Qur'an 14:7
Qur'an 14:7
وَإِذۡ تَأَذَّنَ رَبُّكُمۡ لَئِن شَكَرۡتُمۡ لَأَزِيدَنَّكُمۡۖ وَلَئِن كَفَرۡتُمۡ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٞ
And [remember] when your Lord proclaimed, 'If you are grateful, I will surely increase you [in favor]; but if you deny, indeed, My punishment is severe
Explained in 11 book passages
and 14 lecture moments.
Cite / permalink: quran/14:7
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
The Increase in Blessings
The Quran states: “And remember also the time when your Lord declared: if you are grateful, I will surely bestow more favours on you; but if you are ungrateful, then know that My punishment is severe indeed.” (14:7)
In this verse of the Quran, the increase in blessings (more favours) applies to one who, grateful for the blessings of God in this world, will receive his reward in the form of Paradise in the Hereafter. Actually, gratitude is the other…
…divine bounty and present your gratefulness to God. This is acknowledgement and acknowledgement is what makes you a deserving of receiving further bounties. This is mentioned in the chapter Ibrahim (Abraham) of the Quran in these words:
Remember the time when your Lord declared, “If you are grateful, I will surely bestow more favours on you; but if you are ungrateful, then know that My punishment is severe indeed.” (14:7)
This is God’s promise to man and God never betrays His promise.
شکر سے اضافہ
قرآن کی سورہ ابراہیم میں ارشاد ہوا ہےوَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِی لَشَدِیدٌ (14:7) ۔یعنی،اور جب تمھارے رب نے تم کو آگاہ کردیا کہ اگر تم شکر کروگے، تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔ اور اگر تم ناشکری کروگے، تو میرا عذاب بڑا سخت ہے
And remember also the time when your Lord declared: ‘If you are grateful, I will surely bestow more favours on you; but if you are ungrateful, then know that My punishment is severe indeed’ (14:7)
…رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِی لَشَدِیدٌ (14:7) ۔یعنی،اور جب تمھارے رب نے تم کو آگاہ کردیا کہ اگر تم شکر کروگے، تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔ اور اگر تم ناشکری کروگے، تو میرا عذاب بڑا سخت ہے
And remember also the time when your Lord declared: ‘If you are grateful, I will surely bestow more favours on you; but if you are ungrateful, then know that My punishment is severe indeed’ (14:7)
قرآن کی اِس آیت میں نعمت میں اضافہ سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں جو انسان خدا کی نعمتوں کا سچا شکر ادا کرے گا، اُس کو آخر ت میں جنت کی صورت میں حقیقی طور پرزیادہ بڑا انعام دیا جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اس کی ذات کے اعتبار سے…
It is like seeing paradise from a distance.
مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ نے ایک نہایت حسین اور معیاری دنیا بنائی جہاں انسان ابدی طورپر پر مسرت زندگی گزار سکے۔ یہ جنت ہے ۔پھر اس نے ایک اور دنیا موجودہ زمین کی صورت میں بنائی۔ ہماری زمین ساری کائنات میں ایک انتہائی انوکھا استثنا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے،یعنی اس دنیا میں جنت کے مشابہ تمام چیزیں رکھ دی گئی ہیں (البقرہ ، 2:25)۔ گویا موجودہ دنیا آخرت کی کا مل جنت کا ایک ناقص تعارف ہے۔ یہ دنیا انسان کو اس لیے دی گئی ہے تاکہ وہ اس کے اندر جنت کی ابتدائی جھلک دیکھے اور پھر اس کا شکر ادا کر کے ابدی جنت کا مستحق بنے ۔ اس حقیقت کی طرف قرآن میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے لَئِن شَکَرۡتُمۡ لَأَزِیدَنَّکُمۡ (14:7)۔ یعنی، اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو (جنت کی صورت میں)زیادہ دوں گا۔
…مزید تیار کیجیے، اور پھر دعوت کے میدان میں کام کرنا شروع کردیجیے۔ میں نے کہا کہ آپ اکیلے ہی، ان شاءاللہ، دعوتی کام کے لیے کافی ہیں۔ آپ اپنے آپ کو لے کر سوچیے، آپ دوسروں کو لے کر سوچنا بند کر دیجیے، اور پھر آپ کو کسی سے شکایت نہ ہوگی۔
لوگوں میں یہ غلطی بہت عام ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ اپنے آپ کو لے کر نہیں سوچتے، بلکہ دوسروں کو لے کر سوچتے ہیں۔ اس طرزِ فکر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر منفی نفسیات پیدا ہوجاتی ہے۔اگر وہ مثبت نفسیات میں جینے والے بن جائیںتو خدا کے وعدہ کا مستحق بن سکتے ہیں،جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیدَنَّکُم (14:7)یعنی، اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔ لیکن وہ غیر ضروری طور پر اپنے آپ کو اس نعمت سے محروم کرلیتے ہیں۔ شکر میں جینے والا انسان بننے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی مثبت سوچ میں جینے والا انسان بنے۔
اچھی اولاد
ہر شادی شدہ آدمی کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ اس کے یہاں اچھی اولاد پیدا ہو۔ اس معاملے میں غور وفکر کے بعد میںنے یہ سمجھا ہے کہ اچھی اولاد کی خواہش دراصل اللہ سے اچھی اولاد کی تمنا کرنا ہے۔ اللہ کا قانون یہ ہے لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِی لَشَدِیدٌ (14:7)۔یعنی، اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔ اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بڑا سخت ہے۔
اس پر غور کرنے سے میں نے یہ سمجھا ہے کہ کسی آدمی کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی شادی کو شکر کا موضوع بنائے۔ شادی خواہ بظاہر آدمی کی پسند کے مطابق ہو یا اس کے خلاف۔ ہر حال میں وہ شادی کو شکر کے آئٹم کے طور پر لے، وہ اپنے لائف پارٹنر…
شکر سے اضافہ
سورہ ابراہیم میں فطرت کاایک قانون بتایا گیا ہے ۔ وہ یہ کہ خدا کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق، اس دنیا میں شکر کرنے سے اضافہ ہوتا ہے۔ یہ قانون قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہےوَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِی لَشَدِیدٌ (14:7)۔ یعنی، اور جب تمہارے رب نے تم کو آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔ اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میراعذاب بڑاسخت ہے۔
قرآن کی اس آیت میںجو بات کہی گئی ہے وہ کوئی پراسرار بات نہیں۔ وہ معلوم اسباب کے تحت پیش آنے والا ایک واقعہ ہے۔ یہ واقعہ ہر ایک کے ساتھ پیش آتا ہے ، فرد کے لیے فرد کی حیثیت سے اور گروہ کے لیے گروہ کی حیثیت سے۔
…Gates)کے لیے اس کی دولت تسکین کا ذریعہ نہیں بنی۔چنانچہ انھوں نے اپنی دولت کا بڑا حصہ چیرٹی میں دے دیا۔ امریکا کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ (Donald Trump)کو وائٹ ہاؤس میں پہنچ کر سکون نہیں ملا۔ چنانچہ انھوں نے وائٹ ہاؤس کو کوکون (cocoon) بتایا۔
اس معاملے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ موجودہ دنیا کو جنت کے مشابہ دنیا کے طور پر دریافت کرے۔ دنیا کی جنت خود جنت نہیں ہے، بلکہ وہ جنت ِ آخرت کا ابتدائی تعارف ہے۔انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا کی نعمتوں کودیکھ کر جنت ِ آخرت کو دریافت کرے۔ اس کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہو، اور لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیدَنَّکُمْ (14:7) کے مطابق وہ جنتِ ِآخرت کا مستحق بنے، یعنی اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔
جنت کا استحقاق
قرآن کی سورہ ابراہیم میں ارشاد ہوا ہے: لئن شکرتم لأزیدنکم (14: 7) یعنی اگر تم دنیا میں اللہ کے عطیات پر شکر کروگے تو تم کو آخرت میں خدا کے عطیات دئے جائیں گے۔
حقیقی شکر سب سے بڑا عمل ہے۔ شکر تمام عبادات کا خلاصہ ہے۔ جو آدمی دنیا کی زندگی میں حقیقی معنوں میں شکر گزاری کا ثبوت دے، وہ آخرت میں دوبارہ خدا کی نعمتوں سے سرفراز کیاجائے گا۔ حقیقی شکر کسی آدمی کو جنت کا مستحق بناتا ہے۔ جنت میں صرف…
…14 میںارشاد ہوا ہے: وإذ تأذن ربّکم لئن شکرتم لأزیدنّکم، ولئن کفرتم إنّ عذابی لشدید (إبراہیم: 7) اور جب تمھہارے رب نے تم کو آگاہ کردیا کہ اگر تم شکر کروگے، تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔ اور اگر تم ناشکری کروگے، تو میرا عذاب بڑا سخت ہے:
And remember also the time when your Lord declared: ‘If you are grateful, I will surely bestow more favours on you; but if you are ungrateful, then know that My punishment is severe indeed’. (14:7)
قرآن کی اِس آیت میں نعمت میں اضافہ سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں جو انسان، خدا کی نعمتوں کا سچا شکر ادا کرے گا، اُس کو آخر ت میں جنت کی صورت میں زیادہ بڑا انعام دیا جائے گا۔ شکر دراصل اعتراف (acknowledgement) کا دوسرا نام ہے۔ نعمت…
In the lectures
Cited at 1828s — opens the lecture at this moment.
Cited at 302s — opens the lecture at this moment.
Cited at 424s — opens the lecture at this moment.
Cited at 537s — opens the lecture at this moment.
Cited at 600s — opens the lecture at this moment.
Cited at 733s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1223s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1477s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2198s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2337s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3491s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3653s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4907s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5990s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (14:7) ۔یعنی،اور جب تمھارے رب نے تم کو آگاہ کردیا کہ اگر تم شکر کروگے، تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔ اور اگر تم ناشکری کروگے، تو میرا عذاب بڑا سخت ہے
And remember also the time when your Lord declared: ‘If you are grateful, I will surely bestow more favours on you; but if you are ungrateful, then know that My punishment is severe indeed’ (14:7)
قرآن کی اِس آیت میں نعمت میں اضافہ سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں جو انسان خدا کی نعمتوں کا سچا شکر ادا کرے گا، اُس کو آخر ت میں جنت کی صورت میں حقیقی طور پرزیادہ بڑا انعام دیا جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اس کی ذات کے اعتبار سے…
…رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (14:7) ۔یعنی،اور جب تمھارے رب نے تم کو آگاہ کردیا کہ اگر تم شکر کروگے، تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔ اور اگر تم ناشکری کروگے، تو میرا عذاب بڑا سخت ہے
And remember also the time when your Lord declared: ‘If you are grateful, I will surely bestow more favours on you; but if you are ungrateful, then know that My punishment is severe indeed’ (14:7)
قرآن کی اِس آیت میں نعمت میں اضافہ سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں جو انسان خدا کی نعمتوں کا سچا شکر ادا کرے گا، اُس کو آخر ت میں جنت کی صورت میں حقیقی طور پرزیادہ بڑا انعام دیا جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اس کی ذات کے اعتبار سے…
شکر سے اضافہ
قرآن کی سورہ نمبر 14 میںارشاد ہوا ہے: وإذ تأذن ربّکم لئن شکرتم لأزیدنّکم، ولئن کفرتم إنّ عذابی لشدید (إبراہیم: 7) اور جب تمھہارے رب نے تم کو آگاہ کردیا کہ اگر تم شکر کروگے، تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔ اور اگر تم ناشکری کروگے، تو میرا عذاب بڑا سخت ہے:
And remember also the time when your Lord declared: ‘If you are grateful, I will surely bestow more favours on you; but if you are ungrateful, then know that My punishment is severe indeed’. (14:7)
شکر سے اضافہ
قرآن کی سورہ ابراہیم میں ارشاد ہوا ہےوَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (14:7) ۔یعنی،اور جب تمھارے رب نے تم کو آگاہ کردیا کہ اگر تم شکر کروگے، تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔ اور اگر تم ناشکری کروگے، تو میرا عذاب بڑا سخت ہے
And remember also the time when your Lord declared: ‘If you are grateful, I will surely bestow more favours on you; but if you are ungrateful, then know that My punishment is severe indeed’ (14:7)
شکر سے اضافہ
قرآن کی سورہ ابراہیم میں ارشاد ہوا ہےوَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (14:7) ۔یعنی،اور جب تمھارے رب نے تم کو آگاہ کردیا کہ اگر تم شکر کروگے، تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔ اور اگر تم ناشکری کروگے، تو میرا عذاب بڑا سخت ہے
And remember also the time when your Lord declared: ‘If you are grateful, I will surely bestow more favours on you; but if you are ungrateful, then know that My punishment is severe indeed’ (14:7)
…سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ(2:256)۔ یعنی، دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں۔ ہدایت، گمراہی سے الگ ہوچکی ہے۔ پس جو شخص شیطان کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں۔ اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
اِسی طرح قرآن میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا فَذَكِّرْ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَكَفَرَ فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَ اِنَّ اِلَيْنَآ اِيَابَهُمْ ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ(88:21-26)۔ یعنی، (اے پیغمبر) تم بس یاد دہانی کرو، تم بس یاد دہانی کرنے والے ہو۔ تم اُن پر داروغہ نہیں۔ مگر جس شخص نے روگردانی کی اور انکار کیا، تو اللہ اس کو بڑا عذاب دے گا۔ ہماری ہی طرف ہے ان کی واپسی، پھر ہمارے ہی ذمے ہے اُن کا حساب لینا۔
اِس طرح کی قرآنی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کو اِس بات کی کامل آزادی دی گئی ہے کہ وہ جس طرح چاہے، سوچے او ر جس طرح چاہے، بولے اور لکھے۔یہ آزادی انسان کو اُس وقت تک حاصل رہتی ہے جب تک کہ وہ دوسرے انسانوں…
…women are two equal halves of a single unit. Both are intellectual as well as spiritual partners to each other. In the chapter Al-‘Imran (The Family of Imran), the Quran emphasizes this principle. The relevant Quranic verse is as follows:
Their Lord accepted their prayer, saying, ‘I will deny no man or woman among you the reward of their labours. You are members one of another.’ (3:195)
‘Members one of another’ does not mean that both are one and the same in every respect. It does not mean that both are each other’s counterparts. It means rather that both are made in such a way that they can play a complementary role to…
شکر سے اضافہ
سورہ ابراہیم میں فطرت کاایک قانون بتایا گیا ہے ۔ وہ یہ کہ خدا کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق، اس دنیا میں شکر کرنے سے اضافہ ہوتا ہے۔ یہ قانون قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہےوَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (14:7)۔ یعنی، اور جب تمہارے رب نے تم کو آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔ اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میراعذاب بڑاسخت ہے۔
قرآن کی اس آیت میںجو بات کہی گئی ہے وہ کوئی پراسرار بات نہیں۔ وہ معلوم اسباب کے تحت پیش آنے والا ایک واقعہ ہے۔ یہ واقعہ ہر ایک کے ساتھ پیش آتا ہے ، فرد کے لیے فرد کی حیثیت سے اور گروہ کے لیے گروہ کی حیثیت سے۔
…complete freedom to choose their actions. Thus, we have a choice—we can misuse our freedom to do evil or use our freedom wisely, submit to God, and qualify for Paradise. Those who misuse their God-given freedom are warned in the Quran:
“This is the Truth from your Lord. Let him who will believe in it and him who will deny it.” (18:29)
The Creator of the world has created this world as one half of a pair—the present world, in which we live after birth, is the first half; the next eternal world, where we live after death, is the other half. The Creator of man has further…
…ہونے کے بعدمئی ۱۹۵۳ میں ہمالیہ کی چوٹی پر پہنچا تھا۔ایک ناکامی کے بعد اس نے اپنی مٹھی بلند کی اور پہاڑ سے کہا: ’’تم نے مجھے ہرایا ہے مگر میں دوبارہ آؤں گااور تم کو ہراؤں گا۔ کیوں کہ تم اور زیادہ بڑے نہیں ہوسکتے مگر میں ہوسکتا ہوں‘‘:
You have defeated me but I will return and I will defeat you because you can not get any bigger but I can.
دہلی سے سات گھنٹہ کی پرواز کے بعد جہازاستانبول کے ہوائی اڈہ پر اترا۔یہ ہوائی اڈہ کافی اچھا بنا ہوا تھا۔ وہ ایک یورپی ہوائی اڈہ معلوم ہوتا تھا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ دہلی کے انٹرنیشنل ائرپورٹ اور استانبول کے ائر پورٹ میں کوئی مقابلہ نہیں۔