Shukr All cross-references →
Qur'an 89:27
Qur'an 89:27

يَـٰٓأَيَّتُهَا ٱلنَّفۡسُ ٱلۡمُطۡمَئِنَّةُ

[To the righteous it will be said], "O reassured soul

Explained in 10 book passages and 30 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Discovering God (p. 125) A original + quote

…he already has everything and need not take anything from anyone. For this reason, he is not able to accept advice from others. He rejects the message of the reformer. This attitude becomes an obstacle to his taking to the path of tazkiya.

The truth is that tazkiya, a continuous process, can have its effect only on a modest person. Modesty enables one to accept the truth and frees one from psychological complexes. Only a complex-free soul (The Quran, 89:27) can succeed in attaining the goal of tazkiya.

Discovering God (p. 190) A original + quote

…identify his mistakes, and apply to himself the process of rigorous de-conditioning. This is a prerequisite for purification. Without this, no one can be genuinely purified. No one can get entry into Paradise, without self-purification.

Those who have been successful in engaging in these processes, discover the truth. They have been mentioned in the Quran as “soul at peace” (89:27). They are the ones who fell in line with the creation plan of God and who developed in themselves the desired personality according to His creation plan. These are the ones who will be rewarded by God and will gain entry into Paradise.

…states that the reality of human life is coloured by human responses to it. One who responds to situations negatively is a failure, whereas one who responds to situations positively is a success. After explaining this, the Quran says:

[But to the righteous, God will say], ‘O soul at peace, return to your Lord, well-pleased, well-pleasing. Join My servants. Enter My Paradise.’ (89:27-30)

According to this, the best course for man to take is to prove that he is a complex-free soul. A complex-free soul is one who accepts the creation plan of God, who can give a positive response in any situation, good or bad, who develops no…

Al-Risala June 2021 A original + quote

…21:107)میں پیغمبرِ رحمت کہا گیا ہے ( وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِینَ ) یعنی پرافٹ آف مرسی۔ پرافٹ آف مرسی ہی کا دوسرا نام پرافٹ آف پیس ہے۔ دونوں ایک ہی حقیقت کو بیان کرنے کے لیے دو مختلف انداز کی حیثیت رکھتے ہیں۔

پیغمبر اسلام کا مشن کوئی پولیٹیکل مشن نہیں تھا۔ آپ کے مشن کو دوسرے الفاظ میں اسپریچول مشن کہا جاسکتا ہے۔ قرآن (2:129)میں اس کو تزکیۂ نفس (purification of the soul) بتایا گیا ہے۔ یعنی انسان کو کامل انسان بنانا۔ دوسری جگہ قرآن (89:27)میں اس کے لیے النّفس المطمئنّہ (complex-free soul) کے الفاظ آئے ہیں۔

اس قسم کا مقصد صرف نصیحت اور تذکیر (persuasion) کے ذریعہ حاصل ہوسکتا ہے۔ یہ مقصد ذہن کی تشکیلِ نَو (re-engineering of the mind) کا طالب ہے ۔ یہ مقصد صرف انسان کی تھنکنگ قوت کو بیدار کرکے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے حصول کا ذریعہ سیاسی…

Al-Risala January 2019 A original + quote

…صاحب سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔ انھوں نے ایک صاحب کا قصہ بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ الرسالہ پڑھنے والے کچھ افراد کو میں نے دیکھا ہے، وہ بہت مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔ حالاں کہ میری آمدنی ان سے زیادہ ہے، مگر مجھے اطمینان والی زندگی حاصل نہیں۔

میں نے ان سے کہا کہ یہ الرسالہ کا کرشمہ نہیں ، بلکہ وہ اسلام کا کرشمہ ہے۔ قرآن کے مطابق، اسلام آدمی کو نفس مطمئن (الفجر، 89:27)بناتا ہے۔ اسی نفس مطمئن کا وہ نتیجہ ہے ، جس کا آپ نے ذکر کیا۔ جب بھی کسی انسان کو حقیقی معنوں میں اسلام حاصل ہوجائے، تو اس کے بعد یہی ہوگا کہ اس کو اتھاہ اطمینان والی زندگی حاصل ہوجائے گی۔ اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:أَلَا بِذِکْرِ اللَّہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (13:28)۔ یعنی آگاہ رہو، اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر بہت سی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر شاید ان میں سے کوئی بھی سرگرمی نہیں جو لوگوں کو حقیقی اسلام کا تحفہ دے رہی ہو۔ کوئی تحریک مسلمانوں کو پراسرار کہانیاں سنارہی ہے جس کے نتیجہ میں لوگوں کےاندر خوش عقیدگی کا ذہن…

Al-Risala June 2017 A original + quote

…جس کا دل منفی سوچ (negative thoughts) سے خالی ہو، وہ انسان جس کے اندر کامل معنوں میں تواضع (modesty) ہو، وہ انسان جو ہر قسم کے ڈسٹریکشن (distraction)سے بچا ہوا ہو، وہ انسان جو اپنی روحانی بلندی کی بنا پر اعلی حقائق میں جینے والا بن گیا ہو۔

امن پسند انسان سے مراد وہ انسان ہے جس کے لیے قرآن میں نفس مطمئن (89:27) اور قلب سلیم(26:89) جیسے الفاظ آئے ہیں۔ پرامن انسان وہ ہے جس کا دل غیر اللہ کی فکر سے خالی ہوجائے، جس کے دماغ میں اللہ کی نسبت سے کوئی کنفیوزن (confusion) باقی نہ رہے۔

Al-Risala December 2015 A original + quote

…دنیا کے مختلف احوال کے درمیان اس طرح رہے گا کہ اس کا ذہن شکایت اور احتجاج سے مکمل طور پر خالی ہوگا، وہ ہر صورتِ حال کو اپنے لئے امتحان کا پرچہ سمجھے گا، وہ ہر صورتِ حال میں کامل اعتدال کو باقی رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے گا-

اسی سلسلۂ کلام میں صبر کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں:اور جنھوں نے اپنے رب کی رضا کے لئے صبر کیا(13:22)- یہاں رضائے رب کسی مبہم معنی میں نہیں ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے منصوبۂ خداوندی کو سمجھا، اور کسی تحفظ کے بغیر اس کو تسلیم کرلیا- اپنی ذاتی پسند اور ناپسند کو چھوڑ کر اللہ کی پسند اور ناپسند کو اصل سمجھا اور اس پر پوری طرح راضی ہوگئے- اسی حقیقت کو دوسرے مقام پر النفس المطمئنة (89:27)سے تعبیر کیا گیا ہے-

Al-Risala September 2014 A original + quote

…تجریدی فکر کا طریقہ واحد طریقہ ہے جو کسی آدمی کو آخرت کی یاد میں جینے والا بنا سکتا ہے- یہی آخرت رخی سوچ وہ چیز ہے جس سے آدمی کے اندر حقیقی معنوں میں ربانی شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے- اِس کے سوا کوئی اور طریقہ ربانی شخصیت کی تعمیر کا نہیں-

ربانی انسان بننے کی شرط صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ’النفس المطمئنة‘ (complex free soul) بنائے(89:27)- ایسے ہی انسان کو اللہ کی توفیق حاصل ہوتی ہے اور یہ صرف اللہ کی توفیق ہے جو کسی انسان کو ربانی انسان بناتی ہے-

Al-Risala June 2014 A original + quote

…ہے، یعنی احساسِ برتری (superiority complex) کی نفسیات میں۔ اِس کے برعکس، اگر اُس کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے تو وہ ’أہانن‘ کی نفسیات میں مبتلا ہوجاتا ہے، یعنی احساسِ کم تری (inferiority complex) کی نفسیات میں (89:15-16)۔

قرآن کے مطابق، یہ دونوں چیزیں انسان کو ہلاک کرنے والی ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ انسان کے ساتھ کوئی خوش گوار واقعہ پیش آئے، تب بھی وہ اعتدال کی حالت پر قائم رہے۔ اور اگر اس کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے، تب بھی وہ اعتدال کی حالت پر قائم رہے۔ جو انسان اِس طرح معتدل شخصیت کا ثبوت دے، اس کو قرآن میں النفس المطمئنۃ (89:27)کہاگیا ہے، یعنی کامپلکس فری انسان (complex-free soul) ۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کسی انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اُس کو موت کے بعد کی ابدی زندگی میں جنت میں داخلہ مل جائے۔ اِس سلسلے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اِنَّ ھٰذَا لَہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ؀ لِــمِثْلِ ھٰذَا فَلْیَعْمَلِ…

Al-Risala June 2012 A original + quote

…ہے، یعنی احساسِ برتری (superiority complex) کی نفسیات میں۔ اِس کے برعکس، اگر اُس کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے تو وہ ’أہانن‘ کی نفسیات میں مبتلا ہوجاتا ہے، یعنی احساسِ کم تری (inferiority complex) کی نفسیات میں (89: 15-16)۔

قرآن کے مطابق، یہ دونوں چیزیں انسان کو ہلاک کرنے والی ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ انسان کے ساتھ کوئی خوش گوار واقعہ پیش آئے، تب بھی وہ اعتدال کی حالت پر قائم رہے۔ اور اگر اس کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے، تب بھی وہ اعتدال کی حالت پر قائم رہے۔ جو انسان اِس طرح معتدل شخصیت کا ثبوت دے، اس کو قرآن میں النفس المطمئنۃ (89: 27) کہاگیا ہے، یعنی کامپلکس فری انسان (complex-free soul) ۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کسی انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اُس کو موت کے بعد کی ابدی زندگی میں جنت میں داخلہ مل جائے۔ اِس سلسلے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے: إن ہذا لہو الفوز العظیم۔ لمثل ہذا، فلیعمل العاملون (37: 60-61) یعنی یقینا…

In the lectures

Cited at 1327s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1865s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2023s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2047s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2610s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4162s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4465s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4578s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5096s — opens the lecture at this moment.

Cited at 6573s — opens the lecture at this moment.

Cited at 6712s — opens the lecture at this moment.

Cited at 6742s — opens the lecture at this moment.

Cited at 6769s — opens the lecture at this moment.

Cited at 72s — opens the lecture at this moment.

Cited at 163s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1062s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1666s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1845s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1899s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1928s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1959s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2080s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2158s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2421s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2779s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3327s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3458s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3694s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5786s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5823s — opens the lecture at this moment.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

قرآن میں اسلوبِ دعوت کو بتاتے ہوئے ہوئے یہ آیت آئی ہے: وَقُلْ لَّھُمْ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا (4:63) یعنی تم اُن سے ایسی بات کہو جو اُن کے دلوں میں اتر نے والی ہو:

And speak to them in such terms as will address their minds.

اِس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ قرآن کےپیغام کو اِس طرح پہنچانا مطلوب ہے کہ وہ لوگوں کے ذہن کو ایڈریس کرے- قرآن کی دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قولِ بلیغ کے اِس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اللہ نے قرآن کو عربی مبین (26:195) کی زبان میں…

’’یہ سب کس لیے ‘‘سونے والے نے دوبارہ پوچھا۔

’’تم لکھ پتی ہوجائو گے اورآرام سے رہو گے ‘‘۔

’’پھر تمہارا کیا خیال ہے ،اب میں کیا کر رہا ہوں ‘‘۔

…ہے۔ قرآن کے مطابق ، جہاد دراصل پر امن نظریاتی جدو جہد (ideological struggle) کا نام ہے۔ اس نظریاتی جدو جہد کا نشانہ قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کا پیغام لوگوں کے دلوں میں اُتر جائے : وَقُل لَّهُمۡ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ قَوۡلَۢا ‌بَلِيغٗا:

And speak to them a word to reach their very soul. (4:63)

اس آیت کے مطابق ، قرآن کا مطلوب قول وہ ہے جو قولِ بلیغ ، ہو، یعنی ایسا کلام جو لوگوں کے مائنڈ کو ایڈریس کرے۔ جولوگوں کو مطمئن کرنے والا ہو۔ جس کے ذریعے لوگوں کو قرآن کی صداقت پر یقین پیدا ہو۔ جس کے ذریعے لوگوں کے اندر فکری انقلاب برپا ہو…

“A prize no one can refuse.”

“It will be an excitement, wish you a success.”

“I would very much like to read it. In fact I have a friend who would be interested in it too, can I take another copy.”

فضیلۃ الاستاذ مولانا وحید الدین خاں صاحب اطال اللہ بقاء کم وادام فیوضکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید کہ مزاج گرامی بخیر ہوگا!

آپ کاای میل نظر نواز ہوا۔ پہلی بار انٹرنٹ کی برکت سے آپ سے شرف ہم کلامی حاصل ہورہا ہے، میں آپ کے مؤقر جریدہ –الرسالہ– کا تقریباً بارہ تیرہ سال سے شیدائی ہوں، آپ کی تحریروں کو بڑے شوق سے پڑھتا ہوں، زمانہ طالب علمی ہی میں آپ کی کتاب…

semantic Al-Risala february 2017 other source

…چھانٹ دیا جائے، اور مطلوب انسانوں کو الگ کرکے یہ موقع دیا جائے کہ وہ آئیڈیل ورلڈ میں ابدی راحت کی زندگی گزاریں۔یہی وہ واقعہ ہے جس کا ذکر بائبل میں ان الفاظ میں آیاہے — صادقین زمین کے وارث ہوں، اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے:

The righteous will inherit the land, and dwell in it permanently. (Psalm: 37:29)

بائبل میں مذکور اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ أَنَّ الْأَرْضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصَّالِحُونَ (21:105)۔یعنی اور زبور میں ہم نصیحت کے بعد لکھ…

…چھوٹے بچوں نے لوگوں کو پھول پیش کئے۔ تمام مذاہب کے نمائندوں نے مل کر امن کی مشعل جلائی۔ لوگوں نے امن کے اعلامیہ (declaration) پر دستخط کیے۔ آخر میں لوگ کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے اِس طرح ملے کہ اُن میں سے ہر ایک دوسرے سے یہ کہہ رہا تھا

Peace be upon you, Peace be upon you.

اِس کارروائی میںرات ہوچکی تھی۔ یہاں سے واپس ہوکر لوگ اجتماعی ڈنر میں شریک ہوئے۔ ڈنر کے بعد کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو کے صدر اور قبرص کے آرک بشپ نے تمام شرکا اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا، اِس کے بعد لوگ اپنی اپنی قیام گاہوں پر چلے گئے۔

…یعلم اللہ ما في قلوبہم، فأعرض عنہم وعِظْہُم، وقل لہم فی أنفسہم قولاً بلیغا (4: 63) یعنی اُن کے دلوں میں جو کچھ ہے، اللہ اُس سے خوب واقف ہے۔ پس تم اُن سے اعراض کرو اور اُن کو نصیحت کرو اور ان سے ایسی بات کہو جو اُن کے دلوں میں اتر جائے

Speak to them in such terms as will address their minds.

قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ دعوت الی اللہ کا حق ادا کرنے کے لیے داعی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ایسے اسلوب میں کلام کرے جو مدعو کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ قدیم زمانہ روایتی اسلوب کا زمانہ تھا۔ قدیم زمانے میں روایتی اسلوب بھی مدعو…

semantic Al-Risala February 2016 hadith

…جانب کی دیوار گر جائے گی، پھر وہ دوبارہ کہیں گے، لا الہ الا اللہ ، اور اللہ اکبر تو دوسری سمت کی دیوار بھی گر جائے گی، پھر وہ تیسری مرتبہ کہیں گے، لا الہ الا اللہ ، اور اللہ اکبر تو وہ ان کے لیے کھل جائے گا، پس وہ اُس میں داخل ہوجائیں گے۔

اس حدیث میں اُس آنے والے دور کو بتایا گیا ہے جب کہ پر امن جدو جہد (peaceful activism) ہر قسم کی کامیابی کے لیے کافی ہوگی۔

6- اسی طرح ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: إن اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، حدیث نمبر3062)۔یعنی اللہ ضرور اس دین کی مدد فاجر انسان کے ذریعے سے کرے گا۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے دور میں اسلام کے لیے موافق…

semantic Diary 1983-1984

30 جنوری 1984

قال عليه الصلاة والسلام:

من أراد الٰخرة فعليه بالعلم، ومن اراد الدنيا فعليه بالعلم ومن اراد هما معا فعليه بالعلم (العربي،کویت ، دسمبر 980 ۰ صفحہ105 )