Place
Jerusalem
City in Palestine, mentioned in context of Balfour Declaration
Mentioned in 136 book passages
and 24 lecture moments.
Cite / permalink: entity/place/jerusalem
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…but when a foolhardy man finds a ‘boulder’ blocking his path, he wants to smash it so that he can forge ahead, even if that results in his journey coming to an abrupt end once and for all. This is precisely what has happened in Kashmir.
I turned to my companions and said, ‘This is a message from Nature to you. This fact of Nature tells you that if in the journey of life you face a hurdle, you should not seek to hurl yourself against it to carry on ahead. Rather, what you must do is carefully avoid the hurdle and continue with your journey. This is the secret of success in life. This applies equally to communities and individuals.
The only way to progress is to avoid the hurdles and avail of the opportunities to build one’s life.
Unwise Method
A BASIC PRINCIPLE of success in life is that, in controversial matters, one should willingly accept whatever is available to one at the very outset. If we fail to do so in the initial stage in a bid to get more than what we are being offered, we only prolong the conflict. Then the conflict is bound to become more complicated. Consequently, we will lose even whatever was available to us in the first instance.
Let me cite an example to clarify this point. In 1917, the British drew up a plan, known as the Balfour Declaration, to partition Palestine. This division was clearly in favour of the Arabs. By the terms of this scheme, less than half of…
رسول اور اصحاب رسول
اس منصوبے کے تحت وہ انوکھی ٹیم تیار ہوئی، جو مطلوب انقلاب کے لیے پوری طرح اہل تھی۔ اس پراسس کی تکمیل پر 570 عیسوی میں خالق نے اس نسل میں پیغمبر محمد بن عبداللہ کو قدیم مکہ میں پیدا کیا۔ انھوں نے ایک اعلیٰ پلاننگ کے تحت اس علاقہ میں توحید کا مشن چلایا۔ اس مشن کے ذریعہ وہ خصوصی نسل پیدا ہوئی جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔ پھر اس نسل کے اندر ایک حکیمانہ عمل کے ذریعہ صحابہ کی جماعت پیدا ہوئی۔ آپ نے ایک منظم جدو جہد کے ذریعہ وہ مطلوب ٹیم تیار کی۔ اسی مطلوب ٹیم کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے (ابراہیم،14:37)۔ یہ مطلوب ٹیم بلاشبہ ایک تیار ٹیم تھی۔ اس کا مشن یہ تھا کہ قدیم زمانے سے جاری بادشاہت کے نظام کو توڑدے، اور اس طرح انسانی تاریخ میں تیسرے دور (third phase) کا دروازہ کھلے۔ اس جماعت کو ایک حکیمانہ منصوبہ کے ذریعہ مشن کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ انقلابی واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں دور شرک کا خاتمہ ہوا، اور تاریخ میں دورِ توحید کا آغاز ہوا۔
اس موقع پر اللہ ر ب العالمین نے مداخلت کی۔اس وقت وہ حالات پیدا ہوئے جب کہ اصحاب رسول کی ٹیم کو یہ موقع ملا کہ وہ اپنے وقت کےنظامِ بادشاہت کو توڑ کر نئے تاریخی دور کا آغاز کریں۔ اس واقعہ کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیاہے:الم ۔…
…ہوئی، وہاں سے وہ مزید آگے بڑھ کر اٹلی اور فرانس تک جا پہنچی۔ یہ تاریخی عمل جاری رہا۔ یہاں تک کہ وہ جدید سائنسی انقلاب تک پہنچ گیا۔ مغرب کا سائنسی انقلاب اس اعتبار سے اسلامی انقلاب کا نقطۂ انتہا ہے۔ وہ توحید کے انقلاب کا سیکولر نتیجہ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جو اسلام سائنس کا بانی تھا، اور جس کے ماننے والے اپنے ابتدائی دور میں ساری دنیا کے لیے سائنس کے معلم بنے، اسی اسلام کے ماننے والے موجودہ زمانہ میں سائنس کی تعلیم میں دوسروں سے پیچھے کیوں ہوگئے۔
اس کی سب سے بڑی وجہ سیاسی ہے۔ مسلمانوں نےابتداء ً جو سائنسی انقلاب برپا کیا تھا، وہ اسپین تک پہنچنے کے بعد مغربی قوموں کی طرف منتقل ہوگیا۔ اس کے بعد سائنس کی ترقیاں زیادہ تر اہلِ مغرب کے ہاتھوں ہوئیں۔ اس زمانہ میں بھی اگرچہ دنیا کا بڑا حصہ…
…نظر آئے تو صرف یہ حکم ہے کہ ان کو درد مندی اور خیر خواہی کے ساتھ سمجھاؤ۔ موجودہ زمانہ کی طرح ایجی ٹیشن چلانا، ان کے خلاف عوامی ہنگامے کرنا سراسر ناجائز فعل ہے۔ جو لوگ اسلام کے نام پر اس قسم کی سیاست چلا رہے ہیں، وہ بلا شبہ مجرم ہیں۔
صہیون (Zion) کا لفظ بائبل میں 152 بار آیا ہے۔ یہ قدیم یروشلم میں ایک پہاڑ کا نام تھا۔ یہودی تاریخ بتاتی ہے کہ دسویں صدی قبل مسیح میں حضرت داؤد نے اسی پہاڑ پر اپنا شاہی قلعہ بنایا تھا۔ اس کے بعد حضرت سلیمان نے اسی پہاڑ پر عبادت گاہ تعمیر کی۔ بعد کو صہیون کا لفظ عمومی طورپر پورے شہر یروشلم کے لیے استعمال ہونے لگا، جو کہ یہودیوں کے نزدیک ان کا مقدس وطن ہے۔ اس علاقہ کو آج کل اوفیل (Ophel) کہاجاتا ہے۔
اس طرح یہودی روایات کے مطابق ’’صہیون‘‘ سے مراد یہودیوں کا مذہبی اور سیاسی مرکز ہے، اور تحریکِ صہیونیت سے مراد داؤد اور سلیمان کے دور کو زندہ کرنا ہے، تا کہ یہودی عظمت دوبارہ مذہبی اور سیاسی اعتبار سے قائم ہوجائے۔یہ ایک مثال ہے کہ مذہبی…
نبوت محمدی کا ظہور
پیغمبرِ اسلام کا ظہور ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اول میں ہوا۔ خدا کے منصوبہ کے مطابق، یہ ایک فرد (خاتم النبیین) کے ظہور کا معاملہ نہ تھا۔ بلکہ ایک نئے تاریخی دور کو پیدا کرنے کا معاملہ تھا۔ یہ انقلابی دور مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے، بیسویں صدی عیسوی کے آخر میں مکمل ہوا۔ اس انقلاب کے پہلے مرحلے میں جو رول مطلوب تھا، وہ زیادہ تر اہل ایمان کے ذریعے وجود میں آیا۔ وہ رول یہ تھا کہ اسلام کو سماجی اور سیاسی اعتبار سے استحکام (stability)حاصل ہوجائے، قرآن محفوظ ہوجائے، امتِ مسلمہ کی تشکیل عمل میں آجائے، علوم ِاسلامی کی تدوین وقوع میں آجائے، دینِ توحید کا تسلسل اسی طرح قائم ہوجائے جس طرح اس سے پہلے دینِ شرک کا تسلسل تاریخ میں قائم ہوگیا تھا، وغیرہ۔
اس سلسلے میں دوسرا کام جو مطلوب تھا، وہ دینِ اسلام کی عالمی اشاعت تھی۔ دینِ اسلام کی اس عالمی اشاعت کے لیے ابتدائی زمانےمیں حالات مساعد نہ تھے۔ تہذیب ِجدید نے بالواسطہ طور پر اس کام کو انجام دیا۔ تہذیبِ جدید کے ذریعے دنیا میں ایک طرف…
…الْأَقْصَى الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا (17:1)۔ یعنی پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے، تاکہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔
اس سفر میں آپ کو جو نشانی (sign) دکھائی گئی وہ یروشلم کی کوئی چیز نہ تھی، بلکہ اس سے مراد وہی چیز تھی جس کو قرآن میں اسرا کہا گیا ہے۔ یعنی مکہ اور یروشلم کے درمیان تیز رفتار سفر۔ اس تیز رفتار سفر کا تجربہ اُس وقت آپ کو علامتی طور پر کرایا گیا ۔ اس کا مقصد پیشگی طور پر اُس واقعے کو بتانا تھا، جو آپ کے بعد تاریخ میں مواصلاتی دور (age of communication) کی صورت میں پیش آنے والا تھا۔ یہ مواصلاتی دور جو جدید تہذیب کے ذریعے دنیا میں آیا،وہ اسلام کے دعوتی مشن کے لیے ایک بہت بڑا موافق پہلو تھا۔ اس انقلاب نے عملی طور پر اس بات کو ممکن بنادیا کہ اسلام کا پیغام تیز رفتار ذرائع سے ساری دنیا میں پہنچایا جاسکے۔
اسلام کا مطلوب
منسوخ، موقوف
دین کے احکام ممکن طور پر دو قسم کے ہوسکتے ہیں۔ ایک وہ جو قابل تنسیخ ہوں، اور دوسرا وہ جن کو منسوخ تو نہ کیا جاسکتا ہو، لیکن ان کو وقتی طور پر موقوف کرنا درست ہو۔ کسی شرعی حکم کو منسوخ (abrogate) کرنا ایک ا صولی معاملہ ہے۔ اور اصولی معاملہ میں تغیر کا حق صرف شارع کو ہے، اور جہاں تک موقوف (suspend) کرنے کا معاملہ ہے، وہ ایک اجتہادی معاملہ ہے، اور امت کے علماء دلائل شرعیہ کے ذریعہ بطور اجتہاد ایسا کرسکتے ہیں۔مثلاً رسول اللہ کے مدنی دور میں وقتی طور پر قبلۂ یہود کو قبلہ مسلمین قرار دے دیا گیا، لیکن بعد کو یہ حکم متروک ہوگیا (البقرۃ: 143-144)۔ یعنی کعبہ ابدی طور پر اہل اسلام کا قبلہ قرار پایا۔ اب کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اس حکم میں تغیر کرے۔
کسی حکم کو موقوف قرار دینے کا معاملہ ایک اجتہادی معاملہ ہے۔ مثلاً اعداد قوت کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ اس سے مراد تیر اندازی ہے۔پیغمبر اسلام نے قرآن (8:60)کی آیت پڑھی:وأعدوا لہم ما استطعتم من قوة ، اور کہا:ألا إن القوة الرمی، ألا…
…وہاں دوسرے قبائل کے ساتھ یہود کے قبائل بھی آباد تھے۔ اس وقت مدینہ کی آبادی میں یہود تقریباً نصف حصہ تھے۔ وہ مدینہ کی معاشیات میں غالب حیثیت رکھتے تھے۔ ایسی حالت میں یہود سے ٹکراؤ کا طریقہ آپ کے مشن کی راہ میں مستقل مسئلہ بن سکتا تھا۔
اس معاملے کے حل کے لیے آپ نے وہ اصول اختیار کیا جس کو قرآن میں تالیف قلب (التوبہ60:) کہا گیا ہے۔ یعنی یہود کے ساتھ فرینڈلی بیہیویر(friendly behaviour) کا طریقہ۔ اس مقصد کے لیے آپ آخری حد تک گئے۔ جیسا کہ معلوم ہے یہود کے لیے عباد ت کا ایک قبلہ تھا، اور وہ قبلہ بیت المقدس تھا۔ پیغمبر اسلام جب مکہ میں تھے تو آپ کا قبلہ کعبہ تھا، مگر مدینہ پہنچے تو آپ نے بیت المقدس کو اپنے اور اپنے اصحاب کی عبادت کا قبلہ بنا لیا۔ ایسا آپ نے یہود کی تالیف قلب کے لیے کیا۔ جیسا کہ قرآن کی سورہ البقرۃ کی آیت 143 کے تحت مختلف مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ یہود کی تالیف قلب کے لیے تھا، مثلا تفسیر الرازی (4/89)، و تفسیر النسفی(1/138)، وغیرہ۔ تالیف قلب کا مطلب ہے دل کو نرم کرنا ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مدینہ کے یہود سےقریبی تعلق جوڑتے ہوئے اپنا کام کرنا۔
یہ صرف یہود کا معاملہ نہیں۔ آپ نے اپنے مشن میں کبھی ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ آپ نے ہمیشہ یہ کیا کہ اپنےپڑوسی سے معتدل تعلقات رکھتے ہوئے اپنے مشن کا کام کرنا۔ آپ کا یہ طریقہ صرف عرب کے مشرکین کے ساتھ نہیں تھا، بلکہ عرب کی سرحد سے…
…وہاں دوسرے قبائل کے ساتھ یہود کے قبائل بھی آباد تھے۔ اس وقت مدینہ کی آبادی میں یہود تقریباً نصف حصہ تھے۔ وہ مدینہ کی معاشیات میں غالب حیثیت رکھتے تھے۔ ایسی حالت میں یہود سے ٹکراؤ کا طریقہ آپ کے مشن کی راہ میں مستقل مسئلہ بن سکتا تھا۔
اس معاملے کے حل کے لیے آپ نے وہ اصول اختیار کیا جس کو قرآن میں تالیف قلب (التوبہ60:) کہا گیا ہے۔ یعنی یہود کے ساتھ فرینڈلی بیہیویر(friendly behaviour) کا طریقہ۔ اس مقصد کے لیے آپ آخری حد تک گئے۔ جیسا کہ معلوم ہے یہود کے لیے عباد ت کا ایک قبلہ تھا، اور وہ قبلہ بیت المقدس تھا۔ پیغمبر اسلام جب مکہ میں تھے تو آپ کا قبلہ کعبہ تھا، مگر مدینہ پہنچے تو آپ نے بیت المقدس کو اپنے اور اپنے اصحاب کی عبادت کا قبلہ بنا لیا۔ ایسا آپ نے یہود کی تالیف قلب کے لیے کیا۔ جیسا کہ قرآن کی سورہ البقرۃ کی آیت 143 کے تحت مختلف مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ یہود کی تالیف قلب کے لیے تھا، مثلا تفسیر الرازی (4/89)، و تفسیر النسفی(1/138)، وغیرہ۔ تالیف قلب کا مطلب ہے دل کو نرم کرنا ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مدینہ کے یہود سےقریبی تعلق جوڑتے ہوئے اپنا کام کرنا۔
یہ صرف یہود کا معاملہ نہیں۔ آپ نے اپنے مشن میں کبھی ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ آپ نے ہمیشہ یہ کیا کہ اپنےپڑوسی سے معتدل تعلقات رکھتے ہوئے اپنے مشن کا کام کرنا۔ آپ کا یہ طریقہ صرف عرب کے مشرکین کے ساتھ نہیں تھا، بلکہ عرب کی سرحد سے…
منسوخ، موقوف
دین کے احکام ممکن طور پر دو قسم کے ہوسکتے ہیں۔ ایک وہ جو قابل تنسیخ ہوں، اور دوسرا وہ جن کو منسوخ تو نہ کیا جاسکتا ہو، لیکن ان کو وقتی طور پر موقوف کرنا درست ہو۔ کسی شرعی حکم کو منسوخ (abrogate) کرنا ایک ا صولی معاملہ ہے۔ اور اصولی معاملہ میں تغیر کا حق صرف شارع کو ہے۔ اور جہاں تک موقوف (suspend) کرنے کا معاملہ ہے، وہ ایک اجتہادی معاملہ ہے، اور امت کے علماء دلائل شرعیہ کے ذریعہ بطور اجتہاد ایسا کرسکتے ہیں۔
ہجرت کے بعد وقتی طور پر قبلۂ یہود کو قبلۂ مسلمین قرار دے دیا گیا، لیکن بعد کو یہ حکم متروک ہوگیا (البقرۃ: 143-144)، اور کعبہ ابدی طور پر اہل اسلام کا قبلہ قرار پایا۔ اب کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اس حکم میں تغیر کرے۔کسی حکم کو موقوف قرار…
صلیبی جنگیں
صلیبی جنگیں (Crusades)تاریخ کا ایک طویل جنگی سلسلہ تھا ، جو 1095 ءمیں شروع ہوا، اوروقفہ وقفہ سے 1291 ءتک جاری رہا۔اس زمانے میں بیت المقدس کا علاقہ مسلم حکومت کے ماتحت تھا۔ اس علاقے کو مسیحی لوگ مقدس علاقہ (holy land) کہتے ہیں۔ یہ علاقہ پہلےرومی سلطنت میں تھا، اس کے بعد عمر بن خطاب کے زمانے میں وہ مسلم سلطنت میں شامل ہوا۔
صلیبی جنگوں کے موقع پر تقریبا ًپورے مسیحی یورپ نے مل کر حملہ کیا، تاکہ وہ اس مقدس علاقے کو دوبارہ اپنے قبضے میں لے سکیں۔ مگر متحدہ کوشش کے باوجود اس محاذ پر ان کو کامل شکست ہوئی۔ اس واقعے کو مورخ گبن نے ذلت آمیز شکست (humiliating defeat)…
دعوہ بیداری:
یروشلم میں بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں۔ ان کی زیارت کا ایک مقام مسجد
اقصی بھی ہے۔ یہاں کچھ فلسطینی نوجوان پر امن انداز میں سیاحوں کے درمیان قرآن تقسیم
کرتے ہیں۔ ان کے لیے ایک خوش آئند بات یہ ہوئی ہے کہ مسجد اقصى کی انتظامیہ نے دعوتی
کام کی افادیت کو محسوس کیا، اور مسجد اقصی کےبیسمنٹ میں ایک بڑی جگہ ترجمہ قرآن کے
لیے مختص کردی ہے، تا کہ قرآن کے اسٹاک میں آسانی ہو،اور دعوتی کام کرنے والےوہاں
آنے والے سیاحوں کے درمیان ان کو آسانی سے تقسیم کرسکیں۔ یہاں صدر اسلامی مرکز کا
ترجمہ قرآن اور دیگر دعوہ لٹریچر تقسیم کیا جاتا ہے۔ صدر اسلامی مرکز کی مشہور دعوتی
کتاب واٹ از اسلام (انگریزی) بھی ہبرو زبان میں چھپ چکی ہے۔ اس کو ایک یہودی اسکالر
نے ترجمہ کیا اور چھپوایاہے۔
سیاسی ایمپائر سے غیر سیاسی ایمپائر تک
کمیونی کیشن کے اعتبار سے تاریخ کے دو دور ہیں۔ ایک ہے اتصال قریب کا دور، اور دوسرا ہے الاتصال عن بُعد (telecommunication) کا دور۔ جدید کمیونی کیشن (modern communication )سے پہلے جسمانی ذریعے سے اتصال ہوا کرتا تھا۔ جدید کمیونی کیشن کے دور میں یہ ممکن ہوگیا ہے کہ جسمانی دوری کے باوجودبذریعہ آلات اتصالِ بعیدکیا جاسکے۔ اتصالِ بعید کا یہ طریقہ اسلام جیسے دعوتی مشن کے لیے بے حد اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اس دریافت کے بعد یہ ممکن ہوگیا کہ محلی دعوت کو عالمی دعوت کی صورت دی جاسکے۔ یہ تاریخی واقعہ اسلامی مشن کے لیے بے حد اہم تھا۔ اس لیے اس کو پیشگی طور پر پیغمبر کو ایک وقتی معجزہ کی صورت میں دکھایا گیا۔ اس معجزاتی واقعہ کو قرآن کی سورہ نمبر17 میں اِسراء کہا گیاہے۔
اسراء کا لفظی مطلب ہے رات کو سفر کرنا (to travel by night) ۔ یہ لفظ عام طور پر تیز رفتار سفر کے لیے بولا جاتا ہے۔ بعد کے زمانے میں ایسی ٹکنالوجی دریافت ہونے والی تھی جس کے بعددور کا سفر یا دور کی پیغام رسانی عمومی طور پر ممکن ہوجائے۔ اور…
تالیفِ قلب
تالیف قلب کا مطلب ہے دل میں نرم گوشہ (soft corner)پیدا کرنا۔ ایسے لوگوں کے لیے قرآن میں مؤلفۃ القلوب (9:60) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تالیف قلب کا تعلق دعوتی اخلاقیات سے ہے۔ مدعو کے ساتھ اس نوعیت کا حسنِ سلوک (friendly behaviour) جس سے مدعو کے دل میں اسلام سے قربت پیدا ہو، وہ معتدل ذہن کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کرے، وہ کسی تعصب کے بغیر کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کو سمجھے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو تجارتی تعلقات کے دائرے میں کسٹمر فرینڈلی بیہیویر (customer-friendly behaviour) کہا جاتا ہے۔
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تالیف قلب کی ایک مثال وہ ہے جب کہ ہجرت کے بعد آپ نے اپنی نماز کے لیے کعبہ کے بجائے یہود کے قبلہ کو اپنا قبلہ بنالیا۔ مفسر النسفی نے اپنی تفسیر مدارک التنزیل و حقائق التاویل میں تالیف قلب کی…
مقامی دعوت سے عالمی دعوت تک
پچھلے زمانوں میں جن داعیوں نے دعوت الی اللہ کا کام کیا، ان کا کام مقامی دائرے تک محدود رہا- دعوت کا کام ہمیشہ وسائل کی مدد سے ہوتا ہے اور پچھلے زمانے میں عالمی وسائل نہ ہونے کی بناپر زیادہ وسیع دائرہ میں کام نہیں کیا جاسکتا تھا-انسانی آبادی پورے کرہ ارض پر پھیلی ہوئی تھی، لیکن پچھلے زمانے کے داعیوں کا دعوتی کام وسائل کے فقدان کی وجہ سے عملاً مقامی دائرے تک محدود رہا-
تائید کا انتظام
…بار بار ایسے حالات پیدا کرتا ہے جب کہ ایک قوم دوسری قوم کو مقامِ اقتدار سے ہٹائے- اگر ایک قوم مسلسل طور پر مقامِ اقتدار پر قابض رہے تو اُس کے اندر جمود (stagnation) پیدا ہوجائے گا- یہ جمود مختلف صورتوں میں فساد (corruption) کا سبب بنے گا-
دفع کے اِس قانون کا تعلق سیکولر قوموں سے بھی ہے اور مذہبی قوموں سے بھی- اِس معاملے کی ایک مثال ہندستان ہے- ہندستان میں پہلے راجاؤں کی حکومت تھی- راجاؤں کے بعد یہاں مغل دور آیا، پھر مغل دور ختم ہوا اور برٹش دور آیا- اس کے بعد 1947 میں برٹش دور کا خاتمہ ہوا اور قومی حکومت (national government)کا دور آیا- یہ تمام تبدیلیاں دفع کے قانون کے تحت ہوئیں- ہر بار جب ایک گروہ کے اندر ’’فساد‘‘ آگیا تو اس کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسری قوم لائی گئی- گویا پرانے خون (old blood) کی جگہ نئے خون (new blood) کو کام کرنے کا موقع دیاگیا- اِس عمل کو ریڈیکل آپریشن (radical operation) کہاجاسکتا ہے-
اوپر کی آیت میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَلٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ-آیت کے اِس ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ کے جس ’فضل‘ کا ذکر ہے، اُس سے مراد یہی قانونِ دفع ہے جو مسلسل طورپر سیاسی اقتدار کی تنظیم کررہا ہے- یہ تنظیم انسان کی…
…کیا کہ انھوںنے ایک نیا دور پیدا کردیا۔ اُن سے پہلے توحید کا عقیدہ صرف ایک نظریے کی حیثیت رکھتا تھا۔ اصحاب رسول کی غیر معمولی کوششوں سے وہ انقلاب کے مرحلے میں داخل ہو گیا۔ شرک کا دور ختم ہوگیا اور توحید کا دور پوری طاقت کے ساتھ شروع ہوگیا۔
اِسی انقلاب کا نتیجہ تھا کہ تاریخ میں ایک نیا پراسس (process) شروع ہوگیا۔ اِس پراسس کا آغاز ساتویں صدی کے نصف اول میں عرب سے ہوا، اس کا اختتام (culmination) ایک ہزار سال کے بعد یورپ میں ہوا۔اس انقلاب کے بہت سے پہلو تھے۔ مثلاً اِس انقلاب نے اسلام کے عقیدے کو سائنسی حقیقت (scientific reality) کے درجے تک پہنچا دیا۔ اس نے مذہبی آزادی کا دروازہ کھولا۔ اس کے بعد دعوت وتبلیغ کے راستے کی تمام رکاوٹیں ختم ہوگئیں۔ اس کے نتیجے میں جدید کمیونکیشن وجود میں آیا، جس کے بعد یہ ممکن ہوگیا کہ اسلام کے پیغام کو عالمی سطح پر پہنچایا جاسکے۔ آفاق وانفس میں سائنس کی دریافتوں سے یہ ممکن ہوگیاکہ اعلیٰ ترین علمی معیار پر حق کی تبیین کی جاسکے (4: 53)۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور، یعنی ہجرت (622 ء) سے ایک سال پہلے ایک واقعہ پیش آیا، جس کو قرآن میں اسراکہاگیا ہے۔ اِس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں:سبحان الذی أسریٰ بعبدہ لیلاًً من المسجد الحرام إلی المسجد الأقصی الذی…
بابری مسجد کا مسئلہ
اجودھیا کی بابری مسجد کو مغل دور کے گورنر میر باقی نے 1528 میں بنوایا تھا۔اس معاملے میں مسلمانوں کو پہلا شاک (shock) اُس وقت لگا جب کہ 23 دسمبر1949 کی رات کو کچھ ہندوؤں نے مسجد کے اندر تین مورتیاں رکھ دیں۔ اس کے بعد دوسرا بڑا شاک اُس وقت لگا، جب کہ 6دسمبر 1992 کو بابری مسجد ڈھادی گئی اور اُس کی جگہ ایک عارضی مندر (make-shift temple) بنا دیاگیا۔ اِس کے بعد اِس معاملے میں تیسرا شاک مسلمانوں کو 30ستمبر 2010 کو لگا۔ یہ وہ تاریخ ہے جب کہ تقریباً 60 سالہ عدالتی کارروائی کے بعد ہائی کورٹ نے بابری مسجد کے بارے میں اپنا فیصلہ دیا۔ یہ فیصلہ مسلمانوں کے نزدیک، ان کی امیدوں کے مطابق نہیں تھا، اِس لیے دوبارہ وہ ذہنی صدمہ کا شکار ہوگئے۔
اِس طرح کے بحران (crisis) کے معاملے میں اسلام کی رہنمائی کیا ہے۔ کیا اسلام میں صرف نماز، روزہ کے احکام ہیں یا اُس میں بابری مسجد جیسے حادثے کے بارے میں بھی واضح رہنمائی موجود ہے۔ میرے نزدیک، بلا شبہہ یہ رہنمائی اسلام میں موجود ہے۔ ذیل میں…
بابری مسجد کا مسئلہ
اجودھیا کی بابری مسجد کو مغل دور کے گورنر میر باقی نے 1528 میں بنوایا تھا۔اس معاملے میں مسلمانوں کو پہلا شاک (shock) اُس وقت لگا جب کہ 23 دسمبر1949 کی رات کو کچھ ہندوؤں نے مسجد کے اندر تین مورتیاں رکھ دیں۔ اس کے بعد دوسرا بڑا شاک اُس وقت لگا، جب کہ 6دسمبر 1992 کو بابری مسجد ڈھادی گئی اور اُس کی جگہ ایک عارضی مندر (make-shift temple) بنا دیاگیا۔ اِس کے بعد اِس معاملے میں تیسرا شاک مسلمانوں کو 30ستمبر 2010 کو لگا۔ یہ وہ تاریخ ہے جب کہ تقریباً 60 سالہ عدالتی کارروائی کے بعد ہائی کورٹ نے بابری مسجد کے بارے میں اپنا فیصلہ دیا۔ یہ فیصلہ مسلمانوں کے نزدیک، ان کی امیدوں کے مطابق نہیں تھا، اِس لیے دوبارہ وہ ذہنی صدمہ کا شکار ہوگئے۔
اِس طرح کے بحران (crisis) کے معاملے میں اسلام کی رہنمائی کیا ہے۔ کیا اسلام میں صرف نماز، روزہ کے احکام ہیں یا اُس میں بابری مسجد جیسے حادثے کے بارے میں بھی واضح رہنمائی موجود ہے۔ میرے نزدیک، بلا شبہہ یہ رہنمائی اسلام میں موجود ہے۔ ذیل میں…
رسول اور اصحاب رسول
اس منصوبے کے تحت وہ انوکھی ٹیم تیار ہوئی، جو مطلوب انقلاب کے لیے پوری طرح اہل تھی۔ اس پراسس کی تکمیل پر 570 عیسوی میں خالق نے اس نسل میں پیغمبر محمد بن عبداللہ کو قدیم مکہ میں پیدا کیا۔ انھوں نے ایک اعلیٰ پلاننگ کے تحت اس علاقہ میں توحید کا مشن چلایا۔ اس مشن کے ذریعہ وہ خصوصی نسل پیدا ہوئی جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔ پھر اس نسل کے اندر ایک حکیمانہ عمل کے ذریعہ صحابہ کی جماعت پیدا ہوئی۔ آپ نے ایک منظم جدو جہد کے ذریعہ وہ مطلوب ٹیم تیار کی۔ اسی مطلوب ٹیم کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے (ابراہیم،14:37)۔ یہ مطلوب ٹیم بلاشبہ ایک تیار ٹیم تھی۔ اس کا مشن یہ تھا کہ قدیم زمانے سے جاری بادشاہت کے نظام کو توڑدے، اور اس طرح انسانی تاریخ میں تیسرے دور (third phase) کا دروازہ کھلے۔ اس جماعت کو ایک حکیمانہ منصوبہ کے ذریعہ مشن کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ انقلابی واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں دور شرک کا خاتمہ ہوا، اور تاریخ میں دورِ توحید کا آغاز ہوا۔
اس موقع پر اللہ ر ب العالمین نے مداخلت کی۔اس وقت وہ حالات پیدا ہوئے جب کہ اصحاب رسول کی ٹیم کو یہ موقع ملا کہ وہ اپنے وقت کےنظامِ بادشاہت کو توڑ کر نئے تاریخی دور کا آغاز کریں۔ اس واقعہ کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیاہے:الم ۔…
سوال وجواب
ماہ اکتوبر(2009) کا شمارہ نظر نواز ہوا۔ویسے تو آپ کی ہر تحریر مبنی بر حقیقت اور گہرے درد میں ڈوبی ہوتی ہے، لیکن مذکورہ شمارہ میں جو کچھ آپ نے مسئلہ فلسطین پر سپرد قرطاس کیا ہے، میں اس سے کُلی طورپر اتفاق کرتا ہوں۔ یہ حقیقت دراصل بہت لوگوں کے گوشہائے قلب و دماغ میں ہے، مگر اندیشۂ مخالفت، خوفِ بدنامی، اتہام والزام کا ڈر اظہار سے مانع ہے۔ مجھے دل کی گہرائیوں سے سلام کرنے کو جی چاہتا ہے آپ کے عزیمت بھرے اور شجاعتِ اظہار سے پُر قلم کو۔ ہوسکتا ہے بہت سے تنگ دماغوں اور مزاج ِ شریعت سے ناآشنا لوگوں کے لئے یہ بات ناقابلِ قبول بلکہ ایمان و اسلام کے منافی ہو، لیکن حقیقت یہی ہے کہ جو بات آپ نے رقم فرمائی ہے، وہ نصوص ثابتہ اور تاریخ سے واضح طور پر سمجھ میں آرہی ہے۔ قُدس اور فلسطین کا مسئلہ جو ساری امتِ اسلامیہ کے لیے سوہانِ روح بن چکا ہے، اس کی افزائش میں انا کا بہت دخل ہے۔ حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے اگر سوچا جائے تو یہ بات صاف طورپر سمجھ میں آجاتی ہے۔ میری تو تمنا اور خواہش ہے کہ اس مسئلہ کو صرف الرسالہ تک ہی محدود نہ کردیا جائے بلکہ عالمی مسلم اور یہودی رہنماؤں کے سامنے اس بات کو پُرامن حل کے طورپر پیش کیا جائے۔ انٹرنیشنل لیول پر اس بات کو رکھا جائے، اور مسئلہ کے اس غیرمتشددانہ حل کو پیش کیا جائے تاکہ اہل عقل اس قندیل کی روشنی میں مستقبل کی راہوں کا تعین کرسکیں۔ امید کہ آپ اس بات کی طرف توجہ دیں گے۔ محترم، اس پورے مضمون میں ایک سوال میرے دل میں کھٹکتا رہاکہ آپ نے صفحہ نمبر 21 پر یہ بات رقم فرمائی ہے کہ — نزولِ قرآن کے وقت یہاں کوئی عمارت نہیں تھی، بلکہ صرف ہیکل کی خالی جگہ (site) تھی۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں 638 ء میں مسلمان یروشلم میں داخل ہوئے۔ حضرت عمر نے ہیکل کی جگہ پر کوئی عمارت تعمیر نہیں کی۔ بعد کو اموی دور میں خلیفہ عبد الملک بن مروان وفات 706 ء نے ہیکل کی جگہ 688ء میں موجودہ مسجد اقصیٰ تعمیر کی۔ مگر قرآن میں جہاں واقعہ اسراء کا تذکرہ ہے— من المسجد الحرام إلی المسجد الاقصیٰ (بنی إسرائیل:1) ۔ وہاں مسجد اقصی کا صاف طورپر نام لیا گیا ہے۔ اورصحیح ترین روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ِ اقصیٰ میں تمام انبیاء کی امامت فرمائی ہے اور بعض تاریخی روایات سے یہ بات بالکل صاف طورپر سمجھ میں آتی ہے کہ نزول قرآن کے وقت وہاں مسجد اقصیٰ موجود تھی۔ حافظ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں فتح بیت المقدس کے تحت حضرت عمر کے بارے میں ذکر کیا ہے ’’ودخل المسجد من الباب الذی دخل منہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (البدایۃ والنہایۃ 8/55) حافظ ابن عساکر دمشقی نے اپنی مشہور کتاب المستقصیٰ فی فضائل المسجد الاقصیٰ میں عہدفاروقی میں فتح بیت المقدس اور تعمیر وتوسیع مسجد اقصیٰ کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ نیز ابن کثیر نے المسجد الاقصیٰ کے تحت حضرت عمر کے بارے میں ذکر کیا ہے: ثم نقل التراب عن الصخرۃ فی طرف ردائہ(البدایۃ والنہایۃ 8/58 )۔ حافظ ضیاء الدین مقدسی نے امام احمد کے واسطہ سے ایک لمبی تاریخی روایت ذکرکی ہے جس میں نزول قرآن کے وقت مسجد اقصیٰ کے وجود اور عہدفاروقی میں اس کی تعمیر وتوسیع صاف طورپر معلوم ہوتی ہے۔ براہِ کرم، اس شبہہ کا ازالہ اور اس کنفیوژن کو دور فرمائیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔ (محمد ثناء اللہ قاسمی، محبوب نگر،آندھرا پردیش)
1 - مسجد اقصیٰ کے بارے میں مسلم تاریخوں میں جو بات کہی گئی ہے، وہ میرے علم میں ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی لکھی ہوئی تاریخی کتابوں کے علاوہ، جو دیگر تاریخی ریکارڈ ہے، وہ اِس سے مختلف ہے۔ ایسی حالت میں ہمارے لیے ایک ہی راستہ ہے، وہ…
…ہے جس میں نزول قرآن کے وقت مسجد اقصیٰ کے وجود اور عہدفاروقی میں اس کی تعمیر وتوسیع صاف طورپر معلوم ہوتی ہے۔ براہِ کرم، اس شبہہ کا ازالہ اور اس کنفیوژن کو دور فرمائیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔ (محمد ثناء اللہ قاسمی، محبوب نگر،آندھرا پردیش)
1 - مسجد اقصیٰ کے بارے میں مسلم تاریخوں میں جو بات کہی گئی ہے، وہ میرے علم میں ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی لکھی ہوئی تاریخی کتابوں کے علاوہ، جو دیگر تاریخی ریکارڈ ہے، وہ اِس سے مختلف ہے۔ ایسی حالت میں ہمارے لیے ایک ہی راستہ ہے، وہ یہ کہ دونوں میں سے ایک کے بیان کو اصل مانیں اور دوسرے بیان کی تاویل کریں۔ میںنے اِس معاملے میں، مسلم مورخین کے بیان کو تاویل کے خانے میں ڈالا ہے اور دوسرے تاریخی ریکارڈ کو اصل قرار دیا ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ ابن خلدون (وفات:1406 ء) سے پہلے، مسلم تاریخ نگاروں کے یہاں عام طورپر علمی ذوق کا رواج نہ تھا۔ وہ خالص تاریخی واقعات کے ساتھ مروّجہ قصہ کہانیوں کو بھی اس میں شامل کردیتے تھے۔ اِس لیے اُس زمانے میں لکھی ہوئی تاریخوں پر کلّی اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔
2 - مسجد اقصی کے بارے میں جو بات میں نے لکھی ہے، وہ بظاہر عمومی تصور کے خلاف ہے، لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ اِس رائے کی اصل دوسرے مسلم محققین کے یہاں بھی موجود ہے۔ مثال کے طورپر عبد اللہ بن احمد النسفی (وفات: 1310 ء) نے اپنی تفسیر ’’مدارک…
…ہوئی، وہاں سے وہ مزید آگے بڑھ کر اٹلی اور فرانس تک جا پہنچی۔ یہ تاریخی عمل جاری رہا۔ یہاں تک کہ وہ جدید سائنسی انقلاب تک پہنچ گیا۔ مغرب کا سائنسی انقلاب اس اعتبار سے اسلامی انقلاب کا نقطۂ انتہا ہے۔ وہ توحید کے انقلاب کا سیکولر نتیجہ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جو اسلام سائنس کا بانی تھا، اور جس کے ماننے والے اپنے ابتدائی دور میں ساری دنیا کے لیے سائنس کے معلم بنے، اسی اسلام کے ماننے والے موجودہ زمانہ میں سائنس کی تعلیم میں دوسروں سے پیچھے کیوں ہوگئے۔
اس کی سب سے بڑی وجہ سیاسی ہے۔ مسلمانوں نےابتداء ً جو سائنسی انقلاب برپا کیا تھا، وہ اسپین تک پہنچنے کے بعد مغربی قوموں کی طرف منتقل ہوگیا۔ اس کے بعد سائنس کی ترقیاں زیادہ تر اہلِ مغرب کے ہاتھوں ہوئیں۔ اس زمانہ میں بھی اگرچہ دنیا کا بڑا حصہ…
…نظر آئے تو صرف یہ حکم ہے کہ ان کو درد مندی اور خیر خواہی کے ساتھ سمجھاؤ۔ موجودہ زمانہ کی طرح ایجی ٹیشن چلانا، ان کے خلاف عوامی ہنگامے کرنا سراسر ناجائز فعل ہے۔ جو لوگ اسلام کے نام پر اس قسم کی سیاست چلا رہے ہیں، وہ بلا شبہ مجرم ہیں۔
صہیون (Zion) کا لفظ بائبل میں 152 بار آیا ہے۔ یہ قدیم یروشلم میں ایک پہاڑ کا نام تھا۔ یہودی تاریخ بتاتی ہے کہ دسویں صدی قبل مسیح میں حضرت داؤد نے اسی پہاڑ پر اپنا شاہی قلعہ بنایا تھا۔ اس کے بعد حضرت سلیمان نے اسی پہاڑ پر عبادت گاہ تعمیر کی۔ بعد کو صہیون کا لفظ عمومی طورپر پورے شہر یروشلم کے لیے استعمال ہونے لگا، جو کہ یہودیوں کے نزدیک ان کا مقدس وطن ہے۔ اس علاقہ کو آج کل اوفیل (Ophel) کہاجاتا ہے۔
اس طرح یہودی روایات کے مطابق ’’صہیون‘‘ سے مراد یہودیوں کا مذہبی اور سیاسی مرکز ہے، اور تحریکِ صہیونیت سے مراد داؤد اور سلیمان کے دور کو زندہ کرنا ہے، تا کہ یہودی عظمت دوبارہ مذہبی اور سیاسی اعتبار سے قائم ہوجائے۔یہ ایک مثال ہے کہ مذہبی…
سوال وجواب
ماہ نامہ الرسالہ، اکتوبر 2009 میں ’’فلسطین کا مسئلہ‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے مضمون کو غور کے ساتھ پڑھا۔ اس میں فلسطین کی تاریخ کو بہت ہی اچھے اور معلوماتی انداز میں سلسلے وار بیان کیاگیا ہے جو قارئین کو قیمتی معلومات کے ساتھ ساتھ حقیقت سے آگاہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ اِس مضمون کو پڑھ کر بہت سی غلط فہمیاں دور ہوئیں۔یہاں حسب ذیل سوالوں کا جواب مطلوب ہے:
1 - مسجد اقصی کے کیمپس میں صخرہ ایک چوکو رچٹان ہے۔ اِسی چٹان کو یہودی اپنے لئے مقدس سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہی وہ صخرہ ہے جس پر حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے اسحاق کی قربانی پیش کی تھی۔ اسلامی تاریخ میںاس قربانی کا مقام منیٰ بتایا گیا ہے۔…
…جاکر مسجد حرام میں نماز ادا کرتا ہے تو اس کو اِس ابراہیمی تاریخ کی یاد آتی ہے۔ اِس بنا پر اس کی نماز میں غیر معمولی کیفیات پیدا ہوجاتی ہیں۔ اِنھیں بڑھی ہوئی کیفیات کی بنا پر مسجد حرام میں نماز کی اہمیت ہے، نہ کہ صرف درودیوار کے اعتبار سے۔
اِسی طرح مسجد نبوی سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ وابستہ ہے۔ وہاں جب آدمی نماز، پڑھتا ہے تو اس تاریخ کی یاد آدمی کے اندر غیر معمولی کیفیت پیدا کردیتی ہے۔ اِنھیں کیفیات کی بناپر مسجد نبوی کی نماز دوسری مساجد کی نماز سے بہت زیادہ مختلف ہوجاتی ہے۔
اِسی طرح مسجد اقصی سے اسرائیلی پیغمبروں کی تاریخ وابستہ ہے۔ جب کو ئی شخص مسجد اقصی میں نماز ادا کرتا ہے تو اِس تاریخ کی یاد اس کے اندر خصوصی کیفیات پیدا کردیتی ہے۔ اِس طرح یہاں ادا کی ہوئی نماز دوسری مسجدوں کی نماز سے مختلف ہوجاتی ہے۔
…اِنھیں میں حضرت یوسف پیدا ہوئے، جو حضرت یعقوب کے بیٹے تھے۔ حضرت یوسف کے ساتھ ایسے حالات پیش آئے کہ وہ مصر پہنچ گئے۔ اُس زمانے میں وہاں جس بادشاہ کی حکومت تھی، وہ حضرت یوسف پر مہربان ہوگیا اور اُن کو اپنی حکومت میں ایک بڑا عہدہ دے دیا۔
پھر حضرت یوسف کو جب مصر میں استحکام حاصل ہوا، تو انھوںنے اپنے اہل خاندان، بشمول اپنے والد حضرت یعقوب، سے کہا کہ آپ لوگ فلسطین چھوڑ کر مصر آجائیں۔ اِس طرح یہ لوگ مصر جاکر وہاں آباد ہوئے۔ وہاں ان کی نسل کافی بڑھی، یہاں تک کہ وہ مصر کی ایک با اثر قوم بن گئے۔
حضرت یوسف کے بعد مصر میں سیاسی انقلاب آیا، اور قدیم بادشاہ (Hyksos Kings) کے بجائے ایک نیا خاندان، مصر کا حکم راں بن گیا جس نے فرعون (Pharaoh) کو اپنے خاندانی لقب کے طورپر اختیار کیا۔ فرعون کی اِسی حکومت کے زمانے میں بنی اسرائیل پر…
…کے زمانے میں 638 عیسوی میں مسلمان یروشلم میں داخل ہوئے۔ حضرت عمر نے ہیکل کی جگہ (site)پر کوئی عمارت تعمیر نہیں کی۔ بعد کو اموی دور میں خلیفہ عبد الملک بن مروان (وفات: 705 ء) نے ہیکل کی جگہ 688 عیسوی میں موجودہ مسجد اقصیٰ کی تعمیر کی۔
مسجد اقصیٰ کیمپس میں ایک اور عمارت ہے، جس کو قُبّۃ الصَّخرۃ (Dome of Rock) کہاجاتا ہے۔ یہاں قدیم زمانے سے یہودیوں کا مقدس صخرہ (چٹان) واقع تھا۔ اِسی صخرہ کے اوپر خلیفہ عبد الملک بن مروان نے688 عیسوی میں موجودہ قبہ (گنبد) کی تعمیر کی۔ یہی مقدس چٹان، یا قبۃ الصخرہ، یہودیوں کا قبلہ تھا، اور یہی قبۃ الصخرہ، نہ کہ مسجد ِ اقصیٰ، ہجرت کے بعد عارضی طورپر پیغمبراسلام کا قبلہ بنا تھا۔ صخرہ سنگ خارا کی ایک چوکور چٹان ہے۔ اِس چٹان کو یہودی اپنے لیے مقدس سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک، یہی وہ صخرہ ہے جس پر حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی تھی۔اصلاً اِسی قبۃ الصخرہ کانام بیت المقدس ہے، اور توسیعی معنوں میں، قدیم یروشلم کے پورے علاقے کو بیت المقدس کہا جاتا ہے۔
مسجدِ اقصیٰ کو فلسطینی جدوجہد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان عام طورپر، مسجد اقصیٰ کو ’’قبلۂ اوّل‘‘ سمجھتے ہیں، حالاں کہ قبلۂ اوّل کاکوئی تعلق، مسجد اقصیٰ سے نہیں۔ قبلۂ اوّل اگر کوئی ہوسکتا ہے، تو وہ قبۃ الصخرہ (بیت…
…پر جو الزام دیتے ہیں، وہ خود اُس میں برابری کے درجے میں شریک ہیں۔ خالص اصول کی روشنی میں، دونوں میں سے کسی کا کیس بھی موجودہ حالت میں، حق پر مبنی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہاں اِس سلسلے میںمختصر طورپر چند متعلق پہلوؤں کاذکر کیا جاتا ہے۔
1 - انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں یہود کے درمیان ایک تحریک اٹھی جس کو صہیونی تحریک (Zionism) کہاجاتا ہے۔ صہیون (Zion) دراصل یروشلم میں واقع ایک پہاڑی کا نام ہے۔ اِس پہاڑی کو یہودی لوگ مقدس مانتے ہیں اور اس کو وہ یہودی قومیت کا مرکزی نشان سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر ہرزل (Theodor Herzl) کی قیادت میں 1890 میں صہیونی تحریک شروع ہوئی۔ اِس کا پہلا انٹرنیشنل اجلاس 1897 میں سوئزر لینڈ کے شہر باسل (Basel) میں ہوا۔ صہیونی تحریک کا مقصد یہ تھا کہ یہودی ڈائس پورا (Jews in diaspora) کو فلسطین واپس لانا، اور یہاں ان کی نیشنل اسٹیٹ قائم کرنا۔ اِس تحریک کے نتیجے میں بال فور کمیشن قائم ہوا، اور اس کی سفارش کے مطابق، 1948 میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔
عرب رہ نماؤں نے متفقہ طورپر یہودی ڈائس پورا کی فلسطین واپسی کی مخالفت کی۔ یہ مخالفت اِس حد تک پہنچی کہ انھوں نے اسرائیل کے خلاف متشددانہ جہاد شروع کردیا۔ یہ مخالفانہ تحریک بڑھتی رہی۔ ساری دنیا کا مسلم پریس، اور ساری دنیا کا مسلم مائنڈ…
…ہوئی، وہاں سے وہ مزید آگے بڑھ کر اٹلی اور فرانس تک جا پہنچی۔ یہ تاریخی عمل جاری رہا۔ یہاں تک کہ وہ جدید سائنسی انقلاب تک پہنچ گیا۔ مغرب کا سائنسی انقلاب اس اعتبار سے اسلامی انقلاب کا نقطۂ انتہا ہے۔ وہ توحید کے انقلاب کا سیکولر نتیجہ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جو اسلام سائنس کا بانی تھا، اور جس کے ماننے والے اپنے ابتدائی دور میں ساری دنیا کے لیے سائنس کے معلم بنے، اسی اسلام کے ماننے والے موجودہ زمانہ میں سائنس کی تعلیم میں دوسروں سے پیچھے کیوں ہوگئے۔
اس کی سب سے بڑی وجہ سیاسی ہے۔ مسلمانوں نےابتداء ً جو سائنسی انقلاب برپا کیا تھا، وہ اسپین تک پہنچنے کے بعد مغربی قوموں کی طرف منتقل ہوگیا۔ اس کے بعد سائنس کی ترقیاں زیادہ تر اہلِ مغرب کے ہاتھوں ہوئیں۔ اس زمانہ میں بھی اگرچہ دنیا کا بڑا حصہ…
…نظر آئے تو صرف یہ حکم ہے کہ ان کو درد مندی اور خیر خواہی کے ساتھ سمجھاؤ۔ موجودہ زمانہ کی طرح ایجی ٹیشن چلانا، ان کے خلاف عوامی ہنگامے کرنا سراسر ناجائز فعل ہے۔ جو لوگ اسلام کے نام پر اس قسم کی سیاست چلا رہے ہیں، وہ بلا شبہ مجرم ہیں۔
صہیون (Zion) کا لفظ بائبل میں 152 بار آیا ہے۔ یہ قدیم یروشلم میں ایک پہاڑ کا نام تھا۔ یہودی تاریخ بتاتی ہے کہ دسویں صدی قبل مسیح میں حضرت داؤد نے اسی پہاڑ پر اپنا شاہی قلعہ بنایا تھا۔ اس کے بعد حضرت سلیمان نے اسی پہاڑ پر عبادت گاہ تعمیر کی۔ بعد کو صہیون کا لفظ عمومی طورپر پورے شہر یروشلم کے لیے استعمال ہونے لگا، جو کہ یہودیوں کے نزدیک ان کا مقدس وطن ہے۔ اس علاقہ کو آج کل اوفیل (Ophel) کہاجاتا ہے۔
اس طرح یہودی روایات کے مطابق ’’صہیون‘‘ سے مراد یہودیوں کا مذہبی اور سیاسی مرکز ہے، اور تحریکِ صہیونیت سے مراد داؤد اور سلیمان کے دور کو زندہ کرنا ہے، تا کہ یہودی عظمت دوبارہ مذہبی اور سیاسی اعتبار سے قائم ہوجائے۔یہ ایک مثال ہے کہ مذہبی…
…نظر آئے تو صرف یہ حکم ہے کہ ان کو درد مندی اور خیر خواہی کے ساتھ سمجھاؤ۔ موجودہ زمانہ کی طرح ایجی ٹیشن چلانا، ان کے خلاف عوامی ہنگامے کرنا سراسر ناجائز فعل ہے۔ جو لوگ اسلام کے نام پر اس قسم کی سیاست چلا رہے ہیں، وہ بلا شبہ مجرم ہیں۔
صہیون (Zion) کا لفظ بائبل میں 152 بار آیا ہے۔ یہ قدیم یروشلم میں ایک پہاڑ کا نام تھا۔ یہودی تاریخ بتاتی ہے کہ دسویں صدی قبل مسیح میں حضرت داؤد نے اسی پہاڑ پر اپنا شاہی قلعہ بنایا تھا۔ اس کے بعد حضرت سلیمان نے اسی پہاڑ پر عبادت گاہ تعمیر کی۔ بعد کو صہیون کا لفظ عمومی طورپر پورے شہر یروشلم کے لیے استعمال ہونے لگا، جو کہ یہودیوں کے نزدیک ان کا مقدس وطن ہے۔ اس علاقہ کو آج کل اوفیل (Ophel) کہاجاتا ہے۔
اس طرح یہودی روایات کے مطابق ’’صہیون‘‘ سے مراد یہودیوں کا مذہبی اور سیاسی مرکز ہے، اور تحریکِ صہیونیت سے مراد داؤد اور سلیمان کے دور کو زندہ کرنا ہے، تا کہ یہودی عظمت دوبارہ مذہبی اور سیاسی اعتبار سے قائم ہوجائے۔یہ ایک مثال ہے کہ مذہبی…
عظیم ترین گواہی
حدیث کی مشہور کتاب صحیح مسلم میں ایک تفصیلی روایت آئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آخری زمانے میں امتِ محمدی کا ایک فرد اٹھے گا جو اُس زمانے کے فتنۂ کبریٰ کو ختم کرے گا۔ یہ خاتمہ حجت اور دلائل کے ذریعہ ہوگا۔ یہ واقعہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اتنا بڑا ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے بارے میں فرمایا: ہٰذا أعظم الناس شہادۃً عند ربّ العالمین (کتاب الفتن) یعنی یہ اللہ رب العالمین کے نزدیک، تاریخ کی سب سے بڑی گواہی ہوگی۔
حالات بتاتے ہیں کہ وہ وقت پوری طرح آچکا ہے، جب کہ کچھ لوگ اٹھیں اور اِس رول کو انجام دیں۔ اِس معاملے میں اب مزید تاخیر کا وقت باقی نہیں رہا۔ یہ حدیث اور اِس طرح کے دوسرے نصوص، دراصل ایک امکان کو بتارہے ہیں، نہ کہ کسی فرد یا افراد کے…
…فائدہ طورپر لڑائی جاری رکھی جائے، بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ حُسنِ تدبیر سے مسائل کو مواقع میں تبدیل کردیا جائے۔ پیغمبر اسلام کی پوری زندگی حُسن تدبیر کی مثال ہے۔ اِس معاملے کی تفصیل جاننے کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب—مطالعۂ سیرت:
The Prophet Muhammad: A Simple Guide to His Life
مواقع کو استعمال کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ اصول ایک گہری اسٹریٹجی پر قائم ہے۔جب بھی ایسا کیا جائے کہ امن کے دائرے میں رہتے ہوئے مواقع (opportunities) کو استعمال کیا جائے تو فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ پرابلم کا اِروژن (erosion) شروع…
…ہیں تو اس تقابل کے بعد مجھے یہ موقع ملا کہ میں اپنے عقیدہ کو زیادہ واضح طورپر ایک شعوری حقیقت کے طورپر دریافت کروں۔ انہوں نے میری بات غور سے سنی اور کہا کہ میں بھی آئندہ اسی طرز مطالعہ کو اختیار کروں گا۔ یہی مذہبی مطالعہ کا صحیح طریقہ ہے۔
اسپین کے سفر میں کئی ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جن کو مقامی مسلمان کہا جاسکتا ہے۔ ان میں سے ایک ابوبکر اشبیلی تھے۔ ان سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ اسپین میں تین قسم کے مسلمان پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو بزنس یا روزگار کے تحت یہاں کچھ مدت کے لیے آتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جن کو نو مسلم کہا جاسکتا ہے۔ اسپین میںکوئی قابل ذکر دعوتی کام تو غالباً نہیں ہے مگر مختلف اسباب سے کچھ اسپینی باشندے مسلمان ہوگئے ہیں اور ہوتے رہتے ہیں۔ تیسری قسم ان مسلمانوں کی ہے جو مسلم دور سے چلے آرہے ہیں۔ پچھلی صدیوں میں خوف کی بنا پر انہوں نے اپنے دین کو چھپا رکھا تھا مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ یہاں مذہبی آزادی آگئی ہے، اس لیے قدیم مسلمان بھی اب کھلے طورپر اپنی شناخت کو بتانے لگے ہیں۔ تاہم لباس اور ظاہری وضع کے اعتبار سے ان مسلمانوں اور عام اسپینیوں میں کوئی فرق دکھائی نہیں دے گا۔ موجودہ اسپین میں ایسے اسپینی اسکالر پیدا ہورہے ہیں جو اپنی تقریر و تحریر میں اسلام کا غیر متعصبانہ اعتراف کرتے ہیں۔
ایک میگزین دیکھا جس میں تحمل (patience) پر مختلف اقوال درج تھے۔ ان میں سے کچھ اقوال یہاں نقل کئے جاتے ہیں:
…ہر مسئلہ کا حل ہے۔ دوسرے یہ کہ مسلمان جب تعلیم میں آگے بڑھیںگے تو اس کے بعد فطری طورپر وہ دفتروں اور کمپنیوں اور تجارتی اداروں میںبڑی تعداد میں پہنچیں گے ۔ اس طرح وہ بُعداپنے آپ ختم ہوجائے گا جو زمانی تبدیلی کے نتیجہ میں پیدا ہوگیاہے۔
۴۔ پُر امن بقائے باہم کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ مسلمانوں پر یہ لازم کردیاگیا کہ وہ یک طرفہ قربانی کے ذریعہ پر امن بقائے باہم کا ماحول سماج میں قائم رکھیں۔اسی قربانی کا نام صبر ہے۔
صبر کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کی طرف سے اشتعال انگیزی ہو تب بھی مشتعل نہ ہونا۔ دوسرے اگر نادانی کریں تب بھی اس سے اعراض کرنا۔ دوسرے اگر ستائیں تب بھی اس کو برداشت کرلینا۔ دوسرے اگر نزاع کھڑی کریں تو پہلے ہی مرحلے میں صلح کرکے اس کا خاتمہ…
…اس میں پہلی بار گھسے تھے اورجس چیز پر اُن کا زور چلے اُس کو وہ برباد کردیں۔ بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہارے اوپر رحم کرے۔ اور اگر تم پھر وہی کروگے تو ہم بھی وہی کریں گے اور ہم نے جہنم کو منکرین کے لیے قید خانہ بنا دیا ہے (بنی اسرائیل ۱۔۸)
قرآن کے اس حصہ میں مکہ کی مسجد حرام سے یروشلم کی مسجد اقصیٰ تک پیغمبرانہ سفر کا ذکر ہے۔ یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال پہلے غالباً ۶۲۱ء میں پیش آیا۔ یہاں یہ سوال ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کو اس میں یروشلم کی جو نشانی دکھائی گئی وہ کون سی نشانی تھی۔ نشانی (آیت) کا لفظ قرآن میں تاریخی کھنڈروں کے لیے استعمال ہوا ہے (الحجر ۷۵)۔ اس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یروشلم کی نشانی سے مراد مسجدِ اقصیٰ تھی جو اس سفر کے وقت ایک کھنڈر کی حالت میں تھی۔ جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے ، مسجداقصیٰ کو دوسری بار ٹائٹس (Titus) رومی نے ۷۰ء میں مکمل طورپر ڈھا دیا ـتھا۔ پیغمبر اسلام کے سفر کے وقت مسجد اقصیٰ اسی کھنڈر کی حالت میں تھی۔ مسجد اقصیٰ کی موجودہ عمارت بعد کو بنو امیہ کی خلافت کے زمانہ میں بنائی گئی۔
یروشلم کی نشانی کو دکھانے کے اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد فوراً بنی اسرائیل کی تاریخ بتائی گئی جو مسجد اقصیٰ کے کھنڈر سے جڑی ہوئی تھی۔ وہ تاریخ یہ تھی کہ بنی اسرائیل کو خدا نے پیغمبروں کے ذریعہ اپنا ہدایت نامہ دیا تاکہ وہ اس پر عمل کریں اور…
…گا۔جب ایسا ہوتو امت مسلمہ کے لیے بھی ضروری ہوگا کہ اس کے اندر احتساب اور اصلاح کی تحریکیں اٹھیں۔ اسی احتساب اور اصلاح کے ذریعہ ممکن ہوگا کہ امت مسلمہ دوبارہ خدا کی رحمت کی مستحق بنے جس طرح قدیم اہل کتاب ایسے ہی عمل کے ذریعہ مستحق بنے تھے۔
قدیم اہل کتاب (یہود) پر دوبار جو تنبیہی عذاب آیا وہ اُن کے مرکزی مقام یروشلم میں آیا۔ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ امتِ مسلمہ کے ساتھ اسی طرح دوبار جو تنبیہی واقعہ پیش آنے والا ہے وہ بھی امت مسلمہ کے تاریخی مرکز بغداد میں پیش آئے گا۔ پہلی بار مرکزِ اقتدار کے طورپر، اور دوسری بار مرکزِدولت کے طور پر۔یہ تنبیہی واقعہ امت کے استیصال کے لیے نہیں ہوگابلکہ یہ دھماکہ خیز واقعہ امت کو جگانے کے لیے اور اس کو دوبارہ زندہ امت بنانے کے لیے ہوگا۔ واضح ہو کہ ایسا واقعہ حجاز کے علاقہ میں نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ حدیث کی صراحت کے مطابق، حجاز کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے محفوظ علاقہ قرار دے دیا ہے۔( مشکاۃ المصابیح ۱؍۴۰)
جیسا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ طولِ امد (الحدید ۱۶) سے لوگوں میں قساوت آتی ہے، یعنی قوم کی بعد کی نسلوں میں بگاڑ آجاتاہے۔ یہ بگاڑ بڑھتے بڑھتے جب اپنی آخری حد پر پہنچ جاتا ہے تو خدا کی طرف سے وہ واقعہ پیش آتا ہے جس کو قرآن میں…
…اطمینان نہیں ہوتا اور خیالات فاسدہ دل و دماغ میں آتے ہیں۔ اب آپ ہی بتائیے میںکیا کروں۔ کیا سروس ختم کردوں یا ان تمام حالات کو برداشت کروں۔میں معاشی اعتبار سے بہت ہی پریشان ہوں۔ برائے کرم اس کا کوئی حل بتائیں۔(محمد عتیق الرحمن ، ہنگولی)
معاشی مسئلہ ایک انفرادی مسئلہ ہے۔ اس کا حل ہر ایک کو اپنے حالات کے اعتبار سے ڈھونڈھنا پڑتا ہے۔ کسی کے لیے معاشی مسئلہ کا حل یہ ہوتا ہے کہ وہ کفایت اور سادگی کاطریقہ اختیار کرے۔ کسی کے لیے یہ ہوتا ہے کہ وہ کوئی ہنر سیکھے۔ کسی کے لیے یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف تنہا نہ کمائے بلکہ اپنے گھر والوں کو بھی اس کام میں لگائے۔ کسی کا کیس یہ ہوتاہے کہ وہ بہتر تعلیم حاصل نہ کرسکا۔ ایسے شخص کے لیے میرا مشورہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے لیے قناعت کا طریقہ اختیار کریں اور بچوں کو اچھی تعلیم دلائیں۔ تاکہ آپ کی اگلی نسل دوبارہ اس مسئلہ کا شکار نہ ہو۔
اس سلسلہ میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ مسائل ہر ایک کو پیش آتے ہیں، خواہ اُس کی آمدنی کم ہو یا زیادہ۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملہ میں صبر کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ گھر والوں کی طرف سے شکایات ہوں تو اُن کا جواب تحمل کے ساتھ دیا جائے۔ ردعمل…
…جان لیں گے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ میڈیا کی فراہم کردہ ایک فیصد خبروں پر انحصار نہ کیجئے بلکہ اُس کے ساتھ بقیہ ننانوے فیصد خبروں کو بھی شامل کرکے دیکھئے اور پھر آپ کبھی رائے قائم کرنے کی غلطی میں مبتلا نہیں ہوں گے۔
کوئی فرد یا گروہ تشدد کیوں کرتا ہے، اپنے کسی حق کے حصول کے لیے۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے یہ سوچ بالکل اُلٹی سوچ ہے۔ کیوں کہ تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ تشدد کے ذریعہ ہم کھوتے ہیں اور امن کے ذریعہ ہم حاصل کرتے ہیں:
Through violence we lose, through peace we gain.
…the initial stage in a bid to get more than what we are being offered, we only prolong the conflict. Then the conflict is bound to become more complicated. Consequently, we will lose even whatever was available to us in the first instance.
Let me cite an example to clarify this point. In 1917, the British drew up a plan, known as the Balfour Declaration, to partition Palestine. This division was clearly in favour of the Arabs. By the terms of this scheme, less than half of the land was to be given to the Jews and more than half to the Arabs, inclusive of the entire city of Jerusalem. However, the Muslim leaders of that time refused to accept this plan. If they had adopted a pragmatic and realistic approach and accepted whatever was being offered to them at the time, they could have then devoted all their energies and resources to constructive purposes. The condition of the Palestinians could, in consequence, have been much better than that of the Jews. However, owing to the unrealistic approach of the Muslim leaders, the Palestinians lost their all and had to face death and destruction.
Exactly the same has happened in the case of Jammu and Kashmir because of the utter ineptitude of the leaders of Kashmir and Pakistan.
…انسانی تاریخ میں تیسرے دور (third phase) کا دروازہ کھلے۔ اس جماعت کو ایک حکیمانہ منصوبہ کے ذریعہ مشن کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ انقلابی واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں دور شرک کا خاتمہ ہوا، اور تاریخ میں دورِ توحید کا آغاز ہوا۔
اس موقع پر اللہ ر ب العالمین نے مداخلت کی۔اس وقت وہ حالات پیدا ہوئے جب کہ اصحاب رسول کی ٹیم کو یہ موقع ملا کہ وہ اپنے وقت کےنظامِ بادشاہت کو توڑ کر نئے تاریخی دور کا آغاز کریں۔ اس واقعہ کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیاہے:الم ۔ غُلِبَتِ الرُّومُ ۔ فِی أَدْنَى الْأَرْضِ وَہُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُونَ ۔ فِی بِضْعِ سِنِینَ لِلَّہِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَیَوْمَئِذٍ یَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ ۔ بِنَصْرِ اللَّہِ یَنْصُرُ مَنْ یَشَاءُ وَہُوَ الْعَزِیزُ الرَّحِیمُ (30:1-5)۔ یعنی رومی پاس کے علاقہ میں مغلوب ہوگئے۔ اور وہ اپنی مغلوبیت کے بعد عنقریب غالب ہوں گے۔ چند برسوں میں۔ اللہ ہی کے ہاتھ میں سب کام ہے، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے، اللہ کی مدد سے۔ وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔ اور وہ زبردست ہے، رحمت والا ہے۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ ظہور اسلام کے وقت دنیا میں دو بہت بڑی سلطنتیں تھیں۔ ایک، مسیحی رومی سلطنت، اور دوسرا، مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کش مکش جاری رہتی تھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے بعد 603 ء کا…
…کی جنم بھومی فرض کررکھا تھا، اس لیے ناقابلِ فہم ہوگیا کہ جس زمین پر خدا پیدا ہوا ہو، وہ زمین نظامِ شمسی کا مرکز نہ ہو، بلکہ اس کی حیثیت محض ایک تابع کی قرار پائے۔ اپنے مشرکانہ عقیدہ کو بچانے کے لیے انھوں نے سائنسی حقیقت کا انکار کردیا۔
دوسری بات یہ کہ پچھلے تمام پیغمبروںکامشن صرف اعلان کی حد تک جاسکا، وہ عملی انقلاب تک نہیں پہنچا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھی انسانی تاریخ کے پہلے گروہ ہیں جنھوں نے توحید کو ایک زندہ عمل بنایا۔ انھوں نے اولاً عرب میں شرک (مظاہر فطرت کی پرستش) کا مکمل خاتمہ کیا، اور توحید کو عملی طورپر انسانی زندگی میں رائج کیا۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھے، اور قدیم زمانہ کی تقریباً تمام آباد دنیا میں شرک کو مغلوب کردیا۔ انھوں نے ایشیا اور افریقہ کے تمام بُت خانوں کو غیر آباد کر دیا، اور توحید کو ایک عالمی انقلاب کی حیثیت دے دی۔
اہلِ اسلام کے ذریعہ توحید کا جو عالمی انقلاب آیا، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ توہم پرستی کا دور ختم ہو۔ اب مظاہر فطرت کو پرستش کے مقام سے ہٹا دیاگیا۔ خدائے واحدانسان کا معبود قرار پایا۔ اس کے علاوہ جو تمام چیزیں ہیں، وہ سب صرف مخلوق بن…
…( 1265 - 1217 ) ، چنگیز خان کا پوتا تھا۔ ہلا کونے 1258ء میں بغداد کو تباہ کیا اور آخری عباسی خلیفہ مستعصم کوقتل کیا۔ اس نے اسلامی دنیا کو جتنا نقصان پہنچایا ، اتنا کسی اور شخص نے کبھی نہیں پہنچایا۔ اسی خونیں واقعہ پر شیخ سعدی نے کہا تھا:
آسمان راحق بود گرخوں ببارد بر زمین برزوال ملک مستعصم امیرالمومنین
اسی ہلاکو کا پر پوتا غازان خان تھا ۔ وہ نہ صرف ایک ظالم ترین انسان کی نسل سے تعلق رکھتا تھا بلکہ خود اس کی تربیت بدھسٹ کی حیثیت سے ہوئی تھی ۔ اپنی ابتدائی تعلیم وتربیت کے اعتبار ہے وہ بدھرم کا ایک فرد تھا۔ مگر یہ غازان خان 1295ء میں اس حال…
…دریافت کرکے ایک نئی تہذیب (civilization)کو وجود میں لانے کے لیے لمبی مدت درکار تھی۔ اس عمل پر تقریباً ہزار سال گزرگئے۔ یہ عمل مختلف مراحل کے ساتھ جاری رہا، یہاں تک کہ وہ چیز وجود میں آئی جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔
حضرت نوح نے قدیم زمانےمیں جب ایک بڑی کشتی بنائی تو اس کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں:فَأَوْحَیْنَا إِلَیْہِ أَنِ اصْنَعِ الْفُلْکَ بِأَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا (23:27) ۔ یعنی ہم نے اس کو وحی کی کہ تم کشتی تیار کرو ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً یہی معاملہ جدید تہذیب کی تشکیل کے ساتھ بھی پیش آیا۔ حضرت نوح نےملائکہ کی مدد سے کشتی بنائی تھی۔ اسی طرح دورِ جدید میں انسانوں نے اللہ کی خصوصی رہنمائی (divine inspiration) کے تحت تہذیب کی تشکیل کی۔ گویا اللہ نے انسان کو الہامی زبان میں دوبارہ یہ کہہ کر حکم دیا تھا:اصنع الحضارۃ باعیننا و وحینا۔ یعنی ہماری نگرانی میںاورہمارے انسپریشن (inspiration) کے تحت تہذیب کی تشکیل کرو۔اسی کو جدید اصطلاح میں سرنڈیپٹی (serendipity) کہا جاتا ہے۔
تہذیب کی تشکیل کا یہ کام ایک بے حد تخلیقی کام ہے۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ دوسری قوموں کو اس کی تعمیر و تشکیل میں شامل کیا جائے۔ اس واقعے کا ذکر پیشگی طور پر حدیث میں بیان کردیا گیا تھا۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے : اللہ تعالی اسلام کی تائید…
…حکم کو منسوخ (abrogate) کرنا ایک ا صولی معاملہ ہے۔ اور اصولی معاملہ میں تغیر کا حق صرف شارع کو ہے۔ اور جہاں تک موقوف (suspend) کرنے کا معاملہ ہے، وہ ایک اجتہادی معاملہ ہے، اور امت کے علماء دلائل شرعیہ کے ذریعہ بطور اجتہاد ایسا کرسکتے ہیں۔
ہجرت کے بعد وقتی طور پر قبلۂ یہود کو قبلۂ مسلمین قرار دے دیا گیا، لیکن بعد کو یہ حکم متروک ہوگیا (البقرۃ: 143-144)، اور کعبہ ابدی طور پر اہل اسلام کا قبلہ قرار پایا۔ اب کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اس حکم میں تغیر کرے۔کسی حکم کو موقوف قرار دینے کا معاملہ ایک اجتہادی معاملہ ہے۔ مثلاً اعداد قوت کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ اس سےمراد تیر اندازی ہے۔ رسول اللہ نے قرآن کی آیت پڑھی: وأعدوا لہم ما استطعتم من قوة[8:60] ، اورتین مرتبہ کہا:ألا إن القوة الرمی (صحیح مسلم، حدیث نمبر167) ۔موجودہ زمانے میں اس حکم کی حیثیت ایک موقوف حکم کی ہے، لیکن اگر کسی وقت حالات کا تقاضا ہو کہ رمی (تیراندازنی)کے طریقے کو دوبارہ اختیار کیا جائے، تو اس طریقے کو اختیارکیا جاسکتا ہے۔ گویا کہ کسی حکم کا موقوف ہونا،ہمیشہ مشروط معنی میں ہوتا ہے۔
کسی حکم کو منسوخ قرار دینے کا اختیار صرف شارع کو ہے، یعنی اللہ اور اللہ کے رسول کو ۔ اس کےبرعکس، جہاں تک موقوف قرار دینے کا معاملہ ہے، یہ ایک اجتہادی فعل ہے۔ امت کے علماء کو یہ حق ہے کہ وہ قانونِ ضرورت (law of necessity)کے تحت کسی حکم کو…
…ربانی انسان بنانا ہے ۔ یہی تمام انبیاء کا مشترک مشن تھا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ ایک مزید کام وہ تھا جس کو قرآن میں ختم فتنہ کہا گیا ہے ۔یعنی شرک کا تعلق اقتدار سے توڑ دیا تاکہ توحید کی راہ میں کوئی سیاسی رکاوٹ باقی نہ رہے۔
اس کے نتیجہ میں اسلام کی تاریخ وجود میں آئی اور مسلمانوں کی حکومت زمین کے بڑے رقبہ میں قائم ہوگئی ۔ اب حکومت کو چلانے کے لئے قانونی نظام کی ضرورت تھی ۔ اس ضرورت نے فقہائے اسلام کو پیدا کیا۔ انھوں نے حکومت کا نظام چلانے کے لئے احکام و قوانین کا ایک پورا ڈھانچہ مرتب کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں مغربی قوموں کا عروج ہوا اور مسلم حکومتیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر ٹوٹ گئیں ۔ مسلمانوں میں اس کا ردعمل ہوا ۔ اور دوبارہ حاکمانہ حیثیت حاصل کرنے کے لئے ساری دنیا میں اسلام کے نام پر سیاسی تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئیں ۔
ان اسباب کے نتیجہ میں تمام مسلمانوں کے ذہن پر سیاسی طرز فکر غالب آگیا ہے ۔ پوری مسلم قوم (Power conscious) ہوگئی۔ مسلمانوں کے اس سیاسی مزاج نے ان کو حقیقی اسلام سےدور کر دیا ہے۔ وہ اسلام کے نام پر غیر اسلام میں مبتلا ہیں۔
23 اگست 1990
سعودی عرب کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ (3 صفر1411ھ ، 23 اگست 1990) میں ایک عرب اہل قلم یوسف البدری کا مضمون چھپا ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے بتایا ہے کہ جس زمانہ ایران اور عراق کے درمیان جنگ جاری تھی ، اس زمانہ میں خمینی کے حامیوں کا کہنا تھا کہ قدس کاراستہ بغداد ہو کر جاتا ہے۔ (الطريق الى القدس يمر ببغداد ) دوسری طرف صدام کے حامی یہ نعرہ لگارہے تھے کہ قدس کا راستہ تہران ہوکر جاتا ہے ( الطريق الى القدس يمر بطهران)
ایران و عراق کی جنگ 8سال( ۱۹۸۸ - ۱۹۸۰) با ہمی کشت دخون کے بعد ختم ہوگئی ۔ قدس تک پہنچنے کا کارنامہ نہ امام خمینی انجام دے سکے نہ صدام حسین ۔ اب صدام نے دوبارہ اپنے پڑوس کے مسلم ملک کو یت پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا ہے۔ دوبارہ صدام اور…
…ہوگیا کہ محلی دعوت کو عالمی دعوت کی صورت دی جاسکے۔ یہ تاریخی واقعہ اسلامی مشن کے لیے بے حد اہم تھا۔ اس لیے اس کو پیشگی طور پر پیغمبر کو ایک وقتی معجزہ کی صورت میں دکھایا گیا۔ اس معجزاتی واقعہ کو قرآن کی سورہ نمبر17 میں اِسراء کہا گیاہے۔
اسراء کا لفظی مطلب ہے رات کو سفر کرنا (to travel by night) ۔ یہ لفظ عام طور پر تیز رفتار سفر کے لیے بولا جاتا ہے۔ بعد کے زمانے میں ایسی ٹکنالوجی دریافت ہونے والی تھی جس کے بعددور کا سفر یا دور کی پیغام رسانی عمومی طور پر ممکن ہوجائے۔ اور اس طرح ایک انقلابی واقعہ ظہور میں آئے۔ وہ یہ کہ دعوتِ نبوت جو قدیم تاریخ میں ایک محلی دعوت کی حیثیت رکھتی تھی، وہ جدید ٹکنالوجی کے ذریعےایک عالمی دعوت کی حیثیت اختیار کرلے۔ یہ واقعہ پیغمبرانہ مشن کی نسبت سے ایک انقلابی واقعہ تھا۔ یہ انقلابی واقعہ قدیم زمانے میں لوگوں کے لیےایک ناقابل تصور واقعہ ہوسکتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالی نے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک وقتی معجزہ کی صورت میںاس کا تجربہ کرایا جو بعد کے زمانے میں ایک عمومی واقعہ بننے والا تھا۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس واقعہ کا تجربہ اس طرح کرایا گیا کہ ہجرت سے ایک سال پہلے 622 عیسوی میں ایک رات کو مکہ سے یروشلم تک کے سفر کا وہ واقعہ پیش آیا جس کو قرآن میں اسراء کہا گیا ہے۔ واضح ہو کہ مکہ سے یروشلم تک کی دوری تقریبا دوہزار کلو میٹر ہے۔
اس سلسلے میں قرآن کی سورہ نمبر 17 میں یہ الفاظ آئے ہیں:سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَى بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا (الاسراء1:) ۔ اس آیت…
…کے دل میں اسلام سے قربت پیدا ہو، وہ معتدل ذہن کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کرے، وہ کسی تعصب کے بغیر کھلے ذہن کے ساتھ اسلام کو سمجھے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو تجارتی تعلقات کے دائرے میں کسٹمر فرینڈلی بیہیویر (customer-friendly behaviour) کہا جاتا ہے۔
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تالیف قلب کی ایک مثال وہ ہے جب کہ ہجرت کے بعد آپ نے اپنی نماز کے لیے کعبہ کے بجائے یہود کے قبلہ کو اپنا قبلہ بنالیا۔ مفسر النسفی نے اپنی تفسیر مدارک التنزیل و حقائق التاویل میں تالیف قلب کی پیغمبرانہ مثال دیتے ہوئے لکھا ہے: روى أن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کان یصلی بمکة إلى الکعبة ثم أمر بالصلاة إلى صخرة بیت المقدس بعد الہجرة تألیفاً للیہود ثم حول إلى الکعبة (تفسیر النسفی، بیروت، 1998، جلد 1، البقرۃ آیت143) ۔ یعنی روایت کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں کعبہ کا طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے، پھر ہجرت کے بعد آپ کو حکم ہوا کہ آپ اپنی نماز قبلہ ٔ یہود صخرۃ کی طرف رخ کرکے ادا کریں، ایسا یہود کی تالیف قلب کے لیے کیا گیا، پھر بعد کو آپ کا قبلہ کعبہ کی طرف کردیا گیا۔
تالیف قلب اسلام کی ایک جامع تعلیم ہے۔ اس کی ضرورت ہمیشہ باقی رہے گی۔ مومن کے لیے ہر انسان مدعو ہے۔ اس لیے مومن کو ہر انسان کے ساتھ تالیف قلب کے اصول پر معاملہ کرنا ہے۔ تالیف قلب کا اصول کو ئی وقتی یا محدود اصول نہیں ہے، وہ ہمیشہ کے لیے اہل…
…ہوگئے۔ اور وہ اپنی مغلوبیت کے بعد عنقریب غالب ہوں گے۔ چند برسوں میں۔ اللہ ہی کے ہاتھ میں سب کام ہے، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے، اللہ کی مدد سے۔ وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔ اور وہ زبردست ہے، رحمت والا ہے۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ ظہور اسلام کے وقت دنیا میں دو بہت بڑی سلطنتیں تھیں۔ ایک، مسیحی رومی سلطنت، اور دوسرا، مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کش مکش جاری رہتی تھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے بعد 603 ء کا واقعہ ہے۔ اس وقت ایسے اسباب پیش آئے کہ دونوں عظیم سلطنتوںمیں سخت ٹکراؤ ہوا، جس سےیہ دونوں سلطنتیں بے حد کمزور ہوگئیں۔ یعنی بعض کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کردیا۔ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ 616 ء تک یروشلم سمیت روم کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو 610 ء میںنبوت ملی ۔اس کے بعد آپ نے مکہ میں دعوت توحید کا کام شروع کیا۔ اس لحاظ سے یہ عین وہی زمانہ تھا جب کہ مکہ میں توحید اور شرک کی کش مکش جاری تھی۔ مکہ کے مشرکین نے سرحدی واقعہ سے نیک فال لیتے ہوئے…
اب سوال یہ ہے کہ جو اسلام سائنس کا بانی تھا، اور جس کے ماننے والے اپنے ابتدائی دور میں ساری دنیا کے لیے سائنس کے معلم بنے، اسی اسلام کے ماننے والے موجودہ زمانہ میں سائنس کی تعلیم میں دوسروں سے پیچھے کیوں ہوگئے۔
اس کی سب سے بڑی وجہ سیاسی ہے۔ مسلمانوں نےابتداء ً جو سائنسی انقلاب برپا کیا تھا، وہ اسپین تک پہنچنے کے بعد مغربی قوموں کی طرف منتقل ہوگیا۔ اس کے بعد سائنس کی ترقیاں زیادہ تر اہلِ مغرب کے ہاتھوں ہوئیں۔ اس زمانہ میں بھی اگرچہ دنیا کا بڑا حصہ سیاسی طور پر مسلمانوں کے قبضہ میں تھا، مگر سائنس کی ترقی کا کام صلیبی جنگوں کے بعد مغربی یورپ کے ذریعہ انجام پاتا رہا۔
مسلمانوں نے اپنے ابتدائی دور میں سائنس کے میدان میں جو ترقیاں کی تھیں، اس کا پہلا سب سے بڑا فائدہ ان کو دو سو سالہ صلیبی جنگوں (1095-1270) میں ہوا۔ اس جنگ میں تقریباً سارا یورپ متحدہ طاقت سےمسلم دنیا پر حملہ آور ہوا، تاکہ اپنے مقدس مقامات…
…کی۔ گویا اللہ نے انسان کو الہامی زبان میں دوبارہ یہ کہہ کر حکم دیا تھا:اصنع الحضارۃ باعیننا و وحینا۔ یعنی ہماری نگرانی میںاورہمارے انسپریشن (inspiration) کے تحت تہذیب کی تشکیل کرو۔اسی کو جدید اصطلاح میں سرنڈیپٹی (serendipity) کہا جاتا ہے۔
تہذیب کی تشکیل کا یہ کام ایک بے حد تخلیقی کام ہے۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ دوسری قوموں کو اس کی تعمیر و تشکیل میں شامل کیا جائے۔ اس واقعے کا ذکر پیشگی طور پر حدیث میں بیان کردیا گیا تھا۔ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے : اللہ تعالی اسلام کی تائید ایسے لوگوں کے ذریعے کرے گا جو اہلِ دین میں سے نہ ہوں گے(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔
نبوت محمدی کا ظہور
موجودہ مسلمانوں کی ناکامی
اسلام کے ظہور کے بعد اللہ تعالی نے مسلمانوں کو سیاسی اقتدار عطا کیا- یہ سیاسی اقتدار ساتویں صدی عیسوی سے لے کر اٹھارھویں صدی تک کسی نہ کسی طورپر جاری رہا- اِس اقتدار کا مقصد حکومت یا عیش وعشرت نہیں تھا- اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ مسلمان بے خوف ہو کر فطرت (nature) کی تحقیق کریں اور فطرت میں چھپے ہوئے امکانات کو دریافت کرکے وہ مواصلاتی وسائل تیار کریں جن کے ذریعے سے دعوت الی اللہ کے کام کو عالمی طورپر انجام دیا جاسکے-
اِس معاملے میں اللہ تعالی نے ایسے اشارے کردئے تھے جو مسلمانوں کے لیے اپنے رول کو سمجھنے کے لیے کافی ہوسکتے تھے، مگر مسلمان اشارے کی زبان کو سمجھ نہ سکے- مثلاً قرآن میں کثرت سے ایسی آیتیں ہیں جن میں یہ بتایا گیاہے کہ زمین اور آسمان کی…
…دی- اور داؤد نے جالوت کو قتل کردیا- اور اللہ نے داؤد کو ملک اور حکمت عطا کیا اور جن چیزوں کا چاہا، اس کا علم بخشا- اور اگر اللہ بعض کو بعض لوگوں سے دفع نہ کرتا رہے تو زمین فساد سے بھر جائے- مگر اللہ دنیا والوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے-
Had it not been for God’s repelling some people by means of others, the earth would have been filled with corruption. But God is bountiful to mankind.
قرآن کی اِن آیات میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ واقعہ قبل مسیح دور سے تعلق رکھتا ہے- فلسطین کے جنوبی حصہ (southern coastal area) میں ایک واقعہ ہوا- بارہویں صدی قبل مسیح میں یہاں ایک قوم آکر آباد ہوئی جس کو تاریخ میں، فِلسطی یا فلسطینی…
…سے پہلے موجودہ دنیا میں پیش آنا ہے۔ مقامِ محمود کے اِس دوسرے پہلو کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو استثنائی طورپر خود انسانی تاریخ کے مطابق، ایک مسلَّم نبوت (acknowledged prophethood) کا درجہ حاصل ہوجائے گا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو پیغمبر دنیا میں آئے، ہمارے عقیدے کے اعتبار سے، وہ بلاشبہہ خدا کے پیغمبر تھے۔ مگر قدیم زمانے میں موافق اسباب نہ ہونے کی وجہ سے پچھلے پیغمبر قدیم تاریخی ریکارڈ میں درج نہ ہوسکے۔ پیغمبر اسلام کے زمانے میں پہلی بار وہ اسباب پیدا ہوئے جب کہ آپ کو آزاد تاریخی ریکارڈ میں ایک معلوم اورمسلّم شخصیت کے اعتبار سے درج کیاگیا۔ اِس تاریخی حقیقت کو ایک مستشرق نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے — محمد تاریخ کی کامل روشنی میں پیدا ہوئے:
Muhammad was born within the full light of history.
…الدین صاحب پوری طرح مطمئن تھے۔ اِس تجربے کے بعد میں نے کہا کہ ہماری ٹیم کے دو ممبران کی مجھے از سرِ نو دریافت ہوئی ہے— خواجہ کلیم الدین صاحب بطور ماسٹر آف کرائسس (master of crisis)، اور استتھی ملہوترا بطور ماسٹر فائنڈر (master finder) ۔
اِس تجربے سے ایک بات یہ سمجھ میں آئی کہ قرآن میں مذکور بعض واقعات جو بظاہر انفرادی قسم کے واقعات ہیں، اُس میں بھی عام انسانوں کے لیے پائنٹ آف رفرنس موجود ہے۔ اس وقت مجھے یاد آیا کہ حضرت سلیمان کے تابع جنات نے ملکۂ سبا کے تخت کو دور کے ملک یمن سے لاکر یروشلم میں رکھ دیا تھا۔ اُس وقت میری زبان سے یہ دعا نکلی کہ خدایا، حضرت سلیمان کے زمانے میں یہ واقعہ تیری نصرت سے ہوا تھا۔ اگر یہ پاسپورٹ ا ئر پورٹ پر یا کہیں اور چھوٹ گیا ہو تو فرشتوں کے ذریعے تو اس کو دوبارہ لاکر ہمارے پاس پہنچا دے۔ ڈاکٹر فریدہ خانم اپنے سامان کو بار بار چیک کرکے مایوس ہوچکی تھیں۔ اِس کے بعد مز استتھی ملہوترا نے دوبارہ اُن کے بیگ کو چیک کیا تو اُس کے اندر کے جیب میں ڈاکٹر فریدہ خانم کا پاسپورٹ رکھا ہوا تھا۔ یہ بلا شبہہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت کا واقعہ تھا۔
29 جون 2011 کو صبح دس بجے خواجہ کلیم الدین اور ڈاکٹر وقار عالم ایک وین لے کر فلیڈیلفیا سے شکاگو جانے کے لیے نکلے۔ یہ لوگ وین میں قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دوسرے اسلامی لٹریچر لے کر نکلے، تاکہ شکاگو میں ہونے والی اسنا کانفرنس (ISNA…
…کو 30ستمبر 2010 کو لگا۔ یہ وہ تاریخ ہے جب کہ تقریباً 60 سالہ عدالتی کارروائی کے بعد ہائی کورٹ نے بابری مسجد کے بارے میں اپنا فیصلہ دیا۔ یہ فیصلہ مسلمانوں کے نزدیک، ان کی امیدوں کے مطابق نہیں تھا، اِس لیے دوبارہ وہ ذہنی صدمہ کا شکار ہوگئے۔
اِس طرح کے بحران (crisis) کے معاملے میں اسلام کی رہنمائی کیا ہے۔ کیا اسلام میں صرف نماز، روزہ کے احکام ہیں یا اُس میں بابری مسجد جیسے حادثے کے بارے میں بھی واضح رہنمائی موجود ہے۔ میرے نزدیک، بلا شبہہ یہ رہنمائی اسلام میں موجود ہے۔ ذیل میں مختصر طورپر اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔
1 - بابری مسجد کے معاملے میں اسلامی تعلیمات سے انحراف کا پہلا واقعہ 1528 میں پیش آیا، جب کہ اجودھیا میں یہ مسجد بنائی گئی۔ اُس وقت وہاں ’’رام چبوترہ‘‘ کے نام سے ایک چبوترہ موجود تھا، یہاں رام اور سیتا کی کچھ یادگاریں مثلاً سلوٹا اور…
…کو 30ستمبر 2010 کو لگا۔ یہ وہ تاریخ ہے جب کہ تقریباً 60 سالہ عدالتی کارروائی کے بعد ہائی کورٹ نے بابری مسجد کے بارے میں اپنا فیصلہ دیا۔ یہ فیصلہ مسلمانوں کے نزدیک، ان کی امیدوں کے مطابق نہیں تھا، اِس لیے دوبارہ وہ ذہنی صدمہ کا شکار ہوگئے۔
اِس طرح کے بحران (crisis) کے معاملے میں اسلام کی رہنمائی کیا ہے۔ کیا اسلام میں صرف نماز، روزہ کے احکام ہیں یا اُس میں بابری مسجد جیسے حادثے کے بارے میں بھی واضح رہنمائی موجود ہے۔ میرے نزدیک، بلا شبہہ یہ رہنمائی اسلام میں موجود ہے۔ ذیل میں مختصر طورپر اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔
1 - بابری مسجد کے معاملے میں اسلامی تعلیمات سے انحراف کا پہلا واقعہ 1528 میں پیش آیا، جب کہ اجودھیا میں یہ مسجد بنائی گئی۔ اُس وقت وہاں ’’رام چبوترہ‘‘ کے نام سے ایک چبوترہ موجود تھا، یہاں رام اور سیتا کی کچھ یادگاریں مثلاً سلوٹا اور…
…انسانی تاریخ میں تیسرے دور (third phase) کا دروازہ کھلے۔ اس جماعت کو ایک حکیمانہ منصوبہ کے ذریعہ مشن کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ انقلابی واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں دور شرک کا خاتمہ ہوا، اور تاریخ میں دورِ توحید کا آغاز ہوا۔
اس موقع پر اللہ ر ب العالمین نے مداخلت کی۔اس وقت وہ حالات پیدا ہوئے جب کہ اصحاب رسول کی ٹیم کو یہ موقع ملا کہ وہ اپنے وقت کےنظامِ بادشاہت کو توڑ کر نئے تاریخی دور کا آغاز کریں۔ اس واقعہ کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیاہے:الم ۔ غُلِبَتِ الرُّومُ ۔ فِی أَدْنَى الْأَرْضِ وَہُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُونَ ۔ فِی بِضْعِ سِنِینَ لِلَّہِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَیَوْمَئِذٍ یَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ ۔ بِنَصْرِ اللَّہِ یَنْصُرُ مَنْ یَشَاءُ وَہُوَ الْعَزِیزُ الرَّحِیمُ (30:1-5)۔ یعنی رومی پاس کے علاقہ میں مغلوب ہوگئے۔ اور وہ اپنی مغلوبیت کے بعد عنقریب غالب ہوں گے۔ چند برسوں میں۔ اللہ ہی کے ہاتھ میں سب کام ہے، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے، اللہ کی مدد سے۔ وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔ اور وہ زبردست ہے، رحمت والا ہے۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ ظہور اسلام کے وقت دنیا میں دو بہت بڑی سلطنتیں تھیں۔ ایک، مسیحی رومی سلطنت، اور دوسرا، مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کش مکش جاری رہتی تھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے بعد 603 ء کا…
…(وفات:1406 ء) سے پہلے، مسلم تاریخ نگاروں کے یہاں عام طورپر علمی ذوق کا رواج نہ تھا۔ وہ خالص تاریخی واقعات کے ساتھ مروّجہ قصہ کہانیوں کو بھی اس میں شامل کردیتے تھے۔ اِس لیے اُس زمانے میں لکھی ہوئی تاریخوں پر کلّی اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔
2 - مسجد اقصی کے بارے میں جو بات میں نے لکھی ہے، وہ بظاہر عمومی تصور کے خلاف ہے، لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ اِس رائے کی اصل دوسرے مسلم محققین کے یہاں بھی موجود ہے۔ مثال کے طورپر عبد اللہ بن احمد النسفی (وفات: 1310 ء) نے اپنی تفسیر ’’مدارک التنزیل‘‘ میں سورہ الاسراء کی آیت نمبر 1 کے تحت مسجد اقصی کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے: ہو بیت المقدس، لأنہ لم یکن حینئذ وراء ہ مسجد (جلد 2، صفحہ 306 ) یعنی مسجد اقصی سے مراد بیت المقدس ہے، کیوں کہ اُس وقت وہاں کوئی مسجد موجود نہ تھی۔ واضح ہو کہ قرآن کی آیت میں مسجد حرام سے مراد مسجد ہے، لیکن مسجد اقصی سے مراد معروف مسجد نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد عبادت گاہ ہے، یعنی یہودی عبات گاہ جس کو ہیکلِ سلیمان(Solomon’s Temple) کہاجاتا ہے۔
محمد بن احمدالانصاری القرطبی (وفات: 1273 ء)نے اپنی تفسیر ’’الجامع لأحکام القرآن‘‘ میں سورہ آل عمران کی آیت نمبر 96 کے تحت مسجدِ اقصیٰ کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے: وأمّا المسجد الأقصیٰ، فبناہ سلیمان علیہ السلام، کما خرجہ النسائی بإسناد…
…کی جنم بھومی فرض کررکھا تھا، اس لیے ناقابلِ فہم ہوگیا کہ جس زمین پر خدا پیدا ہوا ہو، وہ زمین نظامِ شمسی کا مرکز نہ ہو، بلکہ اس کی حیثیت محض ایک تابع کی قرار پائے۔ اپنے مشرکانہ عقیدہ کو بچانے کے لیے انھوں نے سائنسی حقیقت کا انکار کردیا۔
دوسری بات یہ کہ پچھلے تمام پیغمبروںکامشن صرف اعلان کی حد تک جاسکا، وہ عملی انقلاب تک نہیں پہنچا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھی انسانی تاریخ کے پہلے گروہ ہیں جنھوں نے توحید کو ایک زندہ عمل بنایا۔ انھوں نے اولاً عرب میں شرک (مظاہر فطرت کی پرستش) کا مکمل خاتمہ کیا، اور توحید کو عملی طورپر انسانی زندگی میں رائج کیا۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھے، اور قدیم زمانہ کی تقریباً تمام آباد دنیا میں شرک کو مغلوب کردیا۔ انھوں نے ایشیا اور افریقہ کے تمام بُت خانوں کو غیر آباد کر دیا، اور توحید کو ایک عالمی انقلاب کی حیثیت دے دی۔
اہلِ اسلام کے ذریعہ توحید کا جو عالمی انقلاب آیا، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ توہم پرستی کا دور ختم ہو۔ اب مظاہر فطرت کو پرستش کے مقام سے ہٹا دیاگیا۔ خدائے واحدانسان کا معبود قرار پایا۔ اس کے علاوہ جو تمام چیزیں ہیں، وہ سب صرف مخلوق بن…
…فلسطین کی تاریخ کو بہت ہی اچھے اور معلوماتی انداز میں سلسلے وار بیان کیاگیا ہے جو قارئین کو قیمتی معلومات کے ساتھ ساتھ حقیقت سے آگاہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ اِس مضمون کو پڑھ کر بہت سی غلط فہمیاں دور ہوئیں۔یہاں حسب ذیل سوالوں کا جواب مطلوب ہے:
1 - مسجد اقصی کے کیمپس میں صخرہ ایک چوکو رچٹان ہے۔ اِسی چٹان کو یہودی اپنے لئے مقدس سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہی وہ صخرہ ہے جس پر حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے اسحاق کی قربانی پیش کی تھی۔ اسلامی تاریخ میںاس قربانی کا مقام منیٰ بتایا گیا ہے۔ یہودیوں کے اس عقیدہ اور تاریخ کی بنیاد کیا ہے۔ کیا تورات میںاس کا ذکر موجود ہے۔
2 - مسجد اقصیٰ کو آپ نے یروشلم کی یہودی عبادت گاہ (ہیکل) بتایا ہے۔ قرآن میں مسجد اقصیٰ کا ذکر ہے جس کے معنی آپ نے دور کی مسجد (farthest place of worship) کے بتائے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون سا مقام یا مسجد ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ…
اِسی طرح مسجد اقصی سے اسرائیلی پیغمبروں کی تاریخ وابستہ ہے۔ جب کو ئی شخص مسجد اقصی میں نماز ادا کرتا ہے تو اِس تاریخ کی یاد اس کے اندر خصوصی کیفیات پیدا کردیتی ہے۔ اِس طرح یہاں ادا کی ہوئی نماز دوسری مسجدوں کی نماز سے مختلف ہوجاتی ہے۔
موجودہ زمانے میں عرب علماء نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ جب تک مسجد اقصی پر یہود کا قبضہ باقی ہے، اُس وقت تک باہر کے مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ سفر کرکے وہاں جائیں اور مسجد اقصی میں نماز ادا کریں۔ یہ فتویٰ بالکل بے بنیاد ہے، اس فتوے کی کوئی شرعی اہمیت نہیں۔ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یروشلم کا سفر کیا اور وہاں نماز ادا کی، اُس وقت یہ جگہ رومیوں کے قبضے میں تھی۔ اگر رومیوں کے قبضہ کے باوجود مسجد اقصی کے مقام پر نماز پڑھنا جائز تھا تو یہود کے ’’قبضہ‘‘ کے وقت وہاں نماز ادا کرنا کیوں ناجائز ہوجائے گا۔ اِس قسم کے فتوے بلا شبہہ سیاسی فتوے ہیں، نہ کہ شرعی فتوے۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں یہ افواہ پھیلی ہوئی ہے کہ اسرائیلی فوجی مسلمانوں کو مسجد اقصی کے اندر جانے نہیں دیتے، وہ مسلمانوں کو اِس عظیم سعادت سے محروم کئے ہوئے ہیں کہ وہ مسجد اقصیٰ میں جاکر نماز ادا کریں۔ یہ بلاشبہہ ایک خلافِ واقعہ بات…
…کے دائمی قبلہ کے طورپر اختیار کرلیا۔ اِس واقعے کے حوالے سے مسلمان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ، قبلۂ اول کی بازیابی کا مسئلہ ہے۔ اِس اعتبار سے فلسطین کا مسئلہ محض ایک قومی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ وہ مسلمانوں کا ایک خالص دینی مسئلہ ہے۔
یہ نظریہ سر تاسر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ مسجد ِاقصیٰ کا تعلق، قبلۂ اوّل سے نہیں ہے۔ قرآن میں مسجد ِ اقصیٰ کا ذکر معروف معنوں میں، کسی مسجد کے نام کے طورپر نہیں آیا ہے۔ مسجد ِاقصیٰ کے معنٰی: دور کی مسجد (farthest place of worship) کے ہیں۔ اِس کو دور کی مسجد اِس لیے کہاگیا کہ وہ مکہ سے 765 میل (1232 کلومیٹر) کے فاصلے پر یروشلم میں واقع ہے۔ مسجد اقصیٰ سے مراد یروشلم کی یہودی عبادت گاہ ہے۔
اِس یہودی عبادت گاہ (ہیکل) کو حضرت سلیمان نے 957 قبل مسیح میںتعمیر کیا۔ اِس عبادت گاہ کو بابل (عراق) کے حکم راں نبوخذ نصر(Nebuchadrezzar II) نے 586 قبل مسیح میں مکمل طورپر ڈھادیا۔ ایک عرصے کے بعد یہودیوں نے یہ عبادت گاہ دوبارہ بنائی۔…
The environs of which, We have blessed.
فلسطینی لوگ اپنے ممتاز فطری اوصاف کی بنا پر بہت بڑے بڑے کام کرسکتے ہیں، وہ ہر میدان میں اعلیٰ ترقی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن دورِ جدید کا یہ ایک انوکھا المیہ ہے کہ فلسطین کی یہ بالقوہ صلاحیت (potential) اُن کے حق میں بالفعل (actual) واقعہ نہ بن سکی۔
اِس المیہ کا واحد سبب یہ ہے کہ فلسطین کے لیڈروں نے فلسطینیوں کو نفرت اور تشدد کے راستے پر ڈال دیا۔ انھوںنے غلط طورپر زمین (land) کو سب کچھ سمجھ لیا۔ وہ زمین کو حاصل کرنے کے لیے اپنی جانیں دے رہے ہیں۔ اُن کو معلوم نہیں کہ ایک فلسطینی کی…
…والا ہو، نہ کہ لوگوں کے جذبات کو تسکین دینے والا۔ اِسی بنیادی اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے فلسطین کے مسئلے کامذکورہ بالا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ اِس تجزیے کی روشنی میںاِس مسئلے کا جو قابلِ عمل منصفانہ حل ممکن ہے، اس کو ذیل میںدرج کیا جاتاہے۔
اِس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ عرب اور غیر عرب مسلمانوں کی طرف سے اِس معاملے میںاب تک جو باتیں کہی جاتی رہی ہیں، اُس میں ہمیشہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ فلسطین کا اِشو، ظالم اور مظلوم کا اشو ہے، یعنی اسرائیل یک طرفہ طورپر ظالم ہے، اور عرب یک طرفہ طور پر مظلوم۔ مسئلے کا بے لاگ جائزہ بتاتا ہے کہ یہ تقسیم ایک غیر حقیقی تقسیم ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ اِس معاملے میں عرب اور اسرائیل، دونوں کی حیثیت یکساں ہے۔ دونوں میں سے کسی کا کیس بھی عدل اور معقولیت پر مبنی کیس نہیں ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر جو الزام دیتے ہیں، وہ خود اُس میں برابری کے درجے میں شریک ہیں۔ خالص اصول کی…
…کی جنم بھومی فرض کررکھا تھا، اس لیے ناقابلِ فہم ہوگیا کہ جس زمین پر خدا پیدا ہوا ہو، وہ زمین نظامِ شمسی کا مرکز نہ ہو، بلکہ اس کی حیثیت محض ایک تابع کی قرار پائے۔ اپنے مشرکانہ عقیدہ کو بچانے کے لیے انھوں نے سائنسی حقیقت کا انکار کردیا۔
دوسری بات یہ کہ پچھلے تمام پیغمبروںکامشن صرف اعلان کی حد تک جاسکا، وہ عملی انقلاب تک نہیں پہنچا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھی انسانی تاریخ کے پہلے گروہ ہیں جنھوں نے توحید کو ایک زندہ عمل بنایا۔ انھوں نے اولاً عرب میں شرک (مظاہر فطرت کی پرستش) کا مکمل خاتمہ کیا، اور توحید کو عملی طورپر انسانی زندگی میں رائج کیا۔ اس کے بعد وہ آگے بڑھے، اور قدیم زمانہ کی تقریباً تمام آباد دنیا میں شرک کو مغلوب کردیا۔ انھوں نے ایشیا اور افریقہ کے تمام بُت خانوں کو غیر آباد کر دیا، اور توحید کو ایک عالمی انقلاب کی حیثیت دے دی۔
اہلِ اسلام کے ذریعہ توحید کا جو عالمی انقلاب آیا، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ توہم پرستی کا دور ختم ہو۔ اب مظاہر فطرت کو پرستش کے مقام سے ہٹا دیاگیا۔ خدائے واحدانسان کا معبود قرار پایا۔ اس کے علاوہ جو تمام چیزیں ہیں، وہ سب صرف مخلوق بن…
…ذریعہ ہوگا۔ یہ واقعہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اتنا بڑا ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے بارے میں فرمایا: ہٰذا أعظم الناس شہادۃً عند ربّ العالمین (کتاب الفتن) یعنی یہ اللہ رب العالمین کے نزدیک، تاریخ کی سب سے بڑی گواہی ہوگی۔
حالات بتاتے ہیں کہ وہ وقت پوری طرح آچکا ہے، جب کہ کچھ لوگ اٹھیں اور اِس رول کو انجام دیں۔ اِس معاملے میں اب مزید تاخیر کا وقت باقی نہیں رہا۔ یہ حدیث اور اِس طرح کے دوسرے نصوص، دراصل ایک امکان کو بتارہے ہیں، نہ کہ کسی فرد یا افراد کے کارنامے کو۔ یہ قیامت سے پہلے کا ایک رول ہے جس کی طرف دوڑنے والوںکو دوڑنا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اِس معاملے میں ’’آنے والے‘‘ کاانتظار اور خود اپنے کو ’’آنے والا‘‘ بتانا، دونوں ہی یکساں طورپر غلط ہیں:
Waiting for a ‘‘coming person’’ or claiming ‘‘I am that person’’, both are equally wrong.
…شروع ہوجاتا ہے۔ ایسے ماحول میں پرابلم مسلسل طورپر گھٹتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ پرابلم عملاً غیر مؤثر ہوجائیں اور سارے امکانات اُن لوگوں کے حصے میں آجائیں جو اِس فارمولے کو استعمال کرکے اپنا عمل جاری کیے ہوئے تھے۔
دعوہ ایکٹوزم کا سب سے زیادہ امتیازی پہلو یہ ہے کہ آدمی صحیح نقطۂ آغاز (starting point) کو پالیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی اصلاحی عمل کے لیے صحیح نقطۂ آغاز، اقدام نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ لوگوں کا ذہن بنا یا جائے۔ ذہن کی ڈی کنڈیشننگ، ذہن کی ری انجینئرنگ، ذہن کا ری اورین ٹیشن، ذہن کو اِس قابل بنانا کہ وہ منفی سوچ سے اس طرح خالی ہوجائے کہ وہ منفی واقعے کو مثبت تجربے میں تبدیل کرسکے۔ اِسی کا نام ذہنی تیاری ہے، اور کسی گہرے عمل کے لیے یہی صحیح نقطۂ آغاز (starting point) ہے۔
حضرت مسیح دو ہزار سال پہلے یروشلم میں پیدا ہوئے۔ انھوںنے پہلے شہر کے اندر اپنا مشن شروع کیا۔ اس کے بعد وہ سمندر کے کنارے گیے۔ وہاں ملاّح مچھلیاں پکڑ رہے ـتھے۔ حضرت مسیح نے اِن ملاحوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا: اے مچھلیوں کو پکڑنے والو، آؤ کہ…
Tell Me About Prophet Musa
اس کانفرنس میں ونسنٹ کارنیل (Vincent J. Cornell)سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک مسیحی عالم ہیں۔ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ انہوں نے اسلام اور قرآن کا صرف نام سنا ہے، انہوں نے اس کا مطالعہ نہیں کیا۔ اسلام کے بارے میں ان کی معلومات صرف ان پروگراموں تک محدود ہیں جو انہوں نے کبھی کبھی ٹی وی میں دیکھے ہیں۔
میںنے کہا کہ میں نے تو اسلام کے ساتھ مسیحیت کا بھی تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔میں نے مسیحیت کے اوپر کئی مضامین بھی لکھے ہیں۔اس سلسلہ میں میرا ایک مضمون وہ ہے جس کا عنوان ہے: کرشچینیٹی اینڈ اسلام (Christianity and Islam)۔ یہ مضمون دہلی سے چھپنے…
…خدا سے اس کی تلافی کی امید رکھنا۔ دوسرے اگر فساد کریں تب بھی ان کے لیے اصلاح کی دعائیں کرنا۔ دوسرے اگر کاٹنے کی کوشش کریں تب بھی ان سے جڑے رہنا۔ دوسرے اگر نہ دیں تب بھی ان کو دینے کی کوشش کرنا۔ دوسرے اگر ظلم کریں تب بھی انہیں معاف کردینا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس معاملہ میںاس آخری حد تک گئے کہ ہجرت کے بعد مدینہ میںآپ تقریباً سولہ ماہ تک کعبہ کے بجائے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے تاکہ وہاں بسنے والے یہودیوںسے غیر ضروری ٹکراؤ نہ پیش آئے۔ قرآن میںاس معاملہ میں یہ اصول مقرر کیا گیا کہ تمہارے لیے تمہارا دین اورہمارے لیے ہمارا دین۔ مدینہ میں ہجرت کے بعد پیغمبر اسلام نے جو منشور جاری کیا اس میں آپ نے یہ درج فرمایا کہ مسلمانوں کے لیے مسلمان کا دین اور یہود کے لیے یہود کا دین(للیہود دینہم وللمسلمین دینہم) وغیرہ۔
اس مقصد کے لیے یہ اعلان کیا گیا کہ تمام انسان ایک ہی جوڑے کی اولادہیں۔ تمام انسان آپس میں بھائی اور بہن ہیں۔ تمام انسان خدا کی عیال ہیں۔ ایک انسان اور دوسرے انسان میں دنیوی تعلقات کے اعتبارسے کوئی فرق نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو مولانا…
…سے معلوم ہوتا ہے ، مسجداقصیٰ کو دوسری بار ٹائٹس (Titus) رومی نے ۷۰ء میں مکمل طورپر ڈھا دیا ـتھا۔ پیغمبر اسلام کے سفر کے وقت مسجد اقصیٰ اسی کھنڈر کی حالت میں تھی۔ مسجد اقصیٰ کی موجودہ عمارت بعد کو بنو امیہ کی خلافت کے زمانہ میں بنائی گئی۔
یروشلم کی نشانی کو دکھانے کے اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد فوراً بنی اسرائیل کی تاریخ بتائی گئی جو مسجد اقصیٰ کے کھنڈر سے جڑی ہوئی تھی۔ وہ تاریخ یہ تھی کہ بنی اسرائیل کو خدا نے پیغمبروں کے ذریعہ اپنا ہدایت نامہ دیا تاکہ وہ اس پر عمل کریں اور دوسری قوموں کو اس سے آگاہ کریں مگر بنی اسرائیل کی بعد کی نسلوں میں بگاڑاورسرکشی آگئی۔ اس کے بعد ان پر خدا کی مختلف تنبیہات آئیں۔ ان تنبیہات کا انتہائی ظہور ۵۸۶ ق م میںہوا جب کہ بابل کے حکمراں بخت نصر(Neouchadnezzar) نے مرکزِیہود یروشلم پر حملہ کرکے مسجدِ اقصیٰ (ہیکل سلیمانی) کو تباہ کردیا۔
مذکورہ قرآنی بیان کے مطابق، اس صدمہ کے بعد یہود کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ انہوں نے توبہ واصلاح کی۔ اس کے بعد خدا نے ان کی مددکی اور ان کو دوبارہ ایک ترقی یافتہ قوم بنا دیا۔ چند نسلیں گزرنے کے بعد بنی اسرائیل میں پھر بگاڑ شروع ہوا۔…
…بھی اس کام میں لگائے۔ کسی کا کیس یہ ہوتاہے کہ وہ بہتر تعلیم حاصل نہ کرسکا۔ ایسے شخص کے لیے میرا مشورہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے لیے قناعت کا طریقہ اختیار کریں اور بچوں کو اچھی تعلیم دلائیں۔ تاکہ آپ کی اگلی نسل دوبارہ اس مسئلہ کا شکار نہ ہو۔
اس سلسلہ میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ مسائل ہر ایک کو پیش آتے ہیں، خواہ اُس کی آمدنی کم ہو یا زیادہ۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملہ میں صبر کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ گھر والوں کی طرف سے شکایات ہوں تو اُن کا جواب تحمل کے ساتھ دیا جائے۔ ردعمل کا طریقہ ہرگز نہ اختیار کیا جائے۔ کامیاب زندگی گذارنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز دانش مندی ہے، نہ کہ زیادہ آمدنی۔
یہ حقیقت واضح ہے کہ پانچ وقت کی نماز کاتحفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج میں عطا کیا گیا۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ کے رسول معراج میںجانے سے قبل بیت المقدس میں تمام سابقہ انبیائے کرام کی امامت فرمارہے ہیں۔ برائے مہربانی یہ بتانے…
ہٹلر اوراسٹالن جیسے بہت سے ڈکٹیٹروں نے بہت بڑے پیمانہ پر تشدد کیا، اپنے خیال کے مطابق، اپنے مفروضہ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے۔ مگر بلا استثناء ہر ایک کے تشدد کا انجام صرف تباہی کی صورت میں نکلا۔
یہی معاملہ خود مسلمانوں کا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مختلف علاقہ کے مسلمانوں نے بزعم خود انصاف کے لیے یا اپنے حقوق کے حصول کے لیے تشدد کا طریقہ اختیار کیا۔ مگر اس کا نتیجہ ہمیشہ برعکس صورت میں نکلا۔ تشدد کے آغاز میں وہ جہاں تھے، تشدد کے آخر میں وہ اُس سے بھی زیادہ پیچھے چلے گئے۔
اس کی ایک مثال فلسطین کا مسئلہ ہے۔ اعلان بالفور(Balfaur Declaration) کے تحت ۱۹۴۸ میں یہودیوں کو فلسطین کا ایک تہائی حصہ دیا گیا۔ اس کے مقابلہ میں عربوں کو فلسطین کا دو تہائی حصہ حاصل ہوا جس میں پورا یوروشلم بھی شامل تھا۔ مگر عربوں نے اس…
…اس کے بندوں تک پہنچانے کے لیے درمیانی وسیلہ ہیں۔ اللہ کا پیغام رسول کے ذریعہ ان کو پہنچا ہے۔ اب اس پیغام کو انھیں قیامت تک تمام قوموں کو پہنچاتے رہنا ہے، اسی پر دنیا میں بھی ان کے مستقبل کا انحصار ہے اور اسی پر آخرت ميں ان كي نجات کا بھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ تھی کہ جن امور میں ابھی وحی نہ آئی ہو ان میں آپ پچھلے انبیاء کے طریقےکی پیروی کرتے تھے۔ اسی بنا پر آپ نے ابتداميں بیت المقدس کو قبلہ بنا لیا تھا جو حضرت سلیمان کے زمانہ سے بنی اسرائیل کے پیغمبروں کا قبلہ رہا ہے۔ یہود کو جب اللہ تعالیٰ نے دین کي امامت وپیشوائی سے معزول کیا تو اس کے بعد یہ بھی ضروری ہوگیا کہ دین کو زوال یافتہ روایات سے جدا کردیا جائے تاکہ خدا کا دین ہر اعتبار سے اپنی خالص شکل میں نمایاں ہوسکے۔ اسی مصلحت کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تبدیلیٔ قبلہ کے حکم کا انتظار رہتا تھا۔ چنانچہ ہجرت کے دوسرے سال یہ حکم آگیا۔ بنی اسرائیل کے انبیاء جو یہود کو خبر دار کرنے کے لیے آئے، وہ پہلے ہی اس فیصلۂ الٰہی کی بابت یہود کو بتا چکے تھے اور ان کے علما اس معاملہ کو اچھی طرح جانتے تھے۔ تاہم ان میں صرف چند لوگ (جیسے عبد اللہ بن سلّام اور مخيریق رضی اللہ عنہما) ایسے نکلے جنھوں نے آپ کی تصدیق کی اور اس بات کا اقرار کیا کہ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سچے دین کا اظہار فرمایا ہے۔ان کے نہ ماننے کی وجہ محض ان کی خواہش پرستی تھی۔ وہ جن گروہی خوش خیالیوں میں جی رہے تھے، ان سے وہ نکلنا نہیں چاہتے تھے۔ اور جو انکار محض خواہش پرستی کی بنا پر پیداہو اس کو توڑنے میں کبھی کوئی دلیل کامیاب نہیں ہوتی۔ ایسا آدمی دلائل کے انکار سے اپنے ليے وہ رزق حاصل کرنے کی کوشش کرتاہے جو اس کے خالق نے صرف دلائل کے اعتراف میں رکھا ہے۔
اللہ کی طرف سے جب کسی امرِ حق کا اعلان ہوتاہے تو وہ ایسے قطعی دلائل کے ساتھ ہوتا ہے کہ کوئی اللہ کا بندہ اس کی صداقت کو پہچاننے سے عاجز نہ رہے۔ایسی حالت میں جو لوگ شبہ میں پڑیں وہ صرف یہ ثابت کررہے ہیں کہ وہ خدا سے آشنا نہ تھے۔ اس ليے وہ خدا کی بولی کو پہچان نہ سکے۔ اسی طرح وہ لوگ جو حق کے خلاف کچھ الفاظ بول کر سمجھتے ہیں کہ انھوں نے حق کا اعتراف نہ کرنے کے لیے مضبوط استدلالی سہارے دریافت کرليے ہیں، بہت جلد ان کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ محض فرضی سہارے تھے جو ان کے نفس نے اپنی جھوٹی تسکین کے لیے وضع کرليے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ تھی کہ جن امور میں ابھی وحی نہ آئی ہو ان میں آپ پچھلے انبیاء کے طریقےکی پیروی کرتے تھے۔ اسی بنا پر آپ نے ابتداميں بیت المقدس کو قبلہ بنا لیا تھا جو حضرت سلیمان کے زمانہ سے بنی اسرائیل کے پیغمبروں…
…وہ لوگ جو حق کے خلاف کچھ الفاظ بول کر سمجھتے ہیں کہ انھوں نے حق کا اعتراف نہ کرنے کے لیے مضبوط استدلالی سہارے دریافت کرليے ہیں، بہت جلد ان کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ محض فرضی سہارے تھے جو ان کے نفس نے اپنی جھوٹی تسکین کے لیے وضع کرليے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ تھی کہ جن امور میں ابھی وحی نہ آئی ہو ان میں آپ پچھلے انبیاء کے طریقےکی پیروی کرتے تھے۔ اسی بنا پر آپ نے ابتداميں بیت المقدس کو قبلہ بنا لیا تھا جو حضرت سلیمان کے زمانہ سے بنی اسرائیل کے پیغمبروں کا قبلہ رہا ہے۔ یہود کو جب اللہ تعالیٰ نے دین کي امامت وپیشوائی سے معزول کیا تو اس کے بعد یہ بھی ضروری ہوگیا کہ دین کو زوال یافتہ روایات سے جدا کردیا جائے تاکہ خدا کا دین ہر اعتبار سے اپنی خالص شکل میں نمایاں ہوسکے۔ اسی مصلحت کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تبدیلیٔ قبلہ کے حکم کا انتظار رہتا تھا۔ چنانچہ ہجرت کے دوسرے سال یہ حکم آگیا۔ بنی اسرائیل کے انبیاء جو یہود کو خبر دار کرنے کے لیے آئے، وہ پہلے ہی اس فیصلۂ الٰہی کی بابت یہود کو بتا چکے تھے اور ان کے علما اس معاملہ کو اچھی طرح جانتے تھے۔ تاہم ان میں صرف چند لوگ (جیسے عبد اللہ بن سلّام اور مخيریق رضی اللہ عنہما) ایسے نکلے جنھوں نے آپ کی تصدیق کی اور اس بات کا اقرار کیا کہ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سچے دین کا اظہار فرمایا ہے۔ان کے نہ ماننے کی وجہ محض ان کی خواہش پرستی تھی۔ وہ جن گروہی خوش خیالیوں میں جی رہے تھے، ان سے وہ نکلنا نہیں چاہتے تھے۔ اور جو انکار محض خواہش پرستی کی بنا پر پیداہو اس کو توڑنے میں کبھی کوئی دلیل کامیاب نہیں ہوتی۔ ایسا آدمی دلائل کے انکار سے اپنے ليے وہ رزق حاصل کرنے کی کوشش کرتاہے جو اس کے خالق نے صرف دلائل کے اعتراف میں رکھا ہے۔
اللہ کی طرف سے جب کسی امرِ حق کا اعلان ہوتاہے تو وہ ایسے قطعی دلائل کے ساتھ ہوتا ہے کہ کوئی اللہ کا بندہ اس کی صداقت کو پہچاننے سے عاجز نہ رہے۔ایسی حالت میں جو لوگ شبہ میں پڑیں وہ صرف یہ ثابت کررہے ہیں کہ وہ خدا سے آشنا نہ تھے۔ اس ليے وہ خدا کی بولی کو پہچان نہ سکے۔ اسی طرح وہ لوگ جو حق کے خلاف کچھ الفاظ بول کر سمجھتے ہیں کہ انھوں نے حق کا اعتراف نہ کرنے کے لیے مضبوط استدلالی سہارے دریافت کرليے ہیں، بہت جلد ان کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ محض فرضی سہارے تھے جو ان کے نفس نے اپنی جھوٹی تسکین کے لیے وضع کرليے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ تھی کہ جن امور میں ابھی وحی نہ آئی ہو ان میں آپ پچھلے انبیاء کے طریقےکی پیروی کرتے تھے۔ اسی بنا پر آپ نے ابتداميں بیت المقدس کو قبلہ بنا لیا تھا جو حضرت سلیمان کے زمانہ سے بنی اسرائیل کے پیغمبروں…
…جو دنیا کی زندگی میں اپنے نفس پر قابو رکھنے والی ہو، وہ اللہ کو یاد کرے۔ بدی اور نیکی کے درمیان وہ نیکی کے راستہ کو اختیار کرے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کواللہ اپنے رزقِ خاص سے کھلاتا پلاتا ہے اور ان کو اپنی خصوصی رحمت کے لیے قبول کرلیتا ہے۔
اللہ نے حضرت زکریا کو بڑھاپے میں اولاد دی، حضرت مریم کو حجرہ میں رزق پہنچایا، حضرت مسیح کو بغیر باپ کے پیدا کیا، آلِ ابراہیم میں ایسے صلحا پیدا کيے جن کو خدا کی پیغام بری کے لیے چنا جائے۔ اللہ نے اپنے ان بندوں کو یہ انعامات یوں ہی نہیں ديے بلکہ ان کو اس کا مستحق پاکر ایسا کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنی اولاد سے معاشی توقعات قائم نہیں کیں،ان کی خوشی ا س میں تھی کہ ان کی اولاد اللہ کی راہ میں سرگرم ہو۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اپنے اندر اس تمنا کی پرورش کی کہ ان کی اولاد شیطان سے بچی رہے، وہ نیک بندوں کی جماعت میں شامل ہوجائے۔ کسی کے اندر بھلائی دیکھ کر وہ حسد اور جلن میں مبتلا نہیں ہوئے۔ ان کے نیک جذبات کے اثر سے ان کی اولاد بھی ایسی ہوئی جو دنیا کی زندگی میں اپنے نفس پر قابو رکھنے والی ہو، وہ اللہ کو یاد کرے۔ بدی اور نیکی کے درمیان وہ نیکی کے راستہ کو اختیار کرے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کواللہ اپنے رزقِ خاص سے کھلاتا پلاتا ہے اور ان کو اپنی خصوصی رحمت کے لیے قبول کرلیتا ہے۔
یہود کی نسل کو اللہ نے اس خاص منصب کے لیے چن لیا تھا کہ ان پر اپنی ہدایت اتارے تاکہ وہ خود اللہ کے راستے پر چلیں اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر بعد کے زمانے میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ حتی کہ اللہ کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہے کہ…
…مکمل ہے مگر وہ اسی شخص کے لیے دلیل بنے گی جو ماننے کا مزاج رکھتا ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ اپنے خیالات کے کہر سے باہر آکر دلیل پر غور کرے۔ جس کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ ذاتی وقار کا سوال اس کے لیے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔
یہود کی نسل کو اللہ نے اس خاص منصب کے لیے چن لیا تھا کہ ان پر اپنی ہدایت اتارے تاکہ وہ خود اللہ کے راستے پر چلیں اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر بعد کے زمانے میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ حتی کہ اللہ کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہے کہ آسمانی ہدایت کے امین بن سکیں۔ اب اللہ کا فیصلہ یہ ہوا کہ یہ امانت ان سے چھین کر آل ابراہیم کی دوسری شاخ (بنی اسماعیل) کو دے دی جائے۔ اس فیصلہ کے نفاذ سے پہلے یہود پر اتمام حجت ضروری تھا۔ حضرت مسیح اسی اتمام حجت کے لیے بھیجے گئے۔ آنجناب کی فوق العادت پیدائش اور آپ کو غیر معمولی معجزات کا دیا جانا اسی لیے تھا کہ یہود کو اس بار ے میں کوئی شبہ نہ رہے کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے ہیں اور خدا کی طرف سے بول رہے ہیں۔ حضرت مسیح اپنے ساتھ نہ صرف فوق الفطری نشانیاں رکھتے تھے بلکہ وہ اتنے مؤثر اور مدلل انداز میں بولتے تھے کہ ان کے زمانہ میں کوئی اس طرح بولنے پر قادر نہ تھا۔ پہلی بار جب آپ نے یروشلم کے ہیکل میں تقریر کی تو یہودی علما آپ کی باتوں کو سن کر دنگ رہ گئے (لوقا ۲:۴۸) یہ ان کی معجز نما شخصیت اور ان کے مبہوت کردینے والے کلام ہی کا اثر تھا کہ اگر چہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے مگر آپ کے سامنے کسی کو جرأت نہ ہوسکی کہ اس پہلو سے آپ کو مطعون کرے۔ تاہم یہود اتنے بے حس اور اتنے سرکش ہوچکے تھے کہ انتہائی کھلے کھلے دلائل سامنے آجانے کے باوجود انھوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا۔ ’’اس میں نشانی ہے ایمان والوں کے لیے‘‘ — یعنی جو دلیل پیش کی جارہی ہے وہ بذات خود اگر چہ مکمل ہے مگر وہ اسی شخص کے لیے دلیل بنے گی جو ماننے کا مزاج رکھتا ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ اپنے خیالات کے کہر سے باہر آکر دلیل پر غور کرے۔ جس کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ ذاتی وقار کا سوال اس کے لیے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔
یہود کی نسل کو اللہ نے اس خاص منصب کے لیے چن لیا تھا کہ ان پر اپنی ہدایت اتارے تاکہ وہ خود اللہ کے راستے پر چلیں اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر بعد کے زمانے میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ حتی کہ اللہ کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہے کہ…
…مکمل ہے مگر وہ اسی شخص کے لیے دلیل بنے گی جو ماننے کا مزاج رکھتا ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ اپنے خیالات کے کہر سے باہر آکر دلیل پر غور کرے۔ جس کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ ذاتی وقار کا سوال اس کے لیے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔
یہود کی نسل کو اللہ نے اس خاص منصب کے لیے چن لیا تھا کہ ان پر اپنی ہدایت اتارے تاکہ وہ خود اللہ کے راستے پر چلیں اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر بعد کے زمانے میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ حتی کہ اللہ کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہے کہ آسمانی ہدایت کے امین بن سکیں۔ اب اللہ کا فیصلہ یہ ہوا کہ یہ امانت ان سے چھین کر آل ابراہیم کی دوسری شاخ (بنی اسماعیل) کو دے دی جائے۔ اس فیصلہ کے نفاذ سے پہلے یہود پر اتمام حجت ضروری تھا۔ حضرت مسیح اسی اتمام حجت کے لیے بھیجے گئے۔ آنجناب کی فوق العادت پیدائش اور آپ کو غیر معمولی معجزات کا دیا جانا اسی لیے تھا کہ یہود کو اس بار ے میں کوئی شبہ نہ رہے کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے ہیں اور خدا کی طرف سے بول رہے ہیں۔ حضرت مسیح اپنے ساتھ نہ صرف فوق الفطری نشانیاں رکھتے تھے بلکہ وہ اتنے مؤثر اور مدلل انداز میں بولتے تھے کہ ان کے زمانہ میں کوئی اس طرح بولنے پر قادر نہ تھا۔ پہلی بار جب آپ نے یروشلم کے ہیکل میں تقریر کی تو یہودی علما آپ کی باتوں کو سن کر دنگ رہ گئے (لوقا ۲:۴۸) یہ ان کی معجز نما شخصیت اور ان کے مبہوت کردینے والے کلام ہی کا اثر تھا کہ اگر چہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے مگر آپ کے سامنے کسی کو جرأت نہ ہوسکی کہ اس پہلو سے آپ کو مطعون کرے۔ تاہم یہود اتنے بے حس اور اتنے سرکش ہوچکے تھے کہ انتہائی کھلے کھلے دلائل سامنے آجانے کے باوجود انھوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا۔ ’’اس میں نشانی ہے ایمان والوں کے لیے‘‘ — یعنی جو دلیل پیش کی جارہی ہے وہ بذات خود اگر چہ مکمل ہے مگر وہ اسی شخص کے لیے دلیل بنے گی جو ماننے کا مزاج رکھتا ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ اپنے خیالات کے کہر سے باہر آکر دلیل پر غور کرے۔ جس کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ ذاتی وقار کا سوال اس کے لیے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔
یہود کی نسل کو اللہ نے اس خاص منصب کے لیے چن لیا تھا کہ ان پر اپنی ہدایت اتارے تاکہ وہ خود اللہ کے راستے پر چلیں اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر بعد کے زمانے میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ حتی کہ اللہ کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہے کہ…
…مکمل ہے مگر وہ اسی شخص کے لیے دلیل بنے گی جو ماننے کا مزاج رکھتا ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ اپنے خیالات کے کہر سے باہر آکر دلیل پر غور کرے۔ جس کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ ذاتی وقار کا سوال اس کے لیے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔
کائنات کا خالق ومالک کوئی مشینی خدا نہیں بلکہ ایک زندہ اور باشعور خدا ہے۔ اس نے ہر زمانہ میں انسان کے لیے رہنمائی بھیجی۔ انھیں میں سے وہ کتابیں تھیں جو تورات وانجیل کی صورت میں پچھلے انبیاء پر اتاری گئیں۔ مگر انسان ہمیشہ یہ کرتا رہا کہ اس نے اپنی تاویل وتشریح سے خدا کی تعلیمات کو طرح طرح کے معنی پہنائے اور خدا کے ایک دین کو کئی دین بنا ڈالا۔ آخر اللہ نے اپنے طے شدہ منصوبہ کے مطابق آخری کتاب (قرآن) اتاری جو انسانوں کے لیے صحیح ہدایت نامہ بھی ہے اور اسی کے ساتھ وہ کسوٹی بھی جس سے حق وباطل کے درمیان فیصلہ کیا جاسکے۔ قرآن بتاتا ہے کہ اللہ کا سچا دین کیا ہے اور وہ دین کون سا ہے جو لوگوں نے اپنی خود ساختہ تشریحات کے ذریعے بنا رکھا ہے۔ اب جو لوگ خدا کی کتاب کو نہ مانیں یا اپنی رایوں اور تعبیروں کے تحت گھڑے ہوئے دین کو نہ چھوڑیں وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے آنکھ دی مگر روشنی آجانے کے باوجود انھوں نے نہ دیکھا۔ جن کو خدا نے عقل دی مگر دلیل آجانے کے بعد بھی انھوں نے نہ سمجھا اپنی چھوٹی بڑائی کی خاطر وہ حق کے آگے جھکنے كو تیار نہ ہوئے۔
اللہ اپنی ذات وصفات کے اعتبارسے کیسا ہے، اس کا حقیقی تعارف خود وہی کرسکتا ہے۔ اس کی ہستی کا دوسری موجودات سے کیا تعلق ہے، اس کو بھی وہ خود ہی صحیح طورپر بتاسکتا ہے۔ خدا نے اپنی کتاب میں اس کو اتنی واضح صورت میں بتا دیا ہے کہ جو شخص جاننا چاہے وہ ضرور جان لے گا۔ یہی معاملہ انسان کے لیے ہدایت نامہ مقرر کرنے کا ہے۔ انسان کی حقیقت کیا ہے اور وہ کون سا رویہ ہے جو انسان کی کامیابی کا ضامن ہے، اس کو بتانے کے لیے پوری کائنات کا علم درکار ہے۔ انسان کے لیے صحیح رویہ وہی ہوسکتا ہے جو بقیہ کائنات سے ہم آہنگ ہو اور دنیا کے وسیع تر نظام سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہو۔ انسان کے لیے صحیح راہ عمل کا تعین وہی کرسکتا ہے جو نہ صرف انسان کو پیدائش سے موت تک جانتا ہو بلکہ اس کو یہ بھی معلوم ہو کہ پیدائش سے پہلے کیا ہے اور موت کے بعد کیا۔ ایسی ہستی خداکے سوا کوئی دوسری نہیںہوسکتی۔ انسان کے لیے حقیقت پسندی یہ ہے کہ اس معاملہ میں وہ خدا پر بھروسہ کرے اور اس کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کو پورے یقین کے ساتھ پکڑ لے۔
یہود کی نسل کو اللہ نے اس خاص منصب کے لیے چن لیا تھا کہ ان پر اپنی ہدایت اتارے تاکہ وہ خود اللہ کے راستے پر چلیں اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر بعد کے زمانے میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ حتی کہ اللہ کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہے کہ…
…مکمل ہے مگر وہ اسی شخص کے لیے دلیل بنے گی جو ماننے کا مزاج رکھتا ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ اپنے خیالات کے کہر سے باہر آکر دلیل پر غور کرے۔ جس کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ ذاتی وقار کا سوال اس کے لیے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔
یہود کی نسل کو اللہ نے اس خاص منصب کے لیے چن لیا تھا کہ ان پر اپنی ہدایت اتارے تاکہ وہ خود اللہ کے راستے پر چلیں اور دوسروں کو اس سے آگاہ کریں۔ مگر بعد کے زمانے میں یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ حتی کہ اللہ کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہے کہ آسمانی ہدایت کے امین بن سکیں۔ اب اللہ کا فیصلہ یہ ہوا کہ یہ امانت ان سے چھین کر آل ابراہیم کی دوسری شاخ (بنی اسماعیل) کو دے دی جائے۔ اس فیصلہ کے نفاذ سے پہلے یہود پر اتمام حجت ضروری تھا۔ حضرت مسیح اسی اتمام حجت کے لیے بھیجے گئے۔ آنجناب کی فوق العادت پیدائش اور آپ کو غیر معمولی معجزات کا دیا جانا اسی لیے تھا کہ یہود کو اس بار ے میں کوئی شبہ نہ رہے کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے ہیں اور خدا کی طرف سے بول رہے ہیں۔ حضرت مسیح اپنے ساتھ نہ صرف فوق الفطری نشانیاں رکھتے تھے بلکہ وہ اتنے مؤثر اور مدلل انداز میں بولتے تھے کہ ان کے زمانہ میں کوئی اس طرح بولنے پر قادر نہ تھا۔ پہلی بار جب آپ نے یروشلم کے ہیکل میں تقریر کی تو یہودی علما آپ کی باتوں کو سن کر دنگ رہ گئے (لوقا ۲:۴۸) یہ ان کی معجز نما شخصیت اور ان کے مبہوت کردینے والے کلام ہی کا اثر تھا کہ اگر چہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے مگر آپ کے سامنے کسی کو جرأت نہ ہوسکی کہ اس پہلو سے آپ کو مطعون کرے۔ تاہم یہود اتنے بے حس اور اتنے سرکش ہوچکے تھے کہ انتہائی کھلے کھلے دلائل سامنے آجانے کے باوجود انھوں نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا۔ ’’اس میں نشانی ہے ایمان والوں کے لیے‘‘ — یعنی جو دلیل پیش کی جارہی ہے وہ بذات خود اگر چہ مکمل ہے مگر وہ اسی شخص کے لیے دلیل بنے گی جو ماننے کا مزاج رکھتا ہو۔ جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ اپنے خیالات کے کہر سے باہر آکر دلیل پر غور کرے۔ جس کی فطرت اس حد تک زندہ ہو کہ ذاتی وقار کا سوال اس کے لیے حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔
بنی اسرائیل کے بڑوں نے حضرت مسیحؑکو ماننے سے انکار کردیا۔ بڑوں کے ہاتھ میں ہر قسم کے وسائل ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ مذہب کی گدیوں پر قابض ہونے کی وجہ سے عوام کی نظر میں وہی مذہب کے نمائندے ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ جس کو رد کردیں، وہ نہ صرف وسائل…
…قیمت دینی ہو، اللہ کے راستہ میں بڑھنے کے لیے جب مال خرچ کرنا ہو اور بچوں کے مستقبل کو خطرہ میں ڈالنا پڑے، اس وقت وہ اللہ کی خاطر سب کچھ گوارا کرلے۔ ایسے نازک مواقع پر جو شخص اپنی محبوب چیزوں کو دے کر اللہ کو لے لے وہی نیک اور خدا پرست بنا۔
یہود کے علما نے بطورِ خود جو فقہ بنا رکھی تھی اس میں اونٹ اور خرگوش کا گوشت کھانا حرام تھا، جب کہ اسلام میں وہ جائز تھا۔ اب یہود یہ کہتے کہ اسلام اگر خدا کا اترا ہوا دین ہے تو اس میںبھی حرام وحلال کے مسائل وہی کیوں نہیں هيں جو پچھلے زمانہ میں اتارے ہوئے خدا کے دین میں تھے۔ اسی طرح وہ کہتے کہ بیت المقدس اب تک تمام انبیاء کا قبلۂ عبادت رہا ہے۔ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا ایسا دین اتارے جس میں اس کو چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ قرار دیا گیا ہو۔
حق کی دعوت جب اپنی خالص شکل میں اٹھتی ہے تو ان لوگوں پر اس کی زد پڑنے لگتی ہے جو خدا کے دین کے نام پر اپنا ایک دین عوام میں رائج کيے ہوئے ہوں۔ ایسے لوگ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں اور لوگوں کو دعوتِ حق سے پھیرنے کے لیے طرح طرح کے اعتراضات نکالتے ہیں۔ ان کے خود ساختہ دین میں اساسات دین پر زور باقی نہیں رہتا۔ اس کے بجائے جزئیاتِ دین میں موشگافیوں سے دین دار ی کا ایک ظاہری ڈھانچہ بن جاتا ہے۔ آدمی کی حقیقی زندگی کیسی ہی ہو، نیکی اور تقویٰ کا کمال یہ سمجھا جانے لگتا ہے کہ وہ اس ظاہری ڈھانچہ کا خوب اہتمام کرے۔ وہ ’’خرگوش‘‘کو یہ کہہ کر نہ کھائے کہ ہمارے اکابر اس سے پرہیز کرتے تھے۔ دوسری طرف کتنی ہی حرام چیزوں کو اپنے لیے جائز کيے ہوئے ہو۔ وہ’’بیت المقدس‘‘ کی طرف رخ کرنے میں قطب نما کی سوئی کی طرح سیدھا ہوجانا ضروری سمجھتا ہو۔ مگر صبح وشام کی سرگرمیوں کو خدا رخی بنانے سے اس کو دل چسپی نہ ہو۔ مگر نیکی کادرجہ کسی کو قربانی سے ملتا ہے ،نہ کہ سَستی ظاہر داریوں سے۔ خدا کا نیک بندہ وہ ہے جو اپنی محبت کا ہدیہ اپنے رب کو پیش کرے، جس کے لیے اللہ کے مقابلے میں دنیا کی کوئی چیز عزیز تر نہ رہے۔ حق کو ماننے کے لیے جب وقار کی قیمت دینی ہو، اللہ کے راستہ میں بڑھنے کے لیے جب مال خرچ کرنا ہو اور بچوں کے مستقبل کو خطرہ میں ڈالنا پڑے، اس وقت وہ اللہ کی خاطر سب کچھ گوارا کرلے۔ ایسے نازک مواقع پر جو شخص اپنی محبوب چیزوں کو دے کر اللہ کو لے لے وہی نیک اور خدا پرست بنا۔
یہود کے علما نے بطورِ خود جو فقہ بنا رکھی تھی اس میں اونٹ اور خرگوش کا گوشت کھانا حرام تھا، جب کہ اسلام میں وہ جائز تھا۔ اب یہود یہ کہتے کہ اسلام اگر خدا کا اترا ہوا دین ہے تو اس میںبھی حرام وحلال کے مسائل وہی کیوں نہیں هيں جو پچھلے زمانہ…
…قیمت دینی ہو، اللہ کے راستہ میں بڑھنے کے لیے جب مال خرچ کرنا ہو اور بچوں کے مستقبل کو خطرہ میں ڈالنا پڑے، اس وقت وہ اللہ کی خاطر سب کچھ گوارا کرلے۔ ایسے نازک مواقع پر جو شخص اپنی محبوب چیزوں کو دے کر اللہ کو لے لے وہی نیک اور خدا پرست بنا۔
یہود کے علما نے بطورِ خود جو فقہ بنا رکھی تھی اس میں اونٹ اور خرگوش کا گوشت کھانا حرام تھا، جب کہ اسلام میں وہ جائز تھا۔ اب یہود یہ کہتے کہ اسلام اگر خدا کا اترا ہوا دین ہے تو اس میںبھی حرام وحلال کے مسائل وہی کیوں نہیں هيں جو پچھلے زمانہ میں اتارے ہوئے خدا کے دین میں تھے۔ اسی طرح وہ کہتے کہ بیت المقدس اب تک تمام انبیاء کا قبلۂ عبادت رہا ہے۔ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا ایسا دین اتارے جس میں اس کو چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ قرار دیا گیا ہو۔
حق کی دعوت جب اپنی خالص شکل میں اٹھتی ہے تو ان لوگوں پر اس کی زد پڑنے لگتی ہے جو خدا کے دین کے نام پر اپنا ایک دین عوام میں رائج کيے ہوئے ہوں۔ ایسے لوگ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں اور لوگوں کو دعوتِ حق سے پھیرنے کے لیے طرح طرح کے اعتراضات نکالتے ہیں۔ ان کے خود ساختہ دین میں اساسات دین پر زور باقی نہیں رہتا۔ اس کے بجائے جزئیاتِ دین میں موشگافیوں سے دین دار ی کا ایک ظاہری ڈھانچہ بن جاتا ہے۔ آدمی کی حقیقی زندگی کیسی ہی ہو، نیکی اور تقویٰ کا کمال یہ سمجھا جانے لگتا ہے کہ وہ اس ظاہری ڈھانچہ کا خوب اہتمام کرے۔ وہ ’’خرگوش‘‘کو یہ کہہ کر نہ کھائے کہ ہمارے اکابر اس سے پرہیز کرتے تھے۔ دوسری طرف کتنی ہی حرام چیزوں کو اپنے لیے جائز کيے ہوئے ہو۔ وہ’’بیت المقدس‘‘ کی طرف رخ کرنے میں قطب نما کی سوئی کی طرح سیدھا ہوجانا ضروری سمجھتا ہو۔ مگر صبح وشام کی سرگرمیوں کو خدا رخی بنانے سے اس کو دل چسپی نہ ہو۔ مگر نیکی کادرجہ کسی کو قربانی سے ملتا ہے ،نہ کہ سَستی ظاہر داریوں سے۔ خدا کا نیک بندہ وہ ہے جو اپنی محبت کا ہدیہ اپنے رب کو پیش کرے، جس کے لیے اللہ کے مقابلے میں دنیا کی کوئی چیز عزیز تر نہ رہے۔ حق کو ماننے کے لیے جب وقار کی قیمت دینی ہو، اللہ کے راستہ میں بڑھنے کے لیے جب مال خرچ کرنا ہو اور بچوں کے مستقبل کو خطرہ میں ڈالنا پڑے، اس وقت وہ اللہ کی خاطر سب کچھ گوارا کرلے۔ ایسے نازک مواقع پر جو شخص اپنی محبوب چیزوں کو دے کر اللہ کو لے لے وہی نیک اور خدا پرست بنا۔
یہود کے علما نے بطورِ خود جو فقہ بنا رکھی تھی اس میں اونٹ اور خرگوش کا گوشت کھانا حرام تھا، جب کہ اسلام میں وہ جائز تھا۔ اب یہود یہ کہتے کہ اسلام اگر خدا کا اترا ہوا دین ہے تو اس میںبھی حرام وحلال کے مسائل وہی کیوں نہیں هيں جو پچھلے زمانہ…
…قیمت دینی ہو، اللہ کے راستہ میں بڑھنے کے لیے جب مال خرچ کرنا ہو اور بچوں کے مستقبل کو خطرہ میں ڈالنا پڑے، اس وقت وہ اللہ کی خاطر سب کچھ گوارا کرلے۔ ایسے نازک مواقع پر جو شخص اپنی محبوب چیزوں کو دے کر اللہ کو لے لے وہی نیک اور خدا پرست بنا۔
یہود کے علما نے بطورِ خود جو فقہ بنا رکھی تھی اس میں اونٹ اور خرگوش کا گوشت کھانا حرام تھا، جب کہ اسلام میں وہ جائز تھا۔ اب یہود یہ کہتے کہ اسلام اگر خدا کا اترا ہوا دین ہے تو اس میںبھی حرام وحلال کے مسائل وہی کیوں نہیں هيں جو پچھلے زمانہ میں اتارے ہوئے خدا کے دین میں تھے۔ اسی طرح وہ کہتے کہ بیت المقدس اب تک تمام انبیاء کا قبلۂ عبادت رہا ہے۔ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا ایسا دین اتارے جس میں اس کو چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ قرار دیا گیا ہو۔
حق کی دعوت جب اپنی خالص شکل میں اٹھتی ہے تو ان لوگوں پر اس کی زد پڑنے لگتی ہے جو خدا کے دین کے نام پر اپنا ایک دین عوام میں رائج کيے ہوئے ہوں۔ ایسے لوگ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں اور لوگوں کو دعوتِ حق سے پھیرنے کے لیے طرح طرح کے اعتراضات نکالتے ہیں۔ ان کے خود ساختہ دین میں اساسات دین پر زور باقی نہیں رہتا۔ اس کے بجائے جزئیاتِ دین میں موشگافیوں سے دین دار ی کا ایک ظاہری ڈھانچہ بن جاتا ہے۔ آدمی کی حقیقی زندگی کیسی ہی ہو، نیکی اور تقویٰ کا کمال یہ سمجھا جانے لگتا ہے کہ وہ اس ظاہری ڈھانچہ کا خوب اہتمام کرے۔ وہ ’’خرگوش‘‘کو یہ کہہ کر نہ کھائے کہ ہمارے اکابر اس سے پرہیز کرتے تھے۔ دوسری طرف کتنی ہی حرام چیزوں کو اپنے لیے جائز کيے ہوئے ہو۔ وہ’’بیت المقدس‘‘ کی طرف رخ کرنے میں قطب نما کی سوئی کی طرح سیدھا ہوجانا ضروری سمجھتا ہو۔ مگر صبح وشام کی سرگرمیوں کو خدا رخی بنانے سے اس کو دل چسپی نہ ہو۔ مگر نیکی کادرجہ کسی کو قربانی سے ملتا ہے ،نہ کہ سَستی ظاہر داریوں سے۔ خدا کا نیک بندہ وہ ہے جو اپنی محبت کا ہدیہ اپنے رب کو پیش کرے، جس کے لیے اللہ کے مقابلے میں دنیا کی کوئی چیز عزیز تر نہ رہے۔ حق کو ماننے کے لیے جب وقار کی قیمت دینی ہو، اللہ کے راستہ میں بڑھنے کے لیے جب مال خرچ کرنا ہو اور بچوں کے مستقبل کو خطرہ میں ڈالنا پڑے، اس وقت وہ اللہ کی خاطر سب کچھ گوارا کرلے۔ ایسے نازک مواقع پر جو شخص اپنی محبوب چیزوں کو دے کر اللہ کو لے لے وہی نیک اور خدا پرست بنا۔
یہود کے علما نے بطورِ خود جو فقہ بنا رکھی تھی اس میں اونٹ اور خرگوش کا گوشت کھانا حرام تھا، جب کہ اسلام میں وہ جائز تھا۔ اب یہود یہ کہتے کہ اسلام اگر خدا کا اترا ہوا دین ہے تو اس میںبھی حرام وحلال کے مسائل وہی کیوں نہیں هيں جو پچھلے زمانہ…
…تاہم بعض اوقات آدمی کی جارحیت اس کی شرپسندی کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ وقتی جذبہ کے تحت صادر ہوجاتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر مجروح جارح کو معاف کردے تو یہ اس کی طرف سے جارح کے لیے ایک صدقہ ہوگا اور سماج میں وسعت ظرف کی فضا پیدا کرنے کا ذریعہ۔
خدا کی کتاب اس لیے آتی ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی ابدی فلاح کی راہ دکھائے۔ خواہش پرستی کے اندھیرے سے نکال کر ان کو حق پرستی کی روشنی میں لائے۔ جو خدا سے ڈرنے والے ہیں وہ خدا کی کتاب کو خدا اور بندے کے درمیان مقدس عہد سمجھتے ہیں جس میں اپنی طرف سے کمی یا زیادتی جائز نہ ہو۔ وہ اس کی تعمیل اس طرح کرتے ہیں جس طرح کسی کے پاس کوئی امانت ہو اور وہ ٹھیک ٹھیک اس کی ادائیگی کرے۔ اللہ کی کتاب بندوں کے حق میں اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ضرورت ہوتی ہے کہ زندگی کے معاملات میں اسی کی ہدایت پر چلا جائے اور باہمی نزاعات میں اسی کے احکام کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ خدا کی کتاب کو اگریہ حاکمانہ حیثیت نہ دی جائے بلکہ اپنے معاملات ونزاعات کو اپنی دنیوی مصلحتوں کے تابع رکھا جائے تو یہ خدا کی کتاب سے انکار کے ہم معنی ہوگا، خواہ تبرک کے طور پر اس کا کتنا ہی زیادہ ظاہری احترام کیا جاتا ہو۔ جو لوگ اپنے كومسلم کہیں مگر ان کا حال یہ ہو کہ وہ اختیار اور آزادی رکھتے ہوئے بھی اپنے معاملات کا فیصلہ اللہ کی کتاب کے مطابق نہ کریں بلکہ خواہشوں کی شریعت پر چلیں، وہ اللہ کی نظر میں کافر اور ظالم اور فاسق ہیں۔ وہ خدا کی حاکمانہ حیثیت کا انکار کرنے والے ہیں، وہ حق کے تلف کرنے والے ہیں، وہ اطاعت خداوندی کے عہد سے نکل جانے والے ہیں۔ حکم شریعت کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے کے بعد آدمی کی کوئی حیثیت خدا کے یہاں باقی نہیں رہتی۔
قصاص کے سلسلے میں شریعت کا تقاضا ہے کہ کسی کی حیثیت کی پروا کیے بغیر اس کا نفاذ کیاجائے۔ تاہم بعض اوقات آدمی کی جارحیت اس کی شرپسندی کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ وقتی جذبہ کے تحت صادر ہوجاتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر مجروح جارح کو معاف کردے تو یہ اس کی طرف سے جارح کے لیے ایک صدقہ ہوگا اور سماج میں وسعت ظرف کی فضا پیدا کرنے کا ذریعہ۔
یہاں ’’کتاب‘‘ سے مراد دین کی اصلی اور اساسی تعلیمات ہیں۔ اللہ کی یہ کتاب ایک ہی کتاب ہے اور وہی ایک کتاب، زبان اور ترتیب کے فرق کے ساتھ، تمام نبیوں کی طرف اتاری گئی ہے۔ تاہم دین کی حقیقت جس ظاہری ڈھانچہ میں متشکل ہوتی ہے اس میں مختلف…
…میں اختیار کرنا ہے۔ آسمانی کتاب کی حامل قوم کی قیمت دنیا میںاسی وقت ہے جب کہ اس کے افراد اِس دینِ خداوندی پر قائم ہوں۔ اس سے ہٹنے کے بعد وہ خدا کی نظر میں بالکل بے قیمت ہوجاتے ہیں، حتی کہ کھلے ہوئے کافروں اور مشرکوں سے بھی زیادہ بے قیمت۔
اسلام کی دعوت جب اٹھتی ہے تو وہ اپنے ابتدائی مرحلہ میں ’’آیات بینات‘‘ کے اوپر کھڑی ہوتی ہے۔ دوسرا دور وہ ہے جب کہ اس کو ماحول میں ’’فتح‘‘ حاصل ہوجائے۔ پہلے دور میں صرف وہ لوگ اسلام کے لیے قربانی دینے کا حوصلہ کرتے ہیں جو دلائل کی سطح پر کسی چیز کی عظمت کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مگر جب اسلام کو فتح و غلبہ حاصل ہوجائے تو ہر آدمی اس کی عظمت کو دیکھ لیتا ہے اور ہر آدمی آگے بڑھ کر اس کے لیے جان و مال پیش کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔
ابتدائی دور میں اسلام کے لیے خرچ کرنے والے کو یک طرفہ طور پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ دوسرے دور میں یہ حال ہوجاتا ہے کہ آدمی جتنا خرچ کرتا ہے اس سے زیادہ وه دو مختلف شکلوں میں اس کا انعام اسی دنیا میں پا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کا درجہ اللہ کے یہاں یکساں نہیں۔
یہود سے اللہ نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ ایمان واطاعت کا عہد لیا تھا۔وہ کچھ دن اس پر قائم رہے۔ اس کے بعد ان میں بگاڑ شروع ہوگیا۔ اب اللہ نے ان کے درمیان اپنے مصلحین اٹھائے جو ان کو اپنے عہد کی یاد دہانی کریں۔ مگر یہود کی بے راہی اور سرکشی بڑھتی…
…یہ ہوتا ہے کہ ہلکی سزا دے کر قوم کو جگایا جائے۔ اگر اس کے نتیجہ میں قوم کے افراد میںخدا پرست جذبات جاگ اٹھیں تو اس کے اوپر سزا اٹھالی جاتی ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو خدا اس کو رد کرکے پھینک دیتا ہے اور پھر کبھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔
یہود سے اللہ نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ ایمان واطاعت کا عہد لیا تھا۔وہ کچھ دن اس پر قائم رہے۔ اس کے بعد ان میں بگاڑ شروع ہوگیا۔ اب اللہ نے ان کے درمیان اپنے مصلحین اٹھائے جو ان کو اپنے عہد کی یاد دہانی کریں۔ مگر یہود کی بے راہی اور سرکشی بڑھتی ہی چلی گئی۔ انھوں نے خود نصیحت کرنے والوں کی زبان بند کرنے کی کوشش کی۔ حتی کہ کتنے لوگوں کو قتل کردیا۔ جب ان کی سرکشی حد کو پہنچ گئی تو اللہ نے بابل ونینویٰ (عراق) کے بادشاہ بنو خذ نصر کو ان کے اوپر مسلط کردیا جس نے
586
ق م میں یروشلم پر حملہ کرکے یہود کے مقدس شہر کو ڈھا دیا۔ اور یہودیوںکو گرفتار کرکے اپنے ملک لے گیا تاکہ ان سے بیگار لے۔ اس واقعہ کے بعد یہود کے دل نرم ہوئے۔ انھوںنے اللہ سے معافی مانگی۔ اب اللہ نے سائرس (شاہ ایران) کے ذریعہ ان کی مدد کی۔ سائرس نے
539
ق م میں کلدانیوں کے اوپر حملہ کیا اور ان کو شکست دے کر ان کے ملک پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد اس نے یہود کو جلاوطنی سے نجات دلا کر ان کو ان کے وطن جانے اور وہاں دوبارہ بسنے کی اجازت دے دی۔
اب یہود کو نئی زندگی ملی اور ان کو کافی فروغ حاصل ہوا۔ مگر کچھ دنوں کے بعد وہ دوبارہ غفلت اور سرکشی میںمبتلا ہوئے۔ اب پھر نبیوں اور مصلحین کے ذریعہ اللہ نے ان کو متنبہ کیا۔ مگر وہ ہوش میں نہ آئے، یہاں تک کہ انھوںنے حضرت یحییٰ کو قتل کردیا اور (اپنی حد تک) حضرت مسیح کو بھی۔ اب اللہ کا غضب ان پر بھڑکا اور 70 عیسوی میں رومی شہنشاہ ٹائٹس کو ان پر مسلط کردیاگیا۔ جس نے ان کے ملک پر حملہ کرکے ان کو ویران کردیا۔ اس کے بعد یہود کبھی اپنی ذاتی بنیادوں پر کھڑے نہ ہوسکے۔
آسمانی کتاب کی حامل قوموں کی نفسیات بعدکے زمانہ میں یہ بن جاتی ہے کہ وہ خدا کے خاص لوگ ہیں۔ وہ جو کچھ بھی کریں اس پر ان کی پکڑ نہیں ہوگی۔ خدا کی تعلیمات میں اس عقیدہ کے خلاف کھلے کھلے بیانات ہوتے ہیں۔ مگر وہ ان کے بارے میں اندھے بہرے بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے گرد خود ساختہ عقیدوں اور فرضي قصے کہانیوں کا ایسا ہالہ بنا لیتے ہیں کہ خدا کی تنبیہات ان کو دکھائی اور سنائی نہیں دیتیں۔ یہود کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی ایک حاملِ کتاب قوم کو اس کے ’’دشمنوں کے قبضہ‘‘ میں دے دیا جائے تو یہ اس کے لیے خدا کی طرف سے آزمائش کا وقت ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہلکی سزا دے کر قوم کو جگایا جائے۔ اگر اس کے نتیجہ میں قوم کے افراد میںخدا پرست جذبات جاگ اٹھیں تو اس کے اوپر سزا اٹھالی جاتی ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو خدا اس کو رد کرکے پھینک دیتا ہے اور پھر کبھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔
حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی معجزے ديے۔ یہ معجزے اس لیے تھے کہ لوگ آپ کے پیغمبر ہونے کو پہچانیں اور آپ پر ایمان لائیں۔ مگر معاملہ برعکس ہوا۔ عیسائیوں نے آپ کے معجزات کو دیکھ کر یہ عقیدہ قائم کیا کہ آپ خدا ہیں۔ آپ کے اندر خدا…
…بنائے۔ وہ اسی سے ڈرے اور اسی سے محبت کرے۔ خدا سے درست تعلق ہی میں زندگی کی درستی کا راز چھپا ہوا ہے۔ اگر خدا سے تعلق درست نہ ہو تو کوئی بھی دوسری چیز انسانی زندگی کے نظام کو درست نہیں کرسکتی۔ خدا انسان کا آغاز ہے اور وہی اس کا اختتام بھی۔
یہاں فساد سے مراد دینی بگاڑ ہے جو حضرت موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کے درمیان ظاہر ہوا۔ اس کے دو دور ہیں۔ پہلے دور کے بگاڑ کی تفصیلات پرانے عہد نامہ میں زبور، یسعیاہ، یرمیاہ اور حزقی ایل کی کتابوں میں پائی جاتی ہے۔ اور دوسرے دور کے بگاڑ کی تفصیل حضرت مسیح کی زبان سے ہے جو نئے عہد نامہ میں متی اور لوقا کی انجیلوں میں موجود ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومکہ سے اٹھا کر بیت المقدس لے جایا گیا تاکہ ’’آپ کو خدا کی نشانیاں دکھائی جائیں‘‘۔ ان نشانیوں میں سے ایک نشانی وہ تاریخ بھی ہے جو بیت المقدس سے وابستہ ہے۔
یہ تاریخ دراصل خدا کے ایک قانون کا ظہور ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ آسمانی کتاب کی حامل قوم اگر کتاب الٰہی کے حقوق ادا کرے تو اس کو (آخرت کی کامیابی کے علاوہ) دنیا میں سرفرازی دی جائے۔اور اگر وہ کتاب کے حقوق ادا نہ کرے تو اس کو دنیا کی جابر قوموں کے حوالے کردیا جائے جو اس کو اپنے ظلم واستغلال کا نشانہ بنائیں۔ یہ گویا ایک علامت ہے جو اسی دنیا میں بتا دیتی ہے کہ خدا اس قوم سے خوش ہے یا نا خوش۔
اس قانون کا ظہور سابق حاملینِ کتاب (یہود) پر بار بار ہوا ہے جن میں سے دو نمایاں واقعات کا یہاں بطور نصیحت حوالہ دیاگیا ہے۔
بنی اسرائیل پر اولاً خدانے یہ انعام کیا کہ ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دلائی اور پھر حضرت موسیٰ کے بعد ان کے لیے ایسے حالات پیدا کيے کہ وہ فلسطین پر قبضہ کرکے اپنی سلطنت قائم کرسکیں۔ مگر بعد کو یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ ایک طرف وہ مشرک قوموں پر داعی بننے کے بجائے خود ان کے مدعو بن گئے اور ان کے اثر سے مشرکانہ اعمال میں مبتلا ہوگئے۔ دوسری طرف وہ آپس کے اختلاف کا شکار ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔
خدا کی نافرمانی کے نتیجہ میں بنی اسرائیل پر جو کچھ گزرا اس میں سے ایک نمایاں واقعہ بابل (عراق) کے بادشاہ نبو کد نضر کا ہے۔ یہود کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر نبو کد نضر نے فلسطین پر اپنی بالادستی قائم کرلی۔ اس کے بعد اس نے خود یہود کے شاہی خاندان میں سے ایک شخص کو اپنا نمائندہ بنا دیا کہ وہ اس کی طرف سے ان کے اوپر حکومت کرے۔ مگر یہود نے اس ’’ماتحتی‘‘ کو اپنے قومی فخر کے خلاف سمجھا اور ا س کے خلاف بغاوت کے درپے ہوگئے۔ ان کے اندر ایسے شاعر اور مقرر پیدا ہوئے جنھوں نے پرجوش انداز میں یہود کو ابھارنا شروع کیا۔ یہود کے پیغمبر یرمیاہ نے متنبہ کیا کہ یہ سب جھوٹے لیڈر ہیں۔ تم ان کے فریب میں نہ آؤ۔ تم اپنی موجودہ کمزوریوں کے ساتھ شاہ بابل کے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اس کے بجائے تم ایسا کرو کہ شاہ بابل کی سیاسی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی دینی اصلاح اور تعمیری جدوجہد میں لگ جاؤ یہاں تک کہ اللہ آئندہ تمھارے لیے مزید راہیں پیدا کردے۔ مگر یہود نے یرمیاہ نبی کی نصیحت کو نہیں مانا۔ خوش فہم لیڈروں کی باتوں میں آکر انھوں نے شاہ بابل کے خلاف بغاوت کردی۔ اس کے بعد شاہ بابل سخت غضب ناک ہوگیا۔ اس نے دوبارہ
586
ق م میں اپنی پوری طاقت سے فلسطین پر حملہ کیا۔ یہود کو مکمل شکست ہوئی۔ شاہ بابل نے نہ صرف یہود کو زبردست دنیوی نقصانات پہنچائے بلکہ یروشلم میں یہود کے عبادت خانہ کو مکمل طور پر ڈھا دیا جو یہود کی عظمت کا آخری نشان تھا۔
حقیقت اتنی کامل اور مکمل ہے کہ جو بھی خلاف واقعہ بات اس کے ساتھ منسوب کی جائے وہ فوراً بے جوڑ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا معاملہ ہے۔
مشرک لوگ اپنے مفروضہ شرکاء کو خدا کی اولاد کہتے ہیں مگر یہ بات خود ہی…
…رہے تھے اس کو لوگوں کی نظر میں ’’قلم کے جادو‘‘ کے ہم معنی بنادیا۔
جو لوگ کسی دعوت کو اس کے جوہر کی بنیاد پر نہ دیکھیں بلکہ اس اعتبار سے دیکھیں کہ وہ ان کی حیثیت کی تصدیق کرتی ہے یا تردید، ایسے لوگ کبھی صداقت کو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔
انسان کا وجود اول واضح طور پر اس کے وجود ثانی کو ممکن ثابت کرتاہے۔ جو شخص انسان کی پہلی پیدائش کو بطور واقعہ مانتا ہو، اس کے پاس کوئی حقیقی دلیل نہیں جس سے وہ انسان کی دوسری پیدائش کے امکان کو نہ مانے۔
پھر یہ کہ انسان کی پیدائشِ ثانی، کم ازکم ان لوگوں کے لیے ہر گز مستبعد نہیں جو انسان کو پتھر اور لوہا (بالفاظ دیگر مادی اشیاء کا مجموعہ) سمجھتے ہیں کیوں کہ جسم کے خليات(cells) کے ٹوٹنے کے ساتھ اسی معلوم دنیا میں یہ واقعہ ہورہاہے کہ آدمی کا مادی وجود مسلسل ختم ہوتا ہے اور پھر دوبارہ بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حشر ونشر اسی واقعہ کو موت کے بعد ماننا ہے جس کا موت سے پہلے ہم بار بار تجربہ کررہے ہیں۔
قیامت دراصل اسی دن کا نام ہے جب کہ غیب کا پردہ پھٹ جائے اور خدا اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ بالکل سامنے آجائے۔ جب ایسا ہوگا تو منکر بھی وہی کرنے پر مجبور ہوگا جو آج صرف سچا مومن کرپاتاہے۔ اس وقت تمام لوگ خدا کے کمالات کااقرار کرتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑیں گے۔
یہاں فساد سے مراد دینی بگاڑ ہے جو حضرت موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کے درمیان ظاہر ہوا۔ اس کے دو دور ہیں۔ پہلے دور کے بگاڑ کی تفصیلات پرانے عہد نامہ میں زبور، یسعیاہ، یرمیاہ اور حزقی ایل کی کتابوں میں پائی جاتی ہے۔ اور دوسرے دور کے بگاڑ کی…
…کون باقی رہتا۔
پیغمبر آخر الزماں کے مخاطبین کے ساتھ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت تھی کہ ان کے مطالبہ کے باوجود ان کو محسوس معجزات نہیں دکھائے گئے۔ اگر ایسا کیا جاتا تو اندیشہ تھا کہ ان کا بھی وہی سخت انجام ہو جو اس سے پہلے قوم ثمود کا ہوا۔
یہاں فساد سے مراد دینی بگاڑ ہے جو حضرت موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کے درمیان ظاہر ہوا۔ اس کے دو دور ہیں۔ پہلے دور کے بگاڑ کی تفصیلات پرانے عہد نامہ میں زبور، یسعیاہ، یرمیاہ اور حزقی ایل کی کتابوں میں پائی جاتی ہے۔ اور دوسرے دور کے بگاڑ کی تفصیل حضرت مسیح کی زبان سے ہے جو نئے عہد نامہ میں متی اور لوقا کی انجیلوں میں موجود ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومکہ سے اٹھا کر بیت المقدس لے جایا گیا تاکہ ’’آپ کو خدا کی نشانیاں دکھائی جائیں‘‘۔ ان نشانیوں میں سے ایک نشانی وہ تاریخ بھی ہے جو بیت المقدس سے وابستہ ہے۔
یہ تاریخ دراصل خدا کے ایک قانون کا ظہور ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ آسمانی کتاب کی حامل قوم اگر کتاب الٰہی کے حقوق ادا کرے تو اس کو (آخرت کی کامیابی کے علاوہ) دنیا میں سرفرازی دی جائے۔اور اگر وہ کتاب کے حقوق ادا نہ کرے تو اس کو دنیا کی جابر قوموں کے حوالے کردیا جائے جو اس کو اپنے ظلم واستغلال کا نشانہ بنائیں۔ یہ گویا ایک علامت ہے جو اسی دنیا میں بتا دیتی ہے کہ خدا اس قوم سے خوش ہے یا نا خوش۔
اس قانون کا ظہور سابق حاملینِ کتاب (یہود) پر بار بار ہوا ہے جن میں سے دو نمایاں واقعات کا یہاں بطور نصیحت حوالہ دیاگیا ہے۔
بنی اسرائیل پر اولاً خدانے یہ انعام کیا کہ ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دلائی اور پھر حضرت موسیٰ کے بعد ان کے لیے ایسے حالات پیدا کيے کہ وہ فلسطین پر قبضہ کرکے اپنی سلطنت قائم کرسکیں۔ مگر بعد کو یہود کے اندر بگاڑ آگیا۔ ایک طرف وہ مشرک قوموں پر داعی بننے کے بجائے خود ان کے مدعو بن گئے اور ان کے اثر سے مشرکانہ اعمال میں مبتلا ہوگئے۔ دوسری طرف وہ آپس کے اختلاف کا شکار ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔
خدا کی نافرمانی کے نتیجہ میں بنی اسرائیل پر جو کچھ گزرا اس میں سے ایک نمایاں واقعہ بابل (عراق) کے بادشاہ نبو کد نضر کا ہے۔ یہود کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر نبو کد نضر نے فلسطین پر اپنی بالادستی قائم کرلی۔ اس کے بعد اس نے خود یہود کے شاہی خاندان میں سے ایک شخص کو اپنا نمائندہ بنا دیا کہ وہ اس کی طرف سے ان کے اوپر حکومت کرے۔ مگر یہود نے اس ’’ماتحتی‘‘ کو اپنے قومی فخر کے خلاف سمجھا اور ا س کے خلاف بغاوت کے درپے ہوگئے۔ ان کے اندر ایسے شاعر اور مقرر پیدا ہوئے جنھوں نے پرجوش انداز میں یہود کو ابھارنا شروع کیا۔ یہود کے پیغمبر یرمیاہ نے متنبہ کیا کہ یہ سب جھوٹے لیڈر ہیں۔ تم ان کے فریب میں نہ آؤ۔ تم اپنی موجودہ کمزوریوں کے ساتھ شاہ بابل کے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اس کے بجائے تم ایسا کرو کہ شاہ بابل کی سیاسی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی دینی اصلاح اور تعمیری جدوجہد میں لگ جاؤ یہاں تک کہ اللہ آئندہ تمھارے لیے مزید راہیں پیدا کردے۔ مگر یہود نے یرمیاہ نبی کی نصیحت کو نہیں مانا۔ خوش فہم لیڈروں کی باتوں میں آکر انھوں نے شاہ بابل کے خلاف بغاوت کردی۔ اس کے بعد شاہ بابل سخت غضب ناک ہوگیا۔ اس نے دوبارہ
586
ق م میں اپنی پوری طاقت سے فلسطین پر حملہ کیا۔ یہود کو مکمل شکست ہوئی۔ شاہ بابل نے نہ صرف یہود کو زبردست دنیوی نقصانات پہنچائے بلکہ یروشلم میں یہود کے عبادت خانہ کو مکمل طور پر ڈھا دیا جو یہود کی عظمت کا آخری نشان تھا۔
لوگ خدا کے داعی سے اکثر اپنے تجویز کردہ معجزہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حالاں کہ اگر وہ کھلے ذہن کے ساتھ دیکھیں تو داعی کی خصوصی نصرت کی شکل میں وہ معجزہ انھیں دکھایا جاچکا ہوتاہے، جس کو وہ داعي کی صداقت کو جانچنے کے لیے دیکھنا چاہتے ہیں۔
رسول…
…کا نام شرک۔ اس اعتبار سے توحید کی اصل حقیقت اعتراف ہے اور شرک کی اصل حقیقت عدم اعتراف۔ انسان سے اس کے خدا کو اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ یہی اعتراف ہے۔ مگر انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ اعتراف کے بقدر بھی خدا کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
خدا انسان کو اس کی سرکشی کے باوجود فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ اس پر وقتی آفت بھیج کر اس کو خبردار کرتاہے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ جب آفت آتی ہے تو وقتی طورپر اس کے اندر احساس جاگتا ہے مگر آفت کے رخصت ہوتے ہی اس کا احساس بھی رخصت ہوجاتا ہے۔ حالاں کہ بعد کو بھی وہ اتنا ہی خدا کے قبضہ میں ہوتا ہے جتنا کہ وہ پہلے تھا۔
سمندر کے سفر سے اگر ایک بار وہ سلامتی کے ساتھ واپس آگیا ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ اس کو دوبارہ سمندر کا سفر پیش آئے اور وہ دوبارہ اسی آفت میں گھر جائے جس میں وہ پہلے گھرا تھا۔ مزید یہ کہ خشکی کے خطرات سمندر کے خطرات سے کم نہیںہیں۔ سمندر میں جو چیز طوفان ہے خشکی پر وہی چیز زلزلہ بن جاتی ہے۔ پھر وہ کون سا مقام ہے جہاں آدمی کوئی ایسی چیز پالے جو خدا کے مقابلہ میں اس کی طرف سے روک بن سکے۔
خدا انسان کو اس کی سرکشی کے باوجود فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ اس پر وقتی آفت بھیج کر اس کو خبردار کرتاہے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ جب آفت آتی ہے تو وقتی طورپر اس کے اندر احساس جاگتا ہے مگر آفت کے رخصت ہوتے ہی اس کا احساس بھی رخصت ہوجاتا…
…کی شخصیت اور آپ کی تعلیمات کے بارے میں کسی کے لیے شبہ کی گنجائش نہ رہے۔ انسان، خود اپنے مسلمہ علمی معیار کے مطابق آپ کی حیثیت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجائے۔ اقرار واعتراف کی آخری صورت تعریف ہے، اس لیے اس کو ’’مقام محمود‘‘ کہاگیا ہے۔
حوادث کے نتیجے میں بنی اسرائیل کے اندر رجوع الی اللہ کی کیفیت پیدا ہوئی تو خدا نے دوبارہ ان کی مدد کی۔ اس بار خدا نے شاہ ایران سائرس (خسرو) کو اٹھایا۔ اس نے
539
ق م میں بابل پر حملہ کیا، اور اس کی حکومت کو شکست دے کر اس کے اوپر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد اس نے یہود پر یہ مہربانی کی کہ ان کو دوبارہ بابل سے ان کے وطن فلسطین جانے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ وہ واپس آئے اور ایک عرصہ کے بعد دوبارہ اپنا عبادت خانہ تعمیر کیا۔
تاہم یہود کی نئی نسل میں دوبارہ وہی بگاڑ پیدا ہونے لگا جو ان کی پچھلی نسل میں پیدا ہوا تھا۔ اس درمیان میں ان کے اندر مختلف اتار چڑھاؤ آئے۔ یہاں تک کہ ان کے درمیان حضرت یحیٰ اور حضرت مسیح اٹھے۔ ان پیغمبروں نے یہود کی روش پر تنقیدیں کیں۔ ان کی اس بے دینی کو کھولا جو وہ دین کے نام پر کررہے تھے۔ مگر یہود اس تنقید وتجزیہ کا اثر قبول کرنے کے بجائے بگڑ گئے۔ حتی کہ انھوںنے حضرت یحییٰ کو قتل کردیا اور حضرت مسیح کو سولی پر چڑھانے کے لیے تیار ہوگئے۔
اب دوبارہ ان پر خدا کا غضب بھڑکا۔ 70 ءمیں رومی بادشاہ تیتس (Titus)اٹھا اور اس نے یروشلم پر حملہ کرکے اس کو بالکل تباہ وبرباد کرڈالا۔
یہود کی تاریخ کے یہ واقعات خود یہود کے نزدیک بھی مسلم ہیں۔ مگر یہود جب ان تاریخی واقعات کا ذکر کرتے ہیں تو وہ ان کو ظالموں کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں۔ مگر قرآن واضح طورپر ان کو خود یہود کے خانہ میںڈال رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیاسی حالات ہمیشہ اخلاقی حالات کے تابع ہوتے ہیں۔ کوئی ظالم کسی کے اوپر ظلم نہیں کرتا۔ بلکہ قوم کی دینی اور اخلاقی حالت کا بگاڑ لوگوں کو یہ موقع دے دیتاہے کہ وہ اس کو اپنے ظلم و استغلال کا نشانہ بنائیں۔
پیغمبر اسلام کو عرب کے سردار ’’مذموم‘‘ بنا دینا چاہتے تھے۔ مگر اللہ کا فیصلہ تھا کہ آپ کو ’’محمود‘‘ کے مقام تک پہنچایا جائے۔ اس کے لیے کہ اللہ کا منصوبہ یہ تھا کہ مدینہ میںآپ کے لیے موافق حالات پیدا کيے جائیں اور مکہ سے نکال کر آپ کو…
…اس کے برعکس، اگر ہم اطاعت قبول کرلیں تو ہم تباہی سے بچ جائیں گے۔ تاہم ملکہ نے ابتدائی اندازوں کے لیے تحفے بھیجنے کا طریقہ اختیار کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ سلیمان ہماری دولت کے خواہش مند ہیں یا اس سے آگے ان کا ہم سے کوئی اصولی مطالبہ ہے۔
حضرت سلیمان کو نبوت اور خدا کی معرفت کی شکل میں جو قیمتی دولت ملی تھی، اس کے مقابلہ میں ہر دوسری دولت ان کی نظر میں ہیچ ہوچکی تھی۔ چنانچہ ملکہ سبا کی طرف سے جب ان کے پاس سونے چاندی کے تحفے پہنچے تو انھوں نے ان کی طرف نگاہ بھی نہ کی۔
حضرت سلیمان نے اپنے عمل سے ملکہ سبا کے سفیروں کو یہ تاثر دیا کہ میرا معاملہ اصولی معاملہ ہے، نہ کہ مفاد کا معاملہ۔ مفسر ابن کثیر اس کی تشریح میں یہ الفاظ لکھتے ہیںأَيْأَتُصَانِعُونَنِي بِمَالٍ لِأَتْرُكَكُمْ عَلَى شِرْكِكُمْ وَمُلْكِكُمْ؟! (تفسیر ابن کثیر، جلد6، صفحہ
191
)یعنی، کیا تم مال دے کر مجھ کو متاثر کرنا چاہتے ہو کہ میں تم کو تمھارے شرک پر چھوڑ دوں اور تمھاری حکومت تمھارے پاس رہنے دوں۔
حضرت سلیمان کو نبوت اور خدا کی معرفت کی شکل میں جو قیمتی دولت ملی تھی، اس کے مقابلہ میں ہر دوسری دولت ان کی نظر میں ہیچ ہوچکی تھی۔ چنانچہ ملکہ سبا کی طرف سے جب ان کے پاس سونے چاندی کے تحفے پہنچے تو انھوں نے ان کی طرف نگاہ بھی نہ کی۔
حضرت…
…کہ اِدھر حضرت سلیمان کی زبان سے حکم کے الفاظ نکلے اور ادھر زروجواہر سے جڑا ہوا تخت ان کے سامنے رکھا ہوا موجود تھا۔ اس غیر معمولی قوت کے باوجود حضرت سلیمان کے اندر فخر کا کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوا۔ وہ سرتاپا تواضع بن کر خدا کے آگے جھکے رہے۔
حضرت سلیمان کے پاس اگرچہ غیر معمولی طاقت تھی۔ مگر انھوں نے استعمالِ طاقت کے بجائے مظاہرۂ طاقت کے ذریعہ قوم سبا کو زیر کرنے کا منصوبہ بنایا۔ چنانچہ آپ نے اپنے خصوصی کارندہ کے ذریعہ ملکہ کے تخت کو مارب (Marib) کے محل سے یروشلم (فلسطین) منگوالیا۔ تخت کو منگانے کا واقعہ غالباً اس وقت پیش آیا جب کہ تحفہ کی واپسی کے بعد ملکہ سبا یمن سے فلسطین کے ليے روانہ ہوئی۔ تاکہ وہ حضرت سلیمان کے دربار میں پہنچ کر براہِ راست آپ سے گفتگو کرے۔ ملکہ سبا کا اپنے خدم وحشم کے ساتھ یہ سفر یقیناً اس وقت ہوا ہوگا جب کہ اس کے سفارتی وفد نے واپس جاکر حضرت سلیمان کی حکمت کی باتیں اور آپ کے غیر معمولی کردار کی شہادت دی اور آپ کی غیر معمولی عظمت کا حال بیان کیا۔
مارب سے یروشلم کا فاصلہ تقریباً ڈیڑھ ہزار میل ہے۔ یہ لمبا فاصلہ اس طرح طے ہوا کہ اِدھر حضرت سلیمان کی زبان سے حکم کے الفاظ نکلے اور ادھر زروجواہر سے جڑا ہوا تخت ان کے سامنے رکھا ہوا موجود تھا۔ اس غیر معمولی قوت کے باوجود حضرت سلیمان کے اندر فخر کا کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوا۔ وہ سرتاپا تواضع بن کر خدا کے آگے جھکے رہے۔
قبطی کی موت کے واقعہ کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے مدین چلے گئے تھے۔ مدین کا علاقہ بحراحمر کی اس شاخ کے مشرقی ساحل پر تھا جس کو خلیج عقبہ کہاجاتاہے۔ حضرت موسیٰ نے یہاں تقریباً آٹھ سال گزارے اس کے بعد وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ مصر واپس…
…کہ اِدھر حضرت سلیمان کی زبان سے حکم کے الفاظ نکلے اور ادھر زروجواہر سے جڑا ہوا تخت ان کے سامنے رکھا ہوا موجود تھا۔ اس غیر معمولی قوت کے باوجود حضرت سلیمان کے اندر فخر کا کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوا۔ وہ سرتاپا تواضع بن کر خدا کے آگے جھکے رہے۔
ملکہ سبا اپنے ملک سے روانہ ہو کر بیت المقدس پہنچی۔ یہاں وہ حضرت سلیمان کے محل میں داخل ہوئی تو بالکل انجان طورپر اس کے سامنے ایک تخت لایاگیا۔ اور کہاگیا کہ دیکھو، کیا یہ تمھارا تخت ہے۔ یہ دیکھ کر وہ خدا کی قدرت پر حیران رہ گئی کہ اپنے جس تخت کو وہ مارب کے محل میں محفوظ کرکے آئی تھی وہ پراسرار طورپر ڈیڑھ ہزار میل کا فاصلہ طے کرکے بیت المقدس پہنچ گیا ہے۔
حضرت سلیمان کے محل میں داخل ہو کر ملکہ سبا ایک ایسے مقام پر پہنچی جس کا فرش صاف وشفاف شیشہ کی موٹی تختیوں سے بنایا گیا تھا اور اس کے نیچے پانی بہہ رہا تھا۔ ملکہ جب چلتے ہوئے یہاں پہنچی تو اس کو اچانک محسوس ہو ا کہ اس کے آگے پانی کا حوض ہے۔ اس وقت اس نے وہی کیا جو پانی میں اترنے والا ہر آدمی کرتاہے۔ یعنی اس نے غیر ارادی طور پر اپنے کپڑے اٹھاليے۔
اس طرح گویا کہ عملی تجربہ کی زبان میں اس کو بتایا گیا کہ انسان ظاہر کو دیکھ کر فریب کھا جاتاہے، مگر اصل حقیقت اکثر اس سے مختلف ہوتی ہے جو ظاہری آنکھوں سے دکھائی دیتی ہے۔ آدمی ظاہری طورپر سورج اور چاند کو نمایاں دیکھ کران کی پرستش کرنے لگتاہے،حالاں کہ حقیقی خدا وہ ہے جو ان ظواہر سے آگے ہے۔
ملکہ سبا اب تک قومی روایات کے زیر اثر سورج کی پرستش کررہي تھی۔ مگر حضرت سلیمان کے قریب پہنچ کر اس نے جو کچھ سنا اور جوکچھ دیکھا اس نے اس کے ذہن سے غیر اللہ کی عظمت کا یکسر خاتمہ کردیا۔ اس نے دینِ شرک کو چھوڑ دیا اور دینِ توحید کو دل وجان سے اختیار کرلیا۔
ملکہ سبا اپنے ملک سے روانہ ہو کر بیت المقدس پہنچی۔ یہاں وہ حضرت سلیمان کے محل میں داخل ہوئی تو بالکل انجان طورپر اس کے سامنے ایک تخت لایاگیا۔ اور کہاگیا کہ دیکھو، کیا یہ تمھارا تخت ہے۔ یہ دیکھ کر وہ خدا کی قدرت پر حیران رہ گئی کہ اپنے جس…
ظہور اسلام کے وقت دنیا میں دو بہت بڑی سلطنتیں تھیں۔ ایک، مسیحی رومی سلطنت۔ دوسرے مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کش مکش جاری رہتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد
603
ء کا واقعہ ہے کہ بعض کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کردیا۔ رومیوں کو شکست پر شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ
616
ء تک یروشلم سمیت روم کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت 610 ء میں ملی اور آپؐ نے مکہ میں دعوت توحید کا کام شروع کیا۔ اس لحاظ سے یہ عین وہی زمانہ تھا جب کہ مکہ میں توحید اور شرک کی کش مکش جاری تھی۔ مکہ کے مشرکین نے سرحدی واقعہ سے فال لیتے ہوئے مسلمانوں سے کہا کہ ہمارے مشرک بھائیوں (مجوس) نے تمھارے اہل کتاب بھائیوں (مسیحی) کو شکست دي ہے۔ اسی طرح ہم بھی تمھارا خاتمہ کردیں گے۔
اس وقت قرآن میں حالات كے سراسر خلاف یہ پیشین گوئی اتری کہ دس سال کے اندر رومی دوبارہ ایرانیوں پر غالب آجائیں گے۔ رومی مؤرخین بتاتے ہیں کہ اس کے جلد ہی بعد روم کے شکست خوردہ بادشاہ (ہرقل) میں پُراسرار طور پر تبدیلی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ
623
ء میں اس نے ایران پر جوابی حملہ کیا۔
624
ء میں اس نے ایران پر فیصلہ کن فتح حاصل کی۔
627
ء تک اس نے اپنے سارے مقبوضہ علاقے ایرانیوں سے واپس لے ليے۔ قرآن کی پیشین گوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی اس سے ثابت ہوتاہے کہ قرآن کا مصنف خداہے۔ خدا کے سوا کوئی بھی مستقبل کے بارے میں اتنا صحیح بیان نہیں دے سکتا۔
مزیدیہ واقعہ بتاتا ہے کہ ہار اور جیت براہِ راست خدا کے اختیار میں ہے۔ اسی کے فیصلہ سے کسی کو اقتدار ملتاہے اور کسی سے اقتدار چھن جاتاہے۔ ایک قوم کا گرنا اور دوسری قوم کا اٹھنا بظاہر عام دنیوی واقعہ ہے۔ مگر اس ظاہر کا ایک باطن ہے۔ ہر واقعہ کے پیچھے خدا کے فرشتے فیصلہ کن طورپر کام کررہے ہوتے ہیں، اگر چہ وہ عام انسانی آنکھوں کو دکھائی نہیں دیتے — — اسی طرح موجودہ عالم ظاہر کا بھی ایک باطن ہے اور وہ عالم آخرت ہے۔
ایک مکمل دنیا کا موجود ہونا پہلی تخلیق کا یقینی ثبوت ہے۔ پھر جب پہلی تخلیق ممکن ہے تو دوسری تخلیق کیوں ممکن نہیں۔ جو شخص موجودہ دنیا کو مانے اور آخرت کو نہ مانے وہ خود اپنی مانی ہوئی بات کے لازمی تقاضے کا انکار کررہا ہے۔
’’مجرمین‘‘ سے…
…متعین صورت کانام پانچ وقت کی نماز ہے۔ آیت میں صبح کی تسبیح سے مراد فجر کی نماز ہے۔ شام کی تسبیح میں مغرب اور عشا ء کی نمازیں شامل ہیں۔ دوپہر ڈھلنے کے بعد کی تسبیح سے مراد ظہر کی نماز ہے۔ اور دن کے پچھلے وقت کی تسبیح سے مراد عصرکی نماز۔
موجودہ دنیا کا ایک عجیب وغریب کرشمہ ایک چیز کا دوسری چیز میں مبدل ہونا ہے۔ یہاں غیر اضافہ پذیر مادہ اضافہ پذیر مادہ میں تبدیل ہورہاہے۔ یہاں بے جان مٹی (بالفاظ دیگر ارضی اجزاء) تبدیل ہو کر چلنے اور بولنے والے انسان کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ سب کچھ حد درجہ بامعنی طورپر ہورہاہے۔ مثال کے طورپر ’’مٹی‘‘ جب تبدیل ہو کر انسان بنتی ہے تو اس کا تقریباً نصف حصہ مرد کی صورت میں ڈھل جاتا ہے اور تقریباً نصف حصہ عورت کی صورت میں۔ اسی تقسیم کی بدولت انسانی تہذیب ہزاروں سال سے قائم ہے۔ یہ تبدیلی اور پھر منظم اور متناسب تبدیلی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس کے پیچھے ایک قادر مطلق خدا کی کارفرمائی مانی جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ آدمی اگر خدا کی تخلیق پر غور کرے تو اس کو ایسا لگے گا جیسے ہر چیز میں خدا کا جلوہ ہو۔ ہر چیز سے خدا جھانک رہا ہو۔
ظہور اسلام کے وقت دنیا میں دو بہت بڑی سلطنتیں تھیں۔ ایک، مسیحی رومی سلطنت۔ دوسرے مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کش مکش جاری رہتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد
603
ء کا واقعہ ہے کہ بعض کمزوریوں سے فائدہ…
…ہر آن ہورہا ہے اس کے بعد تخلیق ثانی کو مانناایسا ہی ہے جیسے ایک ثابت شدہ چیز کو ماننا۔ کائنات میں خدا کی قدرت اور اس کی حکمت کا اظہار اتنی اعلیٰ سطح پر ہور ہا ہے کہ اس کے بعد کسی بھی کارنامہ کو خدا کی طرف منسوب کرنا کوئی مستبعد چیز نہیں۔
ایک مشترک مال یا جائداد ہو تو اس میں اس کے تمام شرکاء کا حق ہوتاہے اور ہر شریک کو دوسرے شریک کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔ مگرخدا کا معاملہ اس قسم کا معاملہ نہیں۔ خدا تنہا تمام کائنات کا مالک ہے۔ خداکےلیے صحیح مثال آقا اور غلام کی ہے، نہ کہ شرکاء جائداد کی۔ خدا اور اس کی مخلوقات کے درمیان زیادہ بڑے پیمانے پر وہی نسبت ہے جو ایک آقا اور ایک غلام کے درمیان پائی جاتی ہے۔ کوئی شخص اپنے غلام یا نوکر کو اپنے برابر کا درجہ نہیں دیتا۔ اسی طرح کائنات میں کوئی بھی نہیں ہے جس کو خدا کے ساتھ برابری کی حیثیت حاصل ہو۔ خدا کی طرف صرف آقائی ہے اور بقیہ مخلوقات کی طرف صرف محکومی اور غلامی۔
مخلوقات کا اپنے اپنے تخلیقی نظام کا پابند ہونا بتاتا ہے کہ خدا اور مخلوقات کے درمیان صحیح نسبت آقا اور غلام کی ہے۔ اس کے سوا جو نسبت بھی قائم کی جائے گی اس کی بنیاد محض انسانی مفروضے پر ہوگی، نہ کہ کسی واقعی دلیل پر۔
ایک مشترک مال یا جائداد ہو تو اس میں اس کے تمام شرکاء کا حق ہوتاہے اور ہر شریک کو دوسرے شریک کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔ مگرخدا کا معاملہ اس قسم کا معاملہ نہیں۔ خدا تنہا تمام کائنات کا مالک ہے۔ خداکےلیے صحیح مثال آقا اور غلام کی ہے، نہ کہ…
…الٰہی کےلیے خرچ کرتاہے۔ چنانچہ وہ اپنے مال میں دوسرے ضرورت مندوں کا بھی حصہ لگاتا ہے، خواہ وہ اس کے رشتہ دار ہوں یا غیر رشتہ دار۔ وہ اپنے مال کو آخرت کا نفع کمانے کےلیے خرچ کرتاہے، نہ کہ سود خواروں کی طرح صرف دنیا کا نفع کمانے کےلیے۔
مومن راحت اور مصیبت دونوں کو خدا کی طرف سے سمجھتاہے۔ اس ليے وہ دونوں حالتوں میں خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ وہ راحت میں شکر کرتا ہے اور مصیبت میں صبر۔ اس کے برعکس، غیر مومن کا بھروسہ اپنے آپ پر ہوتا ہے۔ اس ليے وہ اچھے حالات میں نازاں ہوتا ہے اور جب اس کی قوتیں جواب دے جائیں تو وہ مایوسی کا شکار ہوجاتاہے۔ کیوں کہ اس کو محسوس ہوتاہے کہ اب اس کی آخری حد آگئی۔ یہ گویا فطرت کی شہادت ہے جو بتاتی ہے کہ پہلا ذہن حقیقی ذہن ہے اور دوسرا ذہن غیر حقیقی ذہن۔
مومن کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے مال کو رضائے الٰہی کےلیے خرچ کرتاہے۔ چنانچہ وہ اپنے مال میں دوسرے ضرورت مندوں کا بھی حصہ لگاتا ہے، خواہ وہ اس کے رشتہ دار ہوں یا غیر رشتہ دار۔ وہ اپنے مال کو آخرت کا نفع کمانے کےلیے خرچ کرتاہے، نہ کہ سود خواروں کی طرح صرف دنیا کا نفع کمانے کےلیے۔
مومن راحت اور مصیبت دونوں کو خدا کی طرف سے سمجھتاہے۔ اس ليے وہ دونوں حالتوں میں خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ وہ راحت میں شکر کرتا ہے اور مصیبت میں صبر۔ اس کے برعکس، غیر مومن کا بھروسہ اپنے آپ پر ہوتا ہے۔ اس ليے وہ اچھے حالات میں نازاں ہوتا…
…اور نہایت مدلل بات ہے۔ مگر خدا کی بات کا مومن وہی بنے گا جو چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھے، جو باتوں کو دھیان کے ساتھ سنے۔ جس کے اندر یہ مزاج ہو کہ جو بات سمجھ میں آجائے اس کو مان لے، جس راستہ کا صحیح ہونا معلوم ہو جائے اس پر چلنے لگے۔
آدمی حق کا راستہ اختیار کرے تو اس کو اکثر سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتاہے، جیسا کہ دور اول میں رسولؐ اور اصحاب رسولؐ کے ساتھ پیش آیا۔مگر ان حالات میں کسی کےلیے مایوس ہونے کا سوال نہیں۔ جو خدا اتنا رحیم ہے کہ جب کھیتی کو پانی كي ضرورت ہوتی ہے تو وہ عالمی نظام کو متحرک کرکے اس کو سیراب کرتا ہے، وہ یقیناً اپنے راستہ پر چلنے والوں کی بھی ضرور مدد فرمائے گا۔ تاہم یہ مدد خدا کے اپنے اندازہ کے مطابق آئے گی۔ اس ليے اگر اس میں دیر ہو تو آدمی کو مایوس اور بد دل نہیں ہونا چاہيے۔
خدا کی بات نہایت واضح اور نہایت مدلل بات ہے۔ مگر خدا کی بات کا مومن وہی بنے گا جو چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھے، جو باتوں کو دھیان کے ساتھ سنے۔ جس کے اندر یہ مزاج ہو کہ جو بات سمجھ میں آجائے اس کو مان لے، جس راستہ کا صحیح ہونا معلوم ہو جائے اس پر چلنے لگے۔
ظہور اسلام کے وقت دنیا میں دو بہت بڑی سلطنتیں تھیں۔ ایک، مسیحی رومی سلطنت۔ دوسرے مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کش مکش جاری رہتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد
603
ء کا واقعہ ہے کہ بعض کمزوریوں سے فائدہ…
…میں داعی کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے یقین کو نہ کھوئے۔ اگر حالات کے دباؤ کے تحت اس نے اپنے یقین کو کھو دیا تو وہ ایسی بات بولنے لگے گا جو عام لوگوں کو شاید اہم معلوم ہو، مگر اللہ کی نظر میں اس سے زیادہ غیر اہم بات اور کوئی نہ ہوگی۔
مکہ میں لوگ کہتے تھے کہ اگر تم پیغمبر ہو تو کوئی خارق عادت کرشمہ دکھاؤ۔ مگر ان کے اس مطالبہ کو پورا نہیں کیاگیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خارق عادت کرشمہ اصل مقصد کے اعتبار سے بے فائدہ تھا۔ اسلام کا مقصد تو یہ تھا کہ لوگوں کے عمل میں تبدیلی ہو اور عمل میں تبدیلی فکر کی تبدیلی سے آتی ہے، نہ کہ خارق عادت کرشمہ دکھا کر لوگوں کو اچنبھے میں ڈال دینے سے۔
چنانچہ قرآن کا سارا زور استدلال پر ہے۔ وہ دلیل کے ذریعہ انسان کے ذہن کو بدلنا چاہتا ہے۔وہ آدمی کو اس قابل بنانا چاہتا ہے کہ واقعات کو صحیح رخ سے دیکھے اور معاملات پر صحیح رائے قائم کرسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کا اصل مسئلہ صحت فکر ہے۔ اگر آدمی کے اندر صحیح فکر نہ جاگا ہو تو کرشموں اور معجزوں کو دیکھ کر دوبارہ وہ کوئی ناسمجھی کا لفظ بول دے گا جس طرح وہ اس سے پہلے ناسمجھی کے الفاظ بولتا رہا ہے۔
لاعلمی کی بنا پر مہر لگنا صحت فکر نہ ہونے کی وجہ سے باتوں کو نہ سمجھنا ہے۔ آدمی کے اندر رائے قائم کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو وہ چیزوں کو ان کے صحیح رخ سے نہیں دیکھ پاتا۔ اس بنا پر وہ چیزوں سے اپنے ليے صحیح رہنمائی بھی حاصل نہیں کرپاتا۔جو اللہ کا بندہ بے آمیز حق کی دعوت لے کر اٹھے اس کو ہمیشہ لوگوں کی طرف سے حوصلہ شکن رد عمل کا سامنا پیش آتا ہے۔ داعی تمام تر آخرت کی بات کرتا ہے جب کہ لوگوں کا ذہن دنیا کے مسائل میں الجھا ہوا ہوتاہے۔ اس بنا پر لوگ داعی کی تحقیر کرتے ہیں۔ وہ اس کو ہر لحاظ سے نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ ماحول میں داعی کی بات بے وزن معلوم ہونے لگتی ہے۔
یہ صورت حال مدعو کے ساتھ داعی کو بھی آزمائش میں ڈال دیتی ہے۔ ایسے وقت میں داعی کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے یقین کو نہ کھوئے۔ اگر حالات کے دباؤ کے تحت اس نے اپنے یقین کو کھو دیا تو وہ ایسی بات بولنے لگے گا جو عام لوگوں کو شاید اہم معلوم ہو، مگر اللہ کی نظر میں اس سے زیادہ غیر اہم بات اور کوئی نہ ہوگی۔
ظہور اسلام کے وقت دنیا میں دو بہت بڑی سلطنتیں تھیں۔ ایک، مسیحی رومی سلطنت۔ دوسرے مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کش مکش جاری رہتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد
603
ء کا واقعہ ہے کہ بعض کمزوریوں سے فائدہ…
…صلاحیتوں کو خدا کی مرضی کے تابع نہ کریں، ان سے موجودہ نعمتیں بھی چھین لی جائیں گی اور کامل محرومی کے سوا کوئی جگہ نہ ہوگی جہاںان کو ٹھکانا مل سکے— پیغمبروں کی بعثت اور پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہونے والے نتائج اس کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔
تین اور زیتون دو پہاڑوں کے نام ہیں، جن کے قریب بیت المقدس واقع ہے، یعنی حضرت مسیح کا مقام عمل۔ طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ پر خدا نے وحی فرمائی۔ بلد امین سے مراد مکہ ہے جہاں پیغمبر اسلام مبعوث ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ صلاحیتیں اس لیے ہیں کہ انسان پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر کیے جانے والے حق کو پہچانے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنائے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ عزت اور بلندی کا ابدی مقام پائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اپنی خداداد صلاحیتوں کو خدا کی مرضی کے تابع نہ کریں، ان سے موجودہ نعمتیں بھی چھین لی جائیں گی اور کامل محرومی کے سوا کوئی جگہ نہ ہوگی جہاںان کو ٹھکانا مل سکے— پیغمبروں کی بعثت اور پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہونے والے نتائج اس کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔
تین اور زیتون دو پہاڑوں کے نام ہیں، جن کے قریب بیت المقدس واقع ہے، یعنی حضرت مسیح کا مقام عمل۔ طور سینین سے مراد وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ پر خدا نے وحی فرمائی۔ بلد امین سے مراد مکہ ہے جہاں پیغمبر اسلام مبعوث ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو…
18 مارچ 1985
صہیون (Zion) کا لفظ بائبل میں 152 بار آیا ہے۔ یہ قدیم یروشلم میں ایک پہاڑ کا نام تھا۔ یہودی تاریخ بتاتی ہے کہ دسویں صدی قبل مسیح میں حضرت داؤد نے اسی پہاڑ پر اپنا شاہی قلعہ بنایا تھا۔ اس کے بعد حضرت سلیمان نے اسی پہاڑ پر عبادت گاہ تعمیر کی۔ بعد کو صہیون کا لفظ عمومی طورپر پورے شہر یروشلم کے ليے استعمال ہونے لگا، جو کہ یہودیوں کے نزدیک ان کا مقدس وطن ہے۔ اس علاقہ کو آج کل اوفیل (Ophel) کہاجاتا ہے۔
اس طرح یہودی روایات کے مطابق ’’صہیون‘‘ سے مراد یہودیوں کا مذہبی اور سیاسی مرکز ہے، اور تحریکِ صہیونیت سے مراد داؤد اور سلیمان کے دور کو زندہ کرنا ہے، تا کہ یہودی عظمت دوبارہ مذہبی اور سیاسی اعتبار سے قائم ہوجائے۔یہ ایک مثال ہے کہ مذہبی…
اصلاح کی طرف
صلیبی لڑائیاں (crusades) ان جنگی مہموں کو کہا جاتا ہے جو مغربی یورپ کی مسیحی حکومتوں نے مسلم حکومتوں کے خلاف جاری کیں۔ اس سلسلے کی پہلی مہم 1095ء میں شروع ہوئی۔ اور 1271قء تک وقفہ وقفہ سے جاری رہی۔ ان جنگی مہموں کا مقصد مقدس یروشلم کو بددینوں (مسلمانوں) کے قبضے سے نکالنا تھا۔ مگر مسیحی طاقتوں کو اپنی اس مہم میں مکمل ناکامی ہوئی۔
ایچ جی ویلز نے اپنی کتاب (The Outline of History) میں لکھا ہے کہ پہلی صلیبی مہم کے وقت یورپ کے مسیحیوں میں بڑا جوش و خروش تھا۔ مگر تیرہویں صدی کے آخر میں جب انہیں مکمل شکست ہوئی تو اس کے بعد کسی نئی صلیبی جنگ چھیڑنے کے لیے مسیحی قوموں کے…
يهود كى تاريخ
دفع كے اِس قانون كا نفاذبعد كے زمانے ميں خود يهود (بنى اسرائيل) پر كياگيا۔ بنى اسرائيل كو الله تعاليٰ نے عروج اور غلبه عطا كيا، ليكن ايك مدت كے بعد يهود ميں بھى وهى ’’فساد‘‘ پيدا هوا جو كه هر قوم ميں پيداهوتا هے۔ جب ايسا هوا تو الله تعاليٰ نے كسى اور قوم كے ذريعے يهود كے ساتھ دفع كا وهى معامله كيا جس كو هم نے ريڈيكل آپريشن (radical operation) كا نام دياهے۔
اِس سلسلے ميں قرآن ميں دو متعين آپريشن كا حواله دياگيا (17:4-8)۔ پهلا واقعه بابِل (عراق)كے بادشاه نبوكد نضر (Nebuchadnezzar) كا هے۔ اس نے 586 قبل مسيح ميں فلسطين پر حمله كيا، جو اُس وقت بنى اسرائيل كے زير قبضه تھا۔ نبوكد نضر نے بنى…
…کیا کہ انھوں نے ایک نیا دور پیدا کردیا۔ اُن سے پہلے توحید کا عقیدہ صرف ایک نظریے کی حیثیت رکھتا تھا۔ اصحاب رسول کی غیر معمولی کوششوں سے وہ انقلاب کے مرحلے میں داخل ہو گیا۔ شرک کا دور ختم ہوگیا اور توحید کا دور پوری طاقت کے ساتھ شروع ہوگیا۔
اِسی انقلاب کا نتیجہ تھا کہ تاریخ میں ایک نیا پراسس (process) شروع ہوگیا۔ اِس پراسس کا آغاز ساتویں صدی کے نصف اول میں عرب سے ہوا، اس کا اختتام (culmination) ایک ہزار سال کے بعد یورپ میں ہوا۔اس انقلاب کے بہت سے پہلو تھے۔ مثلاً اِس انقلاب نے اسلام کے عقیدے کو سائنسی حقیقت (scientific reality)کے درجے تک پہنچا دیا۔ اس نے مذہبی آزادی کا دروازہ کھولا۔ اس کے بعد دعوت وتبلیغ کے راستے کی تمام رکاوٹیں ختم ہوگئیں۔ اس کے نتیجے میں جدید کمیونکیشن وجود میں آیا، جس کے بعد یہ ممکن ہوگیا کہ اسلام کے پیغام کو عالمی سطح پر پہنچایا جاسکے۔ آفاق وانفس میں سائنس کی دریافتوں سے یہ ممکن ہوگیاکہ اعلیٰ ترین علمی معیار پر حق کی تبیین کی جاسکے (41:53)۔
آیتِ اسرا
موجوده مسلمانوں كى ناكامي
اسلام كے ظهور كے بعد الله تعالى نے مسلمانوں كو سياسى اقتدار عطا كيا۔ يه سياسى اقتدار ساتويں صدى عيسوى سے لے كر اٹھارھويں صدى تك كسى نه كسى طورپر جارى رها۔ اِس اقتدار كا مقصد حكومت يا عيش وعشرت نهيں تھا۔ اس كا مقصد صرف يه تھا كه مسلمان بے خوف هو كر فطرت (nature) كى تحقيق كريں اور فطرت ميں چھپے هوئے امكانات كو دريافت كركے وه مواصلاتى وسائل تيار كريں جن كے ذريعے سے دعوت الى الله كے كام كو عالمى طورپر انجام ديا جاسكے۔
اِس معاملے ميں الله تعالى نے ايسے اشارے کردیے تھے جو مسلمانوں كے ليے اپنے رول كو سمجھنے كے ليے كافى هوسكتے تھے، مگر مسلمان اشارے كى زبان كو سمجھ نه سكے۔ مثلاً قرآن ميں كثرت سے ايسى آيتيں هيں جن ميں يه بتايا گياهے كه زمين اور آسمان كى…
…يُعْلَمُ مِنْ صِدْقِهِ وَأَمَانَتِهِ(سیرت ابن ہشام جلد1،صفحہ485)۔یعنی مکہ میں جس کسی کے پاس بھی کوئی ایسی چیزہوتی جس کے بارے میں اسے کسی قسم کااندیشہ ہوتاتواسے آپ کے پاس رکھ دیتا،کیوں کہ ہرایک کوآپ کی سچائی اوردیانتداری کایقین تھا۔
نبوت کے تیرہویں سال عین ا س وقت جب کہ آپ کے مخالفین آپ کامکان گھیرے ہوئے کھڑے تھے،اوراس بات کاقطعی فیصلہ کرچکے تھے کہ باہرنکلتے ہی آپ کو قتل کردیں گے، آپ گھرکے اندراپنے نوجوان عزیزعلی بن ابی طالب کویہ وصیت کررہے تھے کہ میرے پاس مکہ کے فلاں فلاں لوگوں کامال امانت رکھاہواہے،میرے جانے کے بعدتم ان سب کامال انھیں واپس کردینا۔
نضربن حارث جوآپ کامخالف ہونے کے ساتھ دنیوی معاملات میں قریش کے اندرسب سے زیادہ تجربہ کارتھا،اس نے ایک روزاپنی قوم سے کہا— ’’قریش کے لوگو!محمدکی دعوت نے تم کو ایسی مشکل میں ڈال دیاہے،جس کاکوئی حل تمہارے پاس نہیں ہے، وہ تمہاری آنکھوں کے…
…کے زمانۂ قیام میں خسرونے ماریس کی لڑکی سے شادی کرلی تھی اوراس رشتہ کی بنا پرماریس کووہ اپناباپ کہتاتھا۔چنانچہ جب خسروکورومی انقلاب کی خبرملی تووہ سخت برہم ہوا،اس نے رومی سفیرکو قیدکرا دیا، اور نئی حکومت کوتسلیم کرنے سے انکارکردیا۔
اس کے بعدفوراًاس نے اپنی فوجوں کے ذریعے روم پرچڑھائی کردی،603ء میں اس کی فوجیں دریائے فرات کوپارکرکے شام کے شہروںمیں داخل ہوگئیں— فوکاس اپنی نااہلی کی وجہ سے ا س غیرمتوقع حملہ کوروکنے میں کامیاب نہ ہوا،ایرانی فوجیں بڑھتی رہیں، یہاں تک کہ انطاکیہ کوفتح کرتے ہوئے یروشلم پرقابض ہوگئیں،ایرانی سلطنت کے حدود فرات سے پارکرکے یکایک وادیٔ نیل تک وسیع ہوگئے،سابقہ رومی سلطنت کے مذہبی داروگیری کی وجہ سے چرچ کے مخالف فرقے نسطوری اوریعقوبی نیزیہودی پہلے سے رومی حکومت سے ناراض تھے ،اب انھوں نے روم دشمنی میں نئے فاتحین کاساتھ دیا،ا س چیزنے خسروکی کامیابی کوبہت آسان بنادیا ۔
فوکاس کی ناکامی دیکھ کرسلطنت کے کچھ امراءنے افریقہ کے رومی گورنرکے یہاں خاموش پیغام بھیجاکہ وہ ملک کوبچانے کی کوشش کرے۔اس نے اپنے لڑکے ہرقل (Heraclius) کواس مہم پرروانہ کیا،ہرقل سمندرکے راستہ سے فوج لے کرافریقہ سے روانہ ہوا، اوریہ ساری…
…اور مسلمانوں کے وطن پر حملہ کیا۔ لیکن قرآن میں جب غزوۂ احد پر تبصرہ کیا گیا تو اس میں مخالفین کے ظلم اور سازش کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیابلکہ یہ کہاگیا کہ مسلمانوں کی خود اپنی داخلی کوتاہی کے نتیجے میں یہ شدید نقصان انھیں بھُگتنا پڑا۔
غزوۂ احد کے بارے میں قرآن میںان الفاظ میں آیا ہےحَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِی الْأَمْر ِ(3:152)۔یعنی،جب تم کمزور پڑ گئے اور معاملے میں اپنے درمیان اختلاف کر لیا۔ قرآن کی اِس آیت میں واضح طور پر مسلمانوںکو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اُحد کی شکست اور نقصان کا ذمہ دار وہ دوسروں کو قرار نہ دیں۔ بلکہ خود اپنے آپ کو اس کا ذمّہ دار سمجھ کر اپنی اصلاح کریں۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے خدا کے ایک اور قانون کو جاننا بہت ضروری ہے۔ اس قانون کا تعلق مخصوص طور پر اہلِ کتاب سے ہے۔ اس خدائی قانون کا اطلاق، پیغمبرِاسلام کے ظہورسے پہلے، سابق اہلِ کتاب، یہود پر ہوا اور اب اس خدائی قانون کا تعلق مسلم امّت…
عزت کیسے ملتی ہے
16ھ میں مسلمان فوجیں حضرت ابو عبیدہؓ کی قیادت میں شام کو فتح کرتے ہوئے فلسطین تک پہنچ گئیں۔ عیسائی بیت المقدس میں قلعہ بند ہوگئے اور مسلم فوجوں نے اس کو اپنے محاصرہ میں لے لیا۔ اس وقت عیسائیوں کی طرف سے صلح کی پیش کش ہوئی جس میں ایک خاص شرط یہ تھی کہ خلیفہ(عمر فاروقؓ) خود آ کر عہد نامہ کی تکمیل کریں۔ حضرت ابوعبیدہ نے عیسائیوں کی اس پیش کش سے خلیفہ دوم کو مطلع کیا۔ آپ نے اصحاب سے مشورہ کیا اوربالآخر مدینہ سے نکل کر فلسطین کے لئے روانہ ہوئے۔
حضرت عمر فاروقؓ کے ساتھ ایک اونٹ تھا اور ایک خادم۔ جب آپ مدینہ کے باہر پہنچے تو آپ نے خادم سے کہا۔ ہم دو ہیں اور سواری ایک ہے۔ اگر میں سواری پر بیٹھوں اور تم پیدل چلو تو میں تمہارے اوپر ظلم کروں گا۔ اور اگر تم سواری پر بیٹھو اور میں پیدل…
…چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو ان کے سردار متفرق ہو چکے تھے۔ ان کے سربرآوردہ لوگ مقتول اور زخمی ہوگئے تھے۔ چنانچہ اس واقعہ کو اللہ نے اپنے رسول کے لیے بطور تمہید برپا کیا جو اہل مدینہ کے لیے دخولِ اسلام میں معاون بنا۔
یہی بات انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار نے اس طرح کہی ہے کہ مدینہ کی ایک قبائلی جنگ میں بہت زیادہ خون بہا تھا جو 618 میں ہوئی۔ اس کے بعد امن پوری طرح قائم نہیں ہو سکا تھا۔ محمدؐ کو مدینہ بلا کر وہاں کے بہت سے عرب غالباً یہ امید کر رہے تھے کہ وہ مخالف گروہوں کے درمیان ثالث کا کام کریں گے۔ اور یہود سے اہل مدینہ کے ربط نے غالباً انہیں ایک مسیحائی مذہبی قائد کو قبول کرنے کے لیے تیار کیا ہوگا جو کہ انہیں ظلم سے نجات دلائے اور ایک ایسی سلطنت بنائے جس میں انہیں انصاف مل سکے
Much blood had been shed in a battle at battle at about 618, and peace was not fully restored. In inviting Muhammad to Medina, many of the Arabs there probably hoped that he would act as an arbiter among the opposing parties, and their…
…سفر میں آپ کو خدا وند ذوالجلال سے ہم کلامی کا شرف بخشا گیا، گناہوں کی بخشش کی امید دلائی گئی، یہ بتایاگیا کہ برائی کرنے والے کو تو اتنا ہی بدلہ دیا جاتا ہے جتنا اس نے کیا ہے ۔ مگر نیکی کرنے والے کو اس کے اصل عمل سے زیادہ انعام ملتا ہے ۔
مگر زیرِ بحث تعبیر کے لیے معراج کے اس تصور میں کچھ زیادہ تسکین کا سامان نہیں۔ اس کو شکایت ہے کہ —’’معراج کی رات کی اہمیت بعض دینیاتی بحثوں میں گم ہو کر رہ گئی ہے۔ کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس رات میں انسانیت کی تعمیر کے لیے کتنا عظیم الشان کارنامہ انجام پایا۔‘‘ اس سفر کی نوعیت کا تعارف یہ ذہن مندرجہ ذیل الفاظ میں کرتا ہے۔
’’ اصل بات یہ ہے کہ یہ کرۂ زمین جس پر ہم آپ رہتے ہیں، خدا کی عظیم الشان سلطنت کا ایک چھوٹا سا صوبہ ہے ۔ اس صوبہ میں خدا کی طرف سے جو پیغمبر بھیجے گئےہیں ان کی حیثیت کچھ اس طرح کی سمجھ لیجیے، جیسے دنیا کی حکومتیں اپنے ماتحت ملکوں میں…
…کو دیکھ کر ان سے نصیحت لینا (28:58)۔ قرآن میں تکرار کے ساتھیہ آیت آئی ہے قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ انظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ(6:11)۔یعنی، کہو، زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔
اس کے مطابق ،اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ ماضی کے تاریخی آثار کو اس کی ابتدائی شکل میں محفوظ رکھا جائے تا کہ دیکھنے والے لوگ ان سے سبق لے سکیں۔ تاریخی آثار کو محفوظ نہ رکھنے کی صورت میں اسلام کا یہ سیاحتی مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔
5۔ کلچر ہمیشہ ایک طبقہ یا ایک کمیونٹی کی وراثت ہوتا ہے۔ ہر کمیونٹی کو یہ مطلق رائٹ حاصل ہے کہ وہ اپنے کلچر کا تحفظ کرے۔ کلچر کے معاملے میں نہیں دیکھا جائے گا کہ وہ اسلام کے موافق ہے یا اس کے خلاف۔ جب بھی کوئی کمیونٹی کسی کلچر کو اپنا کلچر…
…ماڈل پر کام کررہے ہیں، مگران کو معلوم نہیں کہ صحافت اور قیادت کے لیے یہ ماڈل اب آخری حد تک بے اثر ہوچکا ہے۔ موجودہ زمانے میں احتجاجی صحافت اور احتجاجی قیادت صرف وقت ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے وہ کوئی کام ہی نہیں، وغیرہ۔
موجودہ زمانے میں جو مسلم رہنما امت کے کاز (cause)کے لیے کام کرنے اٹھے، وہ صرف اپنے داخلی جذبہ کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے۔ انھوں نے باقاعدہ مطالعے کے ذریعہ یہ جاننے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی کہ موجودہ زمانہ کیا ہے، اور موجودہ زمانے میں کوئی کام موثر طور پر کیسے کیا جاسکتا ہے۔ ایسے لوگوں کو صرف ایک کتاب کے مطالعے کا مشورہ دوں گا۔اس کتاب کا ٹائٹل یہ ہے
The Great Intellectual Revolution, by John Frederick West (1965, pp 132)
…اور دوسری صورت شدید تر برائی (greater evil) کی۔ اور جب انتخاب کمتر برائی اور شدید تر بُرائی کے درمیان ہو تو یقینی طورپر کمتر بُرائی کو لیا جائے گا اور شدید تر برائی کو چھوڑ دیا جائے گا۔ یہی عقل کا تقاضا بھی ہے اور یہی شریعت کا تقاضا بھی۔
موجودہ زمانہ میں اگر ایک طرف غیر موافق صورت حال پیدا ہوئی ہے کہ جنگ چھڑنے کی صورت میں غیر مقاتل کی ہلاکت سے پرہیز عملاً ممکن نہیں۔ تو اسی کے ساتھ خودموجودہ ترقیوں کے نتیجہ میں ایک موافق صورت حال بھی بہت بڑے پیمانہ پر پیدا ہوئی ہے۔ وہ ہے جدید تعمیری امکانات۔
یہ جدید تعمیری امکانات اتنے زیادہ ہیں کہ جنگ میں جیتنا یا ہارنا دونوں اب ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ایک گروہ جنگ جیت کر بھی تباہی کا شکار ہو جاتا ہے۔ دوسرا گروہ جنگ ہار کر بھی ایسے پُر امن ذرائع پاسکتا ہے جن کواستعمال کرکے وہ کسی لڑائی…
غیر حکیمانہ طریقہ
موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی کا ایک اصول یہ ہے کہ جب کسی سے کسی مسئلہ میں نزاع پیدا ہو تو پہلے ہی مرحلہ میںیہ کیا جائے کہ جو کچھ مل رہا ہے اس کو رضامندی کے ساتھ قبول کر لیا جائے۔ اگر پہلے مرحلہ میں ایسا نہیں کیا گیا اور زیادہ حاصل کرنے کی خاطر مسئلہ کے تصفیہ کو لمبا کیا گیا تو مسئلہ اور پیچیدہ ہو جائے گا، اور پہلے مرحلہ میں جو کچھ مل رہا تھا اس کا ملنا بھی ناممکن ہوجائے گا۔
اس کی ایک مثال فلسطین کا موجودہ مسئلہ ہے۔ 1917 کا واقعہ ہے۔ برٹش امپائر نے فلسطین کی تقسیم کا ایک فارمولا بنایا۔ یہ عام طورپر بالفور ڈیکلریشن کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تقسیم واضح طور پر عربوں کے حق میں تھی۔ اس تقسیم میں فلسطین کا ایک تہائی سے…
…سے اس کی تلافی کی امید رکھنا ۔ دوسرے اگر فساد کریں تب بھی ان کے لیے اصلاح کی دعائیں کرنا ۔ دوسرے اگر کاٹنے کی کوشش کریں تب بھی ان سے جڑے رہنا ۔ دوسرے اگر نہ دیں تب بھی ان کو دینے کی کوشش کرنا ۔ دوسرے اگر ظلم کریں تب بھی انہیں معاف کردینا ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس معاملہ میں اس حد تک گئے کہ ہجرت کے بعد مدینہ میں آپ تقریباً سولہ ماہ تک کعبہ کے بجائے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے تا کہ وہاں بسنے والے یہودیوں سے غیر ضروری ٹکراؤ نہ پیش آئے۔
قرآن میں اس معاملہ میں یہ اصول مقرر کیا گیا — تمہارے لیے تمہارادین اور ہمارے لیے ہمارا دین (109:6)۔ مدینہ میں ہجرت کے بعد پیغمبر اسلام نے جو منشور جاری کیا ، اُس میں آپ نے یہ درج فرمایا کہ مسلمانوں کے لیے مسلمان کا دین اور یہود کے لیے…
…وابستہ تھے۔ اس لیے مکہ میں عمومی سطح پر توحید کو مقبولیت حاصل نہیں ہوئی۔ یہی بات تھی جس کو قرآن کے بیان کے مطابق اہل مکہ نے اس طرح کہا تھا: اگر ہم تمہارے ساتھ ہو کرتوحید کی اس ہدایت پر چلنے لگیں تو ہم اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے(28:57)۔
3۔ مکہ میں جب حصول افراد کا وہ کام مکمل ہوگیا جس کو قرآن میں قطع طرف(آل عمران،3:127) کہاگیا ہے، یعنی ان کے بہتر حصہ کو کاٹ کر نکال لینا، تو اس کے بعد آپ نے وہاں سے ہجرت کا فیصلہ فرمایا۔ ہجرت کوئی فرار نہیں تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مدینہ جا کر وہاں کے امکانات کو استعمال کیا جائے۔ یہ تاریخی امکانات اللہ تعالیٰ نے پیشگی طور پر مدینہ میں پوری طرح جمع کر دیئے تھے۔
مثلاً مدینہ کے علاقہ میں یہود کے تین قبائل(نضیر، قُریظہ، قینقاع) کی موجودگی۔70ء میں رومی شہنشاہ تیتس(Titus) نے فلسطین کو فتح کیا۔ اس نے یروشلم کو تباہ کر دیا۔ اس کے بعد یہودی جلاوطن ہو کر مختلف ملکوں میں چلے گئے۔ ان میں سے کچھ مدینہ بھی…
الفصل بین القضیتین
سعودی کنگ فیصل بن عبدالعزیز(1906-1975) نہایت مدبر حکمراں تھے۔ پورے عالم اسلام میں انھیں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میری تمنا ہے کہ میں یروشلم جاؤں اور مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر نماز ادا کروں۔ مگر وہ اپنی یہ تمنا پوری نہ کر سکے۔ یہاں تک کہ ان کا آخر وقت آگیا اور وہ ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے چلے گئے۔
اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فیصل مرحوم یہ سمجھتے تھے کہ جب تک ایسا نہ ہو کہ یروشلم (فلسطین) سے یہودیوں کی حکومت ختم ہو کر وہاں مسلمانوں کی حکومت قائم ہو جائے، اس وقت تک ایسا کرنا ممکن نہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ موجودہ حالات میں وہاں…
…اعتراف نے بھی علی الاطلاق طور پر اس کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ مگر مذکورہ قسم کے فتاویٰ کی بنا پر دنیا کے مسلمان نسل درنسل اس عظیم سعادت سے محروم ہو رہے ہیں کہ وہ مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہوں اور تیسرے سب سے افضل مقام پر اللہ کی عبادت کر سکیں۔
اگست 1995 میں یروشلم میں ایک انٹرنیشل کانفرنس ہوئی۔ اس کا اہتمام اٹلی کے عیسائیوں کی ایک جماعت نے کیا تھا۔ اور اس کا موضوع یہی خاص مسئلہ تھا۔ اس کی دعوت پر راقم الحروف نے اس کانفرنس میں شرکت کی اور اس موقع پر ایک مقالہ(انگریزی میں) پیش کیا۔ اس کا عنوان اسلام میں امن تھا
Policy of Peace in Islam
…تسکین حاصل کریں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب تینوں مذہبوں کے لیے وہ مقدس زیارت گاہ ہے تو کس طرح وہ تینوں کے لیے کھلا رہے اور کس طرح تینوں مذہب کے ماننے والوں کو یہ موقع حاصل رہے کہ وہ بہ آسانی وہاں پہنچ کر اپنے جذبات عقیدت کی تسکین حاصل کریں۔
آج کل ہرطرف’’ الْقُدْسُ لَنَا ‘‘ کا نعرہ سنائی دیتا ہے۔ یہ نعرہ سیاسی مفہوم میں ہے اور ہر فریق یہ نعرہ لگا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر فریق یہ چاہتا ہے کہ قدس یا یروشلم پر صرف اس کا قبضہ رہے۔ کیوں کہ اس کے نزدیک جب تک اس مقدس شہر پر اس کا سیاسی غلبہ نہ ہو وہ صحیح طور پر اپنا عبادتی عمل وہاں انجام نہیں دے سکتا۔
اگر اس مقدس مقام کی زیارت کی شرط یہ ہو کہ جو شخص یا گروہ یروشلم میں جائے اس کی قوم کا سیاسی قبضہ بھی وہاں قائم ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ شہر عملی طور پر عبادت کا مقام نہ رہے گا بلکہ جنگ کا میدان بن جائے گا۔ کیونکہ کسی مقام پر سیاسی…
…کے کسی خطہ پر سیاسی اقتدار کسی ایک ہی قوم کا قائم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر زمانہ میں بدلتا رہے گا۔ کبھی ایک قوم کے پاس اور کبھی دوسری قوم کے پاس۔ اس بات کو قرآن میں ان الفاظ میں کہاگیا ہے کہ — اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں
وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ(3:140)۔
اب سوال یہ ہے کہ جب عام قانون فطرت کے تحت یروشلم کا سیاسی اقتدار ابدی طور پر کسی ایک قوم کے پاس نہیں رہ سکتا تو اہل اسلام کے لیے مسجد اقصیٰ میں ہر دور میں عبادت کرنے کی صورت کیا ہو۔ ہر مسلمان فطری طور پر یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ اس مسجد میں…
…قائم رہی۔ تحویل قبلہ کے بعد سے چھ سال تک مسلمان اس حال میں کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے رہے کہ وہاں سیکڑوں بت موجود تھے اور وہ پوری طرح شرک کا گڑھ بنا ہوا تھا۔ یہ صورتحال مکہ کی فتح کے بعد ختم ہوئی جب کہ بتوں کو کعبہ سے نکال دیا گیا۔
اس سے اسلام کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ اس اصول کو الْفَصْلُ بَیْنَ الْقَضِیَّتَیْنِ یا عَدْمُ الْخَلَطِ بَیْنَ الشَّیئینِ کہا جا سکتا ہے۔ اس اصول کے تحت کعبہ اور اصنام کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا۔ اصنام کی موجودگی پر صبر کرتے ہوئے کعبہ کو قبلہ عبادت بنا لیا گیا۔
2۔ اس سلسلہ میں دوسرا نمونہ اسراء اور معراج کے واقعہ میں ملتا ہے۔ پیغمبر اسلام کا سفر معراج ہجرت سے پہلے غالباً622ء میں ہوا۔ اس وقت یروشلم پر مسلمانوں کی حکومت نہیں تھی۔ بلکہ وہاں مشرک ایرانیوں کا قبضہ تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ614ء میں ایرانی…
تاریخی فرق
یروشلم پر مسلمانوں کا قبضہ پہلی بار638ء میں ہوا۔ اس کے بعد1099ء میں دوبارہ وہ مسیحیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔88 سال بعد1187ء میں صلاح الدین ایوبی نے دوبارہ یروشلم پر مسلم قبضہ کو بحال کیا۔
اس طرح گیارھویں صدی اور بارھویں صدی کے درمیان تقریباً90 سال تک کا زمانہ ایسا گزرا ہے جب کہ یروشلم غیر مسلموں کے سیاسی قبضہ میں تھا۔ یہ تاریخ کا وہ زمانہ ہے جب کہ مذہبی آزادی کا دور ابھی نہیں آیا تھا۔ ہر طرف دنیا میں مذہبی جبر کا نظام…
اس کے مطابق ، اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ ماضی کے تاریخی آثار کو اُس کی ابتدائی شکل میں محفوظ رکھا جائے تا کہ دیکھنے والے لوگ اُن سے سبق لے سکیں۔ تاریخی آثار کو محفوظ نہ رکھنے کی صورت میں اسلام کا یہ سیاحتی مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔
5 کلچر ہمیشہ ایک طبقہ یا ایک کمیونٹی کی وراثت ہوتا ہے۔ ہر کمیونٹی کو یہ مطلق رائٹ حاصل ہے کہ وہ اپنے کلچر کا تحفظ کرے۔ کلچر کے معاملے میں نہیں دیکھا جائے گا کہ وہ اسلام کے موافق ہے یا اس کے خلاف۔ جب بھی کوئی کمیونٹی کسی پھر کو اپنا کلچر سمجھے اور اس کو محفوظ رکھنا چاہے تو یہ حق اس کو دیا جائے گا۔ یہ حق جس طرح سیکولرزم میں تسلیم کیا گیا ہے اس طرح وہ اسلام میں بھی تسلیم شدہ ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اسلام کے خلیفہ ثانی عمر فاروق کی خلافت کے زمانے میں یروشلم (ایلیا) فتح ہوا تو خود عمر فاروق مدینہ سے سفر کر کے یروشلم گئے ۔ اس وقت اسلامی خلافت اور مسیحی فرقہ کے درمیان جو معاہدہ ہوا، اُس میں دوسری باتوں کے علاوہ یہ بھی لکھا گیا کہ مسیحی چرچوں میں جو چیزیں ہیں وہ محفوظ رہیں گی۔ مثلاً مریم اور مسیح کے بت، وہ مقدس لکڑی جس پر مسیحی عقیدہ کے مطابق ، حضرت مسیح کو سولی دی گئی، وغیرہ ( تاریخ الطبری ) اس قسم کی چیزیں مسیحی کلچر کا حصہ تھیں مگر معاہدہ میں یہ لکھا گیا کہ مسیحی فرقہ کو یہ حق ہوگا کہ ان کے چرچ ڈھائے نہ جائیں اور ان کے کلچرل ہریج کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچایا جائے ۔ وہ جس طرح چاہیں اپنے کلچر کی حفاظت کریں۔
خلیفہ ثانی کے اس عمل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر قوم کو یہ حق حاصل ہے کہ جس چیز کو وہ اپنے کلچر کا حصہ سمجھتی ہے اُس کو وہ محفوظ رکھے، خواہ وہ مسلم حکومت کے اندر ہو یا مسلم حکومت کے باہر کسی حکومت کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی گروہ کے کلچر کے…
…اِنھیں میں حضرت یوسف پیدا ہوئے، جو حضرت یعقوب کے بیٹے تھے۔ حضرت یوسف کے ساتھ ایسے حالات پیش آئے کہ وہ مصر پہنچ گئے۔ اُس زمانے میں وہاں جس بادشاہ کی حکومت تھی، وہ حضرت یوسف پر مہربان ہوگیا اور اُن کو اپنی حکومت میں ایک بڑا عہدہ دے دیا۔
پھر حضرت یوسف کو جب مصر میں استحکام حاصل ہوا، تو انھوںنے اپنے اہل خاندان، بشمول اپنے والد حضرت یعقوب، سے کہا کہ آپ لوگ فلسطین چھوڑ کر مصر آجائیں۔ اِس طرح یہ لوگ مصر جاکر وہاں آباد ہوئے۔ وہاں ان کی نسل کافی بڑھی، یہاں تک کہ وہ مصر کی ایک با اثر قوم بن گئے۔
حضرت یوسف کے بعد مصر میں سیاسی انقلاب آیا، اور قدیم بادشاہ (Hyksos Kings) کے بجائے ایک نیا خاندان، مصر کا حکم راں بن گیا جس نے فرعون (Pharaoh) کو اپنے خاندانی لقب کے طورپر اختیار کیا۔ فرعون کی اِسی حکومت کے زمانے میں بنی اسرائیل پر…
…کے زمانے میں 638 عیسوی میں مسلمان یروشلم میں داخل ہوئے۔ حضرت عمر نے ہیکل کی جگہ (site)پر کوئی عمارت تعمیر نہیں کی۔ بعد کو اموی دور میں خلیفہ عبد الملک بن مروان (وفات 705 ء) نے ہیکل کی جگہ 688 عیسوی میں موجودہ مسجد اقصیٰ کی تعمیر کی۔
مسجد اقصیٰ کیمپس میں ایک اور عمارت ہے، جس کو قُبّۃ الصَّخرۃ (Dome of Rock) کہاجاتا ہے۔ یہاں قدیم زمانے سے یہودیوں کا مقدس صخرہ (چٹان) واقع تھا۔ اِسی صخرہ کے اوپر خلیفہ عبد الملک بن مروان نے688 عیسوی میں موجودہ قبہ (گنبد) کی تعمیر کی۔ یہی مقدس چٹان، یا قبۃ الصخرہ، یہودیوں کا قبلہ تھا، اور یہی قبۃ الصخرہ، نہ کہ مسجد ِ اقصیٰ، ہجرت کے بعد عارضی طورپر پیغمبراسلام کا قبلہ بنا تھا۔ صخرہ سنگ خارا کی ایک چوکور چٹان ہے۔ اِس چٹان کو یہودی اپنے لیے مقدس سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک، یہی وہ صخرہ ہے جس پر حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی تھی۔اصلاً اِسی قبۃ الصخرہ کانام بیت المقدس ہے، اور توسیعی معنوں میں، قدیم یروشلم کے پورے علاقے کو بیت المقدس کہا جاتا ہے۔
مسجدِ اقصیٰ کو فلسطینی جدوجہد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان عام طورپر، مسجد اقصیٰ کو ’’قبلۂ اوّل‘‘ سمجھتے ہیں، حالاں کہ قبلۂ اوّل کاکوئی تعلق، مسجد اقصیٰ سے نہیں۔ قبلۂ اوّل اگر کوئی ہوسکتا ہے، تو وہ قبۃ الصخرہ (بیت…
…پر جو الزام دیتے ہیں، وہ خود اُس میں برابری کے درجے میں شریک ہیں۔ خالص اصول کی روشنی میں، دونوں میں سے کسی کا کیس بھی موجودہ حالت میں، حق پر مبنی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہاں اِس سلسلے میںمختصر طورپر چند متعلق پہلوؤں کاذکر کیا جاتا ہے۔
1 - انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں یہود کے درمیان ایک تحریک اٹھی جس کو صہیونی تحریک (Zionism) کہاجاتا ہے۔ صہیون (Zion) دراصل یروشلم میں واقع ایک پہاڑی کا نام ہے۔ اِس پہاڑی کو یہودی لوگ مقدس مانتے ہیں اور اس کو وہ یہودی قومیت کا مرکزی نشان سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر ہرزل (Theodor Herzl) کی قیادت میں 1890 میں صہیونی تحریک شروع ہوئی۔ اِس کا پہلا انٹرنیشنل اجلاس 1897 میں سوئزر لینڈ کے شہر باسل (Basel) میں ہوا۔ صہیونی تحریک کا مقصد یہ تھا کہ یہودی ڈائس پورا (Jews in diaspora) کو فلسطین واپس لانا، اور یہاں ان کی نیشنل اسٹیٹ قائم کرنا۔ اِس تحریک کے نتیجے میں بال فور کمیشن قائم ہوا، اور اس کی سفارش کے مطابق، 1948 میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔
عرب رہ نماؤں نے متفقہ طورپر یہودی ڈائس پورا کی فلسطین واپسی کی مخالفت کی۔ یہ مخالفت اِس حد تک پہنچی کہ انھوں نے اسرائیل کے خلاف متشددانہ جہاد شروع کردیا۔ یہ مخالفانہ تحریک بڑھتی رہی۔ ساری دنیا کا مسلم پریس، اور ساری دنیا کا مسلم مائنڈ…
Memorial Ceremony: Ceremony at the Execution wall, silent March along the rail tracks and Memorial ceremony at the Monument for the victims of Nazi-facism
پروگرام کے مطابق، پہلے مختلف مذاہب کے نمائندوں کے ایک وفد نے الگ الگ مقامات پر پھول ڈالا۔ اسلام کے نمائندہ کے طورپر راقم الحروف نے عرب علماء کے ایک وفد کے ساتھ ایک یادگار مقام پر پھول ڈالا۔ یہاں کئی لوگوں کی تقریریں ہوئیں۔ اِن میں سے اکثر لوگ وہ تھے جو دوسری عالمی جنگ کے موقع پر کنسنٹریشن کیمپ میں پکڑ کر لائے گئے تھے، لیکن وہ کسی وجہ سے زندہ بچ گئے۔ اِن مقررین میں سے ایک سابق ربائی مسٹر اسرائیل (Israel Meir Lau) تھے جو اُس وقت آٹھ سال کی عمر میں تھے۔ اب وہ یروشلم میں رہتے ہیں۔ وہاں سے وہ کانفرنس میںشرکت کے لیے آئے تھے۔
اِس موقع پر انھوں نے انگریزی زبان میں تقریرکی۔ہمارے ساتھیوں نے اُن کو انگریز ی ترجمہ قرآن کا ایک نسخہ دیا۔ انھوںنے اس کو خوشی کے ساتھ لیااور کہا کہ آپ لوگوں کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے مجھ کو قرآن کا نسخہ دیا۔ میںقرآن کو پڑھنا چاہتا تھا…
…کو 30ستمبر 2010 کو لگا۔ یہ وہ تاریخ ہے جب کہ تقریباً 60 سالہ عدالتی کارروائی کے بعد ہائی کورٹ نے بابری مسجد کے بارے میں اپنا فیصلہ دیا۔ یہ فیصلہ مسلمانوں کے نزدیک، ان کی امیدوں کے مطابق نہیں تھا، اِس لیے دوبارہ وہ ذہنی صدمہ کا شکار ہوگئے۔
اِس طرح کے بحران (crisis) کے معاملے میں اسلام کی رہنمائی کیا ہے۔ کیا اسلام میں صرف نماز، روزہ کے احکام ہیں یا اُس میں بابری مسجد جیسے حادثے کے بارے میں بھی واضح رہنمائی موجود ہے۔ میرے نزدیک، بلا شبہہ یہ رہنمائی اسلام میں موجود ہے۔ ذیل میں مختصر طورپر اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔
1 - بابری مسجد کے معاملے میں اسلامی تعلیمات سے انحراف کا پہلا واقعہ 1528 میں پیش آیا، جب کہ اجودھیا میں یہ مسجد بنائی گئی۔ اُس وقت وہاں ’’رام چبوترہ‘‘ کے نام سے ایک چبوترہ موجود تھا، یہاں رام اور سیتا کی کچھ یادگاریں مثلاً سلوٹا اور…
…اسرائیل کو کتاب میں بتا دیا تھا کہ تم دومرتبہ زمین (شام) میں خرابی کرو گے اور بڑی سر کشی دکھاؤگے۔ پھرجب ان میں سے پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے بھیجے، نہایت زور والے ۔ وہ گھروں میں گھس پڑے اور وعدہ پورا ہو کر رہا۔ (الاسراء ۴-۵ )
یہاں اپنے بندے (عبادا لنا )سے مراد نبوخذنصر( (Nebuchadnezzar II اور اس کی فوج ہے۔ اس نے پہلی بار 597 ق م میں یہودی سلطنت پر حملہ کیا۔ دوسری بار وہ 586 ق م ق میں بڑے لشکر کے ساتھ پروشلم میں داخل ہوا اور یہود کے مقدس شہر کو بالکل برباد کر دیا۔ ان حملوں میں اس نے بے شمار یہودیوں کو قتل کیا۔ بے شمار یہودیوں کو غلام بنا کر اپنے ملک (بابل) لے گیا اور یہود کے مقدس عبادت خانہ کومسمار کر دیا۔
یہود بطورخود نبوخذ نصر کی کارروائی کو سراسر ظلم قرار دیتے ہیں ، مگر اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ یہ ہمارے بندے تھے جن کو ہم نے تمہاری طرف بھیجا گویا یہود کے نزدیک یہ ایک ظالما فعل تھا ، مگرقرآن کے مطابق ایک خدائی آپریشن ۔
ان اسباب کے نتیجہ میں تمام مسلمانوں کے ذہن پر سیاسی طرز فکر غالب آگیا ہے ۔ پوری مسلم قوم (Power conscious) ہوگئی۔ مسلمانوں کے اس سیاسی مزاج نے ان کو حقیقی اسلام سےدور کر دیا ہے۔ وہ اسلام کے نام پر غیر اسلام میں مبتلا ہیں۔
ذہن کے بگاڑ کا مسئلہ سینکڑوں سال سے چلا آرہا ہے۔ تصوف کی تحریک غالبا یہی تھی کہ مسلمانوں کو دوبارہ سیاسی اسلام سے نکال کر ربانی اسلام کی طرف لایا جائے ۔ صوفیاء کا یہ مقصد درست تھا مگر اس کے لئے انھوں نے غلط طریق کار اختیار کیا۔ ربانیت حاصل کرنے کا اصل طریقہ تفکر ہے۔ مگر اس کو انھوں نے اوراو پرقائم کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں تبلیغی جماعت بھی اسی قسم کی اصلاحی کوشش کے طور پر اٹھی۔ مگر اس نے بھی یہ غلطی کی کہ فضائل کوربانی بیداری کا یہ بنایا۔ حالاں کہ ربانی بیداری کا صحیح ذریعہ ذہنی معرفت ہے۔
اب پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں میں سیاسی مزاج کو ختم کیا جائے۔ اور اس کی جگہ ربانی مزاج پیدا کیا جائے۔ جب تک یہ ذہنی اصلاح نہ ہومسلمانوں میں کوئی حقیقی اسلامی بیداری نہیں آسکتی۔
…۔ میں بھی وہاں جا کر بیٹھ گیا ۔ بات چیت کے دوران میں نے کہاکہ ایک سوال میں اکثر لوگوں سے کرتا ہوں و ہی سوال میں آپ سے بھی کر رہا ہوں ۔ آپ اس کے بارے میں مجھے کچھ بتائیں ۔ پھر میں نے کہا کہ مجھے بتائیے کہ آپ کی خاص دریافتDiscovery) کیا ہے۔
انھوں نے میرے سوال کو کوئی اہمیت نہ دی۔ اورکسی قدرغیرسنجیدہ انداز میں اپنا ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا : یہ سب موشگافی (Hair spliting )ہے۔ میں نے اس کے بعد ان سے مزید گفتگو نہ کی۔ کیوں کہ میں نے محسوس کیا کہ اس قسم کا سوال ان کی شعوری سطح سے باہر کی چیز ہے۔
عجیب بات ہے کہ موجودہ مسلمانوں کو گہرے سوالات سے کوئی دلچسپی نہیں۔
In the lectures
Lecture mentions are drawn from transcripts and open the video at that moment — topical links, not verified citations.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…بھی۔ اب اگر لوگ اختلافات کو برداشت نہ کریں، بلکہ اختلافات کے پیدا ہوتے ہی اس کے خاتمہ پر اصرار کریں تو لڑائی ہوگی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کبھی بھی دنیا میں امن قائم نہ ہو سکے گا۔ ایسی حالت میں سوال ہے کہ امن کا مقصد کس طرح حاصل کیا جائے۔
اس اختلاف کی ایک تازہ مثال یروشلم کا مسئلہ ہے۔ یروشلم ایک قدیم تاریخی شہر ہے۔ اسی کے ساتھ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ بلینوں انسان اس کو اپنا مقدس مقام مانتے ہیں۔ اس کی امتیازی صفت یہ ہے کہ تین سامی مذاہب کی تاریخ اس کے ساتھ وابستہ ہے۔
یروشلم تین بڑے مذاہب، یہودیت، عیسائیت اور اسلام کو ماننے والوں کے لیے ان کی تاریخی یادوں کی علامت ہے۔ وہ ان کے لیے ایک جذباتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہودیوں کے لیے اس کی اہمیت یہ ہے کہ ان کے نزدیک وہ ان کی قدیم عظمت کا ایک زندہ ثبوت ہے…
۱۱۔ مستقبل الاصولیۃ الاسلامیۃ۔
۱۲۔ القدس قضیۃ کل مسلم۔
۱۳۔ حاجۃ البشریۃإلی الرسالۃ الحضاریۃ لأمتنا۔
اس اختلاف کی ایک تازہ مثال یروشلم کا مسئلہ ہے۔ یروشلم ایک قدیم تاریخی شہر ہے۔ اسی کے ساتھ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ بلینوں انسان اس کو اپنا مقدس مقام مانتے ہیں۔ اس کی امتیازی صفت یہ ہے کہ تین سامی مذاہب کی تاریخ اس کے ساتھ وابستہ ہے۔
یروشلم تین بڑے مذاہب، یہودیت، عیسائیت اور اسلام کو ماننے والوں کے لیے ان کی تاریخی یادوں کی علامت ہے۔ وہ ان کے لیے ایک جذباتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہودیوں کے لیے اس کی اہمیت یہ ہے کہ ان کے نزدیک وہ ان کی قدیم عظمت کا ایک زندہ ثبوت ہے اور ان کی قومی تاریخ کا مرکز ہے۔ عیسائیوں کے لیے وہ ان کے نجات دہندہ حضرت مسیح کی جغرافی یاد گار ہے۔ مسلمانوں کے لیے اس کی اہمیت یہ ہے کہ اسراء اور معراج کے سفر میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم یہاں ٹھہرے اور یہاں باجماعت نماز میں تمام نبیوں کی امامت فرمائی۔
اس طرح ان تینوں مذاہب کے لیے یروشلم ایک زیارت گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تینوں مذاہب کے لوگ چاہتے ہیں کہ یہاں آ کر وہ روحانی تسکین حاصل کریں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب تینوں مذہبوں کے لیے وہ مقدس زیارت گاہ ہے تو کس طرح وہ تینوں کے لیے کھلا رہے اور…
مسٹر ادریس (Idris Medinilla) مسٹر مضطر کے بیٹے ہیں- وہ مجھ کو غرناطہ کے ایک اور سینٹر میں لے گئے- اس کا نام یہ ہے:
مرکز الدراسات الإسلامیة(Centro de Estudios Islámicos)
یہ غرناطہ میں ایک بڑا دعوتی مرکز ہے- یہاں لوگ کثرت سے آکر اسلام قبول کرتے ہیں- اِسی طرح سیاح، خاص طور پر مسیحی حضرات بڑی تعداد میں اسلام کو جاننے کے لئے یہاں آتے رہتے ہیں- یہاں ایک بڑی لائبریری ہے- اِسی طرح یہاں ایک وسیع اور خوبصورت…
…الأقصیٰ، فبناہ سلیمان علیہ السلام، کما خرجہ النسائی بإسناد صحیح من حدیث عبد اللہ بن عمرو (جلد 4، صفحہ 173 ) یعنی جہاں تک مسجد اقصیٰ کا تعلق ہے، تو اس کو سلیمان علیہ السلام نے بنایا تھا، جیسا کہ النسائی نے صحیح اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے۔
قاضی محمد ثناء اللہ العثمانی (وفات: 1810 ء) نے اپنی تفسیر ’’التفسیر المظہری‘‘ میں سورہ الاسراء کی اِس آیت کے تحت مسجد اقصی کی تشریح میں یہ الفاظ لکھے ہیں: المسجد الأقصی، یعنی البیت المقدس سُمّی أقصی لبُعدہ من المسجد الحرام، ولم یکن حینئذ ورائہ مسجد (جلد 5 ، صفحہ 399 ) یعنی مسجد اقصی سے مراد بیت المقدس ہے۔ بیت المقدس کو مسجد اقصی کانام اِس لیے دیاگیا کہ وہ مکہ کی مسجد حرام سے دور یروشلم (فلسطین) میں واقع تھی۔
مولانا عبد الماجد دریابادی (وفات: 1977 ء) نے اپنی انگریزی تفسیر ’’تفسیر القرآن‘‘ میں سورہ الاسراء کی اِس آیت کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ —یہاں لفظ مسجد سے مراد جگہ (site) ہے، نہ کہ مسجد کی کوئی عمارت:
…میں ہے اور ہر فریق یہ نعرہ لگا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر فریق یہ چاہتا ہے کہ قدس یا یروشلم پر صرف اس کا قبضہ رہے۔ کیوں کہ اس کے نزدیک جب تک اس مقدس شہر پر اس کا سیاسی غلبہ نہ ہو وہ صحیح طور پر اپنا عبادتی عمل وہاں انجام نہیں دے سکتا۔
اگر اس مقدس مقام کی زیارت کی شرط یہ ہو کہ جو شخص یا گروہ یروشلم میں جائے اس کی قوم کا سیاسی قبضہ بھی وہاں قائم ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ شہر عملی طور پر عبادت کا مقام نہ رہے گا بلکہ جنگ کا میدان بن جائے گا۔ کیونکہ کسی مقام پر سیاسی اقتدار بیک وقت کسی ایک مذہبی گروہ کا ہی ہو سکتا ہے۔ پھر بقیہ دو مذہبی گروہ جن کا سیاسی قبضہ وہاں نہ ہوگا وہ قابض گروہ کے خلاف جنگ چھیڑ دیں گے۔ اس طرح یہ مقام ابدی طور پر جنگ وجدال کا مرکز بنا رہے گا۔ اس بنا پر کسی کے لیے، حتیٰ کہ قابض گروہ کے لیے بھی یہ موقع نہ ہوگا کہ وہ پرسکون طور پر وہاں اپنا عبادتی عمل انجام دے سکے۔ یروشلم کے معنی ہی امن کا شہر(city of peace) کے ہیں۔ پھر کیوںکر ایسا ہو کہ یروشلم کا امن ہر حال میں برقرار رہے تاکہ ہر فریق ہمیشہ اور یکساں طور پر اس کی زیارت کر سکے۔
جہاں تک اسلام کا سوال ہے، قرآن و حدیث میں یروشلم کے دو بالواسطہ حوالے ملتے ہیں۔ قرآن کی سورہ الاسراء میں معراج رسول کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو ہم…
…کا مرکز ہے۔ عیسائیوں کے لیے وہ ان کے نجات دہندہ حضرت مسیح کی جغرافی یاد گار ہے۔ مسلمانوں کے لیے اس کی اہمیت یہ ہے کہ اسراء اور معراج کے سفر میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم یہاں ٹھہرے اور یہاں باجماعت نماز میں تمام نبیوں کی امامت فرمائی۔
اس طرح ان تینوں مذاہب کے لیے یروشلم ایک زیارت گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تینوں مذاہب کے لوگ چاہتے ہیں کہ یہاں آ کر وہ روحانی تسکین حاصل کریں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب تینوں مذہبوں کے لیے وہ مقدس زیارت گاہ ہے تو کس طرح وہ تینوں کے لیے کھلا رہے اور کس طرح تینوں مذہب کے ماننے والوں کو یہ موقع حاصل رہے کہ وہ بہ آسانی وہاں پہنچ کر اپنے جذبات عقیدت کی تسکین حاصل کریں۔
آج کل ہرطرف’’ الْقُدْسُ لَنَا ‘‘ کا نعرہ سنائی دیتا ہے۔ یہ نعرہ سیاسی مفہوم میں ہے اور ہر فریق یہ نعرہ لگا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر فریق یہ چاہتا ہے کہ قدس یا یروشلم پر صرف اس کا قبضہ رہے۔ کیوں کہ اس کے نزدیک جب تک اس مقدس شہر پر اس…
…کے دائمی قبلہ کے طورپر اختیار کرلیا۔ اِس واقعے کے حوالے سے مسلمان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ، قبلۂ اول کی بازیابی کا مسئلہ ہے۔ اِس اعتبار سے فلسطین کا مسئلہ محض ایک قومی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ وہ مسلمانوں کا ایک خالص دینی مسئلہ ہے۔
یہ نظریہ سر تاسر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ مسجد ِاقصیٰ کا تعلق، قبلۂ اوّل سے نہیں ہے۔ قرآن میں مسجد ِ اقصیٰ کا ذکر معروف معنوں میں، کسی مسجد کے نام کے طورپر نہیں آیا ہے۔ مسجد ِاقصیٰ کے معنٰی دور کی مسجد (farthest place of worship) کے ہیں۔ اِس کو دور کی مسجد اِس لیے کہاگیا کہ وہ مکہ سے 765 میل (1232 کلومیٹر) کے فاصلے پر یروشلم میں واقع ہے۔ مسجد اقصیٰ سے مراد یروشلم کی یہودی عبادت گاہ ہے۔
اِس یہودی عبادت گاہ (ہیکل) کو حضرت سلیمان نے 957 قبل مسیح میںتعمیر کیا۔ اِس عبادت گاہ کو بابل (عراق) کے حکم راں نبوخذ نصر(Nebuchadrezzar II) نے 586 قبل مسیح میں مکمل طورپر ڈھادیا۔ ایک عرصے کے بعد یہودیوں نے یہ عبادت گاہ دوبارہ بنائی۔…
…مقدس سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہی وہ صخرہ ہے جس پر حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے اسحاق کی قربانی پیش کی تھی۔ اسلامی تاریخ میںاس قربانی کا مقام منیٰ بتایا گیا ہے۔ یہودیوں کے اس عقیدہ اور تاریخ کی بنیاد کیا ہے۔ کیا تورات میںاس کا ذکر موجود ہے۔
2 - مسجد اقصیٰ کو آپ نے یروشلم کی یہودی عبادت گاہ (ہیکل) بتایا ہے۔ قرآن میں مسجد اقصیٰ کا ذکر ہے جس کے معنی آپ نے دور کی مسجد (farthest place of worship) کے بتائے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون سا مقام یا مسجد ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے موقع پر انبیائِ سابقین کو امامت کے ساتھ نماز پڑھائی تھی۔
3 - مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے پر، اور مسجدوں کے مقابلے میں 25 ہزار ، مسجد نبوی میں 50 ہزار اور مسجد حرام میں ایک لاکھ درجہ ثواب بتایا جاتا ہے۔ اس مسجد اقصیٰ سے کیا مراد ہے۔ (ابرار حسین قریشی، مدھیہ پردیش)
…ممکن نہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ موجودہ حالات میں وہاں جانا یروشلم پر یہودیوں کے سیاسی قبضہ یا سیاسی غصب کو تسلیم کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ اس ذہنی رکاوٹ کی وجہ سے وہ یروشلم نہیں گئے اور اپنے دل کی تمنا دل ہی میں لیے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
یہ شاہ فیصل کی کوئی انفرادی رائے نہ تھی۔ بلکہ یہی عام طور پر علماءِ اسلام کا موقف ہے جس کو انھوں نے اس وقت سے اختیار کررکھا ہے جبکہ یروشلم پر یہودیوں کا سیاسی قبضہ ہوا۔1917 میں یروشلم ترکوں کے ہاتھوں سے نکل کر برطانیہ کے قبضہ میں چلا گیا۔ اس کے بعد1948 میں جزئی طور پر اور1967 میں کلی طور پر اس کے اوپر یہودیوں کا اقتدار قائم ہوگیا۔ اس سلسلہ میں مصر کے شیخ الازہر کا ایک فتویٰ اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ دوسرے علماءِ اسلام کی رائے بھی قولاً یا عملاً یہی ہے
’’مصر کی قدیم دینی درس گاہ جامعۃ الازہر کے مفتی شیخ جاد الحق علی جاد الحق نے مصر اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں پر بیت المقدس اور مسجد الاقصیٰ میں جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ انھوں نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ مسجد الاقصیٰ اور بیت…