Shukr All cross-references →
Qur'an 2:30
Qur'an 2:30

وَإِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٞ فِي ٱلۡأَرۡضِ خَلِيفَةٗۖ قَالُوٓاْ أَتَجۡعَلُ فِيهَا مَن يُفۡسِدُ فِيهَا وَيَسۡفِكُ ٱلدِّمَآءَ وَنَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَۖ قَالَ إِنِّيٓ أَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُونَ

And [mention, O Muhammad], when your Lord said to the angels, "Indeed, I will make upon the earth a successive authority." They said, "Will You place upon it one who causes corruption therein and sheds blood, while we declare Your praise and sanctify You?" Allah said, "Indeed, I know that which you do not know

Explained in 23 book passages and 54 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

…keep emerging in his affairs. Every evil found on earth results from a wrong use of human freedom. Throughout history, man has proven correct the apprehension the angels had expressed before God when man was created. The Quran says:

“When your Lord said to the angels, ‘I am putting a successor on earth,’ they said, ‘Will You place someone there who will cause corruption on it and shed blood, while we glorify You with Your praise and extol Your holiness?’” (2:30)

However, it is essential to understand that man’s freedom is not absolute. Only temporary freedom is given to him according to God’s Creation Plan. Human beings possess freedom for the sake of the test they are being put to while on earth.…

آدم اور ابلیس کا سبق

آدم و ابلیس کا قصہ قرآن میں کئی بار بیان کیا گیا ہے۔مثلاً سورہ البقرة ، 2:30-38، سورہ الاعراف، 7:11-25، سورہ الحجر، 15:26-43وغیرہ۔ اس قصے کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے آدم کو پیدا کرکے فرشتہ اور ابلیس کو اسے سجدہ کرنے کے لیے کہا۔فرشتوں نے سجدہ کیا، مگر ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ وہ نقصان میں رہا۔

ابلیس کا معاملہ یہ تھا کہ وہ ایک فرمانبردار مخلوق تھا، لیکن ایک موقع آیا جب کہ اس کے لیے پریکٹکل وزڈم یہ تھا کہ وہ ایک نئی مخلوق ،آدم کے سامنے خدا کے حکم کے مطابق جھک جائے۔ مگر وہ اپنے ماضی کی عظمت میں گم رہا کہ وہ نئی مخلوق کے مقابلے…

Al-Risala March 2022 A original + quote

…ہے جو معلوم قانون کے تحت پیش آتا ہے ۔مزید یہ کہ اس کا تعلق ہر گروہ سے ہے، خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی ۔ خواہ وہ ایک ملک کا رہنے والا ہو یا کسی دوسرے ملک کارہنے والا۔ خواہ وہ ایک زمانہ میں رہنے والا ہو یا کسی دوسرے زمانہ میں رہنے والا ۔

اصل یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر پیدائشی طورپر اتھاہ صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ مگر ابتدائی طور پر یہ صلاحیت سوئی ہوئی ہوتی ہے۔ جو چیز اس صلاحیت کو جگاتی ہے وہ صرف ایک ہے ، اور وہ چیلنج کی حالت ہے، یعنی ایک دوسرے سے مسابقت (competition) کا چیلنج۔ اسی حالت کوقرآن میں عداوت(البقرۃ، 2:30؛الا عراف،7:24) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چیلنج( یا عداوت) کے حالات آدمی کے اندر سوئی ہو ئی صلاحیتوںکوجگا تے ہیں۔ اور جن لوگوں کو چیلنج والے حالات پیش نہ آئیں ان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں بیدارنہیں ہوتیں۔ وہ ایک کمترانسان کی مانند جیتے ہیں اور کمتر انسان کی مانند مرجاتے ہیں۔

چھوٹے گروہ اور بڑے گروہ کے درمیان فرق اسی فطری قانون کی بناپرپیش آتا ہے۔ کسی سماج میں جب ایک گروہ کم تعداد میں ہو اور دوسراگروہ زیادہ تعداد میں تو اس فرق کی بناپر دونوں کو الگ الگ حالات سے دو چار ہونا پڑتا ہے ۔ ایک کو صبر کی مشقت سے گذرنا…

اللہ اور فرشتوں کا مکالمہ

اللہ اور اس کے فرشتوں کے درمیان ہونے والا مکالمہ قرآن میں اس طرح بیان ہوا ہے: اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خون بہائیں۔ اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔اور اللہ نے سکھادیے آدم کو سارے نام، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بیشک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے۔ اللہ نے کہا اے آدم، ان کو بتاؤ ان کے نام۔ تو جب آدم نے بتائے ان کو ان کے نام تو اللہ نے کہا ۔ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ آسمانوں اور زمین کے بھید کو میں ہی جانتا ہوں۔ اور مجھ کو معلوم ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔ (البقرۃ،2:30-34)

…اسی وقت پیدا ہوسکتے تھے جب کہ ان کو حقیقی معنوں میں کامل آزادی دے کر یہ رسک (risk) لیا جائے کہ ان میں سے ایک گروہ بھٹکنے والا ہوگا تو دوسرا گروہ ایسانکلے گا، جو اپنے اختیار کو صحیح طور پر استعمال کرے، اوراپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کرے۔

فرشتے اپنے ذہن کے مطابق اس کو ناممکن سمجھتے تھے کہ نئی مخلوق (انسان) فرشتوں کی مانند کامل معنوں میں اطاعت گزار ہو۔ چنانچہ انھوں نے کہاکہ انسان زمین میں فساد کریں گےاور ایک دوسرے کا خون بہائیں گے (البقرۃ، 2:30)۔لیکن اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ نئی مخلوق تخلیقی اوصاف (creative quality) کی مالک ہو۔ یعنی وہ خود دریافت کردہ معرفت (self-discovered realization) پر کھڑی ہو، وہ خود اختیار کردہ نظم (self-acquired discipline) کی صفت رکھتی ہو، وہ خود دریافت کردہ سچائی (self-discovered truth) پر کھڑی ہونے والی ہو،اس کے اندر یہ صفت ہو کہ وہ اپنی اصلاح آپ (self-correction) کا پراسس (process) اپنے اندر جاری کرسکے، وہ پورے معنوں میں خود تعمیر کردہ انسان (self-made man) کہلانے کی مستحق ہو ۔ ایسی ہی مخلوق اللہ کے نزدیک اس قابل تھی کہ وہ ابدی جنت کے باغوں میں ہمیشہ کے لیے آباد کی جائے۔

یہاں "علم الاسماء"سے مرادبہ ظاہر انسان کی تاریخ ہے۔ اللہ کا فرشتوں سے یہ کہنا کہ تم ان کے نام بتاؤ، یعنی ان کی تاریخ بتاؤ۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ تم یہ دیکھ رہے ہو کہ پیدا کیے جانے والے انسان آزادی کا غلط استعمال کریں گے، اور دوبارہ…

خدا کا تخلیقی منصوبہ

خدا کے اِس تخلیقی منصوبے کے آغاز کا ذکر قرآن کی سورہ البقرہ میں آیا ہے۔ اِن آیات کا ترجمہ یہ ہے:’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میںایسے لوگوں کو بسائے گا جو اُس میں فساد برپا کریں اور خون بہائیں، اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا: میں وہ جانتاہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے سکھادیے آدم کو سارے نام، پھر ان فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے اِن لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے‘‘۔ (2:30-32)

اصل یہ ہے کہ فرشتے پورے انسانی مجموعے کو دیکھ کر اپنی رائے بنا رہے تھے۔ اللہ نے ایک مظاہرہ کے ذریعے واضح کیا کہ خدائی تخلیق کا نشانہ مجموعہ نہیں ہے، بلکہ افراد ہیں۔ مجموعے کی سطح پر اگرچہ بگاڑ آئے گا، لیکن افراد کی سطح پر ہمیشہ اچھے افراد…

…کہ اسلام کی کوئی بات ڈسکور ہوجائے، اسلام کی کوئی بات ہماری روحانی غذا بن جائے۔ اللہ مجھے الرسالہ مشن پر ثابت قدم رکھے۔ اور زیادہ سے زیادہ اعلی معرفت حاصل کرنے کی توفیق دے تاکہ جنت میں اعلی درجہ مل سکے، آمین۔ (مولانا عبد الباسط عمری، قطر)

■ اتوار (12 نومبر 2017)کے درس قران میں مولانا نے سورۃ البقرۃ کی آیت :انی جاعل فی الارض خلیفۃ(2:30)میں خلیفہ کی جو تشریح کی وہ میرے لیے بالکل نئی ہے، اوراس آیت کو ایک نئے اندازسے سمجھنے پر ابھارتی ہے۔ اس سے پہلے یہ آیت میرے لئے بہت زیادہ غیر واضح تھی۔خلیفہ کا مفہوم بہت ہی معنی خیز ہے ۔اس سے پہلے میرے نزدیک سیاسی خلافت کا ہی تصور تھا۔ علمی و فکری خلافت کا تسلسل اور آخر میں دین رب کا مستند ہونا پھر اس کی حفاظت کی خلافت اور س کی اشاعت کے مطلوب مواقع اور وسائل کی خلافت،وغیرہ۔ الغرض سیاسی خلافت کے علاوہ دینی اور دعوتی خلافت کا جو تصور آپ نے بیان کیا، یہ میرے لیے واضح ہوا۔ اگر میں اس وضاحت سے محروم رہتا تو مطلوب الٰہی کے بارے میں مشتبہ رہ کر ہلاک ہوجاتا۔حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بھی سیاسی خلافت کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں، وہ دین رحمت کو دین زحمت بنا رہے ہیں۔ دین کی سیاسی تعبیر کرنے والے مقصد تخلیق کو اسی آیت سے واضح کرتے ہیں ۔ مگر مفسرین کی ایک بڑی تعداد نے قوم در قوم اور نسل در نسل کی خلافت کو مانا ہے ۔اس سےیہ واضح ہوا کہ قران کی اس آیت سے علمی اور دعوتی خلافت کا استدلال ممکن ہے ،نہ کہ سیاسی اقتدار والی خلافت۔ اس کے بعد ایک اورچیز میرے لیے غیر واضح تھی۔ وہ یہ کہ خدا کےاس تخلیقی منصوبہ میں کسی قوم کا یا نسل کا یکے بعد دیگرے آنا، کیا ہے۔ اس میں کوئی بڑا معنوی مفہوم اور مقصود سمجھ میں نہیں آرہا تھا ۔جب آپ نے یہ کہا کہ انسان کی زندگی کے خاتمہ کے ساتھ ہی علمی ارتقاء کا انقطاع ہوجاتا تھا ۔ اس لیے یہ ضروری تھا کہ علم و فکر کی تسلسل کے لئے خلافت کا پروسس جاری کیا جائے۔ یہاں تک کے خدا کادین محفوظ اور مستند ہوگیا، اور اس کی حفاظت اور اشاعت کے لئے حالات اور وسائل میسر ہوگئے۔ ماضی کی اسلامی خلافتوں نے نسل درنسل پیغام رب کو محفوظ کرلیا، اور اہل یورپ کی ایجادات نے مستند دین کی حفاظت اور اشاعت کا سامان کردیا۔گویا علمی خلافت کا مطلوب رول ادا کرنے کے لیے سارے وسائل ملے ہوئے ہیں۔ ایسے میں خلافت کو عالمی اقتدار کے معنی میں لینا خدا کے منصوبہ کو جیوپرڈائز (jeopardize)کرنے کے ہم معنی ہے۔ یہ مفہوم مجھے پہلی مرتبہ واضح ہوا۔اگر یہ نہیں جانتا تو خدا کا مطلوب جانے بغیر ہلاک ہوجاتا۔کیونکہ اختیار کی اس دنیا میں اقتدار کی جنگ چھیڑنا یہی سیاسی خلافت کی تبلیغ ہے، مگر اس کو اقامت دین کا خوبصورت نام دے دیا گیا ہے۔اس لیے جو بھی اس آیت کی بنیاد پر سیاسی خلافت کی تحریک چلاتے ہیں، وہ غلطی پر ہیں۔یہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے دعوت دین کے لیےملے ہوئےمواقع کو موانع میں تبدیل کرنا ہے۔اس کے برعکس، آپ نے جو تصور خلافت دیا ، یعنی علمی اور فکری طور پر ایک دوسرے کا خلیفہ ہونا۔ اس سے تخلیق انسانی کی مثبت توجیہ مل جاتی ہے، اور مذہبی و سیکولر دونوں طبقۂ انسان کا اعتراف ہوجاتا ہے۔ نیز دور جدید کی معنویت سمجھ میں آجاتی ہے۔ اس سےپر امن ایکشن اور اقدام کا راستہ مل جاتا ہے۔ یعنی خدا کے دین کو ہر ایک کے لیے پر امن طریقہ سے اویلبل(available) کرانا، اور ادخال کلمہ فی کل البیوت کا فرض ادا کرنا ہے۔جزاک اللہ خیرا (مولاناسیداقبال احمدعمری، عمرآباد، تامل ناڈو[Mob. 9994436917])

■ مفسرین کا وہ اقلیتی گروپ جس نے خلیفہ اورخلافت کا سیاسی تصور ڈیولپ کیا تھا، انھوں نے لوگوں کے ذہنوں کو واقعی غوغائیت اور شورش پسندی سے بھردیاہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں مفسرین کی وہ اکثریت جنھوں نے اس آیت کی تشریح یخلف بعضھم بعضا جیسے…

Al-Risala April 2016 A original + quote

خلیفہ کا مطلب

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے جب آدم کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو کہا : إِنِّی جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِیفَةً (2:30)۔ یعنی میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ خلیفہ کا مطلب ہے بعد کو آنے والا(successor)۔ قرآن میں کئی جگہ یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے،مثلا: ثُمَّ جَعَلْنَاکُمْ خَلَائِفَ فِی الْأَرْضِ (10:14) ۔

قرآن کی مذکورہ آیت (2:30) کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے پہلے جنوں کو پیدا کیا (الحجر27)۔ جنوں نے زمین میں فساد برپا کیا۔ اس کے بعد اللہ نے ایک اور مخلوق انسان کی صورت میں پیدا کی۔ اس وقت فرشتوں نے یہ شبہہ ظاہر کیا: أَتَجْعَلُ فِیہَا مَنْ…

Al-Risala April 2016 A original + quote

…جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِیفَةً (2:30)۔ یعنی میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ خلیفہ کا مطلب ہے بعد کو آنے والا(successor)۔ قرآن میں کئی جگہ یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے،مثلا: ثُمَّ جَعَلْنَاکُمْ خَلَائِفَ فِی الْأَرْضِ (10:14) ۔

قرآن کی مذکورہ آیت (2:30) کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے پہلے جنوں کو پیدا کیا (الحجر27)۔ جنوں نے زمین میں فساد برپا کیا۔ اس کے بعد اللہ نے ایک اور مخلوق انسان کی صورت میں پیدا کی۔ اس وقت فرشتوں نے یہ شبہہ ظاہر کیا: أَتَجْعَلُ فِیہَا مَنْ یُفْسِدُ فِیہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاءَ (2:30) ۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں نے یہ بات جنوں کے تجربہ کی بنیاد پر کہی تھی۔ یعنی جنوں کو آزادی دی گئی ، اس کے بعد انھوں نے فساد پربا کیا۔ اب اگر انسان کو آزاد مخلوق کی حیثیت دی جائے تو وہ بھی آزادی کا غلط استعمال کریں گے اور فساد برپا کریں گے۔

قرآن میں یہ حوالہ گویا بطور انتباہ (warning)ہے۔ یعنی اس طرح انسان کو متنبہ کیا گیا کہ وہ جنوں کی مثال سے سبق لیں، اور آزادی کا غلط استعمال کرکے دوبارہ فساد اور سفک دماء کی غلطی نہ کریں۔ ورنہ ان کو بھی جنوں جیسا انجام بھگتنا پڑے گا۔

Al-Risala August 2015 A original + quote

زمین میں خلافت

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے جب انسان کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو فرمایا: إِنِّی جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِیفَة (2:30) یعنی میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ خلیفہ کا مطلب جانشین یا قائم مقام (successor) ہے، یعنی کسی کی جگہ لے کر اس کی طرف سے اس کا کام کرنے والا۔ اس تشریح کے مطابق اس آیت میں خلیفہ سے مراد خلیفۃ اللہ فی الارض، یعنی زمین میں اللہ کا خلیفہ ہے۔

خلیفہ ایک انسانی زبان کا لفظ ہے۔ انسانی تصور کے مطابق خلیفہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان کی وفات کے بعد دوسرا انسان اس کی جگہ آکر اس کی قائم مقامی کرے۔ خلیفہ کا یہ مفہوم انسان کے اعتبار سے ہے۔ جب یہ لفظ اللہ کی نسبت سے بولا جائے تو یہاں…

Al-Risala August 2015 A original + quote

…زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ خلیفہ کا مطلب جانشین یا قائم مقام (successor) ہے، یعنی کسی کی جگہ لے کر اس کی طرف سے اس کا کام کرنے والا۔ اس تشریح کے مطابق اس آیت میں خلیفہ سے مراد خلیفۃ اللہ فی الارض، یعنی زمین میں اللہ کا خلیفہ ہے۔

خلیفہ ایک انسانی زبان کا لفظ ہے۔ انسانی تصور کے مطابق خلیفہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان کی وفات کے بعد دوسرا انسان اس کی جگہ آکر اس کی قائم مقامی کرے۔ خلیفہ کا یہ مفہوم انسان کے اعتبار سے ہے۔ جب یہ لفظ اللہ کی نسبت سے بولا جائے تو یہاں موت کے بجائے غیب مراد ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ جو غیب میں ہے اس کی نمائندگی شہود میں کرنا۔اس آیت میں خلافت یا نمائندگی سے مراد سیاسی نمائندگی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان اللہ کا نائب بن کر زمین پر اللہ کی حکومت قائم کرے۔ یہ خلافت اعلان حق کے معنی میں ہے، نہ کہ تنفیذ احکام کے معنی میں۔ اس اعلان سے مراد وہی چیز ہے، جس کو فرشتوںنے تحمید اور تقدیس (2:30) کے الفاظ میں بیان کیا تھا۔ اللہ کی تحمید اور تقدیس ایک اعلی ترین مقصود ہے جس کو کائنات کی ہرچیز ودیعۃً (inherently) کر رہی ہے۔ اب اللہ کو منظور ہوا کہ یہ کام انسان ذاتی دریافت (self discovery) کے طور پر کرے۔

کائنات میں انسان ایک خصوصی تخلیق کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں اللہ کی آیات کی تبیین آفاق و انفس (43:53) کی زبان میں کی جائے گی۔ اللہ کو مطلوب تھا کہ ایک مخلوق ہو جو ذاتی دریافت کی سطح…

Al-Risala April 2015 A original + quote

خلافت ارضی

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو زمین پر خلیفہ بنایا ہے: إِنِّى جَاعِلٌ فِى ٱلْأَرْضِ خَلِیفَةً (2:30) - اس سے مراد نہ خدا کا خلیفہ ہونا ہے، اور نہ اسلامی خلیفہ ہونا- اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو زمین پر با اختیار مخلوق کی حیثیت سے آباد کیا ہے- یہ اختیارانہ حیثیت نہ فرشتوں کو حاصل ہے، اور نہ سورج اور چاند کو-

قرآن کی دوسری متعلق آیتوں کو لے کر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کو استثنائی ذہن دیاگیا اور پھر اس کو آزادی عطا کی گئی- اس کا مقصد یہ تھاکہ انسان اپنے ذہن کو استعمال کرے، اور پھر وہ خود دریافت کردہ معرفت پر…

Al-Risala January 2015 A original + quote

انسان کی تخلیق

اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کیا تواس وقت اللہ اور فرشتوں کے درمیان ایک مکالمہ ہوا، اس کا ایک حصہ یہ تھا: قَالُوْٓا اَتَجْعَلُ فِیْہَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاۗءَ ۚ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ ۭ قَالَ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْن (2:30) یعنی فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خون بہائیں- اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں- اللہ نے کہا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے-

اللہ نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے زمین پر آباد کیا- اس وقت فرشتوں کے اندر یہ شبہہ پیدا ہوا کہ جب انسان کو آزادی حاصل ہوگی تو اس کو آزادی کے غلط استعمال کی بھی آزادی ہوگی،اور جب ایسا ہوگا تو اس زمین میں…

Al-Risala June 2014 A unverified

…کی منشا یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں ایسے اعلی افراد چنے جائیں جو آخرت کی ابدی جنت میں بسائے جانے کے مستحق ہوں-اِس معاملے کو سمجھنے کے لیے قرآن کی سورہ البقرہ کا مطالعہ کرنا چاہئے- اِس سلسلے میں قرآن کی متعلق آیتوں کا ترجمہ حسب ذیل ہے:

’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک جانشین بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خون بہائیں۔ اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا میں جانتا ہوں جو تم نہیںجانتے۔ اور اللہ نے سکھادئے آدم کو سارے نام، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان لوگوں کے نام بتائو‘‘۔ (2:30-31)

اللہ تعالی نے جب انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ زمین کو اِس آزاد مخلوق کے چارج میں دے دے، اُس وقت فرشتوں نے یہ شبہہ ظاہر کیا کہ آزادی پاکر انسان زمین پر فساد کرے گا اور خون بہائے گا- فرشتوں کا یہ…

Al-Risala January 2014 A original + quote

خلافت کا تصور

قرآن کی سورہ البقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے جب انسان کو پیدا کیا تو اللہ اور فرشتوں کے درمیان ایک مکالمہ ہوا- اِس مکالمے کے دوران اللہ نے انسان کی پیدائش کا مقصد اِس طرح بیان کیا: وَاِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰۗىِٕکَةِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِیْفَةً ( 2:30) یعنی یاد کرو اُس وقت کو جب کہ تمھارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں-

’خلافت‘ کے لغوی معنی ہیں: بعد کو آنا- ’خلیفہ‘ کا مطلب ہے: کسی کے بعد اس کی جگہ پر آنے والا، یعنی جانشین (successor)- خلیفہ کا اصل لفظی مطلب یہی ہے، لیکن اِس طرح کسی کے بعد جو شخص جانشین بنتا ہے، وہ عام طورپر صاحبِ اقتدار ہوتا ہے، اس لیے…

Al-Risala November 2013 A original + quote

…واقعے کی اصل اہمیت اِس اعتبار سے نہیں تھی کہ اس کے نتیجے میں ایک مسلم ایمپائر وجود میں آئے- اِس واقعے کی اصل اہمیت یہ تھی کہ اُس نے انسانی تاریخ کے سفر کو صحیح رخ کی طرف موڑ دیا، اس نے انسانی تاریخ کو خدائی منصوبے کے ساتھ ہم آہنگ کردیا-

اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو زمین پر بسایا اور اس کو ہر طرح کی آزادی دی- اِس تخلیق کا مقصد یہ نہیں تھا کہ انسان موجودہ دنیا میں آئڈیل حکومت بنائے یا آئڈیل سماج قائم کرے- انسان کی آزادی کی بنا پر دنیا میں وہی ہونا تھا جس کو فرشتوں نے فساد (2:30) سے تعبیر کیا تھا- تخلیق کے اعتبار سے، فساد کا لفظ کوئی منفی لفظ نہیں- اِس کا مطلب یہ ہے کہ زمین میں مختلف قسم کے ناموافق حالات پیدا ہوں، تاکہ انسان کے لیے مسلسل طورپر چیلنج کی صورت حال باقی رہے- چیلنج کی یہ صورتِ حال عین مقصودِ تخلیق ہے، کیوں کہ اِسی صورتِ حال کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ افراد کے لیےامتحان کا ماحول جاری رہے اور مطلوب افرادکا انتخاب ممکن ہوسکے-

قرآن کی سورہ الانعام میں انسان کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے: وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰی ى(6:94)-قرآن کے اِن الفاظ کا لفظی ترجمہ شاہ عبد القادر دہلوی نے اِس طرح کیا ہے— اور آئے تم ہمارے پاس ایک ایک- شاہ عبد القادر دہلوی کا یہ…

Al-Risala October 2013 A original + quote

تاریخ کا مثبت تصور

تاریخ کا مطالعہ کرنے والے عام طورپر تاریخ کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں- ان کو پوری تاریخ فساد اور خوں ریزی کا ایک جنگل معلوم ہوتی ہے- آدم کی تخلیق کے وقت فرشتوں نے بھی یہ شبہہ ظاہر کیا تھا (2:30)-

اللہ تعالی نے ایک مظاہرے کے ذریعے فرشتوں کو بتایا کہ تم پورے انسانی مجموعے کے اعتبار سے تاریخ کو دیکھ رہے ہو، اِس لیے تاریخ تم کو فساد اور خوں ریزی کا جنگل معلوم ہوتی ہے- لیکن تم تاریخ کو افراد کے اعتبار سے دیکھو، پھر تم کو نظر آئے گا کہ…

Al-Risala February 2013 A original + quote

…مخاصمت ایک منفی سرگرمی کا نام ہے- مخاصمت ایک ایسا فعل ہے جو ہمیشہ علمی بددیانتی پر قائم ہوتا ہے- مخاصمت ایک ایسا فعل ہے جو غیر علمی بھی ہے اور غیر اخلاقی بھی- مخاصمت کا کوئی بھی مثبت فائدہ نہیں، نہ ایک فریق کے لیے، نہ دوسرے فریق کے لیے-

مخاصمت یہ ہے کہ ایک شخص کو کسی سے عناد ہوجائے، وہ ہر حال میں اس کی تنقیص ، اُس پر عیب زنی اور اس کے خلاف الزام تراشی میں لگا رہے— اختلاف ایک ملکوتی فعل (2:30)ہے اور مخاصمت تمام تر ایک شیطانی فعل-

Al-Risala August 2012 A original + quote

خدا اور فرشتوں کا مکالمہ

آدم کی تخلیق کے وقت خدا اور فرشتوں کے درمیان ایک مکالمہ ہوا۔ اِس سلسلے میں قرآن کی آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: ’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اُس میں فساد برپا کریں اور خون بہائیں، اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا: میں جانتا ہوں، جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے سکھائے آدمی کو سارے نام، پھر اُن کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے اُن لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک، تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے‘‘ ۔(2: 30-32)

یہاں یہ سوال ہے کہ وہ کیا بات تھی جس پر فرشتوں کو اشکال پیدا ہوا، اور بعد کو کیا چیز اُن کے علم میںآئی جس کے بعد اُن کا اشکال دور ہوگیا۔ اصل یہ ہے کہ ابتدا میں فرشتوں نے آدمی کی نسل کو اس کے پورے مجموعۂ انسانیت کے اعتبار سے لیا۔ اُن کو…

Al-Risala July 2012 A unverified

مطلوب افراد کا انتخاب

خدا کے اِس تخلیقی منصوبہ کا ذکر قرآن کی سورہ البقرہ میں آیا ہے۔ اِن آیات کا ترجمہ یہ ہے: ’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میںایسے لوگوں کو بسائے گا جو اُس میں فساد برپا کریں اور خون بہائیں، اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا: میں وہ جانتاہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے سکھادئے آدم کو سارے نام، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے اِن لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے‘‘۔ (2: 30-32)

فرشتوں کو یہ معلوم تھا کہ تمام موجودات مکمل طورپر خدا کے تابع فرمان ہیں، مگر انسان کو آزادی دے کر زمین پر بسایا جارہا ہے۔ ایسی حالت میں یہ ہوگا کہ لوگ آزادی کا غلط استعمال کریں گے اور وہ زمین میں فساد اور خوں ریزی برپا کریں گے۔ اُس وقت…

Al-Risala July 2012 A unverified

…ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے آباد کیا۔اللہ تعالیٰ نے جب انسانِ اوّل (آدم) کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو اُس وقت اللہ اور فرشتوں کے درمیان ایک مکالمہ ہوا۔ یہ واقعہ قرآن کی سورہ البقرہ میں آیا ہے۔ یہاں متعلق آیات کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے:

’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اُس میں فساد کریں اور خون بہائیں۔ اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا کہ میں وہ جانتاہوں جو تم نہیں جانتے۔ اوراللہ نے سکھائے آدم کو سارے نام، پھر اُن کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے اُن لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے۔ اللہ نے کہا: اے آدم، ان کو بتاؤ اُن لوگوں کے نام، تو جب آدم نے بتائے اُن کو اُن لوگوں کے نام تو اللہ نے کہا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ آسمانوں اور زمین کے بھید کو میں ہی جانتا ہوں، اور مجھ کو معلوم ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو‘‘ (2: 30-33) ۔

یہاں یہ سوال ہے کہ فرشتوں نے آدم کے بارے میں جس شک کا اظہار کیا تھا، وہ کیا تھا، اور اللہ تعالیٰ کے وضاحتی جواب کے بعد فرشتے جس چیز پر مطمئن ہوئے، وہ چیز کیا تھی۔ یہ بات قرآن میں بطور اشارہ موجودہے۔ اِس اشارے کی تفصیل جاننے کے بعد ہی…

اللہ اور فرشتوں کا مکالمہ

اللہ اور اس کے فرشتوں کے درمیان ہونے والا مکالمہ قرآن میں اس طرح بیان ہوا ہے: اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خون بہائیں۔ اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔اور اللہ نے سکھادیے آدم کو سارے نام، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بیشک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے۔ اللہ نے کہا اے آدم، ان کو بتاؤ ان کے نام۔ تو جب آدم نے بتائے ان کو ان کے نام تو اللہ نے کہا ۔ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ آسمانوں اور زمین کے بھید کو میں ہی جانتا ہوں۔ اور مجھ کو معلوم ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔ (البقرۃ،2:30-34)

Al-Risala September 2020 A original + quote

…اسی وقت پیدا ہوسکتے تھے جب کہ ان کو حقیقی معنوں میں کامل آزادی دے کر یہ رسک (risk) لیا جائے کہ ان میں سے ایک گروہ بھٹکنے والا ہوگا تو دوسرا گروہ ایسانکلے گا، جو اپنے اختیار کو صحیح طور پر استعمال کرے، اوراپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کرے۔

فرشتے اپنے ذہن کے مطابق اس کو ناممکن سمجھتے تھے کہ نئی مخلوق (انسان) فرشتوں کی مانند کامل معنوں میں اطاعت گزار ہو۔ چنانچہ انھوں نے کہاکہ انسان زمین میں فساد کریں گےاور ایک دوسرے کا خون بہائیں گے (البقرۃ، 2:30)۔لیکن اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ نئی مخلوق تخلیقی اوصاف (creative quality) کی مالک ہو۔ یعنی وہ خود دریافت کردہ معرفت (self-discovered realization) پر کھڑی ہو، وہ خود اختیار کردہ نظم (self-acquired discipline) کی صفت رکھتی ہو، وہ خود دریافت کردہ سچائی (self-discovered truth) پر کھڑی ہونے والی ہو،اس کے اندر یہ صفت ہو کہ وہ اپنی اصلاح آپ (self-correction) کا پراسس (process) اپنے اندر جاری کرسکے، وہ پورے معنوں میں خود تعمیر کردہ انسان (self-made man) کہلانے کی مستحق ہو ۔ ایسی ہی مخلوق اللہ کے نزدیک اس قابل تھی کہ وہ ابدی جنت کے باغوں میں ہمیشہ کے لیے آباد کی جائے۔

یہاں "علم الاسماء"سے مرادبہ ظاہر انسان کی تاریخ ہے۔ اللہ کا فرشتوں سے یہ کہنا کہ تم ان کے نام بتاؤ، یعنی ان کی تاریخ بتاؤ۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ تم یہ دیکھ رہے ہو کہ پیدا کیے جانے والے انسان آزادی کا غلط استعمال کریں گے، اور دوبارہ…

In the lectures

Cited at 359s — opens the lecture at this moment.

Cited at 645s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1307s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3916s — opens the lecture at this moment.

Cited at 131s — opens the lecture at this moment.

Cited at 135s — opens the lecture at this moment.

Cited at 257s — opens the lecture at this moment.

Cited at 333s — opens the lecture at this moment.

Cited at 423s — opens the lecture at this moment.

Cited at 473s — opens the lecture at this moment.

Cited at 478s — opens the lecture at this moment.

Cited at 503s — opens the lecture at this moment.

Cited at 559s — opens the lecture at this moment.

Cited at 576s — opens the lecture at this moment.

Cited at 590s — opens the lecture at this moment.

Cited at 619s — opens the lecture at this moment.

Cited at 631s — opens the lecture at this moment.

Cited at 634s — opens the lecture at this moment.

Cited at 661s — opens the lecture at this moment.

Cited at 675s — opens the lecture at this moment.

Cited at 723s — opens the lecture at this moment.

Cited at 797s — opens the lecture at this moment.

Cited at 827s — opens the lecture at this moment.

Cited at 964s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1008s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1037s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1207s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1251s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1254s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1286s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1361s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1404s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1431s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1479s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1667s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1695s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2026s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2490s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2622s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3207s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3426s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3860s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3886s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3944s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4082s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4341s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4665s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4684s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4986s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5002s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5009s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5644s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5761s — opens the lecture at this moment.

Cited at 6174s — opens the lecture at this moment.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

semantic Izhar-e-Deen (p. 543) Qur'an

…كى منشا يه هے كه موجوده دنيا ميں ايسے اعلى افراد چنے جائيں جو آخرت كى ابدى جنت ميں بسائے جانے كے مستحق هوں۔اِس معاملے كو سمجھنے كے ليے قرآن كى سورۃ البقره كا مطالعه كرنا چاہیے ۔ اِس سلسلے ميں قرآن كى متعلق آيتوں كا ترجمه حسب ذيل هے

’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک جانشین بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خون بہائیں۔ اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے سکھادیے آدم کو سارے نام، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان لوگوں کے نام بتائو‘‘۔ (2:30-31)

الله تعالى نے جب انسان كو ايك آزاد مخلوق كى حيثيت سے پيدا كيا اور يه فيصله كيا كه وه زمين كو اِس آزاد مخلوق كے چارج ميں دے دے، اُس وقت فرشتوں نے يه شبه ظاهر كيا كه آزادى پاكر انسان زمين پر فساد كرے گا اور خون بهائے گا۔ فرشتوں كا يه شبه…

semantic Izhar-e-Deen (p. 482) unverified

…ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے آباد کیا۔اللہ تعالیٰ نے جب انسانِ اوّل (آدم) کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو اُس وقت اللہ اور فرشتوں کے درمیان ایک مکالمہ ہوا۔ یہ واقعہ قرآن کی سورۃ البقرہ میں آیا ہے۔ یہاں متعلق آیات کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے

’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اُس میں فساد کریں اور خون بہائیں۔ اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا کہ میں وہ جانتاہوں جو تم نہیں جانتے۔ اوراللہ نے سکھائے آدم کو سارے نام، پھر اُن کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے اُن لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے۔ اللہ نے کہا اے آدم، ان کو بتاؤ اُن لوگوں کے نام، تو جب آدم نے بتائے اُن کو اُن لوگوں کے نام تو اللہ نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ آسمانوں اور زمین کے بھید کو میں ہی جانتا ہوں، اور مجھ کو معلوم ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو‘‘ (2:30-33) ۔

یہاں یہ سوال ہے کہ فرشتوں نے آدم کے بارے میں جس شک کا اظہار کیا تھا، وہ کیا تھا، اور اللہ تعالیٰ کے وضاحتی جواب کے بعد فرشتے جس چیز پر مطمئن ہوئے، وہ چیز کیا تھی۔ یہ بات قرآن میں بطور اشارہ موجودہے۔ اِس اشارے کی تفصیل جاننے کے بعد ہی…

semantic Izhar-e-Deen (p. 464) unverified

مطلوب افراد کا انتخاب

خدا کے اِس تخلیقی منصوبہ کا ذکر قرآن کی سورۃ البقرہ میں آیا ہے۔ اِن آیات کا ترجمہ یہ ہے ’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا کیا تو زمین میںایسے لوگوں کو بسائے گا جو اُس میں فساد برپا کریں اور خون بہائیں، اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا میں وہ جانتاہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے سکھادیے آدم کو سارے نام، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے اِن لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے‘‘۔ (2:30-32)

فرشتوں کو یہ معلوم تھا کہ تمام موجودات مکمل طورپر خدا کے تابع فرمان ہیں، مگر انسان کو آزادی دے کر زمین پر بسایا جارہا ہے۔ ایسی حالت میں یہ ہوگا کہ لوگ آزادی کا غلط استعمال کریں گے اور وہ زمین میں فساد اور خوں ریزی برپا کریں گے۔ اُس وقت…

semantic Izhar-e-Deen (p. 443) unverified

خدا اور فرشتوں کا مکالمہ

آدم کی تخلیق کے وقت خدا اور فرشتوں کے درمیان ایک مکالمہ ہوا۔ اِس سلسلے میں قرآن کی آیتوں کا ترجمہ یہ ہے ’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اُس میں فساد برپا کریں اور خون بہائیں، اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا میں جانتا ہوں، جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے سکھائے آدمی کو سارے نام، پھر اُن کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے اُن لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک، تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے‘‘۔ (2:30-32)

یہاں یہ سوال ہے کہ وہ کیا بات تھی جس پر فرشتوں کو اشکال پیدا ہوا، اور بعد کو کیا چیز اُن کے علم میںآئی جس کے بعد اُن کا اشکال دور ہوگیا۔ اصل یہ ہے کہ ابتدا میں فرشتوں نے آدمی کی نسل کو اس کے پورے مجموعۂ انسانیت کے اعتبار سے لیا۔ اُن کو…

semantic Al-Risala April 2011 original + quote

…کہ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (2:30)۔ اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان خلیفۃ اللہ ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان خلیفۃ الجن ہے، یعنی جنات کو ہٹا کر ان کی جگہ زمین پر انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے آباد کیا گیا ہے۔

قرآن میں بتایا گیاہے کہ جب خدا نے انسان کو خلیفہ بنانے کا اعلان کیا تو فرشتوں نے اِس پر اپنے تردد کا اظہار کرتے ہوئے کہا أتجعل فیها مَن یفسد فیها ویسفك الدماء (2:30) ۔ یہ بات فرشتوں نے غالباً جنات کے متعلق اپنے سابق تجربے کی بنیاد پر کہی ۔ اُن کا مطلب یہ تھا کہ جب آزادی پاکر جنات نے زمین پر فساد برپا کیا، تو اِسی طرح انسان بھی آزادی پاکر زمین میں فساد برپا کرے گا۔ اِس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا إنّي أعلم ما لا تعلمون (2:30) یعنی میں وہ جانتا ہوں جس کو تم نہیں جانتے۔

غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جن اور انسان میں ایک بنیادی فرق ہے، وہ یہ کہ انسان کے خالق نے اس کی تخلیق میں استثنائی طورپر ایک طاقت ور جذبہ شامل کیا جس کو ندامت (feeling of guilt) کہاجاتا ہے، یعنی انسان اپنی آزادی کا بے جا…

semantic Al-Risala April 2002 original + quote

…ڈر گئے۔ اورانسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بے شک وہ ظالم و جاہل تھا۔ تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کواور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے۔ اور مومن مردوں اور مومن عورتوں پر توجہ فرمائے۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (الاحزاب ۷۲۔ ۷۳)

یہ آزادی بے حد نازک چیز ہے ،کیوں کہ یہ یقینی اندیشہ ہے کہ جب کسی مخلوق کو کام کی آزادی دی جائے تو وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے گا۔ اسی اندیشہ کا اظہار فرشتوں نے انسان کی پیدائش کے وقت کیا تھا۔ اس کا ذکر قرآن میںان الفاظ میںآیا ہے: اورجب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میںایک خلیفہ (بااقتدار) بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میںایسے لوگوں کو بسائے گا جواس میں فساد کریں اور خون بہائیں اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے (البقرہ ۳۰)

انسان کو آزادی دینے کے اسی منصوبہ کا وہ نتیجہ ہے جس کو فلاسفہ بُرائی کا مسئلہ (problem of evil) کہتے ہیں۔ اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ یقینا ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے (البلد ۴)یہی بات قرآن میں ایک…

semantic Al-Risala July 2007 original + quote

…جہنمی ماڈل وہ ہے جس کا نمونہ ابلیس کی مثال میں ملتا ہے۔ موجودہ دنیا میں جو لوگ ملکوتی کردار کو اپنائیں اگلی دنیا میںان کے لیے ابدی راحت ہے اور اس کے برعکس، جو لوگ ابلیسی ماڈل کو اپنائیں اگلے دور حیات میں وہ ابدی عذاب میں ڈال دیے جائیں گے۔

فرشتوں کا نمونہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ انھوںنے تخلیق آدم کے وقت خدا کے سامنے اپنا شبہہ ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا— کیا تو ایسی مخلوق کو پیداکر رہا ہے جو زمین میںفساد کرے اور وہاں خون بہائے۔ یہ ایک نہایت سنگین نوعیت کا سوال تھا۔ مگر جب خدا نے آدم کے ذریعہ اس کی وضاحت کی تو فوراً فرشتوں نے اپنا شبہہ واپس لیتے ہوئے کہا کہ لاعلم لنا إلا ما علمتنا (البقرہ: 32) گویا انھوں نے یہ اعتراف کرلیا کہ ہمارے شبہہ کی بنیاد خود ہماری کم علمی تھی نہ کہ اصل منصوبہ کا کوئی نقص۔

موجودہ دنیا میں یہی انسان کا خاص امتحان ہے۔ یہاںبار بار ایک انسان کو دوسرے انسان کے بارے میں شبہات اور اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے موقع پر ملکوتی کردار یہ ہے کہ جب معاملے کی وضاحت کی جائے تو فوراً آدمی اپنی غلطی کا اعتراف کرے۔ وہ کھلے…

semantic Deen-e-Insaniayat (p. 22) unverified

دربار الٰہی میں

قرآن میں پہلے انسان (آدم) کی پیدائش کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں ارشاد ہوا ہے:اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے کہا کہ کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کرے اور خون بہائے، اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے سکھا دیے آدم کو سارے نام۔ پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان لوگوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ ہم تو وہی جانتے ہیں جو تو نے ہم کو بتایا۔ بے شک تو ہی علیم و حکیم ہے۔ اللہ نے کہا کہ اے آدم، ان کو بتاؤ ان لوگوں کے نام۔ تو جب آدم نے بتائے ان کو ان لوگوں کے نام (اور فرشتوں کا اشکال ختم ہو گیا) تو اللہ نے کہا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ آسمانوں ا ور زمین کے بھید کو میں ہی جانتا ہوں ( 2:30-33)

فرشتوں کا یہ قول اللہ سبحانہ و تعالیٰ پر بظاہر ایک اعتراض تھا۔ مگر اللہ نے اس پر زجر و توبیخ نہیں کی۔ بلکہ انھیں اصل منصوبہ کی تفصیل بتائی۔ اس کے بعد ان کا اشکال اپنے آپ ختم ہو گیا۔ اور شبہ کی جگہ یقین واپس آ گیا۔

semantic Nashri-Taqreeren (p. 136) quoted source

…حالت میں آئے ہیں کہ سر کے بال بکھرے ہوئے ہیں۔ بدن پر اور کپڑوں پر سفر کی وجہ سے غبار پڑا ہوا ہے ۔ لبیک لبیک کہہ رہے ہیں ۔ دور دورسے چل کر آئے ہیں۔ میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کے گناہ معاف کر دئے (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 3853)۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فخر کے طور پر فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ دیکھو ، میں نے ان بندوں کی طرف اپنا رسول بھیجا۔ وہ اس پر ایمان لائے۔ میں نے ان پر کتاب نازل کی تو انھوں نے اس کو مانا۔ تم گواہ رہو کہ میں نے ان کے سارے گناہ معاف کر دئے (کنز العمال، حدیث نمبر 12101)۔

میدان عرفات ایک اعتبار سے میدان اتحاد ہے۔ یہ حج کی عبادت کا ایک مزید پہلو ہے۔ مختلف ملکوں کے لوگ جب مقام حج کے قریب پہنچتے ہیں تو سب کے سب اپنا قومی لباس اتار دیتے ہیں اور سب کے سب ایک ہی مشترک لباس پہن لیتے ہیں جس کو احرام کہا جاتا ہے۔…

semantic Quranic Wisdom (p. 111) other source

According to this Quranic verse, the Prophet’s life was an open book. His character was known to everyone in minute detail.

Once a Makkan leader met the Prophet and told him that the Makkans had reservations about what he had to say about divine revelations, because they had never witnessed an angel of God coming to him to reveal the word of God. But he added: “O Muhammad, we do not say that you are telling a lie. So far as your integrity is concerned, we have no doubt about it.”

The Prophet is a role model for everyone who believes in his prophethood. Character of this calibre establishes one’s identity in the eyes of both God and the people. But such a character is not the sole privilege of a prophet. Every…