Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
سبب اپنے اندر p. 150
سترھویں صدی مسلمانوں کے عروج کی آخری صدی تھی۔ اس وقت مسلمانوں کی چار بڑی حکومتیں قائم تھیں جو دنیا بھر میں مسلم طاقت کا نشان بنی ہوئی تھیں۔ انہیں میں عثمانی خلافت بھی تھی جو بغداد سے الجزائر تک، اور پھر عدن سے ہنگری تک پھیلی ہوئی تھی p. 150
برصغیر ہند میں مغل سلطنت (Mughal dynasty) p. 150
ایران میں صفوی سلطنت (Safavid dynasty) p. 150
مراکش میں علوی سلطنت (Alwai (Filali) dynasty) p. 151
ترکی میں عثمانی سلطنت (Ottoman Empire) p. 151
اٹھارویں صدی کے آغاز سے ان حکومتوں پر زوال شروع ہوا۔ عین اسی وقت سے احیاء و تجدید کی تحریکیں بھی جگہ جگہ شروع ہوگئیں۔ اب ان تحریکوں پر تقریباً تین سو سال کی مدت گزر چکی ہے۔ مگر یہ تحریکیں نہ مذکورہ سلطنتوں کے زوال کو روک سکیں اور نہ مسلمانوں کو دوبارہ عروج کی طرف لے جانے میں کامیاب ہوئیں۔ تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاریوں نے بغداد کی عظیم مسلم سلطنت کو تباہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد سو سال کے اندر مسلمانوں نے دوبارہ عزت و سربلندی کے مقام کو پا لیا۔ مگر موجودہ زمانے میں بے شمار قائدوں اور بزرگوں کی تین سو سالہ جہدوجہد بھی ناکامی کی تاریخ کے سوا کسی اور چیز میں اضافہ نہ کر سکی۔ p. 151
اصل یہ ہے کہ زوال کے پچھلے تمام واقعات زیادہ تر جارحیت غیر کے واقعات تھے۔ اس لیے اغیار کے حملے کا مقابلہ کرکے ابتدائی صورت حال کو دوبارہ بحال کر لیا گیا۔ مگر موجودہ زمانے کا زوال خود مسلمانوں کے فکری اور ایمانی انحطاط کے نتیجے میں پیش آیا۔ اب ضرورت تھی کہ مسلمانوں کے اندر فکری انقلاب اور ایمانی حرارت پیدا کرنے سے اپنی کوشش کا آغاز کیا جائے۔ مگر مسلمانوں کے تمام رہنما بدستور اغیار کے حملوں کو سبب زوال قرار دے کر ان سے بے فائدہ لڑائی لڑتے رہے۔ جب بیج ہی نہ ڈالا گیا ہو تو درخت کہاں سے اُگے گا۔ چنانچہ بے شمار رقربانیوں کے باوجود احیاء ملّت کا خواب بھی پورا نہیں ہوا۔ p. 151
تقریباً300سال سے مسلمانوں کے اوپر دفاعی ذہن چھایا ہوا ہے۔ ان کے رہنماؤں کی بیشتر سرگرمیوں کا نشانہ کسی نہ کسی بیرونی خطرہ کا دفاع ہوتا ہے۔ اس مدت میں ہر رہنما کی سوچ، خارج رخی رہی ہے۔ اگر کسی نے داخلی انداز سے سوچا ہے تو وہ بھی اپنی عمر کے آخری حصہ میں، جب کہ وہ قبر کے کنارے پہنچ چکا تھا، اور اس کے لیے مزید کام کرنے کا موقع ختم ہو چکا تھا۔ p. 151
دفاعی کام، خواہ وہ کتنا ہی ضرری ہو، بہرحال وہ وقتی ہوتا ہے۔ دفاعی کام کسی بھی حال میں تعمیر کام کا بدل نہیں۔ اصل کام بہرحال وہ ہے جو مسلمانوں کے داخلی تعمیر کے محاذ پر مثبت انداز میں کیا جائے۔ مگر سیاسی زوال کے دور سے لے کر اب تک مسلمانوں میں کوئی بھی قابل ذکر گروہ نظر نہیں آتا جو حقیقی طور پر داخلی تعمیر کے میدان میں سرگرم ہوا ہو۔ p. 152
بیرونی خطرات اور مسائل کی موجودگی اس کوتاہی کے لیے کافی عذر نہیں۔ کیوں کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں خطرات اور مسائل ہمیشہ باقی رہتے ہیں اور وہ ہمیشہ باقی رہیں گے۔ موجودہ دنیا میں بیرونی مسائل کے باوجود داخلی تعمیر کا کام کرنا پڑتا ہے۔ منفی اسباب کے باوجود مثبت عمل کے راستہ پرسرگرم ہونا پڑتا ہے۔ یہاں کامیابی صرف اس کے لیے ہے جو خارجی حملوں کے باوجود اپنی ساری توجہ داخلی محاذ پر لگا دے۔ p. 152
اگر’’باوجود‘‘ کے اس اصول کا لحاظ نہ کیا جائے تو صدیاں گزر جائیں گی اور مثبت کام کبھی شروع نہ ہو سکے گا۔ اور مثبت تعمیری عمل کے بغیر ملت کا احیاء ممکن نہیں ۔ خارجی دفاع کی کوئی بھی مقدار داخلی تعمیر کا بدل نہیں بن سکتی۔ p. 152