونا صورِ اسرافیل سے پہلے کے دور کا سب سے بڑا واقعہ ہے- اِس کے بعد اگلا واقعہ صرف صورِ اسرافیل ہوگا جو گویا اِس بات کا آخری اعلان ہوگا کہ عمل کرنے کا وقت ختم ہوچکا اور عمل کا انجام پانے کا دور آگیا-
ترکی کا انتخاب
…روانگی ہوئی اور 7مئی 2012 کی صبح کو دہلی واپسی ہوئی۔ یہ نئے تجربات سے بھرا ہوا ایک سفر تھا۔ اِس سفر کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔ اِس سفر میں میرے ساتھ حسب ذیل افراد تھے — مسٹر رجت ملہوترا، مولانا محمد ذکوان ند وی، ڈاکٹر فریدہ خانم۔
ترکی میں ایک غیر سیاسی تحریک ہے۔ اس کو سوشیوایجوکیشنل (Socio-educational) تحریک کہا جاسکتا ہے۔ یہ تحریک دنیا کے تقریباً 90 ملک میںکام کررہی ہے۔ اِس تحریک کے بانی اور قائد استاد محمد فتح اللہ گولن (M. Fethullah Gülen) ہیں۔ موجودہ سفر اسی تحریک کی دعوت پر ترکی کے سرحدی شہر غازی عین تیپ (Gazentep) میں منعقد ایک انٹرنیشنل کانفرنس کے لیے ہوا۔ کانفرنس کی بنیادی تھیم یہ تھی —— السراج النبویّ ینیر درب البشریة الحائرة:
Solutions for Social Challenges — The Prophet's Way
…پر صادق آتی ہے۔ مثلاً مذہبی آزادی، عالمی اسفار، ماڈرن کمیونکیشن اور ملٹی میڈیا، وغیرہ۔مذہبی مردم شماری کے ایک امریکی ادارہ (US Religion Census) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ — امریکا میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب اسلام ہے:
The Fastest Growing Religion in America is Islam.
حالیہ برسوں میں اِس قسم کی خبریں بار بار آتی رہیں۔ یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ، اِس کا سبب یہی جدید دعوتی مواقع ہیں۔ جدید دعوتی مواقع نے ہمارے لیے اسلام کی پُرامن اشاعت کے نئے مواقع کھول دئے ہیں۔
…made) سواری کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کے بعد انسانی ذہن سفر کے نئے نئے طریقوں کو دریافت کرتا رہا، یہاں تک کہ ہوائی جہاز کے ذریعہ سفر کا زمانہ آگیا۔ تمام مخلوقات میں یہ صرف انسان ہے جس کے ساتھ اللہ نے اِس خصوصی ’’تکریم‘‘ کا معاملہ کیا ہے۔
راستے میں ٹرکش ائر لائنز کی فلائٹ میگزین (Sky Life) کا شمارہ مئی 2012 مطالعے کے لیے موجود تھا۔ اس کے ایک صفحے پر ترکی اور انگریزی زبان میں یہ اشتہار درج تھا:
Your ideas are important to us... to help us serve you better, please fill in the form at the back of the magazine. Your opinions and suggestions will be given careful consideration.
…کے اوپر بنے ہوئے اُس جدیدطرز کے پل سے گزری جس کو 1973میں برٹش انجینئروں نے تعمیر کیا تھا۔ یہ ایک لمبا اور کشادہ پل ہے۔باسفورس کا یہ پل ترکی کے یورپی حصے کو ترکی کے ایشین حصے سے جوڑتا ہے۔ ائر پورٹ سے ہوٹل تک کا یہ راستہ 45 منٹ میں طے ہوا۔
ہوٹل میں میں جس کمرہ (suite) میں تھا، اس میں ہر قسم کا آرام وراحت کا سامنا تھا، لیکن مجھے کسی چیز سے کوئی دل چسپی نہیں تھی، حتی کہ میں نے اس کے جدید طرز کے باتھ روم میں کبھی غسل بھی نہیں کیا۔ یہاں میری ساری دل چسپی صرف ایک چیز سے تھی اور وہ تھی کمرے کی پشت پر لگے ہوئے شیشے کے پاس بیٹھ کر باسفورس کا منظر دیکھنا۔
باسفورس (Bosphorus) ایک ابنائے (strait) ہے۔ باسفورس بحرِ اسود(Black Sea) اور بحرِ مرمرا(Sea of Marmara)کو ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔آبنائے باسفورس 1452 عیسوی میں ترکوں کے قبضے میں آیا۔ آبنائے باسفورس میرے لیے فطرت کے حسن کا اتھاہ منظر تھا۔…
…Day) تھا، اِس بنا پر یہاں لوگوں کی کافی بھیڑ نظر آئی۔ میں نے مسٹر علی سے پوچھا کہ آپ کا ملک مشرق اور مغرب دونوں حصوں میں واقع ہے۔ آپ اپنے کو مشرقی سمجھتے ہیں یا مغربی۔ انھو ں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ — مائنڈ سے یورپین اور ہارٹ سے ایشین۔
عام طور پر لوگوں کا مزاج یہ ہے کہ جب وہ کسی سے ملتے ہیں تو ہمیشہ اپنی بات سناتے ہیں، لیکن میرا مزاج اِس سے مختلف ہے۔ میں یہ کرتا ہوں کہ دوسروں سے باربار سوال کرکے ان کی بات سنتا ہوں، یہی میں نے یہاں بھی کیا۔ مسٹر علی سے میں بار بار سوال کرتا رہا اور ان کی باتیں سنتا رہا۔ میں نے پایا کہ مسٹر علی کا حافظہ بہت اچھا ہے۔ اُن کو بہت سے واقعات یاد ہیں۔ تاریخ سے ان کو خصوصی دل چسپی ہے۔ وہ ترکی کے علاوہ، انگریزی اور رشین زبان جانتے ہیں۔ آج کل وہ عربی اور اردو زبان سیکھ رہے ہیں۔
اِس سلسلے میں گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ ترکی میں ایک مقولہ ہے — ایک زبان، ایک انسان۔ دوزبان، دو انسان۔تین زبان تین انسان:
…میں مجلہ ’’حراء‘‘ کے ایڈیٹر مسٹر نوزاد صواش نے عربی زبان میں گولن تحریک کا مختصر تعارف پیش کیا، اور تحریک کی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا۔انھوں نے کہا کہ گولن تحریک کا مقصد ہے— غیر سیاسی دائرے میں رہتے ہوئے سماجی خدمت اور تعلیم کا فروغ۔
مسٹر نوزاد صواش استاد محمد فتح اللہ گولن کے براہِ راست شاگردوں میں سے ہیں۔ انھوں نے استاد فتح اللہ گولن کے بارے میں کئی باتیں بتائیں۔ مثلاً انھوں نے کہا کہ استاذ کا حافظہ بہت اچھا ہے۔ ان کے اندر فوٹو گریفک میموری (photographic memory) پائی جاتی ہے۔ اِسی طرح وہ ایک اعتدال پسند آدمی ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ استاذ فتح اللہ ایک حوصلہ مند (ambitious) طبیعت کے آدمی ہیں۔ کسی ایک حد پر رکنے کے بجا ئے ہمیشہ ان کی نگاہ آگے کی طرف رہتی ہے۔ مثلاً انھوں نے بتایا کہ ہم لوگوں نے مختلف زبانوں میں کئی ٹی وی چینل شروع کیے۔ ہم نے استاذ فتح اللہ گولن کو جب اِس کی خبر دی تو انھوں نے کہا کہ ابھی ہم میڈیا کے میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ ہم کو اسی پر اکتفا نہیں کرنا ہے، بلکہ ہم کو ابھی اِس میدان میں بہت آگے بڑھنا ہے۔ اِس سلسلے میں مسٹر نوزادصواش نے کہا کہ: لا یفرح الأستاذ من الإنجاز، بل یتطلع دائما إلى الإنجازات۔ اِس میٹنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کانفرنس کا پروگرام کیاہوگا۔
یہاں کئی عرب فضلا سے ملاقات ہوئی۔ مثلاً کویت کے عربی مجلہ : الوعی الإسلامی (1965) کے مدیر فیصل یوسف احمد العلی، اور دکتور محمد وائل الحنبلی الدمشقی۔ ملاقات کے دوران فیصل یوسف العلی نے بتایا کہ وہ میری کتاب الاسلام یتحدی پڑھ چکے ہیں۔الحنبلی…
Free Spiritual Gift
امام صاحب نے کہا کہ ہم اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ حکومتی سطح پر ایک وقف بنادیا جائے، تاکہ اس کے تحت ترکی کے ہر تاریخی مقام پر سیاحوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا جاسکے۔ رستم پاشا مسجد میں جب میں آیا تو میں نے دیکھا کہ یہاں مختلف ملکوں کے سیاح بڑی تعداد میں آرہے ہیںاور جب وہ مسجد کو دیکھ کر واپس ہوتے ہیں تو ہر ایک کے ہاتھ میں قرآن کا ایک نسخہ ہوتا ہے۔ یہ دیکھ کر میں نے کہا کہ یہ مسجد پہلے صرف ایک عبادت خانہ تھی، مگر اب وہ ’مسجد پلس‘ ہوگئی ہے۔ وہ مسجد کے ساتھ قرآن ڈسٹری بیوشن کا ایک عالمی سنٹر بن گئی ہے۔ امام صاحب نے بتایا کہ مسجد کے علاوہ بھی وہ یہاں قرآن کا ترجمہ پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً حال میں استانبول کے ایک مقام پر سیرتِ رسول کے موضوع پر ایک پروگرام ہوا۔ اِس پروگرام میں غیر ملکی لوگ بھی شامل تھے۔ اِس موقع پر انھوں نے ایک ہزار لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ برائے مطالعہ دیا۔
امام صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے ایک بات یہ کہی کہ ایک رپورٹ کے مطابق، 2011 میں 31 ملین سے زیادہ غیر ملکی سیاح ترکی میں آئے۔ یہ لوگ معروف معنوں میں صرف سیاح نہیں، بلکہ وہ ہمارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ اپنے ملک سے نکل کر یہاں…
…لوگ اپنے کمرے کے اُس حصے میں بیٹھ گئے جہاں سے باسفورس کا منظر نہایت صاف دکھائی دیتا تھا۔ اُس وقت میں نے گفتگو کے دوران اپنے ساتھیوں سے کچھ باتیں کہیں جس کو انھوں نے اُسی وقت ریکارڈ کرلیا۔ یہ باتیں زیادہ تر تذکیری اور دعوتی نوعیت کی تھیں۔
ایک بات میں نے یہ کہی کہ مجھے آج کی مسلم دنیا میں دو مقامات ایسے دکھائی دے رہے ہیں جہاں سے اسلام کے حق میں دو بڑے واقعات ہونے والے ہیں — ایک، کشمیر اور دوسرا، ترکی۔ کشمیرسے اسلام کے مذہب امن ہونے کا اعلان، اور ترکی سے اسلام کی عالمی اشاعت۔ آج اسلام کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے۔ موجودہ زمانے میں اسلام کی عمومی امیج (image)یہ بن گئی ہے کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے۔ یہ میڈیا کا پروپیگنڈہ نہیں ہے، بلکہ خود مسلمانوں کی غلط روش کے نتیجے میں ایساہوا ہے۔ انھیں میں سے ایک کشمیر کے مسلمان ہیں۔کشمیر کے مسلمان نادان لیڈروں کے فریب میں آگئے اور انھوں نے اسلام کے نام پر کشمیر میں تشدد کلچر چلادیا۔ اب اگر کشمیر کے مسلمان کھلے طور پر اعلان کردیں کہ ہم کو گمراہ کیا گیا تھا۔ اسلام پورے معنوں میں امن کا مذہب ہے اور ہم نے اپنی سابق روش کو چھوڑ کر پرامن اسلام پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے، تو اُن کا یہ اعلان بلاشبہہ اسلام کی امیج کو درست کردے گااور اس کے بعد کشمیر میں اسلامی دعوت کے نئے راستے کھل جائیں گے۔ اس موضوع پر حال میں میری ایک کتاب شائع ہوئی ہے۔ اردو میں اِس کا نام ’’صبحِ کشمیر‘‘ ہے اور انگریزی میں اس کا نام یہ ہے:
Dawn over Kashmir
تذکیر القرآن کا یہ عربی ایڈیشن تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ اِس ادارے نے راقم الحروف کی ایک اور کتاب ’’خاتونِ اسلام‘‘ کا عربی ترجمہ (المرأۃ بین شریعۃ الإسلام وحضارۃ الغرب) شائع کیا ہے۔ ادارے کا مکمل پتہ یہ ہے:
دار الوفاء للطباعۃ والنشر والتوزیع، جمہوریۃ مصر العربیۃ، المنصورۃ
ش- الإمام محمد عبدہ المواجہۃ لکلیۃ الآداب، ص ب: 230
…کے اعتبار سے دیکھا جائے، نہ کہ مسائل (problems) کے اعتبار سے۔ مسائل کو نظر انداز کرنا اور مواقع کو استعمال کرنا، یہی سنتِ رسول ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اِس اہم ترین سنتِ رسول کا شعور موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں مفقود ہوگیا ہے۔
ترکی کے وزیر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر محمد گورماز (Dr. Mehmet Görmez) بھی اِس پروگرام میں شریک تھے۔ میں نے دیکھا کہ وہ ہم لوگوں کے ساتھ ایک عام آدمی کی طرح رہتے ہیں۔ لفٹ (lift)میں بھی وہ عام آدمی کی طرح آتے جاتے ہیں۔ اُن کے ساتھ کوئی سکیورٹی موجود نہیں۔ یہ سادگی ترکی کے سوا کسی بھی مسلم ملک میں موجود نہیں۔
یہ فرق کیوں ہے۔ اِس فرق کا سبب وہی بدنام آپریشن ہے جس کو کمال ازم (Kemalism) کہاجاتا ہے۔ کمال اتاترک (وفات: 1938 ( کی امیج (image)علما کے درمیان یہ ہے کہ وہ ایک اسلام دشمن انسان تھا، مگر ایسا نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ کمال اتاترک نے فرسودہ…
…چناں چہ ہمارے ساتھی مولانا محمد ذکوان ندوی نے قرآن کی سورہ الم نشرح (94)کی تلاوت کی۔ اس کے بعد میں نے اِس سورہ کی تشریح کی۔ میں نے ایک بات یہ کہی کہ اِس دنیا کا نظام اِس طرح بنایا گیاہے کہ یہاں عسر کے ساتھ یسر بھی لازماً موجود رہتا ہے۔
گھر کی ایک خاتون نے یہ سوال کیا کہ ڈفرنس کو مینج (manage) کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا طریقہ صرف ایک ہے، وہ یہ کہ ڈفرنس کو فطرت کا ایک حصہ سمجھا جائے۔ ڈفرنس کو لے کر شدید طورپر حساس ہونے کے بجائے، اس کے بارے میں وہی طریقہ اختیار کیا جائے جس کو اِس مشہور مقولے میں بیان کیا گیا ہے: Take it easy ۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈفرنس کوئی مسئلہ نہیں، یہ لوگوں کی اپنی حساسیت ہے جس نے ڈفرنس کو غیر ضروری طورپر ایک مسئلہ بنا دیا ہے۔
مسٹر امین کے گھر سے اتاترک انٹرنیشنل ائرپورٹ کے لیے روانگی ہوئی۔ ائر پورٹ یہاں سے قریب تھا۔ ائر پورٹ پر چیکنگ معمول کے مطابق تھی۔ مسٹر علی اکیز بار بار منع کرنے کے باوجود ائرپورٹ کے اندر آخری گیٹ تک ہمارے ساتھ رہے اور ہر مرحلے میں ہماری…
…تو آپ کا آشیرواد چاہئے۔ میں ایک ایگزام (امتحان) میں بیٹھنے والا ہوں۔ مجھے آشیرواد دیجئے کہ میں اپنے ایگزام میں پاس ہوجاؤں۔ میں نے نوجوان کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس کے لیے دعا کی۔ ہمارے ساتھی نے اُس کو ہندی زبان میں چھپا ہوا ایک پمفلٹ دیا۔
دہلی کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے سب سے پہلا جو تجربہ ہوا، وہ ہوائی کثافت (air pollution) کاتجربہ تھا۔ ترکی میں موسم نہایت خوش گوار تھا اور ہوائی کثافت بہت کم تھی، لیکن دہلی میں ہوائی کثافت اتنی زیادہ تھی کہ سانس لینا دشوار ہورہا تھا۔ اِس فر ق کو اگر بلین ٹائم بڑھا دیا جائے تو یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ آخرت کی جہنم کیا ہوگی اور آخرت کی جنت کیا۔
(یہ سفر نامہ مولانا محمد ذکوان ندوی کے تعاون سے تیار کیاگیا)
… کے نمائندہ مسٹر ہرمیت (Harmeet Singh) نے 2 مئی 2011 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو اسامہ بن لادن کی موت (2مئی 2011 ) کے موضوع پر تھا۔ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ اسامہ کی موت صرف ایک ختم شدہ طاقت کا اعلان ہے۔
16 - دور درشن (انگریزی) چینل کی ٹیم نے 4 مئی 2011 کو صدر اسلامی مرکز کی ویڈیو ریکارڈنگ کی ۔ یہ انٹرویو ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ سوالات کا تعلق اسلام کے مختلف پہلوؤں سے تھا۔ مثلاً شتم رسول کا مسئلہ، ارتداد کی سزا، وغیرہ۔ یہ انٹرویو انگریزی زبان میں ہوا۔
17 - پرگیا ٹی وی (نئی دہلی) نے 4 مئی 2011 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کا ایک چینل ہے جس کو سکسس اسٹوری (Success Story) کہا جاتا ہے۔ اِس کے تحت وہ مختلف افراد سے ان کی کامیابی کے تجربات نقل کرتے ہیں۔ اِس…
…بنائی۔ حضرت نوح نے اِس کشتی میں اُس وقت کے تمام اہلِ ایمان کو بٹھایا۔ طوفان میں بہتی ہوئی یہ کشتی آخر کار مشرقی ترکی کے پہاڑ ارارات (Ararat) پر ٹھہر گئی۔ اس کے بعد اس میں بیٹھے ہوئے تمام لوگ کشتی سے نکل کر مختلف علاقوں میں آباد ہوگئے۔
یہ واقعہ پانچ ہزار سال پہلے کا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا تھا کہ یہ کشتی محفوظ رہے گی اور بعد کے زمانے میں دریافت ہو کر لوگوں کے لیے نشانی (sign) بن جائے گی۔ قرآن کی سورہ نمبر 54 میں حضرت نوح کے تذکرہ کے بعد یہ آیت آئی ہے: ولقد ترکناہا آیۃً فہل من مدکر (القمر: 15 ) یعنی ہم نے اس ( کشتی ) کو نشانی کے لیے چھوڑ دیا، پھر کوئی ہے سوچنے والا۔ یہی بات قرآن کی سورہ نمبر 29 میں اِن الفاظ میں آئی ہے: وجعلناہا آیۃً للعالمین (العنکبوت:15 ) یعنی پھر ہم نے اس (کشتی) کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔
انیسویں صدی کے آخر میں جب ہوائی پرواز کا زمانہ آیا تو کچھ لوگوں نے ارارات پہاڑ کے اوپر پرواز کرتے ہوئے گلیشیر کے اندر چھپی ہوئی ایک کشتی کے آثار دیکھے۔ لیکن بار بار کوشش کے باوجود اِس معاملے میں کچھ زیادہ معلومات حاصل نہ ہوسکیں۔
…علاوہ، تین اور پینلسٹ موجود تھے۔ ڈسکشن کا موضوع ٹررازم تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں موضوع کی وضاحت کی۔ اِس موقع پر سی پی ایس کے افراد بھی وہاں موجود تھے۔ انھوں نے حاضرین کو اسلامی لٹریچر دیا اور ان سے انٹریکشن کیا۔
2 - ہندی میگزین (نئی دہلی) کے نمائندہ نے 4 دسمبر2008 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کا موضوع بمبئی ٹرراٹیک تھا۔ سوالات کے دوران بتایاگیا کہ ٹررازم کے لیے اسلام میںکوئی جگہ نہیں۔ جو مسلمان ٹررازم میںشامل ہیں، وہ اسلام کے نام پر ایک ایسا کام کررہے ہیں جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کی یہ ایکٹوٹی مکمل طورپر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
3 - سہارا ٹی وی (نوئڈا) کے اسٹوڈیومیں 4 دسمبر 2008 کو ایک پینل ڈسکشن ہوا۔ یہ ڈسکشن بمبئی کے حالیہ بم دھماکے سے متعلق تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ یہ صرف ایک مذموم فعل ہے، اسلامی…
…ہیں۔وہ قومی اسلام کو ربّانی اسلام کا درجہ دے رہے ہیں۔ اُن کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ صرف یہ تھا کہ انھوںنے اِن حضرات کے ذریعے اپنے قومی فخر کو دوبارہ حاصل کرلیا، مگر غلط فہمی کی بنا پر انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ اُن کو حقیقی اسلام حاصل ہوگیا ہے۔
اِسی قسم کے ایک مسلمان مسٹر مراد سے 2 اگست 2007 کو میری ملاقات دہلی میں ہوئی۔ اُن کے والدین شام سے تعلق رکھتے تھے۔ پھر وہ شام کو چھوڑ کر ترکی گیے۔ پھر ترکی سے وہ آسٹریلیا منتقل ہوگیے۔ اِس وقت یہ فیملی آسٹریلیا میںرہ رہی ہے۔ مسٹر مرادکی تعلیم آسٹریلیا کے اسکول اور کالج میں ہوئی۔ انھوںنے کہا کہ یہ اسکول ایک کرسچن اسکول تھا۔ وہاں انھیں بتایا جاتا تھا کہ عیسائیت (Christianity)زیادہ اچھا مذہب ہے، اور اسلام اُس کے مقابلے میں کم تر مذہب ہے۔
وہ اسلام کی اِس منفی تصویر سے سخت پریشان تھے۔ پھر انھیں احمد دیدات جیسے لوگوں کو سننے کا موقع ملا۔ اِس سے اُن کے ذہن میں اسلام کی عظمت (glory)دوربارہ لوٹ آئی۔ وہ اسلام کو اپنے لیے فخر کی ایک چیز سمجھنے لگے۔ پھر اسی مجلس میںانھوں نے…
There is always room at the top
یہ بات بجائے خود درست ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اِس سے زیادہ درست اور اہم بات وہ ہے جو اِس قول کے برعکس ہے، اور وہ یہ کہ— پیچھے کی سیٹ پر ہمیشہ جگہ خالی رہتی ہے:
There is always room at the back seat.
…میں آپ کے ذریعے انسان کو کامل رہ نمائی عطا فرمائی ہے، اُسی طرح منہاج کے معاملے میں بھی ابدی طورپر ہمیں آپ کے طریقے کی پیروی کرنا ہے۔ ایسا سمجھنا،بلا شبہہ ایک غلط فہمی ہوتی اور نتیجۃً طریقِ کار کے اعتبار سے اسلام جُمود کا شکار ہوجاتا۔
مثلاً طریقِ کار کو ابدی سمجھنے کے بعد یہ ہوتا کہ ہم کار اور ہوائی جہاز کے زمانے میں بھی اونٹ پر بیٹھنا ضروری سمجھتے۔ جدید فنِ تعمیر کے ظہور میںآنے کے بعد بھی ہم مسجد ِ نبوی کو کھجور کے تنوں اور پتّوں کے ذریعے بناتے رہتے ۔پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ظہور کے بعد بھی ہم قرآن کو درخت کی چھالوں اور جانور کی جھِلّیوں پر بدستور لکھتے رہتے۔ جدید طرز کے دور مار ہتھیاروں کے ظہور میں آنے کے بعد بھی ہم قدیم نمونے کے مطابق، دستی تلوار کے ذریعے جہاد کرتے رہتے۔ جدید سائنسی دلائل کے ظہور میں آنے کے بعد بھی ہم قدیم روایتی معقولات کو اپنے علمِ کلام کا واحد سرمایہ سمجھتے۔ جدید کمیونی کیشن اور ٹیلی فون کے زمانے میں بھی ہم پرندوں اور جانوروں سے پیغام رسانی کا کام لیتے رہتے۔جدید الیکٹری سٹی کے ظہور کے بعد بھی ہم چراغوں اور دِیوں کے ذریعے اپنے گھروں کو روشن کرتے رہتے۔ زرعی ٹریکٹروں کے ظہور میں آنے کے بھی ہم ہَل اور بیل کے ذریعے زراعت کا کام جاری رکھتے، وغیرہ۔
اللہ تعالیٰ کی یہ ایک عظیم حکمت تھی کہ اُس نے قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی رہ نمائی کو بتانے کے لیے اُسوۂ حسنہ کا لفظ استعمال کیا۔ اگر اِس آیت میں اسوۂ کاملہ کا لفظ ہوتا تو لوگ یقینی طورپر غلط فہمی میں پڑ جاتے۔ لوگ الدین…
یہ ونڈو ان لوگوں کے لیے تھی جو اپنی کسی معذوری کی بنا پر وہیل چئر پر بٹھا کر جہاز تک لے جائے جاتے ہیں۔ گویا معذور لوگوں کے لیے خصوصی مدد کا انتظام ہے۔ اس دنیا میں معذوری بھی ایک پلس پوائنٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ سفر ٹرکش ائرلائنز کی فلائٹ نمبر TK 1071کے ذریعہ ہوا۔ دلی سے اس کا مقرر وقت ساڑھے ۴ بجے تھا۔ آدھا گھنٹہ لیٹ ہوکر جہاز ۵ بجے صبح دہلی سے روانہ ہوا۔ دہلی سے استانبول کا سفر بغیر رکے ہوئے سات گھنٹہ کا تھا۔راستہ میں نیند آتی رہی اور سفر آسانی کے ساتھ طے ہوگیا۔ پوری پرواز ہموار (smooth) تھی۔
راستہ میں ۱۲ دسمبر ۲۰۰۳کے بعض اخبارات دیکھے۔ایک اخبار میں ایک آرٹیکل کے تحت مشہور کوہ پیما سَر ایڈمنڈہیلری کا تذکرہ تھا۔وہ کئی بار ناکام ہونے کے بعدمئی ۱۹۵۳ میں ہمالیہ کی چوٹی پر پہنچا تھا۔ایک ناکامی کے بعد اس نے اپنی مٹھی بلند کی اور…
ان الفاظ میں مسلم دور کا ذکر جس طرح تحقیری انداز میں کیا گیا ہے اس سے مسلم عہد کی مثبت تصویر سامنے نہیں آتی۔ تاہم دوسرے مغربی مورخین نے نہایت فیاضی کے ساتھ اسپین کے مسلم عہد کے کارناموں کا اعتراف کیا ہے۔
میںنے حال میں ایک معروف عالم کا ایک مضمون پڑھا۔ اس میں انہوں نے جوش کے ساتھ لکھا تھا کہ ہم کو مسلمانوں کی ماضی کی تاریخ پر فخر ہے۔ اس مضمون میں اس قسم کی باتیں تو پر جوش انداز میں بیان کی گئی تھیں۔ مگر اس میں انسانیت کی حالیہ ترقی کا کوئی حوالہ نہ تھا۔ اس مضمون کو پڑھنے والا صرف یہ سوچ سکتا تھا کہ وہ شاندار ماضی کو کھوکر تباہ شدہ حال میں جی رہا ہے۔ مذکورہ عالم کی زبان سے اس قسم کی غیر علمی بات لمبی مدت سے چھا پ کر پھیلائی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ اب یہ حال ہے کہ مسلمانوں کا ذہن عام طورپر نفرت اور مایوسی کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔ کوئی مثبت پیغام یا کوئی تعمیری منصوبہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ اپنے ماضی کی مفروضہ عظمت میں جینا کوئی سادہ بات نہیں۔یہ انسان کوبیک وقت دو برائیوں میںمبتلا کر دیتاہے— انسانیت کے ساتھ خیر خواہی کا خاتمہ، اور مثبت انداز میں سوچنے کے قابل نہ رہنا۔
آج دسمبر ۲۰۰۳ کی ۱۳ تاریخ ہے۔ اس وقت میں اسپین کے شہر اشبیلیہ (Seville) کے ہوٹل میکرینا(Tryp. Macarena) کے روم نمبر ۳۳۸ میں ہوں۔ یہاں آج رات کو میں نے ایک خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک چھوٹا بچہ ہے۔اس کے سر پر ترکی ٹوپی ہے۔اس خواب کے…
…سمجھا اور نہ اقبال اور شبلی نعمانی اس کو سمجھ سکے۔ اس بے خبری کی بنا پر ان لوگوں نے مسئلہ کا حل صرف یہ سمجھا کہ ہدی خوانی کرکے مسلمانوں کو ابھارا جائے۔ مگر یہ ہدی خوانی یا بانگ درا کا مسئلہ نہ تھا بلکہ یہ مسلمانوں کے احیاء نو کا مسئلہ تھا۔
قرآن کے الفاظ میں،یہ بنجر زمین کو دوبارہ محنت کرکے زرخیز بنانے کا مسئلہ تھا (الحدید ۱۶۔۱۷)۔ یہ تشخیص کی غلطی تھی۔ تشخیص کی اس غلطی کا نتیجہ یہ ہوا کہ سو سال سے بھی زیادہ لمبی جدوجہد بے نتیجہ ہوکر رہ گئی، وہ کسی مثبت نتیجہ تک نہیں پہنچی۔
بار سلونا سے اگلے جہاز کے ذریعہ استانبول کے لیے روانگی ہوئی۔ یہ نسبتاً مختصر سفر تھا۔ لمبے سفر میں عام طورپر ڈائرکٹ فلائٹ نہیں ہوتی۔ مسافر کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ ایک ایر پورٹ سے دوسرے ایرپورٹ پہنچے اور جہاز کو بدل کر اپنا سفر جاری رکھے۔
Who should rule Iraq in the future?
صبح کے نشریہ میں لوگوں کے جوابات بتائے گئے۔ یہ جوابات دنیا کے مختلف حصوں سے آئے۔ زیادہ تعداد نے یہ کہا کہ عراق میں ڈیماکریٹک رول قائم کیا جائے۔ یعنی عراق پر خود عراق کے لوگ حکومت کریں۔ یعنی وہی نظام جو برطانیہ اور امریکا میںقائم ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ خالص آئیڈیلزم ہے، اور دنیا میںکبھی آئیڈیلزم چلتا نہیں۔
Ideal cannot be achieved.
…پہنچتا ہے جہاں ان کی راہ میں بحر کیسپین حائل ہے۔ یہاں وہ مڑ جاتی ہیں وہ بحرکیسپین کو کنارے چھوڑتے ہوئے ایک طرف قراقرم کی جانب سے اور دوسری طرف کاکیشیا کی جانب سے پرواز کر کے ایشیا میں داخل ہوتی ہیں اور اپنے مطلوبہ مقامات پر اتر جاتی ہیں۔
چڑیاں اس طرح کا کوئی ذریعہ علم نہیں رکھتیں ۔ وہ اس قسم کے ذریعہ معلومات سے مکمل طور پر کٹی ہوئی ہیں۔ چڑیوں کے اندر باہم تبادلۂ خیال نہیں ہوتا جس طرح انسانوں کے اندر ہوتا ہے۔ اس بنا پر چڑیوں کے لیے یہ ممکن نہیں کہ ایک چڑیا دوسری چڑیا کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اپنی معلومات کو بڑھائے۔ کوئی چڑیا اپنی معلومات کو کتاب کی صورت میں قلم بند نہیں کرتی کہ دوسری چڑیا اس کو پڑھ کر اس سے رہنمائی حاصل کرے۔ اس قسم کی ہر سہولت سے کامل محرومی کے باوجود یہ چڑیاں بالکل انسانوں کی مانند سفر کرتی ہیں۔ وہ اس درجہ صحت کے ساتھ ایک مقام سے دوسرے مقام تک جاتی ہیں جیسے کہ ریڈیائی کنٹرول کے ذریعہ کوئی راکٹ خلا میں چلایا جا رہا ہو۔
مہاجر چڑیوں کا مطالعہ کرنے والے ایک محقق نے لکھا ہے کہ چڑیوں کی ہجرت کی پروازیں متعین راستوں پر ہوتی ہیں۔ بعض اوقات لمبے فاصلوں پر حد درجہ عمدہ تعین کے ساتھ
…ان کے ذہن میں’’زرق برق وردیاں پہنے کرنل اور میجر بنے ہوئے مسلمان نوجوان‘‘ ہوتے تھے۔ ان کا منتہائے مقصود ایسی تعلیم تھی جو مسلمانوں کو اعلیٰ عہدوں تک پہنچا سکے۔ سر سید کی تہذیب کو مہدی افادی نے بجا طور پر’’اینگلو محمڈن کلچر‘‘ کا نام دیا ہے۔
کمال اتاترک(1881-1938ء) جو اس گروہ کا دوسرا نمایاں ترین نام ہے، وہ اس معاملے میں سر سید سے بھی آگے تھے۔ ترکی میں مغربی تعلیم و تہذیب کی اشاعت سے کمال اتاترک کا مقصد کیا تھا، اس کا اندازہ اس عنوان سے ہوتاہے جو اس مہم کووہاں دیا گیا۔ کمال اتاترک اور ان کے ساتھیوں کے نزدیک یہ’’غرب دوغرو‘‘ تھا، جس کے معنی ترکی زبان میں—’’ سمت مغرب میں سفر‘‘ کے ہیں۔ سمت مغرب میں سفر کا یہ کام اس درجہ اہم تھا کہ صرف رومن رسم الخط جاری کرنے اور ترکی باشندوں کو ہیٹ پہنانے کے لیے ہزاروں آدمی اس طرح ہلاک کر دیے گئے گویا وہ ریاست سے بغاوت کے مجرم ہوں۔
اسی تقلیدی ذہنیت کا نتیجہ تھا کہ ہمارے ان مصلحین کی ساری توجہ بس یورپ کی تہذیب اور یورپ کے زبان و ادب کے حصول پر لگی رہی۔ سائنس اور ٹیکنالوجی جو مغربی قوموں کی ترقی کا اصل راز ہے، اس کو مسلمانوں کے اندر رائج کرنے کی انہوں نے زیادہ کوشش…
…چیز یہ ہے کہ آدمی خدا کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑے، وہ نماز کو قائم کرے۔ اور کتاب الٰہی کو پکڑنے اور نماز کو قائم کرنے کا معیار یہ ہے کہ آدمی ’’مصلح‘‘ بن گیا ہو۔ خدا کی کتاب سے تعلق اور خدا کی عبادت کرنا آدمی کو مصلح بناتا ہے، نہ کہ مفسد۔
ایک جانور کو اس کے ماں باپ سے الگ کردیا جائے اور اس کی پرورش بالکل علیٰحدہ ماحول میں کی جائے تب بھی بڑا ہو کر وہ مکمل طورپر اپنی نسلی خصوصیات پر قائم رہتا ہے۔ وہ اپنے تمام معاملات میں عین وہی طریقہ اختیار کرتا ہے جو اس کی جبلت (instinct) میں پیوست ہے۔ یہی معاملہ انسان کا ’’شعور رب‘‘ کے بارے میں ہے۔ انسان کی روح میں ایک خالق ومالک کا شعور اتنی گہرائی کے ساتھ جما دیا گیا ہے کہ وہ کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتا۔ موجودہ زمانہ میں ایک اعتبار سے روس اور دوسرے اعتبار سے ترکی کا تجربہ بتاتا ہے کہ مکمل طورپر مخالفِ مذہب ماحول میں تربیت پانے کے باوجود انسان کی فطرت عین وہی باقی رہتی ہے جو اقرارِ مذہب کے ماحول میں ہمیشہ پائی جاتی رہی ہے۔
تاہم جانور اور انسان میں ایک فرق ہے۔ جانور اپنی فطرت کي خلاف ورزی پر قادر نہیں۔ وہ مجبور ہیں کہ عملاً بھی وہی کریں جو ان کے اندر کی فطرت انھیںسبق دے رہی ہے۔ اس کے برعکس، انسان کا حال یہ ہے کہ شعور فطرت کی حد تک پابند ہونے کے باوجود عمل کے معاملے میں وہ پوری طرح آزاد ہے۔ جب بھی کوئی بات سامنے آتی ہے تو اس کی عقل اور اس کا ضمیر اندر سے اشارہ کرتے ہیں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ مگر اس کے باوجود انسان کو اختیار ہے کہ وہ چاہے اپنی اندرونی آواز کی پیروی کرے، چاہے اس کو نظر انداز کرکے مَن مانی کارروائی کرنے لگے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا امتحان ہورہا ہے اور اسی پر جنت اور جہنم کا فیصلہ ہونا ہے۔ جو شخص خدائی آواز پر کان لگائے اور وہی کرے جو خدا فطرت کی خاموش زبان میں اس سے کہہ رہا ہے، وہ امتحان میں پورا اترا۔ اس کے مرنے کے بعد ا س کے ليے جنت کے دروازے کھول ديے جائیں گے۔ اور جو شخص فطرت کی سطح پر نشر ہونے والی خدائی آواز کو نظر انداز کردے وہ خدا کی نظر میں مجرم ہے۔ اس کو مرنے کے بعد جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ خدا بھی اس کو نظر انداز کردے گا جس طرح اس نے خدا کی آواز کو نظر انداز کیا تھا۔
فطرت کی یہ آواز ہر آدمی کے اوپر خدا کی دلیل ہے۔ اب کسی کے پاس نہ تو بے خبری کا عذر ہے اور نہ کوئی یہ کہہ سکتاہے کہ ماضی سے جو چلا آرہا تھا وہی ہم بھی کرنے لگے۔ جب انسان پیدائش ہی سے خدا کا شعور لے کر آتاہے اور ماحول کے علی الرغم اس کو ہمیشہ باقی رکھتا ہے تو اب کسی شخص کے پاس بے راہ ہونے کا کیا عذر ہے۔
ایک جانور کو اس کے ماں باپ سے الگ کردیا جائے اور اس کی پرورش بالکل علیٰحدہ ماحول میں کی جائے تب بھی بڑا ہو کر وہ مکمل طورپر اپنی نسلی خصوصیات پر قائم رہتا ہے۔ وہ اپنے تمام معاملات میں عین وہی طریقہ اختیار کرتا ہے جو اس کی جبلت (instinct)…
…سی باتیں صرف کہنے کےلیے کہہ دیتاہے۔ اگروہ اس کے انجام کو دیکھ لے تو وہ کبھی ایسے الفاظ اپنے منہ سے نہ نکالے۔ چنانچہ یہ لوگ جب قیامت کی ہولناکی کو دیکھیں گے تو اس وقت ان کا حال اس سے بالکل مختلف ہوگاجو آج کی دنیا میں ان کا نظر آرہا ہے۔
افترا (جھوٹ گھڑنا) یہ ہے کہ آدمی خود ایک بات کہے اور اس کو خدا کی طرف منسوب کردے۔ ہر قسم کی بدعات اور غلط تعبیرات اس میں داخل ہیں۔ اس افترا کی ایک صورت یہ ہے کہ انکار کرنے والے بڑے اپنے چھوٹوں سے یہ کہیں کہ تم ہمارے راستہ پر چلتے رہو، اگر خدا کے یہاں اس پر پوچھا گیا تو ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ خدا نے کسی کو اس قسم کا حق نہیں دیا ہے۔ اس ليے ایسی بات کہنا خداپر جھوٹ باندھنا ہے۔
آدمی بہت سی باتیں صرف کہنے کےلیے کہہ دیتاہے۔ اگروہ اس کے انجام کو دیکھ لے تو وہ کبھی ایسے الفاظ اپنے منہ سے نہ نکالے۔ چنانچہ یہ لوگ جب قیامت کی ہولناکی کو دیکھیں گے تو اس وقت ان کا حال اس سے بالکل مختلف ہوگاجو آج کی دنیا میں ان کا نظر آرہا ہے۔
حضرت نوح کی عمر ساڑھے نو سو سال تھی۔ نبوت سے پہلے بھی آپ ایک صالح انسان تھے اور شریعت آدم پر قائم تھے۔ نبوت ملنے کے بعد آپ باقاعدہ خدا کے داعی بن کر اپنی قوم کو ڈراتے رہے۔ مگر سیکڑوں سال کی محنت کے باوجود قوم نہ مانی۔ آخر کار چند اصلاح…
ایک مغالطہ
سلمان رشدی کے بارے میں قتل کی وکالت کرنے والے جو مضامین شائع ہوئے، ان میں عام طور پر یہ الفاظ تھے کہ رشدی نے دنیا کے ایک بلین مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ یہ الفاظ بلاشبہ خلاف واقعہ ہیں ۔ اور اس کا ثبو ت یہ ہے کہ اس سلسلے میں جتنے خطوط اور مضامین چھپے ہیں وہ 99فی صد سے زیادہ ہندوستانی اور پاکستانی مسلمانوں کے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ہندوستان اور پاکستان کے ’’اردو خواں ‘‘ مسلمان ہیں جنھوں نے اس معاملہ میں پُر شور حصہ لیا۔ حتیٰ کہ بیرونی ملکوں میں جو مظاہرے ہو ئے ہیں وہ بھی عملاً وہاں بسنے والے ہندوستانی اور پاکستانی مسلمانوں کی طرف سے تھے۔ ان ملکوں میں عرب ممالک یا دوسرے ملکوں کے جو مسلمان آباد ہیں انھوں نے اس میں عملاًاتنا کم حصہ لیا ہے کہ وہ تقریباً نہیں کے برابر ہے۔
مثال کے طور پر ٹائمس آف انڈیا(3اپریل1989) میں آخری صفحہ کے نیچے ایک خبر ہے جس کا عنوان یہ ہے کہ بر طانیہ میں شیطانی آیات کے خلاف شورش تیز تر
کتاب کا مضمون
سلمان رشدی کی کتاب کا نام (شیطانی آیات) ایک جھوٹی کہانی پر مبنی ہے۔ یہ جھوٹی کہانی5 نبوی میں اس وقت گھڑی گئی جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،پر سورہ النجم نازل ہوئی (تفصیل ملاحظہ ہو فرضی کہانی)۔ کہانی کی ابتدائی مصنفین عین اسی جرم کے مرتکب ہوئے تھے جس کا ارتکاب سلمان رشدی نے اپنی کتاب شیطانی آیات لکھ کر کیا ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے اصحاب نے ان کے اوپر وہ سزا نافذ نہیں کی جس کا اعلان آج ایران کے شیعہ عالم اور ہندوستان کے سنی عالم مبینہ طور پر کر رہے ہیں۔ اگر اس جرم کی سزا لازمی طور پر وہی ہے جس کی موجودہ علماء وکالت کر رہے ہیں تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب کرام کو مکہ میں اس کا نفاذ کرنا چاہیے تھا ۔ مگر ثابت شدہ طور پر آپ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ علماء کے اعلان کا ماخذ ان کی اپنی خواہشات ہیں ، نہ کہ قرآن اور سنت ۔
سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک توہین آمیز نام محاونڈ(Mahound)کا استعمال کیا ہے۔ یہ نام بلاشبہ اشتعال انگیز حد تک لغو ہے۔ انگریزی میں ہاونڈ کا لفظ کتے کے لیے استعمال ہوتا ہے، ’’مَ‘‘ انگریزی لفظ مائی(My)…
فتووں کی شریعت
پرنٹنگ پریس 1440 ءمیں ایجاد ہوا۔ ا س کا موجد جرمنی کا گوٹن برگ (Johannes Gutenberg) ہے۔ مسلم دنیا میں پرنٹنگ پریس زیادہ دیر میں عام ہوا۔ 1727ء میں ترکی میں ابراہیم متفرقہ نامی شخص نے پرنٹنگ پریس قائم کیا۔ پریس کا قیام کوئی معمولی واقعہ نہ تھا..... (مگراس وقت کے) بااقتدار علما نے اسے ’’بدعت‘‘ تصور کیا، شیخ الاسلام نے فتوی دیا کہ (اس پر) مذہبی کتابوں کا چھاپنا شرعاً ممنوع ہے۔ (اشخاص و افکار، ضیاء الحسن فاروقی، صفحہ 16-17،این سی پی یو ایل، نئی دہلی، 2011)۔
حرمت کے فتووں کا رواج اصحابِ رسول کے زمانے میں موجود نہ تھا۔ بعد کے زمانے میں جب امت میں زوال آیا تو علما تقلید کی روش پر قائم ہوچکے تھے۔ وہ ہر نئی چیز کو توحش کی نظر سے دیکھنے لگے۔ وہ ہر نئی چیز کو شریعت کے خلاف سمجھنے لگے۔ یہی وہ زمانہ…
…غلط الزام اسلام پر تھا جس کا آج تک کسی نے ایسی عمدگی سے جواب نہیں دیا تھا۔ بایں ہمہ انہوں نے مثل علمائے متقدمین با خدا کوئی ذاتی فائدہ ان کتابوں کی تصنیف سے نہیں اٹھانا چاہا بلکہ بالکلیہ مدرستہ العلوم کو دیدیا ‘‘۔ (حیات شبلی، صفحہ 233-34)
اس زمانہ میں مولانا شبلی کی کتابوں کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ تین تین ماہ میں ایک ایڈیشن ختم ہو جاتا تھا۔ مگر مولانا نے علی گڑھ کے زمانہ قیام میں اپنی تصنیفات سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا اور تمام کتابیں کالج کی نذر کر دیں (حیات شبلی، صفحہ158-59)
اس کے علاوہ بعض ریاستوں سے کالج کو امداد ملنے میں مولانا کی ذات معاون بنی۔
…کیا کہ اسلام ، سلاطین اسلام اور علوم اسلامیہ کی طرح طرح کی برائیاں لکھ کر پھیلا نا شروع کردیں۔ تاکہ مسلمانوں کی نئی نسل خود اپنی قوم سے نفرت کرنے لگے اور ان کے قومی غرور کو ایسا صدمہ پہنچے کہ ان کے دماغی قویٰ ہمیشہ کے لیے مضمحل ہو جائیں۔
علی گڑھ کی فضا میں مولانا شبلی کو وقت کے اس فتنہ کا احساس ہوا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مضامین اور کتابوں نیز گفتگوؤں اور تقریروں میں ایسی اعلیٰ علمی سطح پر اس کا ردّ پیش کیا کہ مستشرقین کا پھیلایا ہوا کنفیوزن دور ہوگیا۔ ان کا یہ جذبہ یہاں تک بڑھا کہ قدیم کتب اسلامیہ سے استفادہ کے لیے انہوں نے اسلامی ممالک کے سفر کیے تاکہ وہ کتا بیں جو ابھی تک چھپ نہیں سکی تھیں۔ ان کے قلمی نسخوں کو دیکھ کراپنی تصنیفات کے لیے مواد حاصل کریں ۔ حالانکہ یہ بھی زمانہ کی نیرنگی ہے کہ جن نادر کتابوں کی خاطر مولانا نے سفر کی محنت اٹھائی تھی وہ بعدکو انہیں کے زمانہ میں خودمخالفین کے ہاتھوں چھپ کرعام ہو گئیں ،اور اب ان کی پسندیدہ کتابوں میں سے شاید ہی کوئی کتاب ہو جو چھپ نہ چکی ہو۔
مولانا شبلی نے جو تحریری کام کیا ہے، اس کا مشترک خصوصی موضوع غالباً ان لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے— اسلامی تاریخ کی عظمت کو نمایاں کرنا۔ اسلامی مسائل کو علمی سطح پر مدلل کرنا، اسلام کی عظمت رفتہ کو یاد دلا کر مستقبل کا حوصلہ پیدا کرنا۔…
شکر میں جینا سیکھیے
کسی انسان کو شکر کا اعلیٰ درجہ کیسے حاصل ہوتا ہے۔مئی 2012 میں میں نے ترکی کا سفر کیا۔ وہاں مجھ کو جو پانی پینے کے لیے دیا گیا، وہ پانی اتنا زیادہ فریش (fresh) تھا، اور پینے میں اتنا زیادہ میرے اعلیٰ ذوق کےعین مطابق تھا ۔ میں نے پانی کا گلاس میز پر رکھ دیا، اور سوچنے لگا کہ خالق نے یہ کیسے جانا کہ میرے بندے کو ایسا پانی چاہیے، اور اس نے فرشتوں کو حکم دیا کہ میرے بندے کی عین طلب کے مطابق، اس کو پانی فراہم کریں۔
کوئی چیز پُرلذت اِسی لیے ہے کہ ہمارے اندر لذت کا احساس موجود ہے۔ اگر لذت کا احساس نہ ہو، تو کوئی بھی چیز لذت کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔سائنسی ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ انسان کی زبان میں تقریباً دس ہزار ذائقہ خانے (taste buds) ہیں۔ اس کا مطلب یہ…
معیار استدلال میں اس توسیع کے بعد دینی معتقدات پر استدلال اتنا ہی معقول(valid) بن گیا جتنا کہ سائنسی نظریات پر استدلال۔ جس استنباطی منطق سے سائنس کے جدید نظریات ثابت کیے جا رہے تھے عین اسی استنباطی منطق سے دینی عقیدہ بھی ثابت ہو رہا تھا۔
اس طرح چودہ سو سال پہلے قرآن کا یہ اعلان دوبارہ تاریخ میں قائم ہوگیا کہ انسانی افکار میں کوئی بھی تبدیلی اسلام کی حقانیت کو رد نہ کر سکے گی۔ آئندہ آنے والا کوئی بھی انقلاب صرف دین خدا وندی کی تصدیق کرے گا۔ وہ کسی بھی حال میں اس کی تردید کرنے پر قادر نہ ہوگا۔
3۔ تیسرا فکری انقلاب جس سے بعد کی تاریخ میں اسلام کا سابقہ پیش آیا وہ سیکولرزم ہے۔ یہ فکر یورپ کی نشأہ ثانیہ کے ساتھ شروع ہوا۔ یہ سیکولرزم ایک ایسی تحریک تھی جو بعد کو آنے والی دنیا کے بجائے موجودہ مادی دنیا کو ساری اہمیت دیتی تھی
…پهنچتاهے، جهاں ان كي راه ميں بحر كيسپين حائل هے۔ يهاں وه مڑ جاتي هيںوه بحر كيسپين كو كنارے چھوڑتے هوئے ايك طرف قراقرم كي جانب سے اور دوسري طرف كاكيشيا كي جانب سے پرواز كركے ايشيا ميں داخل هوتي هيں، اور اپنے مطلوبه مقامات پر اتر جاتي هيں۔
يه چڑياں ٹھيك يهي معامله بحرِ اسود كے ساتھ بھي كرتي هيں۔ چنانچه ان كا جھنڈ يهاں پهنچ كر دو ٹكڑے هوجاتا هے۔ ان كا ايك حصه بحر اسود كے مغربي ساحل سے اوردوسرا حصه مشرقي ساحل سے اپنا سفر جاري ركھتاهے۔ يهاں تك كه وه ايشيائي علاقے ميں داخل هوجاتا هے۔ايك ماهرِ طيور (Ornithologist)نے لكھا هے كه يه بخوبي طورپر الگ الگ راستے غالباً چڑيوں نے اس ليے اختيار كيے هيں كه وه سمندر كے اوپر لمبي پرواز سے بچ سكيں
These well-separated routes are probably a result of the stork’s aversion to long flights over water (Encylopedia Britannica ‘‘migration’’ 12/180)
ویٹیکن ماڈل
ایک حدیث رسول کے مطابق، اللہ رب العالمین اہل اسلام کے لیےدوسری قوموں کے ذریعہ تائید (support) فراہم کرےگا(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔اس حدیث رسول کا ایک پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالی دوسری قوموں یا سیکولر لوگوں کے ذریعے ایسے ماڈل (model) سیٹ کرےگا، جو اہل اسلام کے لیے اپنے دینی مشن میں رہنما بن سکے ۔ غور کیا جائے تو تاریخ میں بار بار ایسے واقعات پیش آئے ہیں ۔ انھیں میں سے ایک واقعہ وہ ہے جس کو ویٹیکن ماڈل کہا جاسکتا ہے۔
قدیم یورپ میں مسیحی پوپ کو پورے یورپ کے لیے بے تاج بادشاہ (uncrowned king) کا درجہ حاصل تھا۔ سترھویں صدی میں حالات بدلے، اور دھیرے دھیرے پوپ نے اپنا اقتدار کھودیا۔اب پوپ کے لیے دو آپشن (option)کے درمیان انتخاب کا معاملہ تھا۔ یا تو پولٹکل…
عصر حاضر میں اجتہاد
اب ہم ماضی سے گزر کر عصر حاضر میں آتے ہیں جو اپنی واضح صورت میں اٹھارویں صدی عیسوی میں شروع ہوا۔ یہ نیا زمانہ اپنی غیر معمولی تبدیلیوں کی بنا پر مزید اضافہ کے ساتھ اجتہاد کا طالب تھا۔ چنانچہ علما نے بار بار اجتہاد کیا۔ اگرچہ دور حاضر میں علما کا اجتہاد اتنا موثر نہ ہو سکا جتنا کہ وہ دور حاضر سے پہلے تقریباً ہزار سال تک مفید اور موثر ثابت ہوا تھا۔ اس نئے دور کا اجتہاد کبھی تو اجتہادی خطا ثابت ہوا۔ اور کبھی ایسا ہوا کہ وہ اختلاف و نزاع کا شکار ہو گیا۔ اور عملاً امت کے اندر قبول عام حاصل نہ کر سکا۔ اس سلسلہ میں ہم یہاں چند مثالیں نقل کریں گے۔
اٹھارویں صدی کے آخر تک یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ مسلمان ساری دنیا میں مغربی قوموں کے مقابلہ میں مغلوب ہو چکے ہیں۔ 1770ء میں جنگِ چشمی (Battle of Cesme) میں عثمانی ترکوں کے طاقت ور بحری بیڑے کی تباہی اور پھر1799ء میں سلطان ٹیپو کی شہادت نے…
اورنگ زیب عالم گیر
میرا خیال ہے کہ یہ روایت سب سے پہلے قابل لحاظ درجہ میں اورنگ زیب عالم گیر(1618-1707) کے زمانہ میں ٹوٹی۔ اورنگ زیب اگرچہ شاہی خاندان میں پیدا ہوا۔ مگر وہ پورے معنوں میں ایک عالم تھا۔ اس کا باپ شاہ جہاں اس کے بجائے داراشکوہ کو اپنا ولی عہد بنانا چاہتا تھا۔ اس طرح حالات اورنگ زیب کو اس طرف لے جا رہے تھے کہ وہ بادشاہ کا کردار ادا کرنے کے بجائے ایک عالم کا کردار ادا کرے۔ مگر وہ اس پر راضی نہ ہوا۔ اس نے 1658ء میں اپنے باپ شاہ جہاں کو تخت سے معزول کرکے آگرہ کے قلعہ میں قید کر دیا۔ اور اپنے بھائی دارا شکوہ کو 1659ء میں قتل کر دیا۔ اس کے بعد تقریباً نصف صدی تک وہ مغل سلطنت کا مالک بنا رہا۔
’’تاج‘‘ سے محرومی کے باوجود اورنگ زیب کو بہت سے اعلیٰ وسائل حاصل تھے۔ اگر وہ بادشاہکا رول ادا کرنے کے بجائے عالم کا رول ادا کرنے پر راضی ہو جاتا تو وہ اتنا بڑا کام کر سکتا تھا کہ آئندہ کئی صدیوں تک آنے والے علما کے لیے وہ مشعل راہ کا کام…
…تھا کہ وہ مختلف زبانوں میں بات کرسکتے ـتھے۔ مزید یہ کہ جب وہ بات کرتے تو ان کی بات میںمعلومات کا انبار ہوتا تھا۔ اِس بنا پر لوگ ان کو بہت زیادہ قابل سمجھنے لگے۔ مگر یہ غیر معمولی قابلیت کی بات نہ تھی بلکہ یہ غیر معمولی حافظے کی بات تھی۔
میرا تجربہ ہے کہ جن لوگوں کے اندر غیر معمولی حافظے کی صلاحیت ہوتی ہے، وہ تجزیہ (analysis) کی صلاحیت سے خالی ہوتے ہیں۔ ان کے پاس معلومات ہوتی ہے مگر وہ معلومات کا تجزیہ کرکے اس سے کوئی بامعنی نتیجہ نہیں نکال پاتے۔ان کی گفتگو میںمعلومات کا سیلاب ہوتا ہے۔ اِس کو دیکھ کر لوگ غلطی فہمی میں پڑ جاتے ہیں اور ان کو قابل سمجھ لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی حیثیت کمپیوٹر جیسی ہوتی ہے۔ کمپیوٹر کے پاس بے شمار معلومات ہوتی ہیں مگر کمپیوٹر ایک قابل انسان کا بدل نہیں ہوتا۔
اس مجلّے میں ایک جگہ سید جمال افغانی کی تعریف کرتے ہوئے اقبال کے یہ الفاظ چھپے ہیں ’’ان کی بے چین روح ایک اسلامی ملک سے دوسرے اسلامی ملک کا سفر کرتی رہی، اور اس نے ایران، مصر اور تُرکی کے ممتاز ترین افراد کو ومتاثر کیا ‘‘۔ (صفحہ ۶)
…کو مشتعل کررکھا ہے۔ یہی اشتعال مذکورہ قسم کے واقعات کی شکل میں ظاہر ہوتاہے۔ علماء کی دوسری غلطی یہ ہے کہ وہ اِس قسم کے مسلمانوں کو کھلے طورپر کنڈم نہیں کرتے، وہ ان کا ہاتھ نہیں پکڑتے۔ یہی وہ علماء ہیںجن کو حدیث میں علمائِ سوء کہا گیا ہے۔
انٹرویور کا ایک سوال یہ تھا کہ انڈیا میں فرقہ وارانہ ذہنیت کی موجودگی میں ڈائلاگ کس طرح ممکن ہے۔ اِس کے جواب میں بتایاگیا کہ اختلافات فطری ہیں۔ اصل مسئلہ اختلاف کا ہونا نہیںہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اختلاف کے بارے میں رواداری (tolerance) کا ذہن لوگوں کے اندر موجود نہیں۔میںنے کہا کہ یورپ میں بھی اس طرح کے اختلافات ہیں، لیکن وہاں اختلافات سنگین مسئلہ نہیں بنتے، کیوں کہ وہاں ڈائلاگ کلچر ہے، جب کہ انڈیا میں ڈبیٹ کلچر(debate culture) ہے۔ میں اور میرے ساتھی یہ کوشش کررہے ہیں کہ انڈیا میں بھی لوگوں کے درمیان ڈائلاگ کلچر آجائے۔
انٹرویو کے دوران ایک بات یہ کہی گئی کہ اصلاح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ مسلم کمیونٹی کے افراد خود اپنی کمیونٹی کی غلطیوں کے خلاف بولیں، اور ہندو کمیونٹی کے افراد ہندو کمیونٹی کے غلطی پر تنقید کریں۔ مسلمان اگر ہندو کمیونٹی کے خلاف بولیں یا…
…اِس ظاہرے کو منفی معنوں میں لیتے ہیں، لیکن اِس ظاہرے کا ایک عظیم مثبت پہلو ہے، اور وہ دعوت کا پہلو ہے۔ موجودہ زمانے میں گلوبلائزیشن کی وجہ سے ایساہوا ہے کہ مدعو خود داعی کے پاس پہنچ گیاہے۔ اِس لحاظ سے، گلوبلائزیشن بلاشبہہ ایک عظیم نعمت ہے۔
اپنے ایک ساتھی سے بات کرتے ہوئے میںنے کہا کہ زندگی کی کچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جن کو ساری عمر بھگتنا پڑتا ہے، کچھ ناخوش گوار چیزوں کو آخری حد تک برداشت کرنا ہوتا ہے۔ کیوں کہ قانونِ فطرت کے مطابق، اُن کاخاتمہ ممکن نہیںہوتا۔ مثلاً ترکی کی عثمانی خلافت 1929 ختم ہوئی تو اس کو برداشت ہی کرنا تھا، تقسیم کے بعد 1947میں پاکستان نے کشمیر کو کھودیا تو اس کو برداشت ہی کرنا تھا، 1948 میں فلسطین کی تقسیم ہوئی تو اس کو برداشت ہی کرنا تھا، 1992 میں بابری مسجد ڈھادی گئی تو اس کو برداشت ہی کرنا تھا، وغیرہ۔ مگر ہمارے رہنما اِن واقعات کو برداشت کے خانے میں نہ ڈال سکے۔ اِس کے نتیجہ میں مزید تباہی کے سوا اور کچھ نہیںملا۔
تقریباً تین گھنٹے کی پرواز کے بعد ہمارا جہاز دوحہ (قطر) کے ائر پورٹ پر اترا۔ مجھے چوں کہ وھیل چیئر استعمال کرکے باہر جانا تھا، اِس لیے مجھ سے کہاگیا کہ آپ سیٹ پر بیٹھے رہیں۔ اِس کے بعد ہوائی جہاز کا ایک مخصوص دروازہ کھولا گیا۔اس دروازے کے…
…دونوں، ایک ذہنی واہمہ (obsession) میں مبتلا ہیں اور وہ ہے، عظمتِ رفتہ کی واپسی۔ میں نے کہا کہ یہ ایک جاہلی مزاج ہے۔ وسیع تر پہلو سے دیکھا جائے تو انسان کا کیس جنتِ رفتہ کی واپسی کا کیس ہے، نہ کہ دنیوی معنوں میں عظمتِ رفتہ کی واپسی کا کیس۔
ایک عرب خاتون لیما نبیل نے اسپین کا سفر کیا۔ وہاں مسلم عہد کی قدیم عمارتوں میں اُن کو عرب کی عظمتِ رفتہ نظر آئی۔ اس کو دیکھ کر وہ روپڑیں۔ انھوں نے کہا إلی متی سیستمر ہٰذا اللیل العربی (عرب کی یہ تاریک رات آخر کب تک باقی رہے گی)۔
یہی موجودہ زمانے کے تمام مسلمانوں کا حال ہے۔ ہر ایک قدیم سیاسی عظمت کے تصور میں گم ہے۔ اسپین کی عرب سلطنت1492 میں ختم ہوئی، انڈیا کی مغل سلطنت 1857 میں ختم ہوئی، ترکی کی عثمانی خلافت 1929 میں ہوئی۔ یہ مسلم ایمپائر کے دور کی باتیں ہیں ۔…
انیسویں صدی کے آخر میں جب ہوائی پرواز کا زمانہ آیا تو کچھ لوگوں نے ارارات پہاڑ کے اوپر پرواز کرتے ہوئے گلیشیر کے اندر چھپی ہوئی ایک کشتی کے آثار دیکھے۔ لیکن بار بار کوشش کے باوجود اِس معاملے میں کچھ زیادہ معلومات حاصل نہ ہوسکیں۔
اکیسویں صدی میں جب گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں گلیشئر پگھلنے لگے تو ہوائی پرواز کے دوران معلوم ہوا کہ کوہِ ارارات پر ایک پوری کشتی موجود ہے۔ اِس کے بعد وہاں چین اور ترکی کے مسیحیوں کا ایک گروپ پہنچا۔ ان کے پاس جدید آلات تھے۔ چناں چہ انھوں نے کاربن ڈیٹنگ (carbon dating) کے ذریعے مذکورہ کشتی کی عمر معلوم کی۔ اب معلوم ہوا کہ یہ کشتی عین اُسی زمانے کی ہے، جب کہ یہاں طوفانِ نوح آیا۔ اِس دریافت کی رپورٹ میڈیا میں آچکی ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (28 اپریل2010 )میں اِس کی تفصیل حسب ذیل الفاظ میں شائع ہوئی ہے
HONG KONG: A group of Chinese and Turkish evangelical explorers said they believe they may have found Noah's Ark — four thousand metres up a mountain in Turkey. The team say they recovered wooden specimens from a structure on Mount Ararat…
…جواس سے کم ہے پھر وہ اللہ کا شکراداکرے، اللہ اس کو شاکر اورصابر لکھ دیتاہے ۔ اورجواپنے دنیا کے معاملہ میں اس کو دیکھے جواس سے بڑھ کرہے پھروہ اس پرافسوس کرے جو مادی برتری اللہ نے اس کے مقابل کو دی تواللہ اس کو ہرگز شاکرو صابرنہیں لکھے گا۔
شکر سب سے بڑی عبادت ہے ۔ کسی بندے سے جوچیز سب سے زیادہ مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ وہ اللہ کو ایک عظیم منعم کے طورپر دریافت کرے ۔ اللہ کی نعمتوں کے احساس سے اس کاسینہ بھراہواہو ۔ اس کی روح میں شکر کاابدی چشمہ جاری ہوجائے۔وہ اللہ کو ایک ایسی ہستی کے طورپرپائے جو اس پر بے پایاں نعمتوں کی بارش کررہاہے ۔ یہ شعور اتنا زیادہ قوی ہوکہ کسی بھی حال میں اس کاسینہ شکر خدا وندی کے احساس سے خالی نہ ہو۔
مگر یہ کوئی آسان بات نہیں ۔ اپنے آپ کوشکر کے جذبہ سے سرشار رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آدمی کاشعور اس معاملہ میں پوری طرح زندہ ہو ۔ وہ اس کامسلسل اہتمام کرے ۔ وہ کسی ایسے خیال کو اپنے دل میں جگہ نہ دے جواس کے جذبۂ شکر کومجروح کرنے…
5 جون 1983
علم حدیث میں ایک چیز وہ ہے جس کو" جرح و تعدیل" کہتے ہیں ، راوی کے اوصاف وخصائل کی تحقیق کے بعد اس کے ان عیوب کا اظہار کرنا جو اس کی روایت کے قبول کرنے میں خارج ہوں جرح کہلاتا ہے۔ اور راوی کے اخلاق و کردار کی تحقیق کے بعد یہ بتانا کہ راوی ثقہ ہے، تعدیل کہلاتا ہے۔
راویوں کی چھان بین کے اس کام میں سیکڑوں محدثین نے اپنی عمریں صرف کر دیں۔ وہ ایک ایک شہر گئے۔ راویوں سے ملے ۔ ان کے پڑوسیوں سے ملاقاتیں کیں۔ ان کے حلقہ تعارف سے رابطہ قائم کیا۔ جو روا ة اس زمانہ میں موجود نہ تھے ان کے دیکھنے والوں سے ان کے…
کسی شخص کا قول ہے کہ کامیابی کبھی آخری نہیں ہوتی اور ناکامی کبھی قطی نہیں ہوتی۔ یہ دراصل حوصلہ ہے جو اہمیت رکھتا ہے :
Success is never final and failure never fatal. It's courage that counts.
اس دنیا میں کامیابی پرمگن ہونا بھی اتنا ہی بے معنی ہے جتنا ناکامی پر بے حوصلہ ہونا کیونکہ یہاں کامیابی بھی وقتی ہے اور ناکامی بھی وقتی ۔ آدمی اپنی نادانی سے کامیابی کو ناکامی میں تبدیل کر سکتا ہے اور اسی طرح اپنی بے ہمتی سے ایک ناکامی کو…
…الشان فکری انقلاب لا چکا ہو ۔ اس کے لئے آدمی کو محسوسات سے اوپر اٹھنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے آدمی کو وہ انسان بنا پڑتا ہے جو نہ دکھائی دینے والی چیز کو دیکھے اور نہ سنائی دینے والی بات کو سنے ۔ جو ایک خدا کے سوا ہر دوسری چیز کی نفی کر چکا ہو ۔
عام لوگ اپنے آپ کو اس سطح تک اٹھا نہیں پاتے ، یہی وجہ ہے کہ وہ خدا کا ادراک کرنے والے بھی نہیں بنتے۔ وہ ایک ایسے انسان ہوتے ہیں جو صرف محسوسات کو جانتاہے۔ وہ نظر آنے والی ہستیوں کو دیکھ پاتا ہے ، نہ دکھائی دینے والی ہستی اسے نظر نہیں آتی ۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگ صرف بڑے انسانوں کو جانیں گے ، وہ بڑے خدا کو جاننے والے نہیں بن سکتے۔
28 جولائی 1984
…1935 میں میوزیم کے طور پر اس کے دروازے کھولے گئے ۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے بیان کے مطابق استانبول میں 25 قدیم گرجے ہیں جو مسجد میں تبدیل کر دئے گئے ہیں۔ ایا صوفیا کی عمارت چونکہ بہت بڑی اور تاریخی تھی ، اس لئے اس کی زیادہ شہرت ہوئی۔
اتا ترک نے اگرچہ ترکی میں اقتدار پانے کے بعد بے شمار حماقتیں کیں ۔ مگر ایا صوفیا کے بارہ میں اس کا حکم میرے نزدیک درست تھا۔ دوسروں کے عبادت خانہ کو مسجد میں تبدیل کرنا صرف اس وقت درست ہے جب کہ اس کو خرید لیا جائے یا ان سے اس کی اجازت لی جائے۔ اس کے بعد دوسری صورت یہ ہے کہ اس کی عمارت کو کسی پبلک مقصد کے لئے استعمال کیا جائے ، جیسا کہ اتا ترک نے کیا۔
23 نومبر 1984
پرانا مقولہ ہے کہ : خطائے بزرگاں گرفتن خطا است. اس کا مطلب عام طور پر یہ لیا جاتا ہے کہ بزرگ لوگ اگر غلطی کریں تو اس پر تنقید کرنا غلطی ہے۔ یعنی اگر بزرگ غلطی کریں تب بھی ان پرتنقید نہ کرو۔
اس مقولہ کا یہ مطلب صحیح نہیں۔ اس کا صحیح مطلب غالبا یہ ہے کہ بزرگ اگر کوئی غلطی کردے تو اس کی تقلید نہ کرو ۔ بزرگ کی غلطی بھی غلطی ہے۔ اس مقولہ کا ترجمہ غالبا یہ ہوگا کہ : بزرگوں کی غلطی کو لینا غلطی ہے۔
2 جون 1989
…ترکی میں برسراقتدار آنے کے بعد ترکی کومغربی تہذیب میں ڈھالنا شروع کیا۔ اس سلسلہ میں اس نے نہایت احمقانہ اقدامات کئے۔ مثلا 1942 میں مصطفی کمال پاشا نے ایک حکم جاری کیا جس کی رو سے ترک لڑکیوں کے لئے سر پر اوڑھنی رکھنا ممنوع قرار دیا گیا تھا۔
55 سال بعد 1980 میں ترکی کے اعلی تعلیمی بورڈ نے خاموشی کے ساتھ ایک نیا اعلان جاری کیا۔ اس کے مطابق ترک لڑکیوں کے لئے سر کھولنا لازم نہ رہا۔ اب لڑکیوں کو یہ اجازت دے دی گئی کہ وہ اپنے سرپر اوڑھنی رکھ سکتی ہیں ـــــــ جدید مسلم قیادت پہلے سو برس سے اسی قسم کے احمقانہ اقدامات میں مصروف ہے۔ کمال اتا ترک نے اس حماقت کو بھونڈے انداز سے کیا۔ اور دوسرے لوگ اس قسم کی حماقت کو زیادہ سلیقہ کے ساتھ کر رہے ہیں ۔
5 جون 1989
In the lectures
Lecture mentions are drawn from transcripts and open the video at that moment — topical links, not verified citations.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مراکش میں علوی سلطنت (Alwai (Filali) dynasty)
ترکی میں عثمانی سلطنت (Ottoman Empire)
اٹھارویں صدی کے آغاز سے ان حکومتوں پر زوال شروع ہوا۔ عین اسی وقت سے احیاء و تجدید کی تحریکیں بھی جگہ جگہ شروع ہوگئیں۔ اب ان تحریکوں پر تقریباً تین سو سال کی مدت گزر چکی ہے۔ مگر یہ تحریکیں نہ مذکورہ سلطنتوں کے زوال کو روک سکیں اور نہ…
دعوہ ایمپائر (Dawah Empire)
ترکی اپنی انفرادی خصوصیات کی بنا پر مسلم دنیا میں ایک مختلف ملک (country with a difference)کی حیثیت رکھتاہے۔ اس کا اظہار ہر دور میں اس کے امتیازی رول سے ہوتاہے۔
انیسویں صدی کے آخر تک ترکی پولیٹکل ایمپائر کارول ادا کرتا رہا۔ بیسویں صدی میں ترکی کے رہنماؤں نے کامیاب طور پر عالمی سطح پر ایک ایجوکیشن ایمپائر (Educational Empire) قائم کیا۔ اکیسویں صدی میں ترکی کے لیے مقدر ہے کہ وہ ایک عظیم تر رول…
…اور وہ بلا شبہہ قرآن ہے۔ استانبول کے میوزیم میں دورِ عثمانی کا قرآن گویا اِس بات کی یاددہانی ہے کہ قبل ازطباعت دور میں قرآن دعوت کا سب سے بڑا ذریعہ بنا تھا- اب بعد از طباعت دور میں قرآن مزید اضافے کے ساتھ، دعوت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے-
ترکی کی اسلامی تاریخ
اسلام سے پہلے ترکی کے باشندوں کی اکثریت مسیحی مذہب (Christianity) کو ماننے والی تھی۔ ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں یہاں اسلام داخل ہوا۔ اِس کے بعدیہاں مسلسل اسلام کا فروغ ہوتا رہا۔ اِس وقت ترکی کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 99 …
…وہاں دکھائی نہیں دیںگے ۔ لیکن ترکی میں جدید طرز کی بلڈنگوں کے ساتھ ترکی طرز کے مینار دونوں کے درمیان فرق کو نمایاں کررہے ہیں۔ استانبول کا شہر ایک پہاڑی علاقے میں واقع ہے، اِس لیے اس کے مختلف حصوں میں بہت زیادہ نشیب وفراز پایا جاتا ہے۔
ترکی، شرقِ اوسط کا ایک ملک ہے۔ وہ جزئی طورپر ایشیا میں واقع ہے اور جزئی طور پر یورپ میں۔ دو براعظم کے درمیان اُس کا واقع ہونا اس کی تاریخ بنانے میں ایک مرکزی عامل ہے، اس کے کلچر میں اور اس کی سیاست میں۔ عام طورپر یہ کہا جاتا ہے کہ ترکی، مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتاہے:
Turkey is a country of the Middle East lying partly in Asia and partly in Europe. Its location in two continents has been a central factor in its history, culture and politics. Turkey has often been called a bridge between East and West…
…میں دبے رہنے کے بعد کشتی نوح کا ظاہر ہونا صورِ اسرافیل سے پہلے کے دور کا سب سے بڑا واقعہ ہے- اِس کے بعد اگلا واقعہ صرف صورِ اسرافیل ہوگا جو گویا اِس بات کا آخری اعلان ہوگا کہ عمل کرنے کا وقت ختم ہوچکا اور عمل کا انجام پانے کا دور آگیا-
ترکی کا انتخاب
پہلی عالمی جنگ (1914-1918) دو گروپ کے درمیان ہوئی تھی— ایک کو اتحادی طاقت (Allied Powers) کہاجاتا تھا، اور دوسرے کو محوری طاقت (Axis Powers) کہاجاتا تھا- اُس وقت ترکی کے سامنے یہ سوال تھا کہ وہ دونوں گروپ میں سے کس گروپ کا ساتھ دے- اُس…
ترکی کا ر ول
ترکی، شرقِ اوسط کا ایک ملک ہے۔ وہ جزئی طورپر ایشیا میں واقع ہے اور جزئی طور پر یورپ میں۔ دو براعظم کے درمیان اُس کا واقع ہونا اس کی تاریخ بنانے میں ایک مرکزی عامل ہے، اس کے کلچر میں اور اس کی سیاست میں۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ترکی، مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتاہے:
Turkey is a country of the Middle East lying partly in Asia and partly in Europe. Its location in two continents has been a central factor in its history, culture and politics. Turkey has often been called a bridge between East and West.…
…أمرتُ بقریۃ تأکل القری، یقولون یثرب، وہی المدینۃ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1748)۔ اِس طرح ترکی کا عالمی دعوتی رول گہرے غور وفکر کے ذریعے دریافت کرنا ہوگا۔ جیساکہ عرض کیاگیا، قرائن (circumstances) واضح طورپر اس کا اشارہ کررہے ہیں۔
یہ قیاس ترکی کی چند متعین خصوصیات کی بنا پر قائم ہوتاہے۔ یہ خصوصیات بظاہرکسی دوسرے مسلم ملک میں موجود نہیں۔ اِن خصوصیات میں سے چند یہ ہیں:
1 - ترکی کا جغرافیہ ایک انوکھا جغرافیہ ہے۔ ترکی مسلم دنیا میں وہ واحد ملک ہے جس کو اپنے جائے وقوع کے اعتبار سے مشرق اور مغرب کے درمیان سنگم (junction) کی حیثیت حاصل ہے۔
…جمود ٹوٹ گیا اور لوگوں کے اندر کھلا پن (openness) آیا۔ اِس کے مختلف مظاہر میں سے ایک مظہر یہ تھا کہ لوگوں کے اندر مذہبی جمود کا مزاج ختم ہوگیا۔ وہ چیزوں کو اُس کی حقیقت کے اعتبار سے دیکھنے لگے، نہ کہ قدامت پسندی اور کٹر پن کے اعتبار سے۔
ترکی کا ر ول
ترکی، شرقِ اوسط کا ایک ملک ہے۔ وہ جزئی طورپر ایشیا میں واقع ہے اور جزئی طور پر یورپ میں۔ دو براعظم کے درمیان اُس کا واقع ہونا اس کی تاریخ بنانے میں ایک مرکزی عامل ہے، اس کے کلچر میں اور اس کی سیاست میں۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ترکی،…
…میں واقع ہے اور جزئی طور پر یورپ میں۔ دو براعظم کے درمیان اُس کا واقع ہونا اس کی تاریخ بنانے میں ایک مرکزی عامل ہے، اس کے کلچر میں اور اس کی سیاست میں۔ عام طورپر یہ کہا جاتا ہے کہ ترکی، مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتاہے:
Turkey is a country of the Middle East lying partly in Asia and partly in Europe. Its location in two continents has been a central factor in its history, culture and politics. Turkey has often been called a bridge between East and West (EB. 18/782)
ترکی کے ایشیائی حصے کو اناطولیہ (Anatolia)اور اس کے یورپی حصے کو تھریس (Thrace) کہاجاتاہے۔اِس طرح ترکی گویا مشرقی تہذیب اور مغربی تہذیب کے درمیان ایک سنگم (junction) کا کام کررہا ہے۔ترکی کا یہ مخصوص جغرافیہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ ترکی…
…میں واقع ہے اور جزئی طور پر یورپ میں۔ دو براعظم کے درمیان اُس کا واقع ہونا اس کی تاریخ بنانے میں ایک مرکزی عامل ہے، اس کے کلچر میں اور اس کی سیاست میں۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ترکی، مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتاہے:
Turkey is a country of the Middle East lying partly in Asia and partly in Europe. Its location in two continents has been a central factor in its history, culture and politics. Turkey has often been called a bridge between East and West. (EB. 18/782)
ترکی کے ایشیائی حصے کو اناطولیہ (Anatolia) اور اس کے یورپی حصے کو تھریس (Thrace) کہاجاتاہے۔ ترکی کا یہ مختلف جغرافیہ کیسے بنا۔ ارضیاتی سائنس کے ماہرین نے اِس معاملے کی تحقیق کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ 200 ملین سال پہلے زمین ایک سالم کرہ کی…