Shukr All cross-references →
Qur'an 51:56
Qur'an 51:56

وَمَا خَلَقۡتُ ٱلۡجِنَّ وَٱلۡإِنسَ إِلَّا لِيَعۡبُدُونِ

And I did not create the jinn and mankind except to worship Me

Explained in 17 book passages and 20 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

…discovery. In the world Hereafter, he will receive God’s maarifah in the complete sense. The truth is that maarifah is an intellectual process, which begins in this present world and will continue eternally in the world Hereafter.

Chapter 51 of the Quran tells us that man and the jinns were created for the worship of God alone (51:56).

The purpose of this creation was that man and the jinns should be granted the sublime ability to achieve the realization of God in the highest degree. Therefore, on the one hand, the jinns and men were given the elevated intellectual…

Discovering God (p. 16) A original + quote

High Levels of Maarifah

The Quran tells us that man was created so that he might worship God. In the words of the Quran, “I created the Jinn and mankind only so that they might worship Me.” (51:56) In this verse the worship of God means the realization of God. Discovery of the realization of God is without doubt the highest destination of anyone’s intellectual progress. The noblest is he who can attain this level of realization. There are three kinds of such realization. The experience of realization of the first and second kinds has become a reality in history. So far as the realization of the third kind is concerned, the prospect of it becoming a reality has become achievable only in the 20th century for the first time in history.

The experience of the first kind of discovery was achieved by the prophets. This experience happened at the level of what is seen (ruyat). It is described in the Quran in this verse: “We showed Abraham our Kingdom of the heavens and the…

Discovering God (p. 53) A quoted source

The Purpose of Human Life

This verse of the Quran, ‘I created the jinn and mankind only so that they might worship Me’ (51:56) has been explained by Abdullah ibn Abbas, a companion of the Prophet of Islam, as meaning that ‘worship’ here means realization of God. That is, man has been created by God for His realization. The same has been expressed in a tradition, in these words: “I was a hidden treasure, I wished to be known, so I created Man.” (Kashf al-Khifa, Hadith No. 2016).

The truth is that man’s life is a journey of maarifah, from beginning to end. The initial part of this journey is spent in this present world, while the final and eternal part of it will be spent in the world Hereafter. Maarifah is an…

God And The Universe (p. 76) A original + quote

FROM SCIENCE TO THE REALIZATION OF GOD

The purpose of the creation of man is described in the Quran in these words: “I created the jinn and mankind only so that they might worship Me” (51:56). Here the term, “worship” has been interpreted by Abdullah ibn Abbas, a Companion of the Prophet (Al-Dinawri, al-Mujalasah wa Jawahir al-`Ilm: 225), and his student Mujahid, as obtaining maarifah or realization of God. (Abu Hayyan, Tafsir al-Bahr al-Muhit, Vol. 9, p. 562) In his commentary on the Quran, Ibn Kathir narrated the same thing with reference to Ibn Jurayj. (Vol 7, p. 425)

The realization of God is connected with man’s very being. Man has been fashioned as a creature who possesses free will. One definition of man is a creature with the capacity for conceptual thinking. Conceptual thinking is an ability that…

The chapter Al-Dhariyat (Scattering Winds) of the Quran tells us the purpose of creation in these words:

I created the jinn and mankind only so that they might worship Me: I seek no sustenance from them, nor do I want them to feed Me—it is God who is the great Sustainer, the Mighty One, the Invincible. (51: 56-58)

According to the commentators of the Quran, here worship (ibadat) means marefat. What is marefat? Marefat means realization of God through contemplation. When one realizes God, he falls into a great sense of awe, and hamd is only an…

Al-Risala November 2019 A original + quote

سائنس کی شہادت

انسان کی تخلیق کا مقصد قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ (51:56)۔ یعنی میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ لیعبدون کی تفسیر صحابی عبد اللہ بن عباس کے شاگرد مجاہد تابعی نے لیعرفون سے کی ہے (وقال مجاہد:إلا لیعبدون:لیعرفون)البحر المحیط، لأبی حیان الأندلسی، 9/562۔ یعنی اللہ کی عبادت کرنے کا مطلب ہے اللہ کی معرفت حاصل کریں۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ابن جریج تابعی کے حوالے سے یہی بات نقل کی ہے۔قال ابن جریج:إلا لیعرفون (تفسیر ابن کثیر، 7/425)۔ ابن جریج نے کہا: تاکہ وہ میری معرفت حاصل کریں۔ اس معرفت کا تعلق انسان سے ہے۔

انسان ایک صاحب ارادہ مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کی تعریف ان الفاظ میں کی جاتی ہے کہ انسان کے اندر تصوراتی سوچ (conceptual thinking) کی صلاحیت ہے۔ انسان کے لیے معرفت کا تعین اسی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس اعتبار سے انسان کے لیے…

Al-Risala August 2018 A original + quote

…کی قربانی کرتے ہیں۔ یہ قربانی عام زندگی سے کوئی علیحدہ چیز نہیں، اس کا تعلق انسان کی تمام زندگی سے ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ ایمان کو چاہیے کہ وہ قربانی کی اسپرٹ کے ساتھ دنیا میں رہیں۔ قربانی کی اسپرٹ تمام اسلامی اعمال کا خلاصہ ہے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے :وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ (51:56) ۔یعنی اور میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ۔ عبادت کی حقیقت کیا ہے۔ اس کو پیغمبر ِاسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:أَنْ تَعْبُدَ اللَّہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ، فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 50 ؛صحیح مسلم، حدیث نمبر 8)۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اس کو نہیں دیکھتے تو وہ تم کو دیکھتا ہے۔

اِس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے تصورِ عبادت کے مطابق، انسان کے لیے زندگی کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ انسان، خدا کی ہستی کو اِس طرح دریافت کرے کہ اُس کو ہر لمحہ خدا کی موجودگی (presence) کا احساس ہونے لگے۔

Al-Risala March 2018 A original + quote

سائنس کی شہادت

انسان کی تخلیق کا مقصد قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ (51:56)۔ یعنی اور میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ لیعبدون کی تفسیر صحابی عبد اللہ بن عباس کے شاگرد مجاہد تابعی نے لیعرفون سے کی ہے (وقال مجاہد:إلا لیعبدون:لیعرفون)البحر المحیط، لأبی حیان الأندلسی، 9/562۔ یعنی اللہ کی عبادت کرنے کا مطلب ہے اللہ کی معرفت حاصل کریں۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ابن جریج تابعی کے حوالے سے یہی بات نقل کی ہے۔قال ابن جریج:إلا لیعرفون (تفسیر ابن کثیر، 7/425)۔ ابن جرج نے کہا: تاکہ وہ میری معرفت حاصل کریں۔ اس معرفت کا تعلق انسان سے ہے۔

انسان ایک صاحب ارادہ مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کی تعریف ان الفاظ میں کی جاتی ہے کہ انسان کے اندر تصوراتی سوچ (conceptual thinking) کی صلاحیت ہے۔ انسان کے لیے معرفت کا تعین اسی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس اعتبار سے انسان کے لیے…

Al-Risala may 2015 A original + quote

تخلیق کا مقصد

انسان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے- اس کو قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بتایا گیاہے:وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ (51:56)۔ قرآن کی اس آیت میں لیعبدون کی تفسیر لیعرفون (تفسیر القرطبی) سے کی گئی ہے۔ اس کےمطابق آیت کا مطلب یہ ہے کہ جن اور انس کو اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ خود دریافت کردہ معرفت (self-discovered realization) کی بنیاد پروہ اللہ کے عابد بنیں۔ کائنات کی بقیہ مخلوقات تسخیر کے تحت اللہ کی عابد بنی ہوئی ہیں۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی عقل کو استعمال کرکے اپنے خالق کو دریافت کرے، اور پھر اس کا عابد بن جائے۔

اللہ کا عابد بننا کیا ہے- اللہ کا عابد بننا یہ ہے کہ انسان اپنے خالق کو اس کی صفات کمال کے ساتھ اس طرح دریافت کرے کہ خالق ہی اس کا واحد کنسرن (sole concern) بن جائے۔ اللہ کو واحد کنسرن بنانا کو ئی قانون کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ تمام تر…

Al-Risala April 2015 A original + quote

انسان کا مقصد

انسان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے، وہ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتاہے:وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ( 51:56) اور میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیاہے کہ وہ میری عبادت کریں- عبد اللہ ابن عباس کے شاگرد مجاہد تابعی (وفات: 104ھ) نے إلا لیعبدون کی شرح ان الفاظ میں کی ہے: إلا لیعرفونی (تفسیر القرطبی) یعنی تاکہ وہ میری معرفت حاصل کریں-

یہاں معرفت سے مراد دریافت (discovery) ہے- انسان کو اللہ نے غیر معمولی ذہن (mind) کے ساتھ پیدا کیا ہے- انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے ذہن کو استعمال کرے،وہ تمام متعلق پہلوؤں پر غور کرے، اس طرح اپنے ذاتی غوروفکر (contemplation) کے ذریعہ وہ…

Al-Risala December 2014 A original + quote

انسان کی تخلیق کس لیے

قرآن کی سورہ الذاریات میں انسان کے مقصد ِ تخلیق کو اِن الفاظ میں بیان کیاگیاہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ ؀ مَآ اُرِیْدُ مِنْہُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّمَآ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ ؀ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ ؀ فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِہِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ ؀ فَوَیْلٌ لِّـلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِہِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ (51:56-60) یعنی اور میںنے جنّ اور انسان کوصرف اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔میں ان سے رزق نہیں چاہتا اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھ کو کھلائیں۔ بے شک اللہ ہی روزی دینے والا،زور آور،زبردست ہے۔ پس جن لوگوں نے ظلم کیا، ان کا ڈول بھرچکا ہے، جیسے ان کے ساتھیوں کے ڈول بھرے تھے،پس وہ جلدی نہ کریں۔ پس منکروں کے لیے خرابی ہے ان کے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس ;کے شاگرد مجاہدنے ’لیعبد ون‘ کی تفسیر ’لیعرفونی‘ (تفسیر القرطبی) سے کی ہے- اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اِس آیت میں عبادت سے مراد شکلِ عبادت نہیں ہے، بلکہ روحِ عبادت ہے- یہاں عبادت سے مراد فارم نہیں ہے، بلکہ…

Al-Risala August 2014 A original + quote

عبادت اور عملی تواتر

قرآن میں بتایاگیا ہے کہ عبادت انسان کی تخلیق کا اصل مقصد ہے (51:56)- قرآن میں بار بار اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیاگیا ہے (2:21)- انسان سے جواصل چیز مطلوب ہے، وہ یہی عبادت ہے- اللہ معبود ہے اور انسان اس کا عابد- اِسی عبادتی تعلق کی درستگی پر دین کا مدار ہے-

عبادت کی اصل روح ایک ہے، اور وہ ہے اپنے آپ کو آخری حد تک جھکانا اور پست کرنا (أصل العبودیة: الخضوع والتذلل)- اِس روح عبادت کا اظہار مختلف صورتوں میں ہوتا ہے- اِن میں سے ایک صلوة (نماز) ہے- صلوة کی اصل حقیقت خشوع (23:2) ہے- لیکن صلوة کا…

Al-Risala April 2013 A original + quote

…تھا کہ اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ بنیادی طورپر دو ہے— توحید اور عدل- توحید (Monotheism) سے مراد ان کے نزدیک انفرادی عقیدہ تھا، اور عدل (justice) سے مراد عدل پر مبنی اجتماعی نظام- انھیں دو تصورات کے تحت انھوں نے پورے اسلام کی تشریح کی تھی-

مگر میرے مطالعہ کے مطابق، اسلام کا یہ تصور درست نہیں- حقیقت یہ ہے کہ توحید اورعدل دونوں ہی انفرادی نوعیت کے احکام ہیں- توحید سے مراد ہے ایک انسان کا انفرادی عقیدہ، اور عدل سے مراد ہے، ایک انسان کا انفرادی سلوک- قرآن کے مطابق، اللہ تعالی نے انسان کو معرفت کے لیے پیدا کیا ہے (51:56)- انسان کو اللہ تعالی نے عقل دی- اب انسان سے یہ مطلوب ہےکہ وہ عقل کو استعمال کرکے اپنے خالق کو دریافت کرے- یہی دریافت، خدا پرستانہ زندگی کا آغاز ہے- اِس دریافت کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے- جب کسی شخص کو حقیقی معنوں میں یہ دریافت ہوتی ہے تو اس کے بعد فطری طورپر اس کی پوری زندگی میں ایک انقلاب برپا ہوجاتا ہے- اس کی پوری شخصیت ایک نئی شخصیت بن جاتی ہے، وہ پورے معنوں میں ایک ربانی انسان بن جاتاہے-

اسی قسم کاربانی انسان تخلیق کا اصل مقصود ہے- اِسی قسم کے ربانی افراد، نہ کہ ربانی معاشرہ، خدا کے تخلیقی منصوبے کا اصل مقصود ہیں- موجودہ دنیا میں ایسےافراد پوری انسانی تاریخ سے منتخب کیے جائیں گے اور پھر اِن منتخب افراد کی بنیاد پر آخرت کی…

Al-Risala August 2012 A original + quote

جنتی افراد، جنتی معاشرہ

قرآن کی سورہ الذاریات کی ایک آیت یہ ہے: وما خلقتُ الجن والإنس إلا لیعبدون (51: 56) یعنی میں نے جن اور انس کو صرف اِس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ صحابی مفسر عبد اللہ بن عباس نے اِس آیت میں ’لیعبدون‘ کی تشریح ’لیعرفون‘سے کی ہے، یعنی جنات اورانسان کی پیدائش کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ کی معرفت (realization) حاصل کریں۔

معرفت کا تعلق فرد سے ہے۔ کیوں کہ یہ ایک فرد ہی کا ذہن ہے جو اِس موضوع پر غور وفکر کرتاہے اور پھر اس کا ذہن اُس فکری واقعے کا تجربہ کرتاہے جس کو معرفت کہاجاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خالق کے منصوبے کے مطابق، تخلیق کا نشانہ یہ ہے کہ ایسے…

Al-Risala July 2012 A original + quote

مقصد ِ تخلیق

فلاسفہ اورمفکرین کے یہاں زیر بحث سوالات میں سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ تخلیق کی غایتِ اصلی (raison d’être) کیا ہے۔ سیکولر مفکرین نے اس کا جواب مختلف انداز سے دینے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً یہ کہ تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے خالق خود اپنی تکمیل چاہتا ہے۔ قرآن میںاِس سوال کا جواب ایک آیت میں اِس طرح دیاگیا ہے: وما خلقتُ الجن والإنس إلا لیعبدون (51:56) یعنی میں نے جن اور انس کو صرف اِس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔

صحابی مفسر عبد اللہ بن عباس نے اِس آیت کی تشریح اِس طرح کی ہے کہ اِس آیت میں ’لیعبدون‘ سے مراد ’لیعرفون‘ ہے، یعنی خدا کی عبادت کرنے سے مراد ہے خدا کی معرفت حاصل کرنا۔

Al-Risala July 2011 A original + quote

…کا واقعہ اگر درست ہو تو یہ فطرت کے قانون کو تلاش کرنے کا آغاز تھا، نہ کہ خدا کو تلاش کرنے کا آغاز۔ ہر پیغمبر نے یہی بتایا کہ اِس عالمِ موجودات کا ایک خدا ہے اور انسان کو چاہیے کہ وہ اُسی خدا کو اپنا معبود بنائے اور اُسی کی عبادت کرے۔

قرآن اِس پیغمبرانہ الہام کا ایک محفوظ ومستندمجموعہ ہے۔ قرآن کی سورہ الذاریات میں انسان کے مقصد تخلیق کو اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: وما خلقت الجن والانس إلا لیعبدون (51: 56) یعنی میں نے جن کواور انسان کو صرف اِس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ اِس آیت میں لیعبدون سے مراد لیعرفون ہے، یعنی اِس آیت میں، اللہ کی عبادت سے مراد اللہ کی معرفت حاصل کرنا ہے۔

خدا کی معرفت کیا ہے۔ خدا اِس کائنات کا خالق ہے۔ اُس کی معرفت یہ ہے کہ تخلیق میں خالق کو دریافت (discover) کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تخلیق اپنے آپ میں خالق کا مکمل تعارف ہے۔ ہمیشہ انسان تخلیق میں خالق کو دیکھتا رہاہے۔ موجودہ زمانے میں نیچر…

Al-Risala July 2011 A original + quote

…وہ قول یہ ہے: کنتُ کنزاً مخفیا، فأحببتُ أن اُعرف، فخلقتُ خلقاً، فبی عرفونی (کشف الخفاء، 2/1011 ) یعنی میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، پھر میں نے چاہا کہ میں جانا جاؤں، پھر میں نے ایک مخلوق (انسان) کو پیدا کیا، پھر انسان نے مجھ کو پہچانا۔

میرا بے آمیز وجدان کہتا تھا کہ یہ قول بالکل درست ہے۔ یہ معرفت کے معاملے کی بالکل صحیح تعبیر ہے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اِس روایت کی کوئی قابلِ اعتماد سند موجود نہیں۔ اِس لیے علما عام طور پر اِس کو مستند نہیں مانتے۔ تاہم میں اس کی تحقیق کرتا رہا۔ چناں چہ میں اِس دریافت تک پہنچا کہ خود قرآن میں اِس تصور کی اصل موجود ہے۔ قرآن کی سورہ الذاریات میں یہ آیت آئی ہے: وما خلقتُ الجن والإنس إلا لیعبدون (51: 56) ۔ مشہور صحابی رسول عبد اللہ بن عباس نے اِس آیت میں ’’عبادت‘‘ سے مراد معرفت لیا ہے۔ انھوںنے اِس آیت کی تفسیر اِن الفاظ میں کی ہے: وماخلقت الجن والإنس إلا لیعرفون۔

اِس مثال میں، میرے وجدان نے مجھ کو ایک علم تک پہنچایا، وہ یہ کہ اس کی اصل خود قرآن میں موجود ہے۔ اِس کے بعد میںنے مزید غور کیا تو میں اِس دریافت تک پہنچا کہ مذکورہ قول دراصل ایک تفسیری قول ہے جس کو قائل نے آیتِ قرآنی کی رعایت سے، حدیثِ…

In the lectures

Cited at 632s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1856s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2093s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4863s — opens the lecture at this moment.

Cited at 82s — opens the lecture at this moment.

Cited at 131s — opens the lecture at this moment.

Cited at 664s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1006s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1056s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1259s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1691s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1698s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2092s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2219s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3337s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3521s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4231s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4809s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5513s — opens the lecture at this moment.

Cited at 6242s — opens the lecture at this moment.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

semantic Tabeer Ki Ghalati (p. 383) original + quote

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل چیز جو اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے، وہ عبادت ہے 

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (51:56)۔ یعنی، میں نے جنوں اورانسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔

اس بات کو قرآن میں بار بار مختلف انداز سے دہرایا گیا ہے ۔ میں چند آیتیں نقل کروں گا۔

…انسان کو سوچنے والا دماغ دیا ہے جو کسی اور کو نہیں دیا۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ غور وفکر کے ذریعے تخلیقات میں چھپے ہوئے آلاء اللہ کو دریافت کرے، اور استعجاب کے درجے میںاُن کا اعتراف کرے۔ گویا کہ قرآن کی مذکورہ آیت میں یہ کہا گیا ہے

I created man only to discover and appreciate the wonders of God.

تہذیب کا سفر دراصل اِسی عارفانہ دریافت کا سفر تھا، مگر اِس سفر کا ابھی ایک فی صد سے بھی بہت کم حصہ طے ہوا تھا کہ اس کی حد آگئی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ کلمات اللہ یا آلاء اللہ ابھی لامتناہی حد تک باقی ہیں، پھر کیا ایسا ہوگا کہ انسانی تاریخ…

مذہب انسانی تخلیق نہیں

مذہب کو بے اعتبار ثابت کرنے کے لیے موجودہ زمانہ میں جو کوششیں کی گئی ہیں ، ان میں سے ایک کوشش وہ ہے جس کا تعلق علم الانسان (anthropology) سے ہے۔ علم الانسان ، انسانی معاشرہ کا مطالعہ کرتا ہے۔ اس فن کے ماہرین نے یہ د عویٰ کیا کہ قدیم انسانی…

دورِ جديد كے بهت سے فلسفى هيومن ازم كے نقطه نظر كے حامى بن گئے۔ مثلاً جرمن فلسفى لدوگ فيور باخ (Ludwig Feverbach) جس كى وفات 1872 ميں هوئي، اس نے لكھا هے كه — انسان هى خدا هے۔ اس كے سوا كوئى اور خدا نهيں

God is nothing other than man himself.

امريكى فلسفى وليم جيمس (William James) جس كى وفات 1910 ميں هوئي، وه بھى هيومن ازم كا حامى تھا، انگلش فلسفى جولين هكسلے (Julian Huxley) جس كى وفات 1975 ميں هوئي، اس نے هيومن ازم كى حمايت ميں ايك كتاب لكھي۔ اس كا ٹائٹل يه هے

دورِ جدید کے بہت سے فلسفی ہیومن ازم کے نقطہ نظر کے حامی بن گئے- مثلاً جرمن فلسفی لدوگ فیور باخ (Ludwig Feverbach) جس کی وفات 1872 میں ہوئی، اس نے لکھا ہے کہ — انسان ہی خدا ہے- اس کے سوا کوئی اور خدا نہیں:

God is nothing other than man himself.

امریکی فلسفی ولیم جیمس (William James) جس کی وفات 1910 میں ہوئی، وہ بھی ہیومن ازم کا حامی تھا، انگلش فلسفی جولین ہکسلے (Julian Huxley) جس کی وفات 1975 میں ہوئی، اس نے ہیومن ازم کی حمایت میں ایک کتاب لکھی- اس کا ٹائٹل یہ ہے:

semantic Izhar-e-Deen (p. 12) original + quote

…فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْرَفَ، فَخَلَقْتُ خَلْقًا، فَبِي عَرَفُونِي(کشف الخفاء، جلد 2، صفحہ 132)۔ یعنی، میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، پھر میں نے چاہا کہ میں جانا جاؤں، پھر میں نے ایک مخلوق (انسان) کو پیدا کیا، پھر انسان نے مجھ کو پہچانا۔

میرا بے آمیز وجدان کہتا تھا کہ یہ قول بالکل درست ہے۔ یہ معرفت کے معاملے کی بالکل صحیح تعبیر ہے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اِس روایت کی کوئی قابلِ اعتماد سند موجود نہیں۔ اِس لیے علما عام طور پر اِس کو مستند نہیں مانتے۔ تاہم میں اس کی تحقیق کرتا رہا۔ چنانچہ میں اِس دریافت تک پہنچا کہ خود قرآن میں اِس تصور کی اصل موجود ہے۔ قرآن کی سورۃ الذاریات میں یہ آیت آئی ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ (51:56)۔ یعنی، اور میں نے جنّوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا فرمایا کہ وہ میری عبادت کریں۔ مشہور صحابی رسول عبد اللہ بن عباس نے اِس آیت میں ’’عبادت‘‘ سے مراد معرفت لیا ہے۔ انھوں نے اِس آیت کی تفسیر اِن الفاظ میں کی ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْرِفُونِ۔

اِس مثال میں، میرے وجدان نے مجھ کو ایک علم تک پہنچایا، وہ یہ کہ اس کی اصل خود قرآن میں موجود ہے۔ اِس کے بعد میںنے مزید غور کیا تو میں اِس دریافت تک پہنچا کہ مذکورہ قول دراصل ایک تفسیری قول ہے جس کو قائل نے آیتِ قرآنی کی رعایت سے، حدیثِ…

…ازم کا فلسفہ بیان کیا۔ ان کی تقریر کا خلاصہ جو میری سمجھ میں آیا وہ یہ تھا کہ بدھا کی خاص توجہ انسان کے مصائب (suffering) پر تھی۔ بدھا کا اصل موضوع انسان تھا۔ انھوں نے بتایا کہ بدھا کی توجہ کا مرکز انسان تھا نہ کہ کوئی فوق الفطری وجود:

Buddha’s concern was merely man rather than any kind of supernatural being.

ان کی تقریر میں غور سے سنتا رہا پھر میں نے سوچا کہ مسلمانوں میں کچھ لوگ گوتم بدھ کو پیغمبر بتاتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ گوتم بدھ دراصل ذو الکفل کی بدلی ہوئی صورت ہے۔ مگر بظاہر یہ نظریہ ناقابل فہم معلوم ہوتا ہے۔ گوتم بدھ کی اہمیت اس اعتبار…

…دیتا رہتا ہوں ۔ مگر ابھی تک اس کا کوئی خاص اثر سامنے نہیں آیا۔ حاضرین میں سے ایک خاتون نے کہا کہ آپ جن لوگوں کو کتابیں دیتے ہیں، کیا آپ ان لوگوں کے لیے دعا بھی کرتے ہیں۔ انھوں نے عربوں کے مخصوص سادہ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ نہیں:

I have not prayed for them.

وہ عربی کے علاوہ اچھی انگریزی زبان بھی جانتے تھے۔ شیخ عبدالرحمن الشرفی نے بتایا کہ اُنھوں نے راقم الحروف کی کتاب گاڈ ارائزز (God Arises) بڑی تعداد میں منگوا کر تعلیم یافتہ مسلمانوں اور غیر مسلموں میں تقسیم کیا ہے۔

semantic Diary 1983-1984

نیوٹن کی شہرت جب بڑھی تو اس کے بارہ میں کسی شخص نے کہا کہ آپ غیرمعمولی صلاحیتوں والے آدمی ہیں۔ نیوٹن نے اس کا جو جواب دیا وہ انگریزی میں اس طرح نقل کیا گیا ہے :

I had no special sagacity only the power of patient thought.

(میرے اندر کوئی خصوصی قابلیت نہیں ،صرف انتھک طور پر سوچتے رہنے کی قوت) اسی طرح میں کہوں گا کہ میرے اندر کوئی امتیازی لیاقت نہیں ۔ اگر کوئی چیز ہے تو وہ صرف یہ کہ میں بے اعترافی کو atford نہیں کرسکتا۔

semantic Diary 1983-1984 quoted source

26 ستمبر 1983

قرآن میں ہے کہ جنات اور انسان کو میں نے صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں (الذاریات 56 )مجاہد کا قول ہے کہ میں نے ان کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری معرفت حاصل کریں۔ ثعلبی نے کہا کہ یہ قول عمدہ ہے۔ کیوں کہ اگر وہ ان کو پیدا نہ کرتا تو اس کا وجود اور اس کی توحید پہچانی نہ جاتی (تـالمـعـاهـدومـاخـلقتهـمالاليعـرفـوني. قالالثعلبي : هذاقولحسن لانه لولم يخلقهم لمـاعـرفوجـودةوتـوحـيـده )

آیت کی یہ نہایت صحیح تشریح ہے ۔ جہاں تک میں نے سمجھا ہے، بندوں سے اصلا جو چیز مطلوب ہے وہ معرفت رب ہے۔ یعنی اللہ کے وجود کا زندہ ادراک، اس کو دیکھے بغیردیکھ لینا۔ اپنے آس پاس اس کی موجودگی(presence) کو محسوس کرنے لگنا۔