Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
کائنات کی صورت میں جو واقعہ ہمارے سامنے موجود ہے وہ اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اس کے بعد ہر دوسرا واقعہ اس سے چھوٹا ہوجاتا ہے۔ پھر جس دنیا میں بڑے واقعہ کا ظہور ممکن ہو وہاں چھوٹے واقعہ کا ظہور کیوں ممکن نہ ہوگا۔ ایسی حالت میں قرآن کی یہ خبر کہ انسان کو دوبارہ پیدا ہونا ہے، ایک ایسی خبر ہے جس کو قابل فہم بنانے کے لیے پہلے ہی سے بہت بڑے پیمانے پر معلوم اسباب موجود ہیں۔
کائنات کی صورت میں جو واقعہ ہمارے سامنے موجود ہے وہ اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اس کے بعد ہر دوسرا واقعہ اس سے چھوٹا ہوجاتا ہے۔ پھر جس دنیا میں بڑے واقعہ کا ظہور ممکن ہو وہاں چھوٹے واقعہ کا ظہور کیوں ممکن نہ ہوگا۔ ایسی حالت میں قرآن کی یہ خبر کہ انسان کو دوبارہ پیدا ہونا ہے، ایک ایسی خبر ہے جس کو قابل فہم بنانے کے لیے پہلے ہی سے بہت بڑے پیمانے پر معلوم اسباب موجود ہیں۔
کائنات کی صورت میں جو واقعہ ہمارے سامنے موجود ہے وہ اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اس کے بعد ہر دوسرا واقعہ اس سے چھوٹا ہوجاتا ہے۔ پھر جس دنیا میں بڑے واقعہ کا ظہور ممکن ہو وہاں چھوٹے واقعہ کا ظہور کیوں ممکن نہ ہوگا۔ ایسی حالت میں قرآن کی یہ خبر کہ انسان کو دوبارہ پیدا ہونا ہے، ایک ایسی خبر ہے جس کو قابل فہم بنانے کے لیے پہلے ہی سے بہت بڑے پیمانے پر معلوم اسباب موجود ہیں۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
کائنات کی صورت میں جو واقعہ ہمارے سامنے موجود ہے وہ اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اس کے بعد ہر دوسرا واقعہ اس سے چھوٹا ہوجاتا ہے۔ پھر جس دنیا میں بڑے واقعہ کا ظہور ممکن ہو وہاں چھوٹے واقعہ کا ظہور کیوں ممکن نہ ہوگا۔ ایسی حالت میں قرآن کی یہ خبر کہ انسان کو دوبارہ پیدا ہونا ہے، ایک ایسی خبر ہے جس کو قابل فہم بنانے کے لیے پہلے ہی سے بہت بڑے پیمانے پر معلوم اسباب موجود ہیں۔
کائنات کی صورت میں جو واقعہ ہمارے سامنے موجود ہے وہ اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اس کے بعد ہر دوسرا واقعہ اس سے چھوٹا ہوجاتا ہے۔ پھر جس دنیا میں بڑے واقعہ کا ظہور ممکن ہو وہاں چھوٹے واقعہ کا ظہور کیوں ممکن نہ ہوگا۔ ایسی حالت میں قرآن کی یہ خبر کہ انسان کو دوبارہ پیدا ہونا ہے، ایک ایسی خبر ہے جس کو قابل فہم بنانے کے لیے پہلے ہی سے بہت بڑے پیمانے پر معلوم اسباب موجود ہیں۔
کائنات کی صورت میں جو واقعہ ہمارے سامنے موجود ہے وہ اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اس کے بعد ہر دوسرا واقعہ اس سے چھوٹا ہوجاتا ہے۔ پھر جس دنیا میں بڑے واقعہ کا ظہور ممکن ہو وہاں چھوٹے واقعہ کا ظہور کیوں ممکن نہ ہوگا۔ ایسی حالت میں قرآن کی یہ خبر کہ انسان کو دوبارہ پیدا ہونا ہے، ایک ایسی خبر ہے جس کو قابل فہم بنانے کے لیے پہلے ہی سے بہت بڑے پیمانے پر معلوم اسباب موجود ہیں۔
کائنات کی صورت میں جو واقعہ ہمارے سامنے موجود ہے وہ اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اس کے بعد ہر دوسرا واقعہ اس سے چھوٹا ہوجاتا ہے۔ پھر جس دنیا میں بڑے واقعہ کا ظہور ممکن ہو وہاں چھوٹے واقعہ کا ظہور کیوں ممکن نہ ہوگا۔ ایسی حالت میں قرآن کی یہ خبر کہ انسان کو دوبارہ پیدا ہونا ہے، ایک ایسی خبر ہے جس کو قابل فہم بنانے کے لیے پہلے ہی سے بہت بڑے پیمانے پر معلوم اسباب موجود ہیں۔
آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
آدمی دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک موجودہ دنیا جو سامنے ہے۔ اور دوسري آخرت کی دنیا جو غیب میں ہے۔ آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دے۔ مگر یہ کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اپنے نفس کی خواہشوں پر کنٹرول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔
فرعون اور اس طرح کے دوسرے منکرین کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جو شخص حقیقت واقعہ کا انکار کرے وہ لازما اس کی سزا پا کر رہتا ہے۔ یہ تاریخی مثالیں آدمی کی عبرت کے لیے کافی ہیں۔ مگر کوئی عبرت کی بات صرف اس شخص کے لیے عبرت کا ذریعہ بنتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات رکھتا ہو۔ جو کسی عمل کو اس کے انجام کے اعتبار سے دیکھے، نہ کہ صرف اس کے آغاز کے اعتبار سے۔