Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
ایک تجربہ p. 113
1966کی بات ہے۔ اس وقت میں ندوہ (لکھنؤ) میں تھا۔ ایک روز میں نے دیکھا کہ پولیس کی گاڑی ندوہ کے احاطہ میں آکررُ کی۔ اس میں سے کئی پولیس کے لوگ برآمد ہوئے۔ ان کو ندوہ کے ذمہ داروں نے ٹیلی فون کر کے بلایا تھا تاکہ وہ ان کے ایک سنگین مسئلہ کو حل کریں۔ p. 113
مسئلہ یہ تھا کہ ندوہ اور لکھنؤ یو نیورسٹی دونوں بالکل پاس پاس ہیں ۔ یونیورسٹی کا ایک ہاسٹل ندوہ کی دیوار سے ملا ہوا ہے۔ اس ہاسٹل کے لڑکے جو سب کے سب غیر مسلم تھے ندوہ والوں کو مسلسل پریشان کر رہے تھے۔ وہ گالی دیتے، پتھر پھینکتے، مذاق اُڑاتے اور طرح طرح کی نازیبا حرکتیں کرتے۔ ان کا مقصد غالباً یہ تھا کہ ندوہ کے لوگ مشتعل ہو کر کوئی جارحانہ کارروائی کریں اور پھر یونیورسٹی کے لڑکوں کو ندوہ کے خلاف بھر پور فساد کرنے کا بہانہ ہاتھ آجائے۔ p. 114
یہ مسئلہ برسوں سے جاری تھا۔ ندوہ والوں نے پریشان ہو کر پولیس بلائی اور ان سے فریاد کی۔ پولیس والے حسب دستور رسمی کارروائی کر کے واپس چلے گئے۔ اور اصل مسئلہ بدستور اپنی جگہ باقی رہا۔ p. 114
یہ مسئلہ اسی طرح چلتا رہا یہاں تک کہ 1974 میں ندوہ کے ذمہ داروں کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ یہ مسئلہ نہ پولیس کے ذریعہ حل ہو سکتا ہے اور نہ براہ راست ٹکراؤ کے ذریعہ اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ اس کو تالیف قلب کے اسلامی اصول کو استعمال کر کے حل کیا جائے۔ اس فیصلہ کے تحت مولانا علی میاں کے رفیق خاص مولانا اسحاق جلیس ندوی مرحوم اس کے ذمہ دار بنائے گئے۔ p. 114
منصوبہ کے مطابق مولانا اسحاق جلیس ندوی نے پہلے یہ پتہ لگایا کہ ہاسٹل کے لڑکوں میں لیڈر کون کون ہے۔ انہوں نے ان لیڈروں سے ملاقات کی۔ ان کو ندوہ میں نہایت اہتمام کے ساتھ چائے پر بلایا گیا۔ ندوہ والوں نے ان ’’ظالم ‘‘ لڑکوں سے ان کے ظلم اور بد تمیزی کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا۔ ان سے ساری ملاقات اور گفتگو اس طرح کی گئی جیسے کہ ندوہ والوں کو ان سے کوئی شکایت ہی نہیں ۔ پوری مدت میں ندوہ کے لوگ ان سے اس طرح معتدل انداز میں ملتے رہے جیسے کہ ان کی طرف سے ظلم و زیادتی کا کوئی واقعہ سرے سے پیش ہی نہیں آیا۔ p. 114
ان گفتگوؤں اور ملاقا توں کے نتیجہ میں، عین پیشگی منصوبہ کے مطابق، یہ ہوا کہ ندوہ کی ٹیم اور یونیورسٹی کی ٹیم کے درمیان ہاکی میچ رکھا گیا۔ ندوہ کے لڑکے ہاکی کھیلنے میں مشہور ہیں ۔ مگر انھیں پیشگی طور پر یہ سمجھا دیا گیا کہ تمہیں اس میچ میں جیتنا نہیں ہے۔ تم کو جان بوجھ کر خراب کھیل کھیلنا ہے تا کہ تم ہار جاؤ۔ منصوبہ یہ تھا کہ جان بوجھ کر یونیورسٹی کے لڑکوں کو کھیل میں جتایا جائے اور پھر انھیں ہیرو بنا کر ان کے دل کو جیتنےکی کوشش کی جائے۔ p. 114
مقررہ تاریخ کو دونوں کے درمیان ہاکی میچ ہوا۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق ندوہ کے نوجوان خراب کھیل کھیلے اور یونیورسٹی کے لڑکوں کو بالقصد یہ موقع دیا کہ وہ بہتر کھیل کھیل کر میچ جیتیں ۔ چنانچہ یہی ہوا۔ یونیورسٹی کے طلبہ ندوہ کے طلبہ کے مقابلہ میں ’’شاندار طور پر‘‘ کامیاب ہو گئے۔ اب طے شدہ منصوبہ کے مطابق یونیورسٹی کے لڑکوں کو خوب اچھالا گیا۔ مختلف طریقوں سے ان کی تالیف قلب کی گئی۔ ان کو دل کھول کر انعامات دیے گئے۔ ان کا ہیروانہ استقبال کیا گیا، وغیرہ۔ p. 115
یونیورسٹی کے طلبہ ندوہ والوں کے مقابلہ میں اپنی بڑائی چاہتے تھے اور ندوہ والوں نے یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو جھکا کر ان کی بڑائی کا اعتراف کر لیا۔ ندوہ کے لوگوں نے اپنے مذکورہ عمل سے یونیورسٹی کے طلبہ کے جذبات برتری کو پوری طرح تسکین دے دی۔ اب مسئلہ اپنے آپ حل تھا۔ یونیورسٹی کے طلبہ نے اس کے بعد پھر کبھی ندوہ والوں کو پریشان نہیں کیا۔ p. 115
یہ ایک عظیم الشان مثال ہے جو یہ بتاتی ہے کہ ہندستان کے فرقہ وارانہ جھگڑوں کا حل کیا ہے۔ وہ حل یہ ہے کہ مسلمان یک طرفه اقدام کے ذریعہ ہندو مسلم تناؤ کو ختم کر دیں ۔ وہ خود ’’چھوٹے بھائی‘‘ بن کر فریق ثانی کو ’’بڑے بھائی‘‘ کا درجہ دینے پر راضی ہو جائیں، اور اس کے بعد ان کے تمام مسئلے یقینی طور پر حل ہو جائیں گے۔ p. 115
ندوہ کا مذکورہ واقعہ مزید اس جھوٹے اندیشہ کو غلط ثابت کرتا ہے کہ اگر ہم جھکیں گے تو وہ اور زیادہ دلیر ہو جائیں گے۔ مذکورہ واقعہ میں ندوہ والوں نے واضح طور پر یک طرفہ جھکاؤ کا طریقہ اختیار کیا۔ اس کے نتیجہ میں بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ لکھنؤ یو نیورسٹی کے غیر مسلم طلبہ کی ہمتیں اور زیادہ بڑھ جائیں ۔ وہ پہلے سے زیادہ جری ہو کر ندوہ والوں کو ستانے لگیں ۔ ندوہ والوں کا نرم رویہ ان کو اور زیا دہ سخت رویہ والا بنا دے۔ مگر ایسا قطعاً نہیں ہوا ۔بلکہ ندوہ والوں کے جھکاؤ نے انھیں بھی جھکا دیا۔ ایک فریق کی نرمی دوسرے فریق کو نرم کرنے کا سبب بن گئی۔ جو مسئلہ دس سال سے نا قابل حل بنا ہوا تھا، وہ ایک دن کے اندر لڑے بھڑے بغیر حل ہو گیا۔ 1974 کے بعد وہ دوبارہ کبھی پیش نہیں آیا۔ p. 116
ندوہ کے اس چھوٹے سے واقعہ میں اس عظیم تر مسئلہ کے بارے میں رہنمائی موجود ہے جس کو عام طور پرملی مسئلہ کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ عملی تجربہ کی زبان میں بتا رہا ہے کہ ملک کے فرقہ وارانہ جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ ندوہ والوں نے اپنے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے اپنے محدود دائرہ میں جو تدبیر کی وہی تدبیر وسیع تر دائرہ میں ملت کے مسائل کا بھی واحد یقینی حل ہے۔ اگر مسلمان اس دانش مندی کا ثبوت دیں، جس کا ثبوت ندوہ والوں نے دیا تو یقینی طور پر ان کے تمام جھگڑے ختم ہو جائیں گے۔ اور پھر مسلمانوں کو موقع مل جائے گا کہ وہ امن اور یکسوئی کے ماحول میں اپنی تعمیر و ترقی کا کام کر سکیں ۔ اس کے بعد وہ تعمیر کے کام کے لیے بھی مواقع پالیں گے اور اسلام کے تعارف کے لیے بھی۔ (الرسالہ، جون 1986) p. 116