Qur'an 48:1
Qur'an 48:1
إِنَّا فَتَحۡنَا لَكَ فَتۡحٗا مُّبِينٗا
Indeed, We have given you, [O Muhammad], a clear conquest
Explained in 19 book passages
and 24 lecture moments.
Cite / permalink: quran/48:1
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
The Quran holds interaction to be of great importance. Interaction should definitely be engaged in, whatever the situation. This principle is laid down in the chapter Al-Fath (Victory). The translation of the relevant verses is as follows:
Truly, We have granted you a clear victory, so that God may forgive you your past and future sins and complete His favour to you and guide you to a straight path, and so that God might bestow on you His mighty help. (48:1-3)
These Quranic verses have a historical background. The Prophet of Islam started a mission in Arabia, which was completely peaceful. But at that time people did not have the religious freedom that we have today. They were, therefore,…
…rule over it is the greatest kind of success. But, according to the Quran, peace is the summum bonum. While political victory is limited in its scope, the ambit of peace is unlimited. Peace is therefore greater than political rule.
In the chapter Al-Fath (Victory), the Quran refers to the Hudaybiyyah Agreement—a peace treaty drawn up between the Prophet and his opponents, which was finalized in the sixth year of the Hijra calendar. The Quran mentions it as a ‘clear’ victory (48:1)—a victory which is beyond any doubt.
Political rule is good only for rulers and it is bad for all those who are ruled. In contrast, peace has no such negative aspect.
…معاہدے کا یہ تاریخ ساز فائدہ ہو ا کہ اسلامی تحریک جنگی انحراف سے ہٹ کر دعوت الی اللہ کے راستے پر آگئی۔ اِس کے بعد رسول اور اصحابِ رسول کو یہ موقع ملا کہ وہ نہ صرف عرب میں، بلکہ بیرونِ عرب تک اسلامی دعوت کے کام کو منظم طورپر پھیلا سکیں۔
حدیبیہ ایگری مینٹ کی اِسی غیر معمولی اہمیت کی بنا پر اُس کو فتح مبین (الفتح، 48:1)کہا گیا ہے، یعنی کھلی ہوئی فتح۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ حدیبیہ ایگری مینٹ فریقِ مخالف کی شرطوں پر کیاگیا تھا۔ حتی کہ اس کے بارے میں صحابہ کی اکثریت کا یہ خیال تھا کہ یہ معاہدہ پسپائی کا معاہدہ ہے۔ اِس کے باوجود کیوں قرآن نے اس کو فتحِ مبین قرار دیا۔
قرآن کا یہ اعلان دراصل فطرت کے اس قانون کا بیان ہےکہ اس دنیا میں ٹکراؤ کے مقام پر پیچھے ہٹنے والے آگے بڑھتے ہیں۔ یہاں شکست پر راضی ہونے والے کو کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، اِس دنیامیں ہار کا نتیجہ جیت کی صورت میں…
End of Dawah through the Prophet, beginning of Dawah through the followers of the Prophet, continuation of prophetic role through the followers of the Prophet.
قرآن کی سورہ نمبر 48 معاہدۂ حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی۔ معاہدۂ حدیبیہ امن کا معاہدہ تھا۔ معاہدہ حدیبیہ کیا تھا۔ معاہدہ حدیبیہ کا مقصد تھا — جنگ کے حالات کو ختم کرکے امن کے حالات پیدا کرنا۔ اِس معاہدے کے بعد پیغمبر اسلام اور آپ کے مخالفین کے درمیان مکمل طورپر جنگ بندی ہوگئی اور طرفین کے درمیان امن کی حالت قائم ہوگئی۔ اِس کے بعد معتدل حالات میں دعوتی کام کرنا ممکن ہوگیا۔امن کا یہ معاہدہ پوری تاریخ کا ایک انوکھا معاہدہ تھا۔ یہ فریقِ ثانی کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طورپر مان کر انجام پایا تھا۔ بظاہر وہ پسپائی کا ایک معاہدہ تھا، لیکن معاہدے کی تکمیل کے بعد قرآن میں یہ آیت اتری:اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا ۔ لِّیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَ نْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِیْمًا۔ وَّیَنْصُرَکَ اللّٰہُ نَــصْرًا عَزِیْزًا (48:1-3)۔یعنی بے شک ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی، تاکہ اللہ تمہاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کردے، اور تمھارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کردے، اور تم کو سیدھا راستہ دکھائے، اور تم کو زبردست مدد عطا کرے۔
تاریخ کے مطابق، معاہدۂ حدیبیہ کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی سیاسی فتح حاصل نہیں ہوئی۔ یہ معاہدہ بظاہر فریقِ ثانی کے مقابلے میں شکست کا واقعہ تھا، نہ کہ فتح کا واقعہ۔ اِس کے باوجود قرآن میں کیوں اُس کو فتح ِ مبین کہاگیا ۔…
…الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُہُ وَتِلْکَ الْأَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ (3:140)۔ یعنی احد کی جنگ میں اگر تم کو زخم پہنچا ہے تو اس سے پہلے بدر کی جنگ میں مشرکین کو زخم پہنچ چکا ہے۔ اور ہم ان ایام کولوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں ۔
اسی طرح 6 ہجری میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان وہ واقعہ پیش آیا جس کو صلح حدیبیہ کہاجاتا ہے۔ یہ صلح بظاہر مسلمانوں کی سیاسی شکست کے ہم معنی تھی۔ مگر قرآن میں جب اس پر تبصرہ کیاگیا تو برعکس طورپر، اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا: إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِینًا (48:1) یعنی ہم نے تم کو تمھارے حریف کے اوپر کھلی فتح دے دی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بظاہر سیاسی شکست کے باوجود اس معاملے میں تم کو اخلاقی فتح حاصل ہوئی ہے، جو آخر کار مکمل فتح بننے والی ہے،وغیرہ۔اس خدائی تربیت نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسا انسان بنا دیا جو منفی طرز فکر سے مکمل طور پر خالی تھا۔ آپ مثبت فکر میں اتنا زیادہ بڑھے ہوئے تھے کہ بلاشبہ آپ کو دنیا کا سب سے بڑا مثبت مفکر (positive thinker) کہا جاسکتا ہے۔
اللہ پر اعتماد
…نمبر3187)۔یعنی اے علی، اس کو مٹادو۔ اے اللہ ، تو جانتا ہے کہ میں تیرا رسول ہوں۔ اے علی، مٹادو اور لکھو، یہ وہ (دفعات) ہیں جن پر محمد بن عبد اللہ نے صلح کیا۔ اس کے بعد صلح کا معاہدہ طے پاگیا، اور آپ اپنے اصحاب کے ہمراہ مدینہ واپس آگئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معاملہ بلاشبہ اللہ کی رہنمائی کے مطابق تھا۔ اللہ کی رہنمائی کے بغیر آپ ایسا نہیں کرسکتے تھے۔ سورہ الفتح میں اس کی بابت یہ الفاظ آئے ہیں: وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُسْتَقِیمًا (48:2)۔ آپ کا یہ عمل بلاشبہ صراطِ مستقیم کا ایک جزء تھا۔ اس لحاظ سے یہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک ابدی اصول ہے۔ جس طرح دور اول میں اصول کو اختیار کرنے کے نتیجے میں فتح مبین (48:1) حاصل ہوئی۔ بعد کے دور میں بھی فتح مبین کو حاصل کرنے کا طریقہ یہی ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا طریقہ مسلمانوں کو فتح مبین تک پہنچانے والا نہیں۔
منصوبہ بندی کایہ طریقہ ہمیشہ دنیا میں باقی رہتا ہے۔ مثلاً موجودہ زمانے میں اہل ایمان یہ چاہتے ہیں کہ ان کو یہ آزادی ہو کہ وہ قرآن کا پیغام ساری دنیا میں کھلے طور پر پہنچائیں۔ لیکن بار بار ایک رکاوٹ پیش آتی ہے۔ وہ یہ کہ آج کا انسان ،…
…بہت سے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں- ساتھ رہنے کی بنا پر فطری طورپر آپس میں اختلافات(differences) پیدا ہوتے ہیں- اس لیے حاجی کو چاہئے کہ وہ اختلاف پر صبر کرے، وہ اس کو جدال تک پہنچنے نہ دے- آیت کا یہ پہلو بھی عقل کے استعمال سے معلوم ہوتا ہے-
اسی طرح قرآن کی ایک سورہ میں معاہدۂ حدیبیہ کا صراحتاً ذکر کیے بغیر یہ آیت آئی ہے: إنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا ( 48:1)- یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاہدہ حدیبیہ میں تو فریقِ ثانی سے یک طرفہ شرطوں پر صلح کر کے رسول اور اصحاب رسول مدینہ واپس آگئے تھے، پھر اس کا فتح مبین سے کیا تعلق- آیت کا یہ گہرا مفہوم صرف اس وقت معلوم ہوتا ہے، جب کہ آدمی آیت پر تاریخ کی روشنی میں غوروتدبر کرے، اور یہ عقل کے استعمال کے بغیر نہیں ہوسکتا، وغیرہ-
قرآن میں کل ایک سو چودہ (114) سورتیں ہیں- اگر ان تمام سورتوں کو پڑھا جائے تو ان میں کہیں بھی قانون کی زبان نہیں ملے گی، بلکہ دعوت اور تذکیر کی زبان ملے گی، اور دعوت اور تذکیر کے معاملے کو درست طورپر صرف اس وقت سمجھا جاسکتا ہے، جب کہ اس کو…
…بہت سے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں- ساتھ رہنے کی بنا پر فطری طورپر آپس میں اختلافات(differences) پیدا ہوتے ہیں- اس لیے حاجی کو چاہئے کہ وہ اختلاف پر صبر کرے، وہ اس کو جدال تک پہنچنے نہ دے- آیت کا یہ پہلو بھی عقل کے استعمال سے معلوم ہوتا ہے-
اسی طرح قرآن کی ایک سورہ میں معاہدۂ حدیبیہ کا صراحتاً ذکر کیے بغیر یہ آیت آئی ہے: إنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا ( 48:1)- یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاہدہ حدیبیہ میں تو فریقِ ثانی سے یک طرفہ شرطوں پر صلح کر کے رسول اور اصحاب رسول مدینہ واپس آگئے تھے، پھر اس کا فتح مبین سے کیا تعلق- آیت کا یہ گہرا مفہوم صرف اس وقت معلوم ہوتا ہے، جب کہ آدمی آیت پر تاریخ کی روشنی میں غوروتدبر کرے، اور یہ عقل کے استعمال کے بغیر نہیں ہوسکتا، وغیرہ-
قرآن میں کل ایک سو چودہ (114) سورتیں ہیں- اگر ان تمام سورتوں کو پڑھا جائے تو ان میں کہیں بھی قانون کی زبان نہیں ملے گی، بلکہ دعوت اور تذکیر کی زبان ملے گی، اور دعوت اور تذکیر کے معاملے کو درست طورپر صرف اس وقت سمجھا جاسکتا ہے، جب کہ اس کو…
…ظہور اس پیغمبرانہ پیشن گوئی کی تصدیق تھی جو کہ صحیح البخاری اور دوسری کتابوں میں آئی ہے۔ اس روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اللہ اس دین کی تائید فاجر (secular)لوگوں کے ذریعہ بھی کرے گا (صحیح البخاری : 3062)۔
اسلام کی ابتدائی تاریخ میں 6ہجری میں حدیبیہ کا معاہدہ پیش آیا۔ اس کے بعد یہ آیت اتری: إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِینًا لِیَغْفِرَ لَکَ اللَّہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَیْکَ وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُسْتَقِیمًا وَیَنْصُرَکَ اللَّہُ نَصْرًا عَزِیزًا (48:1-3)یعنی بے شک ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی، تاکہ اللہ تمہاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کردے، اور تمھارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کردے، اور تم کو سیدھا راستہ دکھائے، اور تم کو زبردست مدد عطا کرے۔
قرآن کی اس آیت میں فتح مبین (clear victory)اور نصر عزیز (mighty help) وقتی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ ابدی معنی میں ہے۔ اسلام کے حق میں اللہ کی اس نصرت خاص کا ظہور فوری طور پر یہ ہوا کہ اس معاہدہ کے جلد ہی بعد مکہ فتح ہوگیا، اور پھر اسلام…
…تھا — جنگ کے حالات کو ختم کرکے امن کے حالات پیدا کرنا- اِس معاہدے کے بعد پیغمبر اسلام اور آپ کے مخالفین کے درمیان مکمل طورپر جنگ بندی ہوگئی اور طرفین کے درمیان امن کی حالت قائم ہوگئی- اِس کے بعد معتدل حالات میں دعوتی کام کرنا ممکن ہوگیا-
امن کا یہ معاہدہ پوری تاریخ کا ایک انوکھا معاہدہ تھا- یہ فریقِ ثانی کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طورپر مان کر انجام پایا تھا- بظاہر وہ پسپائی کا ایک معاہدہ تھا، لیکن معاہدے کی تکمیل کے بعد قرآن میں یہ آیت اتری: اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا لِّیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَ نْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِیْمًا وَّیَنْصُرَکَ اللّٰہُ نَــصْرًا عَزِیْزًا (48:1-3)یعنی بے شک ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی، تاکہ اللہ تمہاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کردے، اور تمھارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کردے، اور تم کو سیدھا راستہ دکھائے، اور تم کو زبردست مدد عطا کرے-
تاریخ کے مطابق، معاہدۂ حدیبیہ کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی سیاسی فتح حاصل نہیں ہوئی- یہ معاہدہ بظاہر فریقِ ثانی کے مقابلے میں شکست کا واقعہ تھا، نہ کہ فتح کا واقعہ- اِس کے باوجود قرآن میں کیوں اُس کو فتحِ مبین کہاگیا -…
…نے یہ اعلان کردیا: یا معشر قریش، ہذا محمد قد جاءکم فیما لا قِبل لکم بہ، فمن دخل دار أبی سفیان فہو آمن (سیرة ابن ہشام: 4/23 ) یعنی اے قریش کے لوگو، یہ محمد ہیں جو اِس طرح مکہ میں داخل ہوگئےہیں کہ تمھارے اندر اُن کے مقابلے کی طاقت نہیں-
معاہدۂ حدیبیہ کے نتیجے میں جو تاریخی واقعہ پیش آیا، اس کا ذکر قرآن میں اِن الفاظ میں آیا ہے: اِذَا جَاۗءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا (110:1-2) یعنی جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح، اور تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ فوج در فوج خدا کے دین میں داخل ہورہے ہیں-قرآن کی اِس آیت میں ’نصر اللہ‘ سے مراد وہی چیز ہے جس کو دوسرے مقام پر نصرِ عزیز (48:1-2) کہاگیا ہے- ’یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا ‘ کے الفاظ میں اُس واقعے کا ذکر ہے جو معاہدہ حدیبیہ کے بعد پیش آیا- لوگ اتنی بڑی تعداد میں اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے کہ ان کی کثرتِ تعداد ہی فتح کا سبب بن گئی-
حکمتِ حدیبیہ
قرآن کا بیان
معاہدہ حدیبیہ ذوالقعدہ 6 ہجری میں طے پایا- اس کے فوراً بعد قرآن کی سورہ الفتح نازل ہوئی- اِس سورہ کی ابتدائی تین آیتیں یہ تھیں: اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا لِّیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِیْمًا وَّیَنْصُرَکَ اللّٰہُ نَــصْرًا عَزِیْزًا (48:1-3) یعنی بے شک ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی تاکہ اللہ تمھاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کردے اور تمھارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کردے اور تم کو سیدھا راستہ دکھائے اور تم کو زبردست مدد عطا کرے-
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سورہ الفتح دورانِ سفر اُس وقت اتری جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معاہدہ حدیبیہ کی تکمیل کے بعد حدیبیہ سے مدینہ جارے تھے- اُس وقت جو واقعہ ہوا تھا، وہ صرف معاہدۂ امن تھا- جہاں تک فتح کی بات ہے، وہ ابھی…
…اِس طرح کے ماحول میں دعوتِ توحید کا کام پوری طرح نہیں ہوسکتا تھا- توحید کی آئڈیالوجی پیغمبر اسلام کے مشن کی سب سے بڑی طاقت تھی، مگر طرفین کے درمیان تشدد کے ماحول کی بنا پر یہ موقع نہ تھا کہ یہ طاقت پوری طرح ظاہر ہو اور لوگوں کو مسخر کرے-
اُس وقت اللہ کی خصوصی توفیق سے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی تدبیر کی جس کی کوئی نظیر تاریخ میں موجود نہ تھی- وہ تدبیر یہ تھی کہ فریقِ ثانی کے تمام مطالبات کو یک طرفہ طورپر مان لیا جائے، تاکہ فریقین کے درمیان معتدل ماحول قائم ہوجائے اور کسی رکاوٹ کے بغیر دعوتِ توحید کا کام انجام پاسکے- یہ تدبیر بلاشبہہ ایک عظیم تدبیر تھی، اِسی لیے اُس کو قرآن میں فتحِ مبین (48:1) کہاگیاہے-
صلح حدیبیہ کی اِس تدبیر سے دو بڑے فائدے حاصل ہوئے- ایک، یہ کہ صلح حدیبیہ سے پہلے فریقین کا مقابلہ میدانِ جنگ میں ہوتا تھا، اور جنگ کا طریقہ صرف مسئلے کو بڑھاتا ہے، وہ مسئلے کو کم نہیں کرتا- صلح حدیبیہ کا یہ فائدہ ہوا کہ طرفین کا مقابلہ عقل…
…رہے ہیں- آپ نے جواب دیا کہ کیا میں نے یہ کہا تھا کہ ہم اِسی سال مکہ جاکر عمرہ کریں گے (أفأخبرتک أنا نأتیہ العام؟)- اِن تمام مخالفتوں کے باوجود آپ نے اہلِ مکہ سے امن کا معاہدہ کرلیا اور حدیبیہ سے مدینہ کے لیے واپسی کا فیصلہ فرمالیا-
معاہدہ حدیبیہ کی تکمیل کے فوراً بعد وہ سورہ اتری جو قرآن میں الفتح کے نام سے شامل ہے- اِس سورہ کا آغاز اِن الفاظ سے ہوتا ہے: اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا (48:1) یعنی ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ سورہ اپنے اصحاب کو پڑھ کر سنائی تو ابتداء ً صحابہ کو یہ بیان بہت عجیب معلوم ہوا- عمر فاروق نے کہا: أو فتح ہو یا رسول اللہ- قال: نعم، والذی نفسی بیدہ إنہ لفتح (القرطبی 16/261) یعنی اے خدا کے رسول، کیا یہ کوئی فتح ہے- رسول اللہ نے فرمایا کہ ہاں، اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یقیناً وہ فتح ہے- اِسی طرح ایک اور صحابی نے کہا: ما ہذا بفتح- فقال: بل ہو أعظم الفتوح- (القرطبی 16/260) یعنی یہ تو کوئی فتح نہیں- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں وہ فتح ہے، بلکہ سب سے بڑی فتح ہے-
معاہدہ حدیبیہ دراصل ایک تدبیر تھی- اُس نے عمل کے میدان کو بدل دیا- اِس سے پہلے اہلِ ایمان مجبور تھے کہ وہ ٹکراؤ اور جنگ کے میدان میں فریقِ ثانی سے مقابلہ کریں، لیکن اب اُن کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ اپنی پوری قوت کو یکسوئی کے ساتھ دعوت کے…
ظاہرِ دنیا، باطنِ دنیا
صلح حدیبیہ 6 ہجری میں ہوئی- اِس واقعے کو قرآن میں فتح مبین (48:1) کہاگیا ہے- جس حکمت (wisdom) کے تحت حدیبیہ کا معاہدہ کیاگیا، اُس کا ذکر قرآن میں اِن الفاظ میں آیا ہے: فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَــعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِکَ فَتْحًا قَرِیْبًا (48:27) یعنی اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہ جانی، پس اللہ نے اس سے پہلے ایک فتحِ قریب ٹھہرادی-
قرآن کی اِس آیت میں بظاہر دنیا کا اور آخرت کا ذکر ہے، مگر اِس آیت کا ایک توسیعی مفہوم (extended sense) بھی ہے، جس کا اشارہ آیت کے اِس لفظ میں ملتاہے: یَعْلَمُوْنَ ظَاہِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا(30:7)- گویادنیا کا ایک ظاہر ہے اور…
پیغمبرانہ ماڈل
حضرت یوسف ایک اسرائیلی پیغمبر تھے۔ اُن کا زمانہ ساڑھے تین ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ وہ کنعان (فلسطین) میں پیدا ہوئے، پھر مخصوص حالات کے تحت وہ مصر پہنچے۔ یہاں اُس وقت ایک بادشاہ کی حکومت تھی۔ حضرت یوسف کے اِس قصے کو قرآن میںاحسن القصص (best story) کہا گیا ہے۔ اِسی طرح، حضرت محمد ایک اسماعیلی پیغمبر تھے۔ ان کا زمانہ تقریباً ڈیڑھ ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ آپ کے زمانے میں ایک مشہور واقعہ پیش آیا۔ اِس واقعے کو اسلام کی تاریخ میں صلح حدیبیہ کہاجاتا ہے۔ قرآن میں اِس واقعہ کو فتح مبین (48: 1) کہاگیا ہے۔
یہ دونوں واقعات دو پیغمبروں کے نمونے ہیں۔ اِن دونوں واقعات سے مشترک طورپر معلوم ہوتاہے کہ زندگی کی جدوجہد کا کامیاب فارمولا کیا ہے۔ وہ فارمولا یہ ہے — سیاسی معاملے میں یک طرفہ صلح، اور دعوت کے میدان میں پُرامن جدوجہد:
مسٹربٹ : جوابِ اسلحۂ شُما پیشِ آنہا نیست
انھوں نے کہا کہ آپ تشدد کی طاقت استعمال کررہے ہیں، لیکن اسلام کے مطابق، امن کی طاقت اُس سے زیادہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إنَّ اللہ یعطی علی الرّفق، مالا یعطی علی العنف (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2593) یعنی خدا پُرامن عمل پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ متشددانہ عمل پر نہیں دیتا۔ اِس معاملے کی عملی مثال اسلام کی ابتدائی تاریخ میں موجود ہے۔ احد کا غزوہ 3 ہجری میں پیش آیا۔ اِس میں مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اِس کے بعد 6ہجری میں آپ نے فریقِ ثانی سے امن کا معاہدہ کرلیا، جو معاہدۂ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ گویا وائلنٹ ایکٹوزم کے بجائے پیس فل ایکٹوزم کو اختیار کرنا تھا۔ اِس کا نتیجہ، قرآن کے الفاظ میں، فتحِ مبین (48: 1)کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہ متشددانہ بم پر نظریاتی بم کی برتری کی ایک مثال ہے۔
چشمے کا سبق
…پائے جاتے ہیں — ایک ، یہ کہ یہ روایات قرآن فہمی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ دوسرے، یہ کہ یہ روایات قرآن فہمی کے معاملے میں صرف ثانوی ماخذ (secondary source) کی حیثیت رکھتی ہیں، ان روایات کو اولین ماخذ(primary source)کا درجہ حاصل نہیں۔
مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ شانِ نزول یا اسبابِ نزول کی روایات ہمارے لیے مستند بیک گراؤنڈ (authentic background) فراہم کرتی ہیں۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سے معاصر حالات تھے جب کہ قرآن کا کوئی حصہ رہنمائی کے طورپر اتارا گیا۔ قرآن کا اسلوب تبیین کا اسلوب ہے۔ تفسیری روایات وہ تاریخی مواد فراہم کرتی ہیں جن کے ذریعے قرآن کی تبیین کو تعین (specification) کی زبان میں بیان کیا جاسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ تفسیری روایت کے بغیر قرآن کو پوری طرح سمجھا نہیں جاسکتا۔ مثال کے طور پر إنا فتحنا لک فتحاً مبینا (48: 1) میں صلح حدیبیہ کے واقعہ کا حوالہ دیاگیا ہے، لیکن اِس واقعہ کی تفصیلات پوری سورہ میں کہیں موجود نہیں۔ یہ تفصیلات ہم کو صرف تفسیری روایات میں ملتی ہیں۔ اِس اعتبار سے، تفسیری روایات کی بے حد اہمیت ہے۔
قرآن ایک دعوتی کتاب ہے۔ اِس اعتبار سے، قرآن کا موجودہ اسلوب ایک دعوتی اسلوب ہے۔ اِس دعوتی اسلوب نے قرآن کے اسلوب کو ایک طوفانی اسلوب کا درجہ دے دیا ہے۔ اِسی بنا پر ایسا ہے کہ قرآن جب پڑھا جاتا ہے تو سننے والے پر اس کا غیر معمولی اثر…
…اللہ یعطی علی الرّفق، مالا یعطی علی العنف (صحیح مسلم، کتاب البرّ والصلۃ) یعنی خدا پُرامن عمل پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ متشددانہ عمل پر نہیں دیتا۔ اِس معاملے کی عملی مثال اسلام کی ابتدائی تاریخ میں موجود ہے۔ احد کا غزوہ 3 ہجری میں پیش آیا۔
اِس میں مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اِس کے بعد 6ہجری میں آپ نے فریقِ ثانی سے امن کا معاہدہ کرلیا، جو معاہدۂ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ گویا وائلنٹ ایکٹوزم کے بجائے پیس فل ایکٹوزم کو اختیار کرنا تھا۔ اِس کا نتیجہ، قرآن کے الفاظ میں، فتحِ مبین (48: 1)کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہ متشددانہ بم پر نظریاتی بم کی برتری کی ایک مثال ہے۔
In the lectures
Cited at 708s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1553s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1631s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1664s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1717s — opens the lecture at this moment.
Cited at 311s — opens the lecture at this moment.
Cited at 718s — opens the lecture at this moment.
Cited at 770s — opens the lecture at this moment.
Cited at 775s — opens the lecture at this moment.
Cited at 900s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1034s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1149s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1245s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1261s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1538s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1574s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1627s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2004s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2048s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2101s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2258s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2530s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2628s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2861s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
You Have Been Granted Your Request, Moses
It was probably 1962. I had the opportunity to attend an important function in Anjaan Shaheed, a town in Azamgarh. Many Muslim scholars were present on this occasion. I had not been informed in advance that I had to address the gathering.…
…عقل کے ذریعے وحی کی صداقت کو دریافت کرو۔ مثال کے طور پر قرآن کی سورہ یوسف میں یہ آیت آئی ہے:إِنَّا أَنْزَلْنَاہُ قُرْآنًا عَرَبِیًّا لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ (2:12)۔ یعنی ہم نے اِس کتاب کو عربی قرآن بنا کر اتارا ہے، تاکہ تم سمجھو:
We have sent down the Quran in Arabic, so that you may understand (by applying reason).
اِسی طرح قرآن میں بتایاگیا ہے کہ تم اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے نبوت کی صداقت کو دریافت کرو(یونس، 10:16)، وغیرہ۔انسان کو فطری طور پر مختلف صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ مثلاً پاؤں کے اندر چلنے کی صلاحیت، ہاتھ کے اندر پکڑنے کی صلاحیت، آنکھ…
…عقل كے ذريعے وحي كي صداقت كو دريافت كرو۔ مثال كے طور پر قرآن كي سورۃ يوسف ميں يه آيت آئي هے اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ (12:2)۔ يعني، هم نے اِس كتاب كو عربي قرآن بنا كر اتارا هے، تاكه تم سمجھو
We have sent down the Quran in Arabic, so that you may understand (by applying reason).
اِسي طرح قرآن ميں بتاياگيا هے كه تم اپني عقل كو استعمال كرتے هوئے نبوت كي صداقت كو دريافت كرو(10:16)، وغيره۔انسان كو فطري طور پر مختلف صلاحيتيں دي گئي هيں۔ اُنھيں ميں سے ايك صلاحيت، عقل هے۔ مثلاً پاؤں كے اندر چلنے كي صلاحيت، هاتھ كے اندر…
…ہوئے یہ کہاگیا ہے کہ اپنی عقل کے ذریعے وحی کی صداقت کو دریافت کرو- مثال کے طور پر قرآن کی سورہ یوسف میں یہ آیت آئی ہے: إنا أنزلناہ قرآناً عربیاً لعلکم تعقلون (2:12) یعنی ہم نے اِس کتاب کو عربی قرآن بنا کر اتارا ہے، تاکہ تم سمجھو:
We have sent down the Quran in Arabic, so that you may understand (by applying reason).
اِسی طرح قرآن میں بتایاگیا ہے کہ تم اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے نبوت کی صداقت کو دریافت کرو(16: 10)، وغیرہ-انسان کو فطری طور پر مختلف صلاحیتیں دی گئی ہیں- اُنھیں میں سے ایک صلاحیت، عقل ہے- مثلاً پاؤں کے اندر چلنے کی صلاحیت، ہاتھ…
…کے بارے میں یہ کہنا درست ہوگا کہ مدعو خود داعی کے دروازے پر آکر دستک دے رہا ہے۔ وہ ترکی کے مسلمانوں سے کہہ رہا ہے کہ تمھارے پاس پیغمبر کا لایا ہوا خدائی کلام (Word of God) ہے۔ ہم تمھارے دروازے پر موجود ہیں۔ لاؤ وہ کلام ہم کو عطا کرو:
We are here. Give us the Word of God you have received from the Prophet of Islam.
اکیسویں صدی عیسوی میں پیدا ہونے والی یہ صورتِ حال، اپنی نوعیت کے اعتبار سے، زیادہ بڑے پیمانے پر عین وہی ہے جو ساتویں صدی عیسوی میں نسبتاً محدود پیمانے پر وجود میں آئی تھی۔ اِس صورت ِ حال کی حیثیت ایک دعوتی امکان (dawah opportunity) کی ہے۔…
…ترجمہ خدائی پیغام کے متن (text) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور صرف قرآن کے ایک درست ترجمے کی اشاعت اور اس کی توسیع کرکے ہم قیامت کے دن خدا کے سامنے یہ کہہ سکتے ہیں کہ— خدایا، میں نے تیری کتاب ہدایت کا صحیح ترجمہ تمام انسانوں تک پہنچا دیا:
O my lord, I have delivered the correct translation of Your book of guidance to mankind.
پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار اپنے اصحاب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایاتھا: ألاہَل بلّغت۔ یعنی کیا میںنے خدا کا پیغام تم تک پہنچا دیا۔ صحابہ نے اِس کے جواب میں کہا: نشہد أنک قد بلّغتَ وأدّیتَ ونصحتَ۔ یعنی ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ…
…کے مقام پر دو ہفتہ کی گفت و شنید جاری رہی ۔ مگر مشرک سردار اپنی ضد کو چھوڑ نے پر تیار نہیں ہوئے ۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی شرطوں کو یکطرفہ طور پر منظور کرتے ہوئےان سے امن کا معاہدہ کر لیا اور مدینہ واپس آگئے ۔
اس معاہدہ کی تکمیل کے بعد قرآن میں یہ آیت اتری : انا فتحنا لک فتحا مبينا(الفتح : 1) یعنی ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی۔
اب اس معاملے کو تقابلی اصول پر دیکھیے ۔ حدیبیہ کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ یہ صلح صلح نامہ کی ظاہری دفعات کے مطابق، بظاہر مشرکین کی جیت کے ہم معنی تھی۔ ایسی حالت میں دوسری بات جو کبھی جا سکتی تھی وہ یہ تھی کہ تم لوگوں نے حدیبیہ کے مقام پر جو…
اس کے برعکس، جہاں قرآن کا ذکر ہے وہاں اس سے مختلف الفاظ آئے ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے: انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (الحجر۔ ۹) یعنی اللہ نے قرآن کو اتارا ہے اور اللہ ہی اس کی حفاظت کرنے والا ہے۔
It was We who revealed the Quran, and We will certainly preserve it.
اس تقابل سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں میں بنیادی فرق کیا تھا۔ وہ فرق یہ تھا کہ پچھلی آسمانی کتابوں کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری انسان کے اوپر تھی جب کہ قرآن کی حفاظت کا کام خود خدا نے اپنے ذمہ لے لیا۔ گویا قرآن اور…
…میں ممتاز حیثیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ایسا ہونا بالکل فطری ہے۔ کیوں کہ وہ ایک ایسے جغرافی علاقے میں پرورش پاتے ہیں، جس کے بارے میں، قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: الّذی بارکنا حولہ (الإسراء: 1 ) یعنی جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے:
The environs of which, We have blessed.
فلسطینی لوگ اپنے ممتاز فطری اوصاف کی بنا پر بہت بڑے بڑے کام کرسکتے ہیں، وہ ہر میدان میں اعلیٰ ترقی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن دورِ جدید کا یہ ایک انوکھا المیہ ہے کہ فلسطین کی یہ بالقوہ صلاحیت (potential) اُن کے حق میں بالفعل (actual) …
…میں ممتاز حیثیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ایسا ہونا بالکل فطری ہے۔ کیوں کہ وہ ایک ایسے جغرافی علاقے میں پرورش پاتے ہیں، جس کے بارے میں، قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں الّذی بارکنا حولہ (الإسراء 1 ) یعنی جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے
The environs of which, We have blessed.
فلسطینی لوگ اپنے ممتاز فطری اوصاف کی بنا پر بہت بڑے بڑے کام کرسکتے ہیں، وہ ہر میدان میں اعلیٰ ترقی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن دورِ جدید کا یہ ایک انوکھا المیہ ہے کہ فلسطین کی یہ بالقوہ صلاحیت (potential) اُن کے حق میں بالفعل (actual) …