Qur'an 96:1
Qur'an 96:1
ٱقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلَّذِي خَلَقَ
Recite in the name of your Lord who created
Explained in 5 book passages
and 34 lecture moments.
Cite / permalink: quran/96:1
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
The first divine revelation received by the Prophet of Islam was the chapter of the Quran entitled Al-‘Alaq (The Clot). It begins with these words:
Read! In the name of your Lord, who created… who taught by the pen, taught man what he did not know. (96:1-5)
This was the first message given to the Prophet by God. It tells us that according to the Quran, learning has the greatest importance in human life. In fact, learning is basic to all our hopes and aspirations: the greater the learning, the…
PROGRESS OF WOMEN IN
ISLAMIC SOCIETY
Islam also pays utmost importance to education. It is evident from the first revealed verse of the Quran, which says, “Read! In the name of your Lord who created man from a clot. Read! Your Lord is the most Bountiful One who taught by the pen, taught man what he did not know.” (96:1-5)
According to the Quran, this shows the importance of reading and learning to read. The first command of the Quran was not to pray or fast but to read and to learn to read. We can see the examples of the Prophet’s wives, Khadijah and Aisha,…
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 570 ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ 610 ء میں آپ پر خدا کی طرف سے پہلی وحی اتری۔ یہ ابتدائی کلام جو خدا کی طرف سے آپ کو ملاوہ یہ تھا:
ٱقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّکَ ٱلَّذِی خَلَقَ ۔ خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِنۡ عَلَقٍ ۔ ٱقۡرَأۡ وَرَبُّکَ ٱلۡأَکۡرَمُ ۔ ٱلَّذِی عَلَّمَ بِٱلۡقَلَمِ ۔ عَلَّمَ ٱلۡإِنسَٰنَ مَا لَمۡ یَعۡلَمۡ (96:1-5)۔ یعنی، ’’ پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ پیداکیا انسان کو علق سے۔ پڑھ اور تیرارب بڑا کریم ہے جس نے علم سکھایا قلم سے ۔ا نسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ جانتا نہ تھا‘‘۔
قرآن میں اتراہوا یہ پہلا کلام الٰہی بتاتا ہے کہ کسی حقیقی عمل کا آغاز کیاہے۔ یہ آغاز علم ہے۔ یعنی انسان کو باشعور بنانا۔اس کے اندر ذہنی تبدیلی لاکر فکری انقلاب پیدا کرنا۔ یہی انسانوں کے درمیان کسی حقیقی تحریک کاآغاز ہے۔ اس دنیا میں وہی…
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 570 ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ 610 ء میں آپ پر خدا کی طرف سے پہلی وحی اتری۔ یہ ابتدائی کلام جو خدا کی طرف سے آپ کو ملاوہ یہ تھا:
ٱقۡرَأۡ بِٱسۡمِ رَبِّکَ ٱلَّذِی خَلَقَ ۔ خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ مِنۡ عَلَقٍ ۔ ٱقۡرَأۡ وَرَبُّکَ ٱلۡأَکۡرَمُ ۔ ٱلَّذِی عَلَّمَ بِٱلۡقَلَمِ ۔ عَلَّمَ ٱلۡإِنسَٰنَ مَا لَمۡ یَعۡلَمۡ (96:1-5)۔ یعنی، ’’ پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ پیداکیا انسان کو علق سے۔ پڑھ اور تیرارب بڑا کریم ہے جس نے علم سکھایا قلم سے ۔ا نسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ جانتا نہ تھا‘‘۔
قرآن میں اتراہوا یہ پہلا کلام الٰہی بتاتا ہے کہ کسی حقیقی عمل کا آغاز کیاہے۔ یہ آغاز علم ہے۔ یعنی انسان کو باشعور بنانا۔اس کے اندر ذہنی تبدیلی لاکر فکری انقلاب پیدا کرنا۔ یہی انسانوں کے درمیان کسی حقیقی تحریک کاآغاز ہے۔ اس دنیا میں وہی…
…مگر آج عرب دنیااور غیر عرب دنیا دونوں کا حال یہ ہے کہ وہ اِس ’’باطل نظام‘‘ کے تحت مادّی فوائد حاصل کرنے کے لیے عملاً ٹوٹ پڑے ہیں۔ اگرچہ ان کا ذہن بدستور وہی ہے جو پہلے تھا۔ یہ ڈبل اسٹینڈرڈ ہے، اور ڈبل اسٹینڈرڈ ہی کا دوسرا نام منافقت ہے۔
کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میںنے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو پہلی وحی اتری تھی، اُس میں دعوت کا حکم شامل تھا۔ یہ وحی تھی: اقرأ (96: 1)۔ اقرأ کا مطلب پڑھنا بھی ہے اور پڑھ کر سنانا بھی، یعنی قاری بھی اور مقری بھی۔ اقرا کا مطلب اگر محض پڑھو ہوتا تو رسول اللہ صرف شخصی طورپر قرآن کی تلاوت کرتے، یا کسی سے لکھنا پڑھنا سیکھتے۔ اِس کے برعکس، آپ نے یہ کیا کہ لوگوں کے پاس جاکر آپ اُن کو قرآن پڑھ کر سناتے تھے۔ اِس سے معلوم ہوتاہے کہ اقراکا مطلب پڑھ کر سنانا تھا، یعنی دعوت بذریعہ قرأتِ قرآن۔ یہی کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور یہی کام صحابہ نے کیا۔ اِس کے مطابق،رسول اور اصحابِ رسول مقریِ قرآن تھے۔
موجودہ زمانہ پرنٹنگ پریس کا زمانہ ہے۔ اب قرآن کے مطبوعہ نسخے ہر جگہ دستیاب ہیں۔ ایسی حالت میں اِس سنتِ رسول کا جدید استعمال یہ ہے کہ ہر مسلمان، قرآن کا ڈسٹری بیوٹر (distributor) بن جائے۔ ہر آدمی قرآن کا ترجمہ اپنے پاس رکھے اور جب بھی…
In the lectures
Cited at 217s — opens the lecture at this moment.
Cited at 399s — opens the lecture at this moment.
Cited at 609s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1534s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1634s — opens the lecture at this moment.
Cited at 105s — opens the lecture at this moment.
Cited at 134s — opens the lecture at this moment.
Cited at 174s — opens the lecture at this moment.
Cited at 320s — opens the lecture at this moment.
Cited at 348s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1186s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1496s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1569s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1587s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1589s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1619s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1649s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1665s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1684s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1775s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1995s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2020s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2051s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2103s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2231s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2672s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2950s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3239s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3491s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3799s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4034s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4212s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4439s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4618s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
Calling out to God with His Names
It is a fact that a human being is a truth-seeking animal by nature. Very soon, there awakens within him a feeling that some superior being must exist who will grant him the light of guidance. At that time he calls out, ‘‘O God of…
Calling upon God with His Greatest Name
Regarding asma-e-husna a question asked by people is: “Has God one proper name (ism-e-aazam) or has God one main or great name? If that is so, what it is?” Different traditions have been recorded in the Hadith about ism-e-aazam. We give…
GRATITUDE TO THE CREATOR
Professor Carl Troll (1899-1975) was President of the International Geographical Union from 1960 to 1964. He once remarked:
انسانی تاریخ کا مطالعہ
خداکے تخلیقی پلان کی روشنی میں
انسان پوری کائنات میں ایک انوکھا استثنا (exception) ہے۔ قرآن میں انسان کی تخلیق کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں خَلَقْتُ بِيَدَيَّ (38:75) یعنی انسان کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا۔ حدیث میں انسان کے بارے میں آیا ہے خَلَقَ…
انسانی تاریخ کا مطالعہ
خدا کے تخلیقی پلان کی روشنی میں
انسانی تاریخ کا مطالعہ
سینٹ فرانسس آف اسیسی (St. Francis of Assisi) ایک مشہور مسیحی راہب تھے۔ وہ 1182 ء میں پیدا ہوئے اور 1226 ء میں اٹلی میں ان کی وفات ہوئی۔ انھوں نے اپنی ایک دعاء میں کہا تھا کہ —اے خدا، مجھ کو تو امن کے قیام کا ذریعہ بنا
O Lord, Make me an instrument of Your peace.
اِس دعاء کو میں نے اپنی تقریر میں کلمۂ سواء (آل عمران 64 ) کے طورپر استعمال کیا۔ میںنے کہا کہ اسلام اور مسیحیت کے درمیان امن ایک مشترک قدر (common value) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسیسی پیغام بھی امن پر مبنی ہے اور اسلام کا پیغام بھی امن پر…
جمعیتہ علماء ہند کے تحت ایک اردو ہفت روزہ'' الجمیعہ'' کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ20 - 26 جولائی1990 میں حافظ سہارنپوری کی ایک نظم چھپی ہے۔ اس کا ایک شعر یہ ہے :
ہورہا ہے یہ تقاضا گردش ایام کا لے کے جھنڈاہم اٹھیں اپنے خدا کے نام کا
اس کو پڑھ کر خیال آیا کہ اللہ کا مطلب مسلمانوں نے یا تو یہ سمجھا کہ لفظ اللہ کو لے کر اسے رٹا جائے۔ چنانچہ بے شمار لوگ گوشوں میں بیٹھ کر اللہ اللہ کی لفظی تکرار کر رہے ہیں۔ دوسرے لوگوں کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے نام پر اقوام غیر…
ایک عمل جوانسان کو رب العالمین کا محبوب بنا دیتا ہے
اختلاف کے باوجود متحد ہو کر اللہ کے مشن کے لیے کام کرنا ایک ایسا عمل ہے، جو انسان کو معمولی انسان سے بڑھا کر غیر معمولی انسان بنا دیتا ہے۔ ایسا انسان رب العالمین کا محبوب بندہ بن جاتا ہے۔ یہ حقیقت قرآن کی ایک آیت کے مطالعے سے معلوم ہوتی…
…خارجی واقعہ ۔ انسان اپنے آخری تجربہ میں ایک حسیاتی وجود ہے۔ اس لیے انسان کی نسبت سے عبادت کی آخری شکل ایک حسیاتی واقعہ ہی ہو سکتی ہے، نہ کہ کسی خارجی واقعہ کو ظہور میں لانا ۔ اسی لیے قرآن میں تقویٰ کو عبادت کا حاصل قرار دیا گیا ہے
يا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (2:21)۔ یعنی، اے لوگو اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تم کو اور پچھلے لوگوں کوپیدا کیا ہے تاکہ تم میں تقویٰ پید اہو۔
عبادت، اپنے خارجی ظہور کے اعتبار سے ، متقیانہ زندگی کا نام ہے اور اپنی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے خدا کے اس گہرے ادراک اور اس سے اس شدید تعلق کا نام ہے، جب کہ بندہ اپنے رب میں اتنا محو ہو جائے کہ اس پر حضوری کی کیفیت طاری ہونے لگے
افریقہ کے اس عجیب اورحسین درخت کو دیکھ کربے ساختہ میری زبان سے نکلا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے اس دنیا میں جو چیزیں بنائیں ان میں سے ہر چیزپر اس نے یہ لکھ دیا — خدا کا بنایا ہوا:
Made by God
خدا نے چیزوں پر یہ لکھا اوراس کے بعد اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا لیا۔ تاکہ لوگ مخلوق کو دیکھ کرخالق کو پہچانیں ،تاکہ غیب کے باوجود اس دنیا میں خدا کی موجودگی کو پالیں۔