Shukr All cross-references →
Qur'an 5:32
Qur'an 5:32

مِنۡ أَجۡلِ ذَٰلِكَ كَتَبۡنَا عَلَىٰ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ أَنَّهُۥ مَن قَتَلَ نَفۡسَۢا بِغَيۡرِ نَفۡسٍ أَوۡ فَسَادٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ ٱلنَّاسَ جَمِيعٗا وَمَنۡ أَحۡيَاهَا فَكَأَنَّمَآ أَحۡيَا ٱلنَّاسَ جَمِيعٗاۚ وَلَقَدۡ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُنَا بِٱلۡبَيِّنَٰتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرٗا مِّنۡهُم بَعۡدَ ذَٰلِكَ فِي ٱلۡأَرۡضِ لَمُسۡرِفُونَ

Because of that, We decreed upon the Children of Israel that whoever kills a soul unless for a soul or for corruption [done] in the land - it is as if he had slain mankind entirely. And whoever saves one - it is as if he had saved mankind entirely. And our messengers had certainly come to them with clear proofs. Then indeed many of them, [even] after that, throughout the land, were transgressors

Explained in 11 book passages and 23 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Quranic Wisdom (p. 15) A original + quote

…two brothers, Cain and Abel. They were the sons of Adam, the first man to be settled on earth. For some reason a controversy arose between the brothers. After a heated exchange, Cain killed Abel. This was the first murder in human history.

Narrating this story the Quran says in the chapter Al-Ma’idah (The Table): “That was why We laid it down for the Children of Israel that whoever killed a human being—except as a punishment for murder or for spreading corruption in the land—shall be regarded as having killed all mankind, and that whoever saved a human life shall be regarded as having saved all mankind.” (5:32)

This verse not only makes a legal provision in the case of a murder, but it also gives us an ideology of life which can be summarized as follows: Differences are a part of human life, you cannot eliminate them. So, if you have issues with…

…For no good reason, the elder brother, Cain, became angry and killed his younger brother, Abel. This was a very serious crime, after which God sent His guidance to the prophet of that time. This divine guidance is quoted thus in the Quran:

That was why We laid it down for the Children of Israel that whoever killed a human being—except as a punishment for murder or for spreading corruption in the land—shall be regarded as having killed all mankind, and that whoever saved a human life shall be regarded as having saved all mankind. (5:32)

Al-Risala March 2020 A original + quote

دوقرآنی آیات

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِی الْأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا(5:32)۔ یعنی جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا۔

قرآن کی اس آیت کے مطابق، انسان کو قتل کرنا، سب سے بڑا سوشل کرائم (social crime)ہے۔ اس معاملے میں استثنا صرف یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے ایک انسان کو عمداً (intentionally) قتل کردیا، تو وہ قابلِ گردن زدنی قرار پائے گا۔ اس سلسلے میں دوسری چیز…

…اس حادثے میں تقریباً تین ہزار آدمی فوری طور پر ہلاک ہوگئے۔ اس واقعہ میں ملوث انیس مسلم ہائی جیکر بھی ہلاک ہوگئے۔چار مسلمان جنھوں نے جہاز کو آخری مرحلہ میں چلایا تھا ، ان کے نام یہ ہیں: محمد عطا، مروان الشحی ، ہانی حنجور، زیاد جراح۔

یہ واقعہ گیارہ ستمبر 2001 کو نیویارک میں ہوا تھا۔ سال 1437 ھ میں کیلنڈر کے اتفاق کی بنا پر عید الاضحی اسی تاریخ (9/11)کےقریب ہوئی ہے۔مگر منصوبے کےاعتبار سے دیکھاجائے تو دونوں واقعے میں فرق ہے۔پہلےواقعہ میںانسان کو ہلاک کرنے کا منصوبہ تھا، تو عید الاضحی کی ابراہیمی یادگار انسان کو زندگی دینے کا منصوبہ ہے۔ اس لحاظ سے عید الاضحی مسلمانوں کو یاد دلارہی ہے کہ تم انسان کی ہلاکت کا منصوبہ چھوڑو ، اور انسان کو زندگی دینے کا منصوبہ بناؤ۔ قرآن کی ایک آیت میں دونوں قسم کے منصوبے کے فرق کو اس طرح بتایا گیا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: اسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا۔ (المائدہ،5:32)

پیغمبر ابراہیم بن آزر تینوں سامی مذاہب یہودیت، عیسائیت، اور اسلام کے مورث اعلیٰ تھے۔ وہ عراق کے قدیم شہر اُر (Ur)میں پیدا ہوئے۔ وہ 175 سال زندہ رہے، اور 1985 ق م میں ان کی وفات ہوئی۔ وہ پورے معنوں میں ایک مین آف مشن تھے۔ انھوں نے اپنی…

Al-Risala October 2017 A original + quote

…مثلاً جارحیت کے خلاف ایک جائز جنگ میں بھی صرف مقاتل (combatant) پر حملہ کیا جاسکتا ہے، غیر مقاتل (non-combatant) پر حملہ کرنا کسی بھی عذر کی بنا پر جائز نہیں(البقرۃ 190:) ۔ کسی انسان کو قتل کرنا اسلام کے نزدیک انتہائی حد تک ناروا فعل ہے۔

یہاں اس سلسلہ میں قرآن کی دو آیتیں نقل کی جاتی ہیں جس سے اس معاملہ کی شدت کا اندازہ ہوگا۔ پہلی آیت کا تعلق عام انسان سے ہے۔اس آیت کاترجمہ یہ ہے: اسی سبب ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جوشخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اُس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا۔ (5:32)۔

دوسری آیت مومن کے قتل کے بارے میں ہے۔ اُس کا ترجمہ یہ ہے: اور جو شخص کسی مسلمان کو جان کر قتل کرے تو اُس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اُس پر اللہ کا غضب اور اُس کی لعنت ہے اور اللہ نے اُس کے لیے بڑا عذاب تیار کررکھا ہے۔…

Al-Risala february 2017 A original + quote

…کسی تاویل کی گنجائش نہ ہو۔ مزید یہ کہ قتل کا فیصلہ ایک با اختیار جج کرسکتا ہے۔ کوئی اور شخص یا گروہ کسی کو قتل کرنےکا ہرگز مجاز نہیں۔قتل کا حکم لگانے سے پہلے لوگوں کو چاہیے کہ وہ قرآن کی اس آیت کو باربار پڑھیں:

مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِی الْأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا (5:32) ۔ یعنی جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے انسانوں کو بچا لیا۔

قتل اور زندگی

قرآن میں بتایا گیاہے کہ ایک انسان کو مارنا سارےانسانوں کو مارڈالنے کے برابر ہے، اور ایک انسان کو زندگی دینا سارے انسانوں کو زندگی دینے کے برابر ہے (5:32)۔

اس معاملے کی اتنی زیادہ سنگینی (seriousness) کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ معاملہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے براہِ راست طورپر اللہ رب العالمین کا معاملہ ہے۔ اگر چہ بظاہر وہ انسان کا معاملہ دکھائی دیتاہے۔

Al-Risala June 2015 A other source

اس کے مطابق اہل ایمان کو یہ کرنا ہے کہ وہ کسی کو بھی اپنا دشمن نہ سمجھیں، بلکہ بلاتفریق ہر ایک کو اپنا دوست بنانے کی کوشش کریں— یہی دعوہ اسپرٹ ہے، اور اسی کا نام دعوت الی اللہ ہے۔

اسی طرح ان لوگوں کو قرآن کی وہ آیت یاددلاناہے، جس میں قتل کی برائی کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِی الْأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا (5:32)۔جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے انسانوں کو بچا لیا۔

اسی طرح ان لوگوں کو یہ بتانا کہ مسلمان کا مسلمان کو مارنا قرآن کے مطابق ایک جہنمی فعل ہے۔ اس سلسلے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَمَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیہَا وَغَضِبَ اللَّہُ عَلَیْہِ…

Al-Risala February 2015 A original + quote

قتلِ انسان

قرآن کی سورہ المائدة میں قتلِ انسان کا حکم بتایا گیاہے- آیت کے الفاظ یہ ہیں: مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢابِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا ۭوَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا (5:32)- یعنی جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایاتو گویا اس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا-

خدا کی شریعت میں سب سے زیادہ سنگین جرم (serious crime) یہ ہے کہ کسی حقیقی سبب کے بغیر ایک انسان دوسرے انسان کو قتل کردے- ایسے ایک انسانی قتل کو قرآن میں سارے انسانوں کو قتل کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے- اس کا سبب یہ ہے کہ ایسا ایک واقعہ…

Al-Risala March 2012 A original + quote

There was a forbidden tree in Paradise. There is also a forbidden tree in this world, and that is violence.

جو لوگ تشدد میں ملوث ہوں، اُن کو اپنے اِس جرم کی یہ بھاری قیمت دینی پڑے گی کہ وہ جنت میں داخلے سے محروم کردئے جائیں۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم اور اُن کی بیوی حوا جب کرۂ ارض پر بسائے گئے تو یہاں آغاز ہی میں ایک حادثہ پیش آیا۔ آدم کے دو بیٹوں ، قابیل اور ہابیل کے درمیان نزاع ہوئی، یہاں تک کہ قابیل نے ہابیل کو مار ڈالا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اِس واقعے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا کہ : ’’جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اِس کے کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اُس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا‘‘ ۔ (5: 32)

قرآن میں اِس قسم کے سخت الفاظ کسی بھی دوسرے جرم کے لیے نہیں آئے ہیں۔ اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ سنگین جرم یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کے خلاف جارحانہ تشدد کرے۔ اِس معاملے میں اگر کوئی استثنا ہے تو وہ ایک…

Al-Risala March 2020 A original + quote

دوقرآنی آیات

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِی الْأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا(5:32)۔ یعنی جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا۔

قرآن کی اس آیت کے مطابق، انسان کو قتل کرنا، سب سے بڑا سوشل کرائم (social crime)ہے۔ اس معاملے میں استثنا صرف یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے ایک انسان کو عمداً (intentionally) قتل کردیا، تو وہ قابلِ گردن زدنی قرار پائے گا۔ اس سلسلے میں دوسری چیز…

In the lectures

Cited at 595s — opens the lecture at this moment.

Cited at 730s — opens the lecture at this moment.

Cited at 156s — opens the lecture at this moment.

Cited at 189s — opens the lecture at this moment.

Cited at 216s — opens the lecture at this moment.

Cited at 250s — opens the lecture at this moment.

Cited at 255s — opens the lecture at this moment.

Cited at 279s — opens the lecture at this moment.

Cited at 625s — opens the lecture at this moment.

Cited at 716s — opens the lecture at this moment.

Cited at 900s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1190s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1279s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1322s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1576s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1735s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2309s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2509s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2663s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3067s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3830s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4510s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5538s — opens the lecture at this moment.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

semantic Al-Risala August 2011 original + quote

…حتی کہ ناحق قتل، وغیرہ۔ اِس کی ایک انتہائی مثال قرآن میں آدم کے بیٹوں، ہابیل اور قابیل کی صورت میں بیان کی گئی ہے۔ ہابیل اور قابیل دونوں سگے بھائی تھے۔ قابیل کسی بات پر اپنے بھائی ہابیل سے غصہ ہوگیا اور بے رحمی کے ساتھ اس کو مار ڈالا۔

ابتدائی دور کے اِس واقعے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ایک قانون مقرر فرمایا۔ اِس قانون کا ذکر قرآن کی سورہ المائدہ میںاِن الفاظ میں آیا ہے مِن أجل ذلک، کتبنا علی بنی إسرائیل أنہ من قتل نفساً بغیر نفسٍ أو فساد فی الأرض فکأنما قتل الناس جمیعاً، ومَن أحیاہا فکأنما أحیا الناس جمیعاً۔ ولقد جائتہم رسلنا بالبینات ثم إن کثیراً منہم بعد ذلک فی الأرض لمسرفون (5: 32) یعنی اِسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا اُس نے زمین میں فساد برپا کیا ہو، تو گویا اُس نے سارے آدمیوں کو قتل کرڈالا، اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اُس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا۔ اور ہمارے پیغمبر ان کے پاس کھلے ہوئے احکام لے کر آئے، اِس کے باوجود اُن میں سے بہت سے لوگ زمین میں زیادتیاں کرتے ہیں۔

آدم اور حوا سے انسان کی نسل شروع ہوئی۔ توالد وتناسل کے نتیجے میں انسان کی آبادی بڑھتی رہی۔ دھیرے دھیرے انسان زمین کے مختلف علاقوں میں آباد ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے شروع ہی سے انبیاء کے ذریعے ہدایت کا سلسلہ شروع کیا۔ ہر مقام پر اور ہر گروہ…

semantic Amne Alam (p. 95) Qur'an

تشددکا اسلامائزیشن

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پہلے انسان حضرت آدم کے بیٹے قابیل نے ایک ذاتی سبب سے اپنے بھائی ہابیل کو مار ڈالا۔ اس کے بعد قرآن میں ارشاد ہوا ہے اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے انسانوں کو بچا لیا۔ اور ہمارے پیغمبر ان کے پاس کھلے ہوئے احکام لے کر آئے۔ اس کے باوجود ان میں سے بہت سے لوگ زمین میں زیادتیاں کرتے ہیں۔( 5:32)

اس سے معلوم ہوا کہ خدائی شریعت میں انسان کو قتل کرنا ہمیشہ سے ایک بدترین جرم قرار دیا گیا ہے۔ مگر انسان اپنی سرکشی کی بناپر ہر زمانہ میں اس کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے۔ تاہم اس معاملہ میں قدیم وجدید کے درمیان ایک فرق پایا جاتا ہے۔ قدیم انسان…

semantic Tazkirul Quran (Urdu) original + quote

…کرلیں۔ جو لوگ حق کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کریں اللہ ان سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت چھین ليتا ہے۔ وہ اپنی مخالفانہ سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیںیہاں تک کہ خدا کے فرشتے ان کو مجرم کی حیثیت سے پکڑ کر خدا کی عدالت میں حاضر کردیتے ہیں۔

یہودپر آسمانی ہدایت اتاری گئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلیں تو آخرت میں اللہ ان کو جنت دے گا۔ انھوں نے پہلے حصہ کو بھلا دیاالبتہ دوسرے حصہ کو اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا۔ یہود ہر قسم کے بگاڑ میں مبتلا ہوئے۔ اس کے باوجود اپنے نجات یافتہ ہونے کے بارے میں ان کا یقین اتنا بڑھا ہوا تھا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ اب ان کو نئے نبی کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ وہ بطور طنز کہتے —’’ہمارے دل تو بند ہیں‘‘۔ ان کا یہ جملہ رسول کو ماننے کے بارے میں اپنی عدم صلاحیت کا اظہار نہ تھا بلکہ اس اطمینان کا اظہار تھا کہ وہ رسول کے ساتھ خواہ جو بھی سلوک کریں ان کی نجات کسی حال میں مشتبہ ہونے والی نہیں۔ جو لوگ اس قسم کے جھوٹے یقین میں مبتلا ہوں وہ ہر قسم کے جرم پر جری ہوجاتے ہیں۔ خدا پر ایمان ان کو جس عہد خداوندی میں باندھتا ہے اس کو توڑنا ان کے لیے کچھ مشکل نہیں ہوتا۔اللہ کی طرف سے ظاہر ہونے والے کھلے دلائل کے باوجود وہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ حق کی طرف بلانے والے جو ان کی غیر خدا پرستانہ روش کو بے نقاب کرتے ہیں ان کے خلاف جارحانہ اقدام کرنے سے وہ نہیں جھجھكتے۔ حتی کہ جھوٹی تہمت لگا کر داعی کو بے عزت کرنے سے بھی انھیں کوئی چیز نہیں روکتی۔ یہود نے حضرت مسیح کے خلاف قتل کا اقدام کیا اور اس کے بعد فخریہ کہا کہ ’’مریم کا بیٹا مسیح جو اپنے کو رسول کہتا تھا اس کو ہم نے مارڈالا‘‘۔ مگر اس قسم کے لوگ اللہ کے داعیوں کے خلاف جو بھی سازش کریں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اللہ کی طاقت اور اس کا حکیمانہ نظام ہمیشہ حق کے داعیوں کی پشت پر ہوتا ہے۔ ہر سازش اور مخالفت کے باوجود وہ اس وقت تک اپنا کام جاری رکھنے کی توفیق پاتے ہیں جب کہ وہ اپنے حصہ کا کام مکمل کرلیں۔ جو لوگ حق کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کریں اللہ ان سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت چھین ليتا ہے۔ وہ اپنی مخالفانہ سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیںیہاں تک کہ خدا کے فرشتے ان کو مجرم کی حیثیت سے پکڑ کر خدا کی عدالت میں حاضر کردیتے ہیں۔

یہودپر آسمانی ہدایت اتاری گئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلیں تو آخرت میں اللہ ان کو جنت دے گا۔ انھوں نے پہلے حصہ کو بھلا دیاالبتہ دوسرے حصہ کو اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا۔ یہود ہر قسم کے بگاڑ میں مبتلا ہوئے۔…

semantic Tazkirul Quran (Urdu) original + quote

…کرلیں۔ جو لوگ حق کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کریں اللہ ان سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت چھین ليتا ہے۔ وہ اپنی مخالفانہ سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیںیہاں تک کہ خدا کے فرشتے ان کو مجرم کی حیثیت سے پکڑ کر خدا کی عدالت میں حاضر کردیتے ہیں۔

یہودپر آسمانی ہدایت اتاری گئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلیں تو آخرت میں اللہ ان کو جنت دے گا۔ انھوں نے پہلے حصہ کو بھلا دیاالبتہ دوسرے حصہ کو اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا۔ یہود ہر قسم کے بگاڑ میں مبتلا ہوئے۔ اس کے باوجود اپنے نجات یافتہ ہونے کے بارے میں ان کا یقین اتنا بڑھا ہوا تھا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ اب ان کو نئے نبی کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ وہ بطور طنز کہتے —’’ہمارے دل تو بند ہیں‘‘۔ ان کا یہ جملہ رسول کو ماننے کے بارے میں اپنی عدم صلاحیت کا اظہار نہ تھا بلکہ اس اطمینان کا اظہار تھا کہ وہ رسول کے ساتھ خواہ جو بھی سلوک کریں ان کی نجات کسی حال میں مشتبہ ہونے والی نہیں۔ جو لوگ اس قسم کے جھوٹے یقین میں مبتلا ہوں وہ ہر قسم کے جرم پر جری ہوجاتے ہیں۔ خدا پر ایمان ان کو جس عہد خداوندی میں باندھتا ہے اس کو توڑنا ان کے لیے کچھ مشکل نہیں ہوتا۔اللہ کی طرف سے ظاہر ہونے والے کھلے دلائل کے باوجود وہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ حق کی طرف بلانے والے جو ان کی غیر خدا پرستانہ روش کو بے نقاب کرتے ہیں ان کے خلاف جارحانہ اقدام کرنے سے وہ نہیں جھجھكتے۔ حتی کہ جھوٹی تہمت لگا کر داعی کو بے عزت کرنے سے بھی انھیں کوئی چیز نہیں روکتی۔ یہود نے حضرت مسیح کے خلاف قتل کا اقدام کیا اور اس کے بعد فخریہ کہا کہ ’’مریم کا بیٹا مسیح جو اپنے کو رسول کہتا تھا اس کو ہم نے مارڈالا‘‘۔ مگر اس قسم کے لوگ اللہ کے داعیوں کے خلاف جو بھی سازش کریں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اللہ کی طاقت اور اس کا حکیمانہ نظام ہمیشہ حق کے داعیوں کی پشت پر ہوتا ہے۔ ہر سازش اور مخالفت کے باوجود وہ اس وقت تک اپنا کام جاری رکھنے کی توفیق پاتے ہیں جب کہ وہ اپنے حصہ کا کام مکمل کرلیں۔ جو لوگ حق کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کریں اللہ ان سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت چھین ليتا ہے۔ وہ اپنی مخالفانہ سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیںیہاں تک کہ خدا کے فرشتے ان کو مجرم کی حیثیت سے پکڑ کر خدا کی عدالت میں حاضر کردیتے ہیں۔

یہودپر آسمانی ہدایت اتاری گئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلیں تو آخرت میں اللہ ان کو جنت دے گا۔ انھوں نے پہلے حصہ کو بھلا دیاالبتہ دوسرے حصہ کو اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا۔ یہود ہر قسم کے بگاڑ میں مبتلا ہوئے۔…

semantic Tazkirul Quran (Urdu) original + quote

…کے احوال میں ایسے کھلے ہوئے دلائل موجود ہوتے ہیں جو اس کی خدائی حیثیت کو قطعیت کے ساتھ ثابت کررہے ہوتے ہیں۔ مگر ظالم انسان ہر خدائی نشانی کی ایک ایسی توجیہہ ڈھونڈ لیتاہے جس کے بعد وہ اس کو رد کرکے اپنی سرکشی کی زندگی کو بدستور جاری رکھے۔

یہودپر آسمانی ہدایت اتاری گئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلیں تو آخرت میں اللہ ان کو جنت دے گا۔ انھوں نے پہلے حصہ کو بھلا دیاالبتہ دوسرے حصہ کو اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا۔ یہود ہر قسم کے بگاڑ میں مبتلا ہوئے۔ اس کے باوجود اپنے نجات یافتہ ہونے کے بارے میں ان کا یقین اتنا بڑھا ہوا تھا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ اب ان کو نئے نبی کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ وہ بطور طنز کہتے —’’ہمارے دل تو بند ہیں‘‘۔ ان کا یہ جملہ رسول کو ماننے کے بارے میں اپنی عدم صلاحیت کا اظہار نہ تھا بلکہ اس اطمینان کا اظہار تھا کہ وہ رسول کے ساتھ خواہ جو بھی سلوک کریں ان کی نجات کسی حال میں مشتبہ ہونے والی نہیں۔ جو لوگ اس قسم کے جھوٹے یقین میں مبتلا ہوں وہ ہر قسم کے جرم پر جری ہوجاتے ہیں۔ خدا پر ایمان ان کو جس عہد خداوندی میں باندھتا ہے اس کو توڑنا ان کے لیے کچھ مشکل نہیں ہوتا۔اللہ کی طرف سے ظاہر ہونے والے کھلے دلائل کے باوجود وہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ حق کی طرف بلانے والے جو ان کی غیر خدا پرستانہ روش کو بے نقاب کرتے ہیں ان کے خلاف جارحانہ اقدام کرنے سے وہ نہیں جھجھكتے۔ حتی کہ جھوٹی تہمت لگا کر داعی کو بے عزت کرنے سے بھی انھیں کوئی چیز نہیں روکتی۔ یہود نے حضرت مسیح کے خلاف قتل کا اقدام کیا اور اس کے بعد فخریہ کہا کہ ’’مریم کا بیٹا مسیح جو اپنے کو رسول کہتا تھا اس کو ہم نے مارڈالا‘‘۔ مگر اس قسم کے لوگ اللہ کے داعیوں کے خلاف جو بھی سازش کریں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اللہ کی طاقت اور اس کا حکیمانہ نظام ہمیشہ حق کے داعیوں کی پشت پر ہوتا ہے۔ ہر سازش اور مخالفت کے باوجود وہ اس وقت تک اپنا کام جاری رکھنے کی توفیق پاتے ہیں جب کہ وہ اپنے حصہ کا کام مکمل کرلیں۔ جو لوگ حق کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کریں اللہ ان سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت چھین ليتا ہے۔ وہ اپنی مخالفانہ سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیںیہاں تک کہ خدا کے فرشتے ان کو مجرم کی حیثیت سے پکڑ کر خدا کی عدالت میں حاضر کردیتے ہیں۔

یہودپر آسمانی ہدایت اتاری گئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلیں تو آخرت میں اللہ ان کو جنت دے گا۔ انھوں نے پہلے حصہ کو بھلا دیاالبتہ دوسرے حصہ کو اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا۔ یہود ہر قسم کے بگاڑ میں مبتلا ہوئے۔…

semantic Tazkirul Quran (Urdu) original + quote

…کرلیں۔ جو لوگ حق کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کریں اللہ ان سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت چھین ليتا ہے۔ وہ اپنی مخالفانہ سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیںیہاں تک کہ خدا کے فرشتے ان کو مجرم کی حیثیت سے پکڑ کر خدا کی عدالت میں حاضر کردیتے ہیں۔

یہودپر آسمانی ہدایت اتاری گئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلیں تو آخرت میں اللہ ان کو جنت دے گا۔ انھوں نے پہلے حصہ کو بھلا دیاالبتہ دوسرے حصہ کو اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا۔ یہود ہر قسم کے بگاڑ میں مبتلا ہوئے۔ اس کے باوجود اپنے نجات یافتہ ہونے کے بارے میں ان کا یقین اتنا بڑھا ہوا تھا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ اب ان کو نئے نبی کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ وہ بطور طنز کہتے —’’ہمارے دل تو بند ہیں‘‘۔ ان کا یہ جملہ رسول کو ماننے کے بارے میں اپنی عدم صلاحیت کا اظہار نہ تھا بلکہ اس اطمینان کا اظہار تھا کہ وہ رسول کے ساتھ خواہ جو بھی سلوک کریں ان کی نجات کسی حال میں مشتبہ ہونے والی نہیں۔ جو لوگ اس قسم کے جھوٹے یقین میں مبتلا ہوں وہ ہر قسم کے جرم پر جری ہوجاتے ہیں۔ خدا پر ایمان ان کو جس عہد خداوندی میں باندھتا ہے اس کو توڑنا ان کے لیے کچھ مشکل نہیں ہوتا۔اللہ کی طرف سے ظاہر ہونے والے کھلے دلائل کے باوجود وہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ حق کی طرف بلانے والے جو ان کی غیر خدا پرستانہ روش کو بے نقاب کرتے ہیں ان کے خلاف جارحانہ اقدام کرنے سے وہ نہیں جھجھكتے۔ حتی کہ جھوٹی تہمت لگا کر داعی کو بے عزت کرنے سے بھی انھیں کوئی چیز نہیں روکتی۔ یہود نے حضرت مسیح کے خلاف قتل کا اقدام کیا اور اس کے بعد فخریہ کہا کہ ’’مریم کا بیٹا مسیح جو اپنے کو رسول کہتا تھا اس کو ہم نے مارڈالا‘‘۔ مگر اس قسم کے لوگ اللہ کے داعیوں کے خلاف جو بھی سازش کریں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اللہ کی طاقت اور اس کا حکیمانہ نظام ہمیشہ حق کے داعیوں کی پشت پر ہوتا ہے۔ ہر سازش اور مخالفت کے باوجود وہ اس وقت تک اپنا کام جاری رکھنے کی توفیق پاتے ہیں جب کہ وہ اپنے حصہ کا کام مکمل کرلیں۔ جو لوگ حق کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کریں اللہ ان سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت چھین ليتا ہے۔ وہ اپنی مخالفانہ سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیںیہاں تک کہ خدا کے فرشتے ان کو مجرم کی حیثیت سے پکڑ کر خدا کی عدالت میں حاضر کردیتے ہیں۔

عکرمہ کہتے ہیں کہ کوئی یہودی یا عیسائی نہیں مرے گا یہاں تک کہ وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے (لَا يَمُوتُ النَّصْرَانِيُّ وَلَا الْيَهُودِيُّ حَتَّى يُؤْمِنَ بِمُحَمَّدٍصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) تفسير ابن كثير، جلد…

semantic Tameer-e-Shakhsiyat (p. 458) unverified

…تعلق مخصوص طور پر اہلِ کتاب سے ہے۔ اس خدائی قانون کا اطلاق، پیغمبرِاسلام کے ظہورسے پہلے، سابق اہلِ کتاب، یہود پر ہوا اور اب اس خدائی قانون کا تعلق مسلم امّت سے ہو گیا ہے جو کہ پیغمبرِآخرالزماںکے ظہور کے بعد اہلِ کتاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اِس خدائی قانون کے تعلق سے یہود کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کا ذکر قرآن میںاِس طرح آیا ہےہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں بتا دیا تھا کہ تم دوبارہ زمین (شام) میں خرابی کروگے اور بڑی سرکشی دکھائوگے۔پھر جب ان میں سے پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے بھیجے۔نہایت زور والے۔ وہ گھروں میں گھُس پڑے اوروعدہ پورا ہوکر رہا۔ پھر ہم نے تمہاری باری ان پر لوٹادی اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تم کو زیادہ بڑی جماعت بنا دیا۔ اگر تم اچھا کروگے تو تم اپنے لیے اچھا کروگے اور اگر تم برا کروگے تب بھی اپنے لیے بُرا کروگے۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے بندے بھیجے کہ وہ تمہارے چہرے کو بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المقدس) میں گھُس جائیں۔ جس طرح اس میں پہلی بار گھُسے تھے، اور جس چیز پر ان کا زور چلے اس کو برباد کردیں۔ بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہارے اوپر رحم کرے۔ اور اگر تم پھر وہی کروگے تو ہم بھی وہی کریںگے۔ اور ہم نے جہنم کو منکرین کے لیے قید خانہ بنا دیا ہے (17:4-8)۔

اس آیت میں یہود کی تاریخ کے دو ایسے واقعے کا ذکر ہے جب کہ غیر یہودی حکمراں نے یہودی قوم کے اوپر چڑھائی کر کے ان کو سخت تباہی سے دو چار کیا۔ پہلا واقعہ 586قبل مسیح میں (عراق) کے غیر یہودی حکمراںنبو کَدنضر (Nebuchadnezar) کے ذریعے پیش آیا،…

…افراد ضرور قتل کیے گئے ہیں جن کے ساتھ دوسرے اسباب، مثلاًنقض عہد(غداری اوربغاوت) کا جرم شامل تھا۔ مگر مجرد لفظی ایذارسانی کی بنیاد پر اس قسم کے قتل عام کا نہ کبھی کسی عالم نے نام زد فتوی دیا اور نہ کبھی کسی حاکم نے اس پر عمل درآمد کیا۔

بعض افراد جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لے کر قتل کرادیا، یاجن سے جنگ کی وہ براہِ راست خدائی حکم سے تھا جو صرف پیغمبر کے لیے خاص ہو تا ہے۔ تمام پیغمبروںکے لیے اللہ تعالی کی یہ سنت رہی ہے کہ جب ان پر خدا کا پیغمبر اتمام حجت کردے تو اس کے بعد ان کے لیے زمین پر زندہ رہنے کا حق باقی نہ رہے۔

پچھلے پیغمبروں کی مخاطب قوموں کے ساتھ اس سنت الٰہی کا ظہور زیادہ تر اس طرح ہوا کہ سمندر یا طوفان یا زلزلہ جیسی قدرتی آفات کے ذریعہ انھیں تباہ کردیا گیا (العنکبوت29:40)۔ مگر مخصوص مصالح کی بنا پر پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی…

semantic Al-Risala February 2016 unverified

…تعلق مخصوص طور پر اہلِ کتاب سے ہے۔ اس خدائی قانون کا اطلاق، پیغمبرِاسلام کے ظہورسے پہلے، سابق اہلِ کتاب، یہود پر ہوا اور اب اس خدائی قانون کا تعلق مسلم امّت سے ہو گیا ہے جو کہ پیغمبرِآخرالزماںکے ظہور کے بعد اہلِ کتاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اِس خدائی قانون کے تعلق سے یہود کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر17میں اِس طرح آیا ہے:ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں بتا دیا تھا کہ تم دوبارہ زمین (شام) میں خرابی کروگے اور بڑی سرکشی دکھائوگے۔پھر جب ان میں سے پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے بھیجے۔نہایت زور والے۔ وہ گھروں میں گھُس پڑے اوروعدہ پورا ہوکر رہا۔ پھر ہم نے تمہاری باری ان پر لوٹادی اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تم کو زیادہ بڑی جماعت بنا دیا۔ اگر تم اچھا کروگے تو تم اپنے لیے اچھا کروگے اور اگر تم برا کروگے تب بھی اپنے لیے بُرا کروگے۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے بندے بھیجے کہ وہ تمہارے چہرے کو بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المقدس) میں گھُس جائیں۔ جس طرح اس میں پہلی بار گھُسے تھے، اور جس چیز پر ان کا زور چلے اس کو برباد کردیں۔ بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہارے اوپر رحم کرے۔ اور اگر تم پھر وہی کروگے تو ہم بھی وہی کریںگے۔ اور ہم نے جہنم کو منکرین کے لیے قید خانہ بنا دیا ہے۔ (بنی اسرائیل 4-8 :)

اس آیت میں یہود کی تاریخ کے دو ایسے واقعے کا ذکر ہے جب کہ غیر یہودی حکمراں نے یہودی قوم کے اوپر چڑھائی کر کے ان کو سخت تباہی سے دو چار کیا۔ پہلا واقعہ 586قبل مسیح میں (عراق) کے غیر یہودی حکمراں\نبو کَدنضر (Nebuchadnezar)کے ذریعے پیش آیا،…

semantic Tazkirul Quran (Urdu) unverified

…گا جس کی تعمیل تمھارے لیے بے حد مشکل ہو۔ ۳۔ اس واقعہ کے ذریعہ انسانوں کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ دوسری زندگی اسی طرح ایک ممکن زندگی ہے جیسے پہلی زندگی۔ اللہ ہر آدمی کو مرنے کے بعد زندہ کردے گا اور اس کو دوبارہ ایک نئی دنیا میں اٹھائے گا۔

حضرت موسیٰ کے زمانہ میں بنی اسرائیل میں قتل کا ایک واقعہ ہوا۔ قاتل کا پتہ لگانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبی کے واسطہ سے ان کو یہ حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کرو اور اس کا گوشت مقتول پر مارو، مقتول اللہ کے حکم سے قاتل کا نام بتادے گا۔ یہ ایک معجزاتی تدبیر تھی جو چند مقاصد کے لیے اختیار کی گئی ۱۔ مصر میں لمبی مدت تک قیام کرنے کی وجہ سے بنی اسرائیل مصری تہذیب اور رسوم سے متاثر ہوگئے۔ مصری قوم گائے کو پوجتی تھی۔ چنانچہ مصریوں کے اثر سے بنی اسرائیل میں بھی گائے کے مقدس ہونے کا ذہن پیدا ہوگیا۔ جب مذکورہ واقعہ ہوا تو اللہ نے چاہا کہ اس واقعہ کے ذیل میں ان کے ذہن سے گائے کے تقدس کو توڑا جائے۔ چنانچہ قاتل کا پتہ لگانے کے لیے گائے کے ذبح کی تدبیر اختیار کی گئی۔ ۲۔ اسی طرح بنی اسرائیل نے یہ غلطی کی تھی کہ فقہی موشگافی (hair splitting)اور بحث کے نتیجہ میں خدا کے سادہ دین کو ایک بوجھل دین بنا ڈالا تھا۔ چنانچہ مذکورہ واقعہ کے ذیل میں ان کو یہ سبق دیاگیا کہ اللہ کی طرف سے جو حکم آئے اس کو سادہ معنوں میں لے کر فوراً اس کی تعمیل میں لگ جاؤ۔ کھو دکرید کا طریقہ اختیار نہ کرو۔ اگر تم نے ایسا کیا کہ حکم کی تفصیلات جاننے اور اس کے حدود متعین کرنے کے لیے موشگافیاںکرنے لگے توتم سخت آزمائش میں پڑ جاؤ گے۔ اس طرح ایک سادہ حکم شرائط کا اضافہ ہوتے ہوتے ایک سخت حکم بن جائے گا جس کی تعمیل تمھارے لیے بے حد مشکل ہو۔ ۳۔ اس واقعہ کے ذریعہ انسانوں کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ دوسری زندگی اسی طرح ایک ممکن زندگی ہے جیسے پہلی زندگی۔ اللہ ہر آدمی کو مرنے کے بعد زندہ کردے گا اور اس کو دوبارہ ایک نئی دنیا میں اٹھائے گا۔

حضرت موسیٰ کے زمانہ میں بنی اسرائیل میں قتل کا ایک واقعہ ہوا۔ قاتل کا پتہ لگانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبی کے واسطہ سے ان کو یہ حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کرو اور اس کا گوشت مقتول پر مارو، مقتول اللہ کے حکم سے قاتل کا نام بتادے گا۔ یہ ایک…