Tazkirul Quran (Urdu)

73. Al-Muzzammil

Tazkirul Quran (Urdu) — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (114 chapters)
  1. 1. Al-Faatiha
  2. 2. Al-Baqara
  3. 3. Aal-i-Imraan
  4. 4. An-Nisaa
  5. 5. Al-Maaida
  6. 6. Al-An'aam
  7. 7. Al-A'raaf
  8. 8. Al-Anfaal
  9. 9. At-Tawba
  10. 10. Yunus
  11. 11. Hud
  12. 12. Yusuf
  13. 13. Ar-Ra'd
  14. 14. Ibrahim
  15. 15. Al-Hijr
  16. 16. An-Nahl
  17. 17. Al-Israa
  18. 18. Al-Kahf
  19. 19. Maryam
  20. 20. Taa-Haa
  21. 21. Al-Anbiyaa
  22. 22. Al-Hajj
  23. 23. Al-Muminoon
  24. 24. An-Noor
  25. 25. Al-Furqaan
  26. 26. Ash-Shu'araa
  27. 27. An-Naml
  28. 28. Al-Qasas
  29. 29. Al-Ankaboot
  30. 30. Ar-Room
  31. 31. Luqman
  32. 32. As-Sajda
  33. 33. Al-Ahzaab
  34. 34. Saba
  35. 35. Faatir
  36. 36. Yaseen
  37. 37. As-Saaffaat
  38. 38. Saad
  39. 39. Az-Zumar
  40. 40. Ghafir
  41. 41. Fussilat
  42. 42. Ash-Shura
  43. 43. Az-Zukhruf
  44. 44. Ad-Dukhaan
  45. 45. Al-Jaathiya
  46. 46. Al-Ahqaf
  47. 47. Muhammad
  48. 48. Al-Fath
  49. 49. Al-Hujuraat
  50. 50. Qaaf
  51. 51. Adh-Dhaariyat
  52. 52. At-Tur
  53. 53. An-Najm
  54. 54. Al-Qamar
  55. 55. Ar-Rahmaan
  56. 56. Al-Waaqia
  57. 57. Al-Hadid
  58. 58. Al-Mujaadila
  59. 59. Al-Hashr
  60. 60. Al-Mumtahana
  61. 61. As-Saff
  62. 62. Al-Jumu'a
  63. 63. Al-Munaafiqoon
  64. 64. At-Taghaabun
  65. 65. At-Talaaq
  66. 66. At-Tahrim
  67. 67. Al-Mulk
  68. 68. Al-Qalam
  69. 69. Al-Haaqqa
  70. 70. Al-Ma'aarij
  71. 71. Nooh
  72. 72. Al-Jinn
  73. 73. Al-Muzzammil
  74. 74. Al-Muddaththir
  75. 75. Al-Qiyaama
  76. 76. Al-Insaan
  77. 77. Al-Mursalaat
  78. 78. An-Naba
  79. 79. An-Naazi'aat
  80. 80. Abasa
  81. 81. At-Takwir
  82. 82. Al-Infitaar
  83. 83. Al-Mutaffifin
  84. 84. Al-Inshiqaaq
  85. 85. Al-Burooj
  86. 86. At-Taariq
  87. 87. Al-A'laa
  88. 88. Al-Ghaashiya
  89. 89. Al-Fajr
  90. 90. Al-Balad
  91. 91. Ash-Shams
  92. 92. Al-Lail
  93. 93. Ad-Dhuhaa
  94. 94. Ash-Sharh
  95. 95. At-Tin
  96. 96. Al-Alaq
  97. 97. Al-Qadr
  98. 98. Al-Bayyina
  99. 99. Az-Zalzala
  100. 100. Al-Aadiyaat
  101. 101. Al-Qaari'a
  102. 102. At-Takaathur
  103. 103. Al-Asr
  104. 104. Al-Humaza
  105. 105. Al-Fil
  106. 106. Quraish
  107. 107. Al-Maa'un
  108. 108. Al-Kawthar
  109. 109. Al-Kaafiroon
  110. 110. An-Nasr
  111. 111. Al-Masad
  112. 112. Al-Ikhlaas
  113. 113. Al-Falaq
  114. 114. An-Naas

’’ٹھہر ٹھہر کر پڑھو‘‘کا مطلب یہ ہے کہ مفہوم پر دھیان دیتے ہوئے پڑھو۔ جب آدمی ایسا کرے تو قاری اور قرآن کے درمیان ایک دو طرفہ عمل شروع ہوجاتا ہے۔ قرآن اس کے لیے ایک الٰہی خطاب ہوتا ہے اور اس کا دل ہر آیت پر اس خطاب کا جواب دیتا چلا جاتا ہے۔ جب قرآن میں اللہ کی بڑائی کا ذکر آتا ہے تو قاری کا پورا وجود اس کی بڑائی کے احساس سے دب جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کے احسانات بتائے جاتے ہیں تو اس کو سوچ کر قاری کا دل خدا کے شکر سے بھر جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کی پکڑ کا بیان ہوتا ہے تو قاری اس کو پڑھ کر کا نپ اٹھتا ہے۔ جب قرآن میں کوئی حکم بتایا جاتا ہے تو قاری کے اندر یہ جذبه مستحکم ہوتا ہے کہ وہ اس حکم کو اختیار کر کے اپنے رب کا فرماں بردار بنے۔ ’’بھاری قول‘‘سے مراد انذار کا وہ حکم ہے جو اگلی سوره المدثرآيت 3میں آ رہا ہے (قُمْ فَأَنْذِرْ)۔ یعنی آخرت کے مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کردے۔ یہ کام بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس کے لیے داعی کو بے آمیز حق پر کھڑا ہونا پڑتا ہے، خواہ وہ تمام لوگوں کے درمیان اجنبی بن جائے۔ اس کو لوگوں کی ایذاؤں کو برداشت کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کے اور مخاطبین کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ آخر وقت تک باقی رہے۔ اس کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو صبر اور اعراض کا پابند کرنا پڑتا ہے۔ تاکہ کسی بھی حال میں اس کی داعیانہ حیثیت مجروح نہ ہونے پائے۔unverified

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

’’ٹھہر ٹھہر کر پڑھو‘‘کا مطلب یہ ہے کہ مفہوم پر دھیان دیتے ہوئے پڑھو۔ جب آدمی ایسا کرے تو قاری اور قرآن کے درمیان ایک دو طرفہ عمل شروع ہوجاتا ہے۔ قرآن اس کے لیے ایک الٰہی خطاب ہوتا ہے اور اس کا دل ہر آیت پر اس خطاب کا جواب دیتا چلا جاتا ہے۔ جب قرآن میں اللہ کی بڑائی کا ذکر آتا ہے تو قاری کا پورا وجود اس کی بڑائی کے احساس سے دب جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کے احسانات بتائے جاتے ہیں تو اس کو سوچ کر قاری کا دل خدا کے شکر سے بھر جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کی پکڑ کا بیان ہوتا ہے تو قاری اس کو پڑھ کر کا نپ اٹھتا ہے۔ جب قرآن میں کوئی حکم بتایا جاتا ہے تو قاری کے اندر یہ جذبه مستحکم ہوتا ہے کہ وہ اس حکم کو اختیار کر کے اپنے رب کا فرماں بردار بنے۔ ’’بھاری قول‘‘سے مراد انذار کا وہ حکم ہے جو اگلی سوره المدثرآيت 3میں آ رہا ہے (قُمْ فَأَنْذِرْ)۔ یعنی آخرت کے مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کردے۔ یہ کام بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس کے لیے داعی کو بے آمیز حق پر کھڑا ہونا پڑتا ہے، خواہ وہ تمام لوگوں کے درمیان اجنبی بن جائے۔ اس کو لوگوں کی ایذاؤں کو برداشت کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کے اور مخاطبین کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ آخر وقت تک باقی رہے۔ اس کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو صبر اور اعراض کا پابند کرنا پڑتا ہے۔ تاکہ کسی بھی حال میں اس کی داعیانہ حیثیت مجروح نہ ہونے پائے۔unverified

دین میں جو فرض اعمال ہیں وہ عام انسان کی استطاعت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مقرر کیے گئے ہیں۔ مگر یہ فرائض صرف لازمی حدود کو بتاتے ہیں۔ اس لازمی حد کے آگے بھی مطلوب اعمال ہیں۔ مگر وہ نوافل ہیں۔ مثلاً پنج وقته نمازوں کے بعد تہجد، زکوۃ کے بعد مزید انفاق وغیرہ۔ یہ آدمی کے اپنے حوصلے کا امتحان ہے کہ وہ کتنا زیادہ عمل کرتا ہے اور آخرت میں کتنا زیادہ انعام کا مستحق بنتا ہے۔

’’ٹھہر ٹھہر کر پڑھو‘‘کا مطلب یہ ہے کہ مفہوم پر دھیان دیتے ہوئے پڑھو۔ جب آدمی ایسا کرے تو قاری اور قرآن کے درمیان ایک دو طرفہ عمل شروع ہوجاتا ہے۔ قرآن اس کے لیے ایک الٰہی خطاب ہوتا ہے اور اس کا دل ہر آیت پر اس خطاب کا جواب دیتا چلا جاتا ہے۔ جب قرآن میں اللہ کی بڑائی کا ذکر آتا ہے تو قاری کا پورا وجود اس کی بڑائی کے احساس سے دب جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کے احسانات بتائے جاتے ہیں تو اس کو سوچ کر قاری کا دل خدا کے شکر سے بھر جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کی پکڑ کا بیان ہوتا ہے تو قاری اس کو پڑھ کر کا نپ اٹھتا ہے۔ جب قرآن میں کوئی حکم بتایا جاتا ہے تو قاری کے اندر یہ جذبه مستحکم ہوتا ہے کہ وہ اس حکم کو اختیار کر کے اپنے رب کا فرماں بردار بنے۔ ’’بھاری قول‘‘سے مراد انذار کا وہ حکم ہے جو اگلی سوره المدثرآيت 3میں آ رہا ہے (قُمْ فَأَنْذِرْ)۔ یعنی آخرت کے مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کردے۔ یہ کام بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس کے لیے داعی کو بے آمیز حق پر کھڑا ہونا پڑتا ہے، خواہ وہ تمام لوگوں کے درمیان اجنبی بن جائے۔ اس کو لوگوں کی ایذاؤں کو برداشت کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کے اور مخاطبین کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ آخر وقت تک باقی رہے۔ اس کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو صبر اور اعراض کا پابند کرنا پڑتا ہے۔ تاکہ کسی بھی حال میں اس کی داعیانہ حیثیت مجروح نہ ہونے پائے۔unverified

’’ٹھہر ٹھہر کر پڑھو‘‘کا مطلب یہ ہے کہ مفہوم پر دھیان دیتے ہوئے پڑھو۔ جب آدمی ایسا کرے تو قاری اور قرآن کے درمیان ایک دو طرفہ عمل شروع ہوجاتا ہے۔ قرآن اس کے لیے ایک الٰہی خطاب ہوتا ہے اور اس کا دل ہر آیت پر اس خطاب کا جواب دیتا چلا جاتا ہے۔ جب قرآن میں اللہ کی بڑائی کا ذکر آتا ہے تو قاری کا پورا وجود اس کی بڑائی کے احساس سے دب جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کے احسانات بتائے جاتے ہیں تو اس کو سوچ کر قاری کا دل خدا کے شکر سے بھر جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کی پکڑ کا بیان ہوتا ہے تو قاری اس کو پڑھ کر کا نپ اٹھتا ہے۔ جب قرآن میں کوئی حکم بتایا جاتا ہے تو قاری کے اندر یہ جذبه مستحکم ہوتا ہے کہ وہ اس حکم کو اختیار کر کے اپنے رب کا فرماں بردار بنے۔ ’’بھاری قول‘‘سے مراد انذار کا وہ حکم ہے جو اگلی سوره المدثرآيت 3میں آ رہا ہے (قُمْ فَأَنْذِرْ)۔ یعنی آخرت کے مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کردے۔ یہ کام بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس کے لیے داعی کو بے آمیز حق پر کھڑا ہونا پڑتا ہے، خواہ وہ تمام لوگوں کے درمیان اجنبی بن جائے۔ اس کو لوگوں کی ایذاؤں کو برداشت کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کے اور مخاطبین کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ آخر وقت تک باقی رہے۔ اس کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو صبر اور اعراض کا پابند کرنا پڑتا ہے۔ تاکہ کسی بھی حال میں اس کی داعیانہ حیثیت مجروح نہ ہونے پائے۔unverified

’’ٹھہر ٹھہر کر پڑھو‘‘کا مطلب یہ ہے کہ مفہوم پر دھیان دیتے ہوئے پڑھو۔ جب آدمی ایسا کرے تو قاری اور قرآن کے درمیان ایک دو طرفہ عمل شروع ہوجاتا ہے۔ قرآن اس کے لیے ایک الٰہی خطاب ہوتا ہے اور اس کا دل ہر آیت پر اس خطاب کا جواب دیتا چلا جاتا ہے۔ جب قرآن میں اللہ کی بڑائی کا ذکر آتا ہے تو قاری کا پورا وجود اس کی بڑائی کے احساس سے دب جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کے احسانات بتائے جاتے ہیں تو اس کو سوچ کر قاری کا دل خدا کے شکر سے بھر جاتا ہے۔ جب قرآن میں خدا کی پکڑ کا بیان ہوتا ہے تو قاری اس کو پڑھ کر کا نپ اٹھتا ہے۔ جب قرآن میں کوئی حکم بتایا جاتا ہے تو قاری کے اندر یہ جذبه مستحکم ہوتا ہے کہ وہ اس حکم کو اختیار کر کے اپنے رب کا فرماں بردار بنے۔ ’’بھاری قول‘‘سے مراد انذار کا وہ حکم ہے جو اگلی سوره المدثرآيت 3میں آ رہا ہے (قُمْ فَأَنْذِرْ)۔ یعنی آخرت کے مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کردے۔ یہ کام بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس کے لیے داعی کو بے آمیز حق پر کھڑا ہونا پڑتا ہے، خواہ وہ تمام لوگوں کے درمیان اجنبی بن جائے۔ اس کو لوگوں کی ایذاؤں کو برداشت کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کے اور مخاطبین کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ آخر وقت تک باقی رہے۔ اس کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو صبر اور اعراض کا پابند کرنا پڑتا ہے۔ تاکہ کسی بھی حال میں اس کی داعیانہ حیثیت مجروح نہ ہونے پائے۔unverified

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔

پیغمبر کا آنا حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے موسیٰ اور فرعون کے درمیان ہوا تھا۔ پھر یہی فیصلہ پیغمبر اسلام اور قریش کے درمیان ہوا۔ جو لوگ دنیا میں خدا کے داعی کے آگے نہ جھکیں وہ اپنے لیے یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ آخرت میں انہیں خدا کے عذاب کے آگے جھکنا پڑے۔