Qur'an 20:76
Qur'an 20:76
جَنَّـٰتُ عَدۡنٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ مَن تَزَكَّىٰ
Gardens of perpetual residence beneath which rivers flow, wherein they abide eternally. And that is the reward of one who purifies himself
Explained in 18 book passages
and 63 lecture moments.
Cite / permalink: quran/20:76
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
The Continual Growth of One’s Personality
As stated in the second chapter of the Quran, one of the duties of the Prophet vis-à-vis his contemporaries was “to teach them the Scripture and wisdom, and purify them.” (2:129). It is necessary for every believer to purify himself. Without purification, that calibre of personality, which is called in the Quran a God-oriented personality (3:79) cannot be developed. The truth is that purification alone can lead one to heaven. (20:76)
Tazkiya literally means growth, one example of which can be seen in the tree. A tree is the result of the growth of a seed. When a seed finds a favourable environment, it starts growing until it becomes a green, verdant tree. The same is…
Deserving Candidate
for Paradise
Who is a deserving candidate for the eternal world of Paradise? The Quran is a revealed book which gives the answer to this question. According to the Quran, only a muzakka (20:76) person will be selected for being settled into Paradise.
Muzakka means a purified soul. The muzakka person is one who prepares himself in terms of the Paradise culture, who develops his personality on the lines required for living in the society of Paradise. Paradise is an ideal society.…
ڈی کنڈیشننگ کی ضرورت
قرآن کے مطابق، جنت میں داخلہ ان افراد کو ملے گا، جنھوں نے دنیا میں اپنا تزکیہ کیا ہوگا۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیںوَذَلِکَ جَزَاءُ مَنْ تَزَکَّى (20:76) ۔ یعنی ،اور یہ (جنت) جزاء ہے اس شخص کے لیے جس نے اپنا تزکیہ کیا۔اس آیت میںجس تزکیہ کا ذکرہے اس کو انسانی زبان میں ڈی کنڈیشننگ (deconditioning) سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
ڈی کنڈیشننگ دوسرے الفاظ میں سیلف کریکشن (self-correction) کے عمل کا نام ہے۔ آدمی اپنے بچپن اور جوانی کی عمر میں ذہنی اعتبار سے غیر پختہ (immature) ہوتا ہے۔ اس زمانہ میں وہ تجزیہ کرنے اور صحیح اور غلط میں امتیاز کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔…
جنت میں داخلہ
قرآن میں ایک حقیقت کچھ لفظی فرق کے ساتھ دو جگہ بیان ہوئی ہے۔ ایک مقام پر یہ الفاظ ہیں: أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا یَأْتِکُمْ مَثَلُ الَّذِینَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ مَسَّتْہُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى یَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ مَتَى نَصْرُ اللَّہِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّہِ قَرِیبٌ (2:214)۔دوسری جگہ اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللَّہُ الَّذِینَ جَاہَدُوا مِنْکُمْ وَیَعْلَمَ الصَّابِرِینَ(3:142)۔ اسی طرح قرآن میں دوسرے مقام پر یہ بتایا گیا ہے کہ جنت صرف مزکّی شخصیتوں کے لیے ہے (طہٰ، 20:76) ۔
یہاں یہ سوال ہے کہ تزکیہ کا تعلق سخت حالات سے کیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ جب تک سخت حالات پیش نہ آئیں، آدمی کا تزکیہ مکمل نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تزکیہ کے عمل میں سب سے زیادہ اہم رول ڈی کنڈیشننگ کا ہے۔ جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے کہ ہر آدمی…
…نقشے کے مطابق، ایسا کیا ہے کہ موجودہ دنیا میں وہ انسان کو ممکن لذتوں کاابتدائی تعارف کراتا ہے۔ اس طرح وہ انسان کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ اگر تم اِن لذتوں سے ابدی طورپر اور کامل طورپر متمتّع ہونا چاہتے ہو تو اپنے اندراس کا استحقاق پیدا کرو۔
یہ استحقاق کیا ہے۔ یہ استحقاق، ایک لفظ میں یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو پاکیزہ روح (purified soul) بنائے (طہ، 20:76)۔یعنی وہ اپنے آپ کو ہر قسم کے منفی احساسات سے پاک کرے۔ وہ اپنے آپ کو لالچ، خود غرضی، حسد، بددیانتی، جھوٹ، غصّہ، انتقام، تشدّد اور نفرت جیسے تمام غیر انسانی جذبات کا شکار ہونے سے بچائے۔ وہ اپنے اندر وہ اعلیٰ انسانی شخصیت پیدا کرے جو مکمل طورپر مثبت شخصیت ہو۔ جو اپنے اعلیٰ اوصاف کے اعتبار سے اس قابل ہو کہ وہ خدا کے پڑوس میں رہ سکے۔ جو شیطانی انسان سے اوپر اٹھ کر ملکوتی انسان (divine personality) بن جائے۔
انسان کی زندگی دو مرحلوں میں تقسیم ہے،—موت سے پہلے اور موت کے بعد۔ اس مرحلۂ حیات کا نسبتاً مختصر حصّہ موت سے پہلے کے دو رمیں رکھا گیا ہے، اور اس کا زیادہ طویل عرصہ موت کے بعد کے دَور میں۔ انسان کی کہانی کو اگر صرف موت سے پہلے کے مرحلۂ…
…کی قیمتی جنت اس آدمی کو ملے گی جس نے اپنے اندر جنتی شخصیت کی تعمیر کی تھی۔ جنت میں داخلہ کسی کو ’’ٹکٹ‘‘ کے ذریعہ نہیں ملے گا۔ جنت کی قیمت آدمی کا اپنا وجود ہے، اپنے وجود کی قیمت دے کر ہی کوئی شخص جنت کی دنیا میں اپنے لیے داخلہ پاسکتا ہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت تزکیہ کرنے والوں کےلیے ہے (طہ، 20:76)۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ جنت میں داخلہ کی شرط یہ ہے کہ آدمی مزکّی شخصیت لے کر وہاں پہنچا ہو۔ یعنی وہ ایک ایسا انسان ہو جس کے اندر پاک روح بسی ہوئی ہو، جس کا دل اور دماغ آلائشوں سے پاک ہو۔ جس نے اپنے اندر ربّانی شخصیت کا باغ اگایا ہو۔
موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جس کے ایک طرف کیچڑ ہے اور دوسری طرف صاف وشفاف پانی۔ آدمی چاہے تو اپنے کو کیچڑ میں گندا کرے، اور چاہےتو صاف پانی میںنہاکر صاف ستھرا بن جائے۔ جو لوگ اپنے آپ کو گندا کریں، وہ آخرت میں جہنم میں ڈال دیے جائیں گے۔…
…سے واضح طور پر ثابت ہوتی ہے:لَیْسَ بِأَمَانِیِّکُمْ وَلَا أَمَانِیِّ أَہْلِ الْکِتَابِ مَنْ یَعْمَلْ سُوءًا یُجْزَ بِہِ(4:123) یعنی نہ تمھاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہلِ کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو کوئی بھی بُرا کرے گا وہ اس کا بدلہ پائے گا۔
یہ عقیدہ بالکل بے بنیاد ہے کہ مسلمان خود اپنی پیدائش کے اعتبار سے ’’منتخب گروہ‘‘ بن چکے ہیں۔ اور ان کی جنّتیں رزرو (reserve)ہیں۔ یہ عقیدہ سر تا سر بے بنیاد ہے۔ یہ عقیدہ بھی ایک بے بنیاد عقیدہ ہے کہ کچھ ظاہری رسوم ورواج کی تعمیل، یا کسی کلچرل شناخت کو اختیار کرناآدمی کو جنت کا سرٹفکیٹ دے دیتا ہے۔ جنت نفوسِ مزکّیٰ کے لیے ہے، نہ کہ کسی کلچرل گروہ کے لیے (طٰہٰ، 20:76)۔البتہ ایک اور پہلو ہے جس کے اعتبار سے مسلمانوں کو دوسروں کے مقابلے میں موافق حیثیت (advantageous position) حاصل ہے۔ وہ یہ کہ دوسروں کے برعکس، مسلمانوں کا ذہن اسلام کے خلاف تعصّب سے خالی ہوتا ہے۔ اِس بنا پر مسلمان ممکن طورپر اس قابل رہتے ہیں کہ وہ کسی نفسیاتی رکاوٹ کے بغیر اِس بارے میں غور وفکر کا صحیح نقطۂ آغاز پالیں۔
حدیث میں آیا ہے: کُلُّ مَوْلُودٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ، فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ أَوْ یُنَصِّرَانِہِ أَوْ یُمَجِّسَانِہِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔ یعنی ہر پیدا ہونے والا فطرتِ صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو…
٭ ٭ ٭ ٭٭٭ ٭ ٭
قرآن کے مطابق، ہمارا دشمن صرف شیطان ہے جس کو قرآن میں طاغوت کہا گیا ہے۔ ہماری لڑائی صرف شیطان سے ہے، کسی اور سے نہیں۔انسان کے اندر امتحان کے مقصد سے مختلف قسم کے جذبات رکھے گئے ہیں۔ مثلاً غصہ اور انتقام، وغیرہ۔ اِن جذبات کو غلط رُخ دے کر شیطان ہم کو صحیح راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ مواقع ہیں جب کہ ہمیں شیطان سے لڑنا ہے۔ شیطان کی تزئین (الحجر، 15:39) سے بچنے ہی کا نام تزکیہ ہے اور جو لوگ اِس اعتبار سے اپنا تزکیہ کریں، وہی وہ لوگ ہیں جن کو جنت میں داخلہ ملے گا (طٰہٰ، 20:76) شیطان کے خلاف انسان کی لڑائی صرف نفسیات کی سطح پر ہوتی ہے، تشدّد اور ہتھیار کی سطح پر نہیں۔جہاں تک انسان کا معاملہ ہے، قرآن کے مطابق، انسان ہمارا مدعو ہے۔ وہ ہمارا حریف یا دشمن نہیں۔ انسان کے ساتھ ہمارا تعلق داعی اور مدعو کا ہے، دشمن یا مدّ ِمقابل کا نہیں۔ انسان کے مقابلے میں ہماری ذمے داری یہ ہے کہ ہم اُس کو پر امن طور پر خدا کا پیغام پہنچائیں۔ پیغام رسانی کا یہ کام صرف وہ لوگ کرسکتے ہیں جو نفرت اور عداوت کے جذبات سے مکمل طورپر خالی ہوں۔ نفر ت اور دعوت دونوں ایک سینے کے اندر جمع نہیں ہوسکتے۔
…دینا ، یہ تمام تر بعد کی پیداوار ہے۔ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ کمیونسٹ نظریے کے مطابق مسلح جدو جہد یہ ہےکہ قائم شدہ سسٹم کو بزور توڑا جائے، اور اس کی جگہ دوسرا مطلوب سسٹم قائم کیا جائے۔ مگر اس قسم کے تصور کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
اسلام مبنی بر نظام (system based) تصور نہیں ہے، بلکہ وہ مبنی بر فرد (individual based) تصور ہے۔ اسلام کا اصل مقصد تزکیۂ افراد ہے(طہ، 20:76)، نہ کہ تزکیۂ نظام۔ اسلام کے نزدیک کرنے کا اصل کام یہ ہےکہ ہر فرد کے اندر یہ محرک پیدا کیا جائے کہ وہ اپنا تزکیہ کرے۔ یعنی اپنے اندر درست سوچ (right thinking) پیدا کرنا، اپنے اندر ذہنی ارتقا (intellectual development) کا عمل جاری کرنا۔ اپنے آپ کو ایسی شخصیت کی حیثیت سے تیار کرنا ، جو جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہو۔جنت میں ایسے افراد کو جگہ ملے گی، جو حسنِ رفاقت (النساء، 4:69) کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اسی معیار کے مطابق اپنے آپ کو مثبت انداز میں تیار کرنا۔ یہی اسلامی عمل کا اصل نشانہ ہے۔
اسلام کے مطابق، زندگی کا تصور یہ ہے کہ انسان کے دورِ حیات کے دو حصے ہیں۔ ایک، قبل از موت دور، اور دوسرا، بعد از موت دور۔ قبل از موت دور کی حیثیت تیاری کی ہے، اور بعد از موت دور کی حیثیت تیاری کے مطابق اپنے عمل کا انجام پانے کی۔ تمثیل کی…
…شناخت (identity)جیسی کچھ چیزوں پر پورا اترنا، کچھ ظاہری اعمال کی پابندی کرنا، زندگی میں کم از کم ایک بار صلاۃ التسبیح پڑھنا، اسلاف کے طریقے کا پیرو ہونا،حتی کہ کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ’’کافروں‘‘ کو قتل کرنا جنت کا یقینی ٹکٹ ہے،وغیرہ۔
مگر صحیح بات یہ ہے کہ جنت میں داخلہ کی شرط صرف ایک ہے، اور وہ تزکیہ ہے۔ جیسا کہ قرآن میں آٰیا ہے:جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِینَ فِیہَا وَذَلِکَ جَزَاءُ مَنْ تَزَکَّى (20:76)۔ یعنی ان کے لئے ہمیشہ رہنے والے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ بدلہ ہے اس شخص کا جو پاکیزگی اختیار کرے۔
تزکیہ کا لفظی مطلب پاکیزگی (purification)ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جنتی صفات کے ساتھ اپنی شخصیت کی تعمیر کرنا۔ قرآن و سنت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں وہ شخص جائے گا جس کے اندر غش (کینہ) نہ ہو، جس کے اندر کبر کا مزاج نہ ہو، جو…
تزکیہ کیا ہے
قرآن کے مطابق، جنت میں داخلہ ان افراد کو ملے گا، جنھوں نے دنیا میں اپنا تزکیہ کیا ہوگا۔ مثلا قرآن کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں:قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَکَّاہَا (91:9)۔ یعنی وہ شخص کامیاب ہوا جس نے اپنا تزکیہ کیا۔ اور دوسری جگہ ہے:جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِینَ فِیہَا وَذَلِکَ جَزَاءُ مَنْ تَزَکَّى (20:76) ۔ یعنی ان کے لئے ہمیشہ رہنے والے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ بدلہ ہے اس شخص کا جس نے اپنا تزکیہ کیا۔
تزکیہ کیا ہے۔ یہ ایک حدیث رسول کے مطالعے سے سمجھ میں آتا ہے۔ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان الفطرۃ پر پیدا کیا گیا ہے۔ مگر ماحول کے اثر سے وہ غیر فطری زندگی اختیار کرلیتا ہے(صحیح البخاری، حدیث نمبر1385)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر…
شخصیت کاارتقا
قرآن کی ایک اصطلاح تزکیہ ہے۔ انسانی فلاح کا ذریعہ قرآن میں تزکیہ ( 91:9-10) کو بتایا گیاہے۔ قرآن کے مطابق جنت کی اعلی دنیا میں صرف ان افراد کو داخلہ ملے گا جنھوں نے موجودہ دنیا میں اپنا تزکیہ ( 20:76) کیا تھا۔
تزکیہ کا لفظی مطلب تطہیر (purification) ہے۔ جس طرح خام لوہا (ore) مختلف قسم کے شدید مراحل سے گزر کر ایک با معنی مشین کی صورت اختیار کرتاہے، اسی طرح انسان کی شخصیت بھی مختلف قسم کے شدید مراحل سے گزر کر ایک مزکی شخصیت (purified soul) کی صورت…
…أَجْرَہُم بِغَیْرِ حِسَابٍ (39:10) یعنی بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔صبر کی اتنی زیادہ اہمیت اس لئے ہے کہ صبر (patience) آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ مثبت اعمال کرسکے، جو غیر معمولی اجر کا باعث بنتے ہیں-
اصل یہ ہے کہ اسلام میں ساری اہمیت تعمیر شخصیت کی ہے، جس کو قرآن میں تزکیہ (20:76) کہاگیا ہے- موجودہ دنیا امتحان (test)کی دنیا ہے- یہاں مسلسل طورپر دوسروں کی طرف سے ایسے حالات پیش آتے رہتے ہیں، جو آدمی کو گوارا نہیں ہوتے، جو آدمی کے اندر نفرت، غصہ، اشتعال اور منفی سوچ جیسی کیفیات پیدا کردیتے ہیں- اس قسم کی منفی کیفیات آدمی کو مسلسل طورپر ڈسٹریکٹ (distract) کرتی رہتی ہیں- وہ آدمی کی توجہ کو صحیح رخ سے ہٹا کر غلط رخ کی طرف کردیتی ہیں-
یہ ایک تباہ کن صورت حال ہے- مگر یہ ناموافق صورتِ حال فطرت کے نظام کا ایک لازمی حصہ ہے- کوئی آدمی اس ناخوش گوار صورت حال کا خاتمہ کرنے پر قادر نہیں- ایسی حالت میں اس کے مضر انجام سے اپنے کو بچانے کی صورت صرف یہ ہے کہ آدمی ہر ایسے ناخوش…
شخصیت کاارتقا
قرآن کی ایک اصطلاح تزکیہ ہے- انسانی فلاح کا ذریعہ قرآن میں تزکیہ ( 91:9-10) کو بتایا گیاہے- قرآن کے مطابق جنت کی اعلی دنیا میں صرف ان افراد کو داخلہ ملے گا جنھوں نے موجودہ دنیا میں اپنا تزکیہ ( 20:76) کیا تھا-
تزکیہ کا لفظی مطلب تطہیر (purification) ہے- جس طرح خام لوہا (ore) مختلف قسم کے شدید مراحل سے گزر کر ایک با معنی مشین کی صورت اختیار کرتاہے، اسی طرح انسان کی شخصیت بھی مختلف قسم کے شدید مراحل سے گزر کر ایک مزکی شخصیت (purified soul) کی صورت…
شخصیت کی تعمیر
ایک مومن کا سب سے بڑا کنسرن (concern) یہ ہوتاہے کہ آخرت میں اس کو جنت میں داخلہ ملے، وہ اپنی ابدی زندگی میں جنت کا باشندہ بن کر رہ سکے۔ جنت میں داخلہ کس کو ملے گا، اِس سوال کا جواب قرآن میں اِن الفاظ میں دیاگیا ہے: ذلک جزاء من تزکیّٰ (20:76)یعنی جنت اس کے لیے ہے جو اپنا تزکیہ کرے۔
تزکیہ کوئی پراسرار چیز نہیں۔ تزکیہ کے حصول کا اصل ذریعہ مثبت طرزِ فکر ہے۔ مثبت طرزِ فکر سے آدمی کے اندر مثبت شخصیت بنتی ہے، اور مثبت شخصیت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ اس کو فرشتوں کی صحبت حاصل ہو۔ اِس طرح کسی آدمی کے اندر تزکیہ کا پراسس…
جنت کا معاشرہ
جنت کے معاشرے میں وہ خوش قسمت افراد جگہ پائیں گے جنھوں نے موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو جنتی شخصیت کی حیثیت سے تیار کیا ہوگا- جنتی شخصیت کا لفظ کوئی پراسرار لفظ نہیں ہے- اِس سے مراد وہ افراد ہیں جو انتہائی معنوں میں بلند فکری (high thinking) کے مالک ہوں- یہی وہ اعلی کردار ہے جس کو قرآن میں خُلقِ عظیم (68:4) یا مزکی شخصیت (20:76) کے الفاظ میں بیان کیا گیاہے-
یہ اعلی شخصیت والا انسان کون ہے، یہ وہ انسان ہے جس نے اپنے آپ کو ہر قسم کے دنیوی محرکات (worldly motivations) سے اوپر اٹھایا، جس نےاپنے آپ کو کامل طورپر متعصبانہ فکر (biased thniking) سے پاک کیا، جس نے اپنے آپ کو نفس اور شیطان کی…
Follow one, and respect all.
قرآن کا مطلوب انسان ربانی انسان (3: 79)ہے، یعنی وہ انسان جو اِس دنیا میں رب والا انسان بنے۔ جوخدا رخی زندگی گزارے۔ ربانی انسان بننے کے اِسی پراسس کو قرآن میں تزکیہ (2:129) کہاگیا ہے۔ قرآن کے مطابق، جنت اُنھیں افراد کے لیے ہے جو اِس دنیا میں اپنا تزکیہ کریں، جو مزکّیٰ انسان بن کر اگلی دنیا میں داخل ہوں (20: 76) ۔
تزکیہ کے معنیٰ ہیں — تطہیر (purification) ، یعنی اپنی شخصیت کو نامطلوب چیزوں سے پاک کرنا۔ شخصیت کو پاک کرنے کا یہ عمل ایک مسلسل عمل ہے۔ وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ایک مومنِ قرآن کے اندر یہ عمل اس کی زندگی کے آخری لمحے تک جاری رہتا ہے۔
…شخصیت کو فطری شخصیت بناتا رہے۔ ہر آدمی کا ماحول اُس کو ایک کنڈیشنڈ (conditioned) انسان بنا دیتا ہے۔ اب ہر آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ ڈی کنڈیشننگ کے ذریعے دوبارہ اپنے آپ کو مسٹر نیچر بنائے۔ اِس مسٹر نیچر کا قرآنی نام ربّانی انسان ہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں وہ لوگ جائیں گے جو موجودہ دنیا میں اپنا تزکیہ کریں (20:76) ۔ اِس تزکیہ کے بغیر کوئی عورت یا مرد جنت میں داخل ہونے والے نہیں۔
In the lectures
Cited at 1851s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2242s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5132s — opens the lecture at this moment.
Cited at 172s — opens the lecture at this moment.
Cited at 198s — opens the lecture at this moment.
Cited at 483s — opens the lecture at this moment.
Cited at 505s — opens the lecture at this moment.
Cited at 664s — opens the lecture at this moment.
Cited at 716s — opens the lecture at this moment.
Cited at 782s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1000s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1014s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1114s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1160s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1162s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1193s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1224s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1373s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1430s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1442s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1462s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1474s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1493s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1498s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1594s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1654s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1692s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1858s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1921s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1929s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2021s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2125s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2130s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2272s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2285s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2323s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2542s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2618s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2618s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2659s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2662s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2667s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2924s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3564s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3628s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3787s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3851s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3865s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4037s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4178s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4193s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4259s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4404s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4429s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4504s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4572s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4723s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4751s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4814s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5160s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5189s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5943s — opens the lecture at this moment.
Cited at 6009s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…person reads the Quran in this way, it will repeatedly happen that he will be struck by some word or verse of the Quran. On such occasions, he should pause and reflect on this. In this way, he will receive intellectual food from the Quran.
For instance, when you read the Quran, you will come across this verse: “And for their words God will reward them with Gardens through which rivers flow, wherein they shall abide forever. That is the reward of those who do good.” (5:85)
When you read this verse you will be reminded of this hadith: “Whoever said there is no god but God will enter heaven.” (Musnad al-Bazzar, Hadith No. 10080)
Translated from Arabic and commentary by Maulana Wahiduddin Khan
But those who believed and did good deeds will be brought into Gardens with rivers flowing through them. They shall abide there forever by their Lord’s permission, and will be welcomed with the greeting, ‘Peace’! (14: 23)
To say assalamu alaykum or ‘peace be with you’ at the time of meeting someone is not simply a formal social custom. This is, in fact, an outward symbol of a heartfelt connection.
قرآن کی سورہ طہٰ میں جنت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ذَلِكَ جَزَاءُ مَنْ تَزَكَّى (20:76) ۔یعنی جنت اُس شخص کے لیے ہے جو اپنا تزکیہ کرے
Paradise is for one who purifies himself.
قرآن کی اِس آیت کے مطابق، جنت صرف اُس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں اپنا تزکیہ کرے اور ایک مزکیّٰ شخصیت کے ساتھ آخرت کی دنیا میں پہنچے۔ یہ حقیقت قرآن کی مختلف آیتوں میں واضح طورپر بیان کی گئی ہے۔ جنت میں داخلے کا فیصلہ انفرادی صفت…
…سچائی کی سیٹ پر جگہ پائیں گے: اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّنَہَرٍ فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرٍ (54:54-55)یعنی اہلِ تقوی باغوں اور نہروں کے درمیان ہوں گے- وہ سچائی کی سیٹ پر ہوں گے، قدرت والے بادشاہ کے پاس:
The God-conscious will find themselves in gardens and rivers. In the seat of truth with an all-powerful sovereign.
اہلِ جنت کی سب سے بڑی سعادت یہ ہوگی کہ آخرت کی دنیا میں وہ اللہ کی قربت میں جگہ پائیں- اللہ کی قربت بلا شبہہ انسانی سعادت کا سب سے اعلی مقام ہے- سچے اہل ایمان کو اِس دنیا میں قربت کا یہ درجہ بہ اعتبار احساس ملتا ہے، اور آخرت میں سچے اہلِ…
…the world Hereafter with a purified personality. This reality has been clearly described in many verses of the Quran. Attainment of Paradise will be based on individual merit rather than on personal affiliation to any community or group.
Paradise, therefore, is only for the individual who purifies himself. Purification means abandoning a life of unawareness and leading a life ruled by the conscience. A person has to save himself from anything which comes in the path of truth, and when he faces any hurdles, he must not resort to expediency. When desires arise within him, he must crush them, and when he is overtaken by arrogance, he should be able to overcome his overweening pride.
Tazkiya means purifying the individual of unfavourable elements, so that he may reach the point of perfection in a favourable environment. This was a very important task given to the prophets.
…both men and women, are friends to each other; they enjoin what is good and forbid evil, they attend to their prayers and pay the alms and obey God and His Messenger. On these, God will have mercy, for God is almighty and wise.” (9:71)
“‘I will deny no man or woman among you the reward of their labours. You are members of one another. I will certainly forgive the sins of those who emigrated and were expelled from their homes, who suffered persecution in My cause, who fought and were killed. I will certainly admit them to Gardens through which rivers flow, as a reward from God: with God is the best reward.’” (3: 195)
Words of the Prophet Muhammad
…چھانٹ دیا جائے، اور مطلوب انسانوں کو الگ کرکے یہ موقع دیا جائے کہ وہ آئیڈیل ورلڈ
میں ابدی راحت کی زندگی گزاریں۔یہی وہ واقعہ ہے جس کا ذکر بائبل میں ان الفاظ میں آیاہے
— صادقین زمین کے وارث ہوں، اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے:
The righteous will inherit the land, and dwell in it permanently. (Psalm: 37:29)
بائبل میں مذکور اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَقَدْ کَتَبْنَا
فِی الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ أَنَّ الْأَرْضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصَّالِحُونَ
(21:105)۔یعنی اور زبور میں ہم نصیحت کے بعد لکھ…
Two Lifestyles
Those who live in a godly way will be lodged in eternal Paradise in the Hereafter. Those who live an ungodly life will be eternally deprived of divine blessings.
There are two ways of leading one’s life in this world–one, living in God, the other, living in something other than God. True believers are those who live in God. Those who live in something other than God, may be described as worldly…
This freedom offers two different paths to a person. One leads him to becoming arrogant and insolent, and leading an unrestricted life. This would mean his failing in his test paper.
On the other hand will be those who make right and proper use of their freedom. Although there is no compulsion for them to adhere to divine principles, they will be successful in their test. They will be given rewards by God, such as no other creature can merit. They will be held to be those of God’s servants, who have earned nearness to God. And they will live a life of comfort and happiness eternally in Paradise.
This freedom offers two different paths to a person. One leads him to becoming arrogant and insolent, and leading an unrestricted life. This would mean his failing in his test paper.
On the other hand will be those who make right and proper use of their freedom. Although there is no compulsion for them to adhere to divine principles, they will be successful in their test. They will be given rewards by God, such as no other creature can merit. They will be held to be those of God’s servants, who have earned nearness to God. And they will live a life of comfort and happiness eternally in Paradise.
When man realizes that he is not free but has to act at God’s behest and be accountable to Him, he starts living a God-Oriented life. Death for such a person is not the end of his life, but the beginning of an eternal life, where he will…