Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
عظیم انقلابی رہنمائی p. 48
مولانا عبد المتین بنارسی سے گفتگو کرتے ہوئے صحیح مسلم کی اس روایت کا ذکر آیا جو تابیرنخل کے بارے میں ہے اور جس میں ہے کہ آپ نے فرمایا أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ (ٍحدیث نمبر 2363)۔ یعنی، تم اپنے دنیا کے معاملہ کو زیادہ جانتے ہو۔ p. 48original + quote
میں نے کہا کہ یہ حدیث مذہب کی دنیا میں ایک عظیم انقلاب کو بتارہی ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسانی معاملات دوقسم کے ہیں ۔ ایک معاملات کا اخلاقی پہلو۔ دوسرا وہ جس کو معاملات کا ٹیکنکل پہلو کہہ سکتے ہیں ۔ مذکورہ حدیث نے ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا۔ اخلاقی پہلو کو خدائی ہدایت کا پابند بتاتے ہوئے ٹیکنکل پہلو کے بارے میں کہہ دیا کہ اس کو تحقیق اور تجربہ کی بنیاد پر قائم کرو۔ گویا دینی مطالعہ کو سائنسی ریسرچ سے جدا کر دیا گیا۔ p. 48
دوسرے مذاہب اپنی موجودہ شکل میں ان دونوں پہلوؤں کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ انہوں نے ٹیکنکل پہلو کوبھی مذہبی عقائد کے تابع کر رکھا ہے۔ مثلاً عیسائی مذہب میں سورج اور زمین کی گردش کے معاملہ کو مذہبی عقیدہ کی حیثیت دے دی گئی۔ p. 49original + quote
ٹیکنکل پہلو کو اس طرح مذہبی عقیدہ کے ماتحت کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ درخت کے پھل کی پیداوار کم ملے گی۔ انسان قیمتی گوشت کے فائدے سے محروم رہے گا۔ کائنات کے حقائق انسان کے اوپر ظاہر نہیں ہوں گے۔ وغیرہ۔ مذکورہ طریقہ کی بنا پر دوسرے مروجہ مذاہب سائنسی تحقیق اور ترقی کا دروازہ بند کرتے ہیں ۔ اس کے برعکس، اسلام نے سائنسی ترقی کا دروازہ آخری حدتک کھول دیا ہے۔ (ڈائری، 9 مئی 1989) p. 49