Shukr All cross-references →
Place
Israel

Country involved in the 1973 conflict

Mentioned in 92 book passages and 44 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

…طور پر ادا کرنا چاہیں تو اردو میںاس کے لیے الفاظ نہیں ملتے۔ سائنٹفک اسلوب سادہ اسلوب ہے ۔ وہ حقیقت نگاری کا دوسرا نام ہے۔ مگر اردو اپنے شاعرانہ انداز کی وجہ سے اس کے بالکل نا اہل ہوگئی کہ اس میں کسی بات کو سائنٹفک انداز سے بیان کیا جاسکے۔

1973 کا واقعہ ہے۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کی لڑائی میں فلسطینیوں کا کافی نقصان ہوا تھا،اور مسلمانوں میں غم و غصہ کا ماحول تھا۔ 19 اکتوبر 1973 کو جمعیۃ علماء کے زیر اہتمام دہلی میں ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ یہ جلوس جامع مسجد سے شروع ہو کر امریکی سفارت خانہ پر ختم ہوا۔ دہلی کے مسلمانوں کے علاوہ اطراف کے شہروں کے مسلمان بھی بڑی تعداد میں آ آکر اس میں شامل ہوئے تھے۔ میں بھی الجمعیۃ ویکلی کے ایڈیٹر کی حیثیت سے اس جلوس میں شریک تھا۔

ہزاروں کی تعداد میں لوگ نئی دہلی میں واقع امریکی سفارت خانہ کے گیٹ پر جمع ہوگئے۔ لوگ اس قدر جوش میں تھے گویا کہ وہ گیٹ کو توڑ کر سفارت خانہ کے اندر داخل ہوجائیں گے۔ تاہم وہاں پولیس کا کافی انتظام تھا، اس لیے لوگ اندر داخل نہ ہوسکے۔

Al-Risala march 2017 m1_backfill original + quote

ملت کی اصلاح

قرآن کے مطابق، بعد کے زمانے میں جب ملتِ یہود کا زوال آیا تو اللہ نے ان کے اوپر طاقت ور بندے بھیج دیے (الاسراء 5:)۔یہ واقعہ دوبار ہوا۔ ایک بار 586 ق، م میں بخت نصر (Nebuchadnezzar)تاجدار بابل ونینوا کے ہاتھوں، اور دوسری بار 70ء میں رومی شہنشاہ ٹائٹس (Titus) کے زمانہ میں۔ یہ گویا یہود کے لیے ڈائسپورا (diaspora) میں جانے کا زمانہ تھا۔ یہ یہود کے لیے عذاب یا غضب الٰہی کا معاملہ نہ تھا، یہ در اصل تنبیہ (warning)کا معاملہ تھا۔ یہ اس لیے تھا تاکہ یہود نصیحت پکڑیں اور اپنی اصلاح کریں۔

یہود کی زندگی میں یہ تنبیہی دور لمبی مدت تک جاری رہا۔ اس کے نتیجے میں یہود کے اندر مذہبی اصلاح تو نہیں آئی۔ کیوں کہ زوال کے دور میں انھوں نے جس قومی کلچر کو مذہب کےنام سے اختیار کر رکھا تھا۔ اسی کو وہ موسوی مذہب سمجھتےتھے۔ البتہ سیکولر…

Al-Risala january 2016 m1_backfill original + quote

The America I have seen

یہ کتاب امریکا کی منفی تصویر پیش کرتی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد آدمی وہی رائے قائم کرے گاجو عام طور پر امریکا کے بارے میں عربوں کی رائے ہے۔ عرب عام طور پر امریکاکے بارے میں اپنی رائے، اس الفاظ میں بیان کرتے ہیں: امریکا عدو الاسلام رقم واحد (امریکا اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے)۔ اس منفی رائے کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ امریکا کو ایک غیرمتعلق پہلو سے دیکھتے ہیں۔ جو لوگ امریکا کو اسرائیل کے زاویہ سے دیکھتے ہیں، وہ امریکا کو اسلام کا دشمن سمجھتے ہیں۔ اور جو لوگ امریکا کو اس کے کلچر کے اعتبار سے دیکھتے ہیں، وہ لوگ امریکاکو اباحیت (permissiveness )کا ملک سمجھتے ہیں۔ مگر یہ دونوں پہلو امریکا کے غیر متعلق پہلو ہیں۔ اس کا متعلق پہلو یہ ہے کہ امریکا میں سائنسی تحقیق (scientific research) کاسب سے زیادہ کام ہوا ہے۔ غیر متعلق پہلو سے دیکھنے میں امریکا ایک برا ملک نظر آتا ہے، لیکن اگر متعلق پہلو سے دیکھا جائے تو امریکا انسانیت کا محسن ملک نظر آئے گا۔

Al-Risala February 2016 m1_backfill original + quote

…کو پٹے کے طور پر دی گئی تھی۔ یہ پٹہّ1968(lease)میں ختم ہو رہا تھا۔ اس کے بعد حسب معاہدہ، نہر سوئز پوری طرح حکومت مصر کی ملکیت میں آجاتی۔ پٹّے کے ختم ہونے سے پہلے بھی مصری حکومت اور مصری عوام کو اس کے ذریعے بہت سے مالی فائدے مل رہے تھے۔

مگر پٹّہ ختم ہونے سے پہلے مصر کے صدر جمال عبدالناصر (وفات1970:) نے تمام عربوں کی تائید سے ایک اشتعال انگیز واقعہ کیا۔29اکتوبر1956کو انھوں نے اچانک یہ اعلان کردیا کہ آج ہم نے نہر سوئز کو نیشنلائز کر لیا۔ اور اب اس کی ساری آمدنی حکومتِ مصر کو حاصل ہوگی۔(12/844)

جمال عبدالناصر کے اقدام پر سارا عرب رقص کر اٹھا۔ مگر برطانیہ اور فرانس کے لیے وہ ایک اشتعال انگیز واقعہ تھا۔ چناںچہ برطانیہ اور فرانس نے خفیہ طور پر اسرائیل کی بہت بڑی مددکی۔ اور اس کے ذریعے مصر پر حملہ کرادیا۔ اس حملے میں مصر کی فوجی طاقت…

…پر قبضہ کرلے۔اگرچہ ہانگ کانگ کا جزیرہ چین سے ملا ہوا ہے۔ برطانوی حکومت سے چین کی یہ گفت و شنید جاری رہی۔ یہاں تک کہ 1997میں جب پٹّے کی مدت پوری ہوئی تو ہانگ کانگ سے برطانیہ کا اقتدار بھی ختم ہو گیا۔ ہانگ کانگ اب چین کے باقاعدہ قبضے میں ہے۔

1967کی جنگ میں، اسرائیل نے فلسطین، اردن، شام اور مصر کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ عربوں (فلسطین، اردن، شام، مصر) نے اِس جنگ میں اپنا قیمتی علاقہ کھو دیا۔ مگر ٹھیک اسی قسم کی صورتِ حال میں ہانگ کانگ میں برعکس نتیجہ سامنے آیا۔ یہاں چین نے ایک قیمتی جزیرے کو اپنے علاقے میں شامل کرلیا۔ عربوں نے اپنی ناعاقبت اندیشانہ منصوبہ بندی کی قیمت ادا کی اور چین نے اپنی حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کی بنا پر قابلِ ذکر فتح حاصل کی۔

مذکورہ تفصیل بتاتی ہے کہ اسرائیل کا مسئلہ دراصل کسی کے ظلم یا سازش کا نتیجہ نہ تھا، بلکہ وہ خود عربوں کی اپنی نادانیوں کا نتیجہ تھا۔ موجودہ زمانے کا متشددانہ جہاد سب سے زیادہ فلسطین کی زمین سے اُبھرا ہے۔ تمام عرب اور تمام مسلمان اس جہاد کو…

Al-Risala july 2015 m1_backfill original + quote

پیغمبر ِ اسلام کی سنت

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن توحید کا مشن تھا۔ آپ نے اپنے مشن کا آغاز 610 عیسوی میں مکہ میں کیا۔ 632 عیسوی میں مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ پیغمبر ِاسلام کو اس دوران باربار مسائل (problems) پیش آئے۔ آپ نے ہمیشہ اس اصول پر عمل کیا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا تھا— رجز کو چھوڑو، اور انذار (دعوت) کا پیس فل مشن جاری رکھو(المدثر: 5-2)۔ رسول اللہ کی اس پالیسی کو حضرت عائشہ نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے: ما خیر النبی صلى اللہ علیہ وسلم بین أمرین إلا اختار أیسرہما (صحیح البخاری، حدیث : 6786) یعنی رسول اللہ کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب کرتے۔ دوسرے الفاظ میں آپ کا مستقل اصول یہ تھا کہ مسائل کو نظر انداز کرو، اور مواقع کو استعمال کرو۔

Ignore the problems, avail the opportunities

…اپنا دبدبہ قائم کریں- مسلمان اگر اس طرح سوچتے تو وہ نئے حالات کے مطابق، اپنے عمل کی حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کرتے- لیکن مسلمان اِس تاریخی قانون سے بے خبر رہے- نتیجہ یہ ہوا کہ پوری مسلم دنیا مغربی قوموں کے خلاف نفرت میں مبتلا ہو کررہ گئی-

1948میں یہ واقعہ پیش آیا کہ یہود نے نئے حالات سے فائدہ اٹھایا اور فلسطین کے نصف حصے پر اپنی حکومت قائم کرلی- جس پر مسلمان مشتعل ہوگئے-وہ اسرائیل کے خلاف بے نتیجہ قسم کی منفی کارروائیوں میں مشغول ہوگئے، حالاں کہ اگر وہ سوچتے کہ اِس سے پہلے، سیکڑوں سال تک مسلم قوم نے فلسطین پر اپنی حکومت قائم کررکھی تھی- اب اگر یہود قوم کو موقع ملا ہے تو وہ قوموں کے بارے میں تاریخی قانون کی بنا پر پیش آیا ہے-

مسلمان اگر اِس طرح سوچتے تو اُن کے اندر حقیقت پسندانہ فکر پیدا ہوتی- وہ نئے حالات کے لحاظ سے اپنے عمل کا نتیجہ خیز منصوبہ بناتے، لیکن عملا یہ ہوا کہ انھوں نے منفی کارروائیوں میں مبتلا ہو کر صرف اپنے نقصان میں مزید اضافہ کرلیا-

…لکھنؤ اور فیض آباد کا سفر کیا، اور وہاں دعوۃ میٹ کی۔ اِس موقع پردعوت اور تربیت کےموضوع پرصدر اسلامی مرکز کےکئی پروگرام ہوئے-جس سے مقامی ساتھیوں کو ایک بوسٹ (boost) ملا۔انہوں نے نئے جذبے کے ساتھ اور زیادہ دعوتی کام کرنے کا عہد کیا ہے۔

7. 17 جولائی 2014 کو اٹلی کے اسپریچول گرو مسٹر ماریو اپنے 90 ڈسائپل کے ساتھ سی پی ایس تشریف لائے۔ اس مناسبت سے صدر اسلامی مرکز نے ان کے درمیان ایک تقریر کی۔ اس کے بعدسوال و جواب کی نششت رہی۔ پروگرام کے آخر میں رمضان کی مناسبت سےتمام لوگوں کی افطار پارٹی ہوئی اور انہیں قرآن اور دیگر دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ جس کو تمام لوگوں نے بخوشی قبول کیا۔

8. انڈین کلچر اور ہیریٹیج کی آن لائن اوپن انسائیکلوپیڈیا Sahapedia کی نمائندہ مز نہاریکا گپتا نے 24جولائی 2014کو رمضان اور عید الفطر پر صدر اسلامی مرکزاور سی پی ایس کے ممبران کے انٹرویو لئے۔ دوران انٹرویو صدر اسلامی مرکز نے جو باتیں کہیں…

Al-Risala June 2014 m1_backfill

ردِ ّ عمل کی سیاست

بیسویں صدی عیسوی میں تمام دنیا کے مسلمانوں کے اندر ایسی تحریکیں اٹھیں جن کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کے سیاسی اور قانونی نظام کو قائم کیا جائے۔ عرب دنیا میں سید قطب (وفات: 1966 )، برصغیر ہند میں سید ابو الاعلی مودودی (وفات: 1979 ) انڈونیشیا میں عبد القہار مذکر (وفات: 1965 )، سوڈان میں حسن تُرابی (پیدائش: 1932 )اِس کی مثالیں ہیں۔ اِن لوگوں نے تقریر اور تحریر کے ذریعے مسلمانوں میں سیاسی احیا(political revival) کی کوشش کی۔

اِس قسم کی سیاسی تحریکیں، سب کی سب، رد عمل (reaction)کی تحریکیں تھیں۔ وہ نو آبادیاتی دور (colonial age) کے خلاف رد عمل کے طور پر پیدا ہوئیں۔ وہ اصلاً قومی سیاسی تحریکیں تھیں، لیکن اُن کو مسلمانوں کے درمیان اِس لیے مقبولیت حاصل ہوگئی،…

ایک ابدی اصول

خندق کا یہ واقعہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، وہ زندگی کا ایک ابدی اصول ہے- انفرادی زندگی کا بھی اور اجتماعی زندگی کا بھی- وہ اصول یہ ہے کہ اگر کوئی فرد یا گروہ تمھارا مخالف بن جائے تو اس سے ٹکراؤ نہ کرو، بلکہ ٹکراؤ کے بجائے تدبیر کا راستہ اختیار کرو- وہ تدبیر یہ ہے کہ اپنے اور حریف کے درمیان ایک آڑ (buffer) قائم کردو- اِس طرح پیش آمدہ مسئلہ اپنے آپ ختم ہوجائے گا- جس مسئلے کو تم ٹکرا کر ختم کرنا چاہتے ہو، وہ مسئلہ ٹکراؤ کے بغیر خود حالات کے نتیجے میں ختم ہوجائے گا، جیسا کہ خود غزوۂ خندق کے موقع پر ہوا-

اِس حاجز یا آڑ کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں- قدیم زمانے میں حاجز قائم کرنے کے لیے دیوار بنانا یا خندق کھودنا پڑتاتھا- موجودہ زمانے میں نئے وسائل کی دریافت نے اِس تدبیر کی نئی نئی صورتیں پیدا کی ہیں- آدمی اگر صورتِ حال پر مشتعل ہونے کے…

…1524) کے بحری اسفار اِسی تجارتی روٹ کی دریافت کرنے کے لیے تھے- برٹش کمپنی، فرنچ کمپنی اور ڈچ کمپنی جیسے تجارتی ادارے  اِسی مقصد کے لیے بنائے گئے- انیسویں صدی (1859-1869) میں سوئز نہر (Suez Canal) اِسی تجارتی توسیع کے لیے بنائی گئی، وغیرہ-

صنعتی قوموں (industrial nations) کی طرف سے اقتصادی استحصال کے دوبڑے دور ہیں- پہلا دور وہ ہے جو نو آبادیات (colonialism) کے تحت ظہور میں آیا- دوسرا دور وہ ہے جو بیسویں صدی میں ظہور میں آیا جب کہ مسلم ملکوں کی زمین کے اندر تیل کے ذخائر دریافت ہوئے- کہاجاتاہے کہ تیل کے ذخائر کا 75 فی صد سے زیادہ حصہ مسلم ملکوں میں پایا جاتاہے- صنعتی قوموں کو اپنی انڈسٹری چلانے کے لیے تیل کی مسلسل سپلائی کی ضرورت تھی- اِس مقصد کے لیے انھوں نے مسلم ملکوں پر اپنی بالادستی قائم کی، تاکہ اُن کا صنعتی مفاد کسی روک ٹوک کے بغیر مسلسل باقی رہے- 1948 میں اسرائیل کا قیام بھی اسی خاص مقصد سے تھا- اس کا محرک ہرگز ’’اسلام دشمنی‘‘ نہ تھا، بلکہ صرف اپنے قومی اور تجارتی مفاد کو محفوظ رکھنا تھا-

تاریخ میں ہمیشہ نئے حالات پیش آتے ہیں- یہ نئے حالات گویا ایک نئے قسم کا چیلنج ہیں- اُس وقت ضروری ہوتاہے کہ اِن حالات کے مقابلے میں اپنے موقف کوازسرِ نو متعین کیا جائے- مگر عجیب بات ہےکہ پوری مسلم دنیا ، عرب سے عجم تک، اِن حالات کو سمجھ نہ…

Al-Risala April 2013 m1_backfill

…جو انڈرکرنٹ(undercurrent) ہوتی ہے- جس آدمی کے اندر ربانی بصیرت ہو، وہ سطح سے گزر کر انڈرکرنٹ امکانات کو دیکھ لے گا- وہ سطح کی باتوں کو نظر انداز کرے گا اور جوچیز انڈر کرنٹ ہے، اس کو دریافت کرکے اس کے مطابق، اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے گا-

یہ ایک حکمتِ حیات ہے، یعنی سطح کی باتوں کو نظر انداز کرکے انڈر کرنٹ جو حالات ہیں، ان کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرنا- معاہدۂ حدیبیہ اِسی حکمت کی ایک پیغمبرانہ مثال ہے- یہ مثال پیروانِ رسول کے لیے ایک ابدی ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے- پیروانِ رسول کو چاہیے کہ وہ رسول اللہ کے اِس نمونے کو اپنے حالات پر منطبق کریں اور اُس عظیم کامیابی کے حصے دار بنیں جو اِس حکمت پر اللہ نے مقدر کی ہے-

اکیسویں صدی میں حدیبیہ منصوبہ

خود کُش بم باری

خود کش بم باری (suicide bombing) فلسطین میں عربوں نے اسرائیل کے خلاف شروع کی۔ اُس وقت کچھ علماء نے اس کو جائز قرار دیا اور کچھ علماء اس پر خاموش رہے۔ بروقت کسی نے اس کے حرام ہونے کا اعلان نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ برائی پھیلتی رہی، اور اب دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمان خودکش بم باری کے واقعات کررہے ہیں۔ حالاں کہ خودکشی اسلام میں سر تاسر حرام ہے، کوئی بھی عذر اس کو جائز قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔ خود کش بم باری کو جائز قرار دینے کے لیے جو دلیلیں دی جاتی ہیں، اُن میں سے ایک مشہور دلیل ’’الانغماس فی العدوّ‘‘ کی ہے، یعنی دشمن کی صفوں میں گھس پڑنا:

To plunge into enemies.

Al-Risala April 2010 m1_backfill

مولانا عبد الماجد دریابادی (وفات: 1977 ء) نے اپنی انگریزی تفسیر ’’تفسیر القرآن‘‘ میں سورہ الاسراء کی اِس آیت کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ —یہاں لفظ مسجد سے مراد جگہ (site) ہے، نہ کہ مسجد کی کوئی عمارت:

Masjid: properly denotes the site, not the building of a mosque (Vol. 3, p. 2)

اِس معاملے کی مزید تفصیل الرسالہ کے شمارہ، دسمبر 2009 میں صفحہ 39-41 کے تحت دیکھی جاسکتی ہے۔

…جاکر مسجد حرام میں نماز ادا کرتا ہے تو اس کو اِس ابراہیمی تاریخ کی یاد آتی ہے۔ اِس بنا پر اس کی نماز میں غیر معمولی کیفیات پیدا ہوجاتی ہیں۔ اِنھیں بڑھی ہوئی کیفیات کی بنا پر مسجد حرام میں نماز کی اہمیت ہے، نہ کہ صرف درودیوار کے اعتبار سے۔

اِسی طرح مسجد نبوی سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ وابستہ ہے۔ وہاں جب آدمی نماز، پڑھتا ہے تو اس تاریخ کی یاد آدمی کے اندر غیر معمولی کیفیت پیدا کردیتی ہے۔ اِنھیں کیفیات کی بناپر مسجد نبوی کی نماز دوسری مساجد کی نماز سے بہت زیادہ مختلف ہوجاتی ہے۔

اِسی طرح مسجد اقصی سے اسرائیلی پیغمبروں کی تاریخ وابستہ ہے۔ جب کو ئی شخص مسجد اقصی میں نماز ادا کرتا ہے تو اِس تاریخ کی یاد اس کے اندر خصوصی کیفیات پیدا کردیتی ہے۔ اِس طرح یہاں ادا کی ہوئی نماز دوسری مسجدوں کی نماز سے مختلف ہوجاتی ہے۔

…جاری کرے، ایسا گروہ، فطرت کے قانون کے مطابق، دن بدن تخلیقی گروہ (creative group) بنتا چلا جائے گا۔ اِس کے برعکس، جو گروہ نفرت اور تشدد کا طریقہ اختیار کرے، وہ فطرت کے قانون کے مطابق، دن بدن غیر تخلیقی گروہ (uncreative) بنتا چلا جائے گا۔

یہ فطرت کا اٹل قانون ہے۔ اِس میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔ پُر امن طریقِ کار ہمیشہ کسی گروہ کو تخلیقی گروہ بناتا ہے۔ اِس کے برعکس، نفرت اور تشدد کا طریقہ ہمیشہ غیر تخلیقیت کی طرف لے جاتاہے۔ کوئی بھی دوسرا عمل اِس نقصان کی تلافی نہیںبن سکتا۔ قانونِ فطرت کے مطابق، اِس دنیا میں تمام کامیابیاں تخلیقی گروہ کے لیے مقدّر ہیں، اور تمام ناکامیاں غیر تخلیقی گروہ کے لیے۔

قضیۂ فلسطین کا حل

Al-Risala september 2009 m1_backfill original + quote

…تک پھیل گیا جو اسرائیل سے مصالحت کا تعلق قائم کیے ہوئے تھے، یہاں تک کہ منفی جذبات سے بھرے ہوئے یہ مسلمان خود مسلم حکومتوں کے خلاف ہوگئے، کیوں کہ مسلم حکومتیں اسرائیل کے خلاف وہ انتہائی اقدامات نہیں کررہی تھیں جو مسلمان اُن سے چاہتے تھے۔

مذکورہ حدیثِ رسول میں یہ پیشین گوئی کی گئی تھی کہ ’’ارض‘‘ ظلم و جور سے بھر دی جائے گی اور پھر اس کو قسط اور عدل سے بھرا جائے گا۔ یہ ایک تعبیری اسلوب ہے۔ اِس سے مراد یہی مذکورہ صورتِ حال ہے۔ موجودہ زمانے میںعملاً یہی پیش آیا ہے کہ ارضِ فلسطین کے حوالے سے ، ساری دنیا کے مسلمان نفرت اور تشدد میںمبتلا ہوگئے۔ اِسی نفرت اور تشدد کو ’’ظلم اور جور‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد حدیث کے مطابق، جو ہونا ہے، وہ یہ کہ ’’ارض‘‘ کو قسط اورعدل سے بھر دیا جائے۔ یہ امن کی تعبیر ہے۔ اِس حدیث میں قسط اور عدل سے مراد امن پر مبنی معتدل فضا ہے جو مسلمانوں کے لیے دعوت کے مواقع کو کھولنے والی ہے۔اسلام کا سب سے بڑا کنسرن (concern) دعوت ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ نفرت اور تشدد کا ماحول دعوت کے دروازوں کو بند کردیتا ہے، اور امن اور معتدل تعلقات کا ماحول دعوت کے دروازوں کو کھولنے والا ہے۔

حدیث میں جس واقعے کی پیشین گوئی کی گئی ہے، اس کا تعلق نہ جنگ سے ہے اور نہ حکومت سے، یعنی اس مطلوب کے حصول کے لیے نہ تو جنگ کی جائے گی اور نہ وہ حکومت کی طاقت سے قائم ہوگا۔ یہ پورا معاملہ ایک نظریاتی معاملہ ہوگا، یعنی ایک منفی آئڈیالوجی…

…پر جو الزام دیتے ہیں، وہ خود اُس میں برابری کے درجے میں شریک ہیں۔ خالص اصول کی روشنی میں، دونوں میں سے کسی کا کیس بھی موجودہ حالت میں، حق پر مبنی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہاں اِس سلسلے میںمختصر طورپر چند متعلق پہلوؤں کاذکر کیا جاتا ہے۔

1 - انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں یہود کے درمیان ایک تحریک اٹھی جس کو صہیونی تحریک (Zionism) کہاجاتا ہے۔ صہیون (Zion) دراصل یروشلم میں واقع ایک پہاڑی کا نام ہے۔ اِس پہاڑی کو یہودی لوگ مقدس مانتے ہیں اور اس کو وہ یہودی قومیت کا مرکزی نشان سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر ہرزل (Theodor Herzl) کی قیادت میں 1890 میں صہیونی تحریک شروع ہوئی۔ اِس کا پہلا انٹرنیشنل اجلاس 1897 میں سوئزر لینڈ کے شہر باسل (Basel) میں ہوا۔ صہیونی تحریک کا مقصد یہ تھا کہ یہودی ڈائس پورا (Jews in diaspora) کو فلسطین واپس لانا، اور یہاں ان کی نیشنل اسٹیٹ قائم کرنا۔ اِس تحریک کے نتیجے میں بال فور کمیشن قائم ہوا، اور اس کی سفارش کے مطابق، 1948 میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔

عرب رہ نماؤں نے متفقہ طورپر یہودی ڈائس پورا کی فلسطین واپسی کی مخالفت کی۔ یہ مخالفت اِس حد تک پہنچی کہ انھوں نے اسرائیل کے خلاف متشددانہ جہاد شروع کردیا۔ یہ مخالفانہ تحریک بڑھتی رہی۔ ساری دنیا کا مسلم پریس، اور ساری دنیا کا مسلم مائنڈ…

خود کُش بم باری

خود کش بم باری (suicide bombing) فلسطین میں عربوں نے اسرائیل کے خلاف شروع کی۔ اُس وقت کچھ علماء نے اس کو جائز قرار دیا اور کچھ علماء اس پر خاموش رہے۔ بروقت کسی نے اس کے حرام ہونے کا اعلان نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ برائی پھیلتی رہی، اور اب دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمان خودکش بم باری کے واقعات کررہے ہیں۔ حالاں کہ خودکشی اسلام میں سر تاسر حرام ہے، کوئی بھی عذر اس کو جائز قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔ خود کش بم باری کو جائز قرار دینے کے لیے جو دلیلیں دی جاتی ہیں، اُن میں سے ایک مشہور دلیل ’’الانغماس فی العدوّ‘‘ کی ہے، یعنی دشمن کی صفوں میں گھس پڑنا:

To plunge into enemies.

Al-Risala april 2009 m1_backfill original + quote

پہلی واپسی،دوسری واپسی

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہود (بنی اسرائیل) کے لیے پیشگی طورپر دو وعدہ (appointed time) مقرر فرمایا تھا (الإسراء: 4)۔ حضرت ابراہیم کے ذریعے نافذ ہونے والے خدائی منصوبے کے مطابق، یہود کا وطن ارضِ فلسطین قرار پایا ۔ اِس کے بعد ان کی لمبی تاریخ کے دوران یہ مقدر تھا کہ اُن کے ساتھ دوبار یہ واقعہ پیش آئے گا کہ وہ اپنے وطن فلسطین سے نکل کر بیرونی علاقوں میں منتشر ہوجائیں گے اور پھر اپنے وطن فلسطین کی طرف دوبارہ واپس آئیںگے۔ گویا کہ یہود کی نسل دوبار ڈائس پورا (diaspora) کی صورت اختیار کرے گی اور پھر وہ اپنے وطن کی طرف واپس آئے گی۔

حضرت یوسف کے زمانے میں بنی اسرائیل، کنعان (فلسطین) سے ہجرت کرکے مصر گئے۔ اُس وقت اُن کی تعداد 70 تھی (پیدائش: 46: 27 )۔ بائبل کے بیان کے مطابق، اُن کی نسلیں 430 سال تک مصر میںآباد رہیں (خروج: 12:40 )۔ اِس کے بعد حضرت موسیٰ کے زمانے میں…

Al-Risala april 2009 m1_backfill

… کیا جاسکے۔ حدیث میں نزولِ مسیح کے زمانے میں جس قتل یہود کا ذکر ہے، اُس سے مراد جسمانی قتل نہیں، بلکہ اس سے مراد یہودکو ایکسپوز کرنا ہے، تاکہ قیامت سے پہلے یہ واضح ہوجائے کہ وہ حق پر قائم تھے، یا وہ حق کو چھوڑ کر حق سے دو رچلے گئے تھے۔

اِن واقعات کی روشنی میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہود کا اجتماع جو 1948میںاسرائیل کے اندر ہوا، وہ خدائی منصوبے کے عین مطابق تھا۔ اب یہ مطلوب تھا کہ امتِ مسلمہ اُن کو مدعو کے روپ میں دیکھے اور ناصحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے اُنھیں حق کا پیغام پہنچائے۔ یہ یہود کے اوپر آخری اتمامِ حجت ہوگا۔ اِس کے بعد اگلا مرحلہ قیامت کا مرحلہ ہوگا۔ یہ مرحلہ خداوند ِ ذوالجلال کے سامنے حاضر ہونے کا مرحلہ ہوگا، یہود کے لیے اور امتِ مسلمہ کے لیے اور ساری دنیا کے لیے ۔

عرب- اسرائیل ٹکراؤ جو 1948 میں شروع ہوا، اُس کا سب سے زیادہ سنگین پہلو یہ ہے کہ 60 سال کے خونی تصادم کے باوجود اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا، بلکہ عملاً وہ صرف کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوا ہے۔ جہاد کے نام پر کی جانی…

Al-Risala july 2008 m1_backfill

خود ساختہ منطق

ایک انگریزی کتاب نظر سے گزری۔ وہ 2007 میں بمبئی سے چھپی ہے۔ وہ 391 صفحات پر مشتمل ہے۔ اِس کتاب کا نام یہ ہے— کامیابی کا قانون :

Law of Success For Both the Worlds.

Al-Risala March 2008 m1_backfill

…تھا، کیو ں کہ مہاراجا رنجیت سنگھ کی فوج نہایت طاقت ور فوج تھی۔ مہاراجا نے فرانس کے رٹائرڈ جنرلوں کو بلا کر اپنی فوج کو ٹرینڈ کیا تھا۔ چناں چہ سید احمد بریلوی اور ان کے ساتھیوں کا پورا قافلہ بالا کوٹ کے میدان میں ہلاکت کا شکار ہوکر رہ گیا۔

اِس کے بعد1857ء میں سہارن پور (دیوبند) کے علما نے برٹش گورنمنٹ کے خلاف مسلّح جہاد کیا۔ اِس موقع پر طاقت کا توازن انتہائی غیر متناسب طورپر برطانیہ کے حق میں تھا۔ چناں چہ دوبارہ یک طرفہ تباہی کے سوا کچھ اور حاصل نہیں ہوا۔

انیسویں صدی عیسوی اور بیسویں صدی عیسوی میں اِس طرح کے کئی واقعات عالمِ اسلام میں ہوئے۔ مثلاً مَہدی سوڈانی (وفات:1885 ء) نے سوڈان (افریقہ) کے علاقے میں برٹش راج کے خلاف مسلّح جہاد کیا، حالاں کہ اُن کو حکومتی حیثیت حاصل نہ تھی۔اِس اقدام میں…

…طور پر ادا کرنا چاہیں تو اردو میںاس کے لیے الفاظ نہیں ملتے۔ سائنٹفک اسلوب سادہ اسلوب ہے ۔ وہ حقیقت نگاری کا دوسرا نام ہے۔ مگر اردو اپنے شاعرانہ انداز کی وجہ سے اس کے بالکل نا اہل ہوگئی کہ اس میں کسی بات کو سائنٹفک انداز سے بیان کیا جاسکے۔

1973 کا واقعہ ہے۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کی لڑائی میں فلسطینیوں کا کافی نقصان ہوا تھا،اور مسلمانوں میں غم و غصہ کا ماحول تھا۔ 19 اکتوبر 1973 کو جمعیۃ علماء کے زیر اہتمام دہلی میں ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ یہ جلوس جامع مسجد سے شروع ہو کر امریکی سفارت خانہ پر ختم ہوا۔ دہلی کے مسلمانوں کے علاوہ اطراف کے شہروں کے مسلمان بھی بڑی تعداد میں آ آکر اس میں شامل ہوئے تھے۔ میں بھی الجمعیۃ ویکلی کے ایڈیٹر کی حیثیت سے اس جلوس میں شریک تھا۔

ہزاروں کی تعداد میں لوگ نئی دہلی میں واقع امریکی سفارت خانہ کے گیٹ پر جمع ہوگئے۔ لوگ اس قدر جوش میں تھے گویا کہ وہ گیٹ کو توڑ کر سفارت خانہ کے اندر داخل ہوجائیں گے۔ تاہم وہاں پولیس کا کافی انتظام تھا، اس لیے لوگ اندر داخل نہ ہوسکے۔

Al-Risala May 2007 m1_backfill

…حکومت کو غیر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس مزاج کو ختم کرنا بے حد ضروری ہے۔ کیوں کہ اس مزاج کی بنا پر مسلمانوں میں منافقانہ کلچر تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ یعنی ایک سیاسی نظام کو غیر دینی نظام سمجھنا اور اسی کے ساتھ اس سے بھر پور فائدہ اٹھانا۔

5 - دوردرشن (نئی دہلی) کی ٹیم نے 28 دسمبر 2006 کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو رکارڈ کیا۔ اس کے انٹرویور مسٹر شمیم تھے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ عید الاضحی کا مطلب ہے— قربانی کی عید۔ قربانی سے مراد یہ ہے کہ آدمی سچائی کو قربانی کی حد تک اختیار کرے۔ وہ کسی بھی حال میں سچائی کے راستے سے نہ ہٹے۔

6 - این ڈی ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے 30 دسمبر 2006 کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو کارڈ کیا۔ انٹرویور مسٹر اوما شنکر تھے۔ سوالات کا تعلق، صدر صدام حسین کی پھانسی سے تھا جو آج ہی عراق میں پیش آئی ہے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ جو…

دیباچہ

زیرِ نظر کتاب اسلامی تہذیب بمقابلہ مغربی تہذیب: حریف یا حلیف اپنے موضوع پر ایک دلچسپ اور قابل مطالعہ کتاب ہے۔ یہ کتاب ۲۲ ممتاز مسلم شخصیتوں کے انٹرویوز پر مشتمل ہے۔ اس بنا پر اس کتاب میں تنوع کی صفت پیدا ہوگئی ہے۔ اس میں زیر بحث موضوع پر مختلف تعلیم یافتہ شخصیتوں کے اپنے اپنے افکار اور تجربات کا خلاصہ دیکھا جاسکتا ہے۔

اس کتاب کو پاکستان کے ایک معروف صحافی مسٹر افضال ریحان نے مرتب کیا ہے۔ کتاب میں جو مختلف انٹرویوز شامل ہیں وہ سب انہی کے لیے ہوئے ہیں۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ انٹرویو لینا ایک مشکل آرٹ ہے۔ انٹرویو رجب سوال کرتا ہے تو اپنے ہر سوال میں وہ…

Al-Risala April 2004 m1_backfill other source

…ہے کہ انسان کی منصوبہ بندی کتنی ناقص ہے۔ اس کے برعکس خالق کی منصوبہ بندی کائنات میں اتنی مکمل ہے کہ ایک بار بنانے کے بعد خالق کو یہ ضرورت پیش نہیں آئی کہ وہ کائنات کی از سر نو منصوبہ بندی کرے: فتبارک اللہ احسن الخالقین (المومنون ۱۴)

۶ ستمبر کے ٹائمس آف انڈیا میں ایک خبر ہندی روزنامہ دینک بھاسکر کے بارے میں تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ اس وقت آٹھ ریاستوں میں دینک بھاسکر کے اکیس ایڈیشن نکلتے ہیں۔ ہر دن اس کی جو تعداد چھپ کر فروخت ہوتی ہے وہ مجموعی طورپر ۲۴ لاکھ ہے۔

میں نے کہا کہ مسلمان ہر معاملہ میں دوسروں کی شکایت کرتے ہیں، حالانکہ انہیں اپنی کوتاہیوں کو جان کر اس کو درست کرنا چاہئے۔ موجودہ زمانہ میں اخبار بہت بڑی طاقت مانا جاتا ہے۔ مگر ہندستان میں مسلمانوں کا کوئی ایک بھی ایسا اخبار نہیں جس کی…

…کاتذکرہ اس طرح کرتے تھے جیسے کہ وہ مسئلہ کے حل کی جانب کوئی بہت بڑا قدم ہے۔ مگر یہ ایک خوبصورت تجویز کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس طرح کے ادارے پہلے ہی سے اقوام متحدہ کے اندر موجود ہیں۔ پھر ننے نام کے ساتھ ایک اور دارہ قائم کرنے سے کیا فائدہ۔

میری معلومات کے مطابق، اقوام متحدہ میں دو قسم کے شعبے قائم ہیں۔ ایک، امدادی شعبہ ، اور دوسرا، رہنما شعبہ۔ پہلی قسم کے شعبے وہ ہیں، جن کے تحت اقوام متحدہ مال یا سامان کے ذریعے لوگوں کی مدد کرتی ہے۔ یہ شعبے کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ دینے والا جب دے رہا، ہو تو کوئی بھی لینے والا اس سے انکارنہیں کر تا ۔ اس کے مقابلے میں دوسرے شعبے وہ ہیں، جو قوموں سے کچھ کرنے کے لیے کہتے ہیں۔ واقعات بتا تے ہیں کہ اس دوسرے شعبے کے تحت کوئی قوم اقوام متحدہ کی ہدایت کو قبول نہیں کر تی ۔ جہاں تک انٹرریلیجس کو نسل کامعاملہ ہے ، وہ اس دوسرے شعبہ سے متعلق ہے۔ پھر عملی طو رپر وہ کس طرح مؤثر ثابت ہو سکے گا۔

اسرائیل کے اندر اب بھی عربوں کی ایک تعداد اسرائیلی شہری کی حیثیت سے رہتی ہے ۔ ان میں سے ایک عرب سائو تھ کو ریا کی کانفرنس میں بھی آئے تھے۔ ان کا نام محمد خلیل کیوان (Tel. 049881238 058758234) ہے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ اسرائیل کے اندر جو…

Al-Risala January 2004 m1_backfill unverified

…تکلیف پر وہ بے چین ہوجائے گا جتنی کہ چھوٹی اور معمولی تکلیف پر بھی ۔ اصل یہ ہے کہ کوئی پریشانی صرف اس وقت تک پریشانی رہتی ہے جب تک آپ کے پاس اس کی توجیہہ (explanation) نہ ہو ۔ تو جیہہ کرنے کے بعد پریشانی یاذہنی تنائو فوراًختم ہو جاتا ہے۔

سول سے روانہ ہو کرہمارا جہاز ہانگ کا نگ (Hong Kong) کے ایرپورٹ پر اتر ا۔ ہانگ کا نگ ایرپورٹ بینکاک ایرپورٹ جیسا شاندار نظرنہیں آیا۔ ہانک کانگ ایرپورٹ پر اتفاق سے دو مسلم تاجروں سے ملاقات ہو ئی ۔ ان میں سے ایک پاکستان سے تعلق رکھتے تھے، اور دوسرے بنگلہ دیش سے ۔ دونوں سے دیر تک گفتگو ہوئی ۔ میں نے سوچا کہ ہانگ کانگ میں یہ دونوں خوشی کے ساتھ مل رہے ہیں، مگر ’’ مشرقی پاکستان‘‘ میں دونوں ایک ساتھ رہنے پر راضی نہ ہو سکے۔

ہانگ کا نگ چین کے جنوبی ساحل پر واقع ہے۔یہ کئی جزیروں کا مجموعہ ہے۔ وہ سابق پرتگالی مقبوضہ مکائو(Macau) سے 40 میل دور ہے۔ ہانگ کانگ کاکل رقبہ 1062 مربع کلومیٹر ہے۔ ہانگ کانگ کی بندرگاہ بہترین قدرتی بندرگاہ(Harbour) سمجھی جاتی ہے۔ہانگ کانگ…

Al-Risala July 2003 m1_backfill original + quote

۲۳ مارچ ۲۰۰۳

بی بی سی لندن نے ایک رپورٹ نشر کی۔ آج کل مختلف ملکوں میں مسلمان بہت بڑے پیمانہ پر اینٹی امریکا جلوس نکال رہے ہیں۔ بی بی سی کے نمائندے نے اُردن کے ایک جلوس میںشرکت کی۔ وہاں عرب نوجوانوں نے نہایت جوش کے ساتھ جلوس نکالا تھا۔ ایک عرب نوجوان سے بی بی سی لندن کے نمائندہ نے بات کی۔ عرب نوجوان نے کہا کہ صدام ہمارا ہیرو ہے۔ صدام ہی اسرائیل کو کُچل سکتا ہے۔

یہی وہ نفسیات ہے جس کے تحت تمام دنیا کے مسلمان صدام حسین کے حامی بن گئے ہیں۔ ایک بلین مسلمانوں میں شاید میں اکیلا ہوں جو صدام حسین کا حامی نہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ مسلمانوں نے صدام حسین کے غلط کاموں پر اُس کی مذمت نہیںکی۔ صدام حسین بعث…

Al-Risala September 2020 m1_backfill original + quote

…کام کرو گے تب بھی اپنے لیے برا کرو گے۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے اور بندے بھیجے کہ وہ تمہارے چہرے کو بگاڑ دیں اور مسجد میں گھس جائیں جس طرح وہ اس میں پہلی بار گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا زور چلے اس کو برباد کردیں (17:4-7)۔

قرآن کی ان آیتوں میں یہود کے بگاڑ کا ذکر ہے۔ لیکن اس کے بعد یہ نہیں فرمایا کہ یہود کے اندر ہم نے مصلحین پیدا کیے۔ بلکہ یہ فرمایا کہ ان کے اندر ہم نےاپنے زور آور بندے بھیجے، جنھوں نے ان کو تباہ و برباد کیا۔ یہود (بنی اسرائیل) کی تاریخ میں دوبار یہ واقعہ پیش آیا کہ ان کو نبوکد نضر(1125-1104ق م) اور رومی بادشاہ ٹائٹس (39-81ء) نے فلسطین کے علاقے سے نکال کر بیرونی علاقہ میں پھیلادیا، جس کو ڈائسپورا (diaspora) کہا جاتا ہے۔ (دیکھیے، تفسیر ماجدی، سورہ بنی اسرائیل، حاشیہ7)

اس کی وجہ کیا ہے۔ بنی اسرائیل کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا، یہ واقعہ ایک اعتبار سے سزا کا معاملہ تھا، اور دوسرے اعتبار سے اس کا مقصد یہ تھا کہ قدیم زمانے میں یہودی نسلوں میں جو تعطل (stagnation) آگیا تھا، اس کو توڑا جائے۔ ان کو دوبارہ یہ…

Diary 1983-1984 m1_backfill other source

There is no archaeological evidence of Mahabharata war at all.

ڈاکٹر سٹکالیا پونہ میں یو این آئی کو ایک انٹرویو دے رہے تھے )اسٹیٹسمین، 25 ستمبر 1975ء)

17 مئی 1984

Diary 1983-1984 m1_backfill

5 اکتوبر 1984

جون 1967 میں عرب اسرائیل جنگ ہوئی۔ اس چھ روزہ جنگ میں اسرائیل کو زبردست کامیابی ہوئی ۔ اس نے عربوں کے بڑے حصہ پرقبضہ کر کے اپنارقبہ بہت بڑھا لیا۔ اس جنگ میں اسرائیل کی کامیابی کا ایک راز یہ تھا اختلاف کے باوجود متحد ہونا۔ اس وقت اسرائیل میں ایشکول (Levi Eshkol) کی حکومت تھی۔ ایشکول کی حکومت 1963 سے 1969 تک رہی ۔

ایشکول اور موشے دایان کے درمیان زبردست اختلاف تھا۔ اسی اختلاف کی بنا پر موشے دایان نے 1964 میں کابینہ سے استعفا دے دیا تھا۔ مگر 1967 میں جمال عبد الناصر کی پالیسی کے نتیجہ میں جب محسوس ہوا کہ اسرائیل اور عربوں کے درمیان جنگ ہو کر رہے گی تو…

Diary 1989-1990 m1_backfill original + quote

…ملانے کی کوشش کی۔ مگر کوئی ریاست تیار نہیں ہوئی۔ آخر کار وہ تنہا انگریزوں سے لڑ گئے۔4 مئی 1799 کو سرنگاپٹنم میں انگریز کی گولی نے ان کا خاتمہ کر دیا۔ ٹیپو کا یہ قول بہت مشہور ہے : شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسال کی زندگی سے بہتر ہے۔"

اس جملہ میں بہادری ضرور ہے ، مگر اس میں دانش مندی نہیں۔ اگر یہ کوئی مطلق اصول ہوتو رسول اور اصحاب رسول کو مکہ میں شیرکی طرح لڑکر شہید ہو جانا چاہئے تھانہ کہ وہ ایک ایسی روش اختیار کریں جس نے اغیار کو موقع دیا کہ وہ اس کو'' فرار " سے تعبیر کریں۔

جنوبی ہند میں حیدرہ آباد کے نظام نے ٹیپو سلطان کے برعکس طریقہ اختیارکیا ن۔ تیجہ یہ ہوا کہ وقتی مصالحت کی بنا پر انھیں یہ موقع ملا کہ وہ قیام ریاست 1768سے لے کر 1956 تک ہندستان کے اندر اور ہندستان کے باہرمسلمانوں اور اسلامی اداروں کی…

Diary 1989-1990 m1_backfill

…کیمپ بنائے اور وادی کشمیر کے نوجوانوں کو بلا کہ وہاں انھیں فوجی ہتھیار استعمال کرنے کی تربیت دینا شروع کیا۔ یہی تربیت یافتہ نوجوان ہیں جو اس وقت کشمیر میں جہاد آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں۔ موجودہ کشمیری تحریک کا کریڈٹ ضیاء الحق کو جا تا ہے۔

یہ روایت اگر درست ہے تو یہ ایک بدترین کام ہے جو ضیاء الحق صاحب نے کیا۔ یہ صرف تخریب کاری کا ایک کام ہے ، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ضیا ءالحق اگر واقعتہ اسلام کو جانتے تو وہ پاکستانی کشمیر میں دعوتی تربیت کے کمیپ کھولتے ۔ وہ کشمیری نوجوانوں کو وہاں بلاکر نھیں سچا داعی بناتے ۔ وہ ان کے اندر یہ جذبہ بھرتے کہ وہ اولا کشمیر کے ہندوؤں میں اور پھر سارے ہندستان کے غیر مسلموں میں اسلام کی تبلیغ کریں۔

مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ضیاء الحق صاحب یا کوئی اور لیڈر اس قسم کا تربیتی کیمپ کھولے تو ایسا کیمپ خالی پڑا رہے گا۔فوجی کیمپ کو بھرنے کے لئے نفرت ہندو کا سرمایہ درکار ہے ، اور وہ موجودہ مسلمانوں میں افراط کے ساتھ موجود ہے۔ مگر دعوتی…

Diary 1989-1990 m1_backfill

…کے باہمی اختلاف نے عرب لیگ کوعملا بے معنی بنا دیا ہے۔ 2 اگست 1990 کو عراق نے کویت پر حملہ کر دیا اور اس پر قبضہ کر کے اس کو عراق میں شامل کر دیا۔ اس مسئلہ پر10 اگست کوقاہرہ میں عرب ملکوں کی کانفرنس ہوئی ۔ مگر کوئی متفقہ فیصلہ نہ ہوسکا۔

عرب لیگ کے چارٹر کے مطابق ، وہی فیصلہ عرب لیگ کا فیصلہ کہا جائے گا جوتمام وابستہ عرب ملکوں کے اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔ مصر کے اجلاس میں12 ملکوں نے مذمت کی قرار داد پر دستخط کی اور بقیہ ملک مختلف وجوہ سے اس پر دستخط نہ کرسکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عرب برادری اس کھلی ہوئی جارحیت کے خلاف لفظی مذمت پر متفق نہ ہوسکی۔عملی طور پر عراق کا مقابلہ کرنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔

امریکہ اور روس اور چین کے بعد صدام حسین کے پاس اس وقت سب سے بڑی فوج موجود ہے ۔ مگرامریکہ اپنے حلیفوں کو لے کر مقابلہ پر نہ گیا ہوتا تو اب تک صدام حسین کئی عرب ملکوں کو نگل چکے ہوتے حتی کہ خود سعودی عرب کو بھی۔

Diary 1989-1990 m1_backfill

…وجہ سے تیسری دنیا کے ملکوں کو تیل کی پریشانی ہورہی ہے ۔ ہم پیش کش کر رہے ہیں کہ تیسری دنیا کے ممالک ہمارے یہاں سے جس قسم کا اور جتنا تیل چاہیں ، مفت لے جائیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ خو دا پناٹینکر لے کر آئیں ۔ اور اپنے ٹینکر میں تیل لے جائیں۔

اگلے دن واشنگٹن میں امریکی حکومت کے ترجمان نے بجا طور پر کہا کہ صدام حسین کی ایک چال (timnnick )ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ انھیں ایک بیرل تیل بھی کسی کو مفت دینانہیں پڑے گا۔ کیوں کہ اقوام متحدہ کی تجویز کے مطابق ،امریکہ اور دوسرے ملکوں نے عراق کی جو ناکہ بندی کر رکھی ہے، اس میں تیل کے ٹینکر بھی شامل ہیں ۔ تیل کا کوئی جہاز نہ عراق کی طرف جاسکتا اور نہ عراق سے آسکتا۔

اسی طرح اس سے پہلے صدام حسین نے اعلان کیا کہ ہم کو یت خالی کرنے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کو خالی کر دے۔ یہاں بھی صدام حسین جانتے ہیں کہ اسرائیل فلسطین کو خالی نہیں کرے گا۔ اور امریکا ایسا کرے گا کہ وہ اس مقصد…

Diary 1989-1990 m1_backfill original + quote

…پر ایک دوسرے کے جذبات مشتعل نہ ہوں ۔ انھوں نے کہا کہ ۵۰ تا ۱۰۰ کے قریب میوزک اور ڈھول بجانے والے لوگ جب مل کر مسجد کے سامنے سے گزریں گے تو اتنا شوروغل بر پا ہو گا کہ ہر مسلمان مشتعل ہو جائے گا۔ اس طرح لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔

اس مقد مہ کی سماعت مسٹرجسٹس بی مین اور مسٹر جسٹس ہرٹن نے کی۔ ان کا فیصلہ بمبئی لار پورٹ کے جرنل ( جلد ۲۰ ) میں موجود ہے۔ یہ فیصلہ24 جنوری۱1918 کو ہوا۔ عدالت نے مسٹرمحمد علی جناح کے دلائل کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے فیصلہ میں کہا کہ ماتحت عدالت کا فیصلہ یہ ہے کہ ہندوؤں کے جلوس کو ڈھول باجہ کے ساتھ مسجد کے سامنے سے گزرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس طرح ہندو کی اپیل خارج ہوگئی۔ مضمون نگار نے آخر میں یہ جملہ لکھا ہے: " قائد اعظم یہ اپیل مذہبی روایات کے خلاف اقدامات کرنے پرجیت گئے اور حق کا بول بالا ہوا۔"

مسٹر جناح نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح ہونے اور ان کو مشتعل ہونے سے بچانے کے لئے1918 میں جو عدالتی کامیابی حاصل کی تھی اس کا نتیجہ صرف یہ ہوا کہ سلمان پچھلے 70 سال سے زیادہ بڑے پیمانہ پر عین اسی مصیبت کا شکار ہو رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ…

Al-Risala march 2017 m1_backfill

…ٹائٹس (Titus) کے زمانہ میں۔ یہ گویا یہود کے لیے ڈائسپورا (diaspora) میں جانے کا زمانہ تھا۔ یہ یہود کے لیے عذاب یا غضب الٰہی کا معاملہ نہ تھا، یہ در اصل تنبیہ (warning)کا معاملہ تھا۔ یہ اس لیے تھا تاکہ یہود نصیحت پکڑیں اور اپنی اصلاح کریں۔

یہود کی زندگی میں یہ تنبیہی دور لمبی مدت تک جاری رہا۔ اس کے نتیجے میں یہود کے اندر مذہبی اصلاح تو نہیں آئی۔ کیوں کہ زوال کے دور میں انھوں نے جس قومی کلچر کو مذہب کےنام سے اختیار کر رکھا تھا۔ اسی کو وہ موسوی مذہب سمجھتےتھے۔ البتہ سیکولر معنی کے اعتبار سے ان کے اندر بہت بڑی تبدیلی آئی، اور انھوں نے امریکا و یورپ کے ملکوں میں سائنسی تعلیم حاصل کی، اور یہ جانا کہ دورِ جدید کیا ہے۔ یہاں تک کہ سیکولر معنوں میں وہ جدید معیار کے مطابق ایک ترقی یافتہ قوم بن گیے۔ یہود کی تاریخ کا یہ مثبت پہلو موجودہ اسرائیل میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔

موجودہ زمانے کے مسلمان بھی اسی تنزل کے دور سے گزر رہے ہیں، اور دوبارہ ان پر اسی طرح اللہ کی طرف سے تنبیہات آ رہی ہیں، جس طرح یہود کے اوپر آئی تھیں۔ موجودہ زمانہ میں جن چیز وںکو ’’اغیار کا ظلم‘‘ کہا جاتا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے…

Al-Risala February 2016 m1_backfill unverified

…منفی خبریں ہیں جن کو پڑھ کر ساری دنیا کے مسلمانوں کا ذہن منفی بن گیا۔ اور یہی منفی ذہن ہے جو اپنے نقطۂ انتہاء پر پہنچ کر وہ خوف ناک تشدّد بن جاتا ہے، جس کو القاعدہ یا داعش (آئی ایس آئی ایس) یا بوکوحرام، وغیرہ جیسے ناموں سے جانا جاتا ہے۔

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے1967میں اسرائیل اور مصر کے درمیان جنگ ہوئی۔ اس جنگ میں مصر کو زبردست شکست ہوئی اور اسرائیل نے پیش قدمی کر کے اپنے رقبے کو بہت زیادہ بڑھا لیا۔ اس واقعے پَر عربی، فارسی، انگریزی اور اُردو زبان میں جو رپورٹیں چھپیں یا اس واقعے پر مسلمانوں کی جو کتابیں شائع ہوئیں ان سب میں متفقہ طور پر ایک ہی بات کہی گئی تھی، اور وہ یہ کہ اسرائیل نے مغربی قوموںسے سازش کر کے ظالمانہ طور پر مصر کے اوپر حملہ کیا اور فلسطین میں اپنی وسیع تر حکومت قائم کرلی۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ یہ اصل کہانی کاصرف نصف آخر ہے۔ کہانی کا نصف اول اس میں شامل نہیں۔ کہانی کے نصف آخر کو سامنے رکھیے تو بظاہر یہ معلوم ہوگا کہ یہ اسرائیل کی طرف سے ایک ظلم کا واقعہ تھا۔ لیکن اگر کہانی کے نصف اول کو شامل کر کے غور کیا جائے تو برعکس طور پر یہ معلوم ہوگا کہ 1967میں جو کچھ ہوا اس کی ذمے داری مکمل طور پر خود عربوں پر عائد ہوتی ہے۔ یہ خود عرب قیادت کا ایک نادان اقدام تھا جس کی قیمت اسے ذلّت اور بربادی کی شکل میں بھگتنی پڑی۔

1967میںعربوں کے ساتھ جو المیہ پیش آیا اس پر پیغمبرِاسلام کے یہ الفاظ پوری طرح صادق آتے ہیں:لا ینبغی للمسلم أن یذلّ نفسہ، قیل:و کیف یذل نفسہ، قال:یتعرّض من البلاء لمالا یطیق (مسند احمد،حدیث نمبر23444:) یعنی کسی مسلم کے لیے یہ درست نہیں…

…کے مطابق، اپنے آپ ختم ہو جاتی۔ مگر ان کے عاجلانہ اقدام نے مصر کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔اور اسرائیل کا رقبہ بہت زیادہ بڑھ گیا۔ جو چیز 1968میں اپنے آپ مل جاتی اس کو 1956میں پیشگی طور پر حاصل کرنے کی کوشش مصر کے حق میں الٹی ثابت ہوئی۔

اِس طرح اس کہانی کے دو حصے ہیں۔ اس کا ایک حصہ وہ ہے جو نہر سوئز کو غیر حکیمانہ طور پر قبضے میں لینے سے تعلق رکھتا ہے۔ اور اس کا دوسرا حصہ وہ ہے جو نہر سوئز پر غیر حکیمانہ قبضے کے بعد بطور ردّعمل پیش آیا۔ اگر اس کہانی کے صرف نصف ثانی کو دیکھا جائے تو اسرائیل ظالم اور سرکش دکھائی دے گا۔ لیکن اگر اس کہانی کے نصف اول کو ملا اس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہوگا کہ مصر—اسرائیل جنگ کے بعد عربوں کے ساتھ جو بُری صورتِ حال پیش آئی وہ خود عربوں کی اپنی نادانی کا نتیجہ تھی۔اِس معاملے میں عربوں کا کیس عمل کا کیس ہے اور اسرائیل کا کیس ردّعمل کا کیس۔ اسرائیل کا مزید استحکام، دراصل خود عربوں کی اپنی ناعاقبت اندیشانہ پالیسی کی قیمت تھی جو انھوں نے اَدا کی۔—مگرغلط رپورٹنگ کی بنا پر ایسا ہوا کہ تمام مسلمان، اسرائیل سے نفرت میں مبتلا ہو گیے۔ حالاںکہ اصل صورتِ حال کے مطابق، انھیں خود اپنے احتساب میں مصروف ہونا چاہیے تھا۔

ایک تقابلی مثال سے یہ معاملہ بخوبی طور پر سمجھ میں آسکتا ہے۔ یہ مثال وہ ہے جو ہانگ کانگ سے تعلق رکھتی ہے۔برطانی استعمار کے زمانے میں انگریزوںنے ہانگ کانگ کو پٹّے پر 99 سال کے لیے لیا تھا۔ پٹّے کی یہ مدت 1997 میں ختم ہو رہی تھی۔ دوسری…

Al-Risala july 2015 m1_backfill

…أیسرہما (صحیح البخاری، حدیث : 6786) یعنی رسول اللہ کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب کرتے۔ دوسرے الفاظ میں آپ کا مستقل اصول یہ تھا کہ مسائل کو نظر انداز کرو، اور مواقع کو استعمال کرو۔

Ignore the problems, avail the opportunities

اس پیغمبرانہ طریقے کی چند مثالیں یہ ہیں۔ مکی دور میں کعبہ کی عمارت میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ نے ان بتوں سے عملاً کوئی تعرض نہیں کیا۔ بلکہ وہاں جو لوگ ملتے تھے ان کو آپ توحید کا پرامن پیغام پیش کرتے رہے۔ قریش نے آپ کے خلاف مقاطعہ…

9. 29 جولائی 2014 کو صدر اسلامی مرکز نے عید کے موقع پرایک خطاب کیا۔ اس کا عنوان تھا— —عید کا پیغام۔ یہ پروگرام G-10، نظام الدین ویسٹ میں ہوا۔ اور سی پی ایس ٹیم دہلی کے ممبران اس میں شریک ہوئے۔

10. انڈیااورانڈیاسےباہرکےمختلف مقامات پر ہمارے ساتھی بڑےپیمانےپرقرآن اور دعوتی لٹریچر کی اشاعت کا کام کر رہے ہیں- اب دعوتی کا م کا ایک تخلیقی طریقہ انہوں نے تلاش کیا ہے، اسٹریٹ دعوۃ۔ وہ یہ کہ کسی روڈ کے کنارے، جہاں پبلک کی آمد و رفت رہتی ہے، وہ ایک اسٹال لگا کر پر امن انداز میں لوگوں کو قرآن کا ترجمہ اور دیگر دعوتی لٹریچر دیتے ہیں۔ لوگ بڑے شوق سے اور شکریہ کے ساتھ اسے لیتے ہیں-

11. مختلف قسم کے دعوتی تجربات وتاثرات کا ایک حصہ ذیل میں نقل کیا جاتا ہے:

Al-Risala June 2014 m1_backfill

…ہند میں سید ابو الاعلی مودودی (وفات: 1979 ) انڈونیشیا میں عبد القہار مذکر (وفات: 1965 )، سوڈان میں حسن تُرابی (پیدائش: 1932 )اِس کی مثالیں ہیں۔ اِن لوگوں نے تقریر اور تحریر کے ذریعے مسلمانوں میں سیاسی احیا(political revival) کی کوشش کی۔

اِس قسم کی سیاسی تحریکیں، سب کی سب، رد عمل (reaction)کی تحریکیں تھیں۔ وہ نو آبادیاتی دور (colonial age) کے خلاف رد عمل کے طور پر پیدا ہوئیں۔ وہ اصلاً قومی سیاسی تحریکیں تھیں، لیکن اُن کو مسلمانوں کے درمیان اِس لیے مقبولیت حاصل ہوگئی، کیوں کہ اُن کے رہنماؤں نے انھیں اسلام کی اصطلاحوں میں بیان کیاتھا۔

جس زمانے میں نو آبادیاتی طاقتوں کا ظہور ہوا، اُس زمانے میں دنیا کے بڑے حصے میں مسلم سلطنتیں قائم تھیں۔ بر صغیر ہند میں مغل سلطنت، ترکی اور عرب ممالک میں عثمانی سلطنت، وغیرہ۔ اِسی طرح ایشیا اور افریقہ کے بیش تر علاقے، مسلم سلطنت کے تابع…

…مصر کے صدر جمال عبدالناصر (وفات1970:) نے تمام عربوں کی تائید سے ایک اشتعال انگیز واقعہ کیا۔29اکتوبر1956کو انھوں نے اچانک یہ اعلان کردیا کہ آج ہم نے نہر سوئز کو نیشنلائز کر لیا۔ اور اب اس کی ساری آمدنی حکومتِ مصر کو حاصل ہوگی۔(12/844)

جمال عبدالناصر کے اقدام پر سارا عرب رقص کر اٹھا۔ مگر برطانیہ اور فرانس کے لیے وہ ایک اشتعال انگیز واقعہ تھا۔ چناںچہ برطانیہ اور فرانس نے خفیہ طور پر اسرائیل کی بہت بڑی مددکی۔ اور اس کے ذریعے مصر پر حملہ کرادیا۔ اس حملے میں مصر کی فوجی طاقت کچل کر رہ گئی۔ اسرائیل نے مزید اطرف کے علاقوں پر قبضہ کر کے اپنے رقبے کو پانچ گُنا بڑھا لیا۔

جمال عبدالناصر اگر اِس معاملے میں12سال انتظار کرتے تو سوئز کمپنی معاہدے کے مطابق، اپنے آپ ختم ہو جاتی۔ مگر ان کے عاجلانہ اقدام نے مصر کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔اور اسرائیل کا رقبہ بہت زیادہ بڑھ گیا۔ جو چیز 1968میں اپنے آپ مل جاتی اس…

Al-Risala july 2015 m1_backfill unverified

Ignore the problems, avail the opportunities

اس پیغمبرانہ طریقے کی چند مثالیں یہ ہیں۔ مکی دور میں کعبہ کی عمارت میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ نے ان بتوں سے عملاً کوئی تعرض نہیں کیا۔ بلکہ وہاں جو لوگ ملتے تھے ان کو آپ توحید کا پرامن پیغام پیش کرتے رہے۔ قریش نے آپ کے خلاف مقاطعہ (boycott) کا فیصلہ کیا تو آپ نے قریش سے ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ مقاطعہ کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے پرامن طور پر شعبِ ابی طالب میں چلے گیے۔ اہل مکہ نے آپ کو مجبور کیا کہ آپ مکہ چھوڑ دیںتو آپ نے اہل مکہ سے جنگ نہیں کی بلکہ ہجرت کرکے پرامن طور پر مدینہ چلے گیے۔ حدیبیہ کے موقع پر مکہ کے سرداروں نے آپ کو اس سے روکا کہ آپ مکہ جاکر عمرہ کریں، آپ نے اس موقع پر ان سے ٹکراؤ نہیں کیا بلکہ حدیبیہ سے واپس ہوکر مدینہ چلے گیے، وغیرہ۔

اسی کے ساتھ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کچھ اور مثالیں ہیں۔ مثلاًبدر کے موقعے پر آپ نے قریش سے قتال کیا، احد کے موقعے پر آپ نے اہل مکہ سے جنگ کی ، حنین کے موقع پر آپ نے قبیلۂ ہوازن سے جنگی مقابلہ کیا، وغیرہ۔

Al-Risala October 2014 m1_backfill original + quote

…سے متعلق سوالات کا جواب دیاگیا- گفتگو کے دوران ایک بات یہ کہی گئی کہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو یہ بات معلوم نہیں ہے کہ جمہوریت کتنی اہم چیز ہے۔ اس لیے ضرورت یہ ہےکہ انہیں اس بارے میں ایجوکیٹ کیا جائے، تبھی اس قسم کے جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں۔

3. 25 جون 2014 کو نیوز چینل آج تک اور ہڈ لائن کے ایک رپورٹر نے ایک انٹرویو لیا۔ انٹر ویو اس بات پر تھا کہ موجودہ عراقی کرائسس کے موقع پر ہندوستان سےشیعہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کااپنے مذہبی مقامات کی حفاظت کے لیے عراق جا نا کیسا ہے۔ صدر اسلامی مرکز نے یہ کہا کہ ان کا وہاں جانا ریزلٹ کے اعتبار سےٹھیک نہیں ہوگا، اگرچہ وہ پیس کےنام پر جائیں۔ شیعہ جائیں گے تو سنی ری ایکٹ کریں گے، اور سنی جائیں گےتو شیعہ۔یہ انٹرویو ہندی اور انگریزی دونوں زبانوں میں تھا۔ان دونوں انٹرویوز کو CPS International کی ویب سائٹ پر سنا جا سکتا ہے۔

http://cpsglobal.org/podcast/maulanas-interactions

Al-Risala June 2014 m1_backfill unverified

…تھیں۔ وہ نو آبادیاتی دور (colonial age) کے خلاف رد عمل کے طور پر پیدا ہوئیں۔ وہ اصلاً قومی سیاسی تحریکیں تھیں، لیکن اُن کو مسلمانوں کے درمیان اِس لیے مقبولیت حاصل ہوگئی، کیوں کہ اُن کے رہنماؤں نے انھیں اسلام کی اصطلاحوں میں بیان کیاتھا۔

جس زمانے میں نو آبادیاتی طاقتوں کا ظہور ہوا، اُس زمانے میں دنیا کے بڑے حصے میں مسلم سلطنتیں قائم تھیں۔ بر صغیر ہند میں مغل سلطنت، ترکی اور عرب ممالک میں عثمانی سلطنت، وغیرہ۔ اِسی طرح ایشیا اور افریقہ کے بیش تر علاقے، مسلم سلطنت کے تابع تھے۔نوآبادیاتی طاقتیں جب مسلم دنیا میں داخل ہوئیں تو اُس وقت کی مسلم سلطنتوں نے ان کا راستہ روکنے کی کوشش کی، لیکن فوجی اور اقتصادی اعتبار سے نو آبادیاتی طاقتوں (colonial powers)کو برتری حاصل تھی، اِس لیے ہر میدان میں وہ غالب آتی چلی گئیں۔ یہ صورتِ حال، مسلم رہ نماؤں کے لیے ناقابلِ برداشت تھی، چناں چہ وہ ان کے خلاف لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔یہ جدوجہد ابتدا ء ًغیر مسلّح انداز میں شروع ہوئی۔ مثلاً سید ابوالاعلیٰ مودودی نے لٹریچر تیار کرکے اس کو پھیلانا شروع کردیا۔ اِس لٹریچر میں اسلام کو اِس حیثیت سے پیش کیاگیا تھا کہ اسلام کے وجود وبقا کے لیے سیاسی غلبہ لازمی طورپر ضروری ہے۔ اِس لیے ہمارا فرض ہے کہ ہم دوبارہ اسلام کو سیاسی اعتبار سے غالب کرنے کی کوشش کریں۔

اِسی درمیان 1948 میں فلسطین میں اسرائیل کا قیام عمل میںآیا۔ یہ مسلمانوں کے لیے بے حد ناقابلِ برداشت تھا۔ بال فور ڈکلریشن کے مطابق، یہودیوں کو محدود کوٹا سسٹم (limited quota system) کے تحت ، فلسطین کے ایک علاقے میں واپسی کی اجازت دی گئی۔…

…اور حریف کے درمیان ایک آڑ (buffer) قائم کردو- اِس طرح پیش آمدہ مسئلہ اپنے آپ ختم ہوجائے گا- جس مسئلے کو تم ٹکرا کر ختم کرنا چاہتے ہو، وہ مسئلہ ٹکراؤ کے بغیر خود حالات کے نتیجے میں ختم ہوجائے گا، جیسا کہ خود غزوۂ خندق کے موقع پر ہوا-

اِس حاجز یا آڑ کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں- قدیم زمانے میں حاجز قائم کرنے کے لیے دیوار بنانا یا خندق کھودنا پڑتاتھا- موجودہ زمانے میں نئے وسائل کی دریافت نے اِس تدبیر کی نئی نئی صورتیں پیدا کی ہیں- آدمی اگر صورتِ حال پر مشتعل ہونے کے بجائے سنجیدگی کے ساتھ غور کرے تو آسانی کے ساتھ وہ موقع کے لحاظ سے ایک کامیاب تدبیر دریافت کرسکتاہے-

اِس معاملے کی ایک تاریخی مثال یہ ہے کہ 1950کے بعد مصر اور مغربی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھی، یہاں تک کہ اُس وقت کے مصری صدر جمال عبد الناصر کے ذہن میں انتہا پسندانہ خیالات آنے لگے، چناں چہ انھوں نے یہ نا عاقبت اندیشانہ اقدام کیا کہ…

Al-Risala January 2011 m1_backfill original + quote

…امریکا سے مادی فائدہ اٹھانا۔مسلمانوں کا یہ ذہن قرآنی ذہن نہیں ہے۔ قرآن کی سورہ المائدہ میں ایک آیت آئی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: کسی گروہ کی دشمنی تم کو اِس پر نہ آمادہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے (5: 8)۔

اِس آیت کا تقاضا ہے کہ امریکا کے معاملے میں مسلمان انصاف سے کام لیں اور حقیقت پسندانہ رائے قائم کریں۔ مثلاً مسلمانوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیوں ایسا ہے کہ امریکا نے عراق پر بم باری کی، لیکن وہی امریکا سعودی عرب کی بھر پور حمایت کرتا ہے۔ امریکا ایک طرف اسرائیل کی مدد کرتا ہے اور دوسری طرف وہی امریکا پاکستان کو غیر معمولی مدد دے رہا ہے۔ جارج بش سینئر کے د ور سے پہلے امریکا میں ایک بھی مسجد نہیں تھی اور آج امریکا میں ایک ہزار سے زیادہ مسجدیں (اسلامک سنٹر) ہیں۔ امریکا میں اسلام کے نام پر جتنی سرگرمیاں ہوتی ہیں، اتنی سرگرمیاں غالباً کسی مسلم ملک میں بھی نہیں، وغیرہ۔

اس تقابل پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ امریکا کا کیس نہ اینٹی اسلام کیس ہے اور نہ پرومسلم کیس، بلکہ اس کا کیس پروامریکا (pro-America) کیس ہے، یعنی امریکا جو کچھ کررہا ہے، وہ اپنے قومی مفاد کے لیے کررہا ہے، نہ کہ اسلام اور مسلمانوں کی…

…کا قابلِ عمل حل صرف ایک ہے، وہ یہ کہ عرب حضرات اپنی طرف سے ہر قسم کے تشدد کو کامل طورپر چھوڑ دیں۔ یہ ایک لازمی شرط ہے۔ اِس شرط کو پورا کیے بغیر مسئلے کے حل کی بات کرنا، ایک خیالی دنیا میںسفر کرنا ہے، اورایسا سفر کبھی واقعہ نہیں بنتا۔

جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے، اس کو بھی ایک لازمی شرط کو پورا کرنا ہوگا، وہ یہ کہ اسرائیل، فلسطین میںمقیم عربوں کو وہی حقوق دے، جو اسرائیلی دستور کے رُو سے، اس کے حدود میںرہنے والے باشندوں کو حاصل ہیں۔یعنی عرب لوگ اسرائیل کے خلاف اپنے تشدد کو کامل طورپر چھوڑ دیں، اور اسرائیل اپنے دستور اور حقوقِ انسانی (human rights) کے عالمی اصول کے مطابق، فلسطینی عربوںکو مساوی بنیاد پر اُن کے تمام ضروری حقوق دے دے۔ یہ دو باتیں اگر اصولی طورپر مان لی جائیں، تو ان کی بنیاد پر پُر امن باہمی گفت وشنید (negotiation) کے ذریعے ایک عملی نظام بنایا جاسکتاہے۔

عام طورپر زمین برائے امن (land for peace) کی بات کی جاتی ہے، یعنی زمین دو اورامن لو۔ مگر اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر میںاِس تجویز کو قطعی طورپر ناقابلِ عمل سمجھتا ہوں۔ اِس معاملے میںجوچیز قابلِ عمل ہے، وہ صرف حقوق برائے امن (right for…

Al-Risala september 2009 m1_backfill original + quote

…ہوگا کہ قیامت بہت قریب آچکی ہے۔ ’’زمین اپنی برکتیں نکال دے گی‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اُس زمانے میں مواقع (opportunities) کی بہت زیادہ کثرت ہوجائے گی۔ اِن مواقع کو استعمال کرکے یہ ممکن ہوجائے گا کہ دنیا میں امن کی عمومی فضا قائم کی جاسکے۔

اِس حدیثِ رسول کی روشنی میں بیت المقدس، یا فلسطین کے مسئلے پر غور کیجیے۔ فلسطین کا مسئلہ اپنی موجودہ صورت میں، بیسویں صدی کے وسط میں پیدا ہوا۔ ابتدائی طورپر یہ مسئلہ عربوں کا ایک قومی، یا جغرافی مسئلہ تھا۔ لیکن تمام مسلمانوں کا مسئلہ بنانے کے لیے اس کو اسلامی مسئلے کی حیثیت سے نمایاں کیاگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر جو تحریکیں اٹھیں، وہ تقریباً سب کی سب، بر اہِ راست یا بالواسطہ طورپر، فلسطین کے مسئلے کا رد عمل تھیں— الاخوان المسلمون، حماس، القاعدہ، تحریک طالبان، وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔

اِس قسم کی مسلم تحریکیں جوموجودہ زمانے میں مختلف علاقوں میںاُٹھیں، ان کے مجموعے کو صحوۃ إسلامیۃ (Islamic Ressurgence) کہاجاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام تحریکیں صحوۃ فلسطینیۃ(Palestinian Ressurgence) ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ اِن تحریکوں…

…والا ہو، نہ کہ لوگوں کے جذبات کو تسکین دینے والا۔ اِسی بنیادی اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے فلسطین کے مسئلے کامذکورہ بالا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ اِس تجزیے کی روشنی میںاِس مسئلے کا جو قابلِ عمل منصفانہ حل ممکن ہے، اس کو ذیل میںدرج کیا جاتاہے۔

اِس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ عرب اور غیر عرب مسلمانوں کی طرف سے اِس معاملے میںاب تک جو باتیں کہی جاتی رہی ہیں، اُس میں ہمیشہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ فلسطین کا اِشو، ظالم اور مظلوم کا اشو ہے، یعنی اسرائیل یک طرفہ طورپر ظالم ہے، اور عرب یک طرفہ طور پر مظلوم۔ مسئلے کا بے لاگ جائزہ بتاتا ہے کہ یہ تقسیم ایک غیر حقیقی تقسیم ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ اِس معاملے میں عرب اور اسرائیل، دونوں کی حیثیت یکساں ہے۔ دونوں میں سے کسی کا کیس بھی عدل اور معقولیت پر مبنی کیس نہیں ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر جو الزام دیتے ہیں، وہ خود اُس میں برابری کے درجے میں شریک ہیں۔ خالص اصول کی…

…پیدا کرنے کی زیادہ بڑی ذمے داری عرب قیادت پر آتی ہے۔ ایسی حالت میں عرب اور اسرائیل، دونوں کے درمیان کوئی حقیقی فرق نہیں۔ جب دونوں فریق یکساں طورپر ایک ہی غلطی کا شکار ہوں، تو کوئی ایک فریق دوسرے فریق کو ذمے دار ٹھہرانے کا حق کھو دیتا ہے۔

جیسا کہ عرض کیاگیا، اِسی نوعیت کی ایک سنگین غلطی وہ تھی جو اِس سے پہلے خود عرب قیادت سوئز کے معاملے میں کرچکی ہے۔ سوئز نہر (Suez Canal)ایک مصنوعی نہر ہے جو میڈی ٹیرینین (Mediterranean) کو ریڈ سی (Red Sea) سے ملاتی ہے۔ یہ نہر یورپین کمپنیوں نے (1859-69) بنائی تھی۔ پھر حکومتِ مصر نے اس کو برٹش اور فرنچ کمپنی (Suez Canal Co.) کو 99 سال کے لیے پٹّہ (lease) پر دے دیا۔ معاہدے کے مطابق، یہ پٹّہ 1968 میں ختم ہورہا تھا۔

لیکن عرب رہ نما اُس زمانے میںرومانوی جوش کا شکار تھے۔ اِس ماحول میںیہ ہوا کہ مصر کے سابق صدر جمال عبد الناصر(وفات: 1970 ) نے 1956 میں یک طرفہ طورپر اِس معاہدے کو ختم کردیا اور یورپین کمپنی کو بے دخل کرکے نہر سوئز کو حکومتِ مصر کے براہِ…

Al-Risala april 2009 m1_backfill original + quote

…آئے گا کہ وہ اپنے وطن فلسطین سے نکل کر بیرونی علاقوں میں منتشر ہوجائیں گے اور پھر اپنے وطن فلسطین کی طرف دوبارہ واپس آئیںگے۔ گویا کہ یہود کی نسل دوبار ڈائس پورا (diaspora) کی صورت اختیار کرے گی اور پھر وہ اپنے وطن کی طرف واپس آئے گی۔

حضرت یوسف کے زمانے میں بنی اسرائیل، کنعان (فلسطین) سے ہجرت کرکے مصر گئے۔ اُس وقت اُن کی تعداد 70 تھی (پیدائش: 46: 27 )۔ بائبل کے بیان کے مطابق، اُن کی نسلیں 430 سال تک مصر میںآباد رہیں (خروج: 12:40 )۔ اِس کے بعد حضرت موسیٰ کے زمانے میں مصر سے نکل کر وہ لوگ وادی ٔسینا کے علاقے میں آئے۔ اُس وقت (عورتوں اور بچوں کو چھوڑ کر) اُن کے مردوں کی تعداد 6 لاکھ ہوچکی تھی (خروج: 12: 37 )۔ اس کے بعد وہ 1400 قبل مسیح میں حضرت موسیٰ کے خلیفہ یوشع بن نون (Joshua) کی قیادت میں اپنے وطن فلسطین میں داخل ہوئے۔ یہ یہودی تارکینِ وطن (Jews in diaspora) کے ارضِ فلسطین میں داخلے کا پہلا ’’وعدہ‘‘ تھا۔ یہ داخلہ خدا کے حکم کے مطابق ہوا۔ اِس کا ذکر قرآن کی اِس آیت میں آیا ہے: یا قوم ادخلوا الأرض المقدسۃ التی کتب اللہ لکم (المائدۃ: 21 ) یعنی موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ ارضِ مقدس میںداخل ہوجاؤ، جس کو خدا نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے ساتھ دوسرا وعدہ کب پورا ہوا، یا کب پورا ہوگا۔ اِس معاملے میں قرآن کی ایک آیت سے رہنمائی ملتی ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 17 میں یہود کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: فإذا جاء وعد الآخرۃ جئنا بکم لفیفًا (الإسراء:…

Al-Risala july 2008 m1_backfill

Law of Success For Both the Worlds.

اِس کتاب کے باب (chapter) نمبر چار میں فلسطینی لیڈر شیخ احمد یاسین کو ماڈل کے طورپر پیش کیا گیا ہے(صفحہ 16 )۔ وہ نوجوانی کی عمر میں ایک حادثے کی بنا پر چلنے پھرنے سے معذور ہوگئے تھے۔ وہ وھیل چیر (wheel chair) پر رہتے تھے۔ وہ اپنی جوشیلی تقریروں کے ذریعے فلسطینی نوجوانوں کو ابھارتے تھے کہ وہ اسرائیل کے خلاف جنگ کریں۔ مگر اِس جنگ میں فلسطینیوں کو یک طرفہ نقصان کے سوا اور کچھ حاصل نہیںہوا۔ اسرائیل نے شیخ یاسین کو پہلے جیل میں قید کیا۔ جب وہ قید سے چھوٹے تو پھر انھوںنے اسرائیل کے خلاف اپنی لفظی جنگ جاری کردی۔ آخر کار اسرائیل نے ان کو 22 مارچ 2004 کوگولی مار کر ہلاک کردیا۔

مصنف نے اِس واقعے کو کامیابی کے قانون کے تحت بطور ماڈل پیش کیا ہے۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ اِس واقعے کو ناکامی کے قانون کے تحت بطور ماڈل پیش کیا جائے۔ کامیابی کی جدوجہد، مواقع (opportunities) کو مثبت طورپر استعمال کرنے کے لیے ہوتی ہے،…

Al-Risala May 2007 m1_backfill

I call on you not to hate Americans, because hate closes all doors of thinking.

یہ بلاشبہہ ایک صحیح پیغام ہے۔ اور نہ صرف عراقیوں کو بلکہ تمام دنیا کے مسلمانوں کو اِس پر عمل کرنا چاہیے۔

7 - دینک ٹی وی (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر احمد نے 25 جنوری 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو رکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق، سچر کمیٹی کی رپورٹ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ ترقی ذاتی محنت سے ملتی ہے، رعایت سے ترقی ممکن نہیں۔

…اور قابل مطالعہ کتاب ہے۔ یہ کتاب ۲۲ ممتاز مسلم شخصیتوں کے انٹرویوز پر مشتمل ہے۔ اس بنا پر اس کتاب میں تنوع کی صفت پیدا ہوگئی ہے۔ اس میں زیر بحث موضوع پر مختلف تعلیم یافتہ شخصیتوں کے اپنے اپنے افکار اور تجربات کا خلاصہ دیکھا جاسکتا ہے۔

اس کتاب کو پاکستان کے ایک معروف صحافی مسٹر افضال ریحان نے مرتب کیا ہے۔ کتاب میں جو مختلف انٹرویوز شامل ہیں وہ سب انہی کے لیے ہوئے ہیں۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ انٹرویو لینا ایک مشکل آرٹ ہے۔ انٹرویو رجب سوال کرتا ہے تو اپنے ہر سوال میں وہ خود اپنے آپ کو متعارف کراتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ کتاب میں مسٹر افضال ریحان کے سوالات ان کی اپنی شخصیت کا تعارف ہیں۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو یہ سوالات خود ایک مستقل کتاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان سوالات کے ذریعہ انٹرویو رکی جو شخصیت ابھر کر سامنے آتی ہے وہ ایک ایسے انسان کی شخصیت ہے جو ذہین اور سنجیدہ ہونے کے ساتھ مثبت طرز فکر کا حامل ہے۔

کتاب میں جو انٹرویوز شامل کیے گیے ہیں ان میں غور وفکر کا کافی مواد موجود ہے۔ بار بار ایسی باتیں سامنے آتی ہیںجو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اس قسم کے چند جملے یہاں مثال کے طور پر نقل کیے جاتے ہیں۔

Al-Risala April 2004 m1_backfill

۶ ستمبر کے ٹائمس آف انڈیا میں ایک خبر ہندی روزنامہ دینک بھاسکر کے بارے میں تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ اس وقت آٹھ ریاستوں میں دینک بھاسکر کے اکیس ایڈیشن نکلتے ہیں۔ ہر دن اس کی جو تعداد چھپ کر فروخت ہوتی ہے وہ مجموعی طورپر ۲۴ لاکھ ہے۔

میں نے کہا کہ مسلمان ہر معاملہ میں دوسروں کی شکایت کرتے ہیں، حالانکہ انہیں اپنی کوتاہیوں کو جان کر اس کو درست کرنا چاہئے۔ موجودہ زمانہ میں اخبار بہت بڑی طاقت مانا جاتا ہے۔ مگر ہندستان میں مسلمانوں کا کوئی ایک بھی ایسا اخبار نہیں جس کی روزانہ اشاعت اتنی زیادہ ہو۔ ایسے حالات میں اگر اس ملک میں مسلمانوں کا کیس ایک کمزور کیس بن جائے تو اس کی شکایت انہیں اپنے آپ سے کرنا چاہیے، نہ کہ دوسروں سے۔

۷ ستمبر ۲۰۰۳ کے ٹائمس آف انڈیا کا ایڈیٹوریل اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون (Ariel Sharon)کے دورۂ ہند کے بارہ میں تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل کا کوئی وزیر اعظم انڈیا کے سرکاری دورہ پر آرہا ہے۔ اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے اخبار…

…کچھ کرنے کے لیے کہتے ہیں۔ واقعات بتا تے ہیں کہ اس دوسرے شعبے کے تحت کوئی قوم اقوام متحدہ کی ہدایت کو قبول نہیں کر تی ۔ جہاں تک انٹرریلیجس کو نسل کامعاملہ ہے ، وہ اس دوسرے شعبہ سے متعلق ہے۔ پھر عملی طو رپر وہ کس طرح مؤثر ثابت ہو سکے گا۔

اسرائیل کے اندر اب بھی عربوں کی ایک تعداد اسرائیلی شہری کی حیثیت سے رہتی ہے ۔ ان میں سے ایک عرب سائو تھ کو ریا کی کانفرنس میں بھی آئے تھے۔ ان کا نام محمد خلیل کیوان (Tel. 049881238 058758234) ہے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ اسرائیل کے اندر جو مسلمان رہتے ہیں، ان کا حا ل کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ خیر کی حالت میں ہیں۔ ان پر کوئی پابندی نہیں۔ اِلّا یہ کہ کوئی وہاں کے امن میں خلل ڈالے۔ پر امن عربوں کے لیے وہاں کوئی مسئلہ نہیں۔

اجتماع کے آخری دن الوداعی تقریب میں کانفرنس کے تمام شرکا ڈنر کی میز پر تھے۔ اس وقت کانفرنس کے ایک ذمہ دار کی تقریر ہوئی، اور اس کے بعد کچھ ساز ونغمہ کاپروگرام ہوا ۔ اس دوران مذکورہ اسرائیلی عرب مائک پر آگئے۔ پہلے وہ کچھ بولے، اور پھر…

…نارمل انداز سے بات کرتے رہے ۔انہوں نے اطمینان کے ساتھ کہا کہ کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ چند دن کے اندر جسم کے خود کارنظام کے تحت خون کی یہ کمی پوری ہو جائے گی۔ دہلی ایرپورٹ پراتر کر وہ اطمینان کے ساتھ اپنی رہائش گا ہ کی طرف روانہ ہو گئے۔

اس غیر معمولی تجربہ پر میں غور کرتا رہا۔ آخر کار میری سمجھ میں آیا کہ اضطراب اور اطمینان دونوں اصلاً دماغی حالتیں ہیں۔ تکلیف بظاہر آدمی کے جسم پر ہوتی ہے مگر اس پر نفسیاتی کیفیت کو انسان کادماغ کنٹرول کرتا ہے۔ اگر آدمی کے اعصاب مضبوط ہوں، تو ظاہری تکلیف کے باوجود پوری طرح مطمئن رہ سکتا ہے، اور اگر اعصاب کمزور ہوں تو ہر تکلیف پر وہ بے چین ہوجائے گا جتنی کہ چھوٹی اور معمولی تکلیف پر بھی ۔ اصل یہ ہے کہ کوئی پریشانی صرف اس وقت تک پریشانی رہتی ہے جب تک آپ کے پاس اس کی توجیہہ (explanation) نہ ہو ۔ تو جیہہ کرنے کے بعد پریشانی یاذہنی تنائو فوراًختم ہو جاتا ہے۔

سول سے روانہ ہو کرہمارا جہاز ہانگ کا نگ (Hong Kong) کے ایرپورٹ پر اتر ا۔ ہانگ کا نگ ایرپورٹ بینکاک ایرپورٹ جیسا شاندار نظرنہیں آیا۔ ہانک کانگ ایرپورٹ پر اتفاق سے دو مسلم تاجروں سے ملاقات ہو ئی ۔ ان میں سے ایک پاکستان سے تعلق رکھتے تھے،…

Tazkirul Quran (Urdu) m1_backfill unverified

…قرض حسن فرمایا۔ مومن کی راہ میں مشکلات کا پیش آنا کوئی محرومی کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے فضل کا نیا دروازہ کھلنا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے جان ومال کو اللہ کے لیے خرچ کرکے اللہ کی ان عنایتوں کا مستحق بنتا ہے جو عام حالات میں کسی کو نہیں ملتیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تقریباً تین سو سال بعد بنی اسرائیل اپنے پڑوس کی مشرک قوموں سے مغلوب ہوگئے۔ اسی حال میں تقریباً چوتھائی صدی گزارنے کے بعد ان کو احساس ہوا کہ وہ اپنے پچھلے دور کو واپس لائیں۔ اب اپنے دشمنوں سے لڑنے کے لیے ان کو ایک امیر لشکر کی ضرورت تھی۔ ان کے نبی سموئیل (1020-1100ق م) نے ان کے لیے ایک شخص کا تقرر کیا جس کا نام قرآن میں طالوت اور بائبل میں ساؤل آیا ہے۔ ذاتی اوصاف کے اعتبار سے وہ ایک موزوں شخص تھا۔ مگر بنی اسرائیل اس کی سرداری قبول کرنے کے بجائے اس قسم کے اعتراضات نکالنے لگے کہ وہ تو چھوٹے خاندان کا آدمی ہے۔ اس کے پاس مال و دولت نہیں۔ مگر اس طرح کی اختلافی بحثیں کسی قوم کے زوال یافتہ ہونے کی علامت ہیں۔ اللہ کے فیصلے وسعت اور علم کی بنا پر ہوتے ہیں۔ اس ليے وہی بندہ اللہ کا محبوب بندہ ہے جو خود بھی وسیع النظری کا طریقہ اختیار کرے اور جو فیصلہ کرے حقائق کی بنیاد پر کرے، نہ کہ تعصبات اور مصلحتوں کی بنیاد پر۔ تاہم صندوق کو واپس لاکر اللہ نے طالوت کے تقرر کی ایک غیر معمولی تصدیق بھی فرمادی۔ بنی اسرائیل کے یہاں ایک مقدس صندوق تھا جو مصر سے خروج کے زمانہ سے ان کے یہاں چلا آرہا تھا۔ اس میں تورات کی تختیاں اور دوسری متبرک چیزیں تھیں۔ بنی اسرائیل اس کو اپنے ليے فتح وکامیابی کا نشان سمجھتے تھے۔ فلستی اس صندوق کو ان سے چھین کر اٹھا لے گئے تھے۔ مگر اس کو انھوں نے جس جس بستی میں رکھا وہاں وہاں وبائیں پھوٹ پڑیں۔ اس سے انھوں نے برا شگون لیا اور صند وق کو ایک بیل گاڑی پر رکھ کر ہانک دیا۔ وہ اس کو لے کر چلتے رہے۔ یہاں تک کہ یہودیوں کی آبادی میں پہنچ گئے — اللہ اپنے کسی بندے کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لیے کبھی اس کے گرد ایسی غیر معمولی چیزیں جمع کردیتا ہے جو عام انسانوں کے ساتھ جمع نہیں ہوتیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تقریباً تین سو سال بعد بنی اسرائیل اپنے پڑوس کی مشرک قوموں سے مغلوب ہوگئے۔ اسی حال میں تقریباً چوتھائی صدی گزارنے کے بعد ان کو احساس ہوا کہ وہ اپنے پچھلے دور کو واپس لائیں۔ اب اپنے دشمنوں سے لڑنے کے لیے ان کو ایک…

…تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔

حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔ حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔

حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی…

…تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔

حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔ حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔

زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے…

…تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔

حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔ حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔

حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی…

انسان کے سوا جو کائنات ہے اس میں کہیں تضاد نہیں۔ اس دنیا میں لکڑی ہمیشہ لکڑی رہتی ہے۔ اور جو چیز اپنے آپ کو لوہا اور پتھر کے روپ میں ظاہر کرے وہ حقیقی تجربہ میں بھی لوہا اور پتھر ہی ثابت ہوتی ہے۔ انسان کو بھی ایسا ہی بننا چاہیے۔ انسان کے کہنے اور کرنے میں مطابقت ہونی چاہیے، حتی کہ اس وقت بھی جب کہ آدمی کو اپنے کہنے کی یہ قیمت دینی پڑے کہ ہر قسم کی دشواریوں کے باوجود وہ صبر کا پہاڑ بن جائے۔

تجارت میں آدمی پہلے دیتا ہے، اس کے بعد اس کو واپس ملتا ہے۔ دین کی جدوجہد میں بھی آدمی کو اپنی قوت اور اپنا مال دینا پڑتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ بھی ایک قسم کی تجارت ہے۔ البتہ دنیوی تجارت کا نفع صرف دنیا میں ملتا ہے اور دین کی تجارت کا نفع…

10اپریل 1985

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے۔جامع مسجد دہلی میں ایک دن دو جلسے ہوئے۔ دونوں جلسے جامع مسجد کے قریبی پارک میں تھے۔ دونوں کی تاریخ ایک تھی۔ صرف اتنا فرق تھا کہ ایک جلسہ مغرب سے پہلے ہوا، اور دوسرا جلسہ مغرب کے بعد۔

ایک جلسے کو جماعت اسلامی اور مجلس مشاورت وغیرہ کی جانب سے کیا گیا تھا، اور دوسرے جلسے کو جمعیۃ علماء اور قوم پرست مسلمانوں نے۔ ایک حلقے کے لوگ ایک جلسے میں گئے اور دوسرے حلقے کے لوگ دوسرے جلسے میں۔

Raah-e-Amal (p. 127) m1_backfill

قربانیاں بے نتیجہ رہیں

1۔ سید احمد بریلوی(1786-1831) اور ان کے ہزاروں ساتھیوں نے پنجاب کی سکھ اسٹیٹ(مہاراجہ رنجیت سنگھ) کے خلاف مسلح اقدام کیا۔ مگر ان کا اقدام مکمل طور پرناکام رہا۔ سید احمد بریلوی اور ان کے ساتھی1831 میں بالاکوٹ کے میدان میں بری طرح ہلاک کر دیے گئے۔ سکھ ریاست اپنی پوری شان کے ساتھ بدستور قائم رہی۔

اس کے بعد اسی سکھ ریاست سے انگریزوں کا ٹکراؤ ہوا۔ اس ٹکراؤ میں انگریز مکمل طور پر کامیاب رہے۔1846 میں انگریزوں کی کامیابی اس نوبت کو پہنچ گئی کہ سکھوں کو تسلیم کرنا پڑا کہ ایک انگریز ریزیڈنٹ لاہور میں رہے۔1849میں انگریز سکھ ریاست کو…

Raah-e-Amal (p. 129) m1_backfill

…اس کے خلاف مسلمانوں کی نصف صدی کی کوششیں بھی بالکل ناکام ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ 1967کی جنگ کے بعد اسرائیل کا رقبہ، ابتدائی رقبہ کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہوگیا۔ اسرائیل کے مقابلے میں ساری دنیا کے مسلمان مکمل طور پر بے بس ثابت ہو رہے ہیں۔

اس ناکامی کی توجیہ مسلم رہنماؤں کی طرف سے یہ کی جاتی ہے کہ اسرائیل میں ہمارا مقابلہ دراصل یہودیوں سے نہیں ہے بلکہ ایک سپرپاور(امریکہ) سے ہے۔ مقابلہ اگر صرف یہودیوں سے ہوتا تو اب تک ہم اس کا خاتمہ کر چکے ہوتے۔ امریکہ کی حمایت کی وجہ سے اب تک ہم اس محاذ پر کامیاب نہ ہو سکے۔

مگر اسی سپرپاور(امریکہ) کے بارے میں دوسری مثال لیجیے ۔ یہ مثال ویٹ نام کی ہے۔1954 کے جنیوا معاہدہ کے تحت ویٹ نام کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ نارتھ ویٹ نام پر کمیونسٹوں کا غلبہ تھا، اور ساؤ تھ ویٹ نام پر امریکہ کا۔ تاہم کچھ لوگوں نے…

…جاتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ ساری انسانی تاریخ میںیہی لوگ سب سے زیادہ غیر اہم رہے ہیں۔ بادشاہوں اور سپہ سالاروں کے واقعات تاریخ نے مکمل طور پر ضبط کیے۔ مگر آدم سے مسیح تک کوئی نبی ایسا نہیں جس کو با قاعدہ طور پر مدوّن تاریخ میں جگہ ملی ہو۔

ارسطو (384-322 ق م ) حضرت موسیٰ کے ہزار برس بعد پیدا ہوا۔ مگر وہ موسیٰ کے نام سے بھی واقف نہ تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر انبیاء کو ان کی قوم نے رَدکر دیا۔ ان کے گھروں کو اجاڑا گیا، ان کو معاشرہ میں بے قیمت کر کے رکھ دیاگیا، ان کو ایسا بنا دیا گیا گو یا وہ اتنے غیر اہم لوگ ہیں جن کا ذکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔

نبیوں کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیاگیا۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے اپنی مخاطب قوموں کی روش پر تنقید۔ انسان کو سب سے زیادہ جو چیز محبوب ہے، وہ ہے اپنی تعریف، اور جو چیز سب سے زیادہ مبغوض ہے، وہ ہے اپنے خلاف تنقید۔ انبیاءچونکہ صحیح اور غلط کو بتانے کے…

…کر لیا گیا۔ اور پھر وہ اتنا زیادہ عام ہوا کہ موجودہ پریس کے زمانے میں ہرلکھنے اور بولنے والا مسلمان اسی اصول پر لکھنے اور بولنے لگا۔ حالاں کہ یہ غیر فطری طریقہ، اسلام میں نہایت برا سمجھا گیا ہے اور اس کو تطفیف (المطففین،83:1)کہا گیا ہے۔

رپورٹنگ کے اِس طریقے کا نتیجہ یہ ہوا کہ سارا مسلم میڈیا، منفی خبروں سے بھر گیا۔ یہی منفی خبریں ہیں جن کو پڑھ کر ساری دنیا کے مسلمانوں کا ذہن منفی بن گیا۔ اور یہی منفی ذہن ہے جو اپنے نقطۂ انتہاء پر پہنچ کر وہ خوف ناک تشدّد بن جاتا ہے، جس کو القاعدہ یا داعش (آئی ایس آئی ایس) یا بوکوحرام، وغیرہ جیسے ناموں سے جانا جاتا ہے۔

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے1967ءمیں اسرائیل اور مصر کے درمیان جنگ ہوئی۔ اس جنگ میں مصر کو زبردست شکست ہوئی اور اسرائیل نے پیش قدمی کر کے اپنے رقبے کو بہت زیادہ بڑھا لیا۔ اس واقعے پَر عربی، فارسی، انگریزی اور اُردو زبان میں جو…

Tameer-e-Shakhsiyat (p. 462) m1_backfill original + quote

…کو پٹے(lease) کے طور پر دی گئی تھی۔ یہ پٹہ 1968ءمیں ختم ہو رہا تھا۔ اس کے بعد حسب معاہدہ، نہر سوئز پوری طرح حکومت مصر کی ملکیت میں آجاتی۔ پٹّے کے ختم ہونے سے پہلے بھی مصری حکومت اور مصری عوام کو اس کے ذریعے بہت سے مالی فائدے مل رہے تھے۔

مگر پٹّہ ختم ہونے سے پہلے مصر کے صدر جمال عبدالناصر (وفات1970ء) نے تمام عربوں کی تائید سے ایک اشتعال انگیز واقعہ کیا۔29اکتوبر1956ءکو انھوں نے اچانک یہ اعلان کردیا کہ آج ہم نے نہر سوئز کو نیشنلائز کر لیا۔ اور اب اس کی ساری آمدنی حکومتِ مصر کو حاصل ہوگی(EB-12/844)۔

جمال عبدالناصر کے اقدام پر سارا عرب رقص کر اٹھا۔ مگر برطانیہ اور فرانس کے لیے وہ ایک اشتعال انگیز واقعہ تھا۔ چنانچہ برطانیہ اور فرانس نے خفیہ طور پر اسرائیل کی بہت بڑی مددکی۔ اور اس کے ذریعے مصر پر حملہ کرادیا۔ اس حملے میں مصر کی فوجی طاقت…

…قبضہ کرلے۔اگرچہ ہانگ کانگ کا جزیرہ چین سے ملا ہوا ہے۔ برطانوی حکومت سے چین کی یہ گفت و شنید جاری رہی۔ یہاں تک کہ 1997ءمیں جب پٹّے کی مدت پوری ہوئی تو ہانگ کانگ سے برطانیہ کا اقتدار بھی ختم ہو گیا۔ ہانگ کانگ اب چین کے باقاعدہ قبضے میں ہے۔

1967ءکی جنگ میں، اسرائیل نے فلسطین، اردن، شام اور مصر کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ عربوں (فلسطین، اردن، شام، مصر)نے اِس جنگ میں اپنا قیمتی علاقہ کھو دیا۔ مگر ٹھیک اسی قسم کی صورتِ حال میں ہانگ کانگ میں برعکس نتیجہ سامنے آیا۔ یہاں چین نے ایک قیمتی جزیرے کو اپنے علاقے میں شامل کرلیا۔ عربوں نے اپنی ناعاقبت اندیشانہ منصوبہ بندی کی قیمت ادا کی اور چین نے اپنی حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کی بنا پر قابلِ ذکر فتح حاصل کی۔

مذکورہ تفصیل بتاتی ہے کہ اسرائیل کا مسئلہ دراصل کسی کے ظلم یا سازش کا نتیجہ نہ تھا، بلکہ وہ خود عربوں کی اپنی نادانیوں کا نتیجہ تھا۔ موجودہ زمانے کا متشددانہ جہاد سب سے زیادہ فلسطین کی زمین سے اُبھرا ہے۔ تمام عرب اور تمام مسلمان اس جہاد کو…

…کو لے کر سوچنے کے بجائے اللہ رب العالمین کو لے کر سوچے ۔ اس کے اندر خدا رخی سوچ (God oriented thinking ) آ جائے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے اندر خدا رخی سوچ نہیں ، وہ صرف اپنے معاشی اور سیاسی مسائل کو جانتے ہیں۔

ان کی موجودہ سوچ اسی بنیاد پر بنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان اللہ کی نصرت سے محروم ہو گئے ہیں۔ ان کے پاس صرف شکایت کی زبان ہے، ان کے پاس شکر کی زبان نہیں۔

موجودہ زمانے میں عالمی سطح پر مسلمانوں کے دو بڑے مسئلے ہیںکشمیر کا مسئلہ اور فلسطین کا مسئلہ ۔ غیر معمولی قربانیوں کے باوجود یہ دونوں مسئلے عملاً لا ینحل مسئلے بنے ہوئے ہیں۔ اِن دونوں مسائل کا حل اگر موجودہ قسم کی کوششوں سے ممکن ہوتا تو…

Amne Alam (p. 112) m1_backfill

…اور دوسری صورت شدید تر برائی (greater evil) کی۔ اور جب انتخاب کمتر برائی اور شدید تر بُرائی کے درمیان ہو تو یقینی طورپر کمتر بُرائی کو لیا جائے گا اور شدید تر برائی کو چھوڑ دیا جائے گا۔ یہی عقل کا تقاضا بھی ہے اور یہی شریعت کا تقاضا بھی۔

موجودہ زمانہ میں اگر ایک طرف غیر موافق صورت حال پیدا ہوئی ہے کہ جنگ چھڑنے کی صورت میں غیر مقاتل کی ہلاکت سے پرہیز عملاً ممکن نہیں۔ تو اسی کے ساتھ خودموجودہ ترقیوں کے نتیجہ میں ایک موافق صورت حال بھی بہت بڑے پیمانہ پر پیدا ہوئی ہے۔ وہ ہے جدید تعمیری امکانات۔

یہ جدید تعمیری امکانات اتنے زیادہ ہیں کہ جنگ میں جیتنا یا ہارنا دونوں اب ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ایک گروہ جنگ جیت کر بھی تباہی کا شکار ہو جاتا ہے۔ دوسرا گروہ جنگ ہار کر بھی ایسے پُر امن ذرائع پاسکتا ہے جن کواستعمال کرکے وہ کسی لڑائی…

…کا ایک ایک نسخہ مسافروں کے مطالعے کے لیے رکھ دیا—دبئی ائر پورٹ پر ہمارا قیام بظاہر برائے استراحت تھا، لیکن عملاً وہ ہمارے لیے دعوت کا ایک نیا میدان بن گیا۔ میرے ساتھیوں نے لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور اُنھیں اسلامی لٹریچر پڑھنے کے لیے دیا۔

ائر پورٹ پر اور بھی کئی قسم کے تجربات ہوئے۔ مثلاً ائر پورٹ کے ایک نوجوان کارکن سے ملاقات ہوئی۔ وہ انڈیا کا رہنے والا تھا۔ میرے ساتھی نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ یہاں خوش ہیں۔ اُس نے منفی انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ اِن لوگوں نے مجھ کو یہاں ایک اور کام کے نام پر بلایا تھا اور آنے کے بعد انھوں نے مجھ کو دوسرا کام دے دیا۔ اِس واقعے کو جنرلائز کیجیے تو اِس میں تمام انسانوں کی تصویر دکھائی دیتی ہے۔ موجودہ زمانے میں ہر عورت اور مرد شکایت میں جی رہے ہیں۔ کیوں کہ ہر ایک نے اپنی توقعات (expectations) کوغیر واقعی طورپر بڑھا رکھا ہے۔ اِس لیے جو کچھ اُس کو ملتاہے، وہ اس کو اپنی توقع سے کم نظر آتا ہے۔ اِس مزاج نے موجودہ زمانے کے لوگوں کو سب سے بڑی نعمت سے محروم کررکھا ہے، اور وہ ہے شکرِ خداوندی کی نعمت۔

16 نومبر 2008 کی صبح کو ساڑھے دس بجے ہم ایمرٹس ائرلائن کی اگلی فلائٹ (EK-107) میںسوار ہوئے۔یہ جہاز دبئی سے لارناکا (Larnaca) کے لیے جارہا تھا۔ اِس جہاز کے اندر بدستور اُسی طرح شاہانہ انتظامات تھے جس کا نمونہ ہم نے پچھلے جہاز میںدیکھا تھا۔

…سے بڑا ذریعہ دو ہے— امریکا کی مسلسل مدد، اور بیرونی ملکوں میں رہنے والے یہودیوں کا مسلسل مالی تعاون ۔عجیب بات ہے کہ پاکستان کے بھی یہی دو بنیادی اقتصادی ذرائع ہیں— امریکا کی مسلسل مدد، اور غیر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کا مسلسل مالی تعاون۔

اسرائیل اور پاکستان کے اِس تجربے میں بہت بڑا سبق ہے، وہ یہ کہ صرف مذہبی نعرہ کسی قوم یا کسی ملک کو ترقی یافتہ نہیں بنا سکتا۔ کسی قوم کی تعمیر میں مذہبی نظریے کا حصہ صرف پچاس فی صد ہوتاہے، اور بقیہ پچاس فی صد کا تعلق مادّی اسباب، خصوصاً اقتصادیات سے۔ اگر مادّی استحکام اور اقتصادی ذرائع موجود نہ ہوں تو صرف مذہبی نعرہ کسی ملک یا قوم کو ترقی کے درجے تک نہیں پہنچا سکتا۔

زندگی کا یہ اصول قرآن میں موجود ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 4 میں ارشاد ہوا ہے ولا تؤتوا السفہاء أموالکم التی جعل اللہ لکم قیاماً (النساء 5 ) یعنی تم نادانوں کو اپنا مال نہ دو جس کو اللہ نے تمھارے لیے قیام کا ذریعہ بنایا ہے۔ قرآن کی اِس…

Al-Risala February 2009 m1_backfill original + quote

… مرکزکی چھپی ہوئی مطبوعات لے کر جائیں تو اُن کو وہاں یہ موقع نہیں دیا جاتا کہ وہ کھلے طورپر اِن کتابوں کو تقسیم کریں۔ موجودہ زمانہ مذہبی آزادی کا زمانہ ہے، لیکن نام نہاد مسلم جماعتوں اور اداروںکے درمیان آزادی کا یہ دور ابھی تک نہیں آیا۔

قبرص کی کانفرنس صحیح معنوں میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس تھی۔ اِس میں ہر مذہب کے لوگ اور تقریباً ہر ملک کے لوگ شریک ہوئے۔ ہم لوگوں کے پاس اسلامی لٹریچر چھپا ہوا کافی تعداد میں موجود تھا۔ہمارے ساتھی تین دن تک کتاب اور پمفلٹ اور بروشر دیوانہ وار لوگوں کے درمیان تقسیم کرتے رہے۔ اِس میں سب سے بڑا آئٹم ہمارے یہاں کا چھپا ہوا قرآن کا نیا انگریزی ترجمہ تھا۔ اِس ترجمے کی خصوصیت یہ ہے کہ دوسرے انگریزی ترجموں کے مقابلے میں، اِس میں وضوح (clarity) بہت زیادہ ہے۔ اِس میں قاری کو کوئی کنفیوژن محسوس نہیںہوتا۔لوگوں نے بہت شوق کے ساتھ اس کو لیا۔ مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو پہلی بار معلوم ہوا کہ یہاں ہم حقیقی معنوں میں انٹرنیشنل دعوہ ورک کررہے ہیں، لیکون للعالمین نذیراً (الفرقان 1 ) کی خبر یہاں واقعہ بنتی ہوئی نظر آئی۔

یہ انٹرنیشنل دعوہ ورک کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ اُس تاریخی انقلاب کی بنا پر ممکن ہوا جو موجودہ زمانے میں پہلی بار ظہور میں آیاہے۔اِس انقلاب کے اَجزا ہیں— گلوبل انٹریکشن، کمیونکیشن، پرنٹنگ پریس، مذہبی آزادی، عالمی سطح پر اُس انقلابی ذہن کا…

…جاری کرے، ایسا گروہ، فطرت کے قانون کے مطابق، دن بدن تخلیقی گروہ (creative group) بنتا چلا جائے گا۔ اِس کے برعکس، جو گروہ نفرت اور تشدد کا طریقہ اختیار کرے، وہ فطرت کے قانون کے مطابق، دن بدن غیر تخلیقی گروہ (uncreative) بنتا چلا جائے گا۔

یہ فطرت کا اٹل قانون ہے۔ اِس میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔ پُر امن طریقِ کار ہمیشہ کسی گروہ کو تخلیقی گروہ بناتا ہے۔ اِس کے برعکس، نفرت اور تشدد کا طریقہ ہمیشہ غیر تخلیقیت کی طرف لے جاتاہے۔ کوئی بھی دوسرا عمل اِس نقصان کی تلافی نہیںبن سکتا۔ قانونِ فطرت کے مطابق، اِس دنیا میں تمام کامیابیاں تخلیقی گروہ کے لیے مقدّر ہیں، اور تمام ناکامیاں غیر تخلیقی گروہ کے لیے۔

قضیۂ فلسطین کا حل

Al-Risala October 2009 m1_backfill original + quote

…تک پھیل گیا جو اسرائیل سے مصالحت کا تعلق قائم کیے ہوئے تھے، یہاں تک کہ منفی جذبات سے بھرے ہوئے یہ مسلمان خود مسلم حکومتوں کے خلاف ہوگئے، کیوں کہ مسلم حکومتیں اسرائیل کے خلاف وہ انتہائی اقدامات نہیں کررہی تھیں جو مسلمان اُن سے چاہتے تھے۔

مذکورہ حدیثِ رسول میں یہ پیشین گوئی کی گئی تھی کہ ’’ارض‘‘ ظلم و جور سے بھر دی جائے گی اور پھر اس کو قسط اور عدل سے بھرا جائے گا۔ یہ ایک تعبیری اسلوب ہے۔ اِس سے مراد یہی مذکورہ صورتِ حال ہے۔ موجودہ زمانے میںعملاً یہی پیش آیا ہے کہ ارضِ فلسطین کے حوالے سے ، ساری دنیا کے مسلمان نفرت اور تشدد میںمبتلا ہوگئے۔ اِسی نفرت اور تشدد کو ’’ظلم اور جور‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد حدیث کے مطابق، جو ہونا ہے، وہ یہ کہ ’’ارض‘‘ کو قسط اورعدل سے بھر دیا جائے۔ یہ امن کی تعبیر ہے۔ اِس حدیث میں قسط اور عدل سے مراد امن پر مبنی معتدل فضا ہے جو مسلمانوں کے لیے دعوت کے مواقع کو کھولنے والی ہے۔اسلام کا سب سے بڑا کنسرن (concern) دعوت ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ نفرت اور تشدد کا ماحول دعوت کے دروازوں کو بند کردیتا ہے، اور امن اور معتدل تعلقات کا ماحول دعوت کے دروازوں کو کھولنے والا ہے۔

حدیث میں جس واقعے کی پیشین گوئی کی گئی ہے، اس کا تعلق نہ جنگ سے ہے اور نہ حکومت سے، یعنی اس مطلوب کے حصول کے لیے نہ تو جنگ کی جائے گی اور نہ وہ حکومت کی طاقت سے قائم ہوگا۔ یہ پورا معاملہ ایک نظریاتی معاملہ ہوگا، یعنی ایک منفی آئڈیالوجی…

…کو حاصل تھیں۔ موجودہ توسیعی رقبہ، اسرائیل کا جائز حصہ نہیں۔ 1948 میں قائم ہونے والا اسرائیل، بین اقوامی طورپر ایک مسلّمہ ریاست کی حیثیت رکھتا تھا۔ موجودہ توسیعی رقبہ، اسرائیل کے لیے غیر قانونی قبضہ (illegal occupation) کی حیثیت رکھتا ہے۔

عرب قیادت یہ مطالبہ کررہی ہے کہ اسرائیل اپنی 1967 کی حد پر واپس چلا جائے۔ عربوں کا یہ مطالبہ خالص اصولی اعتبار سے درست ہے، مگر عملی طورپر وہ ممکن نہیں۔کیوں کہ عرب رہ نما خود بھی اِس سے پہلے 1956 میں وہی فعل کرچکے ہیں جس کا ارتکاب، اسرائیل کی طرف سے 1967 میں ہوا۔ اِس لیے ’البادی أظلم‘ کے اصول کے مطابق، اِس بحرانی صورتِ حال کو پیدا کرنے کی زیادہ بڑی ذمے داری عرب قیادت پر آتی ہے۔ ایسی حالت میں عرب اور اسرائیل، دونوں کے درمیان کوئی حقیقی فرق نہیں۔ جب دونوں فریق یکساں طورپر ایک ہی غلطی کا شکار ہوں، تو کوئی ایک فریق دوسرے فریق کو ذمے دار ٹھہرانے کا حق کھو دیتا ہے۔

جیسا کہ عرض کیاگیا، اِسی نوعیت کی ایک سنگین غلطی وہ تھی جو اِس سے پہلے خود عرب قیادت سوئز کے معاملے میں کرچکی ہے۔ سوئز نہر (Suez Canal)ایک مصنوعی نہر ہے جو میڈی ٹیرینین (Mediterranean) کو ریڈ سی (Red Sea) سے ملاتی ہے۔ یہ نہر یورپین…

…of one of the prisoners, a Jewish one, because it was in Yiddish, in the Jewish language, the word was necume, take revenge. This was the last word of a man tortured in that room, a victim in Buchenwald. Revenge. What revenge can we take?

Amazing. I am a believer, I believe in the Lord almighty, not only because I am a Rabbi or because I am Jewish, but because I am a man, a human being.

I believe from heaven it happened: two or three hours ago, here in the city of Krakow, I arrived last night only for this ceremony, I received a phone call from my granddaughter. “Grandfather — she said — half an hour ago I brought you a…

Al-Risala March 2010 m1_backfill original + quote

…انھوں نے اس کو بوسہ دیا، پھر انھوںنے کہاکہ میں جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے، تو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھ کو ہر گز بوسہ نہ دیتا۔

حضرت عمر فاروق کے اِس قول سے ثابت ہوتا ہے کہ حجر اسود کوئی پراسرار پتھر نہیں۔اس کے ساتھ یہ عقیدہ وابستہ نہیں کہ وہ کوئی نقصان یا فائدہ پہنچانے کی طاقت رکھتا ہے، جیسا کہ بتوں کے متعلق سمجھا جاتا ہے۔ وہ صرف آغازِ طواف کا ایک نشان ہے، اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

اب یہ سوال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا بوسہ کیوں دیا۔ اس کا سبب یہ تھاکہ حجر اسود پیغمبر ابراہیم کی ایک یادگار (momento) ہے، وہ ایک عظیم پیغمبرانہ تاریخ کی یاد دلاتا ہے۔ حجر اسود کو بوسہ دینا دراصل پیغمبر ابراہیم کے…

…کے لیے جائز ہے، غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کے لیے صرف دو میں سے ایک آپشن ہے— یا تو وہ خاموش رہیں یا خالص پرامن ذرائع سے اپنی بات لوگوں تک پہنچائیں۔ اِس اصول کی بنا پر گوریلا وار یا پراکسی واریا اور کوئی غیر حکومتی وار اسلام میں جائز نہیں۔

اسلام ایک مشن ہے۔ اسلام کا منشا یہ ہے کہ اس کی مذہبی اور روحانی اور اخلاقی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچایا جائے۔ یہ ایک خالص پُرامن مشن ہے، اس میں کسی بھی مرحلے پر ہتھیار کا استعمال جائز نہیں۔ یہ بھی اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے کہ کوئی گروہ عدل (justice) کے حصول کے نام پر کسی کے خلاف جنگ چھیڑ دے۔ اسلام میں عدل کا حصول صرف پرامن کوشش کے ذریعے ہوتا ہے، نہ کہ جنگ اور تشدد کے ذریعے— اسلام پورے معنوں میں امن کا مذہب ہے، وہ کسی بھی اعتبار سے جنگ کا مذہب نہیں۔

خود کُش بم باری

Al-Risala October-December 2021 m1_backfill original + quote

…روک بنے ہوئے ہیں۔ ہر لکھنے اور بولنے والا آدمی براہ راست یا بالواسطہ اسی نفسیات کا شکار ہے۔ اسی نفسیات کے زیرِ اثر وہ کلام کرتا ہے۔ یہ نفسیات بلاشبہ اس بات کے لیے ایک رکاوٹ ہے کہ مسلمان آزادانہ پلاننگ کریں، اور اپنا مستقبل خود بنائیں۔

اس معاملے میں پیغمبر اسلام کا اسوہ بہت ہی واضح اسوہ ہے۔ آپ کی بعثت ہوئی تو عرب میں ہر طرف بت پرستی کا غلبہ تھا، لیکن آپ نے ایک دن بھی بت پرستی کے خلاف احتجاج میں ضائع نہیں کیا، آپ نے مکمل طور پر آزاد ذہن کے ساتھ اپنی تحریک کی منصوبہ بندی کی۔ یہاں تک کہ آپ نے بت پرستی کے کلچر کو اپنے لیے آپار چیونٹی میں کنورٹ کرلیا۔ مثلا آپ نے بت پرستی کے لیے جمع ہونے والوں کو خدائی پیغام سنانے کے لیے آڈینس کے طور پر استعمال کیا۔برٹش مورخ ای ای کلیٹ نے (Ernest Edward Kellett)درست طور پر کہا ہے:

He faced adversity with the determination to wring success out of failure. (A Short History of Religions by E.E. Kellet, pp. 331-32, Middlesex)

…ہر اہم فیصلے کے پیچھے پراگ کا رول ہوتا تھا ۔ وہ متجسس، تحقیق کا شوق رکھنے والے، ریشنل، کریٹیو، محنتی، خودآگاہ، اور متواضع انسان ہیں۔ وہ پورے دل و جان سے قیادت کا فرض نبھاتے ہیں، اور وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن سے میں ہر دن کچھ سیکھتا ہوں

He (Parag) understands the company and its needs. Parag has been behind every critical decision that helped turn this company around. He's curious, probing, rational, creative, demanding, self-aware, and humble. He leads with heart and soul; and is someone I learn from daily.

کسی بھی میدان میں ترقی کا راز کیا ہے۔ وہ وہی ہے جس کا ذکر مسٹر جیک نے مسٹر پراگ کے ریفرینس میں کیا ہے۔ کامیابی کا یہ اصول نہ صرف سیکولر فیلڈ کے لیے ہے، بلکہ مذہبی فیلڈ کے لیے بھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ ترقی دراصل انسان کے پوٹنشل کو ایکچول بنانے…

Diary 1983-1984 m1_backfill

ڈاکٹر ایچ ڈی سنکالیا (H.D Sankalia) تاریخ اور علم الآثار کے مشہور ماہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی کوئی اثریاتی شہادت نہیں ہے کہ بھارت کی لڑائی کبھی سرے سے ہوئی ہو:

There is no archaeological evidence of Mahabharata war at all.

ڈاکٹر سٹکالیا پونہ میں یو این آئی کو ایک انٹرویو دے رہے تھے )اسٹیٹسمین، 25 ستمبر 1975ء)

Diary 1983-1984 m1_backfill

…تلخ یادیں چھپی ہوئی ہیں ۔ مسلمانوں نے با ہرسے آ کر آٹھ سو سال تک ہمارے اوپر حکومت کی ۔ مسلم حکمرانوں نے سمندروں کو توڑ کر مسجد میں تبدیل کیا ۔ مسلمانوں نے بھارت ماتا کے دوٹکڑے کروائے ۔ ملک بٹوانے کے باوجود وہ ہمارے دار بنے ہوئے ہیں۔ وغیرہ

اس قسم کی بہت سی تلخ یادیں ہیں جو ہندووں کے دماغ میں بسی ہوئی ہیں۔ تاہم روز مرہ کی زندگی کے تقاضے ان یادوں کو دبائے رہتے ہیں۔ مزید یہ کہ ہندو قوم ایک زرپرست قوم ہے زر کو حاصل کرنا اس کا سب سے بڑا مقصد ہے۔ چنانچہ ہندووں کا حال یہ ہے کہ دولت کمانے کی دھن میں وہ دوسری تمام باتوں کو بھولے ہوئے رہتے ہیں۔ گویا ہندو قوم کے ذہن میں ایک "فتنہ" ہے مگر عام حالات میں وہ سویا ہوا رہتا ہے۔ لیکن مسلمان یہ کرتے ہیں کہ اپنی جذباتیت اور اپنے جھوٹے فخر کی وجہ سے وہ اس خفتہ فتنہ کو جگا دیتے ہیں۔

مثلا ہندؤوں کا ایک مذہبی یا قومی جلوس سڑک پر جا رہا ہے ۔ راستہ میں ایک مسجد ہے۔ یہاں مسلمان نکل کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنا جلوس دوسرے راستہ سے لے جاؤ ہم اپنی مسجد کی طرف سے مشرکانہ جلوس کو نہیں جانے دیں گے۔ اس قسم کے تمام…

Diary 1989-1990 m1_backfill

ان اسباب کے نتیجہ میں تمام مسلمانوں کے ذہن پر سیاسی طرز فکر غالب آگیا ہے ۔ پوری مسلم قوم (Power conscious) ہوگئی۔ مسلمانوں کے اس سیاسی مزاج نے ان کو حقیقی اسلام سےدور کر دیا ہے۔ وہ اسلام کے نام پر غیر اسلام میں مبتلا ہیں۔

ذہن کے بگاڑ کا مسئلہ سینکڑوں سال سے چلا آرہا ہے۔ تصوف کی تحریک غالبا یہی تھی کہ مسلمانوں کو دوبارہ سیاسی اسلام سے نکال کر ربانی اسلام کی طرف لایا جائے ۔ صوفیاء کا یہ مقصد درست تھا مگر اس کے لئے انھوں نے غلط طریق کار اختیار کیا۔ ربانیت حاصل کرنے کا اصل طریقہ تفکر ہے۔ مگر اس کو انھوں نے اوراو پرقائم کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں تبلیغی جماعت بھی اسی قسم کی اصلاحی کوشش کے طور پر اٹھی۔ مگر اس نے بھی یہ غلطی کی کہ فضائل کوربانی بیداری کا یہ بنایا۔ حالاں کہ ربانی بیداری کا صحیح ذریعہ ذہنی معرفت ہے۔

اب پہلا کام یہ ہے کہ مسلمانوں میں سیاسی مزاج کو ختم کیا جائے۔ اور اس کی جگہ ربانی مزاج پیدا کیا جائے۔ جب تک یہ ذہنی اصلاح نہ ہومسلمانوں میں کوئی حقیقی اسلامی بیداری نہیں آسکتی۔

Diary 1989-1990 m1_backfill

4 اگست 1990

مولانا ابوالکلام آزاد کی ایک کتاب امام حسین اور ان کی شہادت کے بارہ میں ہے ۔ اس کا نام' شہید اعظم 'ہے ۔ یہ غالبا ان کا مفصل مقالہ تھا جو بعد کو کتاب کی صورت میں شائع کر دیا گیا۔

امام حسین کے بارہ میں عام تاثر یہی ہے۔ سید سلیمان ندوی نے ان کی شہادت پر مضمون لکھا تو اس کا عنوان 'شہادت کبریٰ' قرار دیا ۔ اسی طرح ہر لکھنے اور بولنے والا ان کی شہادت کی بابت بڑے بڑے الفاظ بولتا ہے۔ مگر یہ قرآن کی صراحت کے سراسر خلاف ہے۔…

Diary 1989-1990 m1_backfill

…ایک بیرل تیل بھی کسی کو مفت دینانہیں پڑے گا۔ کیوں کہ اقوام متحدہ کی تجویز کے مطابق ،امریکہ اور دوسرے ملکوں نے عراق کی جو ناکہ بندی کر رکھی ہے، اس میں تیل کے ٹینکر بھی شامل ہیں ۔ تیل کا کوئی جہاز نہ عراق کی طرف جاسکتا اور نہ عراق سے آسکتا۔

اسی طرح اس سے پہلے صدام حسین نے اعلان کیا کہ ہم کو یت خالی کرنے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کو خالی کر دے۔ یہاں بھی صدام حسین جانتے ہیں کہ اسرائیل فلسطین کو خالی نہیں کرے گا۔ اور امریکا ایسا کرے گا کہ وہ اس مقصد کے لئے اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔ صدام حسین کا اصل مقصد یہ تھا کہ مفت تیل کی پیش کش ہے وہ تیسری دنیا کے لوگوں کے درمیان خوش نام ہو جائیں اور کویت کے مسئلہ کو اسرائیل کے مسئلہ سے جوڑ کرعربوں اورفلسطینیوں کی حمایت حاصل کر لیں ۔ اور اس مقصد میں وہ کم ازکم وقتی طور پر کامیاب ہو گئے۔

15 ستمبر 1990

Diary 1989-1990 m1_backfill other source

…جلوس کی شکل میں ڈھول بجانے پر اور میوزک کے ساتھ گزرنے پر مسلمان کوئی اعتراض نہ کریں ۔ اس اپیل کو مسٹر جایا کر ایڈوکیٹ نے دائر کیا۔ انھوں نے عدالت کے سامنے یہ دلیل دی کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ایس ڈی ایم کو ایسا حکم نامہ جاری کرنے کا حق نہ تھا۔

اس مقدمہ میں مسلمان عبدالقادر کی پیروی مسٹر علی جناح نے کی ۔ انھوں نے عدالت کو بتایاکہ برسوں سے یہ روایت ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں ایسے اقدامات کریں گے کہ مذہبی تہواروں پر ایک دوسرے کے جذبات مشتعل نہ ہوں ۔ انھوں نے کہا کہ ۵۰ تا ۱۰۰ کے قریب میوزک اور ڈھول بجانے والے لوگ جب مل کر مسجد کے سامنے سے گزریں گے تو اتنا شوروغل بر پا ہو گا کہ ہر مسلمان مشتعل ہو جائے گا۔ اس طرح لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔

اس مقد مہ کی سماعت مسٹرجسٹس بی مین اور مسٹر جسٹس ہرٹن نے کی۔ ان کا فیصلہ بمبئی لار پورٹ کے جرنل ( جلد ۲۰ ) میں موجود ہے۔ یہ فیصلہ24 جنوری۱1918 کو ہوا۔ عدالت نے مسٹرمحمد علی جناح کے دلائل کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے فیصلہ میں کہا کہ ماتحت…

In the lectures

Lecture mentions are drawn from transcripts and open the video at that moment — topical links, not verified citations.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Discussed in this lecture — opens the video.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

(The Times of India, New Delhi, June 22, 2009)

فلسطین کا مسئلہ

Realism Returns to Palestine

فلسطین کا مسئلہ

Realism Returns to Palestine

Yona Metzger

Chief Rabbi of Israel

Walter Kasper

…دنيا كى بھى پر امن تعمير كرسكتے هيں، اسى كے ساتھ وه تعليم دين اور دعوت الى الله كے كام ميں اِس ٹكنالوجى كو استعمال كرسكتے هيں اور اِس طرح وه اُس ربانى كام كو انجام دے سكتے هيں جو اُن كے ليے آخرت كى ابدى سعادتوں كا دروازه كھولنے والا هے۔

اقوامِ متحده

قديم زمانے ميں انسانى آبادى مختلف الگ الگ حصوں ميں بٹى هوئى تھي۔ اُس وقت وه وسائل موجود نه تھے جس كے ذريعے يه ممكن هو كه دنيا كے تمام انسانوں كى عالمى تنظيم قائم كى جاسكے۔ موجوده زمانے ميں نئے حالات نے سارى دنيا كو ايك گلوبل وليج (global…

…دنیا کی بھی پر امن تعمیر کرسکتے ہیں، اسی کے ساتھ وہ تعلیم دین اور دعوت الی اللہ کے کام میں اِس ٹکنالوجی کو استعمال کرسکتے ہیں اور اِس طرح وہ اُس ربانی کام کو انجام دے سکتے ہیں جو اُن کے لیے آخرت کی ابدی سعادتوں کا دروازہ کھولنے والا ہے-

اقوامِ متحدہ

قدیم زمانے میں انسانی آبادی مختلف الگ الگ حصوں میں بٹی ہوئی تھی- اُس وقت وہ وسائل موجود نہ تھے جس کے ذریعے یہ ممکن ہو کہ دنیا کے تمام انسانوں کی عالمی تنظیم قائم کی جاسکے- موجودہ زمانے میں نئے حالات نے ساری دنیا کو ایک گلوبل ولیج (global…

…برعکس، نفرت اور تشدد کا طریقہ ہمیشہ غیر تخلیقیت کی طرف لے جاتاہے۔ کوئی بھی دوسرا عمل اِس نقصان کی تلافی نہیںبن سکتا۔ قانونِ فطرت کے مطابق، اِس دنیا میں تمام کامیابیاں تخلیقی گروہ کے لیے مقدّر ہیں، اور تمام ناکامیاں غیر تخلیقی گروہ کے لیے۔

قضیۂ فلسطین کا حل

ابو سعید الخدری الانصاری (وفات 74 ھ/ 693 ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی ہیں۔ اُن سے 1170 حدیثیں مَروی ہیں۔ انھوں نے پیغمبر اسلام سے سنا ہوا ایک قول اِن الفاظ میں نقل کیا ہے یخرج رجلٌ من أمتی یقول بسنّتی، ینزل اللہ عزَّ…

…برعکس، نفرت اور تشدد کا طریقہ ہمیشہ غیر تخلیقیت کی طرف لے جاتاہے۔ کوئی بھی دوسرا عمل اِس نقصان کی تلافی نہیںبن سکتا۔ قانونِ فطرت کے مطابق، اِس دنیا میں تمام کامیابیاں تخلیقی گروہ کے لیے مقدّر ہیں، اور تمام ناکامیاں غیر تخلیقی گروہ کے لیے۔

قضیۂ فلسطین کا حل

ابو سعید الخدری الانصاری (وفات: 74 ھ/ 693 ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی ہیں۔ اُن سے 1170 حدیثیں مَروی ہیں۔ انھوں نے پیغمبر اسلام سے سنا ہوا ایک قول اِن الفاظ میں نقل کیا ہے: یخرج رجلٌ من أمتی یقول بسنّتی، ینزل اللہ عزَّ…

…کا پٹّہ (lease) جو 1968 میںاپنے آپ ختم ہورہا تھا، اُس کو 1956 میں یک طرفہ طورپر ختم کردینا۔ فطری طورپر اِس کے نہایت گمبھیر نتائج برآمد ہوئے ۔ اِسی طرح فلسطینی عربوں کا اپنی زمینوں کو زیادہ بڑی قیمت پاکر یہودیوں کے ہاتھ بیچ دینا، وغیرہ۔

یہود،یابنی اسرائیل

یہود یا بنی اسرائیل کون ہیں۔یہ دراصل حضرت ابراہیم کے پوتے، حضرت یعقوب سے نسبت رکھنے والے لوگ ہیں۔ حضرت یعقوب کے چوتھے بیٹے کا نام یہودا (Juda) تھا۔ اُن سے منسوب ہو کر بعد کو یہ لوگ عام طورپر یہودی کہے جانے لگے۔ حضرت یعقوب کا عُرفی نام…

…کا پٹّہ (lease) جو 1968 میںاپنے آپ ختم ہورہا تھا، اُس کو 1956 میں یک طرفہ طورپر ختم کردینا۔ فطری طورپر اِس کے نہایت گمبھیر نتائج برآمد ہوئے ۔ اِسی طرح فلسطینی عربوں کا اپنی زمینوں کو زیادہ بڑی قیمت پاکر یہودیوں کے ہاتھ بیچ دینا، وغیرہ۔

یہود،یابنی اسرائیل

یہود یا بنی اسرائیل کون ہیں۔یہ دراصل حضرت ابراہیم کے پوتے، حضرت یعقوب سے نسبت رکھنے والے لوگ ہیں۔ حضرت یعقوب کے چوتھے بیٹے کا نام یہودا (Juda) تھا۔ اُن سے منسوب ہو کر بعد کو یہ لوگ عام طورپر یہودی کہے جانے لگے۔ حضرت یعقوب کا عُرفی نام…