Qur'an 2:35
Qur'an 2:35
وَقُلۡنَا يَـٰٓـَٔادَمُ ٱسۡكُنۡ أَنتَ وَزَوۡجُكَ ٱلۡجَنَّةَ وَكُلَا مِنۡهَا رَغَدًا حَيۡثُ شِئۡتُمَا وَلَا تَقۡرَبَا هَٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
And We said, "O Adam, dwell, you and your wife, in Paradise and eat therefrom in [ease and] abundance from wherever you will. But do not approach this tree, lest you be among the wrongdoers
Explained in 5 book passages
and 49 lecture moments.
Cite / permalink: quran/2:35
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
This was the beginning of the social life of man. God gave both Adam and Eve a basic direction:
God said, ‘O Adam! Settle, you and your wife, in Paradise and eat freely from it anywhere you may wish. Yet do not approach this tree lest you become wrongdoers.’ (2:35)
The ‘forbidden tree’, in one sense, was a symbol of social taboos. Breaking these taboos means involving oneself in social wrongdoing, as mentioned in the above Quranic verse.
آدم اور ابلیس کا سبق
آدم و ابلیس کا قصہ قرآن میں کئی بار بیان کیا گیا ہے۔مثلاً سورہ البقرة ، 2:30-38، سورہ الاعراف، 7:11-25، سورہ الحجر، 15:26-43وغیرہ۔ اس قصے کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے آدم کو پیدا کرکے فرشتہ اور ابلیس کو اسے سجدہ کرنے کے لیے کہا۔فرشتوں نے سجدہ کیا، مگر ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ وہ نقصان میں رہا۔
ابلیس کا معاملہ یہ تھا کہ وہ ایک فرمانبردار مخلوق تھا، لیکن ایک موقع آیا جب کہ اس کے لیے پریکٹکل وزڈم یہ تھا کہ وہ ایک نئی مخلوق ،آدم کے سامنے خدا کے حکم کے مطابق جھک جائے۔ مگر وہ اپنے ماضی کی عظمت میں گم رہا کہ وہ نئی مخلوق کے مقابلے…
جنت کی نرسری
خالق نے ایک عظیم دنیا بنائی- یہ دنیا ہر لحاظ سے آئڈیل اور پرفکٹ تھی- اِس دنیا کا نام جنت ہے- قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنت آدم کی تخلیق سے پہلے بنائی گئی(2:35)- اس کے بعد خالق نے چاہا کہ وہ اُن عورتوں اور مردوں کا انتخاب کرے جو اِس جنتی دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہوں- اِس مقصد کے لیے خالق نے سیارہ ارض بنایا - یہ سیارہ ارض گویا جنتی دنیا کی نرسری (nursery) ہے- نرسری اُس مقام کو کہا جاتا ہے جہاں پودے اگائے جائیں اور پھر منتخب پودوں کو وہاں سے نکال کر اُن کو باغ میں نصب کیا جائے:
Nursery: A place where plants are reared for transplantation.
…منصوبے کا خدائی بیان (divine statement of the creation plan) ہےاور سنت ربانی حیات کا زندہ مظاہرہ (living demonstration of divine life) - قرآن اور حدیث کو اِس سے کم سمجھنا، قرآن اور حدیث کی بھی تصغیر ہے اور نعوذ باللہ، خدا کی تصغیر بھی-
اللہ تعالی نے جب انسان (آدم) کو پیدا کیا تو آغاز ہی میںاس کو جنت میں بسا دیا- اللہ تعالی نے انسانِ اول سے کہا: تم اور تمھاری بیوی دونوں جنت میں رہو اور اس میں سے کھاؤ فراغت کے ساتھ جہاں سے چاہو- اور اس درخت کے قریب مت جانا، ورنہ تم ظالموں میں سے ہوجاؤگے (2:35)-اِس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے جب انسان کو پیدا کیا تو آغاز ہی میں اُس کو جنت میں بسا دیا- گویا کہ ابتدائی طورپر جنت، انسان کو عمومی بنیاد (general basis) پر دی گئی تھی، یعنی سارے عورت اور مرد جنت میں قیام کریں اور خدا کی حمد کرتے ہوئے اُسی سے انجوائے (enjoy) کریں- لیکن انسان مطلوب معیار پر پورا نہیں اترا، اِس لیے اس کو جنت سے نکال کر موجودہ زمین پر بسا دیاگیا اور خدا کا یہ فیصلہ ہوا کہ اب جنت، انسان کو انتخابی بنیاد(selective basis) پر دی جائے گی، یعنی صرف اُن لوگوں کو جو قول وعمل سے اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کریں-
انسان کے بارے میں اِس تخلیقی نظام کو بتانے کے لیے اللہ تعالی نے یہ کیا کہ ایک طرف اُس کو قرآن کی شکل میں ایک مستند ہدایت نامہ دے دیا، اور دوسری طرف، سنتِ رسول کی شکل میں اس کے لیے ایک عملی نمونے کا انتظام فرمادیا- خدا کے منصوبے کو سمجھنے…
تاریخ کی خدائی تنظیم
قرآن میں تاریخ کا جو تصور پیش کیاگیا ہے، اس کے مطابق، انسانی تاریخ آدم سے شروع ہوتی ہے، جو کہ پہلے انسان (first man) تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اور ان کی بیوی حوا کو پیدا کرکے اُنھیں جنت میں آباد کیا۔ خدا کی طرف سے اُن کو صرف ایک ہدایت دی گئی تھی، وہ یہ کہ : اے آدم، تم اور تمھاری بیوی دونوں جنت میں رہو اور اس سے کھاؤ آسودگی کے ساتھ، جہاں سے چاہو۔ اور اس درخت کے قریب مت جانا، ورنہ تم ظالموں میں سے ہوجاؤ گے‘‘۔ (2: 35)
آدم کے ساتھ ان کی بیوی کو پیدا کرنے میں اِس بات کا اشارہ تھا کہ انسان کی پیدائش سے اللہ تعالیٰ کو جو چیز مطلوب ہے، وہ صرف ایک انسانی فرد نہیں، بلکہ ایک انسانی نسل ہے۔ انسان کے لیے جنت کا مستحق ہونے کی شرط صرف ایک تھی، یہ کہ وہ خود انضباطی…
In the lectures
Cited at 83s — opens the lecture at this moment.
Cited at 112s — opens the lecture at this moment.
Cited at 135s — opens the lecture at this moment.
Cited at 142s — opens the lecture at this moment.
Cited at 200s — opens the lecture at this moment.
Cited at 342s — opens the lecture at this moment.
Cited at 363s — opens the lecture at this moment.
Cited at 365s — opens the lecture at this moment.
Cited at 425s — opens the lecture at this moment.
Cited at 425s — opens the lecture at this moment.
Cited at 432s — opens the lecture at this moment.
Cited at 453s — opens the lecture at this moment.
Cited at 502s — opens the lecture at this moment.
Cited at 509s — opens the lecture at this moment.
Cited at 534s — opens the lecture at this moment.
Cited at 539s — opens the lecture at this moment.
Cited at 603s — opens the lecture at this moment.
Cited at 628s — opens the lecture at this moment.
Cited at 676s — opens the lecture at this moment.
Cited at 677s — opens the lecture at this moment.
Cited at 738s — opens the lecture at this moment.
Cited at 746s — opens the lecture at this moment.
Cited at 897s — opens the lecture at this moment.
Cited at 976s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1008s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1078s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1136s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1146s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1262s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1372s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1450s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1547s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1778s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2148s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2790s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2802s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2931s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2948s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3028s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3060s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4135s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4139s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4343s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4698s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4717s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4770s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5293s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5320s — opens the lecture at this moment.
Cited at 6539s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
THE story of Adam and Eve is common to the Bible and the Quran. According to the Quranic account, God created Adam and his wife, Eve; settled them in Paradise and gave both of them basic directions:
God said. 'O Adam! Live with your wife in Paradise and eat freely from it anywhere you may wish. Yet do not approach this tree lest you become wrongdoers.' THE QURAN 2:35
The story goes on, as we all know, and according to the Quranic account: But Satan caused them both to slip through this and thus brought about the loss of their former state. God said, ‘Go down from here as enemies to each other; and on…
اخراجِ اوّل، اخراجِ ثانی
آدم پہلے انسان تھے۔ آدم کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اُن کو جنت میں بسایا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن سے کہا کہ اے آدم، تم اور تمھاری بیوی اِس جنت میں رہو اور اس میں کھاؤ پیو، مگر تم اِس شجرِ ممنوعہ کے پاس مت جانا، ورنہ تم ظالم قرار پاؤگے (البقرۃ 35)
اِس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو جنت میں آزادی حاصل تھی، مگر اِس کے ساتھ وہاں ایک پابندی بھی شامل تھی، یہ کہ وہ نفس کی ترغیب (temptation) کے تحت کوئی کام نہ کرے، بلکہ وہ خدا کے مقرر کردہ طریقے کے مطابق، با اصول زندگی گزارے۔
…ہوا ہے۔ خدا کے تخلیقی پلان کو سمجھے بغیر اِس معاملے کا درست تجزیہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں انسان کا منصوبہ خالقِ فطرت کے منصوبہ سے ٹکرا رہا ہے، اور یہ ناممکن ہے کہ اِس دنیا میں خالقِ فطرت کے منصوبے کے خلاف کسی منصوبے کو کامیاب بنایا جاسکے۔
خدا نے انسان (آدم) کو اوران کی بیوی حوا کو پیدا کیا اور اُن کو جنت میں بسایا۔ خدا نے کہا کہ تم لوگ جنت میںآزادی کے ساتھ رہو، لیکن تم لوگ فلاں درخت کے پاس نہ جانا، ورنہ جنت تم سے چھن جائے گی (البقرۃ 35)، مگر آدم اور حوا اِس ہدایت پر قائم نہ رہ سکے۔ انھوں ے ممنوعہ درخت (forbidden tree) کا پھل کھایا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنت کا لباس اُن سے چھن گیا اور اُن کو جنت چھوڑ کر موجودہ زمین پر آنا پڑا۔
یہ دراصل اِسراف کا معاملہ تھا، یعنی حد سے تجاوز کرنا (to exceed one’s limit) ۔ اِس اسراف کے نتیجے میں آدم کو پہلی بار جنت کو چھوڑنا پڑا۔ اسراف کا یہی معاملہ دوسری بار زیادہ بڑے پیمانے پر انسان کے ساتھ پیش آرہا ہے۔ خدا نے انسان کو موجودہ…
O man, God has set certain limits for you. Don't cross those limits.
یہ بات انسان کو اس کی پہلی ہی نسل میں بتا دی گئی تھی۔ خالق نے جب آدم کو پہلے انسان کی حیثیت سے پیدا کیا تو ان کو اور ان کی بیوی حوا کو جنت میں بسایا۔ اُن سے کہاگیا کہ تم جنت میں ہر قسم کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے آزاد ہو، مگر اُس کے فلاں درخت تک مت جاؤ۔ قرآن کے مطابق، ایک عرصے کے بعد ایسا ہوا کہ آدم اپنی حد سے تجاوز کرتے ہوئے اُس درخت تک گئے اور اس کا پھل کھالیا۔ اس کے بعد دونوں جنت سے نکال کر موجودہ زمین پر آباد کردئے گیے۔ زمین پر آدم اور ان کی بیوی کو آزادی حاصل تھی، لیکن یہ صرف محدود آزادی تھی۔ آزادی کو لامحدود طورپر حاصل کرنے کی صورت میں دوبارہ یہ اندیشہ تھا کہ زمین اُن سے چھن جائے۔
خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے دوبارہ انسان کو یہ ہدایت دی کہ زمین کو تمھیں اصلاح یافتہ صورت میں دیاگیا ہے، تم اس میں فساد برپا نہ کرنا: ولا تفسدوا فی الأرض بعد اصلاحہا (7: 85)۔ اکیسویں صدی میں جو بگاڑ سامنے آیا ہے، ا س کا سبب یہی ہے کہ…
جنت میں داخلے کی شرط
آدم پہلے انسان تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کرکے اُن کو اور ان کی بیوی حوا کو جنت میں رکھا، اور کہا کہ تم دونوں یہاں رہو اور آزادانہ طورپر یہاں کے سامانِ راحت سے فائدہ اٹھاؤ۔ لیکن تم اِس شجرِ ممنوعہ کے قریب نہ جانا، ورنہ تم ظالم ہوجاؤگے (البقرۃ:35 )
مگر شیطان کے وسوسے سے متاثر ہو کر انھوں نے ممنوعہ درخت کا پھل کھالیا۔ اس کے بعد آدم اور حوا دونوں جنت سے نکال کر موجودہ زمین میں ڈال دیے گیے۔اور آدم سے اور ان کی پوری نسل سے یہ کہہ دیاگیا کہ جو عمل کا ثبوت دے گا، وہی ابدی جنت میں جگہ…
…اِس جنت میںآدم کو پوری آزادی حاصل تھی، البتہ اس میں ایک درخت کو خدا نے شجرۂ ممنوعہ (forbidden tree) کی حیثیت دے دی۔ خدا نے آدم سے کہا کہ تم کو اور تمھاری بیوی کو یہاں ہرقسم کی آزادی حاصل ہے، لیکن تم لوگ اس ممنوعہ درخت کا پھل نہ کھانا۔
آدم جس دنیا میں تھے، وہاںاُن کے ساتھ شیطان بھی کسی پہلو سے موجود تھا۔ شیطان نے آدم اور ان کی بیوی دونوں کو بہکایا۔ اس نے کہا کہ یہ شجرۂ ممنوعہ دراصل شجرۂ خُلد، یا ہمیشگی کا درخت (tree of eternity) ہے۔ ابھی تم لوگوں کو صرف زندگی ملی ہے، ابھی تم کو ابدیت حاصل نہیں ہوئی۔ اگر تم اِس درخت کا پھل کھا لو تو اس کے بعد یہ ہوگا کہ تم کو زندگی کے ساتھ ابدیت بھی مل جائے گی۔ اس کے بعد تم باغوں کی اِس دنیا میں ہمیشہ کے لیے رہ سکتے ہو۔
آدم اور حوا دونوں اِس بہکاوے میںآگئے۔ انھوںنے ممنوعہ درخت کا پھل کھالیا۔ قرآن کے مطابق، اُن کا یہ عمل خدا کے حکم کی خلاف ورزی (20:121)تھا۔ چناں چہ پھل کھاتے ہی اچانک ایسا ہوا کہ دونوں خدا کی رحمت سے محروم ہوگئے۔ خدا کی رحمت کا لباس اُن…
…چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ: میں تھوڑے لوگوں کے سوا اس کی پوری نسل کو گمراہ کر دوںگا (17:62)۔ قرآن کی دوسری آیت کے مطابق ابلیس نے اللہ سے کہا : وَلَا تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِینَ (7:17) یعنی تو بیش تر انسانوں کو شکر کرنے والا نہ پائے گا۔
ابلیس کو اتنے حتمی انداز میں اس قسم کا اعلان کرنے کی ہمت کیسے ہوئی۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سبب یہ واقعہ تھا کہ آدم کو پیدائش کے بعد جنت میں رکھا گیا۔ آدم سے کہا گیا کہ پوری جنت تمہارے لیے ہے مگر تم ایک درخت سے دور رہنا،تم اس کا پھل نہ کھانا۔ مگر آدم اپنے آپ کو روک نہ سکے، اور جا کر اس ممنوعہ درخت (forbidden tree)کا پھل کھا لیا۔
یہ تجربہ بتارہا تھا کہ انسان اپنے مزاج کے اعتبار سے کل (whole)کو چاہے گا، وہ جزء (part) پر قانع نہ ہوگا۔ اس تجربے کی بنا پر ابلیس نے یہ منصوبہ بنایا کہ وہ انسان کے اس مزاج کو استعمال (exploit) کرے گا۔وہ لوگوں کو جزء پر قانع نہ ہونے دے گا،…
…حالت میں مومن کو اپنے بارے میں سخت چوکنّا رہنے کی ضرورت ہے۔ اسے اپنے آپ کو اس سے بچانا ہے کہ وہ خدا سے غافل اور آخرت فراموش لوگوں کو دیکھ کر ان سے متاثر ہوجائے۔ یا ان کی خوب صورت باتوں کے فریب میں آکر آخرت پسندانہ زندگی کو کھو بیٹھے۔
آدم اور ان کی بیوی کو جس جنت میں رکھا گیا تھا وہاں زندگی کی تمام ضرورتیں ان کو بفراغت حاصل تھیں۔ غذا، لباس، پانی، سایہ (مکان) یہ سب چیزیں وہاں خدا کی طرف سے بالکل مفت مہیا کی گئی تھیں۔ موجودہ دنیا میں یہ چیزیں آدمی کو پُرمشقت کسب کے ذریعہ ملتی ہیں، جنت میں یہ چیزیں ان کو کسی مشقت کے بغیر حاصل تھیں۔
ایک درخت کا پھل کھانا آدم کے لیے ممنوع تھا۔ شیطان نے اس درخت کے پھل میں ابدی فائدے بتائے۔ بالآخر آدم اس کی باتوں سے متأثر ہوگئے اور انھوں نے اس درخت کا پھل کھالیا۔ اس کے فوراً بعد انھوں نے محسوس کیا کہ وہ ننگے ہوگئے ہیں۔ یہ گویا ایک علامت تھی کہ خدا کی وہ ضمانت ان سے اٹھالی گئی جس کی وجہ سے وہ اب تک بلا کسب روزی کے مالک تھے۔ اس کے بعد توبہ اور دعا کی وجہ سے آدم کی معافی ہوگئی۔ تاہم وہ بلا کسب کی روزی والی دنیا سے نکال کر کسب کی روزی والی دنیا میں پہنچا دئے گئے۔ اس طرح زمین پر موجودہ نسل انسانی کا آغاز ہوا۔
آدم اور ان کی بیوی کو جس جنت میں رکھا گیا تھا وہاں زندگی کی تمام ضرورتیں ان کو بفراغت حاصل تھیں۔ غذا، لباس، پانی، سایہ (مکان) یہ سب چیزیں وہاں خدا کی طرف سے بالکل مفت مہیا کی گئی تھیں۔ موجودہ دنیا میں یہ چیزیں آدمی کو پُرمشقت کسب کے…
…گئی جس کی وجہ سے وہ اب تک بلا کسب روزی کے مالک تھے۔ اس کے بعد توبہ اور دعا کی وجہ سے آدم کی معافی ہوگئی۔ تاہم وہ بلا کسب کی روزی والی دنیا سے نکال کر کسب کی روزی والی دنیا میں پہنچا دئے گئے۔ اس طرح زمین پر موجودہ نسل انسانی کا آغاز ہوا۔
آدم اور ان کی بیوی کو جس جنت میں رکھا گیا تھا وہاں زندگی کی تمام ضرورتیں ان کو بفراغت حاصل تھیں۔ غذا، لباس، پانی، سایہ (مکان) یہ سب چیزیں وہاں خدا کی طرف سے بالکل مفت مہیا کی گئی تھیں۔ موجودہ دنیا میں یہ چیزیں آدمی کو پُرمشقت کسب کے ذریعہ ملتی ہیں، جنت میں یہ چیزیں ان کو کسی مشقت کے بغیر حاصل تھیں۔
ایک درخت کا پھل کھانا آدم کے لیے ممنوع تھا۔ شیطان نے اس درخت کے پھل میں ابدی فائدے بتائے۔ بالآخر آدم اس کی باتوں سے متأثر ہوگئے اور انھوں نے اس درخت کا پھل کھالیا۔ اس کے فوراً بعد انھوں نے محسوس کیا کہ وہ ننگے ہوگئے ہیں۔ یہ گویا ایک علامت تھی کہ خدا کی وہ ضمانت ان سے اٹھالی گئی جس کی وجہ سے وہ اب تک بلا کسب روزی کے مالک تھے۔ اس کے بعد توبہ اور دعا کی وجہ سے آدم کی معافی ہوگئی۔ تاہم وہ بلا کسب کی روزی والی دنیا سے نکال کر کسب کی روزی والی دنیا میں پہنچا دئے گئے۔ اس طرح زمین پر موجودہ نسل انسانی کا آغاز ہوا۔
خدانے آدم اور ابلیس دونوں کو زمین پر بسایا۔ اس نے ابتدا ہی میں یہ تنبیہ کردی کہ قیامت تک تم دونوں کے درمیان ایک دوسرے سےمقابلہ جاری رہے گا۔ ابلیس انسانی نسل کو بہکانے میں اپنی ساری کوشش لگا دے گا۔ اس کے جواب میں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ…
…گئی جس کی وجہ سے وہ اب تک بلا کسب روزی کے مالک تھے۔ اس کے بعد توبہ اور دعا کی وجہ سے آدم کی معافی ہوگئی۔ تاہم وہ بلا کسب کی روزی والی دنیا سے نکال کر کسب کی روزی والی دنیا میں پہنچا دئے گئے۔ اس طرح زمین پر موجودہ نسل انسانی کا آغاز ہوا۔
آدم اور ان کی بیوی کو جس جنت میں رکھا گیا تھا وہاں زندگی کی تمام ضرورتیں ان کو بفراغت حاصل تھیں۔ غذا، لباس، پانی، سایہ (مکان) یہ سب چیزیں وہاں خدا کی طرف سے بالکل مفت مہیا کی گئی تھیں۔ موجودہ دنیا میں یہ چیزیں آدمی کو پُرمشقت کسب کے ذریعہ ملتی ہیں، جنت میں یہ چیزیں ان کو کسی مشقت کے بغیر حاصل تھیں۔
ایک درخت کا پھل کھانا آدم کے لیے ممنوع تھا۔ شیطان نے اس درخت کے پھل میں ابدی فائدے بتائے۔ بالآخر آدم اس کی باتوں سے متأثر ہوگئے اور انھوں نے اس درخت کا پھل کھالیا۔ اس کے فوراً بعد انھوں نے محسوس کیا کہ وہ ننگے ہوگئے ہیں۔ یہ گویا ایک علامت تھی کہ خدا کی وہ ضمانت ان سے اٹھالی گئی جس کی وجہ سے وہ اب تک بلا کسب روزی کے مالک تھے۔ اس کے بعد توبہ اور دعا کی وجہ سے آدم کی معافی ہوگئی۔ تاہم وہ بلا کسب کی روزی والی دنیا سے نکال کر کسب کی روزی والی دنیا میں پہنچا دئے گئے۔ اس طرح زمین پر موجودہ نسل انسانی کا آغاز ہوا۔
حضرت موسیٰ کو جو آگ نظر آئی وہ عام قسم کی آگ نہ تھی بلکہ خدا کی تجلی تھی۔چنانچہ جب وہ وہاں پہنچے تو انھیں احساس دلایا گیا کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔ ان کو تواضع کے ساتھ پوری طرح متوجہ ہونے کے لیے جوتا اتارنے کا حکم ہوا۔ پھر آواز آئی کہ اس…