Qur'an 2:143
Qur'an 2:143
وَكَذَٰلِكَ جَعَلۡنَٰكُمۡ أُمَّةٗ وَسَطٗا لِّتَكُونُواْ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ وَيَكُونَ ٱلرَّسُولُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيدٗاۗ وَمَا جَعَلۡنَا ٱلۡقِبۡلَةَ ٱلَّتِي كُنتَ عَلَيۡهَآ إِلَّا لِنَعۡلَمَ مَن يَتَّبِعُ ٱلرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيۡهِۚ وَإِن كَانَتۡ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَٰنَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٞ رَّحِيمٞ
And thus we have made you a just community that you will be witnesses over the people and the Messenger will be a witness over you. And We did not make the qiblah which you used to face except that We might make evident who would follow the Messenger from who would turn back on his heels. And indeed, it is difficult except for those whom Allah has guided. And never would Allah have caused you to lose your faith. Indeed Allah is, to the people, Kind and Merciful
Explained in 9 book passages
and 28 lecture moments.
Cite / permalink: quran/2:143
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…اس آیت میں اصلاً پیغمبر کے انتخاب کی بات ہے، لیکن تبعاً امت محمدی کے افراد بھی اس میں شامل ہوجاتے ہیں۔ سنت الٰہی کے مطابق، پیغمبر کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ لیکن دعوت کام ختم نہیں ہوا، بلکہ وہ پیغمبر کی امتیوں کے ذریعہ بدستور جاری ہے۔
گویا دعوت الیٰ اللہ کے پیغام کے چار مرحلے ہیں۔ پہلے مرحلہ میں اللہ رب العالمین سے فرشتے تک۔ دوسرے مرحلے میں فرشتے سے پیغمبر تک، اور تیسرے مرحلے میںپیغمبر کے ذریعہ اپنے معاصر انسانوں تک، اور آخری مرحلے میںامت کے منتخب افراد کے ذریعے عہد بہ عہد تمام انسانوں تک۔ یہ نظام عین فطرت کے مطابق ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ ذمے داری امت محمدی کے اہل علم کی ہے کہ وہ پیغمبر سے ملے ہوئے دین خداوندی کو ہر زمانے کے انسانوں تک پہنچاتے رہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے، جو قرآن کی اس آیت میں بیان ہوئی ہے:وَکَذلِکَ جَعَلْناکُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِتَکُونُوا شُہَداءَ عَلَى النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْکُمْ شَہِیداً (2:143)۔ یعنی اور اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول ہو تم پر بتانے والا۔
پہلے انسان (آدم) سے لے کر محمد بن عبد اللہ (علیہم السلام) تک ایک لاکھ سے زیادہ پیغمبر انسان کی طرف آئے(صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ انھوں نے انسا ن کو بتایا کہ یہ زمین تمھارے لیے ابدی قیام گاہ (eternal habitat) نہیں ہے، بلکہ یہ تمھارے…
یہاں اقامت کا مطلب پیروی ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ دین جو مشترک طور پر تمام پیغمبروں کو دیا گیا، وہ ایک ہی دین ہے۔ وہ توحید پر مبنی ہے۔ ہر فرد مسلم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مشترک دین کو مانے، اور بھرپور طور پر اس کی پیروی کرے۔
(3)مومن کی تیسری ذمہ داری قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے:وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَکُونُوا شُہَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْکُمْ شَہِیدًا (2:143)۔ یعنی اور اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول ہو تم پر بتانے والا۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق، امت محمدی بیچ کی امت ہے۔ یعنی امت محمدی کو یہ کرنا ہے کہ وہ خدا کی ہدایت کو پیغمبر اسلام سے لے کر تمام انسانوں تک اس کی قابلِ فہم زبان میں پہنچائے۔
ان پہلوؤں میں دعوت کا پہلو ایک ایسا پہلو ہے، جو جتنا دوسروں سے تعلق رکھتا ہے، اتنا ہی وہ اپنے آپ سے تعلق رکھتا ہے۔ دعوت کے کام میں انٹریکشن کا عمل بھی بار بار پیش آتا ہے۔ یہ انٹرایکشن آدمی کو موقع دیتا ہے کہ وہ اپنا مطالعہ کرے۔ وہ اپنی…
…(middle ummah)کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان
کے ایک طرف اللہ رب العالمین تھا اور ان کے دوسری طرف تمام انسان۔ انھوں نے اس رہنمائی
کو اللہ سے لیا اور پورے معنوں میں ناصح اور امین (الاعراف68:) بن کر اس کو انسانوں
تک پہنچایا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی میں مدینہ میں ہوئی۔ آپ اللہ کے
آخری رسول تھے۔ آپ نے اپنے بعد ہدایت کے دو مستند ذریعے (authentic sources) چھوڑے،
ایک قرآن اور دوسرا سنت رسول۔ اب کوئی پیغمبر دنیا میں آنے والا نہیں ہے۔ لیکن جہاں
تک پیغمبر کے مشن کی بات ہے، وہ بدستور جاری ہے۔پہلے انبیاء کی حیثیت امت وسط کی ہوتی
تھی، اب پیغمبر آخرالزماں کے متبعین کی حیثیت امت وسط کی ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں
ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَکُونُوا
شُہَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْکُمْ شَہِیدًا (2:143) ۔ یعنی
اور اس طرح ہم نے تم کو امت وسط بنا دیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول
ہو تم پر بتانے والا۔
امت وسط کا مطلب بیچ کی امت (middle community) ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم
کے متبعین سب کے سب امت محمدی ہیں۔ ان کی حیثیت دوبارہ امت وسط کی ہے۔ صرف اس فرق کے
ساتھ کہ پیغمبر، خدا اور انسان کے درمیان امت وسط ہوتے تھے۔…
…گی۔ امت مسلمہ کا یہ بگاڑ اس نوبت تک پہنچ جائے گا کہ اصل دین امت کے اندر غریب (صحیح مسلم، حدیث نمبر145)ہوجائے گا۔ یعنی اصل دین لوگوں کے درمیان اجنبی دین بن جائے گا، اور خود ساختہ دین لوگوں کے درمیان معروف دین کی حیثیت اختیار کر لے گا۔
بعد کے زمانے میں پیش آنے والا ظاہرہ اسی صورتِ حال کا نتیجہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں پیش آنے والے حالات کے نتیجے میںامت کے اندر دین کا نشانہ بدل گیا۔ حالات کے زیرِ اثر انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ امتِ مسلمہ کا مشن یہ ہے کہ وہ امت کا سیاسی غلبہ زمین پر قائم کریں۔ وہ ہر جگہ دوسری قوموں کو مغلوب کرکے اپنے آپ کو سیاسی طور پر غالب کریں۔ اس عمل کو انھوں نے اجتہادی خطا کے طور پر خلافت یا اسلامی حکومت کا نام دے دیا۔ حالاں کہ یہ مشن تمام تر ایک قومی مشن تھا۔ اس کا دینِ اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ امت مسلمہ کا مستقل مشن قرآن کے مطابق شہادت علی الناس (2:143) ہے۔ اس مشن میں ساری اہمیت پر امن جدو جہد کی تھی۔ اس مشن کا جنگ و قتال سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس مشن کا تقاضا تھا کہ اہل ایمان مسائل کو نظر انداز کریں اور پرامن طور پر دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیں۔
مگر جب ایسا ہوا کہ بعد کے حالات کے نتیجے میں مسلم رہنماؤں نے سیاسی اقتدار کو اپنا نشانہ بنالیاتو اس کے فطری تقاضے کے تحت ایسا ہوا کہ وہ قوموں سے جنگ و قتال کے عمل میں مصروف ہوگیے۔ انھوں نے جہاد کی خودساختہ تشریح کرکے اپنے متشدادانہ طریقۂ…
یہ رپورٹ سن کر میں نے کہا کہ دعوت الی اللہ کے ذہن سے دیکھیے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مدعو خود داعی کے دروازے پر پہنچ رہا ہے۔ اور خاموش زبان میں یہ کہہ رہا ہے کہ تمھارے پاس اللہ کی جو کتاب ہے، اس کو ہمیں پڑھنے کے لیے دو۔
لیکن عرب ممالک کے لوگوں میں دعوت کا ذہن موجود نہیں۔ اس بنا پر ان کے اندر یہ شوق نہیں کہ ان غیر مسلم لوگوں کوان کی قابلِ فہم زبان میں قرآن کےترجمے دیں، وہ ان کو اسلام کا پرامن پیغام پہنچائیں، وہ ان کے اوپر اپنی اس ذمہ داری کو ادا کریں جو امتِ مسلمہ کی حیثیت سے اللہ نے ان کے اوپر عائد کی ہے، یعنی شہادت علی الناس (2:143)۔ یعنی اللہ کے پیغام کو لوگوں تک مؤثر انداز میں پہنچانا۔ اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ لوگوں کو بتانا کہ آخرت میں وہ اللہ کے سامنے حاضر کیے جائیں گے، اور وہاں ان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
رسول اللہ کا مشن، دعوت کا مشن تھا۔ قرآن ایک دعوتی کتاب ہے۔ امت مسلمہ ایک داعی امت ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں دعوت الی اللہ کا شعور موجود نہیں۔ آج کرنے کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر دعوت کا شعور زندہ…
امت ِ وسط
قرآن کی ایک آیت میں امت محمدی کی ذمہ داری کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا ۭ (2:143) یعنی اور اس طرح ہم نے تم کو امت وسط بنادیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول ہو تم پر بتانے والا-
قرآن کی اس آیت میں امت محمدی کی نیابتی حیثیت کو بتایا گیاہے- ختم نبوت کے بعد امت محمدی مقام نبوت پر ہے- اس کی حیثیت امت وسط، بیچ کی امت (middle ummah) کی ہے، یعنی قرآن وسنت کی صورت میں اس کو جو دین پیغمبر اسلام سے ملا ہے، اس کو وہ قیامت…
امت ِ وسَط: فضیلت یاذمّے داری
قرآن کی سورہ البقرہ میں امتِ محمدی کو ’امتِ وسط‘ (2: 143) کہاگیا ہے، یعنی بیچ کی امت، (middle community)۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ امتِ محمدی، رسول اورعام انسانوں کے درمیان ہے۔ اُس کو رسول سے جو خدائی ہدایت ملی ہے، اس کو نسل درنسل تمام انسانوں تک پہنچانا ہے۔ اِس سے مراد وہی مستقل ذمے داری ہے جس کو دعوت الی اللہ کہاجاتاہے۔ اکثر الفاظ کا ایک لغوی مفہوم ہوتاہے اور دوسرا اُس کا استعمالی مفہوم۔ ’وسط‘ کا لغوی مفہوم یا اصل مفہوم دو کناروں کے درمیان (بین طَرَفیِ الشیٔ) ہوتاہے۔ اُس کا ایک استعمالی مفہوم بہتر چیز (الخیر) کے معنی میںہے۔ قرآن کی اِس آیت میں ’وسط‘ کا لفظ استعمالی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ اِس کے اصل معنی میں ہے، یعنی درمیانی امت کے معنی میں۔ اِس آیت میں امتِ وسط کا لفظ امت کے مشن یا اس کی داعیانہ ذمے داری کو بتا رہا ہے، وہ ہر گز کسی قسم کی پراسرار فضیلت کے معنی میں نہیں۔
قرآن کی اِس آیت میں امت محمدی کے داخلی اوصاف کو بیان نہیں کیاگیا ہے، بلکہ اِس میں امت کی خارجی ذمے داری کو بیان کیا گیا ہے۔ وہ خارجی ذمے داری یہ ہے کہ وہ اللہ کے نقشۂ تخلیق (creation plan of God) سے لوگوں کو باخبر کرے۔ وہ ہر زمانے اور…
…اس آیت میں اصلاً پیغمبر کے انتخاب کی بات ہے، لیکن تبعاً امت محمدی کے افراد بھی اس میں شامل ہوجاتے ہیں۔ سنت الٰہی کے مطابق، پیغمبر کی آمد کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ لیکن دعوت کام ختم نہیں ہوا، بلکہ وہ پیغمبر کی امتیوں کے ذریعہ بدستور جاری ہے۔
گویا دعوت الیٰ اللہ کے پیغام کے چار مرحلے ہیں۔ پہلے مرحلہ میں اللہ رب العالمین سے فرشتے تک۔ دوسرے مرحلے میں فرشتے سے پیغمبر تک، اور تیسرے مرحلے میںپیغمبر کے ذریعہ اپنے معاصر انسانوں تک، اور آخری مرحلے میںامت کے منتخب افراد کے ذریعے عہد بہ عہد تمام انسانوں تک۔ یہ نظام عین فطرت کے مطابق ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ ذمے داری امت محمدی کے اہل علم کی ہے کہ وہ پیغمبر سے ملے ہوئے دین خداوندی کو ہر زمانے کے انسانوں تک پہنچاتے رہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے، جو قرآن کی اس آیت میں بیان ہوئی ہے:وَکَذلِکَ جَعَلْناکُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِتَکُونُوا شُہَداءَ عَلَى النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْکُمْ شَہِیداً (2:143)۔ یعنی اور اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول ہو تم پر بتانے والا۔
پہلے انسان (آدم) سے لے کر محمد بن عبد اللہ (علیہم السلام) تک ایک لاکھ سے زیادہ پیغمبر انسان کی طرف آئے(صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ انھوں نے انسا ن کو بتایا کہ یہ زمین تمھارے لیے ابدی قیام گاہ (eternal habitat) نہیں ہے، بلکہ یہ تمھارے…
…تاہم بعض اوقات آدمی کی جارحیت اس کی شرپسندی کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ وقتی جذبہ کے تحت صادر ہوجاتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر مجروح جارح کو معاف کردے تو یہ اس کی طرف سے جارح کے لیے ایک صدقہ ہوگا اور سماج میں وسعت ظرف کی فضا پیدا کرنے کا ذریعہ۔
یہاں ’’کتاب‘‘ سے مراد دین کی اصلی اور اساسی تعلیمات ہیں۔ اللہ کی یہ کتاب ایک ہی کتاب ہے اور وہی ایک کتاب، زبان اور ترتیب کے فرق کے ساتھ، تمام نبیوں کی طرف اتاری گئی ہے۔ تاہم دین کی حقیقت جس ظاہری ڈھانچہ میں متشکل ہوتی ہے اس میں مختلف انبیاء کے درمیان فرق پایا جاتا ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ نہیں کہ دین کے اتارنے میںکوئی ارتقائی ترتیب ہے۔ یعنی پہلے کم ترقی یافتہ اور غیر کامل دین اتارا گیا اور اس کے بعد زیادہ ترقی یافتہ اور زیادہ کامل دین اترا۔ اس فرق کی وجہ خدا کی حکمت ابتلا ہے، نہ کہ حکمت ارتقاء۔ قرآن کے مطابق ایسا صرف اس لیے ہوا کہ لوگوں کو آزمایا جائے۔ زمانہ گزرنے کے بعد ایساہوتا ہے کہ دین کی اندرونی حقیقت گم ہوجاتی ہے، اور ظواہر ورسوم مقدس ہو کر اصل بن جاتے ہیں۔ لوگ عبادت اس کو سمجھ لیتے ہیں کہ ایک خاص ڈھانچہ کو ظاہری شرائط کے ساتھ دہرالیا جائے۔ اس لیے ظاہری ڈھانچہ میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں تاکہ ڈھانچہ کی مقصودیت کا ذہن ختم ہو اور خدا کے سوا کوئی اور چیز توجہ کا مرکز نہ بننے پائے۔ اس کی ایک مثال قبلہ کی تبدیلی ہے۔ بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ وہ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے عبادت کریں۔ یہ حکم صرف رخ بندی کے لیے تھا۔ مگر دھیرے دھیرے ان کا ذہن یہ بن گیا کہ بیت المقدس کی طرف رخ کرنے ہی کا نام عبادت ہے۔ اس وقت سابقہ حکم کو بدل کر کعبہ کو قبلہ بنا دیا گیا۔ اب کچھ لوگ سابقہ روایت سے لپٹے رہے اور کچھ لوگوں نے خدا کی ہدایت کو پالیا۔ اس طرح تبدیلیٔ قبلہ سے یہ کھل گیا کہ کون درو دیوار کو پوجنے والا تھا اور کون خدا کو پوجنے والا (بقرہ ،
2:143
)۔
اب اس قسم کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ کیوں کہ ڈھانچہ کو نبی بدلتا ہے اور نبی اب آنے والا نہیں۔ تاہم جہاں تک اصل مقصود کا تعلق ہے وہ بدستور باقی ہے۔ اب بھی خدا کے یہاں اس کا سچا پرستار وہی شمار ہوگا جو ظاہری ڈھانچہ کی پابندی کے باوجود ظاہری ڈھانچہ کو مقصودیت کا درجہ نہ دے، جو ظواہر سے ذہن کو آزاد کرکے خدا کی عبادت کرے۔ پہلے یہ مقصد ظاہری ڈھانچہ کو توڑ کر حاصل ہوتا تھا اب اس کو ذہنی شکست و ریخت (deconditioning)کے ذریعہ حاصل کرناہوگا۔
ظواہر کے نام پر دین میں جوجھگڑے ہیں وہ صرف اس لیے ہیں کہ لوگوں کی غفلت نے ان کو اصل حقیقت سے بے خبر کردیا ہے۔ اگر حقیقت کو وہ اس طرح پالیں جس طرح وہ آخرت میں دکھائی دے گی تو تمام جھگڑے ابھی ختم ہوجائیں۔
قرآن اور دوسرے آسمانی صحیفے الگ الگ کتابیں نہیں ہیں۔ یہ سب ایک ہی کتابِ الٰہی کے مختلف ایڈیشن ہیں جس کو یہاں ’’الکتاب‘‘ کہاگیا ہے۔ خدا کی طرف سے جتنی کتابیں آئیں، خواہ وہ جس دور میں اور جس زبان میں آئی ہوں، سب کا مشترک مضمون ایک ہی…
In the lectures
Cited at 2027s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2089s — opens the lecture at this moment.
Cited at 101s — opens the lecture at this moment.
Cited at 121s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1080s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1331s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1647s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1938s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1964s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2055s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2546s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2597s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2626s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2872s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3015s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3079s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3162s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3217s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3269s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3810s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4248s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4592s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4672s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4713s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4780s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5712s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5736s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5788s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ایک صاحب نے کہا کہ خدا نے پیغمبروں کو تمام حقیقتیں براہ راست دکھا دیں، اور ہم کو غیب میں رکھا۔ اگر ہم کو بھی تمام چیزیں دکھا دی گئی ہوتیں تو ہم دنیا میں زیادہ یقین کے ساتھ جی سکتے تھے۔
میں نے کہا کہ یہ ہمارے ساتھ اللہ تعالی کی بہت بڑی رحمت ہے۔ کیوں کہ اس کی وجہ سے ہم گویا سیف سائڈ (safe side) میں ہیں۔ پیغمبر " مومن شاہد" ہوتا ہے، اس لئے اس کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ قرآن میں ہے کہ پیغمبر اگر ذرا بھی انحراف کرے تو اس کے لئے دگنا پکڑ ہے ۔ اس کے مقابلہ میں عام لوگوں کی حیثیت "مومن غائب" کی ہے اس بنا پر ان کے لئے معافی اور درگزر کا دروازہ بہت زیادہ وسیع ہے۔
28 دسمبر 1983
…سے جانچتے ہوں، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ یہی خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کرنا ہے۔ جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ بے عقلی کا معاملہ کریں وہ ظالم ہیں اور جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کریں وہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوئے۔
پیغمبر اور پیغمبر کے پیروؤں کےلیے خدا کی مددکا یقینی وعدہ ہے۔ مگر اس مدد کا استحقاق ہمیشہ صبر کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ صبر کی یہ اہمیت اس ليے ہے تاکہ اہل حق مکمل طورپر اہل حق ٹھہریں اور ظالم مکمل طورپر ظالم ثابت ہوجائیں۔ اس تفریقی مرحلہ کو لانے کےلیے اہلِ حق کو یک طرفہ طورپر صبر کرنا پڑتاہے۔
اہل حق کا یہ صبر انھیں دنیا میں خدا کی مدد کا مستحق بناتا ہے۔ اور اسی صبر کے ذریعہ وہ اس قابل ثابت ہوتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن ظالموں کے مقابلہ میں خدا کے گواہ بن کر کھڑے ہوں۔
خدا کی طرف سے کتاب آتی ہے وہ انسانوں کی ہدایت اور نصیحت ہی کےلیے آتی ہے۔ مگر یہ نصیحت صرف ان لوگوں کو فائدہ دیتی ہے جو عقل والے ہوں۔ یعنی وہ لوگ جو مصلحتوں میں بندھے ہوئے نہ ہوں۔ جو نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر اس پر غور كر سكيں، جو باتوں کو دلیل کے اعتبار سے جانچتے ہوں، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ یہی خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کرنا ہے۔ جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ بے عقلی کا معاملہ کریں وہ ظالم ہیں اور جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کریں وہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوئے۔
پیغمبر اور پیغمبر کے پیروؤں کےلیے خدا کی مددکا یقینی وعدہ ہے۔ مگر اس مدد کا استحقاق ہمیشہ صبر کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ صبر کی یہ اہمیت اس ليے ہے تاکہ اہل حق مکمل طورپر اہل حق ٹھہریں اور ظالم مکمل طورپر ظالم ثابت ہوجائیں۔ اس تفریقی مرحلہ کو…
…وہ عوام جو یہاںاپنے بڑوں پر فخرکرتے تھے وہ وہاں اپنے بڑوں سے بیزاری کا اظہار کریںگے۔ دنیا میںجو لوگ حق کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے وہ وہاں عاجزانہ طورپر حق کے آگے جھک جائیں گے۔ مگرآخرت کا جھکنا کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔
پیغمبر اور پیغمبر کے پیروؤں کےلیے خدا کی مددکا یقینی وعدہ ہے۔ مگر اس مدد کا استحقاق ہمیشہ صبر کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ صبر کی یہ اہمیت اس ليے ہے تاکہ اہل حق مکمل طورپر اہل حق ٹھہریں اور ظالم مکمل طورپر ظالم ثابت ہوجائیں۔ اس تفریقی مرحلہ کو لانے کےلیے اہلِ حق کو یک طرفہ طورپر صبر کرنا پڑتاہے۔
اہل حق کا یہ صبر انھیں دنیا میں خدا کی مدد کا مستحق بناتا ہے۔ اور اسی صبر کے ذریعہ وہ اس قابل ثابت ہوتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن ظالموں کے مقابلہ میں خدا کے گواہ بن کر کھڑے ہوں۔
خدا کی طرف سے کتاب آتی ہے وہ انسانوں کی ہدایت اور نصیحت ہی کےلیے آتی ہے۔ مگر یہ نصیحت صرف ان لوگوں کو فائدہ دیتی ہے جو عقل والے ہوں۔ یعنی وہ لوگ جو مصلحتوں میں بندھے ہوئے نہ ہوں۔ جو نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر اس پر غور كر سكيں، جو باتوں کو دلیل کے اعتبار سے جانچتے ہوں، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ یہی خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کرنا ہے۔ جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ بے عقلی کا معاملہ کریں وہ ظالم ہیں اور جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کریں وہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوئے۔
پیغمبر اور پیغمبر کے پیروؤں کےلیے خدا کی مددکا یقینی وعدہ ہے۔ مگر اس مدد کا استحقاق ہمیشہ صبر کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ صبر کی یہ اہمیت اس ليے ہے تاکہ اہل حق مکمل طورپر اہل حق ٹھہریں اور ظالم مکمل طورپر ظالم ثابت ہوجائیں۔ اس تفریقی مرحلہ کو…
…سے جانچتے ہوں، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ یہی خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کرنا ہے۔ جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ بے عقلی کا معاملہ کریں وہ ظالم ہیں اور جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کریں وہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوئے۔
پیغمبر اور پیغمبر کے پیروؤں کےلیے خدا کی مددکا یقینی وعدہ ہے۔ مگر اس مدد کا استحقاق ہمیشہ صبر کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ صبر کی یہ اہمیت اس ليے ہے تاکہ اہل حق مکمل طورپر اہل حق ٹھہریں اور ظالم مکمل طورپر ظالم ثابت ہوجائیں۔ اس تفریقی مرحلہ کو لانے کےلیے اہلِ حق کو یک طرفہ طورپر صبر کرنا پڑتاہے۔
اہل حق کا یہ صبر انھیں دنیا میں خدا کی مدد کا مستحق بناتا ہے۔ اور اسی صبر کے ذریعہ وہ اس قابل ثابت ہوتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن ظالموں کے مقابلہ میں خدا کے گواہ بن کر کھڑے ہوں۔
خدا کی طرف سے کتاب آتی ہے وہ انسانوں کی ہدایت اور نصیحت ہی کےلیے آتی ہے۔ مگر یہ نصیحت صرف ان لوگوں کو فائدہ دیتی ہے جو عقل والے ہوں۔ یعنی وہ لوگ جو مصلحتوں میں بندھے ہوئے نہ ہوں۔ جو نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر اس پر غور كر سكيں، جو باتوں کو دلیل کے اعتبار سے جانچتے ہوں، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ یہی خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کرنا ہے۔ جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ بے عقلی کا معاملہ کریں وہ ظالم ہیں اور جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کریں وہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوئے۔
پیغمبر اور پیغمبر کے پیروؤں کےلیے خدا کی مددکا یقینی وعدہ ہے۔ مگر اس مدد کا استحقاق ہمیشہ صبر کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ صبر کی یہ اہمیت اس ليے ہے تاکہ اہل حق مکمل طورپر اہل حق ٹھہریں اور ظالم مکمل طورپر ظالم ثابت ہوجائیں۔ اس تفریقی مرحلہ کو…
…سے جانچتے ہوں، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ یہی خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کرنا ہے۔ جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ بے عقلی کا معاملہ کریں وہ ظالم ہیں اور جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کریں وہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوئے۔
پیغمبر اور پیغمبر کے پیروؤں کےلیے خدا کی مددکا یقینی وعدہ ہے۔ مگر اس مدد کا استحقاق ہمیشہ صبر کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ صبر کی یہ اہمیت اس ليے ہے تاکہ اہل حق مکمل طورپر اہل حق ٹھہریں اور ظالم مکمل طورپر ظالم ثابت ہوجائیں۔ اس تفریقی مرحلہ کو لانے کےلیے اہلِ حق کو یک طرفہ طورپر صبر کرنا پڑتاہے۔
اہل حق کا یہ صبر انھیں دنیا میں خدا کی مدد کا مستحق بناتا ہے۔ اور اسی صبر کے ذریعہ وہ اس قابل ثابت ہوتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن ظالموں کے مقابلہ میں خدا کے گواہ بن کر کھڑے ہوں۔
خدا کی طرف سے کتاب آتی ہے وہ انسانوں کی ہدایت اور نصیحت ہی کےلیے آتی ہے۔ مگر یہ نصیحت صرف ان لوگوں کو فائدہ دیتی ہے جو عقل والے ہوں۔ یعنی وہ لوگ جو مصلحتوں میں بندھے ہوئے نہ ہوں۔ جو نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر اس پر غور كر سكيں، جو باتوں کو دلیل کے اعتبار سے جانچتے ہوں، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ یہی خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کرنا ہے۔ جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ بے عقلی کا معاملہ کریں وہ ظالم ہیں اور جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کریں وہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوئے۔
پیغمبر اور پیغمبر کے پیروؤں کےلیے خدا کی مددکا یقینی وعدہ ہے۔ مگر اس مدد کا استحقاق ہمیشہ صبر کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ صبر کی یہ اہمیت اس ليے ہے تاکہ اہل حق مکمل طورپر اہل حق ٹھہریں اور ظالم مکمل طورپر ظالم ثابت ہوجائیں۔ اس تفریقی مرحلہ کو…
…سے جانچتے ہوں، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ یہی خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کرنا ہے۔ جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ بے عقلی کا معاملہ کریں وہ ظالم ہیں اور جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کریں وہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوئے۔
پیغمبر اور پیغمبر کے پیروؤں کےلیے خدا کی مددکا یقینی وعدہ ہے۔ مگر اس مدد کا استحقاق ہمیشہ صبر کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ صبر کی یہ اہمیت اس ليے ہے تاکہ اہل حق مکمل طورپر اہل حق ٹھہریں اور ظالم مکمل طورپر ظالم ثابت ہوجائیں۔ اس تفریقی مرحلہ کو لانے کےلیے اہلِ حق کو یک طرفہ طورپر صبر کرنا پڑتاہے۔
اہل حق کا یہ صبر انھیں دنیا میں خدا کی مدد کا مستحق بناتا ہے۔ اور اسی صبر کے ذریعہ وہ اس قابل ثابت ہوتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن ظالموں کے مقابلہ میں خدا کے گواہ بن کر کھڑے ہوں۔
خدا کی طرف سے کتاب آتی ہے وہ انسانوں کی ہدایت اور نصیحت ہی کےلیے آتی ہے۔ مگر یہ نصیحت صرف ان لوگوں کو فائدہ دیتی ہے جو عقل والے ہوں۔ یعنی وہ لوگ جو مصلحتوں میں بندھے ہوئے نہ ہوں۔ جو نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو کر اس پر غور كر سكيں، جو باتوں کو دلیل کے اعتبار سے جانچتے ہوں، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ یہی خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کرنا ہے۔ جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ بے عقلی کا معاملہ کریں وہ ظالم ہیں اور جو لوگ خدا کی ہدایت کے ساتھ عقل والا معاملہ کریں وہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوئے۔
حق اتنا واضح اور اتنا مدلّل ہے کہ اس کو سمجھنا کسی کےلیے بھی مشکل نہیں۔ مگر جب بھی حق ظاہر ہوتاہے تو وہ کسی ’’انسان‘‘ کے ذریعہ ظاہر ہوتاہے۔ اس ليے حق کا اعتراف عملاً حامل حق کے اعتراف کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ حق کو ماننے…
…of the Hereafter, then know that God has prepared a great reward for those of you who do good deeds.’ Wives of the Prophet! Any one of you who commits a flagrant act of misconduct shall be doubly punished. That is easy enough for God.
But those of you who obey God and His Messenger and do good deeds shall be doubly rewarded. For them, we have made excellent provisions. Wives of the Prophet, you are not like any other women. If you fear God, do not be too soft-spoken in case the ill-intentioned should feel tempted. Speak appropriately.
Stay in your homes and do not flaunt your charms as in the former times of ignorance. Attend to your prayers, pay the zakat and obey God and His Messenger. Women of the [Prophet’s] Household, God seeks only to remove all impurity from you…
…کے خلاف نعرہ بازی کاہنگامہ کھڑا کیا۔ اس کے بجائے جو کچھ کیا گیا وہ صرف یہ تھا کہ ایسے لوگوں کے حق میں ہدایت کی دعا ئیں کی گئیں۔ اور دلیل کے ذریعے ان کی بات کی تردید کی گئی ۔ اس سے آگے ان کا سارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے اوپر چھوڑ دیا گیا۔
رسول اور اصحاب رسول کا یہ نمونہ ہمیں بتاتا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں ہمیں کیا کرنا ہے۔ ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ ہم ایسے لوگوں کے حق میں اصلاح اور ہدایت کی دعا کریں۔ ان سے ملاقات کر کے پروقار طریقہ سے ان کی غلط فہمی کو دور کریں ۔ سنجیدہ اور علمی انداز میں وضاحتی مضامین لکھ کر اخبارات میں شائع کرائیں۔ یہی واحد کام ہے جو مسلمانوں کو کرنا ہے۔ اس کے سوا مسلمان جو کچھ کر رہے ہیں وہ خدا کےغضب کو دعوت دینے والا ہے، نہ کہ خدا کی رحمت کا مستحق بنانے والا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو دنیا کے لیےرحمت بنا کر بھیجا ہے، نہ کہ دنیا کو جلانے اور پھونکنے والا بنا کر۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے اس مزاج کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس نے ان سے ایک عظیم نعمت کو چھین لیا۔ اور وہ داعیانہ کلام کی صلاحیت ہے۔ داعی اپنی قوم کا ناصح ہو تا ہے۔ داعیانہ کلام مخاطب کے لیے محبت اور خیر خواہی کا جذبہ سے نکلتا ہے۔ مگر…
…کے اندر مثبت شعور پیدا ہو۔ آ پ یہ سوچیں کہ خدا نے ہم کو یہاں بھیج کر ہمارے ساتھ خصوصی رحمت کا معاملہ فرمایا ہے۔ یہاں بھیج کر اُس نے ہم کو یہ قیمتی موقع دیا ہے کہ ہم خدا کے بندوں کو خدا کا پیغام پہنچائیں اور خدا کی ابدی جنت کے مستحق بنیں۔
میرا مشورہ ہے کہ آپ اِس قسم کی نگیٹیو سوچ کو پازیٹیو سوچ میں بدلیں۔ آپ یہ سوچیں کہ یہ وہ خصوصی معاملہ ہے جو خدا نے پیغمبرکے ساتھ کیا تھا۔ خدا نے اپنے پیغمبر کو بھٹکے ہوئے لوگوں کے پاس بھیجا تاکہ وہ انھیں سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرے۔اِس رحمت کے معاملے کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لتخرج الناس من الظلمات إلی النور (ابراہیم ، ۱)
صحابی خاتون ام حرام بنت ملحان کے زمانے میں ڈائسپورا کا جو واقعہ پیش آیا وہ اسلام کی تاریخ میں مسلمانوں کا پہلا ڈائسپورا تھا۔ ڈائسپورا کا لفظ عام طورپر اُن یہودیوں کے لیے بولا جاتا ہے جو اپنے وطن فلسطین سے نکل کر باہر کے ملکوں میں گیے، اور…
…سے خالی دلائل کے آگے اس طرح جھک جائیں جس طرح وہ زور آور خدا کے آگے جھکیں گے — زندہ لوگوں کے لیے ساری کائنات نشانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ اور جنھوں نے اپنے احساسات کو مردہ کرلیا ہو وہ قیامت کے زلزلہ کے سوا کسی اور چیز سے سبق نہیں لے سکتے۔
ابو جہل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اے محمد، خدا کی قسم ہم تم کو نہیں جھٹلاتے۔ یقیناً تم ہمارے درمیان ایک سچے آدمی ہو۔ مگر ہم اس چیز کو جھٹلاتے ہیں جس کو تم لائے ہو۔ مکہ کے لوگ جو ایمان نہیں لائے وہ آپ کو ایک اچھا انسان مانتے تھے۔ مگر کسی کے متعلق یہ ماننا کہ اس کی زبان پر حق جاری ہوا ہے اس کو بہت بڑا اعزاز دینا ہے اور اتنا بڑا اعزاز دینے کے لیے وہ تیار نہ تھے۔ آپ کو جب وہ ’’سچا‘‘ یا ’’ایمان دار‘‘ کہتے تو ان کو یہ نفسیاتی تسکین حاصل رہتی کہ آپ ہماری ہی سطح کے ایک انسان ہیں۔ مگر اس بات کا اقرار کہ آپ کی زبان پر خدا کا کلام جاری ہوا ہے آپ کو اپنے سے اونچا درجہ دینے کے ہم معنی تھا۔ اور اس قسم کا اعتراف آدمی کے لیے مشکل ترین کام ہے۔
موجودہ دنیا میں خدا اپنی براہ راست صورت میں سامنے نہیں آتا، وہ دلائل اور نشانیوں کی صورت میں انسان کے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے حق کے دلائل کو نہ ماننا یا اس کے حق میں ظاہر ہونے والی نشانیوں کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا گویا خدا کو نہ ماننا اور خدا كي طرف سے آنکھیں پھیر لینا ہے۔ تاہم ایسا نہیں ہوسکتا کہ خدا مجبورکن معجزات کے ساتھ سامنے آئے۔ مجبور کن معجزات کے جلو میں خدا کی دعوت پیش کی جائے تو پھر اختیار کی آزادی ختم ہوجائے گی اور امتحان کے لیے آزادانہ اختیار کا ماحول ہونا ضروری ہے۔ داعی کو اس بات کا غم نہ کرنا چاہیے کہ اس کے ساتھ صرف دلائل کا وزن ہے، غیر معمولی قسم کی تسخیری قوتیں اس کے پاس موجود نہیں۔ داعی کو اس فکر میں پڑنے کے بجائے صبر کرنا چاہیے۔ دعوت حق کی جدوجہد ایک طرف داعی کے صبر کا امتحان ہوتی ہے اور دوسری طرف مخاطبین کے لیے اس بات کا امتحان کہ وہ اپنے جیسے ایک انسان میں نمائندۂ خدا ہونے کی جھلک دیکھیں۔ وہ انسان کے منھ سے نکلے ہوئے کلام میں خدائی کلام کی عظمتوں کو پالیں، وہ مادی زور سے خالی دلائل کے آگے اس طرح جھک جائیں جس طرح وہ زور آور خدا کے آگے جھکیں گے — زندہ لوگوں کے لیے ساری کائنات نشانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ اور جنھوں نے اپنے احساسات کو مردہ کرلیا ہو وہ قیامت کے زلزلہ کے سوا کسی اور چیز سے سبق نہیں لے سکتے۔
ان آیات کے اختصار کو کھول دیا جائے تو پورا مضمون اس طرح ہوگا — وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر کے ساتھ غیرمعمولی نشانی کیوں نہیں، جو اس کے پیغام کے برحق ہونے کا ثبوت ہو۔ تو اللہ ہر قسم کی نشانی اتارنے پر قادر ہے۔ مگر اصل سوال نشانی کا نہیں بلکہ…