Tazkirul Quran (Urdu)

114. An-Naas

Tazkirul Quran (Urdu) — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (114 chapters)
  1. 1. Al-Faatiha
  2. 2. Al-Baqara
  3. 3. Aal-i-Imraan
  4. 4. An-Nisaa
  5. 5. Al-Maaida
  6. 6. Al-An'aam
  7. 7. Al-A'raaf
  8. 8. Al-Anfaal
  9. 9. At-Tawba
  10. 10. Yunus
  11. 11. Hud
  12. 12. Yusuf
  13. 13. Ar-Ra'd
  14. 14. Ibrahim
  15. 15. Al-Hijr
  16. 16. An-Nahl
  17. 17. Al-Israa
  18. 18. Al-Kahf
  19. 19. Maryam
  20. 20. Taa-Haa
  21. 21. Al-Anbiyaa
  22. 22. Al-Hajj
  23. 23. Al-Muminoon
  24. 24. An-Noor
  25. 25. Al-Furqaan
  26. 26. Ash-Shu'araa
  27. 27. An-Naml
  28. 28. Al-Qasas
  29. 29. Al-Ankaboot
  30. 30. Ar-Room
  31. 31. Luqman
  32. 32. As-Sajda
  33. 33. Al-Ahzaab
  34. 34. Saba
  35. 35. Faatir
  36. 36. Yaseen
  37. 37. As-Saaffaat
  38. 38. Saad
  39. 39. Az-Zumar
  40. 40. Ghafir
  41. 41. Fussilat
  42. 42. Ash-Shura
  43. 43. Az-Zukhruf
  44. 44. Ad-Dukhaan
  45. 45. Al-Jaathiya
  46. 46. Al-Ahqaf
  47. 47. Muhammad
  48. 48. Al-Fath
  49. 49. Al-Hujuraat
  50. 50. Qaaf
  51. 51. Adh-Dhaariyat
  52. 52. At-Tur
  53. 53. An-Najm
  54. 54. Al-Qamar
  55. 55. Ar-Rahmaan
  56. 56. Al-Waaqia
  57. 57. Al-Hadid
  58. 58. Al-Mujaadila
  59. 59. Al-Hashr
  60. 60. Al-Mumtahana
  61. 61. As-Saff
  62. 62. Al-Jumu'a
  63. 63. Al-Munaafiqoon
  64. 64. At-Taghaabun
  65. 65. At-Talaaq
  66. 66. At-Tahrim
  67. 67. Al-Mulk
  68. 68. Al-Qalam
  69. 69. Al-Haaqqa
  70. 70. Al-Ma'aarij
  71. 71. Nooh
  72. 72. Al-Jinn
  73. 73. Al-Muzzammil
  74. 74. Al-Muddaththir
  75. 75. Al-Qiyaama
  76. 76. Al-Insaan
  77. 77. Al-Mursalaat
  78. 78. An-Naba
  79. 79. An-Naazi'aat
  80. 80. Abasa
  81. 81. At-Takwir
  82. 82. Al-Infitaar
  83. 83. Al-Mutaffifin
  84. 84. Al-Inshiqaaq
  85. 85. Al-Burooj
  86. 86. At-Taariq
  87. 87. Al-A'laa
  88. 88. Al-Ghaashiya
  89. 89. Al-Fajr
  90. 90. Al-Balad
  91. 91. Ash-Shams
  92. 92. Al-Lail
  93. 93. Ad-Dhuhaa
  94. 94. Ash-Sharh
  95. 95. At-Tin
  96. 96. Al-Alaq
  97. 97. Al-Qadr
  98. 98. Al-Bayyina
  99. 99. Az-Zalzala
  100. 100. Al-Aadiyaat
  101. 101. Al-Qaari'a
  102. 102. At-Takaathur
  103. 103. Al-Asr
  104. 104. Al-Humaza
  105. 105. Al-Fil
  106. 106. Quraish
  107. 107. Al-Maa'un
  108. 108. Al-Kawthar
  109. 109. Al-Kaafiroon
  110. 110. An-Nasr
  111. 111. Al-Masad
  112. 112. Al-Ikhlaas
  113. 113. Al-Falaq
  114. 114. An-Naas

انسان ایک عاجز مخلوق ہے۔ اس کو لازمی طور پر پناہ کی ضرورت ہے۔ یہ پناہ اس کو ایک خدا کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ خدا ہی تمام انسانوں کا رب ہے، وہی لوگوں کا بادشاہ ہے، وہی لوگوں کا معبود ہے۔ پھر اس کے سوا کون ہے جو شر اور فتنہ کے مقابلہ میں لوگوں کا سہارا بنے۔ سب سے زیادہ خطرناک فتنہ جس سے انسان کو خدا کی پناہ مانگنی چاہيے وہ شیطان ہے۔ وہ سب سے زیادہ خطرناک اس لیے ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی اصل حیثیت کو چھپاتا ہے۔ اور پر فریب تدبیروں سے انسان کو بہکاتا ہے۔ اس لیے شیطان کے فتنوں سے وہی شخص بچ سکتا ہے جو بہت زیادہ باہوش ہو، جس کو اللہ نے وہ سمجھ دی ہو جس کے ذریعہ وہ حق اور ناحق میں تمیز کرسکے۔ وہ سمجھ سکے کہ کون سی بات حقیقی بات ہے اور کون سی بات وہ ہے جو حقیقی بات نہیں۔ یہ وسوسہ انداز ی کرنے والے صرف معروف شیاطین ہی نہیں ہیں۔ انسانوں میں بھی ایسے شیطان نما لوگ ہیں جو مصنوعی روپ میں سامنے آتے ہیں اور پر فریب الفاظ کے ذریعہ آدمی کے ذہن کو پھیر کر اس کو گمراہی کے راستہ پر ڈال دیتے ہیں  عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُلَا. قَالَقُمْ فَصَلِّ، قَالَفَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَوَّذْ بِاللهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَالَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟ قَالَنَعَمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 21546) حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس وقت مسجد میں تھے۔ میں بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا، اے ابو ذر کیا تم نے نماز پڑھی۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اٹھا اور نماز پڑھی اور پھر میں آ کر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابوذر ، جن و انس کے شیطانوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا  ہاں۔ فتنوں سے خدا کی پناہ مانگنا دو طرفہ عمل ہے۔ ایک طرف وہ خدا کی عنایت کو اپنے ساتھ شامل کرنا ہے۔ اور دوسری طرف اس کا مقصد یہ ہے کہ فتنوں کے مقابلہ میں اپنے شعور کو بیدار کیا جائے تاکہ آدمی زیادہ باہوش طور پر اس کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکے۔ (دہلی، 19 جولائی 1986)original + quote

انسان ایک عاجز مخلوق ہے۔ اس کو لازمی طور پر پناہ کی ضرورت ہے۔ یہ پناہ اس کو ایک خدا کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ خدا ہی تمام انسانوں کا رب ہے، وہی لوگوں کا بادشاہ ہے، وہی لوگوں کا معبود ہے۔ پھر اس کے سوا کون ہے جو شر اور فتنہ کے مقابلہ میں لوگوں کا سہارا بنے۔ سب سے زیادہ خطرناک فتنہ جس سے انسان کو خدا کی پناہ مانگنی چاہيے وہ شیطان ہے۔ وہ سب سے زیادہ خطرناک اس لیے ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی اصل حیثیت کو چھپاتا ہے۔ اور پر فریب تدبیروں سے انسان کو بہکاتا ہے۔ اس لیے شیطان کے فتنوں سے وہی شخص بچ سکتا ہے جو بہت زیادہ باہوش ہو، جس کو اللہ نے وہ سمجھ دی ہو جس کے ذریعہ وہ حق اور ناحق میں تمیز کرسکے۔ وہ سمجھ سکے کہ کون سی بات حقیقی بات ہے اور کون سی بات وہ ہے جو حقیقی بات نہیں۔ یہ وسوسہ انداز ی کرنے والے صرف معروف شیاطین ہی نہیں ہیں۔ انسانوں میں بھی ایسے شیطان نما لوگ ہیں جو مصنوعی روپ میں سامنے آتے ہیں اور پر فریب الفاظ کے ذریعہ آدمی کے ذہن کو پھیر کر اس کو گمراہی کے راستہ پر ڈال دیتے ہیں  عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُلَا. قَالَقُمْ فَصَلِّ، قَالَفَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَوَّذْ بِاللهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَالَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟ قَالَنَعَمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 21546) حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس وقت مسجد میں تھے۔ میں بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا، اے ابو ذر کیا تم نے نماز پڑھی۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اٹھا اور نماز پڑھی اور پھر میں آ کر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابوذر ، جن و انس کے شیطانوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا  ہاں۔ فتنوں سے خدا کی پناہ مانگنا دو طرفہ عمل ہے۔ ایک طرف وہ خدا کی عنایت کو اپنے ساتھ شامل کرنا ہے۔ اور دوسری طرف اس کا مقصد یہ ہے کہ فتنوں کے مقابلہ میں اپنے شعور کو بیدار کیا جائے تاکہ آدمی زیادہ باہوش طور پر اس کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکے۔ (دہلی، 19 جولائی 1986)unverified

انسان ایک عاجز مخلوق ہے۔ اس کو لازمی طور پر پناہ کی ضرورت ہے۔ یہ پناہ اس کو ایک خدا کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ خدا ہی تمام انسانوں کا رب ہے، وہی لوگوں کا بادشاہ ہے، وہی لوگوں کا معبود ہے۔ پھر اس کے سوا کون ہے جو شر اور فتنہ کے مقابلہ میں لوگوں کا سہارا بنے۔ سب سے زیادہ خطرناک فتنہ جس سے انسان کو خدا کی پناہ مانگنی چاہيے وہ شیطان ہے۔ وہ سب سے زیادہ خطرناک اس لیے ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی اصل حیثیت کو چھپاتا ہے۔ اور پر فریب تدبیروں سے انسان کو بہکاتا ہے۔ اس لیے شیطان کے فتنوں سے وہی شخص بچ سکتا ہے جو بہت زیادہ باہوش ہو، جس کو اللہ نے وہ سمجھ دی ہو جس کے ذریعہ وہ حق اور ناحق میں تمیز کرسکے۔ وہ سمجھ سکے کہ کون سی بات حقیقی بات ہے اور کون سی بات وہ ہے جو حقیقی بات نہیں۔ یہ وسوسہ انداز ی کرنے والے صرف معروف شیاطین ہی نہیں ہیں۔ انسانوں میں بھی ایسے شیطان نما لوگ ہیں جو مصنوعی روپ میں سامنے آتے ہیں اور پر فریب الفاظ کے ذریعہ آدمی کے ذہن کو پھیر کر اس کو گمراہی کے راستہ پر ڈال دیتے ہیں  عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُلَا. قَالَقُمْ فَصَلِّ، قَالَفَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَوَّذْ بِاللهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَالَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟ قَالَنَعَمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 21546) حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس وقت مسجد میں تھے۔ میں بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا، اے ابو ذر کیا تم نے نماز پڑھی۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اٹھا اور نماز پڑھی اور پھر میں آ کر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابوذر ، جن و انس کے شیطانوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا  ہاں۔ فتنوں سے خدا کی پناہ مانگنا دو طرفہ عمل ہے۔ ایک طرف وہ خدا کی عنایت کو اپنے ساتھ شامل کرنا ہے۔ اور دوسری طرف اس کا مقصد یہ ہے کہ فتنوں کے مقابلہ میں اپنے شعور کو بیدار کیا جائے تاکہ آدمی زیادہ باہوش طور پر اس کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکے۔ (دہلی، 19 جولائی 1986)unverified

انسان ایک عاجز مخلوق ہے۔ اس کو لازمی طور پر پناہ کی ضرورت ہے۔ یہ پناہ اس کو ایک خدا کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ خدا ہی تمام انسانوں کا رب ہے، وہی لوگوں کا بادشاہ ہے، وہی لوگوں کا معبود ہے۔ پھر اس کے سوا کون ہے جو شر اور فتنہ کے مقابلہ میں لوگوں کا سہارا بنے۔ سب سے زیادہ خطرناک فتنہ جس سے انسان کو خدا کی پناہ مانگنی چاہيے وہ شیطان ہے۔ وہ سب سے زیادہ خطرناک اس لیے ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی اصل حیثیت کو چھپاتا ہے۔ اور پر فریب تدبیروں سے انسان کو بہکاتا ہے۔ اس لیے شیطان کے فتنوں سے وہی شخص بچ سکتا ہے جو بہت زیادہ باہوش ہو، جس کو اللہ نے وہ سمجھ دی ہو جس کے ذریعہ وہ حق اور ناحق میں تمیز کرسکے۔ وہ سمجھ سکے کہ کون سی بات حقیقی بات ہے اور کون سی بات وہ ہے جو حقیقی بات نہیں۔ یہ وسوسہ انداز ی کرنے والے صرف معروف شیاطین ہی نہیں ہیں۔ انسانوں میں بھی ایسے شیطان نما لوگ ہیں جو مصنوعی روپ میں سامنے آتے ہیں اور پر فریب الفاظ کے ذریعہ آدمی کے ذہن کو پھیر کر اس کو گمراہی کے راستہ پر ڈال دیتے ہیں  عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُلَا. قَالَقُمْ فَصَلِّ، قَالَفَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَوَّذْ بِاللهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَالَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟ قَالَنَعَمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 21546) حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس وقت مسجد میں تھے۔ میں بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا، اے ابو ذر کیا تم نے نماز پڑھی۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اٹھا اور نماز پڑھی اور پھر میں آ کر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابوذر ، جن و انس کے شیطانوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا  ہاں۔ فتنوں سے خدا کی پناہ مانگنا دو طرفہ عمل ہے۔ ایک طرف وہ خدا کی عنایت کو اپنے ساتھ شامل کرنا ہے۔ اور دوسری طرف اس کا مقصد یہ ہے کہ فتنوں کے مقابلہ میں اپنے شعور کو بیدار کیا جائے تاکہ آدمی زیادہ باہوش طور پر اس کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکے۔ (دہلی، 19 جولائی 1986)unverified

انسان ایک عاجز مخلوق ہے۔ اس کو لازمی طور پر پناہ کی ضرورت ہے۔ یہ پناہ اس کو ایک خدا کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ خدا ہی تمام انسانوں کا رب ہے، وہی لوگوں کا بادشاہ ہے، وہی لوگوں کا معبود ہے۔ پھر اس کے سوا کون ہے جو شر اور فتنہ کے مقابلہ میں لوگوں کا سہارا بنے۔ سب سے زیادہ خطرناک فتنہ جس سے انسان کو خدا کی پناہ مانگنی چاہيے وہ شیطان ہے۔ وہ سب سے زیادہ خطرناک اس لیے ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی اصل حیثیت کو چھپاتا ہے۔ اور پر فریب تدبیروں سے انسان کو بہکاتا ہے۔ اس لیے شیطان کے فتنوں سے وہی شخص بچ سکتا ہے جو بہت زیادہ باہوش ہو، جس کو اللہ نے وہ سمجھ دی ہو جس کے ذریعہ وہ حق اور ناحق میں تمیز کرسکے۔ وہ سمجھ سکے کہ کون سی بات حقیقی بات ہے اور کون سی بات وہ ہے جو حقیقی بات نہیں۔ یہ وسوسہ انداز ی کرنے والے صرف معروف شیاطین ہی نہیں ہیں۔ انسانوں میں بھی ایسے شیطان نما لوگ ہیں جو مصنوعی روپ میں سامنے آتے ہیں اور پر فریب الفاظ کے ذریعہ آدمی کے ذہن کو پھیر کر اس کو گمراہی کے راستہ پر ڈال دیتے ہیں  عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُلَا. قَالَقُمْ فَصَلِّ، قَالَفَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَوَّذْ بِاللهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَالَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟ قَالَنَعَمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 21546) حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس وقت مسجد میں تھے۔ میں بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا، اے ابو ذر کیا تم نے نماز پڑھی۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اٹھا اور نماز پڑھی اور پھر میں آ کر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابوذر ، جن و انس کے شیطانوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا  ہاں۔ فتنوں سے خدا کی پناہ مانگنا دو طرفہ عمل ہے۔ ایک طرف وہ خدا کی عنایت کو اپنے ساتھ شامل کرنا ہے۔ اور دوسری طرف اس کا مقصد یہ ہے کہ فتنوں کے مقابلہ میں اپنے شعور کو بیدار کیا جائے تاکہ آدمی زیادہ باہوش طور پر اس کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکے۔ (دہلی، 19 جولائی 1986)unverified

انسان ایک عاجز مخلوق ہے۔ اس کو لازمی طور پر پناہ کی ضرورت ہے۔ یہ پناہ اس کو ایک خدا کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ خدا ہی تمام انسانوں کا رب ہے، وہی لوگوں کا بادشاہ ہے، وہی لوگوں کا معبود ہے۔ پھر اس کے سوا کون ہے جو شر اور فتنہ کے مقابلہ میں لوگوں کا سہارا بنے۔ سب سے زیادہ خطرناک فتنہ جس سے انسان کو خدا کی پناہ مانگنی چاہيے وہ شیطان ہے۔ وہ سب سے زیادہ خطرناک اس لیے ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی اصل حیثیت کو چھپاتا ہے۔ اور پر فریب تدبیروں سے انسان کو بہکاتا ہے۔ اس لیے شیطان کے فتنوں سے وہی شخص بچ سکتا ہے جو بہت زیادہ باہوش ہو، جس کو اللہ نے وہ سمجھ دی ہو جس کے ذریعہ وہ حق اور ناحق میں تمیز کرسکے۔ وہ سمجھ سکے کہ کون سی بات حقیقی بات ہے اور کون سی بات وہ ہے جو حقیقی بات نہیں۔ یہ وسوسہ انداز ی کرنے والے صرف معروف شیاطین ہی نہیں ہیں۔ انسانوں میں بھی ایسے شیطان نما لوگ ہیں جو مصنوعی روپ میں سامنے آتے ہیں اور پر فریب الفاظ کے ذریعہ آدمی کے ذہن کو پھیر کر اس کو گمراہی کے راستہ پر ڈال دیتے ہیں  عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُلَا. قَالَقُمْ فَصَلِّ، قَالَفَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَوَّذْ بِاللهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَالَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟ قَالَنَعَمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 21546) حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس وقت مسجد میں تھے۔ میں بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا، اے ابو ذر کیا تم نے نماز پڑھی۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اٹھا اور نماز پڑھی اور پھر میں آ کر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابوذر ، جن و انس کے شیطانوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا  ہاں۔ فتنوں سے خدا کی پناہ مانگنا دو طرفہ عمل ہے۔ ایک طرف وہ خدا کی عنایت کو اپنے ساتھ شامل کرنا ہے۔ اور دوسری طرف اس کا مقصد یہ ہے کہ فتنوں کے مقابلہ میں اپنے شعور کو بیدار کیا جائے تاکہ آدمی زیادہ باہوش طور پر اس کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکے۔ (دہلی، 19 جولائی 1986)unverified