Shukr All cross-references →
Qur'an 15:9
Qur'an 15:9

إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ

Indeed, it is We who sent down the Qur'an and indeed, We will be its guardian

Explained in 17 book passages and 29 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Al-Risala February 2021 A original + quote

…تھا کہ امت محمدی براہ راست طور پراس منصوبہ کے جاری رکھنے کی ذمے دار ہو۔ اسی کے ساتھ دنیا کی سیکولر قوموں کے لیے ایسے محرکات (incentives)پیدا کیے جائیں کہ وہ قرآن کے اس عالمی مشن کےلیے انفراسٹرکچرل سپورٹ (infrastructural support) بن جائیں۔

قرآن کی اس عالمی ذمے داری کا ذکر خود قرآن میں مختلف الفاظ میں آیا ہے۔ مثلاً قرآن کے متن کو محفوظ کرنا (الحجر، 15:9)، قرآن کو عالمی انذار کی کتاب بنانا (الفرقان، 25:1) ، آفاق و انفس کی ان آیات کو ظاہر کرنا، جو قرآن کی اعلیٰ تبیین کےلیے اللہ تعالیٰ نے پیشگی طور پر رکھ دیا تھا، وغیرہ وغیرہ (فصلت، 41:53)۔

قرآن ساتویں صدی عیسوی میں عرب میں اترا۔ اس کا متن عربی زبان میں ہے۔ اسکالرس کا اتفاق ہے کہ قرآن آج بھی اپنی اصل عربی متن کے ساتھ اسی طرح محفوظ ہے، جس طرح وہ ساتویں صدی عیسوی میں تھا۔ مثلاً سر ولیم میور (1819-1905) ایک اعلی تعلیم یافتہ…

Al-Risala February 2021 A original + quote

…is probably in the world no other work which has remained twelve centuries with so pure a text...We may, upon the strongest presumption, affirm that every verse in the Quran is the genuine and unaltered composition of Muhammad himself.

قرآن کے نزول کے وقت مختلف باتوں کے علاوہ یہ آیت بھی نازل ہوئی تھی: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ (15:9)۔ یعنی یہ ذکر ہم نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔یہ حفاظت صرف عربی متن کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ وہ ایک جامع معنوں میں ہے۔ یعنی ہراعتبار سے حفاظت۔ قرآن کی یہ پیشین گوئی پوری طرح صحیح ثابت ہوئی ہے۔

مثلاً نزولِ قرآن کے وقت کی عربی زبان استثنائی طور پر آج بھی ایک قابل فہم زبان کی حیثیت سے دنیا میں موجود ہے۔ اسی طرح نزولِ قرآن کے وقت جو حالات تھے، وہ بھی سیرتِ رسول کی شکل میں آج تک محفوظ ہیں۔ نیز قرآن میں تاریخ کے جو حوالے دیے گئے…

Al-Risala September 2020 A original + quote

…(5:67)۔ یعنی اے پیغمبر، جو کچھ تمہارے اوپر تمہارے رب کی طرف سے اترا ہے تم اس کو پہنچا ؤ ، اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچا یا، اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا۔ اللہ یقیناً منکر لوگوں کو راہ نہیں دیتا۔

قرآن (الحجر، 15:9) میں ہے کہ دینِ اسلام کے لیے اللہ نے حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے— اسلام ایک محفوظ دین ہے، قرآن ایک محفوظ کتاب ہے، پیغمبر ایک محفوظ پیغمبر ہے۔ اسی طرح امت محمدی ایک محفوظ امت ہے۔ حفاظت کا یہ معاملہ کسی فضیلت کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ تعالی کے تخلیقی منصوبہ کی بنا پر ہے۔ یہ اس لیے ہے تاکہ نبوت کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد بھی قیامت تک انسان کو ربانی رہنمائی ملتی رہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اگر اسلام محفوظ دین نہ رہے، تو انسان کو محفوظ ہدایت نہیں ملے گی۔ قرآن اگر محفوظ کتاب نہ رہے، تو انسان کے لیے اس دنیا میں مستند رہنمائی کا وجود نہ ہوگا۔ اگر پیغمبر محفوظ پیغمبر نہ رہے،تو اس کے لیے اپنی دعوتی ذمے داری کو درست طور پر انجام دینا ممکن نہ رہے گا۔اسی طرح امت محمدی ایک محفوظ امت ہے۔ اگر یہ امت محفوظ نہ ہو ،توقیامت تک دعوتی ذمے داری کو درست طور پر انجام دینا اس کے لیے ممکن نہ رہے گا۔

Al-Risala May 2017 A original + quote

حفاظت دین

قرآن کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ (15:9)۔ یعنی ہم نے اس یاد دہانی کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ اس آیت میں عام طور پر مفسرین نے ذکر سے قرآن کو مراد لیا ہے۔ لیکن توسیعی معنی میں اس سے مراد پورا دین ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ نے دین اسلام کو نہ صرف نازل کیا ، بلکہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی خود اپنے اوپر لے لی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اللہ کا یہ وعدہ کامل معنوں میں پورا ہوا۔ دین اسلام پوری طرح ایک محفوظ دین ہے۔ انسان کے لیے بھٹکنے کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے، لیکن جو شخص سنجیدگی کے ساتھ دین حق کو جاننا چاہے اس کے لیےکوئی رکاوٹ نہیں۔

دین اسلام کی حفاظت کوئی فضیلت کی بات نہیں ہے، بلکہ اس کی حفاظت ضرورت کی بات ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی تھے۔ آپ کے بعد اللہ کوئی نبی بھیجنے والا نہیں۔ اس واقعہ کا تقاضا تھا کہ دین اسلام کو ایک محفوظ دین بنا دیا جائے۔…

Al-Risala April 2016 A original + quote

…واقعات کی بنا پر حالات کا وہ تسلسل نہیں بنا جس میں روایات قائم ہوں۔ خلافت کے زمانے میں باہمی اختلافات بہت زیادہ ابھر آئے۔ یہاں تک کہ چار میں سے تین خلیفہ کو قتل کردیا گیا۔ اس لیے خلافت کے زمانے میں بھی دینی تسلسل کا مطلوب ماحول نہ بن سکا۔

اللہ اپنے منصوبہ کے مطابق،پورے عالم تخلیق کو مینج (manage) کر رہاہے۔مادی کائنات (physical world) اللہ کے مکمل کنٹرول کے تحت چل رہی ہے۔ انسان کو چوں کہ مقصد تخلیق کے تحت آزادی دی گئی ہے۔ اس لیے انسانی دنیا میں اللہ کا طریقہ مختلف ہے۔ اور وہ ہے انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے انسانی تاریخ کو مطلوب انداز میں مینج کرنا۔ اس لیے اللہ کی مرضی ہوئی کہ ایسا سیاسی نظام بنے جو مسلسل طور پربلا انقطاع چلنے والا ہو۔ اس کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں پایا جاتا ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ (15:9)۔ حفاظت کے وسیع تر معنی میں یہاں پورے دینِ اسلام کی حفاظت شامل ہے۔دورِ رسالت کےتقریباً 30 سال کے بعد امت کے اندر خاندانی حکومت (dynasty) کا جو نظام قائم ہوا، وہ اسی خدائی انتظام کے تحت وقوع میں آیا۔

اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ خاندانی حکومت کے قیام کے بعد امت کے اندر مطلوب ماحول عملاًقائم ہوگیا۔ اس نظام کو امت نے قبول کرلیا۔ ایسا پریکٹکل وزڈم (practical wisdom) کے تحت ہوا۔ اس نظام کے تحت جوتسلسل قائم ہوا، اس کے زیر اثر دینی روایات بننا…

Al-Risala June 2015 A original + quote

…آیات کہنا درست ہوگا- یہ حکمت کسی پر اسرار چیز کا نام نہیں ہے- اس سے مراد فطری حکمت (natural wisdom) ہے، یعنی حکمت کے وہ اصول جن پر دنیا کا نظام قائم ہے، اور جن کی پیروی کرکے کوئی انسان، اس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کرسکتا ہے-

قرآن واحد محفوظ الہامی کتاب ہے- اس حقیقت کا اظہار قرآن میں پیشگی طورپر ان الفاظ میں کیا گیا تھا: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (15:9) یعنی یہ یاد دہانی (کتاب) ہم نے اتاری ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں-

قرآن کی حفاظت کا یہ کام ثابت شدہ تاریخ کے مطابق چار ادوار (periods) میں انجام پایا- پہلے دور میں یہ کام زیادہ تر حفظ (memorization) کے ذریعہ ہوا- دوسرے دور میں حفاظت ِ قرآن کا یہ کام تحریر (writing) کے ذریعہ انجام پایا- لوگوں نے بڑی…

Al-Risala January 2015 A original + quote

…مگر جہاں تک اس کے دوسرے پہلو کا معاملہ ہے، وہ ایک لمبے تاریخی عمل کے دوران اپنی آخری تکمیل تک پہنچے گا۔اس عمل میں وہ لوگ بھی حصہ لیں گے، جو صاحب ایمان ہیں، اور وہ لوگ بھی بالواسطہ طور پر اس کا حصہ بنیں گے جو ایمان کا دعویٰ نہیں رکھتے۔

خدائی ہدایت کے محفوظ ہو نے کا معاملہ قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (15:9)۔ یعنی یہ یاددہانی (قرآن) ہم نے اتاری، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ قرآن کے متن کی یہ حفاظت اتنی کامل صورت میں ہوئی ہے کہ اس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ حفاظت اولاً حفظ (memorization) کے ذریعہ ہوئی، اس کے بعد کاغذ پر کتاب کی صورت میںہوئی۔ اب یہ حفاظت مزید اضافہ کےساتھ انٹر نیٹ کے ذریعہ ہو رہی ہے۔

اس معاملے کا دوسرا پہلو، یعنی ہدایت ربانی (دین حق) کا براہین و حجج کے ذریعہ آخری حد تک مدلل ہونا بھی اب ایک واقعہ بن چکا ہے۔ اس واقعہ کی پیشگی اطلاع قرآن کی اس آیت میں دی گئی تھی: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ…

Al-Risala August 2014 A original + quote

اسلام ایک محفوظ دین

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (15:9) یعنی بے شک ہم نے الذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں- اِسی طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے: لَا یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْ ۢ بَیْنِ یَدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ ۭتَنْزِیْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍ (41:42) یعنی اِس میں نہ باطل اس کے آگے سے آسکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے- یہ حکیم اور حمید کی طرف سے نازل کیا گیا ہے-

اِن آیتوں میں جس حفاظت کا ذکر ہے، اُس سے مراد براہِ راست طور پر قرآن ہے، لیکن بالواسطہ طورپر اُس سے مراد وہ پورا دین ِ اسلام ہے جس پر اللہ نے اپنی رضامندی (5:3) کا اعلان کیا ہے- یہ محفوظ دین دنیا میں لوگوں کے لیے ہدایتِ الہی کا مستند…

Al-Risala January 2014 A original + quote

اسلام کی تکمیل کے دو پہلو

اسلام کی تکمیل کے دو پہلو ہیں — ایک، وہ جس کو قرآن میں دین کی تکمیل (5:3) کہاگیا ہے- قرآن کی مذکورہ آیت میں ’’تکمیل‘‘ سے مراد احکامِ دین کی فہرست کی تکمیل نہیں ہے اور نہ اُس سے یہ مرادہے کہ کوئی ارتقائی ترتیب ہے اور 10 ہجری میں یہ ارتقائی ترتیب مکمل ہوگئی- اِس سے مراد صرف آیاتِ قرآنی کے نزول کی تکمیل ہے- اِس سے مراد عملاً وہی چیز ہے جس کو قرآن کی دوسری سورہ میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (15:9)-

تکمیل کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق دین کی تکمیل سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق دعوت کی اشاعت اور توسیع سے ہے- اِس دوسرے پہلو کا ذکر قرآن میں اشارةً آیا ہے- یہ اشارہ قرآن کی اِس آیت میں موجود ہے: قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَکْبَرُ شَہَادَةً ۭ…

Al-Risala July 2013 A original + quote

دو مطلوب رول

اصل یہ ہے کہ دین اسلام کے حاملین سے دو رول مطلوب تھا — ایک رول وہ ہے جس کو قرآن میں حفاظتِ دین (15:9) کہاگیا ہے- اور دوسرا وہ ہے جس کے لیے قرآن میں اظہارِ دین(48:28) کے الفاظ آئے ہیں-

حفاظتِ دین سے مراد ہے دین کا قلمی یا کتابی تحفظ — قرآن کے اصل متن کا مکتوب حالت میں محفوظ ہوجانا، حدیث کا مدوّن مجموعہ تیار ہوجانا، سیرتِ رسول اور سیرتِ صحابہ کا لکھی ہوئی حالت میں ریکارڈ ہوجانا، اسلام کا وہ دور جس کو قرون مشہود لہا…

Al-Risala April 2013 A original + quote

…اور لفظ استعمال کیے گئے ہیں: اتمام اور اظہار- غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اتمام کا تعلق ہدى سے ہے اور اظہار کا تعلق دین سے- اِس میں دراصل اللہ کے دو مطلوب کا ذکر ہے- ایک ہے، نورِ ہدایت کا اتمام، اور دوسرا ہے، دین خداوندی کا اظہار وغلبہ-

نورِ ہدایت کیا ہے، وہ اصلاً دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے- یہ دوچیزیں قرآن اور سنتِ رسول ہیں- قرآن، اللہ کے دین کا نظریاتی متن(ideological text) ہے- اللہ تعالی کو یہ مطلوب تھا کہ قرآن کا مستند ہدایت نامہ اپنی کامل صورت میں محفوظ ہوجائے، تاکہ قیامت تک کے انسانوں کے لیے وہ خدائی ہدایت کو جاننے کا مستندذریعہ ہو- اِس مطلوب الہی کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے:اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (15:9) یعنی قرآن کو ہم نے اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں-

قرآن کی حفاظت مکمل طورپر ایک پرامن کام تھا- اللہ تعالی نے ایسے اسباب پیدا کیے کہ قرآن کامل طورپر ایک محفوظ کتاب بن جائے، تاکہ وہ قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں کے لیے خدا کی ہدایت کو معلوم کرنے کا مستند ماخذ بن سکے- یہ کام مکمل…

Al-Risala March 2011 A original + quote

امتِ محمدی کی ذمے داری

اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ ہر زمانے کے انسانوں تک اللہ کا پیغام پہنچتا رہے (25: 1) ۔ پیغام رسانی کا یہ سلسلہ آدم سے لے کر پیغمبر آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک جاری رہا ۔ اِس پیغام رسانی کا مقصد یہ تھا کہ جن لوگوں کے اندر حق کی طلب ہے، وہ حق کو پالیں۔ اور جو لوگ حق کے طالب نہیں، اُن کا منکر ہونا ایک ثابت شدہ واقعہ بن جائے۔ اِسی بنیاد پر آخرت کی عدالت میں دونوں فریقوں کے لیے جنت یا جہنم کا فیصلہ کیا جائے گا۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ساتویں صدی کے رُبع اول میںآئے۔ آپ آخری پیغمبر تھے۔ آپ کے بعد اللہ کی طرف سے کوئی اور پیغمبر آنے والا نہیں (33: 40) ۔ ختمِ نبوت کا یہ معاملہ کسی پُر اسرار سبب سے نہیں ہوا، اس کا سبب صرف یہ تھا کہ خدا کا کلام قرآن محفوظ ہوگیا (15:9) ، اور اب یہ کافی ہوگیا کہ ہر زمانہ اور ہر نسل کے لوگوں تک اِس محفوظ قرآن کو پہنچا دیا جائے۔ گویا کہ اب قرآن، پیغمبر کا قائم مقام ہے۔ ختم نبوت کے بعد تحفظِ نبوت کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ نبوت کو مسلسل ہر دور میں جاری رکھنے کا مسئلہ ہے۔ اِس کی عملی صورت یہ ہے کہ قرآن کا ترجمہ ہر زبان میں چھاپ کر لوگوں تک پہنچایا جائے اور مسلسل پہنچایا جاتا رہے۔

یہی امتِ محمدی کی اصل ذمے داری ہے۔ امتِ محمدی کا اللہ کی نظر میں امتِ محمدی قرار پانا، اِسی پر موقوف ہے کہ پیغام رسانی کا یہ کام کسی وقفے کے بغیر ہر دورِ تاریخ میں جاری رہے۔ پیغامِ نبوت کے اِس تبلیغِ عام کے مشن میںامتِ محمدی کے ہر فرد کو…

Al-Risala March 2011 A original + quote

…اِن موقعوں پر مسلمانوں کی بھیڑ اکھٹا ہوتی ہے، مقررین پر جوش تقریریں کرتے ہیں۔ وہاں یہ اعلان کیاجاتاہے کہ ہم ہر قیمت پر ختمِ نبوت کا تحفظ کریں گے۔مگر اِس قسم کے جلسے اور تقریریں سراسر بے معنی ہیں۔ ان کا تعلق نہ اسلام سے ہے اور نہ عقل سے۔

قرآن میں اعلان کیا گیا تھا کہ اللہ خاتم النبیین کی حفاظت فرمائے گا (5:67) ۔ اللہ اپنے آخری کلام قرآن کو ہمیشہ محفوظ رکھے گا(15: 9)۔ اللہ کا یہ فیصلہ پورا ہوا۔ دنیا میں ایسے حالات پیدا ہوئے جس کے بعد خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ اور آپ کی لائی ہوئی تعلیم پوری طرح محفوظ ہوگئی۔ قرآن پرنٹنگ پریس کے زمانے میں پہنچ کر آخری طور پر محفوظ ہوگیا۔ اب مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ کا نہیں ہے، بلکہ اب مسئلہ صرف یہ ہے کہ کارِ نبوت (دعوت الی اللہ) کو ہر زمانے میں مسلسل طورپر جاری رکھا جائے۔

کارِ نبوت سے مراد وہی کام ہے جس کو قرآن میں تبلیغ ما انزل اللہ (5:67) کہاگیا ہے۔ پیغمبراسلام کا مشن در اصل دعوتی مشن تھا۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اِس دعوتی مشن کو ہر قوم میں اور ہر زمانے میں جاری رکھیں۔ وہ دعوت وتبلیغ کے کام میں پیغمبر…

Al-Risala March 2011 A original + quote

…ونصاریٰ) کے اندر پیدا ہوا تھا۔ سوال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے تو پھر ایسا کس طرح ممکن ہے کہ امت کے اندر وہی بگاڑ پیداہوجائے جو سابق اہلِ کتاب کے اندر پیداہوا تھا (حافظ ابو الحکم محمد دانیال، پٹنہ، بہار)

یہ صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے (15: 9) ، لیکن اِس حفاظت کا تعلق دینِ اسلام کی حفاظت سے ہے، نہ کہ مسلم قوم کی حفاظت سے (5: 3) ۔ دینِ اسلام کی حفاظت کا مطلب یہ ہے کہ دین کا متن (text) پوری طرح محفوظ رہے گا، تاکہ ہر زمانے میں ہدایت کا طالب اُس سے ہدایت پاسکے۔ لیکن جہاں تک مسلم قوم کا تعلق ہے، وہ اُسی طرح حالتِ امتحان میں ہے جس طرح دوسری قومیں حالتِ امتحان میں ہیں۔ اِس سلسلے میں جتنی بھی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں، وہ سب صراحت کے ساتھ بتاتی ہیں کہ دین کا معاملہ اور قوم کا معاملہ ایک دوسرے سے بالکل الگ ہے۔ ختمِ نبوت کا تقاضا ہے کہ دین کا متن قیامت تک محفوظ رہے۔ مگر جہاں تک مسلم قوم کا معاملہ ہے، اُس کے لیے عروج وزوال (rise & fall) کا وہی عام قانون ہے جو دوسری اہلِ کتاب امتوں کے لیے ہمیشہ سے رہا ہے۔ اِس معاملے میں کسی قوم کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔

کچھ لوگوں نے غلط طورپر یہ نظریہ بنایا ہے کہ جس طرح دین ایک محفوظ دین ہے، اُسی طرح مسلم امت بھی ایک محفوظ امت ہے۔ مگر یہ ایک خود ساختہ نظریہ ہے، اِس کی کوئی اصل قرآن اور حدیث میں موجود نہیں۔ مثال کے طورپر امت کی محفوظیت کا نظریہ اِس روایت…

Al-Risala December 2020 A original + quote

…دور کو لانا۔ اصحابِ رسول نے اِس کام کو انجام دیا۔ انھوں نے اپنی قربانیوں کے ذریعے شرک کو سیاسی اقتدار سے جدا کردیا۔ اصحابِ رسول کا یہی کارنامہ ہے جس کو قرآن میں وقاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔

2 - دوسرا مرحلہ حفاظتِ وحی کا ہے، وحی متلو بھی اور وحی غیر متلو بھی۔ اِس مرحلے کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 15 میں اس طرح آیا ہے: إنا نحن نزلنا الذکر وإنا لہ لحافظون (15: 9)اِس آیت میں ’’الذکر‘‘سے مراد قرآن ہے۔ آیت میں حفاظتِ وحی کے عمل کو براہِ راست اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ اپنے فرشتے بھیجے گا اور وہ اس کام کو انجام دیں گے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کچھ لوگوں کو توفیق دے گا اور وہ اللہ کی خصوصی مدد سے اس کام کو انجام دیں گے۔

حفاظت کا یہ کام بنیاد ی طورپر عباسی دور میں انجام پایا۔ اُس زمانے میں قرآن اور قرآنی علوم کو حفاظت کے آخری درجے تک پہنچا دیاگیا۔ اِس زمانے میں حدیث کی تدوین کا کام بھی اعلیٰ سطح پر انجام دیاگیا، نیز دوسرے متعلق علوم پر اتنا زیادہ تحریری…

Al-Risala December 2020 A original + quote

…دور کو لانا۔ اصحابِ رسول نے اِس کام کو انجام دیا۔ انھوں نے اپنی قربانیوں کے ذریعے شرک کو سیاسی اقتدار سے جدا کردیا۔ اصحابِ رسول کا یہی کارنامہ ہے جس کو قرآن میں وقاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔

2 - دوسرا مرحلہ حفاظتِ وحی کا ہے، وحی متلو بھی اور وحی غیر متلو بھی۔ اِس مرحلے کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 15 میں اس طرح آیا ہے: إنا نحن نزلنا الذکر وإنا لہ لحافظون (15: 9)اِس آیت میں ’’الذکر‘‘سے مراد قرآن ہے۔ آیت میں حفاظتِ وحی کے عمل کو براہِ راست اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ اپنے فرشتے بھیجے گا اور وہ اس کام کو انجام دیں گے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کچھ لوگوں کو توفیق دے گا اور وہ اللہ کی خصوصی مدد سے اس کام کو انجام دیں گے۔

حفاظت کا یہ کام بنیاد ی طورپر عباسی دور میں انجام پایا۔ اُس زمانے میں قرآن اور قرآنی علوم کو حفاظت کے آخری درجے تک پہنچا دیاگیا۔ اِس زمانے میں حدیث کی تدوین کا کام بھی اعلیٰ سطح پر انجام دیاگیا، نیز دوسرے متعلق علوم پر اتنا زیادہ تحریری…

Al-Risala September 2020 A original + quote

…(5:67)۔ یعنی اے پیغمبر، جو کچھ تمہارے اوپر تمہارے رب کی طرف سے اترا ہے تم اس کو پہنچا ؤ ، اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچا یا، اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا۔ اللہ یقیناً منکر لوگوں کو راہ نہیں دیتا۔

قرآن (الحجر، 15:9) میں ہے کہ دینِ اسلام کے لیے اللہ نے حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے— اسلام ایک محفوظ دین ہے، قرآن ایک محفوظ کتاب ہے، پیغمبر ایک محفوظ پیغمبر ہے۔ اسی طرح امت محمدی ایک محفوظ امت ہے۔ حفاظت کا یہ معاملہ کسی فضیلت کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ تعالی کے تخلیقی منصوبہ کی بنا پر ہے۔ یہ اس لیے ہے تاکہ نبوت کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد بھی قیامت تک انسان کو ربانی رہنمائی ملتی رہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اگر اسلام محفوظ دین نہ رہے، تو انسان کو محفوظ ہدایت نہیں ملے گی۔ قرآن اگر محفوظ کتاب نہ رہے، تو انسان کے لیے اس دنیا میں مستند رہنمائی کا وجود نہ ہوگا۔ اگر پیغمبر محفوظ پیغمبر نہ رہے،تو اس کے لیے اپنی دعوتی ذمے داری کو درست طور پر انجام دینا ممکن نہ رہے گا۔اسی طرح امت محمدی ایک محفوظ امت ہے۔ اگر یہ امت محفوظ نہ ہو ،توقیامت تک دعوتی ذمے داری کو درست طور پر انجام دینا اس کے لیے ممکن نہ رہے گا۔

In the lectures

Cited at 731s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1113s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2148s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4939s — opens the lecture at this moment.

Cited at 232s — opens the lecture at this moment.

Cited at 258s — opens the lecture at this moment.

Cited at 888s — opens the lecture at this moment.

Cited at 948s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1239s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1261s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1289s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1327s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1442s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1675s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2029s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2057s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2123s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2179s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2202s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2355s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2403s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2671s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3061s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3450s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3515s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4284s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4633s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5396s — opens the lecture at this moment.

Cited at 6698s — opens the lecture at this moment.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

semantic Al-Risala December 2003 Qur'an

اس کے برعکس، جہاں قرآن کا ذکر ہے وہاں اس سے مختلف الفاظ آئے ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے: انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (الحجر۔ ۹) یعنی اللہ نے قرآن کو اتارا ہے اور اللہ ہی اس کی حفاظت کرنے والا ہے۔

It was We who revealed the Quran, and We will certainly preserve it.

اس تقابل سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں میں بنیادی فرق کیا تھا۔ وہ فرق یہ تھا کہ پچھلی آسمانی کتابوں کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری انسان کے اوپر تھی جب کہ قرآن کی حفاظت کا کام خود خدا نے اپنے ذمہ لے لیا۔ گویا قرآن اور…

…قرآن وحدیث کے حوالے سے اس کی وضاحت کی۔ میری کرسی اور سائی بابا کی کرسی قریب قریب تھی۔ سائی بابا میری تقریر کو بہت دھیان سے سنتے رہے۔ جب تقریر ختم کرکے میں اپنی کرسی پر بیٹھا تو سائی بابا نے اپنی مخصوص کرسی میری کرسی کے قریب کرتے ہوئے کہا

We have complete faith in the Qur'an.

جلسے کی کارروائی کے بعد سائی بابا نے مجھ سے دوبارہ ملاقات کی۔ یہاں اُن کا ایک خاص کمرہ ہے۔ اس کمرے میں وہ کبھی کبھی کسی خاس آدمی سے ملتے ہیں۔ مجھے اس کمرے میں لے جایا گیا۔ جہاں صرف دو کرسیاں تھیں۔ ایک سائی بابا کی مخصوص وھیل چیر اور…

semantic Al-Risala December 2006 original + quote

…طورپر ایک خدائی معاملہ تھا، وہ ایک خدائی منصوبے کے تحت پیش آیا۔ چنانچہ وہ اس خدائی منصوبے کی تکمیل تک باقی رہا، اور جب یہ منصوبہ مکمل ہو گیا اور اس کی براہِ راست ضرورت نہ رہی تو مسلمانوں کا پورا سیاسی محل تاش کے پتّوں کی طرح بکھر گیا۔

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے قرآن کی اِس آیت پر غور کیجئے: إنّا نحن نزّلنا الذکر وإنّا لہ لحافظون (الحجر۹) یعنی وہ خدا ہے جس نے اِس قرآن کو اتارا اور خدا ہی یقینی طورپر اس کی حفاظت کرے گا۔

اِس قرآنی آیت کا پس منظر یہ ہے کہ انسانوں کی رہنمائی کے لیے خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے بار بار اپنا کلام اُتارا ، مگر یہ خدائی کلام تاریخ میں محفوظ نہ رہ سکا۔ خدا نے پیغمبر آخر الزماں کے ذریعے انسان کی اِس محرومی کو ختم کرنا چاہااور…

semantic Izhar-e-Deen (p. 115) Qur'an

…عقل كے ذريعے وحي كي صداقت كو دريافت كرو۔ مثال كے طور پر قرآن كي سورۃ يوسف ميں يه آيت آئي هے اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ (12:2)۔ يعني، هم نے اِس كتاب كو عربي قرآن بنا كر اتارا هے، تاكه تم سمجھو

We have sent down the Quran in Arabic, so that you may understand (by applying reason).

اِسي طرح قرآن ميں بتاياگيا هے كه تم اپني عقل كو استعمال كرتے هوئے نبوت كي صداقت كو دريافت كرو(10:16)، وغيره۔انسان كو فطري طور پر مختلف صلاحيتيں دي گئي هيں۔ اُنھيں ميں سے ايك صلاحيت، عقل هے۔ مثلاً پاؤں كے اندر چلنے كي صلاحيت، هاتھ كے اندر…

semantic Al-Risala April 2019 Qur'an

…عقل کے ذریعے وحی کی صداقت کو دریافت کرو۔ مثال کے طور پر قرآن کی سورہ یوسف میں یہ آیت آئی ہے:إِنَّا أَنْزَلْنَاہُ قُرْآنًا عَرَبِیًّا لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ (2:12)۔ یعنی ہم نے اِس کتاب کو عربی قرآن بنا کر اتارا ہے، تاکہ تم سمجھو:

We have sent down the Quran in Arabic, so that you may understand (by applying reason).

اِسی طرح قرآن میں بتایاگیا ہے کہ تم اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے نبوت کی صداقت کو دریافت کرو(یونس، 10:16)، وغیرہ۔انسان کو فطری طور پر مختلف صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ مثلاً پاؤں کے اندر چلنے کی صلاحیت، ہاتھ کے اندر پکڑنے کی صلاحیت، آنکھ…

semantic Al-Risala October 2012 Qur'an

…ہوئے یہ کہاگیا ہے کہ اپنی عقل کے ذریعے وحی کی صداقت کو دریافت کرو- مثال کے طور پر قرآن کی سورہ یوسف میں یہ آیت آئی ہے: إنا أنزلناہ قرآناً عربیاً لعلکم تعقلون (2:12) یعنی ہم نے اِس کتاب کو عربی قرآن بنا کر اتارا ہے، تاکہ تم سمجھو:

We have sent down the Quran in Arabic, so that you may understand (by applying reason).

اِسی طرح قرآن میں بتایاگیا ہے کہ تم اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے نبوت کی صداقت کو دریافت کرو(16: 10)، وغیرہ-انسان کو فطری طور پر مختلف صلاحیتیں دی گئی ہیں- اُنھیں میں سے ایک صلاحیت، عقل ہے- مثلاً پاؤں کے اندر چلنے کی صلاحیت، ہاتھ…

semantic Al-Risala December 2003 original + quote

اس وضاحت کے مطابق، مذکورہ قرآنی آیت کا مطلب یہ ہے کہ پچھلی آسمانی کتابیں جن لوگوں کے اوپر اتاری گئیں ان سے کہا گیا تھا کہ ان کو خود ان کتابوں کی حفاظت کرنا ہے۔ اُن کو انہیں نہ صرف پڑھنا ہے بلکہ ان کو محفوظ بھی رکھنا ہے۔

اس کے برعکس، جہاں قرآن کا ذکر ہے وہاں اس سے مختلف الفاظ آئے ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے: انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (الحجر۔ ۹) یعنی اللہ نے قرآن کو اتارا ہے اور اللہ ہی اس کی حفاظت کرنے والا ہے۔

It was We who revealed the Quran, and We will certainly preserve it.

…طرح روحانى تهذيب كا غير مرئى تسلسل بھى تاريخ ميں برابر جارى رها هے۔ روحانى تهذيب كے تسلسل كا اشاراتى حواله قرآن كى سورۃ المومنون كے اِن الفاظ ميں ملتا هے ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا (23:44) يعنى پھر هم نے لگاتار اپنے رسول بھيجے

We sent Our messengers in succession.

خدا كے پيغمبرهر دور ميں مسلسل آتے رهے اور ان كى تعليم وتلقين كے ذريعے تاريخ ميں روحانى تهذيب كا غير مرئى تسلسل قائم رها۔ مادى تهذيب كا تسلسل اگر اجتماعى سطح پر دكھائى دينے والے مظاهر كى صورت ميں قائم رها تو روحانى تهذيب كا تسلسل افراد كے…

…طرح روحانی تہذیب کا غیر مرئی تسلسل بھی تاریخ میں برابر جاری رہا ہے- روحانی تہذیب کے تسلسل کا اشاراتی حوالہ قرآن کی سورہ المومنون کے اِن الفاظ میں ملتا ہے: ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا (23:44) یعنی پھر ہم نے لگاتار اپنے رسول بھیجے:

We sent Our messengers in succession.

خدا کے پیغمبرہر دور میں مسلسل آتے رہے اور ان کی تعلیم وتلقین کے ذریعے تاریخ میں روحانی تہذیب کا غیر مرئی تسلسل قائم رہا- مادی تہذیب کا تسلسل اگر اجتماعی سطح پر دکھائی دینے والے مظاہر کی صورت میں قائم رہا تو روحانی تہذیب کا تسلسل افراد کے…

اور بڑی ہی وسعت رکھنے والے ہیں۔

اور ہم اس کی قدرت رکھتے ہیں۔

اور ہم یقیناً بڑی طاقت والے ہیں۔