Qur'an 8:39
Qur'an 8:39
وَقَٰتِلُوهُمۡ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتۡنَةٞ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ كُلُّهُۥ لِلَّهِۚ فَإِنِ ٱنتَهَوۡاْ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِمَا يَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ
And fight them until there is no fitnah and [until] the religion, all of it, is for Allah. And if they cease - then indeed, Allah is Seeing of what they do
Explained in 37 book passages
and 19 lecture moments.
Cite / permalink: quran/8:39
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…فی الارض ہے۔ تفسیر المنار میں فساد فی الارض کی تفسیر سلب ِامن سے کی گئی ہے(تفسیر المنار، جلد6، صفحہ288)۔ یعنی ایسا فعل انجام دینا ، جس سے امن عامہ ختم ہوتا ہو۔ گویا قتلِ نفس سے مراد انفرادی قتل ہے، اور فساد فی الارض سے مراد اجتماعی قتل ہے۔
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہےوَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ فَإِنِ انْتَہَوْا فَإِنَّ اللَّہَ بِمَا یَعْمَلُونَ بَصِیرٌ (8:39)۔یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ دیکھنے والا ہے ان کے عمل کا۔ اس آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے۔ قرآن میں اس جرم پر قتال(war) کا حکم دیا گیا ہے۔کیوں کہ مذہبی جبر کا فعل عام طور پر حکومت کی طرف سے ہوتاہے۔اس لیے یہ حکم دیا گیا کہ ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ کی یہ حالت ختم ہوجائے۔
قرآن کی یہ آیت بتاتی ہے کہ اسلام میں جنگ کا تصور کیا ہے۔ اس آیت میں لَا تَکُونَ فِتْنَةٌاور وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ دونوں ایک ہی حکم کے دو پہلو ہیں۔ ایک منفی پہلو، اور دوسرا مثبت پہلو۔ فتنہ سے مراد نظام فطرت میں مداخلت ہے،…
اسلام میں جنگ
اسلام میں جنگ سلبی مقصد کے لیے ہے، اسلام میں جنگ ایجابی مقصد کے لیے نہیں۔ یعنی اسلام میں جنگ کسی مانع (obstacle) کو دور کرنے کے لیے ہے، نہ کہ مطلوب (desired) گول کو قائم و نافذ کرنے کے لیے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک رہنما آیت یہ ہے: وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ فَإِنِ انْتَہَوْا فَإِنَّ اللَّہَ بِمَا یَعْمَلُونَ بَصِیرٌ (8:39)۔ یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ دیکھنے والا ہے ان کے عمل کا۔
اس آیت میں واضح طو رپر جنگ کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ فتنہ عملاً ختم ہوجائے۔ صحابی رسول عبد اللہ بن عمر نے فتنہ کو یہاں شرک جارح کے معنی میں لیا ہے(صحیح البخاری، حدیث نمبر 4514)۔ دوسرے لفظوں میں اس کو مذہبی جبر (religious persecution) کہا…
دورِ امن کی طرف
قرآن میں اصحاب رسول کو ایک حکم اِن الفاظ میں دیاگیا تھا:وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ (8:39)۔ یعنی ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور دین سب اللہ کا ہو جائے۔ قرآن کی اس آیت کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصہ میں کہاگیا ہے کہ’’ جنگ کرو تاکہ فتنہ نہ رہے‘‘،اور دوسرے حصہ کے الفاظ یہ ہیں کہ ’’ دین سب اللہ کا ہو جائے‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہلے مطلوب کے لیے لڑنا ہوگا اور اس کے بعد دوسرا مطلوب اپنے آپ حاصل ہوجائے گا۔
غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ ابتدائی تخلیق کے مطابق انسانی دنیا میں حالت فطری قائم تھی، اور حالتِ فطری امن کی حالت ہے۔ بعد کو دنیامیں مطلق العنان بادشاہوں (despotic kings) کا زمانہ آیا۔ انھوں نے یہ کیا کہ حالتِ فطری کو ختم کرکے اس کی جگہ…
…وقت یہ بات کہی ، اس وقت اس کا مصداق موجود نہ تھا۔ یہ مصداق آپ کے بعد امت کے اندر پیدا ہوا۔ اس لیے اس حدیث کی تشریح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ امت کے بعد کے زمانے میں اس کا مصداق تلاش کیا جائے، اور پھر اس کی روشنی میں اس حدیث کی شرح کی جائے۔
اب دیکھیے کہ قرآن میں قتال کا حکم کس سیاق (context) میں آیا ہے۔ یہ بات قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے:وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ (8:39)۔ یعنی اور ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔قرآن کی اس آیت میں قتال کا حکم بھی ہے، اور یہ بھی ہے کہ یہ قتال کب تک جاری رکھنا ہے۔ اس آیت میں فتنہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ فتنہ کا لفظی مطلب ہے، سونے کو آگ میں ڈال کر تپانا ۔ اسی سے اس لفظ کو ستانے کے مفہوم میں استعمال کیا جانے لگا۔ قرآن کی اس آیت میں فتنہ کا لفظ مذہبی ایذا رسانی (religious persecution)کے معنی میں آیا ہے۔
پیغمبرِ اسلام سے پہلے دنیا میں مذہبی رواداری (religious tolerance) کا وجود نہ تھا۔ اس زمانے میں غالب گروہ کے خلاف مذہب اختیار کرنے والے کو مذہبی ایذا رسانی کا شکار بنایا جاتاتھا۔ یہ کلچر خالق کے تخلیقی نقشے (creation plan) کے خلاف تھا۔…
…کردی۔ بظاہر یہی وہ جنگ ہے جس کا اشارہ بطور پیشین گوئی مذکورہ بالا حدیث ِرسول میں کیا گیا تھا۔ اور اس پیشین گوئی کے مطابق، بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ ہونے والا نہیں۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے اور خود دنیا کا خاتمہ ہوجائے۔
امت میں یہ دوسرے دور کا جو قتال وجود میں آیا، اس کاکوئی تعلق قرآن کے حکمِ قتال (الانفال، 8:39) سے نہیں ہے۔ یہ خود ساختہ نظریے کے تحت وجود میں آیا ہے۔ قرآن میں قتال کا حکم ختمِ فتنہ (الانفال ، 8:39) کے لیے تھا۔ اس کے برعکس، بعد کے زمانے میں جو قتال امت میں جاری ہوا، وہ مسلم رہنماؤں کے بیان کے مطابق ختم اعدا(to finish the enemies) کے لیے ہے۔ مگر ختم اعدا کے لیے جنگ کرنے کا کوئی تصور اسلام میں نہیں ۔
قرآن کی صراحت کے مطابق، عداوت جنگ کا اشو نہیں ہے، بلکہ وہ دعوت کا اشو ہے۔ مسلمانوں کو اگر کوئی شخص یا گروہ بظاہر دشمن دکھائی دے تو اس سے وہ لڑائی نہیں چھیڑ سکتے۔ ان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اس پر پرامن انداز میں دعوت الی اللہ کا کام…
…علماے فنّیات تو بہت ملتے ہیں، لیکن عجائبِ فطرت کا کوئی عالم موجود نہیں۔ معرفت کی کتاب ایسے باب سے یکسر خالی ہے۔ اس حدیث میں شیطان کے شورو شغب وغیرہ سے مراد شاید اہلِ مغرب کے خلاف مسلمانوں کے اندر عمومی سطح پر منفی نفسیات کا پیدا ہونا ہے۔
شیاطین کا آنکھوں پر منڈلانا (to hover about) بہت بامعنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فطرت کے مظاہر کو مقدس بنا کر انسان سے یہ اسپرٹ چھین رہے ہیں کہ وہ فطرت کے مظاہر پر آزادانہ غور وفکر کریں۔ جو خالق کی معرفت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ یہی وہ چیز ہے، جس کو قرآن میں فتنہ (الانفال، 8:39) کہا گیا ہے۔ اس فتنہ کو اسلام نے ختم کیا ہے۔ یعنی اسلام کے ذریعے وہ پراسس شروع ہوا ، جس نے فطرت کے مظاہرکو تقدس (holiness)کے مقام سے ہٹا کر ریسرچ کا موضوع (subject of research) بنا دیا۔ دوسرے الفاظ میں دونوں کو ایک دوسرے سے ڈی لنک (delink) کردیا ۔
اس کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوا۔ اب فطرت کے مظاہر کی آزادانہ ریسرچ (objective research) ہونے لگی۔ مختلف اسباب کی بنا پر یہ کام تمام تر اہل مغرب نے انجام دیا۔ یہ عمل گلیلیو اور نیوٹن کے زمانے میں شروع ہوا۔ اسی عمل…
…میں بھی اور پیغمبر کی وفات کے بعد بھی ۔ مگر اسلام کی بعد کی صدیوں میں ایسا ہوا کہ بعض اسباب سے اجتہاد کا یہ عمل زیادہ تر جزئی مسائل تک محدود ہو کر رہ گیا۔ کُلّی یا بنیادی نوعیت کے مسائل میں اجتہاد کا یہ عمل حقیقی طورپر جاری ہی نہ ہوسکا۔
اس معاملہ کی ایک مثال وہ ہے جو قرآن کی آیت:وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلّہ (8:39)سے تعلق رکھتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، خلافت راشدہ کے بعد بنو امیہ کی حکومت قائم ہوئی۔ انہوں نے دمشق کو اپنا دار السلطنت بنایا۔ اس زمانہ میں عبد اللہ بن زبیر (وفات 73ھ) نے حجاز میں اپنی علیٰحدہ خلافت قائم کر لی۔ یہ خلافت نو سال تک باقی رہی۔ بنوامیہ کے گورنر الحجاج سے ان کا ٹکراؤ ہوا۔ اس ٹکراؤ کے وقت ان کے قریبی افراد نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ یہاں تک کہ وہ تنہا لڑتے ہوئے حجاج کی فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔
اس واقعہ کو اسلام کی تاریخ میں فتنہ ٔ ابن الزبیر کہا جاتا ہے۔ جس زمانہ میں یہ جنگ ہورہی تھی، عبد اللہ بن عمر (وفات 73ھ) موجود تھے۔ مگر وہ اس جنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ ابن الزبیر کے کچھ حامی ان کے پاس گئے اور انہیں عار دلاتے ہوئے کہا کہ آپ…
دورِ تائید
قرآن میں ایک حکم پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ان الفاظ میں دیا گیا ہے: وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہ (8:39)۔ یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہوجائے۔غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں قتال کا لفظ معروف جنگ کے معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ انتہائی جد و جہد (utmost struggle) کے معنی میں ہے۔ چوں کہ آپ کی زندگی میں عملا جو کچھ پیش آیا وہ یہی تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام نے اپنی پوری زندگی میںکبھی کوئی کامل جنگ (full-fledged war) نہیں کی۔ آپ کے مخالف گروپ نے کئی بار آپ پر حملہ کرکے آپ کو جنگ میں الجھانے کی کوشش کی۔ مگر آپ نے ہمیشہ یہ کیا کہ خصوصی تدبیر کے ذریعہ یا تو جنگ کو عملا ًہونے نہیں دیا، یا اس کو جنگ کے بجائے جھڑپ (skirmish) بنا دیا۔ اس معاملے میں آپ کی زندگی مذکورہ قرآنی آیت کی عملی تفسیر ہے۔
آپ کی تاریخ بتاتی ہے کہ مکہ میں آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا، لیکن آپ نے مکہ سے ہجرت کرکےقتل و قتال کو عملا ناممکن بنا دیا۔ غزوۂ احزاب کے موقع پرآپ کے مخالفین نے بارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ مدینہ پر حملہ کیا۔ مگر آپ نے اپنے اور فریق…
…تھا۔ یعنی پرا من انداز میں دعوت توحید کا کام انجام دینا۔ یہی کام پیغمبر کے بعد پیغمبر کی امت کا ہے۔ یہ ایک پرامن دعوتی جدو جہد ہے جو قیامت تک کسی توقف کے بغیر جاری رہے گی۔ قیامت کے سوا کوئی بھی دوسری چیز اس کو ختم کرنے والی نہیں۔
اصل یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو پیدا کرکے زمین پر آباد کیا، اور اس کے بعد داعیان توحید کو کھڑا کیا جو ہمیشہ پرامن انداز میںانسان کو اس کا مقصد حیات (purpose of creation) بتاتے رہے۔ مگر بعد کے زمانے میں یہ ہوا کہ دنیا میں جبر (despotism)کا نظام قائم ہوگیا۔ خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق یہ مطلوب ہے کہ انسان کے لیے مذہب کے معاملہ میں ہمیشہ آپشن (options) کھلے رہیں۔ لیکن جبر کے تحت یہ آزادی دنیا میں باقی نہ رہی۔ انسان کو پابند کردیا گیا کہ وہ حکمراں کے عقیدہ (belief) کو مانے، ورنہ اس کو قتل کردیا جائے گا۔ اس صورتِ حال کی بنا پر دنیا سے مذہبی آزادی کا خاتمہ ہوگیااور ساری دنیا میں مذہبی جبر (religious persecution) کا دور قائم ہوگیا۔ یہ صورتِ حال خالق کے تخلیقی نقشہ کے خلاف تھی۔ اس لیے پیغمبر آخر الزماں کے ذریعہ قرآن میں یہ حکم دیا گیا : وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہ(8:39)۔ یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہوجائے۔
قرآن کی اس آیت میں فتنہ سے مراد قدیم مذہبی جبر کا نظام ہے، جو خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق نہ تھا۔ قرآن نے اپنے پیرؤوں کو یہ حکم دیا کہ ہزاروں سال سے قائم شدہ اس مذہبی جبر کے نظام کو ہر حال میں ختم کردو، خواہ اس کے لیے تم کو جنگ کرنا…
…دوست اور دشمن کی ڈائیکاٹومی تھی۔ یہ ثنائی کلچر مستقل طور پر دشمنی اور جنگ کا سبب بنا ہوا تھا۔ اِس ثنائی کلچر کی بنا پر دین حق کی اشاعت عملاً ناممکن بن گئی تھی۔ قدیم زمانہ میں جو مذہبی جبر (religious persecution)رائج ہوا،اس کا سبب یہی تھا۔
اللہ تعالی کا منصوبہ یہ تھا کہ اس ثنائیت کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن کی اس آیت میں بیان ہوئی ہے:وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ (8:39)۔ ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ اس آیت میں خدا کی جس اسکیم کا اعلان کیا گیا تھا، اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ساری دنیا میں حکومتِ الٰہیہ (kingdom of God) قائم کی جائے۔اس آیت میں سیاسی نظریہ کو نہیں بتایا گیا تھا، بلکہ اس میں ایک انسانی نظریہ کو بتایا گیا تھا۔ اور وہ یہ کہ دنیا میں ایک عالمی اصول (universal norm) کے طور پر دوست اور دشمن کی ثنائیت (dichotomy)ختم ہوجائے، اور ایک اور ثنائیت رائج ہوجائے۔ یعنی دوست اور مؤید کی ثنائیت۔یہی وہ تاریخی حقیقت ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اللہ بے شک اس دین کی مدد ایسے اقوام کے ذریعہ کرے گا، جو اہل ایمان میں سے نہ ہوں گے۔
یہ نظام تائید (order of mutual support) دنیا میں کس طرح آئے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ نظام عملاً جمہوریت (democracy) اور صنعتی تہذیب (industrial civilization) کے ذریعہ دنیا میں آچکا ہے۔ اس سیاسی اور صنعتی نظام کے بعد دنیا میں جو دور…
…انسانی زندگی دوست اور دشمنی کی ثنائیت (dichotomy) پر قائم تھی۔ تاریخ میں اس نئے انقلاب کے بعد انسانی زندگی میں ایک اور ڈائیکاٹومی قائم ہوئی، جس میں دشمنی کا تصور حذف ہوچکا تھا۔ صرف دو فریق باقی تھے۔ اور وہ تھے، دوست اور موید (supporter)۔
قرآن میں رسول اور اصحاب رسول کو یہ حکم دیا گیا تھا : وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ (8:39)۔ یعنی ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہوجائے۔ اس آیت کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ساری دنیا میں حکومتِ الٰہیہ قائم ہوجائے، بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ انسانی زندگی میں مخاصمانہ تعلقات (relationship based on rivalry) کے بجائے مویدانہ تعلقات (relationship based on support) پر قائم ہوجائے۔ دنیا سے مذہبی استبداد ختم ہوجائے۔
آج دنیا ایک گلوبل ولیج (global village) بن چکی ہے۔ تیز رفتار کمیونی کیشن نے تمام رکاوٹیں دور کردی ہیں۔ ایک ملک کے دوسرے ملک سے مفادات وابستہ ہوگیے ہیں۔ کسی ملک میں کوئی چیز دستیاب ہے، کسی ملک میں کوئی دوسری چیز دستیاب ہے۔ اس طرح آپسی لین…
…جنگ کوئی مستقل اصول نہیں، اسلام میں جنگ قانونِ ضرورت (law of necessity) کے تحت پیش آنے والاایک وقتی عمل ہے، نہ کہ کسی ابدی اصول کے تحت کیا جانے والا مستقل عمل۔ اسلام میں جنگ کا حکم سمجھنے کے لیے قرآن کی دو آیتوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
1 - اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ۔ (8:39) اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہوجائے۔ یہ جنگ کی وہ قسم ہے جواسلام کے دورِ اول میں وقتی ضرورت کے تحت پیش آئی۔ اب یہ ضرورت باقی نہیں رہی۔ اس لیے اب ختم فتنہ کے نام پر جنگ کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ قدیم زمانے میں مذہبی آزادی (religious freedom)کو مسلمہ انسانی حق کی حیثیت حاصل نہ تھی، اب مذہبی آزادی ایک مسلمہ انسانی حق کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے اب دنیا میں نہ فتنہ ہے، نہ فتنے کے نام پر جنگ کا کوئی جواز۔
قرآن کی اس آیت میں فتنہ سے مراد شرکِ جارح (aggressive shirk)ہے۔ آج کل کی زبان میں اس کو مذہبی جبر (religious persecution)کہا جاسکتا ہے۔ قدیم زمانے میں ہزاروں سال سے دنیا میں شخصی بادشاہت کا نظام قائم تھا۔ اس سیاسی نظام کے تحت مذہب کے…
…کے زمانے میں شروع ہوا، اور خلیفہ ثانی عمر بن خطاب کے زمانے میں وہ اپنی تکمیل کو پہنچا۔ اس کے بعد ایک انقلابی عمل جاری ہوا جس کے نتیجے میں دنیا سے مذکورہ فتنہ کی حالت ختم ہوگئی۔ اس لیے اب اس مقصد کے لیے جنگ کی ضرورت عملا باقی نہیں رہی۔
اس معاملے کی وضاحت صحابیٔ رسول عبد اللہ ابن عمر (وفات: 73 ھ)کے ایک واقعے سے ہوتی ہے۔خلیفہ ثانی عمر بن خطاب کی وفات سن 23 ھ میں ہوئی ہے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد مسلم دنیا میں سیاسی انارکی کی صورت پیدا ہوگئی۔ اس زمانے میں عبد اللہ بن زبیر(وفات: 73 ھ) اور اموی حکوت کے درمیان جنگ شروع ہوگئی۔ عبد اللہ بن عمر اس کے خلاف تھے، انھوں نے اس جنگ میں شرکت نہ کی۔ اس زمانے میں کچھ مسلمان آپ کے پاس آئے، اور کہا کہ آپ اس جنگ میں کیوں شریک نہیں ہیں، حالاں کہ اللہ تعالی نے حکم دیا ہے کہ فتنہ کے خلاف جنگ کرو (8:39) ۔ عبد اللہ ابن عمر نے جواب دیا کہ تمھاری جنگ کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ قرآن کی یہ آیت جس جنگ کے بارے میں تھی، اس جنگ کی ضرورت اب ختم ہوچکی ہے۔ اس موقع پر انھوں نے کہا : قد فعلنا على عہد رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم (صحیح البخاری، حدیث نمبر4650) یعنی وہ جنگ ہم رسول اللہ کے زمانے میں کرچکے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ختم فتنہ کی جنگ ایک مخصوص حالت کی جنگ تھی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں شروع ہوئی ۔ اور اس کے نتیجے میں مکہ سے مشرکین کا سماجی اور سیاسی غلبہ ختم ہوگیا۔یہ جنگ صحابہ کے زمانے میں مزید جاری رہی۔ یہاں تک کہ حضرت عمر بن خطاب کے زمانے میں وہ تکمیل تک پہنچ گئی۔ جب کہ ایک طرف ساسانی سلطنت (Sassanid Empire) اور دوسری طرف بازنطینی سلطنت کا خاتمہ ہوگیا۔ اس کے بعد عملا دنیا میں مذہبی جبر کی جگہ مذہبی آزادی کا دور شروع ہوگیا۔ یہ عمل(process) مزید جاری رہا۔ یہاں تک کہ یورپ میں جمہوری انقلاب آنے کے بعد وہ آخری طور پر مکمل ہوگیا۔ اب نہ وہ فتنہ ہے، اور نہ اس فتنے کے نام پرکسی جنگ کی ضرورت ۔
2 - اس سلسلے میں قرآن کی دوسری آیت کے الفاظ یہ ہیں: فَمَا اسْتَقَامُوا لَکُمْ فَاسْتَقِیمُوا لَہُمْ (9:7) یعنی جب تک وہ تم سے سیدھے (پر امن)رہیں تم بھی ان سے سیدھے (پر امن) رہو۔ قرآن کی اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت…
…زمانے میں اقوام متحدہ (United Nations)کو تمام قوموں نے باقاعدہ طور پر قبول کرلیا ہے۔ مسلمان بھی اس تنظیم کو دوسری قوموں کی طرح قبول کریں گے۔ وہ دوسری قوموں سے صلح و جنگ کے معاملات کو اقوام متحدہ کے تحت طے کریں گے نہ کہ اس سے آزاد ہوکر۔
حقیقت یہ ہے کہ قتال فتنہ کی آیت (8:39) میں قتالِ خاص کا ذکر ہے۔ اور اس کے مقابلے میں دوسری آیت (7:9) میں حالتِ عام کا ذکر ہے۔ حالت ِخاص کا دور ختم ہوچکا، اب ہم صرف حالت عام کے دور میں ہیں۔ حالتِ عام کے زمانے میں اہل اسلام بھی دوسری قوموں کی طرح عالمی نظام کے پابند ہوں گے۔ اقوام متحدہ (UN) کے تحت جو اصول تمام قوموں کے لیے قابلِ قبول ہوں، وہی اصول اہل اسلام کے لیے بھی قابل قبول ہوں گے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور تنبیہہ امت مسلمہ کو پیشگی طور پر یہ خبر دی تھی کہ امت کے اندر بڑے پیمانے پر لڑائیاں ہوں گی۔ اس سلسلے میں ایک روایت یہ ہے: ألا وإنّی أخاف على أمتی الأئمةَ المضلین، وإذا وُضِع السیف فی أمتی لم…
…سے ایک یہ تھی کہ آپ نے فتح مکہ (8 ھ) کے بعد ایک حکم کے تحت اس طریقے کو ختم کردیا، اور قمری کیلنڈر کو اس کے فطری نقشے پر قائم کردیا- حوالہ کے لئے ملاحظہ ہو ، خطبۂ حجة الوداع، صحیح البخاری ، حدیث نمبر: 3197، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1679-
اس طرح کے اصلاحی معاملہ کی زیادہ بڑی مثال وہ ہے جس کا ذکر قرآن کی سورہ الانفال میں ان الفاظ میں آیا ہے:وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39) یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہوجائے-
قرآن کی اِس آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی تشدد (religious persecution) ہے- قدیم زمانے میں ساری دنیا میں مذہبی انتہا پسندی (religious extremism) کا طریقہ رائج تھا- مزید یہ کہ اس مذہبی انتہا پسندی کو پولٹسائز (politicize)کرکے، اس کے حق میں…
قدیم زمانے میں ساری دنیا میں خاندانی حکومتوں کا نظام قائم تھا- یہ لوگ اپنی حکومت کے استحکام کے لیے، کسی اختلاف کو برداشت نہیں کرتے تھے- یہ صورت حال اللہ کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے خلاف تھی-
اللہ کی منشا یہ ہے کہ مذہب کے معاملے میں ہر انسان کو آزادی حاصل ہو، تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ کس نے صحیح طریقہ اختیار کیا اور کس نے غلط طریقہ اختیار کیا- اس لیے رسول اور رسول کے ماننے والوں کو یہ حکم دیاگیا کہ تم لوگ مذہبی تشدد پر مبنی اس نظام کو ختم کردو ( 8:39)، تاکہ انسانوں کے درمیان وہ حالت فطری قائم ہوجائے جو خالق کو مطلوب ہے-
مذکورہ حدیث میں اسی منصوبۂ خداوندی کا ذکر کیا گیا ہے- اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے فیصلہ کے مطابق، حتمی طورپر یہ ہونے والا ہے کہ دنیا میں مذہبی آزادی (religious freedom) آئے، اور مذہبی تشدد کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے-
…قرآن کے پیغام کو لوگوں کے درمیان نظریاتی طورپر پھیلایا جائے، یعنی پرامن طورپر دعوتی کام (peaceful dawah work) انجام دینا- اسلام کا اصل مشن دعوت الی اللہ ہے- یہ ایک پر امن پیغام رسانی کا عمل ہے، جو ہمیشہ اور ہر حال میں جاری رہنے والا ہے-
جہاد بالسیف کو قرآن میں قتال (war) کہاگیا ہے ،اور اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے:وَقَٰتِلُوہُمْ حَتَّىٰ لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ ٱلدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ ۚ فَإِنِ ٱنتَہَوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّہَ بِمَا یَعْمَلُونَ بَصِیرٌ. (8:39) یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے- اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے- پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ ان کے عمل کو دیکھنے والا ہے- اِس آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ قتال کا یہ عمل کوئی مستقل عمل نہیں - وہ ایک محدود عمل ہے، جو صرف ختم فتنہ تک جاری رہے گا- فتنہ ختم ہوجائے تو یہ قتال بھی ختم ہوجائے گا-
ایک حدیث کی وضاحت
…اس کا مقصد کسی وقتی نظام کا خاتمہ نہ تھا، بلکہ اس کا مقصد اس عمومی دور کا خاتمہ تھا، جس کے تحت لوگوں کو عمل کی آزادی حاصل نہ تھی- جب لوگوں کو عمل کی آزادی حاصل ہوجائے تو قتال کا حکم بھی ایک غیر متعلق (irrelevant) حکم بن جائے گا-
یہی وہ بات ہے، جو قرآن کی اِس آیت میں کہی گئی ہے: وَقَٰتِلُوہُمْ حَتَّىٰ لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ ٱلدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ ۚ فَإِنِ ٱنتَہَوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّہَ بِمَا یَعْمَلُونَ بَصِیرٌ.(8:39) یعنی اور ان سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہوجائے- پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ ان کے عمل کو دیکھنے والا ہے-
قرآن کی اس آیت میں فتنہ سے مراد قدیم زمانے کا وہ دور حکمرانی ہے، جس کو مطلق العنان حکومت (despotism) کہاجاتا ہے- یہ نظام خدا کی اسکیم کے خلاف تھا- یہ نظام چونکہ فوجی طاقت کے زور پر قائم تھا، اس لئے اس کو فوجی طاقت ہی سے ختم کیا جاسکتا…
…نہایت گہرا عمل تھا-اس عمل کی انجام دہی میں اہل ایمان کے علاوہ غیر اہل ایمان (سیکولر اقوام) بھی شریک ہوئے- اس عمل کی تکمیل مغرب میں ہوئی- پہلے مرحلے میں مخالفِ اسلام دور کا خاتمہ کیا گیا تھا- دوسرے دور میں تمام موافقِ اسلام مواقع کھل گئے-
پہلے دور کو قرآن میں ختم فتنہ(8:39)کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے- دوسرے مرحلے میں پیش آنے والے واقعے کو مواقع کا انفجار(opportunity explosion) کہاجاسکتا ہے- پہلے مرحلے کا کام اصحاب رسول نے مکمل طورپر انجام دیا، اور اس بنا پر وہ جنت کے مستحق قرار پائے- دوسرے دور میں کرنے کا کام یہ ہے کہ پیش آمدہ مواقع کو دریافت کرکے ان کو دعوت حق کے لیے بھرپور طورپر استعمال کیا جائے-
اصحابِ رسول نے اس معاملہ میں منصوبۂ الہی کے پہلے مرحلہ کو ظہور میں لانے کے لیے اپنا حق ادا کیا، اور فوزِ عظیم کے مستحق قرار پائے- اب جو لوگ پیدا شدہ مواقع کو بھر پور استعمال کرکے دوسرے مرحلے کا کام انجام دیں گے، یعنی پیغام حق کی عالمی…
…اور بحرانی حالات کے تحت لوگوں کے درمیان دوبارہ جنگ شروع ہوگئی، جب کہ اللہ کے منصوبے کے مطابق اب جنگ کا زمانہ ختم ہوچکا تھا، اور وہ وقت آگیا تھا کہ معتدل حالات میں توحید کی پرامن دعوت کو شروع کیا جائے، اور اس کو قیامت تک جاری رکھا جائے-
بعد کے زمانے میں وہ لڑائی پیش آئی، جس کو تاریخ میں فتنۂ ابن الزبیر کہا جاتاہے- اس وقت صحابیٔ رسول حضرت عبد اللہ ابن عمر (وفات: 73ھ) مدینہ میں موجود تھے، مگر وہ لڑائی میں شریک نہیں تھے، کچھ لوگ حضرت عبد اللہ ابن عمر سے ملے- انھوں نے قتالِ فتنہ کی آیت ( 8:39) کا حوالہ دے کر کہا کہ قرآن میں حکم دیاگیا ہے کہ فتنہ کو ختم کرنے کے لئے جنگ کرو، پھر آپ کیوں ہماری جنگ میںشریک نہیں ہیں- حضرت عبد اللہ ابن عمر نے جواب دیا: قاتلنا حتى لم تکن فتنة، وکان الدین للہ، وأنتم تریدون أن تقاتلوا حتى تکون فتنة، ویکون الدین لغیر اللہ (صحیح البخاری: 4513) یعنی ہم نے جنگ کی یہاںتک کہ فتنہ ختم ہوگیا، اور دین اللہ کے لئے ہوگیا، اور تم چاہتے ہو کہ تم لڑو یہاں تک کہ فتنہ دوبارہ آجائے، اور دین غیر خداکے لئے ہوجائے-
حضرت عبد اللہ ابن عمر کے اس قول پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اللہ کے حکم کے تحت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ شروع ہوئی، وہ ایک وقتی مقصد کے لئے تھی- یہ مقصد حضرت عمرفاروق کے زمانۂ خلافت میں حاصل ہوگیا- اب اہلِ…
…کرے، وہ اپنی ذاتی سوچ کے ذریعے دعوت کا پروگرام بنائے۔ دعوت کا کام کوئی روٹین کا کام نہیں ہے، دعوت کا کام ایک تخلیقی کام ہے۔دعوت کا کام مؤثر طور پر وہی لوگ انجام دے سکتے ہیں جن کے اندر تخلیقی سوچ (creative thinking) کی صلاحیت موجود ہو۔
2 - اجتماع کے موقع پر دوسری بات وہ تھی جو قرآن کی ایک آیت کو لے کرکہی گئی۔ اس آیت کے الفاظ یہ ہیں: وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ (8:39)یعنی ان سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور دین سب کا سب اللہ کے لئے ہوجائے۔
بتایا گیا کہ اس آیت کے دو حصے ہیں۔ ایک، وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ، اور دوسرا، ویکون الدین کلہ للہ ۔ نحوی اعتبار سے پہلا حصہ امر کے صیغے میں ہے، اور دوسرا حصہ خبر کے صیغے میں ۔ یعنی فتنہ کو ختم کرنے کے لئے تو اہل ایمان کو لڑنے کا حکم دیا…
…مطالعہ بتاتا ہے کہ قرآن میں قتال کے واقعات کا ذکر تو موجود ہے لیکن جہاں تک مخالفین کے مظالم کا تعلق ہے وہ تقریباً غیر مذکور واقعات (unreported events) بنے ہوئے ہیں- مظالم کے واقعات ہم کو تاریخ کی کتابوں سے معلوم ہوتے ہیں، قرآن سے نہیں-
اس فرق کا سبب یہ ہے کہ قرآن میں قتال کی آیتیں امت کے تاریخی کردار (historical role) کو بتانے کے لئے ہیں- وہ امت کے مستقل مشن (permanent mission) کو بتانے کے لئے نہیں ہیں- امت کا مستقل مشن پرامن دعوت الی اللہ ہے- قدیم عرب میں قتال کا واقعہ وقتی ضرورت کے تحت اس لئے پیش آیا کہ جبر کے دور (despotic rule) کو ختم کرکے دنیا میں آزادی کا دور لایا جائے تاکہ انسان کو جو کرنا ہے، اس کو وہ آزادانہ طور پر کرسکے- قرآن میں اس واقعے کو ختم فتنہ (2:193، 8:39) کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے-
قدیم عرب میں رسول اور اصحاب رسو ل کے ساتھ ظلم کے بڑے بڑے واقعات پیش آئے، مگر قرآن میں صراحتاً ان کا ذکر موجود نہیں- البتہ صبر یا اس کے ہم معنی الفاظ کی آیتیں قرآن میں کثرت سے موجود ہیں- اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ…
…میں جو اصلاحات کیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ نے فتح مکہ (8 ھ) کے بعد ایک حکم کے تحت اس طریقے کو ختم کردیا، اور قمری کیلنڈر کو اس کے فطری نقشے پر قائم کردیا- حوالہ کے لئے ملاحظہ ہو ، خطبۂ حجة الوداع، صحیح البخاری: 3197، صحیح مسلم: 1679-
اس طرح کے اصلاحی معاملہ کی زیادہ بڑی مثال وہ ہے جس کا ذکر قرآن کی سورہ الانفال میں ان الفاظ میں آیا ہے:وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39) یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہوجائے-
قرآن کی اِس آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی تشدد (religious persecution) ہے- قدیم زمانے میں ساری دنیا میں مذہبی انتہا پسندی (religious extremism) کا طریقہ رائج تھا- مزید یہ کہ اس مذہبی انتہا پسندی کو پولیٹی سائز (politicize)کرکے، اس کے حق میں…
سیکولرزم کیا ہے
رسول اور اصحابِ رسول کو حکم دیتے ہوئے قرآن میں کہاگیا تھا: وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39) یعنی تم اُن سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور دین، سب کا سب، اللہ کے لیے ہوجائے-
قرآن کی اِس آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے، جو کہ قدیم زمانے میں ہزاروں سال سے دنیا میں قائم تھا- یہ نظامِ جبر خداکے تخلیقی نقشے کے خلاف تھا، اِس لیے حکم دیاگیا کہ اس کو ختم کردو، خواہ اِس کے لیے تم کو جنگ…
اسلام اور دورِ جدید
تاریخ کے بارے میں اللہ کا ایک منصوبہ قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیاہے: وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39) -
اِس معاملے کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ نے موجودہ کرۂ ارض کو بنایا اور یہ مقدر کردیا کہ اس کی نعمتیں (blessings) یکساں طور پر تمام انسانوں کو حاصل ہوں (55:10)- تاریخ انسانی کی ابتدا میں ایک عرصے تک یہ صورتِ حال قائم رہی- اس کے بعد دھیرے دھیرے…
…ایمان کی زبان سے ایک دعا نقل ہوئی ہے- اِس دعا کا ایک حصہ یہ ہے:رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا (2:286)یعنی اے ہمارے رب، ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا بوجھ تونے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر-
اِس دعا میں ’إصر‘ کا لفظ آیا ہے- اصر کا مطلب بوجھ (burden) ہے-اِس بوجھ سے مراد کوئی محدود بوجھ نہیں ہے، بلکہ اِس سے مراد وہ ناموافق عالمی حالات ہیں جو ہزاروں برس سے چلے آرہے تھے- اِسی اصر کو قرآن میں دوسرے مقام پر ’فتنہ‘ کہاگیا ہے اور حکم ہوا ہے: وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39)- قرآن کی مذکورہ آیت میں’إصر‘ سے مراد قدیم شرائع نہیں، بلکہ وہ قدیم حالات ہیں جو اہلِ توحید کے لیے رکاوٹ بنے ہوئے تھے-
اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے میں جس کلچر کا عمومی طور پر دبدبہ تھا، وہ شرک ا ور شخصی بادشاہت کے تحت بنا تھا- اِس کلچر نے مذہبی آزادی کا خاتمہ کردیا تھا- اسی بنا پر پچھلے زمانے میں اہلِ ایمان کو ستایا گیا- اِسی بنا پر ساتویں صدی عیسوی کے ربع…
جنگ کی دو قسمیں
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ پیش آئی، اس کی نوعیت کیا تھی، وہ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے: وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39) یعنی تم اُن سے قتال کرو، یہاںتک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب، اللہ کے لیے ہوجائے-
اِس آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے- قدیم زمانے میں اُس وقت کے سیاسی فلسفہ (political philosophy) کی بنا پر، ساری دنیا میں مذہبی جبر کا کلچر قائم تھا- اِس کلچر نے قدیم زمانے میں پُرامن دعوت (peaceful Dawah) کو…
…میں انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے- اِس آزادی کو منسوخ کرنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں- یہی وجہ ہے کہ اِس دنیا میں کوئی چیز معیاری درجے میں نہیں، بلکہ صرف قابلِ عمل (workable) درجے میں حاصل ہوتی ہے، خواہ وہ امن اور عدل ہو یا اور کوئی چیز-
قرآن کی سورہ الانفال میں رسول اور اصحابِ رسول کو ایک حکم اِن الفاظ میں دیاگیا تھا: وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39) یعنی تم اُن سے قتال کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب، اللہ کے لیے ہوجائے-
اِس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ قرآن کے مخصوص اسلوب میں یہی بات ہے- دوسرے الفاظ میں، اِس حکم کا مطلب یہ ہے کہ — اپنی ساری طاقت استعمال کرکے تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری کرو جس کے نتیجے میں ایسا ہو کہ دنیا میں جنگ کی حالت نہ رہے اور…
…زندگی کے تمام معاملات مُستَبِد حکمراں (despotic rulers) کے تحت آگئے- یہ مستبد حکمراں اپنےمزاج کے تحت ہر نئی چیز کے دشمن ہوتے تھے- وہ ہر نئی تحریک کو پوری طاقت سے کچل دیتے تھے، تاکہ لوگوں کے اوپر ان کی حکمرانی غیرمشروط طورپر قائم رہے-
اِسی نظام کا ایک ظاہرہ وہ تھا جس کو قرآن میں فتنہ (8:39)کہاگیا ہے- اِس ظاہرے کا سیکولر نام مذہبی جبر ہے- اِسی مذہبی جبر کی بنا پر قدیم زمانے میں لوگوں کو مذہب توحید اختیار کرنے کی اجازت نہ تھی، کیوں کہ وہ حکمراں کے اختیار کردہ مذہب کے خلاف ہوتا تھا- اِسی بنا پر قدیم زمانے میں موحدین کو قتل کردیا گیا یا آگ میں جلادیا گیا-اِسی بنا پر اصحاب کہف (Seven Sleepers) اپنی بستی کو چھوڑ کر ایک غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے، وغیرہ- قدیم زمانے میں اِس قسم کے جو شدید واقعات پیش آئے، اس کا سبب کوئی سیاسی اختلاف نہ تھا، بلکہ اس کا سبب تمام تر صرف مذہبی اختلاف تھا-
حضرت ابراہیم کے زمانے میںاللہ نے تاریخ میں ایک نیا عمل (process)جاری کیا- یہ عمل انسان کی آزادی کو منسوخ کیے بغیر کیا گیا- اِسی کے ساتھ اسباب کے ماحول کو پوری طرح برقرار رکھا گیا- اِس صورتِ حال کی بنا پر اِس خدائی عمل کے ساتھ ایک شبہہ کا…
…میں- عبد اللہ بن عمر نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ فتنہ کیا ہے- پھر انھوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں سے جنگ کرتے تھے، اور مشرکوں کے یہاں جانا فتنہ تھا، نہ کہ تمھاری طرح اقتدار کے لیے جنگ کرنا (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 4651)
ایک اور روایت میں اِس طرح کے الفاظ آئے ہیں: نافع تابعی کہتے ہیں کہ فتنہ ابن زبیر کے زمانے میں دو آدمی عبد اللہ بن عمر کے پاس آئے - انھوں نے کہا کہ لوگ ہلاک ہورہے ہیں اور آپ عمر بن الخطاب کے بیٹے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں- آپ کو کیا چیز اِس سے روک رہی ہے کہ آپ نکلیں اور اِس جنگ میں شریک ہوں- عبد اللہ بن عمر نے کہا کہ مجھے یہ بات روکتی ہے کہ اللہ نے میرے بھائی کا خون میرے لیے حرام قرار دیا ہے- پھر اُن آدمیوں نے کہا: کیا اللہ نے قرآن میں یہ نہیں فرمایا کہ: وقاتلوہم حتى لا تکون فتنة (8:39) یعنی اُن سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے- اِس کے بعد عبد اللہ بن عمر نے کہا: قاتلنا حتى لم تکن فتنة، وکان الدین للہ- وأنتم تریدون أن تقاتلوا حتى تکون فتنة، ویکون الدین لغیر اللہ(ہم نے جنگ کی، یہاں تک کہ فتنہ ختم ہوگیا اور دین، اللہ کے لیے ہوگیا- اور تم لوگ چاہتے ہو کہ تم جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ لوٹ آئے اور دین دوبارہ غیر اللہ کے لیے ہو جائے)- صحیح البخاری، رقم الحدیث: 4513
نافع تابعی کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبد اللہ بن عمر کے پاس آیا- اس نے کہا کہ اے ابو عبد الرحمن، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ خدا نے اپنی کتاب میں یہ کہا ہے کہ اگر مسلمانوں کے دوگروہ آپس میں لڑیں تو تم اُن کے درمیان صلح کراؤ(49:9)- آپ کو اِس…
…توحید کا عقیدہ مشرکین کے عقیدہ شرک کے خلاف تھا- اِس کا سبب یہ تھا کہ اُس زمانے میں مذہب، سیاسی اقتدار کا ایک حصہ بنا ہوا تھا- اِسی واقعے کو ایک قدیم مقولے میں اِس طرح کہاگیا ہے: الناس على دین ملوکہم (لوگ اپنے بادشاہ کے مذہب پر ہوتے ہیں)-
قدیم زمانے میں مذہب، ریاست (state) سے وفاداری کی علامت بن گیا تھا- جو آدمی بادشاہ کے مذہب پر ہو، وہ ریاست کا وفادار سمجھا جاتا تھا، اور جو آدمی ریاست کے مذہب پر نہ ہو، وہ ریاست کا باغی قرار پاتا تھا- شرک اور اقتدار کے اِس تعلق کی بنا پر قدیم زمانے میں وہ چیز پیداہوئی جس کو قرآن میں فتنہ کہاگیا ہے، یعنی مذہبی جبر(religious persecution) - یہ فتنہ یا مذہبی جبر خدا کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف تھا- خدا کی منشا یہ ہے کہ لوگوں کو مذہب کے معاملے میں آزادئ اختیار (freedom of choice) حاصل ہو، تاکہ اُس کے مطابق، آخرت میں اُن کے مثبت یا منفی مستقبل کا فیصلہ کیا جاسکے- اِس بنا پر اللہ تعالی نے رسول اور اصحاب رسول کو یہ حکم دیا کہ اہلِ شرک اگر پُرامن نصیحت کے ذریعے مذہبی جبر کے اِس کلچر کو ختم کرنے پر راضی نہ ہوں تو تم جنگ کرکے اِس کلچر کو ختم کردو، تاکہ انسان کو اختیار کی آزادی حاصل ہوجائے، جو کہ منصوبہ تخلیق کے مطابق، لازمی طورپر مطلوب ہے-قرآن کے الفاظ (8:39)پر غور کیا جائے تو یہ حکم صرف استیصالِ فتنہ کے لیے تھا، وہ کسی قسم کے نظام (system) کی اقامت یا نفاذ کے لیے نہ تھا، یعنی یہ حکم سلبی معنوں میں تھا، نہ کہ ایجابی معنوں میں- اِس کا مطلب صرف یہ تھا کہ مذہبی آزادی کی راہ میں جو رکاوٹ حائل ہے، وہ ختم ہوجائے- اِس کے بعد یہ آدمی کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ اپنی آزادی کو خدا کی اطاعت کے لیے استعمال کرتا ہے، یا خدا سے انحراف کے لیے-
فتنہ ابن زبیر میں شریک ہونے والوں سے عبد اللہ بن عمر نے کہا تھا کہ: قاتلنا حتى لم تکن فتنة، وکان الدین للہ- وأنتم تریدون أن تقاتلوا حتى تکون فتنة، ویکون الدین لغیر اللہ- اِس کا مطلب، دوسرے لفظوں میں، یہ ہے کہ قرآن میں جنگ کا حکم صرف ایک…
…زیادہ تر فکری مرحلے تک محدود تھا، وہ اب انقلابی مرحلے میں پہنچ گیا۔ اِن تبدیلیوں کی بنا پر یہ ممکن ہوگیا کہ پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ ختم کردیا جائے۔ تاریخ میں انفرادی پیغمبر کا دور ختم ہوجائے اور اجتماعی امت کا دور شروع ہوجائے ، وغیرہ۔
اللہ کی خصوصی نصرت سے، اصحاب رسول کے ذریعے جو انقلابی کام انجام پایا، اُس کا ایک خاص پہلو وہ تھا جس کا ذکر قرآن کی اِس آیت میں کیاگیا ہے: وقاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ، ویکون الدین کلّہ للہ (8:39) ۔ اِس آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد وہ جارحانہ نظام ہے جو قدیم طرز کی شہنشاہیت (imperialism) کی سرپرستی میں قائم تھا۔ اِس شہنشاہی نظام نے ایک ایسا نظام قائم کررکھا تھا جو خدا کے تخلیقی منصوبے کی تنسیخ کے ہم معنی تھا، یعنی آزادیٔ فکر کا خاتمہ۔ اِس لیے خدا کو یہ مطلوب تھا کہ اِس جبری شہنشاہی نظام کو توڑ دیا جائے، تاکہ انسانی قافلے کے سفر میں کوئی مصنوعی رکاوٹ حائل نہ رہے۔
ساتویں صدی عیسوی میں اِس جبری شہنشاہیت کے دو بڑے نمائندے تھے — ایک ساسانی ایمپائر (Sassanid Empire) اور دوسرے، رومن ایمپائر یا بازنتینی ایمپائر(Byzantine Empire)۔ یہ دونوں ایمپائر اتنا زیادہ طاقت ور تھے کہ اصحابِ رسول کے ذریعے ان کو مغلوب…
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے جو تاریخی پراسس جاری ہوا، اس کے چار بڑے مرحلے ہیں— اظہارِ دین، حفاظتِ وحی، تبیینِ حق، ادخالِ کلمہ۔ یہ چاروں مرحلے قیاسی نہیں، بلکہ وہ قرآن اور حدیث کے مطالعے سے واضح طور پر معلوم ہوتے ہیں۔
1 - پہلا مرحلہ وہ ہے جس کو قرآن میں اظہاردین (48: 28)یا استیصالِ فتنہ (8: 39) کہاگیا ہے۔ اِس سے مراد ہے مذہبی جبر (religious persecution) کا خاتمہ اور کامل معنوںمیں مذہبی آزادی (religious freedom) کے دور کو لانا۔ اصحابِ رسول نے اِس کام کو انجام دیا۔ انھوں نے اپنی قربانیوں کے ذریعے شرک کو سیاسی اقتدار سے جدا کردیا۔ اصحابِ رسول کا یہی کارنامہ ہے جس کو قرآن میں وقاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔
2 - دوسرا مرحلہ حفاظتِ وحی کا ہے، وحی متلو بھی اور وحی غیر متلو بھی۔ اِس مرحلے کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 15 میں اس طرح آیا ہے: إنا نحن نزلنا الذکر وإنا لہ لحافظون (15: 9)اِس آیت میں ’’الذکر‘‘سے مراد قرآن ہے۔ آیت میں حفاظتِ وحی کے…
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے جو تاریخی پراسس جاری ہوا، اس کے چار بڑے مرحلے ہیں— اظہارِ دین، حفاظتِ وحی، تبیینِ حق، ادخالِ کلمہ۔ یہ چاروں مرحلے قیاسی نہیں، بلکہ وہ قرآن اور حدیث کے مطالعے سے واضح طور پر معلوم ہوتے ہیں۔
1 - پہلا مرحلہ وہ ہے جس کو قرآن میں اظہاردین (48: 28)یا استیصالِ فتنہ (8: 39) کہاگیا ہے۔ اِس سے مراد ہے مذہبی جبر (religious persecution) کا خاتمہ اور کامل معنوںمیں مذہبی آزادی (religious freedom) کے دور کو لانا۔ اصحابِ رسول نے اِس کام کو انجام دیا۔ انھوں نے اپنی قربانیوں کے ذریعے شرک کو سیاسی اقتدار سے جدا کردیا۔ اصحابِ رسول کا یہی کارنامہ ہے جس کو قرآن میں وقاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔
2 - دوسرا مرحلہ حفاظتِ وحی کا ہے، وحی متلو بھی اور وحی غیر متلو بھی۔ اِس مرحلے کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 15 میں اس طرح آیا ہے: إنا نحن نزلنا الذکر وإنا لہ لحافظون (15: 9)اِس آیت میں ’’الذکر‘‘سے مراد قرآن ہے۔ آیت میں حفاظتِ وحی کے…
…فی الارض ہے۔ تفسیر المنار میں فساد فی الارض کی تفسیر سلب ِامن سے کی گئی ہے(تفسیر المنار، جلد6، صفحہ288)۔ یعنی ایسا فعل انجام دینا ، جس سے امن عامہ ختم ہوتا ہو۔ گویا قتلِ نفس سے مراد انفرادی قتل ہے، اور فساد فی الارض سے مراد اجتماعی قتل ہے۔
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہےوَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ فَإِنِ انْتَہَوْا فَإِنَّ اللَّہَ بِمَا یَعْمَلُونَ بَصِیرٌ (8:39)۔یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ دیکھنے والا ہے ان کے عمل کا۔ اس آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے۔ قرآن میں اس جرم پر قتال(war) کا حکم دیا گیا ہے۔کیوں کہ مذہبی جبر کا فعل عام طور پر حکومت کی طرف سے ہوتاہے۔اس لیے یہ حکم دیا گیا کہ ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ کی یہ حالت ختم ہوجائے۔
قرآن کی یہ آیت بتاتی ہے کہ اسلام میں جنگ کا تصور کیا ہے۔ اس آیت میں لَا تَکُونَ فِتْنَةٌاور وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ دونوں ایک ہی حکم کے دو پہلو ہیں۔ ایک منفی پہلو، اور دوسرا مثبت پہلو۔ فتنہ سے مراد نظام فطرت میں مداخلت ہے،…
اسلام میں جنگ
اسلام میں جنگ سلبی مقصد کے لیے ہے، اسلام میں جنگ ایجابی مقصد کے لیے نہیں۔ یعنی اسلام میں جنگ کسی مانع (obstacle) کو دور کرنے کے لیے ہے، نہ کہ مطلوب (desired) گول کو قائم و نافذ کرنے کے لیے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک رہنما آیت یہ ہے: وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ فَإِنِ انْتَہَوْا فَإِنَّ اللَّہَ بِمَا یَعْمَلُونَ بَصِیرٌ (8:39)۔ یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ دیکھنے والا ہے ان کے عمل کا۔
اس آیت میں واضح طو رپر جنگ کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ فتنہ عملاً ختم ہوجائے۔ صحابی رسول عبد اللہ بن عمر نے فتنہ کو یہاں شرک جارح کے معنی میں لیا ہے(صحیح البخاری، حدیث نمبر 4514)۔ دوسرے لفظوں میں اس کو مذہبی جبر (religious persecution) کہا…
اسلام میں جنگ
اسلام میں جنگ سلبی مقصد کے لیے ہے، اسلام میں جنگ ایجابی مقصد کے لیے نہیں۔ یعنی اسلام میں جنگ کسی مانع (obstacle) کو دور کرنے کے لیے ہے، نہ کہ مطلوب (desired) گول کو قائم و نافذ کرنے کے لیے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک رہنما آیت یہ ہے: وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّى لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّہُ لِلَّہِ فَإِنِ انْتَہَوْا فَإِنَّ اللَّہَ بِمَا یَعْمَلُونَ بَصِیرٌ (8:39)۔ یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ دیکھنے والا ہے ان کے عمل کا۔
اس آیت میں واضح طو رپر جنگ کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ فتنہ عملاً ختم ہوجائے۔ صحابی رسول عبد اللہ بن عمر نے فتنہ کو یہاں شرک جارح کے معنی میں لیا ہے(صحیح البخاری، حدیث نمبر 4514)۔ دوسرے لفظوں میں اس کو مذہبی جبر (religious persecution) کہا…
In the lectures
Cited at 671s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1457s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1486s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2178s — opens the lecture at this moment.
Cited at 337s — opens the lecture at this moment.
Cited at 592s — opens the lecture at this moment.
Cited at 793s — opens the lecture at this moment.
Cited at 805s — opens the lecture at this moment.
Cited at 897s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1023s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1147s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1456s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1493s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1844s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2037s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2684s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2712s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2977s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4519s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
قرآن میں ایک آیت معمولی لفظی فرق کے ساتھ دو جگہ آئی ہے۔ سورہ البقرہ (2:193)، اور سورہ الانفال(398)۔ آخر الذکر آیت یہاں نقل کی جاتی ہے
’’وَقاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللهَ بِما يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ‘‘۔ یعنی، اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں تو اللہ دیکھنے والا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔
فتنہ کے لفظی معنی آزمائش اور ابتلاء ہیں(لسان العرب، جلد 13، صفحہ 317)۔ صحیح بخاری (کتاب النکاح) میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ (صحيح البخاري،حدیث…
اس سلسلے کی تیسری آیت حسب ذیل ہے
وَقاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللهَ بِما يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (8:39)۔ یعنی، اور تم ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں تو اللہ دیکھنے والا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔
بعینہٖ یہی آیت قرآن میں ایک اور جگہ آئی ہے، البتہ وہاں كُلُّهُ کا لفظ نہیں ہے (البقرۃ، 2:193)۔ کہا جاتا ہے کہ اس آیت میں ’’دین اسلام کے پیرووں کو حکم دیا گیا ہے کہ دنیا سے لڑو اور اس وقت تک دم نہ لو، جب تک فتنہ، یعنی ان نظامات کا وجود…
…لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْكَرِهَ الْمُشْرِكُونَ(9:33)۔ یعنی، وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو صحیح رہنمائی اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ وہ اس کو تمام دین پر غالب کر دے اگرچہ شرک کرنے والوں کو یہ کتنا ہی نا گوار ہو ۔
4۔ وَقاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلهِ (8:39)۔ یعنی، اور تم ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین بالکلیہاللہ کے لیے ہو جائے۔
5۔ إِذا جاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ ۔ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْواجاً ۔ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كانَ تَوَّاباً (110:1-3)۔ یعنی، جب اللہ کی نصرت آگئی اور فتح نصیب ہو چکی اور تم نے…
…تک پہنچا۔ اس کے بعد وہ مزید آگے بڑھا۔ وہ اولاً یورپ (اندلس) میںداخل ہوا اور اُس کے بعد وہ ساری دنیا میں پھیل گیا۔ مستقبل میںآنے والے اس انقلاب کا ذکر قرآن میں واضح طورپر موجود ہے۔ یہاں اس سلسلہ میں چند آیتوں کے حوالے نقل کئے جاتے ہیں۔
۱۔ اور تم اُن سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہوجائے۔ (الأنفال ۳۹)
۲۔ آج منکر تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے۔ پستم اُن سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو پورا کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا۔ (المائدہ ۳)
…تک پہنچا۔ اس کے بعد وہ مزید آگے بڑھا۔ وہ اولاً یورپ (اندلس) میںداخل ہوا اور اُس کے بعد وہ ساری دنیا میں پھیل گیا۔ مستقبل میںآنے والے اس انقلاب کا ذکر قرآن میں واضح طورپر موجود ہے۔ یہاں اس سلسلہ میں چند آیتوں کے حوالے نقل کیے جاتے ہیں
1۔ اور تم اُن سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ (الأنفال، 8:39)
2۔ آج منکر تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے۔ پس تم اُن سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو پورا کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا۔ (المائدہ، 5:3)
قتال برائے ختم فتنہ
قرآن میںرسول اوراصحاب رسول کو جو احکام دیے گئے، ان میں سے ایک حکم یہ تھا وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ(8:39)۔ یعنی اور ان سے سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ دیکھتا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔
اس آیت کے دو حصے ہیں۔ یہاں ایک ہی بات کو پہلے منفی اور اس کے بعد مثبت انداز میں بیان کیا گیاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فتنہ کی حالت کو اس طرح ختم کردو کہ پوری طرح غیر فتنہ کی حالت قائم ہو جائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ انسان کی پیدا کردہ مصنوعی…
…اللہ تعالیٰ یہاں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ اگر تم کفر اور اسلام دشمنی سے باز آؤ اور اسلام کو قبول کر لو اور توبہ و اطاعت کا طریقہ اختیار کرو، تو تمہارے زمانۂ کفر کے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔
’’{وَقاتِلُوهُمْ حتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ} إلى أنْ لا يُوجَدَ فيهِم شِرْكٌ قَطّ، {وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلهِ} ويَضْمَحِلَّ عنهُم كُلُّ دِينٍ باطِلٍ ويَبْقَى فيهِم دِينُ الإسلام، {فَإِنِ انْتَهَوْا} عن الكُفْرِ وأَسْلَمُوا، {فَإِنَّ اللهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ} يُثِيبُهُم على إسلامِهِم، {وَإِنْ تَوَلَّوْا} أَعْرَضُوا عن الإيمانِ ولَمْ يَنْتَهُوا، {فَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ مَوْلاكُمْ} ناصِرُكُمْ ومُعِينُكُمْ.‘‘ (تفسيرمدارك التنزيل جلد 1، صفحہ 645)۔یعنی، مطلب یہ ہے کہ ان سے اس وقت تک جنگ کرو جب تک ان کے اندر سے شرک کا بالکل خاتمہ ہو جائے، ان کے تمام باطل ادیان مٹ جائیں اور ان میں صرف ایک اسلام کادین باقی رہ جائے، پھر جب وہ کفر چھوڑ دیں اور اسلام قبول کر لیں تو اللہ تعالیٰ ان کے قبول اسلام کا انھیں اجر دے گا۔ اور اگروہ ایمان نہ لائیں اور کفر کو نہ چھوڑیں تو اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار ہے۔
اصل یہ ہے کہ اس آیت میں جس قتال کا حکم دیا گیا ہے وہ ایک مخصوص قتال ہے، جس کا تعلق آخری رسول سے ہے۔ یہ آیت کے الفاظ میں ’’کافرین‘‘ کے اوپر ’’سنت الاولین‘‘ کا اجراء ہے۔ یہاں کافرین سے مراد آخری رسول کے وہ مخاطبین ہیں جو اتمام حجت کی حد…
…باہمی معاملات کے لیے خدا کی کتاب اور رسول کی سنت کو آخری معیار قرار دے دیا گیا۔ لوگوں کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنا ہر جھگڑا قرآن و سنت کے احکام کے ماتحت طے کریں، خواہ قرآن و سنت کا فیصلہ ان کی مرضی کے موافق ہو یا ان کی مرضی کے خلاف۔
مسلمانوں کو ان کی گمراہی کے واحد سب سے بڑے سبب سے روکا گیا، اور وہ آپس کی نزاع ہے۔ خدا نے آخری دین کو اتنا محفوظ اور مستحکم کر دیا ہے کہ اب دین میں بگاڑ کے لیے شیطان کوئی راستہ نہیں پا سکتا۔ البتہ مختلف قسم کے جھوٹے نزاع کھڑے کرکے وہ مسلمانوں کو آپس میں لڑائے گا۔ مسلمان اگر اس فتنہ سے بچ گئے تو پھر کوئی دوسری چیز انھیں ہر گز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
ایمان کا تقاضہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر امانت کی ادائیگی کا احساس پیدا ہو۔ خدا کے دین کو دوسروں تک پہونچانا بھی ادائیگی امانت ہے۔ لوگوں کے اموال کو انھیں لوٹانا بھی ادائیگی امانت ہے۔ اہل شخص کی اہلیت کا اعتراف کرکے اس کے لیے جگہ خالی کر…
…تھا۔ باہمی لڑائیوں میں مسلمان قتل ہوتے تھے، لیکن مدعو کے خلاف لڑائی میں دعوت کا قتلِ عام ہونے لگا۔ اِس عمل کے نتیجے میں فطری طورپر دعوت کے عمل کو سخت نقصان پہنچا۔ یہی تیسرا دور ہے جس کو ہم نے اوپر کی تقسیم میں اینٹی دعوہ کا نام دیا ہے۔
مسلمان جب تک آپس میں لڑرہے تھے وہ خدا کی نظر میں صرف گنہ گار کی حیثیت رکھتے تھے۔ لیکن جب انھوں نے مدعو قوموں سے لڑنا شروع کیا تو وہ خدا کے غضب کا نشانہ بن گیے۔ قرآن اور حدیث کے مطابق، وہ لعنت کے مستحق قرا ر پائے۔
یہ تیسرا دَور بے حد خطرناک دور ہے۔ یہی وہ دَور ہے جب کہ خدا نے مسلمانوں کو ان کے دشمنوں کے حوالے کردیا۔ وہ ذلّت اور تباہی کے مستحق قرار پائے۔ دو سو سال سے بھی زیادہ مدّت سے مسلمانوں پر یہی دور گزر رہا ہے۔ عزت اور سرفرازی ان سے چھین لی گئی…
…لااکراہ فی الدین سے ٹکراؤ ہو رہا ہے بلکہ آخری رسول کا مشن اپنی نوعیت میں تمام انبیاء سے مختلف قرار پاتا ہے۔ کیوں کہ کسی بھی دوسرے نبی کے بارے میں یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ اس کو یہ حکم ملا تھاکہ وہ تلوارکے زور سے لوگوں کو مسلمان بنائے۔
یہی معاملہ آیت کا بھی ہے۔ یہ آیت معمولی لفظی فرق کے ساتھ دو سورتوں میں آئی ہے (البقرۃ، 2:193؛ الانفال، 8:39)ان دونوں آیتوںمیں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ ’’ان سے جنگ کرتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین خالصتہً اللہ کے لیے ہو جائے اور وہ باز آ جائیں (انتھوا)۔ اس آیت میں تین الفاظ قابل غور ہیں فتنۃ، دین، انتھاء
ابن عباس، قتادہ، سدی، حسن، ابوالعالیہ، مجاہد، ربیع، مقاتل، زید بن اسلم اور دوسرے مفسرین کی تقریباً متفقہ تشریح کے مطابق یہاں فتنہ سے مراد شرک ہے۔ دین کا مطلب توحید ہے اور انتہا کا مطلب ہے شرک سے باز آنا، اس تشریح کے مطابق آیت کا مطلب یہ…