Tazkirul Quran (Urdu)

67. Al-Mulk

Tazkirul Quran (Urdu) — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (114 chapters)
  1. 1. Al-Faatiha
  2. 2. Al-Baqara
  3. 3. Aal-i-Imraan
  4. 4. An-Nisaa
  5. 5. Al-Maaida
  6. 6. Al-An'aam
  7. 7. Al-A'raaf
  8. 8. Al-Anfaal
  9. 9. At-Tawba
  10. 10. Yunus
  11. 11. Hud
  12. 12. Yusuf
  13. 13. Ar-Ra'd
  14. 14. Ibrahim
  15. 15. Al-Hijr
  16. 16. An-Nahl
  17. 17. Al-Israa
  18. 18. Al-Kahf
  19. 19. Maryam
  20. 20. Taa-Haa
  21. 21. Al-Anbiyaa
  22. 22. Al-Hajj
  23. 23. Al-Muminoon
  24. 24. An-Noor
  25. 25. Al-Furqaan
  26. 26. Ash-Shu'araa
  27. 27. An-Naml
  28. 28. Al-Qasas
  29. 29. Al-Ankaboot
  30. 30. Ar-Room
  31. 31. Luqman
  32. 32. As-Sajda
  33. 33. Al-Ahzaab
  34. 34. Saba
  35. 35. Faatir
  36. 36. Yaseen
  37. 37. As-Saaffaat
  38. 38. Saad
  39. 39. Az-Zumar
  40. 40. Ghafir
  41. 41. Fussilat
  42. 42. Ash-Shura
  43. 43. Az-Zukhruf
  44. 44. Ad-Dukhaan
  45. 45. Al-Jaathiya
  46. 46. Al-Ahqaf
  47. 47. Muhammad
  48. 48. Al-Fath
  49. 49. Al-Hujuraat
  50. 50. Qaaf
  51. 51. Adh-Dhaariyat
  52. 52. At-Tur
  53. 53. An-Najm
  54. 54. Al-Qamar
  55. 55. Ar-Rahmaan
  56. 56. Al-Waaqia
  57. 57. Al-Hadid
  58. 58. Al-Mujaadila
  59. 59. Al-Hashr
  60. 60. Al-Mumtahana
  61. 61. As-Saff
  62. 62. Al-Jumu'a
  63. 63. Al-Munaafiqoon
  64. 64. At-Taghaabun
  65. 65. At-Talaaq
  66. 66. At-Tahrim
  67. 67. Al-Mulk
  68. 68. Al-Qalam
  69. 69. Al-Haaqqa
  70. 70. Al-Ma'aarij
  71. 71. Nooh
  72. 72. Al-Jinn
  73. 73. Al-Muzzammil
  74. 74. Al-Muddaththir
  75. 75. Al-Qiyaama
  76. 76. Al-Insaan
  77. 77. Al-Mursalaat
  78. 78. An-Naba
  79. 79. An-Naazi'aat
  80. 80. Abasa
  81. 81. At-Takwir
  82. 82. Al-Infitaar
  83. 83. Al-Mutaffifin
  84. 84. Al-Inshiqaaq
  85. 85. Al-Burooj
  86. 86. At-Taariq
  87. 87. Al-A'laa
  88. 88. Al-Ghaashiya
  89. 89. Al-Fajr
  90. 90. Al-Balad
  91. 91. Ash-Shams
  92. 92. Al-Lail
  93. 93. Ad-Dhuhaa
  94. 94. Ash-Sharh
  95. 95. At-Tin
  96. 96. Al-Alaq
  97. 97. Al-Qadr
  98. 98. Al-Bayyina
  99. 99. Az-Zalzala
  100. 100. Al-Aadiyaat
  101. 101. Al-Qaari'a
  102. 102. At-Takaathur
  103. 103. Al-Asr
  104. 104. Al-Humaza
  105. 105. Al-Fil
  106. 106. Quraish
  107. 107. Al-Maa'un
  108. 108. Al-Kawthar
  109. 109. Al-Kaafiroon
  110. 110. An-Nasr
  111. 111. Al-Masad
  112. 112. Al-Ikhlaas
  113. 113. Al-Falaq
  114. 114. An-Naas

جب ایک شخص موجودہ دنیا کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کو یہاں ایک تضاد نظر آتا ہے۔ انسان کے سوا جو بقیہ کائنات ہے وہ انتہائی حد تک منظم اور کامل ہے۔ اس میں کہیں کوئی نقص نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس، انسانی زندگی میں ظلم و فساد نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ انسان کی علیحدہ نوعیت ہے۔ انسان اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ امتحان لازمی طور پر عمل کی آزادی چاہتا ہے۔ اسی عمل کی آزادی نے انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ دنیا میں ظلم و فساد کرسکے۔ انسانی دنیا کا ظلم انسانی آزادی کی قیمت ہے۔ اگر یہ حالات نہ ہوں تو ان قیمتی انسانوں کا انتخاب کیسے کیا جائے گا جنہوں نے ظلم کے مواقع پاتے ہوئے ظلم نہیں کیا۔ جنہوں نے سرکشی کی طاقت رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو سرکشی سے بچایا۔

آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔

آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔

آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔

آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔

آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔

زمین پر ہر چیز نہایت توازن کی حالت میں ہے۔ اسی توازن نے زمین کو انسان کے لیے قابلِ رہائش بنا رکھا ہے۔ اس توازن میں اگر معمولی سا بھی فرق پڑجائے تو انسان کی زندگی برباد ہو کر رہ جائے۔ جو متوازن دنیا میں ہمیں حاصل ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا، اور توازن ٹوٹنے کی صورت میں جو تباہ کن حالات پیدا ہوسکتے ہیں اس کے لیے اللہ سے پناہ مانگنا، یہی وہ چیز ہے جو انسان سے اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔

زمین پر ہر چیز نہایت توازن کی حالت میں ہے۔ اسی توازن نے زمین کو انسان کے لیے قابلِ رہائش بنا رکھا ہے۔ اس توازن میں اگر معمولی سا بھی فرق پڑجائے تو انسان کی زندگی برباد ہو کر رہ جائے۔ جو متوازن دنیا میں ہمیں حاصل ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا، اور توازن ٹوٹنے کی صورت میں جو تباہ کن حالات پیدا ہوسکتے ہیں اس کے لیے اللہ سے پناہ مانگنا، یہی وہ چیز ہے جو انسان سے اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔

زمین پر ہر چیز نہایت توازن کی حالت میں ہے۔ اسی توازن نے زمین کو انسان کے لیے قابلِ رہائش بنا رکھا ہے۔ اس توازن میں اگر معمولی سا بھی فرق پڑجائے تو انسان کی زندگی برباد ہو کر رہ جائے۔ جو متوازن دنیا میں ہمیں حاصل ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا، اور توازن ٹوٹنے کی صورت میں جو تباہ کن حالات پیدا ہوسکتے ہیں اس کے لیے اللہ سے پناہ مانگنا، یہی وہ چیز ہے جو انسان سے اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔

زمین پر ہر چیز نہایت توازن کی حالت میں ہے۔ اسی توازن نے زمین کو انسان کے لیے قابلِ رہائش بنا رکھا ہے۔ اس توازن میں اگر معمولی سا بھی فرق پڑجائے تو انسان کی زندگی برباد ہو کر رہ جائے۔ جو متوازن دنیا میں ہمیں حاصل ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا، اور توازن ٹوٹنے کی صورت میں جو تباہ کن حالات پیدا ہوسکتے ہیں اس کے لیے اللہ سے پناہ مانگنا، یہی وہ چیز ہے جو انسان سے اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔

پرندوں کا فضا میں اڑنا، رزق کا زمین سے نکلنا اور اس طرح کے دوسرے واقعات اتنہائی حیرت انگیز ہیں۔ آدمی ان واقعات پر غور کرے تو وہ خدائی احساس میں گم ہوجائے۔ مگر انسان اتنا غافل ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں خدا سے سرکشی کرتا ہے جہاں اس کے چاروں طرف پھیلی ہوئی چیزیں اس کو صرف خدا کی اطاعت کا سبق دے رہی ہیں۔

جب ایک شخص موجودہ دنیا کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کو یہاں ایک تضاد نظر آتا ہے۔ انسان کے سوا جو بقیہ کائنات ہے وہ انتہائی حد تک منظم اور کامل ہے۔ اس میں کہیں کوئی نقص نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس، انسانی زندگی میں ظلم و فساد نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ انسان کی علیحدہ نوعیت ہے۔ انسان اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ امتحان لازمی طور پر عمل کی آزادی چاہتا ہے۔ اسی عمل کی آزادی نے انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ دنیا میں ظلم و فساد کرسکے۔ انسانی دنیا کا ظلم انسانی آزادی کی قیمت ہے۔ اگر یہ حالات نہ ہوں تو ان قیمتی انسانوں کا انتخاب کیسے کیا جائے گا جنہوں نے ظلم کے مواقع پاتے ہوئے ظلم نہیں کیا۔ جنہوں نے سرکشی کی طاقت رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو سرکشی سے بچایا۔

پرندوں کا فضا میں اڑنا، رزق کا زمین سے نکلنا اور اس طرح کے دوسرے واقعات اتنہائی حیرت انگیز ہیں۔ آدمی ان واقعات پر غور کرے تو وہ خدائی احساس میں گم ہوجائے۔ مگر انسان اتنا غافل ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں خدا سے سرکشی کرتا ہے جہاں اس کے چاروں طرف پھیلی ہوئی چیزیں اس کو صرف خدا کی اطاعت کا سبق دے رہی ہیں۔

پرندوں کا فضا میں اڑنا، رزق کا زمین سے نکلنا اور اس طرح کے دوسرے واقعات اتنہائی حیرت انگیز ہیں۔ آدمی ان واقعات پر غور کرے تو وہ خدائی احساس میں گم ہوجائے۔ مگر انسان اتنا غافل ہے کہ وہ ایک ایسی دنیا میں خدا سے سرکشی کرتا ہے جہاں اس کے چاروں طرف پھیلی ہوئی چیزیں اس کو صرف خدا کی اطاعت کا سبق دے رہی ہیں۔

انسان کو سننے اور دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ اب کوئی انسان وہ ہے کہ جو کچھ سنا اسی پر چل پڑا، جو دیکھا اس کو بس اس کے ظاہر کے اعتبار سے مان لیا۔ جو بات ایک بار ذہن میں آگئی اسی پر جم گیا۔ یہ انسان وہ ہے جو جانور کی طرح سرجھکائے ہوئے بس ایک ڈگر پر چلا جا رہا ہے۔ دوسرا انسان وہ ہے جو سنی ہوئی بات کی تحقیق کرے۔ جو دیکھی ہوئی بات کو مزید زیادہ صحت کے ساتھ جاننے کی کوشش کرے۔ جو اپنے ذاتی خول سے باہر نکل کر سچائی کو دریافت کرے۔ یہ دوسرا انسان وہ ہے جو سیدھا ہو کر ایک ہموار راستہ پر چلا جا رہا ہے— سمع و بصر و فواد کی صلاحیت آدمی کو اس لیے دی گئی ہے کہ وہ حق کو پہچانے، نہ یہ کہ وہ اندھے بہرے کی طرح اس سے بے خبر رہے۔

انسان کو سننے اور دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ اب کوئی انسان وہ ہے کہ جو کچھ سنا اسی پر چل پڑا، جو دیکھا اس کو بس اس کے ظاہر کے اعتبار سے مان لیا۔ جو بات ایک بار ذہن میں آگئی اسی پر جم گیا۔ یہ انسان وہ ہے جو جانور کی طرح سرجھکائے ہوئے بس ایک ڈگر پر چلا جا رہا ہے۔ دوسرا انسان وہ ہے جو سنی ہوئی بات کی تحقیق کرے۔ جو دیکھی ہوئی بات کو مزید زیادہ صحت کے ساتھ جاننے کی کوشش کرے۔ جو اپنے ذاتی خول سے باہر نکل کر سچائی کو دریافت کرے۔ یہ دوسرا انسان وہ ہے جو سیدھا ہو کر ایک ہموار راستہ پر چلا جا رہا ہے— سمع و بصر و فواد کی صلاحیت آدمی کو اس لیے دی گئی ہے کہ وہ حق کو پہچانے، نہ یہ کہ وہ اندھے بہرے کی طرح اس سے بے خبر رہے۔

انسان کو سننے اور دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ اب کوئی انسان وہ ہے کہ جو کچھ سنا اسی پر چل پڑا، جو دیکھا اس کو بس اس کے ظاہر کے اعتبار سے مان لیا۔ جو بات ایک بار ذہن میں آگئی اسی پر جم گیا۔ یہ انسان وہ ہے جو جانور کی طرح سرجھکائے ہوئے بس ایک ڈگر پر چلا جا رہا ہے۔ دوسرا انسان وہ ہے جو سنی ہوئی بات کی تحقیق کرے۔ جو دیکھی ہوئی بات کو مزید زیادہ صحت کے ساتھ جاننے کی کوشش کرے۔ جو اپنے ذاتی خول سے باہر نکل کر سچائی کو دریافت کرے۔ یہ دوسرا انسان وہ ہے جو سیدھا ہو کر ایک ہموار راستہ پر چلا جا رہا ہے— سمع و بصر و فواد کی صلاحیت آدمی کو اس لیے دی گئی ہے کہ وہ حق کو پہچانے، نہ یہ کہ وہ اندھے بہرے کی طرح اس سے بے خبر رہے۔

مخاطب جب دلیل سے نہ مانے تو داعی یقین کا کلمہ بول کر اس کے اندرون کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ آیتیں گویا اسی قسم کے یقین کے کلمات ہیں۔ آدمی کے اندر اگر کچھ بھی احساس زندہ ہو تو یہ آخری کلمات اس کو تڑپا دیتے ہیں۔ مگر جس شخص کا احساس بالکل بجھ چکا ہو وہ کسی تدبیر سے بھی نہیں جاگتا۔ وہ ’’پانی‘‘ کی قیمت کو صرف اس وقت تسلیم کرتا ہے جب کہ اس کو پانی سے محروم کرکے صحرا میں ڈال دیا گیا ہو۔

مخاطب جب دلیل سے نہ مانے تو داعی یقین کا کلمہ بول کر اس کے اندرون کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ آیتیں گویا اسی قسم کے یقین کے کلمات ہیں۔ آدمی کے اندر اگر کچھ بھی احساس زندہ ہو تو یہ آخری کلمات اس کو تڑپا دیتے ہیں۔ مگر جس شخص کا احساس بالکل بجھ چکا ہو وہ کسی تدبیر سے بھی نہیں جاگتا۔ وہ ’’پانی‘‘ کی قیمت کو صرف اس وقت تسلیم کرتا ہے جب کہ اس کو پانی سے محروم کرکے صحرا میں ڈال دیا گیا ہو۔

مخاطب جب دلیل سے نہ مانے تو داعی یقین کا کلمہ بول کر اس کے اندرون کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ آیتیں گویا اسی قسم کے یقین کے کلمات ہیں۔ آدمی کے اندر اگر کچھ بھی احساس زندہ ہو تو یہ آخری کلمات اس کو تڑپا دیتے ہیں۔ مگر جس شخص کا احساس بالکل بجھ چکا ہو وہ کسی تدبیر سے بھی نہیں جاگتا۔ وہ ’’پانی‘‘ کی قیمت کو صرف اس وقت تسلیم کرتا ہے جب کہ اس کو پانی سے محروم کرکے صحرا میں ڈال دیا گیا ہو۔

مخاطب جب دلیل سے نہ مانے تو داعی یقین کا کلمہ بول کر اس کے اندرون کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ آیتیں گویا اسی قسم کے یقین کے کلمات ہیں۔ آدمی کے اندر اگر کچھ بھی احساس زندہ ہو تو یہ آخری کلمات اس کو تڑپا دیتے ہیں۔ مگر جس شخص کا احساس بالکل بجھ چکا ہو وہ کسی تدبیر سے بھی نہیں جاگتا۔ وہ ’’پانی‘‘ کی قیمت کو صرف اس وقت تسلیم کرتا ہے جب کہ اس کو پانی سے محروم کرکے صحرا میں ڈال دیا گیا ہو۔

مخاطب جب دلیل سے نہ مانے تو داعی یقین کا کلمہ بول کر اس کے اندرون کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ آیتیں گویا اسی قسم کے یقین کے کلمات ہیں۔ آدمی کے اندر اگر کچھ بھی احساس زندہ ہو تو یہ آخری کلمات اس کو تڑپا دیتے ہیں۔ مگر جس شخص کا احساس بالکل بجھ چکا ہو وہ کسی تدبیر سے بھی نہیں جاگتا۔ وہ ’’پانی‘‘ کی قیمت کو صرف اس وقت تسلیم کرتا ہے جب کہ اس کو پانی سے محروم کرکے صحرا میں ڈال دیا گیا ہو۔

جب ایک شخص موجودہ دنیا کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کو یہاں ایک تضاد نظر آتا ہے۔ انسان کے سوا جو بقیہ کائنات ہے وہ انتہائی حد تک منظم اور کامل ہے۔ اس میں کہیں کوئی نقص نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس، انسانی زندگی میں ظلم و فساد نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ انسان کی علیحدہ نوعیت ہے۔ انسان اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ امتحان لازمی طور پر عمل کی آزادی چاہتا ہے۔ اسی عمل کی آزادی نے انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ دنیا میں ظلم و فساد کرسکے۔ انسانی دنیا کا ظلم انسانی آزادی کی قیمت ہے۔ اگر یہ حالات نہ ہوں تو ان قیمتی انسانوں کا انتخاب کیسے کیا جائے گا جنہوں نے ظلم کے مواقع پاتے ہوئے ظلم نہیں کیا۔ جنہوں نے سرکشی کی طاقت رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو سرکشی سے بچایا۔

مخاطب جب دلیل سے نہ مانے تو داعی یقین کا کلمہ بول کر اس کے اندرون کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ آیتیں گویا اسی قسم کے یقین کے کلمات ہیں۔ آدمی کے اندر اگر کچھ بھی احساس زندہ ہو تو یہ آخری کلمات اس کو تڑپا دیتے ہیں۔ مگر جس شخص کا احساس بالکل بجھ چکا ہو وہ کسی تدبیر سے بھی نہیں جاگتا۔ وہ ’’پانی‘‘ کی قیمت کو صرف اس وقت تسلیم کرتا ہے جب کہ اس کو پانی سے محروم کرکے صحرا میں ڈال دیا گیا ہو۔

جب ایک شخص موجودہ دنیا کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کو یہاں ایک تضاد نظر آتا ہے۔ انسان کے سوا جو بقیہ کائنات ہے وہ انتہائی حد تک منظم اور کامل ہے۔ اس میں کہیں کوئی نقص نظر نہیں آتا۔ اس کے برعکس، انسانی زندگی میں ظلم و فساد نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ انسان کی علیحدہ نوعیت ہے۔ انسان اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ امتحان لازمی طور پر عمل کی آزادی چاہتا ہے۔ اسی عمل کی آزادی نے انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ دنیا میں ظلم و فساد کرسکے۔ انسانی دنیا کا ظلم انسانی آزادی کی قیمت ہے۔ اگر یہ حالات نہ ہوں تو ان قیمتی انسانوں کا انتخاب کیسے کیا جائے گا جنہوں نے ظلم کے مواقع پاتے ہوئے ظلم نہیں کیا۔ جنہوں نے سرکشی کی طاقت رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو سرکشی سے بچایا۔

آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔

آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔

آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔

آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔

آخرت کے عذاب کا موجودہ دنیا میں ناقابلِ مشاہدہ ہونا عین خدائی منصوبہ کے مطابق ہے۔ خدا کو ان انسانوں کا انتخاب کرنا ہے جو بن دیکھے اس کی عظمت کو مانیں، جو بن دیکھے اس کے فرمان بردار بن جائیں۔ اور ایسے لوگوں کا اندازہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ لوگوں کے اخروی انجام کو ان کی نگاہوں سے اوجھل رکھا جائے، تاکہ آدمی جو کچھ کرے اپنے آزاد ارادہ کے تحت کرے، نہ کہ مجبورانہ حکم کے تحت۔