Shukr All cross-references →
Qur'an 4:69
Qur'an 4:69

وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ فَأُوْلَـٰٓئِكَ مَعَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ وَٱلصِّدِّيقِينَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَٱلصَّـٰلِحِينَۚ وَحَسُنَ أُوْلَـٰٓئِكَ رَفِيقٗا

And whoever obeys Allah and the Messenger - those will be with the ones upon whom Allah has bestowed favor of the prophets, the steadfast affirmers of truth, the martyrs and the righteous. And excellent are those as companions

Explained in 22 book passages and 11 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

It is this fact that has been mentioned in the Quran in these words:

Whoever obeys God and the Messenger will be among those He has blessed: the messengers, the truthful, the witnesses, and the righteous. What excellent companions these are! (4:69)

Patience for the Sake of Personality Development

About the sublime society of Paradise, there is a very meaningful verse in the Quran in the chapter Al-Nisa’ (Women). It says:

Whoever obeys God and the Prophet will be among those He has blessed: the prophets, the truthful, the witnesses for God, and the righteous. What excellent companions these are! (4:69)

This is the picture given in the Quran. It means that the society of Paradise will be a collection of the best individuals from the whole of human history. These Quranic statements illustrate that Paradise will be a society of high…

Al-Risala May 2022 A original + quote

…ہے۔ دعوہ ایکٹوزم اپنے طریقِ کار کے اعتبار سے شروع سے آخر تک پرامن ایکٹوزم ہوتی ہے۔ پولیٹیکل ایکٹوزم کا نشانہ سیاسی اقتدار پر قبضہ کرنا ہوتا ہے، اور دعوہ ایکٹوزم کا نشانہ لوگوں کے دلوں کو بدلنا ، اور ان کو اپنے خالق کا سچا بندہ بنانا ہے۔

پولیٹیکل ایکٹوزم کا نشانہ دنیوی مفادات کا حصول ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، دعوہ ایکٹوزم کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ جنتی معاشرے کےلیے افراد تیار کیے جائیں، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیاہے فَأُولَئِکَ مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاءِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)۔ یعنی وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت

Whoever obeys God and the Messenger will be among those He has blessed: the messengers, the truthful, the witnesses, and the righteous. What excellent companions these are!

Al-Risala September 2020 A original + quote

…میں صرف محدود مدت تک کے لیے رہنا ہے۔ اس کے بعد انسا ن کو اس کے ہیبیٹاٹ (habitat)میں پہنچادیا جاتا ہے، جہاں اس کو یہ موقع ملے گا کہ وہ اپنی پسند کی دنیا میں ابدی طور پر رہے۔اس اگلے دورِ حیات کو قرآن میں جنت (Paradise)کا نام دیا گیا ہے۔

ابدی جنت کی دنیا پوری تاریخ بشری کے منتخب انسانوں کا معاشرہ ہوگا۔ یہ منتخب افراد دراصل موجودہ دنیا کے تربیت یافتہ افراد (trained individuals)ہوں گے۔ جنت میںپوری تاریخ کے منتخب افراد (selected people of history) کو یہ موقع ہوگا کہ وہ اعلیٰ فکری سرگرمیوں (high level of intellectual activities) کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ اس اعلی معاشرہ (high society)کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: فَأُولَئِکَ مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاءِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)۔ یعنی یہ اہل جنت ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔

جنت کے حصول کے لیے انسان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ خالق کے پلان کو جانے اور اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کرے۔ انسان کو پیدا کرنے والا خدا ہے۔ لیکن اپنے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرنا مکمل طور پر انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ آدمی کو صرف یہ کرنا ہے…

Al-Risala December 2019 A original + quote

…سفر مومن کی تربیت کے لیے ہوتا ہے۔ اللہ رب العالمین کو یہ مطلوب ہے کہ اللہ نے اس کے لیے جو نعمت سے بھری کائنات بنائی ہے،اس کو وہ دریافت کرے۔ وہ ایمان کے اعتبار سےسیلف ڈسکوری (self discovery) کی سطح پر کھڑا ہو۔ یہ سیلف ڈسکوری جنت کی قیمت ہے۔

جنت کا یہ سفر سخت امتحان کے مراحل سے گزرتا ہے۔ ان سخت مراحل سے گزرے بغیر انسان کے اندر وہ شخصیت تیار نہیں ہوتی، جس کو قرآن میں حسنِ رفاقت کی صفت بتایا گیا ہے۔ یہی وہ صفت ہے، جو کسی کو جنت کا مستحق بناتی ہے۔ یہ حقیقت قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)۔ یعنی کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔

اصل یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کا مقصدصرف ایک ہے، اور وہ عبادت گزاری ہے (الذاریات، 51:56)۔ عبادت کی حقیقت کیا ہے، اس کو راقم الحروف نے اپنی کتاب الاسلام میں ان الفاظ میں لکھا ہےعبادت کا اصل مطلب خدا کے آگے پستی اور عاجزی اختیار کرنا ہے۔…

Al-Risala September 2019 A original + quote

جنت کا سماج

جنت کے پڑوسی کیسے ہوں گے، اس کا ذکر قرآن کی ایک آیت میں کیا گیا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت (4:69)۔

جنت کیا ہے۔ جنت وہ معیاری دنیا ہے، جہاں پوری تاریخ کے منتخب افراد آباد کیے جائیں گے۔ ان کی ایک صفت یہ ہوگی کہ ان سے ان کے پڑوسیوں کو حسنِ رفاقت کا تجربہ ہوگا۔وہ ہر اعتبار سے اپنے ساتھیوں کے لیے بہترین پڑوسی ثابت ہوں گے۔ ایسے لوگ جن کے…

Al-Risala September 2019 A original + quote

حسنِ رفاقت کی دنیا

قرآن میں جنت کے معاشرے کا نقشہ ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَمَنْ یُطِعِ اللَّہَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِکَ مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاءِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)۔ یعنی اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔

Excellent are they as companions!

Al-Risala September 2019 A original + quote

…(disciplined life) گزارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جنت ان لوگوں کے لیے ہے، جو پورے معنی میں باشعور ہوں۔ جو پورے معنیٰ میں بے مسئلہ انسان ہوں۔ جو اپنے اندر سیلف کنٹرول (self-control) کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ وہ منظم اخلاقیات سے متصف ہوں، وغیرہ۔

اسی طرح جنت کے بارے میں قرآن میں آیا ہے :حَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)۔ یعنی کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت حسنِ رفاقت (excellent companionship) کی دنیا ہے۔ دنیا میں اسی کا امتحان ہورہا ہے۔ یہاں یہ دیکھا جارہا ہے کہ وہ کون شخص ہے، جو اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں اس کے اندر سیلف ڈسپلن کی صفت اعلی درجے میں پائی جاتی ہے، جو کسی کے دباؤ کے بغیر دوسروں کے لیے بہترین ہمسایہ بن کر رہنے والا ہے۔ جس آدمی کے اندر حسن رفاقت کی صفت ہو، جو کسی دباؤ کے بغیر سیلف ڈسپلن کے ساتھ ہر حال میں رہ سکتا ہے، ایسے ہی لوگ ہیں، جو جنت میں داخلے کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔

اسی طرح قرآن میں بتایا گیاہے کہ اہل جنت کے لیے جنت کا رزق ایک معلوم رزق ہوگا۔ یعنی جنت ان کے لیے ایک ایسی چیز ہوگی، جس کی دریافت ان کو دنیا میں ہوچکی تھی ۔ اس سلسلے میںقرآن کے الفاظ یہ ہیں وَیُدْخِلُہُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَہَا لَہُمْ (…

Al-Risala May 2019 A original + quote

…کریں کہ وہ آزادی کے باوجود ذمے دارانہ زندگی (disciplined life) کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جنت ان لوگوں کے لیے ہے، جو پورے معنی میں باشعور ہوں، جو پورے معنیٰ میں بے مسئلہ انسان ہوں، جو اپنے اندر سیلف کنٹرول (self-control) کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

جنت کے بارے میں قرآن میں آیا ہے :حَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)۔ یعنی کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت حسنِ رفاقت (excellent companionship) کی دنیا ہے۔ دنیا میں اسی کا امتحان ہورہا ہے۔ یہاں یہ دیکھا جارہا ہے کہ وہ کون شخص ہے، جو اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں اس کے اندر سیلف ڈسپلن کی صفت اعلی درجے میں پائی جاتی ہے، جو کسی کے دباؤ کے بغیر دوسروں کے لیے بہترین ہمسایہ بن کر رہنے والا ہے۔ جس آدمی کے اندر حسن رفاقت کی صفت ہو، جو کسی دباؤ کے بغیر سیلف ڈسپلن کے ساتھ ہر حال میں رہ سکتا ہو، ایسے ہی لوگ ہیں، جو جنت میں داخلے کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔

3۔ احسن باعتبار اخلاق :ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ (41:34)

4۔ احسن باعتبار ہمسائگی:وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)

5۔ احسن باعتبار سلوک:لَا یَسْمَعُونَ فِیہَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِیمًا (56:25)، وغیرہ۔

Al-Risala September 2018 A original + quote

…دینا ، یہ تمام تر بعد کی پیداوار ہے۔ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ کمیونسٹ نظریے کے مطابق مسلح جدو جہد یہ ہےکہ قائم شدہ سسٹم کو بزور توڑا جائے، اور اس کی جگہ دوسرا مطلوب سسٹم قائم کیا جائے۔ مگر اس قسم کے تصور کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

اسلام مبنی بر نظام (system based) تصور نہیں ہے، بلکہ وہ مبنی بر فرد (individual based) تصور ہے۔ اسلام کا اصل مقصد تزکیۂ افراد ہے(طہ، 20:76)، نہ کہ تزکیۂ نظام۔ اسلام کے نزدیک کرنے کا اصل کام یہ ہےکہ ہر فرد کے اندر یہ محرک پیدا کیا جائے کہ وہ اپنا تزکیہ کرے۔ یعنی اپنے اندر درست سوچ (right thinking) پیدا کرنا، اپنے اندر ذہنی ارتقا (intellectual development) کا عمل جاری کرنا۔ اپنے آپ کو ایسی شخصیت کی حیثیت سے تیار کرنا ، جو جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہو۔جنت میں ایسے افراد کو جگہ ملے گی، جو حسنِ رفاقت (النساء، 4:69) کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اسی معیار کے مطابق اپنے آپ کو مثبت انداز میں تیار کرنا۔ یہی اسلامی عمل کا اصل نشانہ ہے۔

اسلام کے مطابق، زندگی کا تصور یہ ہے کہ انسان کے دورِ حیات کے دو حصے ہیں۔ ایک، قبل از موت دور، اور دوسرا، بعد از موت دور۔ قبل از موت دور کی حیثیت تیاری کی ہے، اور بعد از موت دور کی حیثیت تیاری کے مطابق اپنے عمل کا انجام پانے کی۔ تمثیل کی…

Al-Risala June 2018 A original + quote

…ہوگی۔ جہاں انسان کو کامل معنوں میں فُل فِل مینٹ (fulfilment) حاصل ہوگا۔ جہاں نہ کوئی تکلیف ہوگی، اور نہ کوئی بورڈم (boredom) ہوگا۔ ایسی دنیا بلاشبہ ایک بیحد قیمتی دنیا ہے۔ کوئی انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ ایسی اعلیٰ دنیا کی قیمت ادا کرسکے۔

یہ جنت کسی کو اس کے عمل کی قیمت کے طور پر نہیں ملے گی۔ وہ صرف ان منتخب افراد کو ملے گی، جن کو رب العالمین اس قابل پائے کہ وہ جنت میں اعلیٰ اخلاق ( سورۃالقلم، 68:4) کے ساتھ رہ سکتے ہوں۔ جنت میں پوری انسانی تاریخ کے منتخب افراد بسائے جائیں گے۔ یہ اعلیٰ درجے کی ایک رفاقت کا ماحول ہوگا۔ یہ ایسے لوگوں کی دنیا ہوگی، جو فرشتوں کی رپورٹ کے مطابق، اپنی سوچ اور اپنے کردار کے اعتبار سے اس کا اہل بنے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے— وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت ( سورۃ النساء، 4:69)۔جنت ایک انعام ہے، جنت عمل کا معاوضہ نہیں۔

Al-Risala April 2018 A original + quote

…قسم کے حالات پیش آتے ہیں۔ ان حالات کے درمیان ان افراد کا انتخاب کیا جاتا ہے، جو احسن العمل ہوں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ پوری تاریخ کے بہترین انسانوںکو چن کر ان کا ایک اعلیٰ معاشرہ بنایا جائے۔ اسی اعلیٰ معاشرہ کا نام جنت (Paradise) ہے۔

منتخب افراد پر مبنی اس معاشرہ کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے:وَمَنْ یُطِعِ اللَّہَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِکَ مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاءِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)۔ یعنی اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔

قرآن کے الفاظ میں جنت حسن رفاقت کا ایک اعلیٰ معاشرہ ہے۔ اس معاشرے کے افراد کی صفت کیا ہوگی۔ اس کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ اس کی امتیازی صفت یہ ہوگی کہ جنت دارالسلام (the home of peace) ہوگا(الانعام، 6:127)۔وہاں کے ہر فرد کے دل میں دوسروں…

Al-Risala february 2017 A original + quote

…کیا گیا ہے: وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ أَنَّ الْأَرْضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصَّالِحُونَ (21:105)۔یعنی اور زبور میں ہم نصیحت کے بعد لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔

یہ دنیا پوری تاریخ بشری کے منتخب انسانوں کا معاشرہ ہوگا۔ یہ منتخب افراد دراصل دورِ ماضی کے تربیت یافتہ افراد (trained individuals)ہوں گے۔ یہاںپوری تاریخ کے منتخب افراد (selected people of history) کو یہ موقع ہوگا کہ وہ اعلیٰ فکری سرگرمیوں (high level of intellectual activities) کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ اس اعلی معاشرہ (high society)کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: فَأُولَئِکَ مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاءِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)۔ یعنی یہ اہل جنت ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔ اس اگلے دورِ حیات کو قرآن میں جنت (Paradise)کا نام دیا گیا ہے۔

انسان کائنات کا ہیرو ہے۔ اپنی تخلیقی صلاحیت کے اعتبار سے انسان ایک ابدی مخلوق ہے۔ لیکن انسان موجودہ دنیا میں صرف محدود مدت کے لیے رہتا ہے۔ اس دنیا میں انسان کی اوریج (average) عمر تقریبا 70 سال ہے۔ ابدیت کا طالب انسان عملا…

Al-Risala january 2016 A original + quote

…روحانی افراد بن سکتے ہیں۔ تخلیقی منصوبے کے مطابق جو بات ہونے والی ہے، وہ یہ کہ پوری انسانی تاریخ کے خاتمے پر اعلی درجے کے روحانی افراد کو منتخب کرکے انھیں ابدی جنت میں بسنے کا موقع دیا جائے،اور باقی لوگوں کو چھانٹ کر ان سے الگ کردیا جائے۔

اس اعلیٰ درجے کے روحانی سماج میں کون لوگ شامل ہوں گے، ان کا ذکر قرآن میں چار گروہ کی صورت میں کیا گیا ہے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں:وَمَنْ یُطِعِ اللَّہَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِکَ مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاءِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)۔ یعنی اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔

اس اعلیٰ سماج کی خصوصیت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ حسن رفاقت کا سماج ہوگا۔ وہاں کوئی انسان دوسرے انسان کے لیے کوئی مسئلہ (nuisance) پیدا نہیں کرے گا۔ ہر انسان دوسرے انسان کا بہترین ساتھی ہوگا۔ ہر انسان قابل پیشین گوئی کردار (predictable…

Al-Risala may 2015 A original + quote

…آیا ہے۔اس مزید کی کوئی حد نہیں- جس طرح اللہ رب العالمین کے کمالات کی کوئی حد نہیں ، اسی طرح اس کے عنایات کی بھی کوئی حد نہیں ہو سکتی۔ مثلاً اگر کچھ لوگ اپنے عمل سے بر تر استحقاق پیدا کریں تو ان کو انعام بھی یقینا بر تر سطح پر دیا جائے گا۔

قرآن میں اہل جنت کے چار گروہوں کا ذکر ہے۔اس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں: وَمَنْ یُطِعِ اللَّہَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِکَ مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاءِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69) یعنی اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔ قرآن کی اس آیت میں اہل جنت کے چار گروہوں کاذکر ہے، لیکن مذکورہ آیت کے مطابق اس میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی چار گروہوں کے علاوہ ایک پانچویں گروہ کا اضافہ۔ یہ پانچواں گروہ تخلیقی اہل ایمان کا گروہ ہو سکتا ہے:

Paradise of creative believers

Al-Risala June 2014 A original + quote

…پیدا ہونے والے انسان اُن کے سامنے پیش کیے جاتے تو فرشتوں کا شبہہ رفع نہیں ہوسکتا تھا، بلکہ اِس قسم کے مظاہرے سے فرشتوں کے شبہہ کی تصدیق ہوجاتی- کیوں کہ خود قرآن کی تصدیق کے مطابق، پیدا ہونے والے انسانوں کی عظیم اکثریت عملاً مفسدثابت ہوئی-

اِس پہلو پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ تعالی نےاُس وقت پوری اولادِ آدم کو نہیں بلکہ صرف اولادِ آدم کے منتخب افراد کو پیش کیا تھا- یہ منتخب افراد وہی تھے جن کو قرآن میں دوسرے مقام پر نبی اور صدیق اور شہید اور صالح کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے (4:69)- یہ مظاہرہ اللہ تعالی نے صرف فرشتوں کے لیے نہیں کیاتھا، بلکہ بالواسطہ طورپر اُس کا مخاطب وہ انسان بھی تھے جو اللہ کے مقصد تخلیق کو سمجھنا چاہتے ہوں-

اِس معاملے کی مزید وضاحت قرآن کی سورہ الملک کی ایک آیت سے معلوم ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)- اِس آیت سے اور قرآن کی دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا…

Al-Risala October 2013 A original + quote

…ہوسکے- صحیح نظریہ حیات کی یہ طلب اس کو اپنے پورے دل اور اپنے پورے دماغ کے ساتھ دعا گو بنادیتی ہے- اِس طرح کی حقیقی دعا جب کسی کے اندر پیدا ہوجائے تو وہ اپنے آپ میں اس بات کی ضامن ہوتی ہے کہ خدا اس کو صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی عطا کرے-

5- ’’اُن لوگوں کا راستہ جن پر تونے انعام کیا، اُن لوگوں کا راستہ نہیں جن پر تیرا غضب ہوا، اور نہ اُن لوگوں کا راستہ جو صراطِ مستقیم سے بھٹک گئے‘‘ — مراد صراطِ مستقیم کا عملی ماڈل ہے، یعنی وہ ہدایت یاب انسان جو اپنی زندگی میں ہدایت الہی کو عملاً اختیار کرلے اور اِس طرح وہ دوسروں کے لیے ماڈل بن جائے-انعام کے اِس معاملے کی مزید وضاحت قرآن کی سورہ النساء کی اِس آیت سے معلوم ہوتی ہے: وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِیْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕکَ رَفِیْقًا (4:69) یعنی جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح- کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت-

قرآن کی اِس آیت میں چار ایسے گروہوں کا ذکر ہے جو اللہ کے انعام کے مستحق قرار پائے- وہ چار گروہ یہ ہیں — انبیا، صدیقین ، شہدا، اور صالحین- یہ چار گروہ صراطِ مستقیم کے لیے عملی ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں- تاہم اِن چاروں گروہ کی حیثیت یکساں…

Al-Risala May 2013 A original + quote

…کی وفات 632 عیسوی کو مدینہ میں ہوئی- آخر وقت میں آپ کی اہلیہ عائشہ آپ کے ساتھ تھیں- حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ آخر وقت میں آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: اللہم الرفیق الأعلى (البخاری، رقم الحدیث : 6348) یعنی اے اللہ، تیری رفاقت چاہیے-

ایک اور روایت میں حضرت عائشہ کے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں: جعلتُ أسمعہ یقول: فی الرفیق الأعلى،ثم قرأ:’مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِیْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕکَ رَفِیْقًا‘ (4:69) یعنی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے اللہ، رفیق اعلی کے ساتھ- پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ’’اُن لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح، اور کیسی اچھی ہے اُن کی رفاقت‘‘- (فتح الباری بشرح صحیح البخاری، 7/743 )

اِس واقعے کا تعلق محدود طورپر خصائصِ نبوت سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق تمام اہلِ ایمان سے ہے- ایک مومن جب سچے ایمان کے ساتھ دنیا میں زندگی گزارتا ہے تو اپنے آخری زمانے میں اس کا احساس یہ ہوجاتا ہے کہ اللہ نے مجھے اکرم الخلق (17:70) کی…

Al-Risala August 2012 A original + quote

…ہوگیا۔ اصل یہ ہے کہ ابتدا میں فرشتوں نے آدمی کی نسل کو اس کے پورے مجموعۂ انسانیت کے اعتبار سے لیا۔ اُن کو نظر آیا کہ جس طرح اختیار پاکر جنات کا گروہ سرکش بن گیا، اس طرح اختیار پانے کے بعد انسانی نسل بھی مجموعی طور پر سرکش بن جائے گی۔

مگر اللہ تعالیٰ نے ایک مظاہرے کے ذریعے انسانی نسل کے منتخب افراد کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور آدم نے اِن منتخب افراد کا تعارف کرایا۔ اُس وقت فرشتوں کو اندازہ ہوا کہ اگر چہ مجموعہ کے اعتبار سے انسانی نسل میں فساد آجائے گا، لیکن عمومی فساد کے باوجود ہر زمانے میں ایسے افراد پیدا ہوں گے جو فساد سے خالی ہوں اور اصلاح کے راستے پر چلنے والے ہوں۔ نسلِ انسانی کے اِنھیں منتخب افراد کو قرآن میںانبیا اور صدیقین اور شہدا اور صالحین (4: 69) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

اِس مظاہرے کے بعد فرشتوں کو اللہ کے تخلیقی منصوبے کا علم ہوا۔ فرشتوں نے جانا کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کا تعلق پورے مجموعۂ انسانیت کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ وہ اِس مجموعے کے استثنائی افراد سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جنت کی معیاری دنیا میں…

Al-Risala July 2012 A original + quote

…وجود میں آتے رہیں جو اپنی ذات کی سطح پر سچائی کو دریافت کریں اور اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیں، یہی استثنائی افراد خالق کو مطلوب ہیں— یہی مطلب ہے انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے مطلوب کے مطابق، تاریخ کو مینج (manage) کرنے کا۔

خالقِ کائنات کی یہ اسکیم قرآن کے مطالعے سے واضح طورپر معلوم ہوتی ہے۔ اِس سلسلے میں قرآن کی سورہ النساء کی دو آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: ’’اور جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا ہے، یعنی نبی اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔ یہ فضل ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ کا علم کافی ہے‘‘ ۔(4: 69-70)

قرآن کے اِس بیان سے معلوم ہوتاہے کہ وہ کون سے منتخب افراد ہوں گے جن کے مجموعے سے جنت کا معاشرہ وجود میں آئے گا۔ اِن افراد کو بتانے کے لیے یہاں چار الفاظ استعمال کئے گئے ہیں— نبی، صدیق، شاہد، صالح۔ نبی سے مراد صاحب وحی انسان (revealed…

Al-Risala September 2020 A original + quote

…میں صرف محدود مدت تک کے لیے رہنا ہے۔ اس کے بعد انسا ن کو اس کے ہیبیٹاٹ (habitat)میں پہنچادیا جاتا ہے، جہاں اس کو یہ موقع ملے گا کہ وہ اپنی پسند کی دنیا میں ابدی طور پر رہے۔اس اگلے دورِ حیات کو قرآن میں جنت (Paradise)کا نام دیا گیا ہے۔

ابدی جنت کی دنیا پوری تاریخ بشری کے منتخب انسانوں کا معاشرہ ہوگا۔ یہ منتخب افراد دراصل موجودہ دنیا کے تربیت یافتہ افراد (trained individuals)ہوں گے۔ جنت میںپوری تاریخ کے منتخب افراد (selected people of history) کو یہ موقع ہوگا کہ وہ اعلیٰ فکری سرگرمیوں (high level of intellectual activities) کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ اس اعلی معاشرہ (high society)کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: فَأُولَئِکَ مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاءِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)۔ یعنی یہ اہل جنت ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔

جنت کے حصول کے لیے انسان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ خالق کے پلان کو جانے اور اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کرے۔ انسان کو پیدا کرنے والا خدا ہے۔ لیکن اپنے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرنا مکمل طور پر انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ آدمی کو صرف یہ کرنا ہے…

In the lectures

Cited at 4141s — opens the lecture at this moment.

Cited at 784s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1005s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1231s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1427s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2346s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2805s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2841s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2955s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2983s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3486s — opens the lecture at this moment.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

semantic Al-Risala May 2022 Qur'an

…عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَاءِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)۔ یعنی وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت

Whoever obeys God and the Messenger will be among those He has blessed: the messengers, the truthful, the witnesses, and the righteous. What excellent companions these are!

پولیٹکل ایکٹوزم کا نشانہ سیاسی اقتدار کا حصول ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، دعوہ ایکٹوزم کا نشانہ جنت کا حصول ہوتا ہے۔ یہی دونوں قسم کی تحریکوں کی پہچان ہے۔ دعوہ ایکٹوزم میں سارا نشانہ اللہ رب العالمین کی رضا ہوتی ہے۔ دعوہ ایکٹوزم مکمل طور پر خدا…

semantic Quranic Wisdom (p. 133) Qur'an

A true believer has one very special quality: he is able to develop a personality that is a blend of opposites. This quality in a believer is outlined in the Quran in the chapter Al-Fath (Victory). The relevant verse is as follows:

Muhammad is the Messenger of God. Those who are with him are firm and unyielding towards those who deny the truth, but compassionate towards one another. (48:29)

A believer is compelled to live among different kinds of people. Some are good people, by associating with whom one can receive great benefits in terms of spirituality and positivity; but at the same time there are others who are bad, and…

semantic Diary 1983-1984 quoted source

10 اپریل 1984

سورہ نساء آیت نمبر19 میں ارشاد ہوا ہے کہ اور جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو ایسے لوگ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے اپنا انعام کیا، نبی اورصدیق اور شہید اور صالحین ۔ اس آیت کی تشریح میں ایک مفسر قرآن لکھتے ہیں ۔

” اس اطاعت کا تعلق فرائض و واجبات سے ہے ورنہ اگر فرائض و واجبات کے علاوہ مستحبات ، نوافل تطوعات کا بھی اسی قدر اہتمام ہو جائے تو پھر درجہ ولایت خود ہی حاصل ہو جائے گا (جلد دوم صفحہ 80)

semantic Women In Islam (p. 168) Qur'an

“To whoever does good deeds, man or woman, and is a believer, We shall assuredly give a good life; and We will bestow upon them their reward according to the best of their works.” (16:97)

“The believers, both men and women, are friends to each other; they enjoin what is good and forbid evil, they attend to their prayers and pay the alms and obey God and His Messenger. On these, God will have mercy, for God is almighty and wise.” (9:71)

“‘I will deny no man or woman among you the reward of their labours. You are members of one another. I will certainly forgive the sins of those who emigrated and were expelled from their homes, who suffered persecution in My cause, who…

…اس کےلیے رکاوٹ نہ بننے پائے۔ یہی معاملہ پیغمبر کے بعد پیغمبر کی پیروی میں اٹھنے والے داعی کا ہوتاہے۔ وہ جس حد تک پیغمبر کی مشابہت کرے گا اسی قدر وہ خدا کے ان وعدوں کا مستحق ہوتا چلا جائے گا جو اس نے اپنے پیغمبروں سے اپنی کتاب میں کيے ہیں۔

پیغمبر کا معاملہ ہر اعتبار سے خدائی معاملہ ہوتاہے۔ اس کو پیغمبری کسی طلب کے بغیر یک طرفہ طور پر خدا کی طرف سے دی جاتی ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ حق پر قائم ہوتا ہے۔ وہ مامور ہوتاہے کہ خالص بے آمیز صداقت کا اعلان کرے، خواہ وہ لوگوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ اس کےلیے مقدر ہوتاہے کہ وہ لازمی طورپر اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچے اور کوئی رکاوٹ اس کےلیے رکاوٹ نہ بننے پائے۔ یہی معاملہ پیغمبر کے بعد پیغمبر کی پیروی میں اٹھنے والے داعی کا ہوتاہے۔ وہ جس حد تک پیغمبر کی مشابہت کرے گا اسی قدر وہ خدا کے ان وعدوں کا مستحق ہوتا چلا جائے گا جو اس نے اپنے پیغمبروں سے اپنی کتاب میں کيے ہیں۔

پیغمبر کا معاملہ ہر اعتبار سے خدائی معاملہ ہوتاہے۔ اس کو پیغمبری کسی طلب کے بغیر یک طرفہ طور پر خدا کی طرف سے دی جاتی ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ حق پر قائم ہوتا ہے۔ وہ مامور ہوتاہے کہ خالص بے آمیز صداقت کا اعلان کرے، خواہ وہ لوگوں کو…

…نہ کرے۔ وہ خدا کی دنیا میں خدا کی مرضی کے خلاف چلنے لگے۔ جو لوگ کبر سے خالی ہوجائیں وہ لازمی طور پر فساد سے بھی خالی ہوجاتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر یہ اعلیٰ اوصاف پیدا ہوجائیں وہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے ابدی باغوں میں بسا ئے جائیں گے۔

پیغمبر کا معاملہ ہر اعتبار سے خدائی معاملہ ہوتاہے۔ اس کو پیغمبری کسی طلب کے بغیر یک طرفہ طور پر خدا کی طرف سے دی جاتی ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ حق پر قائم ہوتا ہے۔ وہ مامور ہوتاہے کہ خالص بے آمیز صداقت کا اعلان کرے، خواہ وہ لوگوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ اس کےلیے مقدر ہوتاہے کہ وہ لازمی طورپر اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچے اور کوئی رکاوٹ اس کےلیے رکاوٹ نہ بننے پائے۔ یہی معاملہ پیغمبر کے بعد پیغمبر کی پیروی میں اٹھنے والے داعی کا ہوتاہے۔ وہ جس حد تک پیغمبر کی مشابہت کرے گا اسی قدر وہ خدا کے ان وعدوں کا مستحق ہوتا چلا جائے گا جو اس نے اپنے پیغمبروں سے اپنی کتاب میں کيے ہیں۔

پیغمبر کا معاملہ ہر اعتبار سے خدائی معاملہ ہوتاہے۔ اس کو پیغمبری کسی طلب کے بغیر یک طرفہ طور پر خدا کی طرف سے دی جاتی ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ حق پر قائم ہوتا ہے۔ وہ مامور ہوتاہے کہ خالص بے آمیز صداقت کا اعلان کرے، خواہ وہ لوگوں کو…

…اس کےلیے رکاوٹ نہ بننے پائے۔ یہی معاملہ پیغمبر کے بعد پیغمبر کی پیروی میں اٹھنے والے داعی کا ہوتاہے۔ وہ جس حد تک پیغمبر کی مشابہت کرے گا اسی قدر وہ خدا کے ان وعدوں کا مستحق ہوتا چلا جائے گا جو اس نے اپنے پیغمبروں سے اپنی کتاب میں کيے ہیں۔

پیغمبر کا معاملہ ہر اعتبار سے خدائی معاملہ ہوتاہے۔ اس کو پیغمبری کسی طلب کے بغیر یک طرفہ طور پر خدا کی طرف سے دی جاتی ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ حق پر قائم ہوتا ہے۔ وہ مامور ہوتاہے کہ خالص بے آمیز صداقت کا اعلان کرے، خواہ وہ لوگوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ اس کےلیے مقدر ہوتاہے کہ وہ لازمی طورپر اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچے اور کوئی رکاوٹ اس کےلیے رکاوٹ نہ بننے پائے۔ یہی معاملہ پیغمبر کے بعد پیغمبر کی پیروی میں اٹھنے والے داعی کا ہوتاہے۔ وہ جس حد تک پیغمبر کی مشابہت کرے گا اسی قدر وہ خدا کے ان وعدوں کا مستحق ہوتا چلا جائے گا جو اس نے اپنے پیغمبروں سے اپنی کتاب میں کيے ہیں۔

پیغمبر کا معاملہ ہر اعتبار سے خدائی معاملہ ہوتاہے۔ اس کو پیغمبری کسی طلب کے بغیر یک طرفہ طور پر خدا کی طرف سے دی جاتی ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ حق پر قائم ہوتا ہے۔ وہ مامور ہوتاہے کہ خالص بے آمیز صداقت کا اعلان کرے، خواہ وہ لوگوں کو…

…اس کےلیے رکاوٹ نہ بننے پائے۔ یہی معاملہ پیغمبر کے بعد پیغمبر کی پیروی میں اٹھنے والے داعی کا ہوتاہے۔ وہ جس حد تک پیغمبر کی مشابہت کرے گا اسی قدر وہ خدا کے ان وعدوں کا مستحق ہوتا چلا جائے گا جو اس نے اپنے پیغمبروں سے اپنی کتاب میں کيے ہیں۔

پیغمبر کا معاملہ ہر اعتبار سے خدائی معاملہ ہوتاہے۔ اس کو پیغمبری کسی طلب کے بغیر یک طرفہ طور پر خدا کی طرف سے دی جاتی ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ حق پر قائم ہوتا ہے۔ وہ مامور ہوتاہے کہ خالص بے آمیز صداقت کا اعلان کرے، خواہ وہ لوگوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ اس کےلیے مقدر ہوتاہے کہ وہ لازمی طورپر اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچے اور کوئی رکاوٹ اس کےلیے رکاوٹ نہ بننے پائے۔ یہی معاملہ پیغمبر کے بعد پیغمبر کی پیروی میں اٹھنے والے داعی کا ہوتاہے۔ وہ جس حد تک پیغمبر کی مشابہت کرے گا اسی قدر وہ خدا کے ان وعدوں کا مستحق ہوتا چلا جائے گا جو اس نے اپنے پیغمبروں سے اپنی کتاب میں کيے ہیں۔

حضرت موسیٰ کی پیدائش کے زمانہ میں بنی اسرائیل کے لڑکے ہلاک کيے جارہے تھے۔ اس بنا پر حضرت موسیٰ کی والدہ پریشان ہوئیں۔ اس وقت غالباً خواب کے ذریعہ آپ کی والدہ کو یہ تدبیر بتائی گئی کہ وہ آپ کو ایک چھوٹی کشتی میںرکھ کردریائے نیل میں ڈال…

semantic Paiqhambar-e-Inqilab (p. 40) quoted source

اسی طرح ایک صحابی نے تقریر کرتے ہوئے کہا

مَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ، فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا، فَقَدْ غَوَى(جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے وہ راہ راست پر ہے اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرے وہ گمراہ ہے)۔آپ نےیہ سن کر فرمایابِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ(تو قوم کا برا خطیب ہے ) صحيح مسلم، حدیث نمبر 870۔

آپ نے پسند نہیں فرمایا کہ اللہ اور رسول کو تثنیہ کی ایک ہی ضمیر میں جمع کر دیا جائے

semantic Quranic Wisdom (p. 92) Qur'an

The Quran greatly emphasizes on sound speech or straight speech. This is very important in social life. In the chapter Al-Ahzab (The Confederates) the Quran gives its guidance in this regard in these words:

Believers, fear God, and say the straight speech. He will make your conduct sound and forgive you your sins. Whoever obeys God and His Messenger has indeed achieved a great success. (33:70-71)