Shukr All cross-references →
Qur'an 7:68
Qur'an 7:68

أُبَلِّغُكُمۡ رِسَٰلَٰتِ رَبِّي وَأَنَا۠ لَكُمۡ نَاصِحٌ أَمِينٌ

I convey to you the messages of my Lord, and I am to you a trustworthy adviser

Explained in 12 book passages and 23 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

In the chapter Al-A‘raf (The Heights) of the Quran, it is mentioned that when the Prophet was assigned the duty of prophethood, he came to his community and said:

I am conveying my Lord’s messages to you and I am your well-wisher and your honest adviser. (7:68)

The Prophet said this in the context of his divine mission. But this declaration also has a greater application in that it gives us two basic principles upon which to build a healthy society, that is, well-wishing and honesty. If you want…

Al-Risala June 2021 A original + quote

…تھی۔ اسی منفی نفسیات کا سبب ہے کہ بظاہر وہ کوئی بھی نام لیں، مثلاً دعوت یا تبلیغ۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ردعمل کی تحریکیں تھیں، اور جو تحریک بطور ردعمل کے اٹھے، اس کے اندر وہی کمی پائی جائے گی، جس کی نشاندہی آپ کے ساتھی نے کی ہے۔

قرآن کی تعلیمات کے مطابق،مسلمان کی حیثیت شاہد کی ہے، اور دوسرے اقوام کی حیثیت مشہود کی(85:3)۔ یعنی دوسرے الفاظ میں مسلمان اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا تعلق ہے۔ داعی اور مدعو کا تعلق ہو، تو لوگوں کے اندر دوسری قوموں کے لیے خیرخواہی کا جذبہ پروان چڑھے گا۔ اس کے برعکس، اگر حریف اور رقیب کا تعلق ہو، تو مسلمان منفی ذہنیت کا شکار ہوجائیں گے، دوسری قوموں کے بارے میں وہ خیرخواہی کے انداز میں نہیں سوچ پائیں گے۔ جب کہ پیغمبر اپنی مدعو قوم سے کہتے تھے:وَأَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ أَمِینٌ (7:68)۔ یعنی میں تمھارا مانت دار خیرخواہ ہوں۔ پیغمبر شعیب نے کہا تھا:وَنَصَحْتُ لَکُمْ وَلَکِنْ لَا تُحِبُّونَ النَّاصِحِینَ (7:79)۔ یعنی میں نے تمہاری خیر خواہی کی مگر تم خیرخواہوں کو پسند نہیں کرتے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی بھلائی چاہنے والوں کو پسند نہیں کرتے ہو، اس کے باوجود میں نے یک طرفہ طور پر تمھارے ساتھ خیرخواہی کی۔

اس منفی مزاج کی بنا پر مسلمانوں میں مختلف قسم کی بے راہ روی پیدا ہوئی۔ اسی بنا پر یہ تحریکیں مسلمانوں کے اندر صحت مند مزاج بنانے میں بری طرح فیل ثابت ہوئی ہیں ۔ حتی کہ تجربہ بتاتا ہے کہ لوگ بظاہر خواہ مختلف قسم کے داعیانہ الفاظ بولیں، لیکن…

Al-Risala September 2020 A original + quote

…عیسوی میں محمد عربی کے ظہور کے بعد انبیاء کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ مگر خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان پھر بھی پیدا ہوکر زمین پر آباد ہورہے تھے۔ اب یہ سوال تھا کہ بعد کو پیدا ہونے والے انسانوں تک خدائی رہنمائی کی نمائندگی کون کرے۔

ساتویں صدی عیسوی میں ختم نبوت سے پہلے خدا کی طرف سے اس رہنمائی کی ذمہ داری پیغمبروں نے ادا کی۔ اس اعتبار سے تمام پیغمبر امت وسط (middle ummah)کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے ایک طرف اللہ رب العالمین تھا اور ان کے دوسری طرف تمام انسان۔ انھوں نے اس رہنمائی کو اللہ سے لیا اور پورے معنوں میں ناصح اور امین (الاعراف، 7:68) بن کر اس کو انسانوں تک پہنچایا۔ختم نبوت کے بعد یہ ذمے داری امت مسلمہ کی ہے کہ پیغمبروں کی طریقے پر تمام انسانوں کو خدا کا پیغام پہنچائے۔یہی اللہ رب العالمین کا مقرر کردہ دعوت حق کا نظام ہے۔

اس نظام میں جو لوگ واسطہ بنیں ، ان کے اوپر فرض ہے کہ وہ اس نظام کے اندر اپنی ذمہ داری کو دریافت کریں، اور پھر پوری تیاری کے ساتھ اس ذمہ داری کی ادائیگی میں لگ جائیں۔ دعوت کا یہ پر امن کام مکمل طور پر غیر سیاسی (non-political) اور نان…

Al-Risala June 2020 A original + quote

انسانی خیر خواہی

قرآن کی سورہ الاعراف میں پیغمبر کی زبان سے اپنے مدعو کے لیے یہ الفاظ آئے ہیں: وَاَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ (7:68)۔ یعنی اور میں تمھارا خیر خواہ اور امین ہوں۔ پیغمبر کی یہ خیر خواہی صرف اپنی قوم کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ اس کی خیر خواہی تمام انسانوں کے لیے ہوتی ہے:

Well-wishing for all mankind

Al-Risala December 2015 A original + quote

…یہ ہے کہ وہ اللہ کے لیے ہو، لیکن ظاہر کے اعتبار سے داعی کی سرگرمیوں کا نشانہ انسان ہوتا ہے۔ اس لیے دعوت کی کامیابی کا معیار یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر انسان فرینڈلی (human-friendly) ہو۔ وہ یک طرفہ طور پر انسان کی خیرخواہی کے جذبے پر مبنی ہو۔

یہی وجہ ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام صبر کے بغیر انجام نہیں دیا جاسکتا۔ اسی لیے دعوت کا حکم دیتے ہوئے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں:وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ۔ (7:74) داعی اپنے مدعو سے کسی شرط کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ داعی کو یک طرفہ طور پر خود یہ ذمہ داری لینا ہوتا ہے کہ داعی کی بات مدعوکے دل میں اتر جائے۔ داعی کے اندر اگر یک طرفہ خیر خواہی کا جذبہ نہ ہو تو وہ کبھی دعوت کا کام حقیقی طور پر انجام نہیں دے سکتا۔ قرآن میں داعی کو ناصح (7:68) کہا گیا ہے۔ ناصح کا مطلب خیرخواہ (well-wisher) ہے۔ داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ یک طرفہ طورپر مدعو کا خیر خواہ ہو۔ اس یک طرفہ خیر خواہی کے بغیر کوئی شخص اللہ کی نظر میں داعی کا مقام نہیں پا سکتا۔ داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ مدعو کی ہدایت کا حریص (9:128) بن جائے۔

Al-Risala June 2015 A original + quote

…ادا کرنا کافی نہیں۔ ضرورت ہے کہ مکمل نظام قائم کرکے لوگوں کے سامنے اس کا عملی مظاہرہ کیا جائے۔ یہ نظامی تصورِ شہادت نہ قرآن میں کہیں مذکور ہے، اور نہ پیغمبروں میں سے کسی پیغمبر نے اس کو انجام دیا، حتیٰ کہ پیغمبر آخر الزماں نے بھی نہیں۔

پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم شاہد (33:45) تھے ۔آپ نے بلاشبہ کامل معنوں میں شہادتِ حق کا کام انجام دیا۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا کہ مکمل نظام کا عملی مظاہرہ کرکے شہادت کا فریضہ انجام دیں، نہ مکی دور میں نہ مدنی دور میں۔ حقیقت یہ ہے کہ شہادت کا یہ کام ، ایک ایسا کام ہے جس کو ـ’’ قول‘‘ کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ داعی کامل معنوں میں ناصح اور امین (7:68) ہو۔ یعنی مدعو کی نسبت سے کامل خیرخواہ(well-wisher)، اور اللہ کی نسبت سے کامل امانت دار (honest)۔

شہادت کا تصور

Al-Risala June 2015 A original + quote

…امن فکری جدوجہد کے ذریعے لوگوں کو بتائے کہ اللہ نے ان کو کس لیے پیدا کیا ہے۔ اور آخرت میں ان کے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا ہے۔ ہر پیغمبر کا مشترک مقصد یہی تھا، اور ہر پیغمبر نے شہادت کے اس عمل کو مکمل طور پر غیر سیاسی انداز میں انجام دیا۔

پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا لیکن کارِنبوت بدستور باقی ہے۔ خاتم النبیین کے بعد تمام انسانی نسلوں کے لیے بھی یہی مطلوب ہے کہ ان کو پیغمبر کی نیابت میں اللہ کا پیغام بدستور پہنچایا جائے، اور قیامت تک پہنچایا جاتا رہے۔ یہ کام بعد کے زمانے میں امتِ محمدی کو انجام دینا ہے۔ یہ گویا نبی کے بعد نبی کے کارِ شہادت کا تسلسل ہے۔ اس عمل کی درست ادائیگی کی شرط یہ ہے کہ اس کو امانت اور خیرخواہی (7:68) کی اسپرٹ کے ساتھ انجام دیا جائے۔

امانت یہ ہے کہ اصل پیغامِ خداوندی میں کسی اور چیز کی ملاوٹ نہ کی جائے۔ اور نصح یہ ہے کہ اس کام کویک طرفہ خیرخواہی کے ساتھ انجام دیا جائے۔ تاکہ مخاطب کے لیے انکار کا کوئی معقول سبب باقی نہ رہے۔

Al-Risala January 2015 A original + quote

انسانی خیر خواہی

قرآن کی سورہ الاعراف میں پیغمبر کی زبان سے اپنے مدعو کے لئے یہ الفاظ آئے ہیں: وَاَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ (7:68)۔ یعنی اور میں تمھارا خیر خواہ اور امین ہوں۔ پیغمبر کی یہ خیر خواہی صرف اپنی قوم کے لئے نہیں ہوتی، بلکہ اس کی خیر خواہی تمام انسانوں کے لئے ہوتی ہے:

Well wishing for all mankind

Al-Risala July 2014 A original + quote

…میں بھر پور طور پر استعمال کریں۔ داعی کی ذمّے داری صرف داعیانہ کردار کے ساتھ ادا کی جاسکتی ہے، داعیانہ کردا ر کے بغیر دعوتی ذمّے داری کو ادا کرنا اُسی طرح ناممکن ہے جس طرح کسی عورت کے لیے مادرانہ شفقت کے بغیر ماں کی ذمّے داری کو ادا کرنا۔

قرآن کے الفاظ میں، دعوت کا آغازنُصح (7:68) سے ہوتا ہے، یعنی مدعو کے لیے یک طرفہ خیر خواہی۔ دعوتی اخلاق کا تقاضا ہے کہ داعی کے دل میں اپنے مدعو کے لیے صرف مثبت جذبات ہوں، منفی جذبات سے اُس کا دل مکمل طورپر خالی رہے۔ اِسی کا نام یک طرفہ خیر خواہی ہے۔ اِس قسم کی یک طرفہ خیر خواہی کے بغیر داعی اپنی داعیانہ ذمّے داری کو ادا نہیں کرسکتا۔

موجودہ دنیا کا نظام اِس طرح بنا ہے کہ یہاں ہمیشہ ایک شخص کو دوسرے شخص سے، اور ایک گروہ کو دوسرے گروہ سے ناخوش گوار تجربات ہوتے رہتے ہیں، ایک کی کوئی بات دوسرے کے لیے اشتعال انگیزی کا سبب بن جاتی ہے۔ یہ فطرت کا نظام ہے، اور فطرت کے نظام کو…

Al-Risala September 2020 A original + quote

…عیسوی میں محمد عربی کے ظہور کے بعد انبیاء کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ مگر خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان پھر بھی پیدا ہوکر زمین پر آباد ہورہے تھے۔ اب یہ سوال تھا کہ بعد کو پیدا ہونے والے انسانوں تک خدائی رہنمائی کی نمائندگی کون کرے۔

ساتویں صدی عیسوی میں ختم نبوت سے پہلے خدا کی طرف سے اس رہنمائی کی ذمہ داری پیغمبروں نے ادا کی۔ اس اعتبار سے تمام پیغمبر امت وسط (middle ummah)کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے ایک طرف اللہ رب العالمین تھا اور ان کے دوسری طرف تمام انسان۔ انھوں نے اس رہنمائی کو اللہ سے لیا اور پورے معنوں میں ناصح اور امین (الاعراف، 7:68) بن کر اس کو انسانوں تک پہنچایا۔ختم نبوت کے بعد یہ ذمے داری امت مسلمہ کی ہے کہ پیغمبروں کی طریقے پر تمام انسانوں کو خدا کا پیغام پہنچائے۔یہی اللہ رب العالمین کا مقرر کردہ دعوت حق کا نظام ہے۔

اس نظام میں جو لوگ واسطہ بنیں ، ان کے اوپر فرض ہے کہ وہ اس نظام کے اندر اپنی ذمہ داری کو دریافت کریں، اور پھر پوری تیاری کے ساتھ اس ذمہ داری کی ادائیگی میں لگ جائیں۔ دعوت کا یہ پر امن کام مکمل طور پر غیر سیاسی (non-political) اور نان…

Al-Risala June 2020 A original + quote

انسانی خیر خواہی

قرآن کی سورہ الاعراف میں پیغمبر کی زبان سے اپنے مدعو کے لیے یہ الفاظ آئے ہیں: وَاَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ (7:68)۔ یعنی اور میں تمھارا خیر خواہ اور امین ہوں۔ پیغمبر کی یہ خیر خواہی صرف اپنی قوم کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ اس کی خیر خواہی تمام انسانوں کے لیے ہوتی ہے:

Well-wishing for all mankind

Al-Risala June 2020 A original + quote

انسانی خیر خواہی

قرآن کی سورہ الاعراف میں پیغمبر کی زبان سے اپنے مدعو کے لیے یہ الفاظ آئے ہیں: وَاَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ (7:68)۔ یعنی اور میں تمھارا خیر خواہ اور امین ہوں۔ پیغمبر کی یہ خیر خواہی صرف اپنی قوم کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ اس کی خیر خواہی تمام انسانوں کے لیے ہوتی ہے:

Well-wishing for all mankind

In the lectures

Cited at 1340s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1502s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1536s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1898s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1982s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2316s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2330s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2442s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2827s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3254s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3762s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4009s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4180s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4417s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4446s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4474s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4487s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5680s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5983s — opens the lecture at this moment.

Cited at 6012s — opens the lecture at this moment.

Cited at 6341s — opens the lecture at this moment.

Cited at 6663s — opens the lecture at this moment.

Cited at 6757s — opens the lecture at this moment.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

…ترجمہ خدائی پیغام کے متن (text) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور صرف قرآن کے ایک درست ترجمے کی اشاعت اور اس کی توسیع کرکے ہم قیامت کے دن خدا کے سامنے یہ کہہ سکتے ہیں کہ— خدایا، میں نے تیری کتاب ہدایت کا صحیح ترجمہ تمام انسانوں تک پہنچا دیا:

O my lord, I have delivered the correct translation of Your book of guidance to mankind.

پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار اپنے اصحاب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایاتھا: ألاہَل بلّغت۔ یعنی کیا میںنے خدا کا پیغام تم تک پہنچا دیا۔ صحابہ نے اِس کے جواب میں کہا: نشہد أنک قد بلّغتَ وأدّیتَ ونصحتَ۔ یعنی ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ…

semantic Raah-e-Amal (p. 136) original + quote

…یہ ایک خوش حال اور طاقتور قوم تھی اور اس کی راجدھانی یمن کا شہر حضر موت تھا۔ اس قوم میں بگاڑ پیدا ہوا تو اس کی اصلاح کے لیے ہود پیغمبر بھیجے گئے۔ غالباً یہ وہی پیغمبر ہیں جن کا نام بائبل میں حبر(Heber) آیا ہے۔ حضرت ہود نے اپنی قوم سے کہا

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ وَاَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِيْنٌ۔ (7:68) یعنی، اے میری قوم، میں تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچا رہا ہوں اور میں تمہارا خیر خواہ اور امین ہوں۔

اس مضمون کی اور آیتیں بھی قرآن میں ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی کتاب کا داعی بننے کے لیے کسی شخص یا گروہ کے اندر دو خاص صفتیں ہونا ضروری ہیں— نُصح اور امانت۔

semantic Diary 1983-1984

نازی ازم اور فاشزم شخصی نظامات ہیں۔ ان کا اوراسی طرح ہر ڈکٹیٹرانہ نظام کا خلاصہ یہ ہے کہ تم وہ کرو جس کام کا میں تم کوحکم دیتا ہوں ، اور میں وہی کروں گا جو تہارے لئے بہتر ہوگا۔

You do what I tell you, and I do what is good for you.

شخصی نظام مذکورہ روش کے لئے بدنام ہیں ۔ مگرحقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں شخصی نظام اور جمہوری نظام میں اس کے سوا کوئی فرق نہیں کہ ایک بے پردہ آمریت ہے اور دوسرے کے اوپر بظا ہر عوامی جمہوریت کا پردہ ڈال دیاگیا ہے۔

خدا کا مستند پیغام

فروری 1999 میں میں نے ٹریونڈرم (کیرالا) کا سفر کیا تھا۔28 فروری 1999 ء کی صبح کو ساڑھے پانچ بجے میں دہلی ایرپورٹ پہنچا۔ یہ نیا ائر پورٹ اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ ایک بہت بڑے ہال کی مانند ہے۔ میں اُس کے اندر کھڑا ہوا تو اُس کی وسعت میرے ذہن…

سینٹ فرانسس آف اسیسی (St. Francis of Assisi) ایک مشہور مسیحی راہب تھے۔ وہ 1182 ء میں پیدا ہوئے اور 1226 ء میں اٹلی میں ان کی وفات ہوئی۔ انھوں نے اپنی ایک دعاء میں کہا تھا کہ —اے خدا، مجھ کو تو امن کے قیام کا ذریعہ بنا

O Lord, Make me an instrument of Your peace.

اِس دعاء کو میں نے اپنی تقریر میں کلمۂ سواء (آل عمران 64 ) کے طورپر استعمال کیا۔ میںنے کہا کہ اسلام اور مسیحیت کے درمیان امن ایک مشترک قدر (common value) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسیسی پیغام بھی امن پر مبنی ہے اور اسلام کا پیغام بھی امن پر…

semantic Quranic Wisdom (p. 278) hadith

…creature must seek the blessings of his Creator. Every man and woman must proceed towards this goal destined by God. This is laid down in the Quran in the chapter Al-Dhariyat (Scattering Winds). The translation of this verse is as follows:

(The Prophet said) Therefore hasten to God; truly, I am sent by Him to give you clear warning. (51:50)

Every man and woman is born on the path of God. Some proceed along this pre-determined path, while others deviate from it. Steadfastness in remaining on the true path is subject to a divine test, and everyone will certainly be put to this…

semantic Tabeer Ki Ghalati (p. 249) original + quote

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بیشتر ایسی آیتوں سے استدلال کیا گیا ہے، جن میں لفظ ’’ رب ‘‘ سرے سے موجود ہی نہیں ۔ مثلاً قوم نوح کے سلسلے میں یہ آیت نقل کی گئی ہے 

إِنِّي ‌لَكُمْ ‌رَسُولٌ ‌أَمِينٌ . فَاتَّقُوا اللهَ وَأَطِيعُونِ (26:107-108)۔ یعنی، میں تمہارے لیے رسول امین ہوں پس خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

کتاب کی تشریح کے مطابق اس آیت میں اخلاق ، معاشرت ، تمدن ، سیاست اور تمام معاملات زندگی میں خدا کو رب یعنی حاکم اور مقتدر اعلیٰ قرار دینے کا ذکر ہے ۔ مگر قطع نظر اس کے کہ یہاں یہ بات نہیں کہی گئی ہے ، جس فقرے میں سرے سے رب کا لفظ ہی موجود…

…سنتِ رسول کا جدید استعمال یہ ہے کہ ہر مسلمان، قرآن کا ڈسٹری بیوٹر (distributor) بن جائے۔ ہر آدمی قرآن کا ترجمہ اپنے پاس رکھے اور جب بھی کسی سے ملاقات ہو تو وہ یہ کہہ کر قرآن کا ایک نسخہ اس کو دے دے—سر، یہ آپ کے لیے اسپریچول گفٹ ہے:

Sir, this is a spiritual gift for you.

26 جون 2011 کو نیویارک سے فلیڈیلفیا جاتے ہوئے ہم لوگ بیٹری ٹنل (Battery Tunnel) سے گزرے۔ یہ ٹنل تقریباً ڈیڑھ میل لمبی ہے۔ وہ بروکلین اور منہاٹن کو جوڑتی ہے اور سمندر کے نیچے بنائی گئی ہے۔اِسی طرح ہم لوگ ایک اور ٹنل سے گزرے۔ اس کا نام ہے —…

semantic Al-Risala september 2009 Qur'an

…فما بلغتَ رسالتہ، واللہ یعصمک من الناس (المائدۃ: 67 )یعنی اے رسول، جوکچھ تمھارے اوپر تمھارے رب کی طرف سے اترا ہے، تم اس کو پہنچا دو۔ او راگر تم نے ایسانہیں کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔اور اللہ لوگوں سے تمھاری حفاظت کرے گا:

O Messenger, deliver what has been revealed to you from your Lord; and if you do it not, then you have not delivered His message, and God will protect you from the peoples.

قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل ذمے داری یہ تھی کہ وہ دعوت الی اللہ کے کام کو مکمل طورپر انجام دیں۔ اِسی کام کی انجام دہی پر اُن کے لیے دوسروں کے مقابلے میں کامل حفاظت کا وعدہ تھا۔ پیغمبر اسلام…

semantic Al-Risala October 2009 Qur'an

…فما بلغتَ رسالتہ، واللہ یعصمک من الناس (المائدۃ 67 )یعنی اے رسول، جوکچھ تمھارے اوپر تمھارے رب کی طرف سے اترا ہے، تم اس کو پہنچا دو۔ او راگر تم نے ایسانہیں کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔اور اللہ لوگوں سے تمھاری حفاظت کرے گا

O Messenger, deliver what has been revealed to you from your Lord; and if you do it not, then you have not delivered His message, and God will protect you from the peoples.

قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل ذمے داری یہ تھی کہ وہ دعوت الی اللہ کے کام کو مکمل طورپر انجام دیں۔ اِسی کام کی انجام دہی پر اُن کے لیے دوسروں کے مقابلے میں کامل حفاظت کا وعدہ تھا۔ پیغمبر اسلام…