Al-Risala December 2015

شیطان کا طریقہ

Al-Risala December 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (28 chapters)
  1. الرسالہ - December 2015
  2. ذٰلک الکتاب
  3. قرآن اور انسان
  4. امن کی تلاش
  5. جنت والے
  6. مومن کی صفات
  7. قتل اور زندگی
  8. عقل سے محرومی کا دور
  9. دوہرا انعام
  10. دعوت کے دو پہلو
  11. امت مسلمہ کا فائنل رول
  12. کائنات میں خدا کی گواہی
  13. آزاد کشمیر یا برباد کشمیر
  14. برکت کا مطلب
  15. جنگ، اسلام میں
  16. بڑا اجر
  17. غلطی کا اعتراف
  18. پیغمبر کی نصیحت
  19. اختلاط کی اہمیت
  20. رحمتِ الٰہی سے محرومی
  21. فساد فی الارض
  22. عبادت، دعوت
  23. شیطان کا طریقہ
  24. زد میں آنے سے بچیے
  25. اعتراف، بے اعترافی
  26. زحمت میں رحمت
  27. تیار ذہن
  28. سوال و جواب

شیطان کا طریقہ

قرآن میں بار بار بتایا گیا ہے کہ انسان کا اصل دشمن شیطان ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ شیطان کے معاملے میں ہوشیار رہے۔ جس نے اپنے آپ کو شیطان کے فریب سے بچایا، وہی اللہ کی نظر میں کامیاب انسان ہے۔ شیطان کے بہکانے کا طریقہ کیا ہے۔ یہ طریقہ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: وَشَارِکْہُمْ فِی الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدْہُمْ ۔(17:64) اور مال اور اولاد میں ان کا شریک بن جا، اور ان سے وعدہ کر۔original + quote

قرآن کی اس آیت میں مال اور اولاد کا لفظ علامتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے تمام معاملات میں اس کے ساتھ شامل ہوجا۔ وعدہ کا لفظ یہاں اَمانی کے مفہوم میں ہے۔ یعنی لوگوں کو خوش فہمی (wishful thinking) میں مبتلا کرنا۔ یہ وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے شیطان لوگوں کو راستے سے بھٹکا دیتا ہے۔

شیطان کے بہکانے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ ایک خارجی شخص کی حیثیت سے لوگوں کے پاس آئے، لوگ اس سے باخبر ہوں کہ یہ شیطان ہے، پھر وہ لوگوں کو خارجی مشورہ کے ذریعے گمراہی میں ڈال دے۔ شیطان آدمی کے پاس ایک خارجی مشیر کی حیثیت سے نہیں آتا۔ بلکہ وہ انسان کے ذہن میں داخل ہوکراس کی سوچ کو متاثر کرکے اس کو ایسا بنادیتا ہے کہ وہ جو کچھ کریں ، اس طرح کریں جیسے کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، وہ خود اپنی سوچ کے تحت کررہے ہیں۔

مثلاً ایک شخص کو دوسرے شخص سے ایک ذاتی شکایت پیدا ہوئی ۔ اس وقت شیطان اس کی سوچ میں داخل ہوکر اس کو اس طرح متاثر کرتا ہے کہ وہ یہ سمجھے کہ اس کی سوچ ایک درست (genuine) سوچ ہے۔ یہی شیطانی تزئین ہے۔ اس وقت جو آدمی اس راز کو جان لے کہ میں شیطان کی مداخلت سے ایسا سوچنے لگا ہوں، اس نے اپنے آپ کو ہلاکت سے بچایا، اور جو آدمی اس طرح نہ سوچے، وہی وہ شخص ہے جو ہلاک ہوا۔