Tazkirul Quran (Urdu)

57. Al-Hadid

Tazkirul Quran (Urdu) — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (114 chapters)
  1. 1. Al-Faatiha
  2. 2. Al-Baqara
  3. 3. Aal-i-Imraan
  4. 4. An-Nisaa
  5. 5. Al-Maaida
  6. 6. Al-An'aam
  7. 7. Al-A'raaf
  8. 8. Al-Anfaal
  9. 9. At-Tawba
  10. 10. Yunus
  11. 11. Hud
  12. 12. Yusuf
  13. 13. Ar-Ra'd
  14. 14. Ibrahim
  15. 15. Al-Hijr
  16. 16. An-Nahl
  17. 17. Al-Israa
  18. 18. Al-Kahf
  19. 19. Maryam
  20. 20. Taa-Haa
  21. 21. Al-Anbiyaa
  22. 22. Al-Hajj
  23. 23. Al-Muminoon
  24. 24. An-Noor
  25. 25. Al-Furqaan
  26. 26. Ash-Shu'araa
  27. 27. An-Naml
  28. 28. Al-Qasas
  29. 29. Al-Ankaboot
  30. 30. Ar-Room
  31. 31. Luqman
  32. 32. As-Sajda
  33. 33. Al-Ahzaab
  34. 34. Saba
  35. 35. Faatir
  36. 36. Yaseen
  37. 37. As-Saaffaat
  38. 38. Saad
  39. 39. Az-Zumar
  40. 40. Ghafir
  41. 41. Fussilat
  42. 42. Ash-Shura
  43. 43. Az-Zukhruf
  44. 44. Ad-Dukhaan
  45. 45. Al-Jaathiya
  46. 46. Al-Ahqaf
  47. 47. Muhammad
  48. 48. Al-Fath
  49. 49. Al-Hujuraat
  50. 50. Qaaf
  51. 51. Adh-Dhaariyat
  52. 52. At-Tur
  53. 53. An-Najm
  54. 54. Al-Qamar
  55. 55. Ar-Rahmaan
  56. 56. Al-Waaqia
  57. 57. Al-Hadid
  58. 58. Al-Mujaadila
  59. 59. Al-Hashr
  60. 60. Al-Mumtahana
  61. 61. As-Saff
  62. 62. Al-Jumu'a
  63. 63. Al-Munaafiqoon
  64. 64. At-Taghaabun
  65. 65. At-Talaaq
  66. 66. At-Tahrim
  67. 67. Al-Mulk
  68. 68. Al-Qalam
  69. 69. Al-Haaqqa
  70. 70. Al-Ma'aarij
  71. 71. Nooh
  72. 72. Al-Jinn
  73. 73. Al-Muzzammil
  74. 74. Al-Muddaththir
  75. 75. Al-Qiyaama
  76. 76. Al-Insaan
  77. 77. Al-Mursalaat
  78. 78. An-Naba
  79. 79. An-Naazi'aat
  80. 80. Abasa
  81. 81. At-Takwir
  82. 82. Al-Infitaar
  83. 83. Al-Mutaffifin
  84. 84. Al-Inshiqaaq
  85. 85. Al-Burooj
  86. 86. At-Taariq
  87. 87. Al-A'laa
  88. 88. Al-Ghaashiya
  89. 89. Al-Fajr
  90. 90. Al-Balad
  91. 91. Ash-Shams
  92. 92. Al-Lail
  93. 93. Ad-Dhuhaa
  94. 94. Ash-Sharh
  95. 95. At-Tin
  96. 96. Al-Alaq
  97. 97. Al-Qadr
  98. 98. Al-Bayyina
  99. 99. Az-Zalzala
  100. 100. Al-Aadiyaat
  101. 101. Al-Qaari'a
  102. 102. At-Takaathur
  103. 103. Al-Asr
  104. 104. Al-Humaza
  105. 105. Al-Fil
  106. 106. Quraish
  107. 107. Al-Maa'un
  108. 108. Al-Kawthar
  109. 109. Al-Kaafiroon
  110. 110. An-Nasr
  111. 111. Al-Masad
  112. 112. Al-Ikhlaas
  113. 113. Al-Falaq
  114. 114. An-Naas

کائنات زبانِ حال سے اپنے خالق کی جن صفات کی خبر دے رہی ہے، قرآن میں انہیں صفات کو الفاظ کی صورت دے دی گئی ہے۔ یہاں جب ایک چیز ظاہر ہوتی ہے تو وہ عمل کی زبان میں کہہ رہی ہوتی ہے کہ کوئی اس کا ظاہر کرنے والا ہے۔ اور جب وہ چیز ختم ہوتی ہے تو وہ اس بات کا عملی اعلان کر رہی ہوتی ہے کہ کوئی اس کا ختم کرنے والا ہے۔ اسی طرح دوسری تمام صفتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اگر خدا کی عملی تسبیح ہے تو قرآن خدا کی لفظی تسبیح۔

سچا اسلام جب ماحول میں اجنبی ہو، اس وقت سچے اسلام کی طرف بڑھنا اپنے آپ کو آزمائش میں ڈالنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس وقت اسلام کی حقیقت پر شبہات کے پردے پڑے ہوتے ہیں۔ اس وقت اسلام کی راہ میں خرچ کرنا ایسا ہوتا ہے گویا امید موہوم پر کسی کو قرض دینا۔ شک اور تردد کی فضا ہر طرف لوگوں کو گھیرے ہوئے ہوتی ہے۔ خدا کے وعدوں کے مقابلہ میں لوگوں کو اپنے سامنے کے فائدے زیادہ یقینی معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں اپنی جان و مال کو اسلام کے حوالہ کرنا زبردست قوت فیصلہ چاہتا ہے۔ ایسے وقت میں وہی شخص آگے بڑھنے کی ہمت کرتا ہے جو عقل و بصیرت کی طاقت سے چیزوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جو لوگ دنیا میں اس بصیرت کا ثبوت دیں ان کی بصیرت قیامت کے دن ان کے لیے روشنی بن جائے گی جس میں وہ وہاں کے مشکل مراحل میں اپنا سفر طے کرسکیں۔ جو بصیرت دنیا میں ان کی رہنما بنی تھی وہی بصیرت آخرت میں بھی اللہ کی مدد سے ان کے لیے رہنما کا کام انجام دے گی۔

سچا اسلام جب ماحول میں اجنبی ہو، اس وقت سچے اسلام کی طرف بڑھنا اپنے آپ کو آزمائش میں ڈالنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس وقت اسلام کی حقیقت پر شبہات کے پردے پڑے ہوتے ہیں۔ اس وقت اسلام کی راہ میں خرچ کرنا ایسا ہوتا ہے گویا امید موہوم پر کسی کو قرض دینا۔ شک اور تردد کی فضا ہر طرف لوگوں کو گھیرے ہوئے ہوتی ہے۔ خدا کے وعدوں کے مقابلہ میں لوگوں کو اپنے سامنے کے فائدے زیادہ یقینی معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں اپنی جان و مال کو اسلام کے حوالہ کرنا زبردست قوت فیصلہ چاہتا ہے۔ ایسے وقت میں وہی شخص آگے بڑھنے کی ہمت کرتا ہے جو عقل و بصیرت کی طاقت سے چیزوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جو لوگ دنیا میں اس بصیرت کا ثبوت دیں ان کی بصیرت قیامت کے دن ان کے لیے روشنی بن جائے گی جس میں وہ وہاں کے مشکل مراحل میں اپنا سفر طے کرسکیں۔ جو بصیرت دنیا میں ان کی رہنما بنی تھی وہی بصیرت آخرت میں بھی اللہ کی مدد سے ان کے لیے رہنما کا کام انجام دے گی۔

سچا اسلام جب ماحول میں اجنبی ہو، اس وقت سچے اسلام کی طرف بڑھنا اپنے آپ کو آزمائش میں ڈالنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس وقت اسلام کی حقیقت پر شبہات کے پردے پڑے ہوتے ہیں۔ اس وقت اسلام کی راہ میں خرچ کرنا ایسا ہوتا ہے گویا امید موہوم پر کسی کو قرض دینا۔ شک اور تردد کی فضا ہر طرف لوگوں کو گھیرے ہوئے ہوتی ہے۔ خدا کے وعدوں کے مقابلہ میں لوگوں کو اپنے سامنے کے فائدے زیادہ یقینی معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں اپنی جان و مال کو اسلام کے حوالہ کرنا زبردست قوت فیصلہ چاہتا ہے۔ ایسے وقت میں وہی شخص آگے بڑھنے کی ہمت کرتا ہے جو عقل و بصیرت کی طاقت سے چیزوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جو لوگ دنیا میں اس بصیرت کا ثبوت دیں ان کی بصیرت قیامت کے دن ان کے لیے روشنی بن جائے گی جس میں وہ وہاں کے مشکل مراحل میں اپنا سفر طے کرسکیں۔ جو بصیرت دنیا میں ان کی رہنما بنی تھی وہی بصیرت آخرت میں بھی اللہ کی مدد سے ان کے لیے رہنما کا کام انجام دے گی۔

سچا اسلام جب ماحول میں اجنبی ہو، اس وقت سچے اسلام کی طرف بڑھنا اپنے آپ کو آزمائش میں ڈالنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس وقت اسلام کی حقیقت پر شبہات کے پردے پڑے ہوتے ہیں۔ اس وقت اسلام کی راہ میں خرچ کرنا ایسا ہوتا ہے گویا امید موہوم پر کسی کو قرض دینا۔ شک اور تردد کی فضا ہر طرف لوگوں کو گھیرے ہوئے ہوتی ہے۔ خدا کے وعدوں کے مقابلہ میں لوگوں کو اپنے سامنے کے فائدے زیادہ یقینی معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں اپنی جان و مال کو اسلام کے حوالہ کرنا زبردست قوت فیصلہ چاہتا ہے۔ ایسے وقت میں وہی شخص آگے بڑھنے کی ہمت کرتا ہے جو عقل و بصیرت کی طاقت سے چیزوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جو لوگ دنیا میں اس بصیرت کا ثبوت دیں ان کی بصیرت قیامت کے دن ان کے لیے روشنی بن جائے گی جس میں وہ وہاں کے مشکل مراحل میں اپنا سفر طے کرسکیں۔ جو بصیرت دنیا میں ان کی رہنما بنی تھی وہی بصیرت آخرت میں بھی اللہ کی مدد سے ان کے لیے رہنما کا کام انجام دے گی۔

سچا اسلام جب ماحول میں اجنبی ہو، اس وقت سچے اسلام کی طرف بڑھنا اپنے آپ کو آزمائش میں ڈالنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس وقت اسلام کی حقیقت پر شبہات کے پردے پڑے ہوتے ہیں۔ اس وقت اسلام کی راہ میں خرچ کرنا ایسا ہوتا ہے گویا امید موہوم پر کسی کو قرض دینا۔ شک اور تردد کی فضا ہر طرف لوگوں کو گھیرے ہوئے ہوتی ہے۔ خدا کے وعدوں کے مقابلہ میں لوگوں کو اپنے سامنے کے فائدے زیادہ یقینی معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں اپنی جان و مال کو اسلام کے حوالہ کرنا زبردست قوت فیصلہ چاہتا ہے۔ ایسے وقت میں وہی شخص آگے بڑھنے کی ہمت کرتا ہے جو عقل و بصیرت کی طاقت سے چیزوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جو لوگ دنیا میں اس بصیرت کا ثبوت دیں ان کی بصیرت قیامت کے دن ان کے لیے روشنی بن جائے گی جس میں وہ وہاں کے مشکل مراحل میں اپنا سفر طے کرسکیں۔ جو بصیرت دنیا میں ان کی رہنما بنی تھی وہی بصیرت آخرت میں بھی اللہ کی مدد سے ان کے لیے رہنما کا کام انجام دے گی۔

سچا اسلام جب ماحول میں اجنبی ہو، اس وقت سچے اسلام کی طرف بڑھنا اپنے آپ کو آزمائش میں ڈالنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس وقت اسلام کی حقیقت پر شبہات کے پردے پڑے ہوتے ہیں۔ اس وقت اسلام کی راہ میں خرچ کرنا ایسا ہوتا ہے گویا امید موہوم پر کسی کو قرض دینا۔ شک اور تردد کی فضا ہر طرف لوگوں کو گھیرے ہوئے ہوتی ہے۔ خدا کے وعدوں کے مقابلہ میں لوگوں کو اپنے سامنے کے فائدے زیادہ یقینی معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں اپنی جان و مال کو اسلام کے حوالہ کرنا زبردست قوت فیصلہ چاہتا ہے۔ ایسے وقت میں وہی شخص آگے بڑھنے کی ہمت کرتا ہے جو عقل و بصیرت کی طاقت سے چیزوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جو لوگ دنیا میں اس بصیرت کا ثبوت دیں ان کی بصیرت قیامت کے دن ان کے لیے روشنی بن جائے گی جس میں وہ وہاں کے مشکل مراحل میں اپنا سفر طے کرسکیں۔ جو بصیرت دنیا میں ان کی رہنما بنی تھی وہی بصیرت آخرت میں بھی اللہ کی مدد سے ان کے لیے رہنما کا کام انجام دے گی۔

یہ آیتیں جس وقت نازل ہوئیں اس وقت اسلام اگرچہ مادی قوت نہیں بنا تھا۔ مگر دلائل اور تنبیہات کا زور اس وقت بھی پوری طرح اس کی پشت پر موجود تھا۔ ایسی حالت میں جو شخص دلائل کا زور محسوس نہ کرے اور خدائی تنبیہات جس کو ہلانے والی نہ بن سکیں وہ اپنے اس عمل سے صرف یہ ثبوت دے رہا ہے کہ وہ بے حسی کے مرض میں مبتلا ہے۔ مٹی میں پانی ملنے کے بعد تروتازگی پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر انسان اگر کھلے کھلے دلائل کو سن کر بھی نہ جاگے تو یہ کیسی عجیب بات ہوگی۔

یہ آیتیں جس وقت نازل ہوئیں اس وقت اسلام اگرچہ مادی قوت نہیں بنا تھا۔ مگر دلائل اور تنبیہات کا زور اس وقت بھی پوری طرح اس کی پشت پر موجود تھا۔ ایسی حالت میں جو شخص دلائل کا زور محسوس نہ کرے اور خدائی تنبیہات جس کو ہلانے والی نہ بن سکیں وہ اپنے اس عمل سے صرف یہ ثبوت دے رہا ہے کہ وہ بے حسی کے مرض میں مبتلا ہے۔ مٹی میں پانی ملنے کے بعد تروتازگی پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر انسان اگر کھلے کھلے دلائل کو سن کر بھی نہ جاگے تو یہ کیسی عجیب بات ہوگی۔

اللہ کی رضا کے لیے دوسروں کو مال دینا اور دین کی ضرورتوں پر خرچ کرنا بہت بڑا عمل ہے۔ جو مرد اور عورت اس طرح خرچ کریں وہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ایمان کا ثبوت دیا۔ انہوں نے حق کے خلاف شبہات کے ماحول میں حق کو دیکھا اس لیے ان کا یہ عمل آخرت میں ان کے لیے روشنی بن جائے گا۔ وہ خدا کی نشانیوں کو ماننے والے قرار پائیں گے۔ ان کو اللہ کے گواہ کا درجہ دیا جائے گا، یعنی آخرت کی عدالت میں لوگوں کے احوال بتانے والے۔

اللہ کی رضا کے لیے دوسروں کو مال دینا اور دین کی ضرورتوں پر خرچ کرنا بہت بڑا عمل ہے۔ جو مرد اور عورت اس طرح خرچ کریں وہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ایمان کا ثبوت دیا۔ انہوں نے حق کے خلاف شبہات کے ماحول میں حق کو دیکھا اس لیے ان کا یہ عمل آخرت میں ان کے لیے روشنی بن جائے گا۔ وہ خدا کی نشانیوں کو ماننے والے قرار پائیں گے۔ ان کو اللہ کے گواہ کا درجہ دیا جائے گا، یعنی آخرت کی عدالت میں لوگوں کے احوال بتانے والے۔

کائنات زبانِ حال سے اپنے خالق کی جن صفات کی خبر دے رہی ہے، قرآن میں انہیں صفات کو الفاظ کی صورت دے دی گئی ہے۔ یہاں جب ایک چیز ظاہر ہوتی ہے تو وہ عمل کی زبان میں کہہ رہی ہوتی ہے کہ کوئی اس کا ظاہر کرنے والا ہے۔ اور جب وہ چیز ختم ہوتی ہے تو وہ اس بات کا عملی اعلان کر رہی ہوتی ہے کہ کوئی اس کا ختم کرنے والا ہے۔ اسی طرح دوسری تمام صفتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اگر خدا کی عملی تسبیح ہے تو قرآن خدا کی لفظی تسبیح۔

دنیا میں اللہ نے آخرت کی مثالیں قائم کردی ہیں۔ ان میں سے ایک مثال کھیتی کی ہے۔ کھیتی جب پانی پاکر تیار ہوتی ہے تو تھوڑے دنوں کے لیے اس کی سرسبزی نہایت پرکشش معلوم ہوتی ہے۔ مگر بہت جلد گرم ہوائیں چلتی ہیں۔ ساری سرسبزی اچانک ختم ہوجاتی ہے۔ اور پھر اس کو کاٹ کر اسے چورا چورا کردیا جاتا ہے۔ اسی طرح موجودہ دنیا کی رونق بھی چند روزہ ہے۔ آدمی اس کو پا کر دھوکے میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ وہ اسی کو سب کچھ سمجھ لیتا ہے۔ مگر اس کے بعد جب وہ خدا کی طرف لوٹا یا جائے گا تو اس پر کھلے گا کہ دنیا کی رونقوں کی کوئی حقیقت نہ تھی۔

دنیا میں اللہ نے آخرت کی مثالیں قائم کردی ہیں۔ ان میں سے ایک مثال کھیتی کی ہے۔ کھیتی جب پانی پاکر تیار ہوتی ہے تو تھوڑے دنوں کے لیے اس کی سرسبزی نہایت پرکشش معلوم ہوتی ہے۔ مگر بہت جلد گرم ہوائیں چلتی ہیں۔ ساری سرسبزی اچانک ختم ہوجاتی ہے۔ اور پھر اس کو کاٹ کر اسے چورا چورا کردیا جاتا ہے۔ اسی طرح موجودہ دنیا کی رونق بھی چند روزہ ہے۔ آدمی اس کو پا کر دھوکے میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ وہ اسی کو سب کچھ سمجھ لیتا ہے۔ مگر اس کے بعد جب وہ خدا کی طرف لوٹا یا جائے گا تو اس پر کھلے گا کہ دنیا کی رونقوں کی کوئی حقیقت نہ تھی۔

دنیا میں کسی چیز کا ملنا یا کسی چیز کا چھننا دونوں امتحان کے لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پیشگی طور پر مقرر فرما دیا ہے کہ کس شخص کو اس کے امتحان کا پر چہ کن کن صورتوں میں دیا جائے گا۔ آدمی کو اصلاً جس چیز پر توجہ دینا چاہيے وہ یہ نہیں کہ اس کو کیا ملا اور اس سے کیا چھینا گیا بلکہ یہ کہ اس نے کس موقع پر کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔ صحیح اور مطلوب رد عمل یہ ہے کہ آدمی سے کھویا جائے تو وہ دل برداشتہ نہ ہو اور جب اس کو ملے تو وہ اس کی بنا پر فخر و غرور میں مبتلا نہ ہوجائے۔

دنیا میں کسی چیز کا ملنا یا کسی چیز کا چھننا دونوں امتحان کے لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پیشگی طور پر مقرر فرما دیا ہے کہ کس شخص کو اس کے امتحان کا پر چہ کن کن صورتوں میں دیا جائے گا۔ آدمی کو اصلاً جس چیز پر توجہ دینا چاہيے وہ یہ نہیں کہ اس کو کیا ملا اور اس سے کیا چھینا گیا بلکہ یہ کہ اس نے کس موقع پر کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔ صحیح اور مطلوب رد عمل یہ ہے کہ آدمی سے کھویا جائے تو وہ دل برداشتہ نہ ہو اور جب اس کو ملے تو وہ اس کی بنا پر فخر و غرور میں مبتلا نہ ہوجائے۔original + quote

دنیا میں کسی چیز کا ملنا یا کسی چیز کا چھننا دونوں امتحان کے لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پیشگی طور پر مقرر فرما دیا ہے کہ کس شخص کو اس کے امتحان کا پر چہ کن کن صورتوں میں دیا جائے گا۔ آدمی کو اصلاً جس چیز پر توجہ دینا چاہيے وہ یہ نہیں کہ اس کو کیا ملا اور اس سے کیا چھینا گیا بلکہ یہ کہ اس نے کس موقع پر کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔ صحیح اور مطلوب رد عمل یہ ہے کہ آدمی سے کھویا جائے تو وہ دل برداشتہ نہ ہو اور جب اس کو ملے تو وہ اس کی بنا پر فخر و غرور میں مبتلا نہ ہوجائے۔

دین میں دو چیزیں مطلوب ہیں۔ ایک پیروئ دین، اور دوسری حمایت دین۔ ترازو گویا پیروی دین کی علامتی تمثیل ہے۔ جس طرح ترازو پر کسی چیز کا کم و بیش ہونا معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح خدا کی کتاب بھی حق کی ترازو ہے۔ لوگوں کو چاہيے کہ اپنے اعمال خدا کی کتاب پر جانچ کر دیکھتے رہیں کہ وہ کس حد تک درست ہیں اور کس حد تک درست نہیں۔ اسی طرح لوہا گویا حمایت دین کی علامتی مثال ہے۔ جب بھی دین کا کوئی معاملہ پڑے تو وہاں آدمی کو لوہے کی طرح مضبوط ثابت ہونا چاہيے۔ اس کو فولادی قوت کے ساتھ دین کا دفاع کرنا چاہیے۔

اللہ کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے سب ایک ہی دین لے کر آئے۔ مگر بعد کے زمانہ میں لوگوں نے پیغمبر کے نام پر بدعتیں ایجاد کرلیں۔ اس کی ایک مثال حضرت مسیح علیہ السلام کے پیرو ہیں۔ حضرت مسیح کے ذمہ صرف دعوت کا کام تھا۔ آپ کی پیغمبرانہ ذمہ داری میں قتال شامل نہ تھا۔ چنانچہ آپ نے سب سے زیادہ داعیانہ اخلاق پر زور دیا۔ اور داعیانہ اخلاق سراسررافت و رحمت پر مبنی ہوتا ہے۔ آپ نے اپنے پیروؤں سے کہا کہ وہ لوگوں کے مقابلہ میں یک طرفہ طور پر رافت و رحمت کا طریقہ اختیار کریں۔ مگر حضرت مسیح کے بعد آپ کے پیرو اس مصلحت کو سمجھ نہ سکے۔ ان کا یہ مزاج انہیں رہبانیت کی طرف بہا لے گیا۔ اعراض دنیا کی جو تعلیم انہیں دعوت کے مقصد سے دی گئی تھی اس کو انہوں نے مزید مبالغہ کے ساتھ ترک ِدنيا کے لیے اختیار کرنا شروع کردیا۔

اللہ کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے سب ایک ہی دین لے کر آئے۔ مگر بعد کے زمانہ میں لوگوں نے پیغمبر کے نام پر بدعتیں ایجاد کرلیں۔ اس کی ایک مثال حضرت مسیح علیہ السلام کے پیرو ہیں۔ حضرت مسیح کے ذمہ صرف دعوت کا کام تھا۔ آپ کی پیغمبرانہ ذمہ داری میں قتال شامل نہ تھا۔ چنانچہ آپ نے سب سے زیادہ داعیانہ اخلاق پر زور دیا۔ اور داعیانہ اخلاق سراسررافت و رحمت پر مبنی ہوتا ہے۔ آپ نے اپنے پیروؤں سے کہا کہ وہ لوگوں کے مقابلہ میں یک طرفہ طور پر رافت و رحمت کا طریقہ اختیار کریں۔ مگر حضرت مسیح کے بعد آپ کے پیرو اس مصلحت کو سمجھ نہ سکے۔ ان کا یہ مزاج انہیں رہبانیت کی طرف بہا لے گیا۔ اعراض دنیا کی جو تعلیم انہیں دعوت کے مقصد سے دی گئی تھی اس کو انہوں نے مزید مبالغہ کے ساتھ ترک ِدنيا کے لیے اختیار کرنا شروع کردیا۔

’’اے ایمان لانے والو‘‘سے مراد حضرت مسیح پر ایمان لانے والے ہیں۔ جو لوگ پچھلے پیغمبر کو مانتے ہوں، اور اب وہ پیغمبر آخر الزماں کی صداقت کو دریافت کرکے ان پر ایمان لائیں تو ان کے لیے دہرا اجر ہے۔ اسی طرح جو لوگ نسلی طور پر مسلمان ہیں وہ دوبارہ اسلام کا مطالعہ کریں اور اپنے اندر اسلامی شعور پیدا کرکے از سر نو مومن و مسلم بنیں تو وہ بھی اللہ کے یہاں دہرے اجر کے مستحق قرار پائیں گے۔

’’اے ایمان لانے والو‘‘سے مراد حضرت مسیح پر ایمان لانے والے ہیں۔ جو لوگ پچھلے پیغمبر کو مانتے ہوں، اور اب وہ پیغمبر آخر الزماں کی صداقت کو دریافت کرکے ان پر ایمان لائیں تو ان کے لیے دہرا اجر ہے۔ اسی طرح جو لوگ نسلی طور پر مسلمان ہیں وہ دوبارہ اسلام کا مطالعہ کریں اور اپنے اندر اسلامی شعور پیدا کرکے از سر نو مومن و مسلم بنیں تو وہ بھی اللہ کے یہاں دہرے اجر کے مستحق قرار پائیں گے۔

کائنات زبانِ حال سے اپنے خالق کی جن صفات کی خبر دے رہی ہے، قرآن میں انہیں صفات کو الفاظ کی صورت دے دی گئی ہے۔ یہاں جب ایک چیز ظاہر ہوتی ہے تو وہ عمل کی زبان میں کہہ رہی ہوتی ہے کہ کوئی اس کا ظاہر کرنے والا ہے۔ اور جب وہ چیز ختم ہوتی ہے تو وہ اس بات کا عملی اعلان کر رہی ہوتی ہے کہ کوئی اس کا ختم کرنے والا ہے۔ اسی طرح دوسری تمام صفتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اگر خدا کی عملی تسبیح ہے تو قرآن خدا کی لفظی تسبیح۔

کائنات زبانِ حال سے اپنے خالق کی جن صفات کی خبر دے رہی ہے، قرآن میں انہیں صفات کو الفاظ کی صورت دے دی گئی ہے۔ یہاں جب ایک چیز ظاہر ہوتی ہے تو وہ عمل کی زبان میں کہہ رہی ہوتی ہے کہ کوئی اس کا ظاہر کرنے والا ہے۔ اور جب وہ چیز ختم ہوتی ہے تو وہ اس بات کا عملی اعلان کر رہی ہوتی ہے کہ کوئی اس کا ختم کرنے والا ہے۔ اسی طرح دوسری تمام صفتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اگر خدا کی عملی تسبیح ہے تو قرآن خدا کی لفظی تسبیح۔

کائنات زبانِ حال سے اپنے خالق کی جن صفات کی خبر دے رہی ہے، قرآن میں انہیں صفات کو الفاظ کی صورت دے دی گئی ہے۔ یہاں جب ایک چیز ظاہر ہوتی ہے تو وہ عمل کی زبان میں کہہ رہی ہوتی ہے کہ کوئی اس کا ظاہر کرنے والا ہے۔ اور جب وہ چیز ختم ہوتی ہے تو وہ اس بات کا عملی اعلان کر رہی ہوتی ہے کہ کوئی اس کا ختم کرنے والا ہے۔ اسی طرح دوسری تمام صفتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اگر خدا کی عملی تسبیح ہے تو قرآن خدا کی لفظی تسبیح۔

کائنات زبانِ حال سے اپنے خالق کی جن صفات کی خبر دے رہی ہے، قرآن میں انہیں صفات کو الفاظ کی صورت دے دی گئی ہے۔ یہاں جب ایک چیز ظاہر ہوتی ہے تو وہ عمل کی زبان میں کہہ رہی ہوتی ہے کہ کوئی اس کا ظاہر کرنے والا ہے۔ اور جب وہ چیز ختم ہوتی ہے تو وہ اس بات کا عملی اعلان کر رہی ہوتی ہے کہ کوئی اس کا ختم کرنے والا ہے۔ اسی طرح دوسری تمام صفتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اگر خدا کی عملی تسبیح ہے تو قرآن خدا کی لفظی تسبیح۔

سچا اسلام جب ماحول میں اجنبی ہو، اس وقت سچے اسلام کی طرف بڑھنا اپنے آپ کو آزمائش میں ڈالنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس وقت اسلام کی حقیقت پر شبہات کے پردے پڑے ہوتے ہیں۔ اس وقت اسلام کی راہ میں خرچ کرنا ایسا ہوتا ہے گویا امید موہوم پر کسی کو قرض دینا۔ شک اور تردد کی فضا ہر طرف لوگوں کو گھیرے ہوئے ہوتی ہے۔ خدا کے وعدوں کے مقابلہ میں لوگوں کو اپنے سامنے کے فائدے زیادہ یقینی معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں اپنی جان و مال کو اسلام کے حوالہ کرنا زبردست قوت فیصلہ چاہتا ہے۔ ایسے وقت میں وہی شخص آگے بڑھنے کی ہمت کرتا ہے جو عقل و بصیرت کی طاقت سے چیزوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جو لوگ دنیا میں اس بصیرت کا ثبوت دیں ان کی بصیرت قیامت کے دن ان کے لیے روشنی بن جائے گی جس میں وہ وہاں کے مشکل مراحل میں اپنا سفر طے کرسکیں۔ جو بصیرت دنیا میں ان کی رہنما بنی تھی وہی بصیرت آخرت میں بھی اللہ کی مدد سے ان کے لیے رہنما کا کام انجام دے گی۔

سچا اسلام جب ماحول میں اجنبی ہو، اس وقت سچے اسلام کی طرف بڑھنا اپنے آپ کو آزمائش میں ڈالنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس وقت اسلام کی حقیقت پر شبہات کے پردے پڑے ہوتے ہیں۔ اس وقت اسلام کی راہ میں خرچ کرنا ایسا ہوتا ہے گویا امید موہوم پر کسی کو قرض دینا۔ شک اور تردد کی فضا ہر طرف لوگوں کو گھیرے ہوئے ہوتی ہے۔ خدا کے وعدوں کے مقابلہ میں لوگوں کو اپنے سامنے کے فائدے زیادہ یقینی معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں اپنی جان و مال کو اسلام کے حوالہ کرنا زبردست قوت فیصلہ چاہتا ہے۔ ایسے وقت میں وہی شخص آگے بڑھنے کی ہمت کرتا ہے جو عقل و بصیرت کی طاقت سے چیزوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جو لوگ دنیا میں اس بصیرت کا ثبوت دیں ان کی بصیرت قیامت کے دن ان کے لیے روشنی بن جائے گی جس میں وہ وہاں کے مشکل مراحل میں اپنا سفر طے کرسکیں۔ جو بصیرت دنیا میں ان کی رہنما بنی تھی وہی بصیرت آخرت میں بھی اللہ کی مدد سے ان کے لیے رہنما کا کام انجام دے گی۔

سچا اسلام جب ماحول میں اجنبی ہو، اس وقت سچے اسلام کی طرف بڑھنا اپنے آپ کو آزمائش میں ڈالنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس وقت اسلام کی حقیقت پر شبہات کے پردے پڑے ہوتے ہیں۔ اس وقت اسلام کی راہ میں خرچ کرنا ایسا ہوتا ہے گویا امید موہوم پر کسی کو قرض دینا۔ شک اور تردد کی فضا ہر طرف لوگوں کو گھیرے ہوئے ہوتی ہے۔ خدا کے وعدوں کے مقابلہ میں لوگوں کو اپنے سامنے کے فائدے زیادہ یقینی معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں اپنی جان و مال کو اسلام کے حوالہ کرنا زبردست قوت فیصلہ چاہتا ہے۔ ایسے وقت میں وہی شخص آگے بڑھنے کی ہمت کرتا ہے جو عقل و بصیرت کی طاقت سے چیزوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جو لوگ دنیا میں اس بصیرت کا ثبوت دیں ان کی بصیرت قیامت کے دن ان کے لیے روشنی بن جائے گی جس میں وہ وہاں کے مشکل مراحل میں اپنا سفر طے کرسکیں۔ جو بصیرت دنیا میں ان کی رہنما بنی تھی وہی بصیرت آخرت میں بھی اللہ کی مدد سے ان کے لیے رہنما کا کام انجام دے گی۔unverified