Tazkirul Quran (Urdu)

68. Al-Qalam

Tazkirul Quran (Urdu) — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (114 chapters)
  1. 1. Al-Faatiha
  2. 2. Al-Baqara
  3. 3. Aal-i-Imraan
  4. 4. An-Nisaa
  5. 5. Al-Maaida
  6. 6. Al-An'aam
  7. 7. Al-A'raaf
  8. 8. Al-Anfaal
  9. 9. At-Tawba
  10. 10. Yunus
  11. 11. Hud
  12. 12. Yusuf
  13. 13. Ar-Ra'd
  14. 14. Ibrahim
  15. 15. Al-Hijr
  16. 16. An-Nahl
  17. 17. Al-Israa
  18. 18. Al-Kahf
  19. 19. Maryam
  20. 20. Taa-Haa
  21. 21. Al-Anbiyaa
  22. 22. Al-Hajj
  23. 23. Al-Muminoon
  24. 24. An-Noor
  25. 25. Al-Furqaan
  26. 26. Ash-Shu'araa
  27. 27. An-Naml
  28. 28. Al-Qasas
  29. 29. Al-Ankaboot
  30. 30. Ar-Room
  31. 31. Luqman
  32. 32. As-Sajda
  33. 33. Al-Ahzaab
  34. 34. Saba
  35. 35. Faatir
  36. 36. Yaseen
  37. 37. As-Saaffaat
  38. 38. Saad
  39. 39. Az-Zumar
  40. 40. Ghafir
  41. 41. Fussilat
  42. 42. Ash-Shura
  43. 43. Az-Zukhruf
  44. 44. Ad-Dukhaan
  45. 45. Al-Jaathiya
  46. 46. Al-Ahqaf
  47. 47. Muhammad
  48. 48. Al-Fath
  49. 49. Al-Hujuraat
  50. 50. Qaaf
  51. 51. Adh-Dhaariyat
  52. 52. At-Tur
  53. 53. An-Najm
  54. 54. Al-Qamar
  55. 55. Ar-Rahmaan
  56. 56. Al-Waaqia
  57. 57. Al-Hadid
  58. 58. Al-Mujaadila
  59. 59. Al-Hashr
  60. 60. Al-Mumtahana
  61. 61. As-Saff
  62. 62. Al-Jumu'a
  63. 63. Al-Munaafiqoon
  64. 64. At-Taghaabun
  65. 65. At-Talaaq
  66. 66. At-Tahrim
  67. 67. Al-Mulk
  68. 68. Al-Qalam
  69. 69. Al-Haaqqa
  70. 70. Al-Ma'aarij
  71. 71. Nooh
  72. 72. Al-Jinn
  73. 73. Al-Muzzammil
  74. 74. Al-Muddaththir
  75. 75. Al-Qiyaama
  76. 76. Al-Insaan
  77. 77. Al-Mursalaat
  78. 78. An-Naba
  79. 79. An-Naazi'aat
  80. 80. Abasa
  81. 81. At-Takwir
  82. 82. Al-Infitaar
  83. 83. Al-Mutaffifin
  84. 84. Al-Inshiqaaq
  85. 85. Al-Burooj
  86. 86. At-Taariq
  87. 87. Al-A'laa
  88. 88. Al-Ghaashiya
  89. 89. Al-Fajr
  90. 90. Al-Balad
  91. 91. Ash-Shams
  92. 92. Al-Lail
  93. 93. Ad-Dhuhaa
  94. 94. Ash-Sharh
  95. 95. At-Tin
  96. 96. Al-Alaq
  97. 97. Al-Qadr
  98. 98. Al-Bayyina
  99. 99. Az-Zalzala
  100. 100. Al-Aadiyaat
  101. 101. Al-Qaari'a
  102. 102. At-Takaathur
  103. 103. Al-Asr
  104. 104. Al-Humaza
  105. 105. Al-Fil
  106. 106. Quraish
  107. 107. Al-Maa'un
  108. 108. Al-Kawthar
  109. 109. Al-Kaafiroon
  110. 110. An-Nasr
  111. 111. Al-Masad
  112. 112. Al-Ikhlaas
  113. 113. Al-Falaq
  114. 114. An-Naas

وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ سے مراد تاریخی ریکارڈ ہے۔ تاریخ کی شکل میں انسانی یاد داشت کا جو ریکارڈ جمع ہوا ہے اس میں قرآن ایک استثنائی کتاب ہے۔ اور صاحب قرآن ایک استثنائی شخصیت۔ اس استثناء کی اس کے سوا اور کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی کہ قرآن کو خدا کی کتاب مانا جائے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا پیغمبر۔ اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے،خواہ دوسرے اس کے ساتھ بُرائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق یہی دوسرا اخلاق تھا۔ اس قسم کا اخلاق ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک با اصول انسان تھے۔ آپ کی شخصیت حالات کی پیداوار نہ تھی۔ بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولوں کی پیداوار تھی۔ آپ کا یہ اعلیٰ اخلاق آپ کے اس دعوے کے عین مطابق ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ سے مراد تاریخی ریکارڈ ہے۔ تاریخ کی شکل میں انسانی یاد داشت کا جو ریکارڈ جمع ہوا ہے اس میں قرآن ایک استثنائی کتاب ہے۔ اور صاحب قرآن ایک استثنائی شخصیت۔ اس استثناء کی اس کے سوا اور کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی کہ قرآن کو خدا کی کتاب مانا جائے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا پیغمبر۔ اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے،خواہ دوسرے اس کے ساتھ بُرائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق یہی دوسرا اخلاق تھا۔ اس قسم کا اخلاق ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک با اصول انسان تھے۔ آپ کی شخصیت حالات کی پیداوار نہ تھی۔ بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولوں کی پیداوار تھی۔ آپ کا یہ اعلیٰ اخلاق آپ کے اس دعوے کے عین مطابق ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ سے مراد تاریخی ریکارڈ ہے۔ تاریخ کی شکل میں انسانی یاد داشت کا جو ریکارڈ جمع ہوا ہے اس میں قرآن ایک استثنائی کتاب ہے۔ اور صاحب قرآن ایک استثنائی شخصیت۔ اس استثناء کی اس کے سوا اور کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی کہ قرآن کو خدا کی کتاب مانا جائے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا پیغمبر۔ اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے،خواہ دوسرے اس کے ساتھ بُرائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق یہی دوسرا اخلاق تھا۔ اس قسم کا اخلاق ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک با اصول انسان تھے۔ آپ کی شخصیت حالات کی پیداوار نہ تھی۔ بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولوں کی پیداوار تھی۔ آپ کا یہ اعلیٰ اخلاق آپ کے اس دعوے کے عین مطابق ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔original + quote

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

خدا سے نہ ڈرنے والا آدمی صرف سامنے کی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں خد اسے ڈرنے والا وہ ہے جو غیبی حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہوجائے۔ یہ دو بالکل الگ الگ کردار ہیں اور دونوں کا انجام یقینی طور پر یکساں نہیں ہوسکتا۔

خدا سے نہ ڈرنے والا آدمی صرف سامنے کی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں خد اسے ڈرنے والا وہ ہے جو غیبی حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہوجائے۔ یہ دو بالکل الگ الگ کردار ہیں اور دونوں کا انجام یقینی طور پر یکساں نہیں ہوسکتا۔

خدا سے نہ ڈرنے والا آدمی صرف سامنے کی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں خد اسے ڈرنے والا وہ ہے جو غیبی حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہوجائے۔ یہ دو بالکل الگ الگ کردار ہیں اور دونوں کا انجام یقینی طور پر یکساں نہیں ہوسکتا۔

خدا سے نہ ڈرنے والا آدمی صرف سامنے کی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں خد اسے ڈرنے والا وہ ہے جو غیبی حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہوجائے۔ یہ دو بالکل الگ الگ کردار ہیں اور دونوں کا انجام یقینی طور پر یکساں نہیں ہوسکتا۔

خدا سے نہ ڈرنے والا آدمی صرف سامنے کی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں خد اسے ڈرنے والا وہ ہے جو غیبی حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہوجائے۔ یہ دو بالکل الگ الگ کردار ہیں اور دونوں کا انجام یقینی طور پر یکساں نہیں ہوسکتا۔

خدا سے نہ ڈرنے والا آدمی صرف سامنے کی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں خد اسے ڈرنے والا وہ ہے جو غیبی حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہوجائے۔ یہ دو بالکل الگ الگ کردار ہیں اور دونوں کا انجام یقینی طور پر یکساں نہیں ہوسکتا۔

وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ سے مراد تاریخی ریکارڈ ہے۔ تاریخ کی شکل میں انسانی یاد داشت کا جو ریکارڈ جمع ہوا ہے اس میں قرآن ایک استثنائی کتاب ہے۔ اور صاحب قرآن ایک استثنائی شخصیت۔ اس استثناء کی اس کے سوا اور کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی کہ قرآن کو خدا کی کتاب مانا جائے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا پیغمبر۔ اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے،خواہ دوسرے اس کے ساتھ بُرائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق یہی دوسرا اخلاق تھا۔ اس قسم کا اخلاق ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک با اصول انسان تھے۔ آپ کی شخصیت حالات کی پیداوار نہ تھی۔ بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولوں کی پیداوار تھی۔ آپ کا یہ اعلیٰ اخلاق آپ کے اس دعوے کے عین مطابق ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔

خدا سے نہ ڈرنے والا آدمی صرف سامنے کی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں خد اسے ڈرنے والا وہ ہے جو غیبی حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہوجائے۔ یہ دو بالکل الگ الگ کردار ہیں اور دونوں کا انجام یقینی طور پر یکساں نہیں ہوسکتا۔

خدا سے نہ ڈرنے والا آدمی صرف سامنے کی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں خد اسے ڈرنے والا وہ ہے جو غیبی حقیقت کے بارے میں سنجیدہ ہوجائے۔ یہ دو بالکل الگ الگ کردار ہیں اور دونوں کا انجام یقینی طور پر یکساں نہیں ہوسکتا۔

قیامت میں جب خدا اعیاناً سامنے آجائے گا تو تمام ایمان والے لوگ اپنے رب کے سامنے سجدہ میں گر جائیں گے جس طرح وہ پچھلی زندگی میں اس کے آگے سجدہ میں گرے ہوئے تھے۔ مگر ظہورِ خداوندی کے وقت سجدہ کی یہ توفیق صرف سچے مومنین کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ دنیا میں جھوٹا سجدہ کرتے تھے ان کی کمر اس وقت اکڑ جائے گی جس طرح باعتبار حقیقت وہ دنیا میں اکڑی ہوئی تھی۔ ایسے لوگ سجدہ کرنا چاہیں گے مگر وہ سجدہ نہ کرسکیں گے۔ یہ مخلص اہل ایمان کی سب سے بڑی قدردانی ہوگی کہ خدا خود ظاہر ہو کر ان کا سجدہ قبول کرے۔ اس کے مقابلہ میں ایمان کا جھوٹا دعوی کرنے والوں کے لیے یہ سب سے زیادہ رسوائی کا لمحہ ہوگا کہ ان کا خالق و مالک ان کے سامنے ہے اور وہ اس کے سامنے اپنی بندگی کا اقرار کرنے پر قادر نہیں۔

قیامت میں جب خدا اعیاناً سامنے آجائے گا تو تمام ایمان والے لوگ اپنے رب کے سامنے سجدہ میں گر جائیں گے جس طرح وہ پچھلی زندگی میں اس کے آگے سجدہ میں گرے ہوئے تھے۔ مگر ظہورِ خداوندی کے وقت سجدہ کی یہ توفیق صرف سچے مومنین کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ دنیا میں جھوٹا سجدہ کرتے تھے ان کی کمر اس وقت اکڑ جائے گی جس طرح باعتبار حقیقت وہ دنیا میں اکڑی ہوئی تھی۔ ایسے لوگ سجدہ کرنا چاہیں گے مگر وہ سجدہ نہ کرسکیں گے۔ یہ مخلص اہل ایمان کی سب سے بڑی قدردانی ہوگی کہ خدا خود ظاہر ہو کر ان کا سجدہ قبول کرے۔ اس کے مقابلہ میں ایمان کا جھوٹا دعوی کرنے والوں کے لیے یہ سب سے زیادہ رسوائی کا لمحہ ہوگا کہ ان کا خالق و مالک ان کے سامنے ہے اور وہ اس کے سامنے اپنی بندگی کا اقرار کرنے پر قادر نہیں۔

قیامت میں جب خدا اعیاناً سامنے آجائے گا تو تمام ایمان والے لوگ اپنے رب کے سامنے سجدہ میں گر جائیں گے جس طرح وہ پچھلی زندگی میں اس کے آگے سجدہ میں گرے ہوئے تھے۔ مگر ظہورِ خداوندی کے وقت سجدہ کی یہ توفیق صرف سچے مومنین کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ دنیا میں جھوٹا سجدہ کرتے تھے ان کی کمر اس وقت اکڑ جائے گی جس طرح باعتبار حقیقت وہ دنیا میں اکڑی ہوئی تھی۔ ایسے لوگ سجدہ کرنا چاہیں گے مگر وہ سجدہ نہ کرسکیں گے۔ یہ مخلص اہل ایمان کی سب سے بڑی قدردانی ہوگی کہ خدا خود ظاہر ہو کر ان کا سجدہ قبول کرے۔ اس کے مقابلہ میں ایمان کا جھوٹا دعوی کرنے والوں کے لیے یہ سب سے زیادہ رسوائی کا لمحہ ہوگا کہ ان کا خالق و مالک ان کے سامنے ہے اور وہ اس کے سامنے اپنی بندگی کا اقرار کرنے پر قادر نہیں۔

قیامت میں جب خدا اعیاناً سامنے آجائے گا تو تمام ایمان والے لوگ اپنے رب کے سامنے سجدہ میں گر جائیں گے جس طرح وہ پچھلی زندگی میں اس کے آگے سجدہ میں گرے ہوئے تھے۔ مگر ظہورِ خداوندی کے وقت سجدہ کی یہ توفیق صرف سچے مومنین کو حاصل ہوگی۔ جو لوگ دنیا میں جھوٹا سجدہ کرتے تھے ان کی کمر اس وقت اکڑ جائے گی جس طرح باعتبار حقیقت وہ دنیا میں اکڑی ہوئی تھی۔ ایسے لوگ سجدہ کرنا چاہیں گے مگر وہ سجدہ نہ کرسکیں گے۔ یہ مخلص اہل ایمان کی سب سے بڑی قدردانی ہوگی کہ خدا خود ظاہر ہو کر ان کا سجدہ قبول کرے۔ اس کے مقابلہ میں ایمان کا جھوٹا دعوی کرنے والوں کے لیے یہ سب سے زیادہ رسوائی کا لمحہ ہوگا کہ ان کا خالق و مالک ان کے سامنے ہے اور وہ اس کے سامنے اپنی بندگی کا اقرار کرنے پر قادر نہیں۔

داعی اور مدعو کا رشتہ بے حد نازک رشتہ ہے۔ داعی کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو حسن اخلاق کا پابند بنانا پڑتا ہے۔ مدعو بے دلیل باتیں کرے، وہ داعی کو حقیر سمجھے، وہ داعی پر جھوٹا الزام لگائے۔ وہ خواہ کچھ بھی کرے، داعی کو ہرحال میں اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچانا ہے۔ داعی کی کامیابی کا راز دو چیزوں میں چھپا ہوا ہے— مدعو کی زیادتیوں پر صبر اور مدعو سے کوئی مادی غرض نہ رکھنا۔

داعی اور مدعو کا رشتہ بے حد نازک رشتہ ہے۔ داعی کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو حسن اخلاق کا پابند بنانا پڑتا ہے۔ مدعو بے دلیل باتیں کرے، وہ داعی کو حقیر سمجھے، وہ داعی پر جھوٹا الزام لگائے۔ وہ خواہ کچھ بھی کرے، داعی کو ہرحال میں اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچانا ہے۔ داعی کی کامیابی کا راز دو چیزوں میں چھپا ہوا ہے— مدعو کی زیادتیوں پر صبر اور مدعو سے کوئی مادی غرض نہ رکھنا۔

داعی اور مدعو کا رشتہ بے حد نازک رشتہ ہے۔ داعی کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو حسن اخلاق کا پابند بنانا پڑتا ہے۔ مدعو بے دلیل باتیں کرے، وہ داعی کو حقیر سمجھے، وہ داعی پر جھوٹا الزام لگائے۔ وہ خواہ کچھ بھی کرے، داعی کو ہرحال میں اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچانا ہے۔ داعی کی کامیابی کا راز دو چیزوں میں چھپا ہوا ہے— مدعو کی زیادتیوں پر صبر اور مدعو سے کوئی مادی غرض نہ رکھنا۔

داعی اور مدعو کا رشتہ بے حد نازک رشتہ ہے۔ داعی کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو حسن اخلاق کا پابند بنانا پڑتا ہے۔ مدعو بے دلیل باتیں کرے، وہ داعی کو حقیر سمجھے، وہ داعی پر جھوٹا الزام لگائے۔ وہ خواہ کچھ بھی کرے، داعی کو ہرحال میں اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچانا ہے۔ داعی کی کامیابی کا راز دو چیزوں میں چھپا ہوا ہے— مدعو کی زیادتیوں پر صبر اور مدعو سے کوئی مادی غرض نہ رکھنا۔

وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ سے مراد تاریخی ریکارڈ ہے۔ تاریخ کی شکل میں انسانی یاد داشت کا جو ریکارڈ جمع ہوا ہے اس میں قرآن ایک استثنائی کتاب ہے۔ اور صاحب قرآن ایک استثنائی شخصیت۔ اس استثناء کی اس کے سوا اور کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی کہ قرآن کو خدا کی کتاب مانا جائے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا پیغمبر۔ اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے،خواہ دوسرے اس کے ساتھ بُرائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق یہی دوسرا اخلاق تھا۔ اس قسم کا اخلاق ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک با اصول انسان تھے۔ آپ کی شخصیت حالات کی پیداوار نہ تھی۔ بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولوں کی پیداوار تھی۔ آپ کا یہ اعلیٰ اخلاق آپ کے اس دعوے کے عین مطابق ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔

داعی اور مدعو کا رشتہ بے حد نازک رشتہ ہے۔ داعی کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو حسن اخلاق کا پابند بنانا پڑتا ہے۔ مدعو بے دلیل باتیں کرے، وہ داعی کو حقیر سمجھے، وہ داعی پر جھوٹا الزام لگائے۔ وہ خواہ کچھ بھی کرے، داعی کو ہرحال میں اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچانا ہے۔ داعی کی کامیابی کا راز دو چیزوں میں چھپا ہوا ہے— مدعو کی زیادتیوں پر صبر اور مدعو سے کوئی مادی غرض نہ رکھنا۔

داعی اور مدعو کا رشتہ بے حد نازک رشتہ ہے۔ داعی کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو حسن اخلاق کا پابند بنانا پڑتا ہے۔ مدعو بے دلیل باتیں کرے، وہ داعی کو حقیر سمجھے، وہ داعی پر جھوٹا الزام لگائے۔ وہ خواہ کچھ بھی کرے، داعی کو ہرحال میں اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچانا ہے۔ داعی کی کامیابی کا راز دو چیزوں میں چھپا ہوا ہے— مدعو کی زیادتیوں پر صبر اور مدعو سے کوئی مادی غرض نہ رکھنا۔

داعی اور مدعو کا رشتہ بے حد نازک رشتہ ہے۔ داعی کو یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو حسن اخلاق کا پابند بنانا پڑتا ہے۔ مدعو بے دلیل باتیں کرے، وہ داعی کو حقیر سمجھے، وہ داعی پر جھوٹا الزام لگائے۔ وہ خواہ کچھ بھی کرے، داعی کو ہرحال میں اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچانا ہے۔ داعی کی کامیابی کا راز دو چیزوں میں چھپا ہوا ہے— مدعو کی زیادتیوں پر صبر اور مدعو سے کوئی مادی غرض نہ رکھنا۔

وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ سے مراد تاریخی ریکارڈ ہے۔ تاریخ کی شکل میں انسانی یاد داشت کا جو ریکارڈ جمع ہوا ہے اس میں قرآن ایک استثنائی کتاب ہے۔ اور صاحب قرآن ایک استثنائی شخصیت۔ اس استثناء کی اس کے سوا اور کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی کہ قرآن کو خدا کی کتاب مانا جائے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا پیغمبر۔ اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے،خواہ دوسرے اس کے ساتھ بُرائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق یہی دوسرا اخلاق تھا۔ اس قسم کا اخلاق ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک با اصول انسان تھے۔ آپ کی شخصیت حالات کی پیداوار نہ تھی۔ بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولوں کی پیداوار تھی۔ آپ کا یہ اعلیٰ اخلاق آپ کے اس دعوے کے عین مطابق ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔

وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ سے مراد تاریخی ریکارڈ ہے۔ تاریخ کی شکل میں انسانی یاد داشت کا جو ریکارڈ جمع ہوا ہے اس میں قرآن ایک استثنائی کتاب ہے۔ اور صاحب قرآن ایک استثنائی شخصیت۔ اس استثناء کی اس کے سوا اور کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی کہ قرآن کو خدا کی کتاب مانا جائے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا پیغمبر۔ اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے،خواہ دوسرے اس کے ساتھ بُرائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق یہی دوسرا اخلاق تھا۔ اس قسم کا اخلاق ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک با اصول انسان تھے۔ آپ کی شخصیت حالات کی پیداوار نہ تھی۔ بلکہ خود اپنے اعلیٰ اصولوں کی پیداوار تھی۔ آپ کا یہ اعلیٰ اخلاق آپ کے اس دعوے کے عین مطابق ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔

اس دنیا میں آدمی جو کچھ کماتا ہے۔ وہ بظاہر کھیت سے یا اور کسی چیز سے ملتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر حقیقۃً وہ خدا کا دیا ہوا ہوتا ہے۔ جو شخص اس کو خدا کا عطیہ سمجھے اور اس میں دوسرے بندگان خدا کا حصہ نکالے اس کی کمائی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائے گا۔ اور جو شخص اپنی کمائی کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھے اور دوسروں کا حق انہیں دینے پر راضی نہ ہو۔ اس کی کمائی اس کو فائدہ نہ دے سکے گی۔ یہ خدا کا اٹل قانون ہے۔ کبھی وہ کسی کے لیے دنیا میں بھی ظاہر ہوجاتا ہے اور آخرت میں تو لازماً وہ ہر ایک کے حق میں ظاہر ہوگا۔