Person
Satan
Man's enemy who incites anger and leads astray
Mentioned in 59 book passages
and 61 lecture moments.
Cite / permalink: entity/person/satan
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…can provoke him and make him angry. When a man gets angry, the fire of hatred and revenge ignites inside him. He takes revenge on that person, and then each revenge creates a cycle of retaliation. This leads to nothing but destruction.
To continue the journey of life successfully in such a situation, it is necessary to lift oneself above emotions like anger. One should also respond to negative situations positively.
The Form of Tazkiya
There is no visible form of tazkiya. Had there been a fixed form of tazkiya, a person would think, consciously or unconsciously that, by observing that form, he had completed the course of tazkiya. In this way, he would become content. But the feeling of contentment in this matter is very harmful. It is essential for the attainment of tazkiya that one should always have a certain feeling of inadequacy. Such a feeling makes one continuously strive to undergo the process of tazkiya, whereas any feeling of contentment blocks the incentive to make unremitting efforts.
Tazkiya and the Islamic way of worship are closely interrelated. Neither can be separated from the other. No one can say that he has completed the process of tazkiya and is therefore no longer required to perform the acts of worship…
…keep hovering over the eyes of human beings, so that they may not reflect upon the divine signs scattered all over the earth and the heavens. Had it not been so, they would certainly see divine marvels.” (Musnad Ahmad, Hadith No. 8625)
The universe around us is called nature in scientific terminology. Man comes across numerous events or phenomena in this vast world of nature. He sees and experiences them without learning any lesson from them. This verse of the Quran applies to the unheeding: “And there are many signs in the heavens and the earth that they pass by and give no heed to.” (12:105)
These events scattered in the universe are in fact divine signs: they serve as an introduction to the Creator in the form of His creation. If a person were to see with open eyes, he would observe the marvels of nature in these signs. But…
Constant Complaining
The Quran describes how Satan became angry when God asked him to bow to Adam. He said to God that if he were given the chance, he would cause Adam’s whole race to go astray. At the time of throwing down this challenge, he said, “Most of them You will not find grateful.” (7:17)
There are countless blessings given by God to human beings. Yet man, instead of acknowledging these blessings, becomes ungrateful. The reason for this lies in the character of Satan, or Iblis, who was a jinn (18:50). God heaped countless…
ایگو کو مینج کرنا
میں نے آپ سےیہ سیکھا ہے کہ ماڈسٹی سے انسان کا ایگو ختم ہوجاتا ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کا ایگو کبھی ختم نہیں ہوتا ہے۔ اس کو کیسے ختم کیا جائے۔ (ڈاکٹر سفینہ تبسم، سہارن پور، یوپی)
انا(ego) شیطان کی جانب سے انسان کے خلاف جدو جہد کا حصہ ہے۔ اس کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے، بلکہ اس کو مینج کرنا ہے۔ایگو با ر بار آئے گا۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ شیطان کی جانب سے آئے ہوئے ایگو کو پہچانے، اور اس سے بچاؤ کی کوشش کرے۔یہ…
شکر ایک اعلیٰ عبادت
شکر کیا ہے۔ شکر اُس داخلی کیفیت کا نام ہے جو کسی نعمت کے گہرے احساس سے آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ انگریزی میں اس کو گریٹ فُل نیس (gratefulness) کہاجاتا ہے۔ عربی زبان کی مشہور ڈکشنری لسان العرب (جلد4، صفحہ 423)کے مطابق ، احسان کی معرفت اور اس کے تذکرے کا نام شکرہے (الشُّکْرُعِرْفانُ الإِحسان ونَشْرُہ)۔ راغب الاصفہانی کی کتاب المفردات فی غریب القرآن (صفحہ 265) میں بتایا گیا ہے کہ شکر کا مطلب ہے— نعمت کے بارے میں سوچنا اور اس کا اظہار کرنا (الشُّکْرُتصوّر النّعمة وإظہارہا)۔ مفسر القرطبی نے لکھا ہے — وَالشُّکْرُ مَعْرِفَةُ الْإِحْسَانِ وَالتَّحَدُّثُ بِہِ (تفسیر القرطبی، جلد2، صفحہ172)۔شکر نام ہےاحسان شناسی کا اور اس کے اعتراف کا ۔
نعمت کا اعتراف (acknowledgement)ایک اعلیٰانسانی صفت ہے۔ یہ اعتراف جب خدا کی نسبت سے ہو تو اِسی کا نام شکر ہے۔ انسان کے اوپر خدا کی نعمتیں سب سے زیادہ ہیں، اِس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ خداوند ِ ذوالجلال کا شکر ادا کرے۔ حدیث میں…
…بعد ازموت دور (post-death period) ۔قبل از موت دور امتحانی دور(trial period)ہے، اور بعد ازموت دور انعام پانے کا دور (reward period) ۔ یہی وہ سب سے بڑی حقیقت ہے، جس کو جاننے اور اختیار کرنے میں انسان کی کامیابی اور ناکامی کا راز چھپا ہوا ہے۔
جنت کے حصول کا مدارجس چیز پر ہے، وہ ہے اپنی خواہشوں پر کنٹرول کرنا اور اپنی عقل کو ترقی دینا ۔ انسان کے اندر بہت سی خواہشیں ہیں۔ اِسی خواہش کے راستے سے شیطان نے آدم کے اوپر حملہ کیا، اور وہ کامیاب ہوگیا۔ ہر خواہش انسان کے اندر شیطان کے داخلے کا دروازہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی خواہش کے ہر دروازے پر چوکی دار بنا رہے، تاکہ شیطان اس کے اندر داخل ہو کر اُس کو خدا کی رحمت سے دور نہ کرسکے۔
٭ ٭ ٭ ٭٭٭ ٭ ٭
قرآن کے مطابق، ہمارا دشمن صرف شیطان ہے جس کو قرآن میں طاغوت کہا گیا ہے۔ ہماری لڑائی صرف شیطان سے ہے، کسی اور سے نہیں۔انسان کے اندر امتحان کے مقصد سے مختلف قسم کے جذبات رکھے گئے ہیں۔ مثلاً غصہ اور انتقام، وغیرہ۔ اِن جذبات کو غلط رُخ دے کر شیطان ہم کو صحیح راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ مواقع ہیں جب کہ ہمیں شیطان سے لڑنا ہے۔ شیطان کی تزئین (الحجر، 15:39) سے بچنے ہی کا نام تزکیہ ہے اور جو لوگ اِس اعتبار سے اپنا تزکیہ کریں، وہی وہ لوگ ہیں جن کو جنت میں داخلہ ملے گا (طٰہٰ، 20:76) شیطان کے خلاف انسان کی لڑائی صرف نفسیات کی سطح پر ہوتی ہے، تشدّد اور ہتھیار کی سطح پر نہیں۔جہاں تک انسان کا معاملہ ہے، قرآن کے مطابق، انسان ہمارا مدعو ہے۔ وہ ہمارا حریف یا دشمن نہیں۔ انسان کے ساتھ ہمارا تعلق داعی اور مدعو کا ہے، دشمن یا مدّ ِمقابل کا نہیں۔ انسان کے مقابلے میں ہماری ذمے داری یہ ہے کہ ہم اُس کو پر امن طور پر خدا کا پیغام پہنچائیں۔ پیغام رسانی کا یہ کام صرف وہ لوگ کرسکتے ہیں جو نفرت اور عداوت کے جذبات سے مکمل طورپر خالی ہوں۔ نفر ت اور دعوت دونوں ایک سینے کے اندر جمع نہیں ہوسکتے۔
مشرق سے مغرب کی طرف
آخری زمانے میں پیدا ہونے والے واقعے کا ذکر ایک حدیث آیا ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے: ایک آگ مشرق سے نکلے گی، اور لوگوں کو جمع کرکے لے جائے گی مغرب کی طرف(مسند احمد، حدیث نمبر12057)۔یہ حدیث ایک بڑے واقعے کا حصہ ہے۔غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ شیطان کے اس چیلنج کا ایک حصہ ہے، جو اس نے آغازِ حیات میں کیا تھا۔ آیت کا ترجمہ یہ ہے: اس نے کہا، ذرا دیکھ، یہ شخص جس کو تو نے مجھ پر عزت دی ہے اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں تھوڑے لوگوں کے سوا اس کی تمام اولاد کو کھا جاؤں گا (17:62)۔
قرآن کی اس آیت کی روشنی میں انسانی تاریخ پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے انسان کو بہکانے کے لیے تاریخ میں دو بڑے فتنے کھڑے کیے ہیں۔ ایک وہ جس کا ذکر قرآن میں میں آیا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: میرے رب، انھوں نے بہت سے لوگوں کو…
…بعد آپ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور فرمایا۔ کیا میں نے پہونچا دیا، کیا میں نے پہونچا دیا۔ پھر آپ نے کہا جو حاضر ہے وہ غیر حاضر کو پہونچا دے کیونکہ بہت سے وہ لوگ جنہیں پہونچایا جائے وہ سننے والوں سے زیادہ خوش بخت ہوتے ہیں۔ (مسند احمد)
اس پورے خطبہ کا خلاصہ اس کے اس لفظ میں ہے : الا لاتظلموا۔ الا لا تظلموا۔ (خبردارظلم نہ کرنا۔ خبر دار ظلم نہ کرنا) اس خطبہ کا مقصد ظلم کے ہر دروازہ کو بند کرنا ہے خواہ وہ جھوٹے توہمات کی وجہ سے پیدا ہوا ہو یا غلط قوانین کی وجہ سے یا غرور اور سرکشی کی وجہ سے۔اس مقصد کے لیے اعلان کر دیا گیا کہ اصولی طور پر ہر آدمی کا خون، اس کا مال اور اس کی آبرو دوسرے کے لیے حرام ہے، اِ لاّ یہ کہ اللہ کے واضح قانون کی بنا پر اس کا جواز ثابت ہوتا ہو۔ جاہلی روایات اور انتقامی جذبات کے تحت ایک دوسرے کے خلاف جو کارروائیاں کی جاتی ہیں وہ مطلق طور پر ممنوع قرار دیدی گئیں۔
سودی لین دین کو با لکل حرام قرار دے دیا گیا جو کہ سماج کے مختلف طبقات کے درمیان معاشی ظلم پیدا کرتا ہے۔ نیز دوسرے بالو اسطہ طریقوں سے سماجی انصاف میں زبردست رکاوٹ ہے۔ عورتوں کے حقوق کو واضح طور پر متعین کر دیا گیا۔ اور مردوں کو اس سے روک…
…ذہن نے معاملہ پر ازسر نو غور کیا- پہلے وہ عیینہ کو ایک غلط انسان سمجھ کر، اس کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے تھے- اب انھوں نے ازسرِ نو غور کیا، تو ان کی سمجھ میں آیا کہ یہ ایک نادان آدمی ہے، اور اس قابل ہے کہ اس سے اعراض کا معاملہ کیا جائے-
اس طرح کے معاملات دوسرے صحابہ اور تابعین کے بارے میں بھی کثرت سے کتابوں میں موجود ہیں- مثلاً ابوذر اور بلال دونوں صحابی تھے- ابو ذر کو کسی بات پر بلا ل پر غصہ آگیا- ان کی زبان سے نکلا، یا ابن السوداء (اے سیاہ فام ماں کے بیٹے)- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا: یا أباذر، إنک إمرء فیک جاہلیة(اے ابوذر، تمھارے اندر ابھی تک جاہلیت کا اثر موجود ہے)- ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ تمھارے بھائی (اخوان) ہیں-یہ سن کر حضرت ابوذر کے اندر ندامت پیدا ہوئی- ان کو محسوس ہوا کہ میں اس معاملہ کو سیاہ فام اور سفید فام کا معاملہ سمجھتا تھا- لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہ انسان کا معاملہ ہے- اورا نسان کے اعتبار سے دونوں برابر ہیں- پہلے اگر شیطان نے ان پر حملہ کیا تھا تو اب تذکر کے نتیجہ میں وہ شیطان کے اثر سے باہر آگئے-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی، وہ عمر کی فضیلت کے طورپر نہ تھی، بلکہ آپ نے ایک شخص کے حوالے سے ایک اصولی بات بتائی- وہ یہ کہ اس دنیا میں ہر انسان شیطانی حملوں کی زد میں ہے- ہر انسان شیطانی وسوسہ کا شکار ہوتا ہے- اس مسئلہ…
سبیل ُ اللہ سے انحراف
ایک روایت حدیث کے مختلف کتابوں میں آئی ہے- مسند احمد (رقم الحدیث: 4142) کے الفاظ یہ ہیں: عن عبد اللہ بن مسعود قال: خطّ لنا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم یوماً خطًّا، قم قال: ہذا سبیل اللہ، ثم خطّ خطوطاً عن یمینہ وعن شمالہ ثم قال: ہذہ سُبُل متفرقة على کلّ سبیل منہا شیطان یدعوا إلیہ- ثم قرأ ہذہ الایة: ’’وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِـیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ‘‘ (6:153)-
عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمارے سامنے زمین پر ایک سیدھی لکیر کھینچی، پھر آپ نے فرمایا کہ یہ اللہ کا رستہ ہے- پھر آپ نے اِس سیدھی لکیر کے دائیں اور بائیں کچھ لکیریں کھینچیں، پھر آپ نے فرمایا کہ…
…اِس جنت میںآدم کو پوری آزادی حاصل تھی، البتہ اس میں ایک درخت کو خدا نے شجرۂ ممنوعہ (forbidden tree) کی حیثیت دے دی۔ خدا نے آدم سے کہا کہ تم کو اور تمھاری بیوی کو یہاں ہرقسم کی آزادی حاصل ہے، لیکن تم لوگ اس ممنوعہ درخت کا پھل نہ کھانا۔
آدم جس دنیا میں تھے، وہاںاُن کے ساتھ شیطان بھی کسی پہلو سے موجود تھا۔ شیطان نے آدم اور ان کی بیوی دونوں کو بہکایا۔ اس نے کہا کہ یہ شجرۂ ممنوعہ دراصل شجرۂ خُلد، یا ہمیشگی کا درخت (tree of eternity) ہے۔ ابھی تم لوگوں کو صرف زندگی ملی ہے، ابھی تم کو ابدیت حاصل نہیں ہوئی۔ اگر تم اِس درخت کا پھل کھا لو تو اس کے بعد یہ ہوگا کہ تم کو زندگی کے ساتھ ابدیت بھی مل جائے گی۔ اس کے بعد تم باغوں کی اِس دنیا میں ہمیشہ کے لیے رہ سکتے ہو۔
آدم اور حوا دونوں اِس بہکاوے میںآگئے۔ انھوںنے ممنوعہ درخت کا پھل کھالیا۔ قرآن کے مطابق، اُن کا یہ عمل خدا کے حکم کی خلاف ورزی (20:121)تھا۔ چناں چہ پھل کھاتے ہی اچانک ایسا ہوا کہ دونوں خدا کی رحمت سے محروم ہوگئے۔ خدا کی رحمت کا لباس اُن…
…انسان برائی کرنا چاہتا ہے تو وہ یہ کرتا ہے کہ پہلے وہ اُس برائی کا نام بدلتا ہے، وہ اُس برائی کو بطور خود ایک اچھا نام دیتا ہے۔ اِس طرح وہ اپنے آپ کو اِس فرضی اطمینان میں مبتلا کرلیتا ہے کہ میں جو کچھ کررہا ہوں، وہ کوئی بُرا کام نہیں۔
جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، غلط تسمیہ کے اس طریقے کا آغاز انسانی تاریخ میں سب سے پہلے شیطان نے اِس طرح کیا کہ اس نے شجرۂ ممنوعہ کا نام شجرۂ خلد رکھ دیا اور پھر آدم اور حوا کو راضی کیا کہ وہ اِس درخت کا پھل کھالیں۔ تاریخ میںتقریباً تمام بُرائیاں اِسی غلط تسمیہ کے تحت اختیار کی گئی ہیں۔ موجودہ زمانے میں جس چیز کو لَو اَفئر (love affair) کہاجاتا ہے، وہ کیا ہے۔ وہ دراصل سیکس افئر (sex affair) کا خوب صورت نام ہے۔
غلط تسمیہ کی مثالیں موجودہ زمانے میںبہت زیادہ عام ہوچکی ہیں۔ جدید میڈیا میں ہر روز اس کو دیکھا جاسکتا ہے۔ مثلاً نئی دہلی کے انگریزی روز نامہ ٹائمس آف انڈیا (یکم نومبر 2007) کے ضمیمہ ’دہلی ٹائمس‘ کے صفحۂ اول پر ایک رنگین تصویر ہے۔ اِس…
…نے اپنی تزئین کے ذریعے مسلمانوں کو غیر دعوتی کاموں کی طرف متوجہ کردیا، یعنی اسلامی حکومت کا حصول ، وغیرہ۔ اِس بنا پر دعوتی عمل مسلمانوں کی مین اسٹریم میں داخل نہ ہوسکا۔شیطان کی تزئین سے بچائو کا ذریعہ دانش مندی کے ساتھ پلاننگ کرنا ہے۔
دانش مندی کیا ہے۔دراصل فطرت کے قوانین کی پابندی کرنے کا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چیزوں کو متاثر ذہن (conditioned mind)کے ساتھ دیکھنے کے بجائےاس معاملے میں سوچنا اور تجزیہ کرنا، اس کے بعد کوئی عمل کرنا۔ یعنی دانش مند آدمی کسی بھی بات کو ایز اٹ از (as it is) نہیں قبول کرتا، بلکہ وہ اس کو دیکھتا ہے، اس میں غور و فکر کرتا ہے، معاملے کی اسکروٹنی (scrutiny) کرتا ہے، پھر وہ اس کو قبول کرتا ہے یا رد (reject)کرتا ہے۔اس بنا پر وہ اس قابل ہوجاتا ہےکہ وہ کسی کی فریب کا شکار ہونے سے بچ جائے۔ اس بنا پر وہ اپنے آپ کو غیر ضروری مسائل سے بچالیتا ہے۔
جو آدمی اس معنی میں دانش مند ہو،وہ ایک ناقابلِ تسخیر انسان بن جاتا ہے۔ وہ ان کمزوریوں سے پاک ہوتا ہے، جو کسی انسان کو کمزور شخصیت (weak personality) بنانے والی ہیں۔وہ جذباتیت کا شکار نہیں ہوتا۔ اس بنا پر وہ اپنے آپ کو اس سے بچالیتا ہے کہ…
جنت میں داخلے کی شرط
آدم پہلے انسان تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کرکے اُن کو اور ان کی بیوی حوا کو جنت میں رکھا، اور کہا کہ تم دونوں یہاں رہو اور آزادانہ طورپر یہاں کے سامانِ راحت سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن تم اِس شجرِ ممنوعہ کے قریب نہ جانا، ورنہ تم ظالم ہوجاؤگے (البقرۃ:35 )
مگر شیطان کے وسوسے سے متاثر ہو کر انھوں نے ممنوعہ درخت کا پھل کھالیا۔ اس کے بعد آدم اور حوا دونوں جنت سے نکال کر موجودہ زمین میں ڈال دیے گیے۔اور آدم سے اور ان کی پوری نسل سے یہ کہہ دیاگیا کہ جو عمل کا ثبوت دے گا، وہی ابدی جنت میں جگہ…
…اسلام نے فرمایا کہ جب کسی آدمی کو غصہ آئے تو اگر وہ کھڑا ہے تو بیٹھ جائے۔ اگر وہ بول رہا ہے تو چپ ہو جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جس حالت میں ہے وہ اس حالت کو بدل دے۔ حالت کی یہ تبدیلی اس کے لیے غصہ کو ختم کرنے کا سبب بن جائے گی۔
غصّہ ایک آگ ہے جو کسی ناخوشگوار بات پر آدمی کے اندر بھڑکتی ہے۔ غصہ آدمی کو تخریبی طریقہ کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ ہمیشہ نقصان میںمبتلا کرنے والا ہوتاہے۔ ایسی حالت میں عقلمندی یہ ہے کہ غصہ آتے ہی فوراً اس کو ٹھنڈا کرنے کی تدبیر کی جائے۔ تدبیر کے ذریعہ آدمی غصہ کو منٹوں میں ختم کرسکتا ہے۔ لیکن اگر غصّہ کو باقی رہنے دیا جائے تو وہ آدمی کو ایسے نقصانات پہنچاتا ہے جس کی تلافی پھر کبھی ممکن نہ ہو۔
غصّہ آنا ایک فطری بات ہے۔ غصہ آنا بذات خود برا نہیں، بری بات یہ ہے کہ آدمی اپنے غصہ پر کنٹرول نہ کرسکے۔ غصّہ پر کنٹرول نہ کرسکنا خود اپنے آپ سے شکست کھاجانا ہے اور اپنے آپ سے شکست کھانا بلا شبہہ سب سے زیادہ بری شکست ہے۔
…world of nature. He sees and experiences them without learning any lesson from them. This verse of the Quran applies to the unheeding: “And there are many signs in the heavens and the earth that they pass by and give no heed to.” (12:105)
These events scattered in the universe are in fact divine signs: they serve as an introduction to the Creator in the form of His creation. If a person were to see with open eyes, he would observe the marvels of nature in these signs. But Satan puts such thoughts in man’s mind as prevent him from seeing those events of nature from the right perspective. It is Satan who puts the thought in a person’s mind that all those signs of nature are the result of the laws of cause and effect, happening automatically, rather than the result of divine power. Satan tries to stop man from looking at these events from the point of view of deriving lessons from them. He strives to make man look at them purely from the point view of material gain. Satan tries to make man take everything around him for granted and not ponder or reflect upon them. It is these Satanic whisperings which deprive man of the right realization of God and reality.
…causing doubts and misgivings about one another. Iblis was so overjoyed to hear this that he drew him in a close embrace, saying, ‘Yes, you did it,’ meaning that he had managed to lead human beings astray.’ (Sahih Muslim, Hadith No. 2813)
This tradition of Prophet Muhammad shows that Satan’s greatest weapons in perverting human society are the conflict and discord that he creates between a husband and wife, resulting in their separation.
In ancient times, this phenomenon was not widespread, with only a few people afflicted by the evil of separation. However, in modern times, the whole human race has come to be affected by exposure to new and misguided ideas about the…
FORBIDDEN TREE
THE story of Adam and Eve is common to the Bible and the Quran. According to the Quranic account, God created Adam and his wife, Eve; settled them in Paradise and gave both of them basic directions:
God said. 'O Adam! Live with your wife in Paradise and eat freely from it anywhere you may wish. Yet do not approach this tree lest you become wrongdoers.' THE QURAN 2:35
…ان کو سننا اور پڑھنا میرے جیسے انسان کے لیے ایک سزا کے برابر ہے۔ اس لیے کہ قرآن و حدیث کے مطالعہ کے مطابق ، میں سمجھتا ہوں کہ یہ باتیں کسی سازشی قوم کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ خود مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے کی بے دانشی کو ثابت کرتی ہیں۔
قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہیں:وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا (3:120)۔ قرآن کی یہ آیت مسلمانوں کو خطاب کررہی ہے۔ اور یہ بتاتی ہے کہ دوسروں کی سازش تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی، بلکہ خود اپنی کمزوری تم کو نقصان پہنچائے گی۔ ایسی حالت میں اغیار کی سازش کا نظریہ صرف اس بات کاثبوت ہے کہ لکھنے اور بولنے والا شخص قرآن سے مکمل طور پر بے خبر ہے۔ قرآن کے مطابق، اللہ نے ابلیس اور اس کی قوم کو پوری چھوٹ دی ہے کہ وہ انسان کے خلاف جو کچھ کرنا چاہے، آزادی کے ساتھ کرے۔ مثلاً ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور ان میں سے جس پر تیرا بس چلے، تو اپنی آواز سے ان کا قدم اکھاڑ دے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لا اور ان کے مال اور اولاد میں ان کا ساجھی بن جا اور ان سے وعدہ کر۔ اور شیطان کا وعدہ ایک دھوکہ کے سوا اور کچھ نہیں۔بے شک جو عباد اللہ ہیں ان پر تیراسلطان نہیں چلے گا اور تیرا رب کار سازی کے لئے کافی ہے (17:64-65)۔
قرآن کی اس آیت کے مطابق، مسلمانوں کے لیے اصل کام دوسروں کے خلاف شکایت کرنا نہیں ہے، بلکہ خود اپنے آپ کو عباد اللہ بنانا ہے۔ مسلمانوں کے جو لکھنے اور بولنے والے لوگ ہیں، ان سب کو یہ چاہیے کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ عبادا للہ کی شرطیں…
…اللہ کی نظر میں کامیاب انسان ہے۔ شیطان کے بہکانے کا طریقہ کیا ہے۔ یہ طریقہ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: وَشَارِکْہُمْ فِی الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدْہُمْ ۔(17:64) اور مال اور اولاد میں ان کا شریک بن جا، اور ان سے وعدہ کر۔
قرآن کی اس آیت میں مال اور اولاد کا لفظ علامتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے تمام معاملات میں اس کے ساتھ شامل ہوجا۔ وعدہ کا لفظ یہاں اَمانی کے مفہوم میں ہے۔ یعنی لوگوں کو خوش فہمی (wishful thinking) میں مبتلا کرنا۔ یہ وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے شیطان لوگوں کو راستے سے بھٹکا دیتا ہے۔
شیطان کے بہکانے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ ایک خارجی شخص کی حیثیت سے لوگوں کے پاس آئے، لوگ اس سے باخبر ہوں کہ یہ شیطان ہے، پھر وہ لوگوں کو خارجی مشورہ کے ذریعے گمراہی میں ڈال دے۔ شیطان آدمی کے پاس ایک خارجی مشیر کی حیثیت سے نہیں آتا۔…
…پہنچائی، اور ان کے ذمّے یہ کام سپرد ہوا کہ وہ تعلیم اور تلقین کے ذریعے انسان کے ذہن کو بیدار کریں۔ وہ انسان کو اِس قابل بنائیں کہ جو کچھ اس کے لاشعور میںہے، اس کو وہ شعور کے درجے میں دریافت کرلے اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی تعمیرکرے۔
دنیا کی زندگی چوں کہ امتحان کی زندگی ہے، اس لیے یہاں دو قسم کی طاقتیں مسلسل طور پرکام کرتی رہتی ہیں۔ ایک طرف، پیغمبر جو انسان کو سچائی کا راستہ دکھاتے ہیں، اور دوسری طرف شیطان ہے جو انسان کو بہکا کر اس کو گم راہی کے راستے پر ڈالنا چاہتا ہے۔ شیطان کا طریقہ اب بھی وہی ہے جو اُس نے اِس سے پہلے آدم اور حوا کے ساتھ اختیا رکیا تھا، یعنی غلط تسمیہ کے ذریعے یہ کوشش کرنا کہ انسان بُرائی کو بھلائی کے روپ میں دیکھنے لگے۔شیطان کے اِس عمل کو قرآن میں تزئین (fair-seeming) کہاگیا ہے ( 15:39) -پیغمبروں نے ہمیشہ انسان کو یہ بتایا کہ خدا ایک ہے۔ وہی اکیلا خالق اور مالک ہے۔ تم لوگ اُس کو مانو اور اُسی کی عبادت کرو۔ خدا کے رسولوں کا یہ پیغام، انسان کی فطرت کے عین مطابق تھا۔ انسان کی اپنی فطرت بھی رسولوں کے اِس پیغام کی مکمل تائید کررہی تھی۔ اِس بنا پر انسان کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ خدا کے وجود کا انکار کردے۔ یہاں شیطان کی ترغیب کے تحت، انسان نے انحراف (deviation) کا طریقہ اختیار کیا۔
یہ انحراف زیادہ تر غلط تسمیہ کے اصول پر مبنی تھا۔ چناں چہ انسان نے کہا کہ ہم خدا کو مانتے ہیں، لیکن خدا نے اپنے مختلف شرکا (partners) مقرر کردیےہیں۔ اب ہمارا تعلق براہِ راست خدا سے نہیں، بلکہ اِنھیں شرکا سے ہے۔ ہم شرکا کے ذریعے خدا تک…
…اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کرکے اُن کو اور ان کی بیوی حوا کو جنت میں رکھا، اور کہا کہ تم دونوں یہاں رہو اور آزادانہ طورپر یہاں کے سامانِ راحت سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن تم اِس شجرِ ممنوعہ کے قریب نہ جانا، ورنہ تم ظالم ہوجاؤگے (البقرۃ:35 )
مگر شیطان کے وسوسے سے متاثر ہو کر انھوں نے ممنوعہ درخت کا پھل کھالیا۔ اس کے بعد آدم اور حوا دونوں جنت سے نکال کر موجودہ زمین میں ڈال دیے گیے۔اور آدم سے اور ان کی پوری نسل سے یہ کہہ دیاگیا کہ جو عمل کا ثبوت دے گا، وہی ابدی جنت میں جگہ پائے گا۔
زندگی کے آغاز کی یہ مثال بتاتی ہے کہ جنت کے حصول کی شرط کیا ہے۔ جنت کسی کو پُر اسرار طورپر نہیں ملے گی اور نہ کسی کی سفارش کسی کو جنت کا مستحق بنائے گی۔ جنت کسی کو پیدائشی حق کے طور پر ملنے والی نہیں، یہاں تک کہ پیغمبر کو بھی نہیں:
…اور ان کا دوسرا طبقہ ان کے خلاف منفی جذبات میں مبتلا ہے۔ یہ بات سرتا سر اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ اِس قسم کی تمام کارروائیاں نہ تو اسلامی جہاد ہیں اور نہ اسلامی غیرت۔ وہ اسلام کے نام پر صرف غیر اسلام کا ارتکاب ہیں، اِس کے سوا اور کچھ نہیں۔
قرآن کے مطابق، ہمارا دشمن صرف شیطان ہے جس کو قرآن میں طاغوت کہا گیا ہے۔ ہماری لڑائی صرف شیطان سے ہے، کسی اور سے نہیں۔انسان کے اندر امتحان کے مقصد سے مختلف قسم کے جذبات رکھے گیے ہیں۔ مثلاً غصہ اور انتقام، وغیرہ۔ اِن جذبات کو غلط رُخ دے کر شیطان ہم کو صحیح راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ مواقع ہیں جب کہ ہمیں شیطان سے لڑنا ہے۔ شیطان کی تزئین (الحجر: 39) سے بچنے ہی کا نام تزکیہ ہے اور جو لوگ اِس اعتبار سے اپنا تزکیہ کریں، وہی وہ لوگ ہیں جن کو جنت میں داخلہ ملے گا (طٰہٰ: 76) شیطان کے خلاف انسان کی لڑائی صرف نفسیات کی سطح پر ہوتی ہے، تشدّد اور ہتھیار کی سطح پر نہیں۔
جہاں تک انسان کا معاملہ ہے، قرآن کے مطابق، انسان ہمارا مدعو ہے۔ وہ ہمارا حریف یا دشمن نہیں۔ انسان کے ساتھ ہمارا تعلق داعی اور مدعو کا ہے، دشمن یا مدّ مقابل کا نہیں۔ انسان کے مقابلے میں ہماری ذمے داری یہ ہے کہ ہم اُس کو پر امن طور پر خدا…
095 — شیطان سے پناہ مانگنا
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے۔ جب بھی تم کو محسوس ہو کہ شیطان تم کو بہکارہا ہے تو تم کہو: اللہم إنی اعوذ بک من ہمزات الشیطان(اے خدا، میں شیطان کے وسوسوں کے مقابلہ میںتجھ سے پناہ مانگتا ہوں)۔
شیطان انسان کا دشمن ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ انسان کو صحیح راستہ سے بھٹکائے۔ وہ طرح طرح کے وسوسے ڈال کر انسان کو سچائی سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ شیطان آدمی کو دکھائی نہیں دیتا۔ وہ خفیہ طورپر انسان کے اوپر حملہ کرتا ہے۔انسان اس شیطانی حملہ کے…
…پر کسی قسم کا غور وفکر ممکن نہیں ہوتا۔ حتی کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ لوگ دلیل کی زبان سمجھنے سے اتنا زیادہ عاری ہوجاتے ہیں گویا کہ ان کے پاس نہ آنکھ اور کان ہیں جن سے وہ دیکھیں اور سنیں اور نہ ان کے پاس دماغ ہے جس سے وہ کسی بات کو سمجھیں۔
شرک کیا ہے، جذباتِ عبودیت کی تسکین کے لیے خدا کے سوا کوئی دوسرا مرکز بنالینا۔ خدا انسان کی سب سے بڑی اور لازمی ضرورت ہے۔ خدا کی طلب انسانی فطرت میں اس طرح بسی ہوئی ہے کہ کوئی شخص خدا کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ انسان کی گم راہی خدا کو چھوڑنا نہیں ہے بلکہ اصلی خدا کی جگہ کسی فرضی خدا کو اپنا خدا بنا لینا ہے۔ اس ليے شریعت میں ہر اس چیز کو حرام قرار دیاگیا ہے جو کسی بھی درجہ میں آدمی کی فطری طلب کو اللہ کے سوا کسی اور کی طرف موڑ دینے والی ہو۔
بت پرست قومیں بتوں کے نام پر جانور چھوڑتی ہیں اور ان جانوروں سے نفع اٹھانا حرام سمجھتی ہیں۔ اس طرح کسی چیز کو اپنے ليے حرام کرلینا محض ایک سادہ قانونی معاملہ نہیں بلکہ یہ خدا كے دين كے بجائےايك خودساخته دين ايجاد كرناہے۔ کیوں کہ جب ایک چیز کو اس طرح حرام ٹھہرایا جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کسی خود ساختہ عقیدہ کی وجہ سے اس کو مقدس سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ خدا کے حقوق میں غیر خدا کو ساجھی بنانا ہے، یہ احترام وتقدس کے ان فطری جذبات کو تقسیم کرنا ہے جو صرف خدا کے لیے ہیں اور جن کو صرف خدا ہی کے لیے ہونا چاہيے۔ شیطان اس قسم کے رواج اس ليے ڈالتا ہے تاکہ وه آدمی کے اندر چھپے ہوئے استعجاب وتقدس کے جذبات کو مختلف سمتوں میں بانٹ کر اللہ کے ساتھ اس کے تعلق کو کمزور کردے۔
ایک بار جب کسی غیر اللہ کو مقدس مان لیا جائے تو انسان کی توہم پرستی اس میں نئی نئی برائیاں پیدا کرتی رہتی ہے۔ ایک ’’جانور‘‘ کو ان پُراسرار اوصاف کا حامل گمان کرلیا جاتا ہے جو صرف خدا کے لیے خاص ہیں۔ اس کو خدا کی قربت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس سے برکت اور کار برآری کی امید کی جاتی ہے۔ یہ چیز جب اگلی نسلوں تک پہنچتی ہے تو وہ اس کو آباواجداد کی مقدس سنت سمجھ کر اس طرح پکڑ لیتی ہیں کہ اب اس پر کسی قسم کا غور وفکر ممکن نہیں ہوتا۔ حتی کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ لوگ دلیل کی زبان سمجھنے سے اتنا زیادہ عاری ہوجاتے ہیں گویا کہ ان کے پاس نہ آنکھ اور کان ہیں جن سے وہ دیکھیں اور سنیں اور نہ ان کے پاس دماغ ہے جس سے وہ کسی بات کو سمجھیں۔
کھانے پینے کی چیزوں کو استعمال کرتے ہوئے جو احساسات آدمی کے اندر ابھرنے چاہئیں وہ شکر اور اطاعت الٰہی کے احساسات ہیں۔ یعنی یہ کہ ’’ہم اللہ کی دی ہوئی چیز کو اللہ کے حکم کے مطابق کھارہے ہیں‘‘۔ یہ احساس آدمی کے اندر خدا پرستی کا جذبہ…
…لگتا ہے۔ کیوں کہ وہ ان حد بندیوں کے پار ہوجاتا ہے جو آدمی کے لیے کسی چیز کو اس کے اصلی روپ میں دیکھنے میں رکاوٹ بنتی ہیں — کوئی بات خواہ کتنی ہی سچی ہو مگر اس کی سچائی کسی آدمی پر اسی وقت کھلتی ہے جب کہ وہ اس کو کھلے ذہن سے دیکھ سکے۔
آدمی دنیا میں جو کچھ کماتا ہے اس کو خرچ کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو شیطان کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس کو اللہ کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے۔ شیطان یہ کرتا ہے کہ آدمی کے ذاتی تقاضوں کی اہمیت اس کے دل میں بٹھاتا ہے۔ وہ اس کو سکھاتا ہے کہ تم نے جو کچھ کمایا ہے اس کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اس کو اپنی ذاتی ضرورتوں کو پورا کرنے میں لگاؤ۔ پھر جب شیطان دیکھتا ہے کہ آدمی کے پاس اس کی حقیقی ضرورت سے زیادہ مال ہے تو وہ اس کے اندر ایک اور جذبہ بھڑکا دیتاہے۔ یہ نمود و نمائش کا جذبہ ہے۔ اب وہ اپنی دولت کو بے دریغ نمائشی کاموں میں بہانے لگتا ہے اور خوش ہوتا ہے کہ اس نے اپنی دولت کو بہترین مصرف میں لگایا۔
آدمی کو چاہيے کہ اپنے مال کو اپنی ذاتی چیز نہ سمجھے بلکہ اللہ کی چیز سمجھے۔ وہ اپنی کمائی میں سے اپنی حقیقی ضرورت کے بقدر لے لے اور اس کے بعد جو کچھ ہے اس کو بلند تر مقاصد میں لگائے۔ وہ خدا کے کمزور بندوں کو دے اور خدا کے دین کی ضرورتوں میں خرچ کرے۔ آدمی جب اللہ کے کمزور بندوں پر اپنا مال خرچ کرتا ہے تو گویا وہ اپنے رب سے اس بات کا امیدوار بن رہا ہوتا ہے کہ آخرت میں جب وہ خالی ہاتھ خداکے سامنے حاضر ہو تو اس کا خدا اس کو اپنی رحمتوں سے محروم نہ کرے۔ اسی طرح جب وہ دین کی ضرورتوں میں اپنا مال دیتاہے تو وہ اپنے آپ کو خدا کے مشن میں شریک کرتاہے۔ وہ اپنے مال کو خدا کے مال میں شامل کرتاہے تاکہ اس کی حقیر پونجی خدا کے بڑے خزانہ میں مل کر زیادہ ہوجائے۔
جو شخص اپنے مال کو اللہ کے بتائے هوئے طریقے کے مطابق خرچ کرتا ہے وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس کو حکمت ودانائی میں سے حصہ ملا ہے۔ سب سے بڑی نادانی یہ ہے کہ آدمی مال کی محبت میں مبتلا ہو اور اس کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے سے رک جائے اور سب سے بڑی دانائی یہ ہے کہ اقتصادی مفادات آدمی کے لیے اللہ کی راہ میں بڑھنے میں رکاوٹ نہ بنیں۔ وہ اپنے آپ کو خدا میں اتنا ملا دے کہ خدا کو اپنا اور اپنے کو خدا کا سمجھنے لگے۔ جو شخص ذاتی مصلحتوں کے خول میں جیتا ہے اس کے اندر وہ نگاہ پیدا نہیں ہوسکتی جو بلند تر حقیقتوں کو دیکھے اور اعلیٰ کیفیات کا تجربہ کرے۔ اس کے برعکس، جو شخص ذاتی مصلحتوں کو نظر انداز کرکے خدا کی طرف بڑھتا ہے وہ اپنے آپ کو محدودیتوں سے اوپر اٹھاتا ہے، وہ اپنے شعور کو اس خدا کے ہم سطح کرلیتاہے جو غنی وحمید اور وسیع وعلیم ہے۔ وہ چیزوں کو ان کے اصلی روپ میں دیکھنے لگتا ہے۔ کیوں کہ وہ ان حد بندیوں کے پار ہوجاتا ہے جو آدمی کے لیے کسی چیز کو اس کے اصلی روپ میں دیکھنے میں رکاوٹ بنتی ہیں — کوئی بات خواہ کتنی ہی سچی ہو مگر اس کی سچائی کسی آدمی پر اسی وقت کھلتی ہے جب کہ وہ اس کو کھلے ذہن سے دیکھ سکے۔
آدمی دنیا میں جو کچھ کماتا ہے اس کو خرچ کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو شیطان کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس کو اللہ کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کیا جائے۔ شیطان یہ کرتا ہے کہ آدمی کے ذاتی تقاضوں کی اہمیت اس…
…آجائے۔ دین کی دعوت جب بھی اپنی بے آمیز شکل میں اٹھتی ہے تو وہ ایک خدائی کام ہوتا ہے جو خدا کی خصوصی مدد پر شروع ہوتا ہے۔ ایسے کام کی مخالفت کرنا گویا خدا کے مقابلہ میں کھڑا ہونا ہے اور کون ہے جو خدا کے مقابلہ میں کھڑا ہو کر کامیاب ہو۔
جو شخص ایک اللہ کو پکڑ لے اس کے عمل کی جڑیں خدا میں قائم ہوجاتی ہیں۔ اس سے وقتی لغزش بھی ہوتی ہے۔ مگر اس کے بعد جب وہ پلٹتا ہے تو دوبارہ وہ حقیقی سرے کو پالیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا ہو وہ گویا اس زمین سے محروم ہے جو اس کائنات میں واحد حقیقی زمین ہے۔ بظاہر اگر وہ کوئی اچھا عمل کرے تب بھی وہ خدا کے سرچشمہ سے نکلا ہوا عمل نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ ایک اوپری عمل ہوتا ہے جو معمولی جھٹکا لگتے ہی باطل ثابت ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توحید کے ساتھ کیا ہوا عمل آخرت میں اپنا نتیجہ دکھاتا ہے اور شرک کے ساتھ کیا ہوا عمل اسی دنیا میں برباد ہو کر رہ جاتا ہے، وہ آخرت تک نہیں پہنچتا۔
اس دنیا میں آدمی کا اصلی مقابلہ شیطان سے ہے۔ تاہم شیطان کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ وه اتنا کرسکتا ہے کہ آدمی کو لفظی وعدوں کا فریب دے اور فرضی تمناؤں میںالجھائے۔ اور اس طرح لوگوں کو حق سے دور کردے۔ شیطان کی گمراہی کی دو خاص صورتیں ہیں۔ ایک، توہم پرستی اور دوسرے، خدا کی تخلیق میں فرق کرنا۔ توہم پرستی یہ ہے کہ کسی چیز سے ایسے نتیجہ کی امید کرلی جائے جس نتیجہ کا کوئی تعلق اس سے نہ ہو۔ مثلاً خود ساختہ مفروضوں کی بنیاد پر اللہ کے سوا کسی اورچیز کو معاملات میں مؤثر مان لینا، حالاں کہ اس دنیا میں اللہ کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ یا زندگی کو عملاً دنیا کے حصول میں لگا دینا اور آخرت کے بارے میں فرضی خوش خیالیوں کی بنا پر یہ امید قائم کرلینا کہ وہ اپنے آپ حاصل ہوجائے گی۔ شیطان کے بہکاوے کا دوسرا طریقہ اللہ کے بتائے ہوئے نقشہ کو بدلنا ہے۔ خدا نے انسان کو اس فطرت پر پیدا کیا ہے کہ وہ اپنی تمام توجہ کو اللہ کی طرف لگائے، اس فطرت کو بدلنا یہ ہے کہ انسان کی توجہات کو دوسری دوسری چیزوں کی طرف مائل کردیا جائے۔ یا کسی مقصد کے حصول کا جو طریقہ فطری طورپر مقرر کیا گیا ہے اس کو بدل کر کسی خود ساختہ طریقے سے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ کائنات کے خدائی نقشہ کی مطابقت میں انسان کو جس طرح رہنا چاہیے اس نقشہ کو ناپيد کردیا جائے۔
جو شخص ایک اللہ کو پکڑ لے اس کے عمل کی جڑیں خدا میں قائم ہوجاتی ہیں۔ اس سے وقتی لغزش بھی ہوتی ہے۔ مگر اس کے بعد جب وہ پلٹتا ہے تو دوبارہ وہ حقیقی سرے کو پالیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا ہو وہ گویا اس زمین سے محروم ہے جو…
…کافیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی خوب صورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہیے۔
رسول اس لیے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ رسول اللہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کاربند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنازیادہ شدید ہونا چاہیے کہ نازک مواقع پر بھی وہ رسول اللہ کی اطاعت سے نہ ہٹے۔ جب دوآدمیوں کا مفاد ایک دوسرے سے ٹکرا جائے اور دو آدمیوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف تلخی ابھر آئے اس وقت بھی آدمی کو اپنے نفس کو دبانا ہے اور بالارادہ اپنے كو رسول والے طریقہ کا پابند بنانا ہے۔ نزاع کے موقع پر جو شخص رسول کی رہنمائی کو قبول کرے وہی رسول کو ماننے والا ہے۔ حتی کہ رسول کا طریقہ اپنے ذوق اور اپنی مصلحت کے خلاف ہو تب بھی وہ دل کی رضا مندی کے ساتھ اس کو قبول کرلے۔ وہ اپنے احساس کو اتنا زندہ رکھے کہ اگر وقتی طورپر کبھی اس سے غلطی ہوجائے تو وہ جلد ہی چونک اٹھے۔ وہ جان لے کہ رسول کو چھوڑ کر وہ شیطان کے پیچھے چل پڑا تھا۔ وہ فوراً پلٹے اور معافی کا طالب ہو۔ جو شخص نفسیاتی جھٹکوں کے مواقع پر دین پر قائم نہ رہ سکے اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان شدید تر مواقع پر ثابت قدم رہے گا جب کہ وطن کو چھوڑ کر اور جان ومال کی قربانی دے کر آدمی کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔
نفس پرستی اور مصلحت پسندی کی زندگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں آدمی جو سب سے بڑی چیز کھوتا ہے وہ صراط مستقیم ہے۔ یعنی وہ راستہ جس کو پکڑ کر آدمی چلتا رہے یہاں تک کہ اپنے رب تک پہنچ جائے۔ یہ راستہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں واضح طورپر موجود ہے۔ مگر آدمی جب اپنی سوچ کو تحفظات کا پابند کرلیتا ہے تو وضاحت کے باوجود وہ صراطِ مستقیم کو دیکھ نہیں پاتا۔وہ دین کا مطالعہ اپنی خواہشوں اور مصلحتوں کے زیر اثر کرتاہے، نہ کہ دين کی بے آمیز صورت میں۔ اس کے ذہن میں اپنے حسب حال دین کا ایک خود ساختہ تصور قائم ہوجاتا ہے۔ وہ ایمان کا مدعی ہو کر بھی ایمان سے محروم رہتا ہے۔ ایسے لوگ اس جنت کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حدتک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔
رسول اس لیے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ رسول اللہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کاربند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنازیادہ…
…کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حدتک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔
رسول اس لیے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ رسول اللہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کاربند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنازیادہ شدید ہونا چاہیے کہ نازک مواقع پر بھی وہ رسول اللہ کی اطاعت سے نہ ہٹے۔ جب دوآدمیوں کا مفاد ایک دوسرے سے ٹکرا جائے اور دو آدمیوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف تلخی ابھر آئے اس وقت بھی آدمی کو اپنے نفس کو دبانا ہے اور بالارادہ اپنے كو رسول والے طریقہ کا پابند بنانا ہے۔ نزاع کے موقع پر جو شخص رسول کی رہنمائی کو قبول کرے وہی رسول کو ماننے والا ہے۔ حتی کہ رسول کا طریقہ اپنے ذوق اور اپنی مصلحت کے خلاف ہو تب بھی وہ دل کی رضا مندی کے ساتھ اس کو قبول کرلے۔ وہ اپنے احساس کو اتنا زندہ رکھے کہ اگر وقتی طورپر کبھی اس سے غلطی ہوجائے تو وہ جلد ہی چونک اٹھے۔ وہ جان لے کہ رسول کو چھوڑ کر وہ شیطان کے پیچھے چل پڑا تھا۔ وہ فوراً پلٹے اور معافی کا طالب ہو۔ جو شخص نفسیاتی جھٹکوں کے مواقع پر دین پر قائم نہ رہ سکے اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان شدید تر مواقع پر ثابت قدم رہے گا جب کہ وطن کو چھوڑ کر اور جان ومال کی قربانی دے کر آدمی کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔
نفس پرستی اور مصلحت پسندی کی زندگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں آدمی جو سب سے بڑی چیز کھوتا ہے وہ صراط مستقیم ہے۔ یعنی وہ راستہ جس کو پکڑ کر آدمی چلتا رہے یہاں تک کہ اپنے رب تک پہنچ جائے۔ یہ راستہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں واضح طورپر موجود ہے۔ مگر آدمی جب اپنی سوچ کو تحفظات کا پابند کرلیتا ہے تو وضاحت کے باوجود وہ صراطِ مستقیم کو دیکھ نہیں پاتا۔وہ دین کا مطالعہ اپنی خواہشوں اور مصلحتوں کے زیر اثر کرتاہے، نہ کہ دين کی بے آمیز صورت میں۔ اس کے ذہن میں اپنے حسب حال دین کا ایک خود ساختہ تصور قائم ہوجاتا ہے۔ وہ ایمان کا مدعی ہو کر بھی ایمان سے محروم رہتا ہے۔ ایسے لوگ اس جنت کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حدتک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔
رسول اس لیے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ رسول اللہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کاربند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنازیادہ…
…کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حدتک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔
رسول اس لیے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ رسول اللہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کاربند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنازیادہ شدید ہونا چاہیے کہ نازک مواقع پر بھی وہ رسول اللہ کی اطاعت سے نہ ہٹے۔ جب دوآدمیوں کا مفاد ایک دوسرے سے ٹکرا جائے اور دو آدمیوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف تلخی ابھر آئے اس وقت بھی آدمی کو اپنے نفس کو دبانا ہے اور بالارادہ اپنے كو رسول والے طریقہ کا پابند بنانا ہے۔ نزاع کے موقع پر جو شخص رسول کی رہنمائی کو قبول کرے وہی رسول کو ماننے والا ہے۔ حتی کہ رسول کا طریقہ اپنے ذوق اور اپنی مصلحت کے خلاف ہو تب بھی وہ دل کی رضا مندی کے ساتھ اس کو قبول کرلے۔ وہ اپنے احساس کو اتنا زندہ رکھے کہ اگر وقتی طورپر کبھی اس سے غلطی ہوجائے تو وہ جلد ہی چونک اٹھے۔ وہ جان لے کہ رسول کو چھوڑ کر وہ شیطان کے پیچھے چل پڑا تھا۔ وہ فوراً پلٹے اور معافی کا طالب ہو۔ جو شخص نفسیاتی جھٹکوں کے مواقع پر دین پر قائم نہ رہ سکے اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان شدید تر مواقع پر ثابت قدم رہے گا جب کہ وطن کو چھوڑ کر اور جان ومال کی قربانی دے کر آدمی کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔
نفس پرستی اور مصلحت پسندی کی زندگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں آدمی جو سب سے بڑی چیز کھوتا ہے وہ صراط مستقیم ہے۔ یعنی وہ راستہ جس کو پکڑ کر آدمی چلتا رہے یہاں تک کہ اپنے رب تک پہنچ جائے۔ یہ راستہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں واضح طورپر موجود ہے۔ مگر آدمی جب اپنی سوچ کو تحفظات کا پابند کرلیتا ہے تو وضاحت کے باوجود وہ صراطِ مستقیم کو دیکھ نہیں پاتا۔وہ دین کا مطالعہ اپنی خواہشوں اور مصلحتوں کے زیر اثر کرتاہے، نہ کہ دين کی بے آمیز صورت میں۔ اس کے ذہن میں اپنے حسب حال دین کا ایک خود ساختہ تصور قائم ہوجاتا ہے۔ وہ ایمان کا مدعی ہو کر بھی ایمان سے محروم رہتا ہے۔ ایسے لوگ اس جنت کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حدتک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔
رسول اس لیے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ رسول اللہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کاربند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنازیادہ…
…کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حدتک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔
مال نہ عیش کے لیے ہے اور نہ اظہار فخر کے لیے۔ وہ آدمی کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے۔ وہ دنیا میں اس کے قیام وبقا کا سامان ہے۔ مال کا ذریعۂ زندگی ہونا ایک طرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کو بذات خود مقصود بنا لینا درست نہیں۔ دوسرے یہ کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ مال کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اور اس کو اس کے حق دار تک پہنچانے کا پورا اہتمام کیا جائے۔ کسی کے مال کو ٹھیک ٹھیک ادا نہ کرنا گویا خدا کے اس انتظام میں فساد ڈالنا ہے جو خدا نے اپنے بندوں کی رزق رسانی کے لیے کیا۔ یتیم کسی سماج کا سب سے کمزور حصہ ہوتا ہے اس ليے اس کے مال کی حفاظت اور اس کے معاملہ میں ہر قسم کے ظلم سے اپنے کو بچانا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ حتی کہ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی انصاف کے مطابق ان کے ساتھ جو معاملہ کرے اس کو لکھ کر اس پر گواہی لے لے تاکہ سماج کے اندر شکایت اور اختلاف کی فضا پیدا نہ ہو اور وہ لوگوں کے سامنے بری الذمہ ہوسکے۔ جب بھی آدمی کے ہاتھ میں کسی کا معاملہ ہو تو اس کو یہ سمجھ کر معاملہ کرنا چاہیے کہ اس کی ہر کوتاہی اللہ کے علم میں ہے۔ صاحب معاملہ اپنی کمزوری کی وجہ سے خواہ اس کے خلاف کچھ نہ کرسکے مگر خدا اس کو ضرور قیامت کے دن پکڑے گا اور اگر اس نے حق کے خلاف معاملہ کیا ہے تو وہ اس کو سخت سزا دے گا اور اس کے لیے کسی طرح بھی خدا کی سزا سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔
دنیا میں کمزور کا حق دبا کر آدمی خوش ہوتا ہے۔ مگر ہر ناجائز مال جو آدمی اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے، وہ گویا اپنے پیٹ میں آگ ڈال رہا ہے۔دنیا میں ایسے مال کا آگ ہونا بظاہر محسوس نہیں ہوتا مگر آخرت میں یہ حقیقت کھل جائے گی۔ یہاں آدمی کو عمل کی آزادی ضرور دی گئی ہے مگر نتیجہ آدمی کے اپنے اختیار میں نهيں۔ جو شخص اپنے کو برے انجام سے بچانا چاہتا ہے اس کو دوسروں کے ساتھ بھی برا نہیں کرنا چاہیے۔ آدمی کو چاہيے کہ وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بنے، وہ اپنی استعداد کے مطابق دوسروں کو دے۔ اگر کوئی شخص دینے کی حیثیت میںنہیں ہے توآخری اسلامی درجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کا دل نہ دکھائے، وہ اپنی زبان کھولے تو سیدھی اور سچی بات کہنے کے لیے کھولے، ورنہ خاموش رہے۔
رسول اس لیے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ رسول اللہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کاربند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنازیادہ…
…تو وہ دراصل خدا کی ناقدری کرتاہے۔ وہ خداکی عظمتوں کی دنیامیں اپنی عظمت قائم کرنا چاہتاہے۔ وہ ایسا ظلم کرتاہے جس سے بڑا کوئی ظلم نہیں۔ وہ اس خدا کے سامنے گستاخی کرتاہے جس کے سامنے عجز کے سوا کوئی اور رویہ کسی انسان کے لیے درست نہیں۔
آدمی کے سامنے ایک حق آتا ہے اور وہ اس کو نہیں مانتا تو اللہ اس کو فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ اس کو مالی نقصان اور جسمانی تکلیف کی صورت میں کچھ جھٹکے دیتا ہے، تاکہ اس کی سوچنے کی صلاحیت بیدار ہو اور وہ اپنے رویہ کے بارے میں نظر ثانی کرے۔ زندگی کے حوادث محض حوادث نہیںہیں، وہ خدا کے بھیجے ہوئے محسوس پیغامات ہیں جو اس لیے آتے ہیں تاکہ غفلت میں سوئے ہوئے انسان کو جگائیں۔ مگر آدمی اکثر ان چیزوں سے نصیحت نہیں لیتا۔ وہ یہ کہہ کر اپنے کو مطمئن کرلیتا ہے کہ یہ تو اتار چڑھاؤ کے واقعات ہیں اور اس قسم کے اتار چڑھاؤ زندگی میں آتے ہی رہتے ہیں۔ اس طرح ہر موقع پر شیطان کوئی خوش نما توجیہہ پیش کرکے آدمی کے ذہن کو نصیحت کے بجائے غفلت کی طرف پھیر دیتا ہے۔ آدمی جب بار بار ایسا کرتاہے تو حق وباطل اور صحیح وغلط کے بارے میں اس کے دل کی حساسیت ختم ہوجاتی ہے۔ وہ قساوت (بے حسی) کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔
جب آدمی خدا کی طرف سے آئی ہوئی تنبیہات کو نظر انداز کردے تو اس کے بعد اس کے بارے میں خدا کا انداز بدل جاتا ہے۔ اب اس کے لیے خدا كا فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ اس پر آسانیوں اور کامیابیوں کے دروازے کھولے جائیں۔ اس پر خوش حالی کی بارش کی جائے۔ اس کی عزت ومقبولیت میںاضافہ کیا جائے۔ یہ درحقیقت ایک سزا ہے، جو اس لیے ہوتی ہے تاکہ آدمی مطمئن ہو کر اپنی بے حسی کو اور بڑھالے، وہ حق کو نظرانداز کرنے میں اور زیادہ ڈھیٹ ہوجائے اور اس طرح خدا کی سزا کا استحقاق اس کے لیے پوری طرح ثابت ہوجائے۔ جب یہ مقصد حاصل ہوجائے تو اس کے بعد اچانک اس پر خداکا عذاب ٹوٹ پڑتا ہے۔ اس کو دنیوی زندگی سے محروم کرکے آخرت کی عدالت میںحاضر کردیا جاتاہے تاکہ اس کی سرکشی کی سزا میں اس کے لیے جہنم کا فیصلہ ہو۔
یہ دنیا خداکی دنیا ہے۔ یہاںہر قسم کی بڑائی اور تعریف کا حق صرف ایک ذات کے لیے ہے۔ اس لیے جب کوئی شخص خدا کی طرف سے آئے ہوئے حق کو نظر انداز کردیتاہے تو وہ دراصل خدا کی ناقدری کرتاہے۔ وہ خداکی عظمتوں کی دنیامیں اپنی عظمت قائم کرنا چاہتاہے۔ وہ ایسا ظلم کرتاہے جس سے بڑا کوئی ظلم نہیں۔ وہ اس خدا کے سامنے گستاخی کرتاہے جس کے سامنے عجز کے سوا کوئی اور رویہ کسی انسان کے لیے درست نہیں۔
آدمی کے سامنے ایک حق آتا ہے اور وہ اس کو نہیں مانتا تو اللہ اس کو فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ اس کو مالی نقصان اور جسمانی تکلیف کی صورت میں کچھ جھٹکے دیتا ہے، تاکہ اس کی سوچنے کی صلاحیت بیدار ہو اور وہ اپنے رویہ کے بارے میں نظر ثانی کرے۔…
…کے دل سے ہر وقت اس کی یاد ابلتی رہتی ہے تو وہ فرشتوں کا ہم سطح ہوجاتاہے۔ اس دنیا میں کسی انسان کی ترقی کا اعلیٰ ترین مقام یہ ہے کہ وہ انسان ہوتے ہوئے ملکوتی کردار کا حامل بن جائے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے فرشتوں کے پڑوس میں زندگی گزارنے لگے۔
جنت اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ آدم اور ان کی بیوی کے لیے کھلی ہوئی تھی۔ اس میں طرح طرح کی چیزیں تھیں اور خدا کی طرف سے ان کو آزادی تھی کہ ان کو جس طرح چاہیں استعمال کریں۔بے شمار جائز چیزوں کے درمیان صرف ایک چیز کے استعمال سے روک دیاگیا تھا۔ شیطان نے اسی ممنوعہ مقام سے ان پر حملہ کیا۔ اس نے وسوسہ اندازیوں کے ذریعہ سکھایا کہ جس چیز سے تمھیں روکا گیا ہے وہی جنت کی اہم ترین چیز ہے۔ اسی میں تقدس اور ابدیت کا سارا راز چھپا ہوا ہے۔ آدم اور ان کی بیوی ابلیس کی مسلسل تلقین سے متاثر ہوگئے۔اور بالآخر ممنوعہ درخت کا پھل کھالیا۔ مگر جب انھوں نے ایسا کیا تو نتیجہ ان کی توقعات کے بالکل برعکس نکلا۔ ان کی اس خلاف ورزی نے خدا کا لباسِ حفاظت ان کے جسم سے اتار دیا۔ وہ اس دنیا میں بالکل بے یارومددگار ہو کر رہ گئے جہاں اس سے پہلے ان کو ہرطرح کی سہولت اور حفاظت حاصل تھی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کا وہ خاص حربہ کیا ہے جس سے وہ انسان کو بہکا کر خدا کی رحمت ونصرت سے دور کردیتا ہے۔ وہ ہے — حلال رزق کے پھیلے ہوئے میدان کو آدمی کی نظر میں کمتر کرکے دکھانا اور جو چند چیزیں حرام ہیں ان کو خوب صورت طورپر پیش کرکے یقین دلانا کہ تمام بڑے بڑے فائدوں اور مصلحتوں کا راز بس انھیں چند چیزوں میں چھپا ہوا ہے۔
شیطان اپنا یہ کام ہر ایک کے ساتھ اس کے اپنے ذوق اور حالات کے اعتبار سے کرتا ہے ۔ کسی کو تمام قیمتی غذاؤں سے بے رغبت کرکے یہ سکھاتا ہے کہ شاندار تندرستی حاصل کرنا چاہتے ہو تو شراب پیو۔ کہیں لاکھوں بے روزگار مرد کام کرنے کے ليے موجود ہوں گے مگر وہ ترغیب دے گا کہ اگر ترقی کی منزل تک جلد پہنچنا چاہتے ہو تو عورتوں کو گھر سے باہر لاکر انھیں مختلف تمدنی شعبوں میں سرگرم کردو۔ کسی کے پاس اپنے مخالف کو زیر کرنے کا یہ قابل عمل طریقہ موجود ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو مستحکم بنائے مگر شیطان اس کے کان میں ڈالے گا کہ تمھارے ليے اپنے مخالف کو شکست دینے کا سب سے زیادہ کار گر طریقہ یہ ہے کہ اس کے خلاف تخریبی کارروائیاں شروع کردو۔ کسی کے ليے ’’اپنی تعمیر آپ‘‘ کے میدان میں کام کرنے کے ليے بے شمار مواقع کھلے ہوئے ہوں گے مگر وہ سکھائے گا کہ دوسروں کے خلاف احتجاج اور مطالبہ کا طوفان برپا کرنا اپنے کو کامیابی کی طرف لے جانے کا سب سے زیادہ قریبی راستہ ہے۔ کسی کے سامنے حکومت وقت سے تصادم کیے بغیر بے شمار دینی کام کرنے کے مواقع موجود ہوں گے مگر وہ اس کو اس غلط فہمی ميں ڈالے گا کہ غیر اسلامی حکمرانوں کو اگر کسی نہ کسی طرح پھانسی پر چڑھادیا جائے یا ان کو گولی مار کر ختم کردیا جائے تو اس کے بعد آناً فاناً اسلام کا مکمل نظام سارے ملک میں قائم ہو جائے گا، وغیرہ۔
آدم اور شیطان دونوں ایک دوسرے کے دشمن کی حیثیت سے زمین پر بھیجے گئے ہیں۔ اب قیامت تک دونوں کے درمیان یہی جنگ جاری ہے۔ شیطان کی مسلسل کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنے راستہ پر لائے اور جس طرح وہ خود خدا کی رحمت سے محروم ہوا ہے انسان کو بھی…
…موجود ہوں گے مگر وہ اس کو اس غلط فہمی ميں ڈالے گا کہ غیر اسلامی حکمرانوں کو اگر کسی نہ کسی طرح پھانسی پر چڑھادیا جائے یا ان کو گولی مار کر ختم کردیا جائے تو اس کے بعد آناً فاناً اسلام کا مکمل نظام سارے ملک میں قائم ہو جائے گا، وغیرہ۔
آدم اور شیطان دونوں ایک دوسرے کے دشمن کی حیثیت سے زمین پر بھیجے گئے ہیں۔ اب قیامت تک دونوں کے درمیان یہی جنگ جاری ہے۔ شیطان کی مسلسل کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنے راستہ پر لائے اور جس طرح وہ خود خدا کی رحمت سے محروم ہوا ہے انسان کو بھی خدا کی رحمت سے محروم کردے۔ اس کے مقابلہ ميں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ شیطان کے منصوبہ کو ناکام بنادے۔ وہ شیطان کی پکار کو نظر انداز کرکے خدا کی پکار کی طرف دوڑے۔
آدم اور شیطان کی یہ جنگ عملاً انسانوں میں دو گروہ بن جانے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ کچھ لوگ شیطان کی ترغیبات کا شکار ہو کر اس کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اور کچھ لوگ خدا کی آواز پر لبیک کہہ کر یہ خطرہ مول لیتے ہیں کہ شیطان کے تمام ساتھی اس کو بے عزت کرنے اور ناکام بنانے کے ليے ہر قسم کی تدبیریں کرنا شروع کردیں۔ ہر دور میں یہ دیکھا گیا ہے کہ سچے حق پرست جو ہمیشہ کم تعداد میں ہوتے ہیں، لوگوں کی سخت ترین عداوتوں کا شکار رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی شیطان کی دشمنانہ کارروائیاں ہیں۔ وہ لوگوں کو سچے حق پرست آدمی کے خلاف بھڑکا دیتا ہے۔ وہ مختلف طریقہ سے لوگوں کے دل میں اس کے خلاف نفرت کی آگ بھرتا ہے۔ چنانچہ وہ شیطان کا آلۂ کار بن کر ایسے آدمی کو ستانا شروع کردیتے ہیں۔
شیطان کا اصل جرم عدمِ اعتراف تھا۔ شیطان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہر آدمی کے اندر یہی عدم اعتراف کا مزاج پیدا کردے۔ وہ چھوٹے کو بھڑکاتا ہے کہ وہ اپنے بڑے کا لحاظ نہ کرے۔ معاملات کے دوران جب ایک شخص کے ذمہ دوسرے کا کوئی حق آتاہے تو وہ اس کو سکھاتا ہے کہ وہ حق دار کا حق ادا نہ کرے۔ کوئی خدا کا بندہ سچائی کا پیغام لے کر اٹھتا ہے تو لوگوں کے دل میں طرح طرح کے شبہات ڈال کر انھیں آمادہ کرتا ہے کہ وہ اس کی بات نہ مانیں۔ دو فریقوں کے درمیان نزاع ہو اور ایک فریق اپنے حالات کے اعتبار سے کچھ دینے پر راضی ہو جائے تو شیطان فریق ثانی کے ذہن میں یہ بات ڈالتا ہے کہ اس کی پیش کش کو قبول نہ کرو، اور اتنا زیادہ کا مطالبہ کرو جو وہ نہ دے سکتا ہو۔ تاکہ جنگ وفساد مستقل طورپر جاری رہے۔
اس طرح شیطان کے بہکاؤوںسے ہر جگہ لوگوں کے درمیان دشمنیاں جاری رہتی ہیں۔ انسانوں میں دو گروہ بن جاتے ہیں اور ان میں ایسا ٹکراؤ شروع ہوجاتاہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
آدم اور شیطان دونوں ایک دوسرے کے دشمن کی حیثیت سے زمین پر بھیجے گئے ہیں۔ اب قیامت تک دونوں کے درمیان یہی جنگ جاری ہے۔ شیطان کی مسلسل کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنے راستہ پر لائے اور جس طرح وہ خود خدا کی رحمت سے محروم ہوا ہے انسان کو بھی…
…کا مطالبہ کرو جو وہ نہ دے سکتا ہو۔ تاکہ جنگ وفساد مستقل طورپر جاری رہے۔
اس طرح شیطان کے بہکاؤوںسے ہر جگہ لوگوں کے درمیان دشمنیاں جاری رہتی ہیں۔ انسانوں میں دو گروہ بن جاتے ہیں اور ان میں ایسا ٹکراؤ شروع ہوجاتاہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ اس کی ظاہری چیزیں اس کی باطنی حقیقتوں کی علامت ہیں۔ ظاہری چیزوں پر غور کرکے آدمی چھپی ہوئی حقیقتوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی قسم کی ایک چیز لباس ہے۔
خدا نے انسان کو لباس دیا جو اس کی حفاظت کرتا ہے اور ا سی کے ساتھ وه اس کے حسن ووقار کو بڑھانے کا ذریعہ بھی ہے۔یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ آدمی کے روحانی وجود کے لیے بھی اسی طرح ایک لباس ضروری ہے، یہ لباس تقویٰ ہے۔ تقویٰ آدمی کا معنوی لباس ہے جو ایک طرف اس کو شیطان کے حملوں سے بچاتاہے اور دوسری طرف اس کے باطن کو سنوار کر اس کو جنت کی لطیف ونفیس دنیا میں بسانے کے قابل بناتا ہے۔ یہ تقویٰ کا لباس کیا ہے۔ یہ ہے— اللہ کا خوف، حق کا اعتراف، اپنے لیے اور دوسروں کے لیے ایک معیار رکھنا، اپنے کو بندہ سمجھنا، تواضع کو اپنا شعار بنانا، دنیا میں گم ہونے کے بجائے آخرت کی طرف متوجہ رہنا۔ آدمی جب ان چیزوں کو اپنائے تو وہ اپنے اندرونی وجود كو ملبوس کرتاہے اور اگر وہ اس کے خلاف رویہ اختیار کرے تو وہ اپنے اندرون کو ننگا کرليتا ہے۔ ظاہری جسم کو کپڑے کا بنا ہوا لباس ڈھانکتا ہے اور باطنی جسم کو تقویٰ کا لباس۔
آدمی کو گمراہ کرنے کے لیے شیطان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس کو بہکاتا ہے۔ وہ خدا کے ممنوعہ درخت کو ہر قسم کے خیر کا سرچشمہ بتاتا ہے۔ وہ ایسے معصوم راستوں سے اس کی طرف آتاہے کہ آدمی کا گمان بھی نہیں جاتا کہ ادھر سے اس کی طرف گمراہی آرہی ہوگی۔ شیطان آدمی کے تمام نازک مقامات کو جانتا ہے اور انھیںنازک مقامات سے وہ اس پر حملہ آور ہوتا ہے۔ کبھی ایک بے حقیقت نظریہ کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرتاہے۔ کبھی ایک جزئی حقیقت کو کلی حقیقت کے روپ میں اس کے سامنے لاتا ہے۔ کبھی معمولی چیزوں میں فوائد کا خزانہ بتا کر سارے لوگوں کو اس کی طرف دوڑا دیتاہے۔کبھی ایک بے فائدہ حرکت میں ترقی کا راز بتاتا ہے۔ کبھی ایک تخریبی عمل کو تعمیر کے روپ میں پیش کرتاہے۔
شیطان کن لوگوں کو بہکانے میں کامیاب ہوتاہے۔ وہ ان لوگوں پر کامیاب ہوتاہے جو امتحان کے مواقع پر ایمان کا ثبوت نہیں دے پاتے۔ جو خدا کی نشانیوں پر غور نہیں كرتے۔ جو دلائل کی زبان میں بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جنھیں اپنے ذاتی رجحانات کے مقابلہ میں حق کے تقاضے کو ترجیح دینا گوارا نہیں ہوتا۔ جن کو ایسی سچائی سچائی نظر نہیں آتی جس میں ان کے فائدوں اور مصلحتوں کی رعایت شامل نہ ہو۔ جنھیں وہ حق پسند نہیں آتا جو ان کی ذات کو نیچا کرکے خود ان کے مقابلہ میں اونچا ہونا چاہتاہو۔
دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ اس کی ظاہری چیزیں اس کی باطنی حقیقتوں کی علامت ہیں۔ ظاہری چیزوں پر غور کرکے آدمی چھپی ہوئی حقیقتوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی قسم کی ایک چیز لباس ہے۔
خدا نے انسان کو لباس دیا جو اس کی حفاظت کرتا ہے اور ا…
…اور آخرت کی تمام نعمتیں ان کے حصے میں لکھ دی جائیں گی۔ جو چیز ایک عام انسان کو بھی خوش نہیں کرسکتی اس کے متعلق یہ عقیدہ بنالیا جاتا ہے کہ وہ خداکو خوش کردے گی۔ اس قسم کی کوئی حرکت غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے جس کو خدا کبھی معاف نہیں کرسکتا۔
رسول کی دعوت جب اٹھتی ہے تو سننے والے محسوس کرتے ہیں کہ یہ ان کے رواجی مذہب سے ٹکرا رہی ہے۔ اب چونکہ وہ اس رواجی مذہب سے مانوس ہوتے ہیں اور اس سے ان کے بہت سے مفادات وابستہ ہوچکے ہوتے ہیں اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ اس سے لپٹے رہیں۔ اس وقت شیطان انھیں ایسے خوب صورت الفاظ سجھا دیتا ہے جس سے وہ پیغمبر کے دین کوچھوڑنے اور رواجی دین پر قائم رہنے کو درست ثابت کرسکیں۔
آدمی اگر رسول کی بات کو سیدھی طرح مان لے تو یہ خدا کو اپنا ساتھی بنانا ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ خوب صورت تاویلات کا سہارا لے تو یہ شیطان کو اپنا ساتھی بنانا ہوگا۔
پیغمبر آخر الزمان کو بھیج کر خدا نے یہ انتظام کیا تھا کہ لوگ مذہبی اختلافات کے جنگل کے درمیان خدا کے سچے راستے کو معلوم کرسکیں۔ یہی صورت حال آج بھی باقی ہے۔ ایک شخص خدا کے راستے کی تلاش میں ہو اور وہ مختلف مذاہب کا مطالعہ کرے تو وہ یقیناً ذہنی انتشار میں پڑ جائے گا۔ کیوں کہ مذاہب کی جو تعلیمات آج موجود ہیں ان میں باہم سخت اختلافات ہیں۔ چنانچہ حق کے متلاشی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس چیز کو صحیح سمجھے اور کس چیز کو غلط۔
ایسی حالت میں پیغمبر آخر الزماں کا لایا ہوا دین خدا کے بندوں کے لیے رحمت ہے کیونکہ دوسرے ادیان کے برعکس، آپ کا دین ایک محفوظ دین ہے۔ وہ تاریخی اعتبار سے پوری طرح مستند ہے۔ اس بنا پر پورا اعتماد کیا جاسکتا ہے کہ آپ نے جو دین چھوڑا وہی وہ حقیقی دین ہے جو خدا کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے۔
رسول کی دعوت جب اٹھتی ہے تو سننے والے محسوس کرتے ہیں کہ یہ ان کے رواجی مذہب سے ٹکرا رہی ہے۔ اب چونکہ وہ اس رواجی مذہب سے مانوس ہوتے ہیں اور اس سے ان کے بہت سے مفادات وابستہ ہوچکے ہوتے ہیں اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ اس سے لپٹے رہیں۔ اس وقت…
…کو اونچا درجہ دے کر اس کے آگے اپنے جذباتِ عقیدت کو نثار کرے۔اس جذبہ کا حقیقی مرکز خدا ہے۔ مگر شیطان مختلف طریقہ سے لوگوں کے ذہن کو پھیرتاہے تاکہ وہ انسان کو مشرک بنادے، تاکہ انسان غیر خدا کو وہ چیز دے دے جو اس کو صرف خدا کو دینا چاہیے۔
حضرت ابراہیم عراق میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد آزر بت پرست تھے۔ آپ کو نبوت ملی تو آپ نے اپنے والد کو نصیحت کی کہ بتوں کی عبادت چھوڑ دو اور خدا کی عبادت کرو۔ ورنہ تم خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔
شیطان کی عبادت کا مطلب خود شیطان کی عبادت نہیں ہے بلکہ شیطان کی بتائی ہوئی چیز کی عبادت ہے۔ انسان کے اندر فطری طورپر یہ جذبہ رکھاگیا ہے کہ وہ کسی کو اونچا درجہ دے کر اس کے آگے اپنے جذباتِ عقیدت کو نثار کرے۔اس جذبہ کا حقیقی مرکز خدا ہے۔ مگر شیطان مختلف طریقہ سے لوگوں کے ذہن کو پھیرتاہے تاکہ وہ انسان کو مشرک بنادے، تاکہ انسان غیر خدا کو وہ چیز دے دے جو اس کو صرف خدا کو دینا چاہیے۔
حضرت ابراہیم عراق میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد آزر بت پرست تھے۔ آپ کو نبوت ملی تو آپ نے اپنے والد کو نصیحت کی کہ بتوں کی عبادت چھوڑ دو اور خدا کی عبادت کرو۔ ورنہ تم خدا کی پکڑ میں آجاؤ گے۔
شیطان کی عبادت کا مطلب خود شیطان کی عبادت نہیں…
…گئی جس کی وجہ سے وہ اب تک بلا کسب روزی کے مالک تھے۔ اس کے بعد توبہ اور دعا کی وجہ سے آدم کی معافی ہوگئی۔ تاہم وہ بلا کسب کی روزی والی دنیا سے نکال کر کسب کی روزی والی دنیا میں پہنچا دئے گئے۔ اس طرح زمین پر موجودہ نسل انسانی کا آغاز ہوا۔
آدم اور ان کی بیوی کو جس جنت میں رکھا گیا تھا وہاں زندگی کی تمام ضرورتیں ان کو بفراغت حاصل تھیں۔ غذا، لباس، پانی، سایہ (مکان) یہ سب چیزیں وہاں خدا کی طرف سے بالکل مفت مہیا کی گئی تھیں۔ موجودہ دنیا میں یہ چیزیں آدمی کو پُرمشقت کسب کے ذریعہ ملتی ہیں، جنت میں یہ چیزیں ان کو کسی مشقت کے بغیر حاصل تھیں۔
ایک درخت کا پھل کھانا آدم کے لیے ممنوع تھا۔ شیطان نے اس درخت کے پھل میں ابدی فائدے بتائے۔ بالآخر آدم اس کی باتوں سے متأثر ہوگئے اور انھوں نے اس درخت کا پھل کھالیا۔ اس کے فوراً بعد انھوں نے محسوس کیا کہ وہ ننگے ہوگئے ہیں۔ یہ گویا ایک علامت تھی کہ خدا کی وہ ضمانت ان سے اٹھالی گئی جس کی وجہ سے وہ اب تک بلا کسب روزی کے مالک تھے۔ اس کے بعد توبہ اور دعا کی وجہ سے آدم کی معافی ہوگئی۔ تاہم وہ بلا کسب کی روزی والی دنیا سے نکال کر کسب کی روزی والی دنیا میں پہنچا دئے گئے۔ اس طرح زمین پر موجودہ نسل انسانی کا آغاز ہوا۔
حضرت موسیٰ کو جو آگ نظر آئی وہ عام قسم کی آگ نہ تھی بلکہ خدا کی تجلی تھی۔چنانچہ جب وہ وہاں پہنچے تو انھیں احساس دلایا گیا کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔ ان کو تواضع کے ساتھ پوری طرح متوجہ ہونے کے لیے جوتا اتارنے کا حکم ہوا۔ پھر آواز آئی کہ اس…
…کو صحیح طورپر پیغمبروں ہی کے ذریعہ معلوم ہوئیں۔ مثلاً عدلِ اجتماعی کا اصول اور معدنیات کا استعمال بھی پیغمبروں ہی کے ذریعہ انسانوں کے علم میںآیا۔ زندگی سے متعلق ہر ضروری چیز کا ابتدائی علم غالباً پیغمبروں ہی کے ذریعہ انسان کو دیاگیا ہے۔
یہاں ہواؤں کی تسخیر سے مراد بحری جہاز رانی ہے۔ قدیم زمانہ میں سمندری سفر میں اس وقت انقلاب آیا جب کہ انسان نے بادبانی جہاز بنانے کا طریقہ دریافت کیا۔ یہ باد بان گویا ہواؤں کو مسخر کرنے کا ذریعہ تھے اور اس زمانہ کے جہازوں کے لیے انجن کا کام کرتے تھے۔ بادبانی جہازوں کی ایجاد نے سمندروں کو زیادہ بڑے پیمانے پر نقل وحمل کے لیے قابل استعمال بنادیا۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ بحری جہاز رانی کی سائنس بھی غالباً انسان کو پیغمبروں کے ذریعہ سکھائی گئی۔
اس کے علاوہ جنوں میں سے بھی ایک گروہ کو اللہ نے حضرت سلیمان کے تابع کردیا تھا۔ وہ ان کے لیے ایسے بڑے بڑے رفاہی کام کرتے تھے جو عام انسان نہیں کرسکتے۔ جدید مشینی دور میں انسانی فائدے کے زیادہ بڑے کام مشینیں انجام دیتی ہیں۔مشینی دور سے پہلے اس قسم کے بڑے بڑے کاموں کو ممکن بنانے کے ليے خدا نے جنوں کو اپنے پیغمبر کی ماتحتی میں دے دیا تھا۔
یہاں ہواؤں کی تسخیر سے مراد بحری جہاز رانی ہے۔ قدیم زمانہ میں سمندری سفر میں اس وقت انقلاب آیا جب کہ انسان نے بادبانی جہاز بنانے کا طریقہ دریافت کیا۔ یہ باد بان گویا ہواؤں کو مسخر کرنے کا ذریعہ تھے اور اس زمانہ کے جہازوں کے لیے انجن کا…
…دو چند اس کو دیا (ایوب،
12:42
)۔ حدیث میں اسی کو تمثیل کے الفاظ میں اس طرح کہاگیاہے کہ خدا نے جب دوبارہ ایوب کے دن پھیرے تو ان پر سونے کی ٹڈیوں کی بارش کردی (أَمْطَرَ عَلَيْهِ جَرَادًا مِنْ ذَهَبٍ) المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 2533۔
پیغمبروں کے ذریعہ خدا ہر قسم کی اعلیٰ ترین مثال قائم کرتا ہے تاکہ وہ لوگوں کے ليے نمونہ ہوں۔ انھیں میں ایک مثال حضرت ایوب کی ہے۔ حضرت ایوب غالباً نویں صدی قبل مسیح کے اسرائیلی پیغمبر تھے۔ بائبل کے بیان کے مطابق ابتداء ً۔ وہ بہت دولت مند تھے۔ کھیتی، مویشی، مکانات، آل اولاد، ہر چیز کی اتنی کثرت تھی کہ کہاجانے لگا کہ اہلِ مشرق میں کوئی اتنا بڑا آدمی نہیں۔ اس کے باوجود حضرت ایوب بے حد شکر گزار اور وفادار بندے تھے۔ ان کی زندگی اس بات کا نمونہ بن گئی کہ عزت اور دولت پانے کے باوجود کس طرح ایک آدمی متواضع بندہ بنا رہتا ہے۔
مگر شیطان نے اس واقعہ کو لوگوں کے ذہنوں میں الٹ دیا۔ اس نے لوگوں کو سکھایا کہ ایوب کی یہ غیرمعمولی خدا پرستی اس لیے ہے کہ ان کو غیر معمولی نعمتیں حاصل ہیں۔ اگر یہ نعمتیں ان کے پاس نہ رہیں تو ان کی ساری شکر گزاری ختم ہوجائے گی۔
اس کے بعد خدا نے آپ کے ذریعہ سے دوسری مثال قائم کی۔ حضرت ایوب کے مویشی مرگئے۔ کھیتیاں برباد ہوگئیں۔ اولاد ختم ہوگئی۔ حتی کہ جسم بھی بیماری کی نذر ہوگیا۔ دوستوں اور رشتہ داروں نے ساتھ چھوڑ دیا۔ صرف ایک بیوی آپ کے ساتھ باقی رہ گئی۔ مگر حضرت ایوب خداکے فیصلے پر راضی رہے۔ انھوںنے کامل صبر کا مظاہرہ کیا۔ بائبل کے الفاظ میں
’’تب ایوب نے زمین پر گر کر سجدہ کیا۔ اور کہا ننگا میں اپنی ماں کے پیٹ سے نکلااور ننگا ہی واپس جاؤں گا۔ خداوند نے دیا اور خداوند نے لے لیا۔ خداوند کا نام مبارک ہو۔ ان سب باتوں میں ایوب نے نہ تو گناہ کیا اور نہ خدا پر بے جا کام کا عیب لگایا‘‘ (ایوب، 1:22 )۔
حضرت ایوب نے جب مصیبتوں میں اس طرح صبر وشکر کا مظاہرہ کیا تو نہ صرف آخرت میں ان کے لیے بہترین اجر لکھ دیاگیا بلکہ دنیا میں بھی ان کی حالت بدل دی گئی۔ اور خدا وند نے ایوب کو جتنا اس کے پاس پہلے تھا اس کا دو چند اس کو دیا (ایوب،
12:42
)۔ حدیث میں اسی کو تمثیل کے الفاظ میں اس طرح کہاگیاہے کہ خدا نے جب دوبارہ ایوب کے دن پھیرے تو ان پر سونے کی ٹڈیوں کی بارش کردی (أَمْطَرَ عَلَيْهِ جَرَادًا مِنْ ذَهَبٍ) المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 2533۔
حضرت اسماعیل حضرت ابراہیم کے صاحب زادے تھے۔ کچھ مفسرین نے حضرت ادریس سے وہ پیغمبر مراد لیا ہے جن کا ذکر بائبل میں حنوک (Enoch) کے نام سے آیا ہے۔ اسی طرح حضرت ذوالکفل سے مراد غالباً وہ نبی ہیں جو بائبل میں حزقی ایل کے نام سے مذکور ہوئے…
…نمایاں ہے اس ليے وہی اس قابل ہے کہ اس کو معبود سمجھا جائے اور اس کی پرستش کی جائے۔
ہدہد کے ذریعہ حضرت سلیمان کو قوم سبا کے بارے میں مفصل معلومات حاصل ہوئیں۔ یہ ہدہد غالباً آپ کی پرندوں کی فوج سے تعلق رکھتا تھا اور باقاعدہ تربیت یافتہ تھا۔
سبا (Sabaeans) قدیم زمانہ کی ایک دولت مند قوم تھی۔ اس کا زمانہ 1100 ق م سے لے کر
115
ق م تک ہے۔ اس کا مرکز مارب (یمن) تھا۔ اس علاقہ میں آج بھی اس کے شاندار کھنڈر پائے جاتے ہیں۔حضرت سلیمان کے زمانہ میں یہاں ایک عورت (بلقیس) کی حکومت تھی۔ یہ لوگ سورج کی پرستش کرتے تھے۔ شیطان نے انھیں سکھایا کہ معبود وہی ہوسکتاہے جو سب سے زیادہ نمایاں ہو۔ سورج چوں کہ تمام دکھائی دینے والی چیزوں میں سب سے زیادہ نمایاں ہے اس ليے وہی اس قابل ہے کہ اس کو معبود سمجھا جائے اور اس کی پرستش کی جائے۔
ہدہد کے ذریعہ حضرت سلیمان کو قوم سبا کے بارے میں مفصل معلومات حاصل ہوئیں۔ یہ ہدہد غالباً آپ کی پرندوں کی فوج سے تعلق رکھتا تھا اور باقاعدہ تربیت یافتہ تھا۔
حضرت سلیمان کی قوت وسلطنت ایک خدائی عطیہ تھی۔ اسی طرح آپ نے سبا کی حکومت کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ بھی ایک خدائی معاملہ تھا۔ شاہ عبدالقادر دہلوی آیت
37
کے ذیل میں لکھتے ہیں ’’اور کسی پیغمبر نے اس طرح کی بات نہیں فرمائی۔ سلیمان کو حق…
…کا مقام اسی شخص کےلیے ہے جو اس بات کا ثبوت دے کہ جو کچھ اس كو ديا گيا تھا اس میں وہ خدا کی یادوں کے ساتھ جیا اور خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا اپنے آپ کو پابند رکھا۔ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں خدا کے ابدی انعامات کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔
قرآن کے مخاطبین قیامت کے منکر نہ تھے۔ وہ صرف اِس کے منکر تھے کہ قیامت ان کےلیے رسوائی اور عذاب بن کر آئے گی۔ موجودہ دنیا میں وہ اپنے کو مادی اعتبار سے محفوظ حالت میں پاتے تھے۔ اس ليے ان کی سمجھ میں نہ آتا تھاکہ اگلی دنیا میں پہنچ کر وہ غیر محفوظ کیوں کر ہوجائیں گے۔
مگر یہ قیاس سراسر باطل ہے۔ موجودہ دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کی تخلیق اخلاقی اصولوں پر ہوئی ہے۔ اور جب کائنات کی تخلیق اخلاقی بنیاد پر ہوئی ہے تو اس کا آخری فیصلہ بھی لازماً اخلاقی بنیاد پر ہونا چاہيے نہ کہ کسی اور مزعومہ بنیاد پر۔
حیات اور کائنات کی یہ حقیقت تمام آسمانی کتابوں میں موجود ہے۔ قرآن کا مشن یہ ہے کہ اس حقیقت کو وہ اس کی خالص اور بے آمیز صورت میں ظاہر کردے۔ اب جو لوگ اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوں وہ زبردست جسارت کا ارتکاب کررہے ہیں۔ خدا کے یہاں وہ سخت ترین سزا کے مستحق قرار دئے جائیں گے۔
فرشتے انسان کو نظر نہیں آتے۔ یہ دراصل پیغمبر ہیں جنھوںنے انسان کو فرشتوں کے وجود کی خبر دی۔ یہ خبر انھیں اس ليے دی گئی تھی کہ وہ خدا کے عظمت وجلال کو محسوس کریں اور پوری طرح اس کی عبادت میں لگ جائیں۔ مگر شیطان نے عجیب وغریب طورپر لوگوں کو…
…سمجھ لیاگيا۔ جو فرشتہ ہوا پر مقرر تھا اس کو ہوا کا دیوتا سمجھ لیاگيا، وغیرہ۔
فرشتے آخرت میں ایسے عبادت گزاروں سے برأت ظاہر کریں گے۔ آخرت میں ان کو نہ خدا کی مدد حاصل ہوگی اور نہ فرشتوں کی۔ وہ ہمیشہ کےلیے بے یارومددگار ہوکر رہ جائیں گے۔
فرشتے انسان کو نظر نہیں آتے۔ یہ دراصل پیغمبر ہیں جنھوںنے انسان کو فرشتوں کے وجود کی خبر دی۔ یہ خبر انھیں اس ليے دی گئی تھی کہ وہ خدا کے عظمت وجلال کو محسوس کریں اور پوری طرح اس کی عبادت میں لگ جائیں۔ مگر شیطان نے عجیب وغریب طورپر لوگوں کو سکھایا کہ براہِ راست خدا کا تقرب حاصل کرنا مشکل ہے۔ اس ليے انھیں چاہيے کہ وہ فرشتوں کی عبادت کریں اور ان کے ذریعے سے خدا کا تقرب حاصل کریں۔ چنانچہ ساری دنیا میں فرشتوں کے بت بنا کر ان کی عبادت شروع کردی گئی۔ دیوی دیوتاؤں کا عقیدہ بھی دراصل فرشتوں ہی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ جو فرشتہ بارش پر مقرر تھا اس کو بارش کا دیوتا سمجھ لیاگيا۔ جو فرشتہ ہوا پر مقرر تھا اس کو ہوا کا دیوتا سمجھ لیاگيا، وغیرہ۔
فرشتے آخرت میں ایسے عبادت گزاروں سے برأت ظاہر کریں گے۔ آخرت میں ان کو نہ خدا کی مدد حاصل ہوگی اور نہ فرشتوں کی۔ وہ ہمیشہ کےلیے بے یارومددگار ہوکر رہ جائیں گے۔
قرآن اپنے مخاطبین کے سامنے کھلے کھلے دلائل دے رہا تھا۔ مخاطبین دلیل سے اس کا توڑ نہیں کرسکتے تھے۔ اس کے باوجود وہ عوام کو اس سے روکنے میںکامیاب ہوگئے۔ ان کی اس کامیابی کا واحد راز یہ تھا کہ انھوں نے لوگوں کو یہ کہہ کر اس کی طرف سے مشتبہ…
…کو ختم کرنے کے ہم معنی ہوتاہے۔ آدمی اپنی بڑائی کو کھونا نہیں چاہتا۔ اس ليے وہ حق کو ماننے کےلیے بھی تیار نہیں ہوتا۔ وہ بھول جاتاہے کہ حق کا انکار ضرور اس کے بس میںہے مگر حق کے انکار کے انجام سے اپنے آپ کو بچانا ہر گز اس کے بس میں نہیں۔
عرب کے لوگ جب سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے نبیوں کی نافرمانی کی تو وہ پرجوش طورپر کہتے کہ اگر ایسا ہو کہ ہمارے درمیان کوئی نبی آئے تو ہم اس کو پوری طرح مانیں اور اس کی اطاعت کریں۔ مگر جب ان کے درمیان ایک پیغمبر آیا تو وہ اس کے مخالف بن گئے۔
یہ نفسیات کسی نہ کسی شکل میں تمام لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے کو حق پسند کے روپ میں ظاہر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب بھی کوئی صحیح بات اس کے سامنے آئے گی تو وہ ضرور اس کو مان لے گا۔ مگر جب حق کھلے کھلے دلائل کے ساتھ آتاہے تو وہ اس کو نظر انداز کردیتا ہے۔ حتی کہ اس کا مخالف بن جاتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ انکار حق کسی خاص قوم کی خصوصیت نہیں۔ وہ انسانی نفسیات کی عام خصوصیت ہے۔ حق کو ماننا اکثر حالات میں اپنی بڑائی کو ختم کرنے کے ہم معنی ہوتاہے۔ آدمی اپنی بڑائی کو کھونا نہیں چاہتا۔ اس ليے وہ حق کو ماننے کےلیے بھی تیار نہیں ہوتا۔ وہ بھول جاتاہے کہ حق کا انکار ضرور اس کے بس میںہے مگر حق کے انکار کے انجام سے اپنے آپ کو بچانا ہر گز اس کے بس میں نہیں۔
انسان کو دنیا میں عمل کی آزادی دی گئی تھی۔مگر اس نے اس کا غلط استعمال کیا۔ یہ غلطیاں اتنی زیادہ ہیں کہ اگر انسان کو اس کی غلط کاریوں پر فوراً پکڑا جانے لگے تو زمین سے انسانی نسل کا خاتمہ ہوجائے۔ مگر انسان کی آزادی برائے امتحان ہے،اور اس…
…صرف وقتی مفادات کےلیے سرگرم رہا وہ آخرت کی ابدی دنیا میں اس طرح اٹھے گا کہ وہاں وہ بالکل خالی ہاتھ ہوگا۔ اس کے برعکس، جو لوگ اعلیٰ مقصد کےلیے جئے وہ وہاں شاندار انجام میں خوش ہورہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایات اس کے علاوہ ہوں گی۔
موجودہ دنیا میں آدمی کے عمل کے معنوی نتائج سامنے نہیں آتے۔آخرت وہ جگہ ہے جہاں ہر آدمی اپنے عمل کے معنوی نتائج کو پائے گا۔ جو شخص یہاں صرف وقتی مفادات کےلیے سرگرم رہا وہ آخرت کی ابدی دنیا میں اس طرح اٹھے گا کہ وہاں وہ بالکل خالی ہاتھ ہوگا۔ اس کے برعکس، جو لوگ اعلیٰ مقصد کےلیے جئے وہ وہاں شاندار انجام میں خوش ہورہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایات اس کے علاوہ ہوں گی۔
موجودہ دنیا میں آدمی کے عمل کے معنوی نتائج سامنے نہیں آتے۔آخرت وہ جگہ ہے جہاں ہر آدمی اپنے عمل کے معنوی نتائج کو پائے گا۔ جو شخص یہاں صرف وقتی مفادات کےلیے سرگرم رہا وہ آخرت کی ابدی دنیا میں اس طرح اٹھے گا کہ وہاں وہ بالکل خالی ہاتھ…
…کہ انسان کی کھال ایک قسم کا ریکارڈر ہے جس پر آدمی کی بولی ہوئی آوازیں مرتسم ہوجاتی ہیں اور ان کو دہرایا جاسکتاہے۔ یہ ایک نشانی ہے جو اس بات کو قابل فہم بنارہی ہے کہ کس طرح آخرت میں آدمی کے ہاتھ اور پاؤں آدمی کے احوال سنانے لگیں گے۔
موجودہ زندگی میںاچھے لوگ اور برے لوگ ایک ہی دنیا میں رہتے ہیں۔ اگلی زندگی میں دونوں کی دنیائیں الگ الگ کردی جائیں گی۔ شیطان کے بندے شیطان کے ساتھ اور رحمان کے بندے رحمان کے ساتھ۔
کوئی آدمی شیطان کے نام پر شیطان کی پرستش نہیں کرتا۔ مگر بالواسطہ طورپر غیر اللہ کا ہر پرستار دراصل شیطان کا پرستار ہے۔ کیونکہ وہ شیطان ہی کی تزئین کے تحت ایسا کررہا ہے۔ مثلاً فرشتوں اور قومی بزرگوں کی پرستش اس طرح شروع ہوئی کہ شیطان نے ان کے بارے میں جھوٹے عقیدے لوگوں کے ذہن میں ڈالے اور لوگ ان شیطانی ترغیبات سے متاثر ہو کر ان کی پرستش کرنے لگے۔
جدید تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انسان کی کھال ایک قسم کا ریکارڈر ہے جس پر آدمی کی بولی ہوئی آوازیں مرتسم ہوجاتی ہیں اور ان کو دہرایا جاسکتاہے۔ یہ ایک نشانی ہے جو اس بات کو قابل فہم بنارہی ہے کہ کس طرح آخرت میں آدمی کے ہاتھ اور پاؤں آدمی کے احوال سنانے لگیں گے۔
موجودہ زندگی میںاچھے لوگ اور برے لوگ ایک ہی دنیا میں رہتے ہیں۔ اگلی زندگی میں دونوں کی دنیائیں الگ الگ کردی جائیں گی۔ شیطان کے بندے شیطان کے ساتھ اور رحمان کے بندے رحمان کے ساتھ۔
کوئی آدمی شیطان کے نام پر شیطان کی پرستش نہیں کرتا۔ مگر…
…وہی لوگ فریب کھاتے ہیں جو اپنے اندر نفسیاتی کھوٹ ليے ہوئے ہوں۔ اور جو لوگ اپنی نفسیات کو اس کی فطری حالت پر باقی رکھیں اور اپنی عقل کو کھلے طورپر استعمال کریں وہ فوراً شیطانی فریب کو پہچان لیتے ہیں۔ وہ کبھی اس کی تزئین سے گمراہ نہیں ہوتے۔
موجودہ امتحان کی دنیا میں شیطان کو پورا موقع دیا گیا ہے کہ وہ انسان کو بہکائے۔مگر شیطان اسی وقت تک بہکا سکتاہے جب تک حقیقت غیب میں چھپی ہوئی ہو۔ قیامت جب غیب کا پردہ پھاڑے گی تو سب کچھ سامنے آجائے گا۔ اس کے بعد نہ کوئی بہکانے والا باقی رہے گا اور نہ کوئی بہکنے والا۔
مخلص کا مطلب ہے کھوٹ سے خالی ہونا۔ عبد مخلص وہ ہے جو نفسیاتی بیماریوں سے پاک ہو۔ شیطان کا معاملہ یہ ہے کہ اس کو کوئی عملی زور حاصل نہیں۔ وہ ہمیشہ تزئین کے ذریعہ انسانوں کو بہکاتا ہے۔ یعنی باطل کو حق کے روپ میں دکھانا۔ بے اصل باتوں کو خوبصورت الفاظ میں پیش کرنا۔ سیدھی بات میں شوشہ نکال کر لوگوں کو اس کی طرف سے مشتبہ کردینا۔ تاہم شیطان کی اس تزئین سے وہی لوگ فریب کھاتے ہیں جو اپنے اندر نفسیاتی کھوٹ ليے ہوئے ہوں۔ اور جو لوگ اپنی نفسیات کو اس کی فطری حالت پر باقی رکھیں اور اپنی عقل کو کھلے طورپر استعمال کریں وہ فوراً شیطانی فریب کو پہچان لیتے ہیں۔ وہ کبھی اس کی تزئین سے گمراہ نہیں ہوتے۔
موجودہ امتحان کی دنیا میں شیطان کو پورا موقع دیا گیا ہے کہ وہ انسان کو بہکائے۔مگر شیطان اسی وقت تک بہکا سکتاہے جب تک حقیقت غیب میں چھپی ہوئی ہو۔ قیامت جب غیب کا پردہ پھاڑے گی تو سب کچھ سامنے آجائے گا۔ اس کے بعد نہ کوئی بہکانے والا باقی…
…كو صرف گمراهي ميں ڈالنے كا سبب بن جائيں گي۔
شيطان كي هميشه يه كوشش رهتي هے كه وه خدائي نشانيوں سے آدمی كو سبق نه لينے دے۔ يهي وه مقام هے جهاں يه فيصله هونے والا هے كه شيطان كو آدمي كے اوپر كاميابي حاصل هوئي يا آدمي كو شيطان كے اوپر۔
موجوده دنيا ميں يه ممكن هے كه آدمي هر بات كا الٹا مفهوم نكال سكے، مثلاً رسول الله صلي الله عليه وسلم نے ايك بار فرمايا لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ (الله كے سواجس كي پرستش كي جائے اس ميں كوئي خير نهيں) اس کو سن كر مخالفين نے كها كه عيسائي لوگ مسيح كو پوجتے هيں پھر کیا مسیح میں کوئی خیر نہیں(مسند احمد، حدیث نمبر 2918)۔ ظاهر هے كه يه محض ايك شوشه تھا۔ كيوں كه رسول الله صلي الله عليه وسلم نے جو بات فرمائي تھي وه عابد كي نسبت سے تھي نه كه معبود كي نسبت سے، اور اگر اس كو معبود كي نسبت سے مانا جائے تب بھي واضح طورپر اس سے مراد وه غير معبود تھے جو اپنے معبود بنائے جانے پر راضي هوں۔ آدمي اگر بات كو اس كے صحيح رخ سے نه لے تو هر بات كو وه الٹے معني پهنا سكتا هے، خواه وه كتني هي درست بات كيوں نه هو۔
حضرت عيسي عليه السلام كي شخصيت ايك اعتبار سے فرشتوں كے مشابه تھي۔ اس پر آنجناب كو بهت سے لوگوں نے معبود بناليا۔مگر حضرت مسيح كي ملكوتي تخليق خدا كي قدرت كي مثال تھي نه كه خود حضرت مسيح كي ذاتي قدرت كي مثال۔ حقيقت يه هے كه الله كے لیے اس قسم كي تخليق كچھ بھي مشكل نهیں۔ وه چاهے تو زمين كي تمام آبادي كو فرشتوں كي آبادي بنا دے۔ پھر بھي يه فرشتے فرشتے هي رهيں گے، وه معبود نهيں هوجائیںگے۔
حضرت مسيح كو يه معجزه دياگيا كه وه مُرده كو زنده كرديتے تھے۔ مٹي كے پتلے ميں پھونك مار كر اسے جاندار بنا ديتے تھے۔ يه دراصل ايك خدائي نشاني تھي جو زندگي بعد موت كے امكان كو بتانے كے لیے ظاهر كي گئي تھي۔ مگر لوگوں نے اس سے اصل سبق تو نهيں ليا۔ البته حضرت مسيح كو فوق البشر سمجھ كر انھيں پوجنے لگے۔ اسي طرح خدائي نشانياں هميشه مختلف شكلوں ميں ظاهر هوتي هيں۔ ان كو اگر نشاني سمجھا جائے تو ان سے زبردست نصيحت ملتي هے۔ اور اگر انھيں نشاني كے بجائے كچھ اور سمجھ ليا جائے تو وه آدمي كو صرف گمراهي ميں ڈالنے كا سبب بن جائيں گي۔
شيطان كي هميشه يه كوشش رهتي هے كه وه خدائي نشانيوں سے آدمی كو سبق نه لينے دے۔ يهي وه مقام هے جهاں يه فيصله هونے والا هے كه شيطان كو آدمي كے اوپر كاميابي حاصل هوئي يا آدمي كو شيطان كے اوپر۔
موجوده دنيا ميں يه ممكن هے كه آدمي هر بات كا الٹا مفهوم نكال سكے، مثلاً رسول الله صلي الله عليه وسلم نے ايك بار فرمايا لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ (الله كے سواجس كي پرستش كي جائے اس ميں كوئي خير نهيں) اس کو سن…
…كو صرف گمراهي ميں ڈالنے كا سبب بن جائيں گي۔
شيطان كي هميشه يه كوشش رهتي هے كه وه خدائي نشانيوں سے آدمی كو سبق نه لينے دے۔ يهي وه مقام هے جهاں يه فيصله هونے والا هے كه شيطان كو آدمي كے اوپر كاميابي حاصل هوئي يا آدمي كو شيطان كے اوپر۔
موجوده دنيا ميں يه ممكن هے كه آدمي هر بات كا الٹا مفهوم نكال سكے، مثلاً رسول الله صلي الله عليه وسلم نے ايك بار فرمايا لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ (الله كے سواجس كي پرستش كي جائے اس ميں كوئي خير نهيں) اس کو سن كر مخالفين نے كها كه عيسائي لوگ مسيح كو پوجتے هيں پھر کیا مسیح میں کوئی خیر نہیں(مسند احمد، حدیث نمبر 2918)۔ ظاهر هے كه يه محض ايك شوشه تھا۔ كيوں كه رسول الله صلي الله عليه وسلم نے جو بات فرمائي تھي وه عابد كي نسبت سے تھي نه كه معبود كي نسبت سے، اور اگر اس كو معبود كي نسبت سے مانا جائے تب بھي واضح طورپر اس سے مراد وه غير معبود تھے جو اپنے معبود بنائے جانے پر راضي هوں۔ آدمي اگر بات كو اس كے صحيح رخ سے نه لے تو هر بات كو وه الٹے معني پهنا سكتا هے، خواه وه كتني هي درست بات كيوں نه هو۔
حضرت عيسي عليه السلام كي شخصيت ايك اعتبار سے فرشتوں كے مشابه تھي۔ اس پر آنجناب كو بهت سے لوگوں نے معبود بناليا۔مگر حضرت مسيح كي ملكوتي تخليق خدا كي قدرت كي مثال تھي نه كه خود حضرت مسيح كي ذاتي قدرت كي مثال۔ حقيقت يه هے كه الله كے لیے اس قسم كي تخليق كچھ بھي مشكل نهیں۔ وه چاهے تو زمين كي تمام آبادي كو فرشتوں كي آبادي بنا دے۔ پھر بھي يه فرشتے فرشتے هي رهيں گے، وه معبود نهيں هوجائیںگے۔
حضرت مسيح كو يه معجزه دياگيا كه وه مُرده كو زنده كرديتے تھے۔ مٹي كے پتلے ميں پھونك مار كر اسے جاندار بنا ديتے تھے۔ يه دراصل ايك خدائي نشاني تھي جو زندگي بعد موت كے امكان كو بتانے كے لیے ظاهر كي گئي تھي۔ مگر لوگوں نے اس سے اصل سبق تو نهيں ليا۔ البته حضرت مسيح كو فوق البشر سمجھ كر انھيں پوجنے لگے۔ اسي طرح خدائي نشانياں هميشه مختلف شكلوں ميں ظاهر هوتي هيں۔ ان كو اگر نشاني سمجھا جائے تو ان سے زبردست نصيحت ملتي هے۔ اور اگر انھيں نشاني كے بجائے كچھ اور سمجھ ليا جائے تو وه آدمي كو صرف گمراهي ميں ڈالنے كا سبب بن جائيں گي۔
شيطان كي هميشه يه كوشش رهتي هے كه وه خدائي نشانيوں سے آدمی كو سبق نه لينے دے۔ يهي وه مقام هے جهاں يه فيصله هونے والا هے كه شيطان كو آدمي كے اوپر كاميابي حاصل هوئي يا آدمي كو شيطان كے اوپر۔
موجوده دنيا ميں يه ممكن هے كه آدمي هر بات كا الٹا مفهوم نكال سكے، مثلاً رسول الله صلي الله عليه وسلم نے ايك بار فرمايا لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ (الله كے سواجس كي پرستش كي جائے اس ميں كوئي خير نهيں) اس کو سن…
…مطلق پروا نہ کرتے ہوئے ان کے دشمنوں کے مددگار بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں ملعون ہیں۔ ملعون ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اس سے چھن جائے۔ وہ آنکھ رکھتے ہوئے بھی نہ دیکھے اور کان رکھتے ہوئے بھی کچھ نہ سنے۔
منافق کی پہچان یہ ہے کہ وہ الفاظ میں سب سے آگے اور عمل میں سب سے پیچھے ہو۔ جہاد سے پہلے وہ جہاد کی باتیں کرے اور جب جہاد واقعۃً پیش آجائے تو وہ اس سے بھاگ کھڑا ہو۔
سچے اہل ایمان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہروقت سننے اور ماننے کے لیے تیار رہے اور جب کسی سخت اقدام کا فیصلہ ہوجائے تو اپنے عمل سے ثابت کردے کہ اس نے خدا کو گواہ بنا کر جو عہد کیا تھا اس عہد میں وہ پورا اترا۔
منافق لوگ جہاد سے بچنے کے لیے بظاہر امن پسندی کی باتیں کرتے ہیں۔ مگر عملاً صورت حال یہ ہے کہ جہاں انہیں موقع ملتا ہے وہ فوراً شر پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ حتی کہ جن مسلمانوں سے ان کی قرابتیں ہیں ان کی مطلق پروا نہ کرتے ہوئے ان کے دشمنوں کے مددگار بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں ملعون ہیں۔ ملعون ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اس سے چھن جائے۔ وہ آنکھ رکھتے ہوئے بھی نہ دیکھے اور کان رکھتے ہوئے بھی کچھ نہ سنے۔
قرآن نصیحت کی کتاب ہے مگر کسی چیز سے نصیحت لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی نصیحت کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ اگر کوئی غلط جذبہ آدمی کے اندر داخل ہو کر اس کو نصیحت کے بارے میں غیر سنجیدہ بنا دے تو وہ کبھی نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا، خواہ…
…ان کی بے شعوری انہیں ان کی دنیا کے بارے میں بھی بے شعور بنا دیتی ہے۔
ایسے لوگ جن کو صرف منفی مقصد نے متحد کیا ہو وہ زیادہ دیر تک اپنا اتحاد باقی نہیں رکھ پاتے کیونکہ دیرپا اتحاد کے لیے مثبت بنیاد درکار ہے اور وہ ان کے پاس موجود ہی نہیں۔
خدا کی طاقت بظاہر دکھائی نہیں دیتی۔ مگر انسانوں کی طاقت کھلی آنکھ سے نظر آتی ہے۔ اس بنا پر ظاہر پرست لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ سے تو بے خوف رہتے ہیں مگر انسانوں میں اگر کوئی زور آور دکھائی دے تو وہ فوراً اس سے ڈرنے کی ضرورت محسوس کرنے لگتے ہیں۔ خدا کے بارے میں ان کی بے شعوری انہیں ان کی دنیا کے بارے میں بھی بے شعور بنا دیتی ہے۔
ایسے لوگ جن کو صرف منفی مقصد نے متحد کیا ہو وہ زیادہ دیر تک اپنا اتحاد باقی نہیں رکھ پاتے کیونکہ دیرپا اتحاد کے لیے مثبت بنیاد درکار ہے اور وہ ان کے پاس موجود ہی نہیں۔
مدینہ کے منافقین بنو نضیر کو مسلمانوں کے خلاف ابھار رہے تھے۔ انہوں نے اس واقعہ سے سبق نہیں لیا کہ جلد ہی پہلے قریش اور قبیلہ بنو قینقاع ان کے خلاف اٹھے۔ مگر ان کو زبردست شکست ہوئی۔ جو لوگ شیطان کو اپنا مشیر بنائیں ان کا حال ہمیشہ یہی ہوتا…
شکر ایک اعلیٰ عبادت
شکر کیا ہے۔ شکر اُس داخلی کیفیت کا نام ہے جو کسی نعمت کے گہرے احساس سے آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ انگریزی میں اس کو گریٹ فُل نیس (gratefulness) کہاجاتا ہے۔ عربی زبان کی مشہور ڈکشنری لسان العرب (جلد4، صفحہ 423)کے مطابق ، احسان کی معرفت اور اس کے تذکرے کا نام شکرہے (الشُّكْرُعِرْفانُ الإِحسان ونَشْرُه)۔ راغب الاصفہانی کی کتاب المفردات فی غریب القرآن (صفحہ 265) میں بتایا گیا ہے کہ شکر کا مطلب ہے— نعمت کے بارے میں سوچنا اور اس کا اظہار کرنا (الشُّكْرُتصوّر النّعمة وإظهارها)۔ مفسر القرطبی نے لکھا ہےوَالشُّكْرُ مَعْرِفَةُ الْإِحْسَانِ وَالتَّحَدُّثُ بِهِ (تفسیر القرطبی، جلد2، صفحہ172)۔شکر نام ہےاحسان شناسي اور اس کے اعتراف کا ۔
نعمت کا اعتراف(acknowledgement)ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ یہ اعتراف جب خدا کی نسبت سے ہو تو اِسی کا نام شکر ہے۔ انسان کے اوپر خدا کی نعمتیں سب سے زیادہ ہیں، اِس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ خداوند ِ ذوالجلال کا شکر ادا کرے۔ حدیث میں…
شکر کی اہمیت
طاغوت کا لفظی مطلب ہے، حد سے تجاوز کرنے والا۔ قرآن میں یہ لفظ شیطان کے لیے آیا ہے۔ کیوں کہ اس نے اللہ رب العالمین سے بغاوت کی۔شیطان کی سب سے بڑی کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو شکایتی ذہن میں مبتلا کرکے اللہ سے دور کردے۔ شیطان نے آدم کی تخلیق کے وقت اللہ رب العالمین کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ (7:17)۔ یعنی، تو اکثر انسانوں کو اعتراف کرنے والا نہ پائے گا۔
دین کا خلاصہ اللہ سے تعلق ہے۔ اللہ سے تعلق اگر انسان کو دریافت کے درجے میں حاصل ہوا ہو تو انسان کے اندر اپنے آپ میں یہ واقعہ ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے پورے دل وجان کے ساتھ اِن انعامات کے منعم (giver) کا اعتراف کرے۔اس کے برعکس، جہاں اللہ کا…
نعمت کا اعتراف
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو احسن تقویم کی صورت میں پیدا کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ فرمایا کہ انسان کو اسفل سافلین کی حالت میں ڈال دیا گیا ہے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیںلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ ( 95:4-5)۔یعنی، ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ پھر اس کو سب سے ادنیٰ درجے میں ڈال دیا۔ یہ بات لفظی معنی میں نہیں ہوسکتی۔ کیوں کہ خود قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا انسان کے لیے جنت سے مشابہ دنیا ہے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیںكُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ (2:25)۔ یعنی، جب بھی ان کو ان باغوں میں سے کوئی پھل کھانے کو ملے گا تو وہ کہیں گے یہ وہی ہے جو اس سے پہلے ہم کو دیا گیا تھا۔ اور ملے گا ان کو ایک دوسرے سے ملتا جلتا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی زندگی مادی معنوں میں اسفل نہیں ہے۔ بلکہ وہ نفسیاتی معنی میں احساس محرومی کی زندگی ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ انسان کو اعلیٰ ذوق (high taste) کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے ایسا ہے کہ موجودہ دنیا کی مادی…
…دو۔ میں مسجد کی تعمیر کے لیے سارا پیسہ لاؤں گا، اُس میں پچاس فی صد میرا ہوگا اور پچاس فی صد تمھارا ہوگا۔ اِس طرح کا معاملہ کرکے وہ نکلتے۔ وہ جگہ جگہ مسلمانوں کا اجتماع کرتے۔ وہاں وہ پُر جوش تقریریں کرکے لوگوں کو مسجدکی تعمیر پر ابھارتے۔
حدیث کی مختلف کتابوں میں تعمیرمسجد کے بارے میں ایک روایت آئی ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں من بنی للّٰہ مسجداً، بنی اللہ لہ بیتاً فی الجنۃ۔ (بحوالہ مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث، 697 )، یعنی جس شخص نے اللہ کے لیے ایک مسجد تعمیر کی، اللہ اُس کے لیے جنت میںایک گھر تعمیر کرے گا۔ وہ اِس حدیث کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کرتے اور پھر جذباتی انداز میں مجمع کو خطاب کرتے ہوئے کہتے— کود جھما جھم جنت میں۔ اِس کے بعد لوگ دل کھول کر مسجد کی تعمیر کے لیے چندہ دیتے۔
موجودہ زمانے میں خود کش بم باری کے واقعات کثرت سے ہورہے ہیں۔ اِن خبروں کو سُن کر میںنے کہا کہ موجودہ مسلمانوں نے اِس معاملے میں نیا طریقہ نکالا ہے۔ پہلے اگر فارمولا یہ تھا کہ— کود جھما جھم جنت میں، تو اب لوگوں کا فارمولا یہ ہوگیا ہے کہ —…
…نعمت کے بارے میں سوچنا اور اس کا اظہار کرنا (الشُّكْرُتصوّر النّعمة وإظهارها)۔ مفسر القرطبی نے لکھا ہے — وَالشُّكْرُ مَعْرِفَةُ الْإِحْسَانِ وَالتَّحَدُّثُ بِهِ (تفسیر القرطبی، جلد2، صفحہ172)۔شکر نام ہےاحسان شناسي کا اور اس کے اعتراف کا ۔
نعمت کا اعتراف (acknowledgement)ایک اعليٰانسانی صفت ہے۔ یہ اعتراف جب خدا کی نسبت سے ہو تو اِسی کا نام شکر ہے۔ انسان کے اوپر خدا کی نعمتیں سب سے زیادہ ہیں، اِس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ خداوند ِ ذوالجلال کا شکر ادا کرے۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ نے اپنی ایک دعا میں فرمایارَبِّ اجْعَلْنِي لَك شَكَّارًا (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3831؛ سنن الترمذی،حدیث نمبر3551 ؛ مسند احمد،حدیث نمبر1997) ۔یعنی اے میرے رب! تو مجھ کو اپنا بہت زیادہ شکر کرنے والا بنا۔
قرآن میں بار بار یہ کہا گیا ہے کہ اے لوگو! خدا کے شکر گزار بندے بنو۔ مثلاً میٹھے پانی کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایافَلَوۡلَا تَشۡكُرُونَ(56:70)۔ یعنی، تم شکر کیوں نہیں کرتے۔ انسان سے جو چیز سب سے زیادہ مطلوب ہے، وہ یہی شکر…
THE story of Adam and Eve is common to the Bible and the Quran. According to the Quranic account, God created Adam and his wife, Eve; settled them in Paradise and gave both of them basic directions:
God said. 'O Adam! Live with your wife in Paradise and eat freely from it anywhere you may wish. Yet do not approach this tree lest you become wrongdoers.' THE QURAN 2:35
The story goes on, as we all know, and according to the Quranic account: But Satan caused them both to slip through this and thus brought about the loss of their former state. God said, ‘Go down from here as enemies to each other; and on…
In the lectures
Lecture mentions are drawn from transcripts and open the video at that moment — topical links, not verified citations. Showing the first 60 of 61 distinct lectures.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Discussed in this lecture — opens the video.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
شیطان کی سنت
قرآن کے مطابق، تخلیقِ آدم کے وقت ابلیس کو نعوذ باللہ خدا سے اختلاف ہوگیا- ابلیس نے اپنے اختلاف کو صرف اختلاف کے درجے میں نہیں رکھا، بلکہ اس کو عداوت تک پہنچا دیا- اُس نے یہ منفی منصوبہ بنایا کہ وہ تمام بندوں کو خدا کے خلاف کردے- اس کا یہ…
نئي دهلي كے انگريزي اخبار ٹائمس آف انڈيا نے اپنے شماره 18 فروري 1989 ميں ’’شيطاني آيات‘‘ كے مصنف سلمان رشدي كے معامله پر اڈيٹوريل لكھا هے جس كا عنوان هے
Satanic fall-out
اس اڈيٹوريل ميں ايران كے آيت الله خميني كے اس ’’فتوى‘‘ پر تنقيد كي گئي هے كه سلمان رشدي كو مسلمان قتل كرديں۔ اخبار كے اڈيٹر دليپ پيڈگاؤنكر نے لكھا هے كه ايك فارن نيشنل جو فارن لينڈ ميں رهتا هو، اس كے خلاف اس قسم كي كارروائي دهشت گردي…
نئی دہلی کے انگریزی اخبار" ٹائمس آف انڈیا نے اپنے شمارہ 18 افروری 1989 " میں "شیطانی آیات" کے مصنف سلمان رشدی کے معاملہ پر اڈیٹوریل لکھا ہے جس کا عنوان ہے :
Satanic fall-out
اس ایڈیٹوریل میں ایران کے آیات اللہ خمینی کے اس "فتوی" پرتنقید کی گئی ہے کہ سلمان رشدی کو مسلمان قتل کر دیں ۔ اخبار کے اڈیٹر دلیپ پیڈ گاؤنکر نے لکھا ہے کہ ایک فارن نیشنل جو فارن لینڈ میں رہتا ہو ، اس کے خلاف اس قسم کی کارروائی دہشت گردی…
SATAN’S GREATEST WEAPON
According to Jabir ibn ‘Abdullah, the Prophet once observed: ‘The throne of Iblis (Satan), the chief of the devils, is situated above the seas, whence he sends his bands to lead human beings astray. To Iblis, the worthiest of the devils is…
انسان اور شیطان
انسان کے اندر بیک وقت دو قسم کے جذبات ہیں— دوستی کا جذبہ، اور دشمنی کا جذبہ۔ یہ دونوں جذبات فطری ہیں اور وہ ہر عورت اور مرد کے اندر پیدائشی طورپر پائے جاتے ہیں، کوئی بھی شخص اِن جذبات سے خالی نہیں۔
شیطان کا چیلنج
انسان کی تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم دور میں انسانوں کی بڑی تعداد کو شیطان نے یہ سکھایا کہ مخلوق میں بھی خدائی (divinity) ہوتی ہے۔ چنانچہ بیشتر انسان مخلوق کے پرستار بن گئے۔ سائنس دانوں اس روایتی کنڈیشننگ کا توڑا،انھوں نے پچھلے تقریباً چار سو…
شیطان کا چیلنج
انسان کی تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم دور میں انسانوں کی بڑی تعداد کو شیطان نے یہ سکھایا کہ مخلوق میں بھی خدائی (divinity) ہوتی ہے۔ چنانچہ بیشتر انسان مخلوق کے پرستار بن گئے۔ سائنس دانوں اس روایتی کنڈیشننگ کا توڑا،انھوں نے پچھلے تقریباً چار سو…
شیطان کا پردہ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک طویل حدیث مروی ہے۔ اُس کا ایک حصہ یہ ہے: ہذہ الشیاطین یحومون علی أعیُنِ بنی آدم أن لا یتفکروا فی ملکوت السماوات والأرض۔ ولو لا ذلک لرأوا العجائب(مسند احمد، جلد 2 ، صفحہ 353) یعنی یہ شیاطین، بنی…
شیطان کا پردہ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک طویل حدیث مروی ہے۔ اُس کا ایک حصہ یہ ہے: ہذہ الشیاطین یحومون علی أعیُنِ بنی آدم أن لا یتفکروا فی ملکوت السماوات والأرض۔ ولو لا ذلک لرأوا العجائب(مسند احمد، جلد 2 ، صفحہ 353) یعنی یہ شیاطین، بنی…
…شہرت حاصل کرلیں، جو خدا کے خوف اور آخرت سے غافل ہونے کے باوجود عوامی تقریریں کرکے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیں۔ یہ سب صنعتی دور میں پیدا ہونے والے نئے مواقع کی بناپر پیش آئے گا۔ افراد ہمیشہ حالات سے پیدا ہوتے ہیں، نہ کہ حالات کے بغیر۔
شیطان کا پردہ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک طویل حدیث مروی ہے۔ اُس کا ایک حصہ یہ ہے ہذہ الشیاطین یحومون علی أعیُنِ بنی آدم أن لا یتفکروا فی ملکوت السماوات والأرض۔ ولو لا ذلک لرأوا العجائب(مسند احمد، جلد 2 ، صفحہ 353) یعنی یہ شیاطین، بنی…