Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
تعلیمی پیغام p. 156
(زیر نظر پیغام مولانا وحید الدین خاں صاحب نے مدینہ ٹیکنیکل کالج ، حیدرآباد،کے سوینیر کے لیے لکھا تھا) p. 156
تعلیم صرف روزگار کا سرٹیفکٹ نہیں۔ اس کا اصل مقصد قوم کے افراد کو باشعور بنانا ہے۔ افراد کو باشعور بنا ناملت کی تعمیرکی راہ کا پہلا قدم ہے۔ ملت کا سفر جب بھی شروع ہوگا یہیں سے شروع ہوگا۔ اس کے سوا کسی اور مقام سے ملت کا سفر شروع نہیں ہو سکتا۔ p. 156
باشعور بنا نا کیا ہے۔ باشعور بنانا یہ ہے کہ ملت کے افراد ماضی اور حال کو ایک دوسرے سے جوڑ سکیں۔ وہ زندگی کے مسائل کو کائنات کے ابدی نقشہ میں رکھ کر دیکھ سکیں۔ وہ جانیں کہ وہ کیا ہیں، اور کیا نہیں ہیں۔ وہ اس راز سے واقف ہوں کہ وہ اپنے ارادہ کو خدا کے ارادہ سے ہم آہنگ کر کے ہی خدا کی اس دنیا میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ باشعور انسان ہی حقیقی معنوں میں انسان ہے۔ جو باشعور نہیں وہ انسان بھی نہیں۔ p. 156
با شعور آدمی اپنے اور دوسرے کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ وہ یہ جان لیتا ہے کہ اس کی کون سی رائے جانب دارانہ رائے ہے اور کون سی غیر جانب دارانہ۔ جب بھی کوئی موقع آتا ہے تو وہ پہچان لیتا ہے کہ یہاں کون سی کا رروائی رد عمل کی کارروائی ہے اور کون سی مثبت کارروائی ۔ وہ شرکو خیر سے جدا کرتا ہے اور باطل کو الگ کر کے حق کو پہچانتا ہے۔ ایک آنکھ وہ ہے جو ہر آدمی کی پیشانی پر ہوتی ہے۔ تعلیم آدمی کو ذہنی آنکھ عطا کرتی ہے۔ عام آنکھ آدمی کو ظاہری چیزیں دکھاتی ہے، تعلیم کی آنکھ آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ معنوی چیزوں کو دیکھ سکے۔ p. 157
جس طرح ایک کسان بیج کو درخت بناتا ہے، اسی طرح تعلیم گاہ کا کام یہ ہے کہ وہ انسان کو فکری حیثیت سے اس قابل بنائے کہ وہ ارتقائے حیات کے سفر کو مکمل کر سکے ۔ تعلیم آدمی کو ملازمت بھی دیتی ہے۔ مگر یہ تعلیم کا ثانوی فائدہ ہے۔ تعلیم کا اصل پہلو یہ ہے کہ وہ آدمی کو زندگی کی سائنس بتائے۔وہ آدمی کو حقیقی معنوں میں آدمی بنا دے۔ (الرسالہ، مئی1985) p. 157original + quote