Tazkirul Quran (Urdu)

54. Al-Qamar

Tazkirul Quran (Urdu) — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (114 chapters)
  1. 1. Al-Faatiha
  2. 2. Al-Baqara
  3. 3. Aal-i-Imraan
  4. 4. An-Nisaa
  5. 5. Al-Maaida
  6. 6. Al-An'aam
  7. 7. Al-A'raaf
  8. 8. Al-Anfaal
  9. 9. At-Tawba
  10. 10. Yunus
  11. 11. Hud
  12. 12. Yusuf
  13. 13. Ar-Ra'd
  14. 14. Ibrahim
  15. 15. Al-Hijr
  16. 16. An-Nahl
  17. 17. Al-Israa
  18. 18. Al-Kahf
  19. 19. Maryam
  20. 20. Taa-Haa
  21. 21. Al-Anbiyaa
  22. 22. Al-Hajj
  23. 23. Al-Muminoon
  24. 24. An-Noor
  25. 25. Al-Furqaan
  26. 26. Ash-Shu'araa
  27. 27. An-Naml
  28. 28. Al-Qasas
  29. 29. Al-Ankaboot
  30. 30. Ar-Room
  31. 31. Luqman
  32. 32. As-Sajda
  33. 33. Al-Ahzaab
  34. 34. Saba
  35. 35. Faatir
  36. 36. Yaseen
  37. 37. As-Saaffaat
  38. 38. Saad
  39. 39. Az-Zumar
  40. 40. Ghafir
  41. 41. Fussilat
  42. 42. Ash-Shura
  43. 43. Az-Zukhruf
  44. 44. Ad-Dukhaan
  45. 45. Al-Jaathiya
  46. 46. Al-Ahqaf
  47. 47. Muhammad
  48. 48. Al-Fath
  49. 49. Al-Hujuraat
  50. 50. Qaaf
  51. 51. Adh-Dhaariyat
  52. 52. At-Tur
  53. 53. An-Najm
  54. 54. Al-Qamar
  55. 55. Ar-Rahmaan
  56. 56. Al-Waaqia
  57. 57. Al-Hadid
  58. 58. Al-Mujaadila
  59. 59. Al-Hashr
  60. 60. Al-Mumtahana
  61. 61. As-Saff
  62. 62. Al-Jumu'a
  63. 63. Al-Munaafiqoon
  64. 64. At-Taghaabun
  65. 65. At-Talaaq
  66. 66. At-Tahrim
  67. 67. Al-Mulk
  68. 68. Al-Qalam
  69. 69. Al-Haaqqa
  70. 70. Al-Ma'aarij
  71. 71. Nooh
  72. 72. Al-Jinn
  73. 73. Al-Muzzammil
  74. 74. Al-Muddaththir
  75. 75. Al-Qiyaama
  76. 76. Al-Insaan
  77. 77. Al-Mursalaat
  78. 78. An-Naba
  79. 79. An-Naazi'aat
  80. 80. Abasa
  81. 81. At-Takwir
  82. 82. Al-Infitaar
  83. 83. Al-Mutaffifin
  84. 84. Al-Inshiqaaq
  85. 85. Al-Burooj
  86. 86. At-Taariq
  87. 87. Al-A'laa
  88. 88. Al-Ghaashiya
  89. 89. Al-Fajr
  90. 90. Al-Balad
  91. 91. Ash-Shams
  92. 92. Al-Lail
  93. 93. Ad-Dhuhaa
  94. 94. Ash-Sharh
  95. 95. At-Tin
  96. 96. Al-Alaq
  97. 97. Al-Qadr
  98. 98. Al-Bayyina
  99. 99. Az-Zalzala
  100. 100. Al-Aadiyaat
  101. 101. Al-Qaari'a
  102. 102. At-Takaathur
  103. 103. Al-Asr
  104. 104. Al-Humaza
  105. 105. Al-Fil
  106. 106. Quraish
  107. 107. Al-Maa'un
  108. 108. Al-Kawthar
  109. 109. Al-Kaafiroon
  110. 110. An-Nasr
  111. 111. Al-Masad
  112. 112. Al-Ikhlaas
  113. 113. Al-Falaq
  114. 114. An-Naas

خدا موجودہ دنیا میں ایسے واقعات برپا کرتا ہے جو قیامت کو پیشگی طور پر قابلِ فہم بنانے والے ہوں۔ اسی قسم کا ایک واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہجرت سے چند سال پہلے پیش آیا۔ جب کہ لوگوں نے دیکھا کہ چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا کہ دیکھو، جس طرح چاند ٹوٹا ہے اسی طرح پوری دنیا ٹوٹے گی اور پھر نئی دنیا بنائی جائے گی۔ اس طرح کے واقعات میں بلاشبہ سبق ہے۔ مگر ان واقعات سے سبق لینا اسی وقت ممکن ہے جبکہ آدمی اپنی عقل سے اس کے بارے میں سوچے۔ جن لوگوں کے اوپر ان کی خواہشات غالب آگئی ہوں وہ ان کو دیکھ کر کہہ دیں گے کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ وہ واقعات کی توجیہہ اپنی خواہش کے مطابق کرکے ان کو اپنے لیے غیر موثر بنا لیں گے۔ ایسے لوگوں کے لیے بڑی سے بڑی دلیل بھی بے معنی ہے۔ وہ اسی وقت ہوش میں آئیں گے جب کہ قیامت کی چنگھاڑ ظاہر ہو اور ان سے ہوش میں آنے کا موقع چھین لے۔original + quote

قوم عاد جب خدا کے عذاب کی مستحق ہوگئی تو خدا نے ان پر ایسی تیز آندھی بھیجی جس میں لوگوں کا زمین پر ٹھہرنا مشکل ہوگیا۔ آندھی انہیں اس طرح اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی کہ کوئی دیوار سے جا کر ٹکراتا تھا اور کوئی درخت سے۔ کسی کی چھت اس کے سر پر گر پڑی۔ یہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ انسان بالکل بے بس ہے، خدا کے مقابلہ میں اس کو کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔original + quote

قوم عاد جب خدا کے عذاب کی مستحق ہوگئی تو خدا نے ان پر ایسی تیز آندھی بھیجی جس میں لوگوں کا زمین پر ٹھہرنا مشکل ہوگیا۔ آندھی انہیں اس طرح اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی کہ کوئی دیوار سے جا کر ٹکراتا تھا اور کوئی درخت سے۔ کسی کی چھت اس کے سر پر گر پڑی۔ یہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ انسان بالکل بے بس ہے، خدا کے مقابلہ میں اس کو کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔

قوم عاد جب خدا کے عذاب کی مستحق ہوگئی تو خدا نے ان پر ایسی تیز آندھی بھیجی جس میں لوگوں کا زمین پر ٹھہرنا مشکل ہوگیا۔ آندھی انہیں اس طرح اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی کہ کوئی دیوار سے جا کر ٹکراتا تھا اور کوئی درخت سے۔ کسی کی چھت اس کے سر پر گر پڑی۔ یہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ انسان بالکل بے بس ہے، خدا کے مقابلہ میں اس کو کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔

قوم عاد جب خدا کے عذاب کی مستحق ہوگئی تو خدا نے ان پر ایسی تیز آندھی بھیجی جس میں لوگوں کا زمین پر ٹھہرنا مشکل ہوگیا۔ آندھی انہیں اس طرح اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی کہ کوئی دیوار سے جا کر ٹکراتا تھا اور کوئی درخت سے۔ کسی کی چھت اس کے سر پر گر پڑی۔ یہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ انسان بالکل بے بس ہے، خدا کے مقابلہ میں اس کو کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔

قوم عاد جب خدا کے عذاب کی مستحق ہوگئی تو خدا نے ان پر ایسی تیز آندھی بھیجی جس میں لوگوں کا زمین پر ٹھہرنا مشکل ہوگیا۔ آندھی انہیں اس طرح اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی کہ کوئی دیوار سے جا کر ٹکراتا تھا اور کوئی درخت سے۔ کسی کی چھت اس کے سر پر گر پڑی۔ یہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ انسان بالکل بے بس ہے، خدا کے مقابلہ میں اس کو کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔original + quote

قوم عاد جب خدا کے عذاب کی مستحق ہوگئی تو خدا نے ان پر ایسی تیز آندھی بھیجی جس میں لوگوں کا زمین پر ٹھہرنا مشکل ہوگیا۔ آندھی انہیں اس طرح اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی کہ کوئی دیوار سے جا کر ٹکراتا تھا اور کوئی درخت سے۔ کسی کی چھت اس کے سر پر گر پڑی۔ یہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ انسان بالکل بے بس ہے، خدا کے مقابلہ میں اس کو کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔

قوم عاد جب خدا کے عذاب کی مستحق ہوگئی تو خدا نے ان پر ایسی تیز آندھی بھیجی جس میں لوگوں کا زمین پر ٹھہرنا مشکل ہوگیا۔ آندھی انہیں اس طرح اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی کہ کوئی دیوار سے جا کر ٹکراتا تھا اور کوئی درخت سے۔ کسی کی چھت اس کے سر پر گر پڑی۔ یہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ انسان بالکل بے بس ہے، خدا کے مقابلہ میں اس کو کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔

قوم عاد جب خدا کے عذاب کی مستحق ہوگئی تو خدا نے ان پر ایسی تیز آندھی بھیجی جس میں لوگوں کا زمین پر ٹھہرنا مشکل ہوگیا۔ آندھی انہیں اس طرح اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی کہ کوئی دیوار سے جا کر ٹکراتا تھا اور کوئی درخت سے۔ کسی کی چھت اس کے سر پر گر پڑی۔ یہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ انسان بالکل بے بس ہے، خدا کے مقابلہ میں اس کو کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔

قوم عاد جب خدا کے عذاب کی مستحق ہوگئی تو خدا نے ان پر ایسی تیز آندھی بھیجی جس میں لوگوں کا زمین پر ٹھہرنا مشکل ہوگیا۔ آندھی انہیں اس طرح اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی کہ کوئی دیوار سے جا کر ٹکراتا تھا اور کوئی درخت سے۔ کسی کی چھت اس کے سر پر گر پڑی۔ یہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ انسان بالکل بے بس ہے، خدا کے مقابلہ میں اس کو کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔original + quote

قوم عاد جب خدا کے عذاب کی مستحق ہوگئی تو خدا نے ان پر ایسی تیز آندھی بھیجی جس میں لوگوں کا زمین پر ٹھہرنا مشکل ہوگیا۔ آندھی انہیں اس طرح اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی کہ کوئی دیوار سے جا کر ٹکراتا تھا اور کوئی درخت سے۔ کسی کی چھت اس کے سر پر گر پڑی۔ یہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ انسان بالکل بے بس ہے، خدا کے مقابلہ میں اس کو کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔

خدا موجودہ دنیا میں ایسے واقعات برپا کرتا ہے جو قیامت کو پیشگی طور پر قابلِ فہم بنانے والے ہوں۔ اسی قسم کا ایک واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہجرت سے چند سال پہلے پیش آیا۔ جب کہ لوگوں نے دیکھا کہ چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا کہ دیکھو، جس طرح چاند ٹوٹا ہے اسی طرح پوری دنیا ٹوٹے گی اور پھر نئی دنیا بنائی جائے گی۔ اس طرح کے واقعات میں بلاشبہ سبق ہے۔ مگر ان واقعات سے سبق لینا اسی وقت ممکن ہے جبکہ آدمی اپنی عقل سے اس کے بارے میں سوچے۔ جن لوگوں کے اوپر ان کی خواہشات غالب آگئی ہوں وہ ان کو دیکھ کر کہہ دیں گے کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ وہ واقعات کی توجیہہ اپنی خواہش کے مطابق کرکے ان کو اپنے لیے غیر موثر بنا لیں گے۔ ایسے لوگوں کے لیے بڑی سے بڑی دلیل بھی بے معنی ہے۔ وہ اسی وقت ہوش میں آئیں گے جب کہ قیامت کی چنگھاڑ ظاہر ہو اور ان سے ہوش میں آنے کا موقع چھین لے۔original + quote

قوم عاد جب خدا کے عذاب کی مستحق ہوگئی تو خدا نے ان پر ایسی تیز آندھی بھیجی جس میں لوگوں کا زمین پر ٹھہرنا مشکل ہوگیا۔ آندھی انہیں اس طرح اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی کہ کوئی دیوار سے جا کر ٹکراتا تھا اور کوئی درخت سے۔ کسی کی چھت اس کے سر پر گر پڑی۔ یہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ انسان بالکل بے بس ہے، خدا کے مقابلہ میں اس کو کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔original + quote

قوم عاد جب خدا کے عذاب کی مستحق ہوگئی تو خدا نے ان پر ایسی تیز آندھی بھیجی جس میں لوگوں کا زمین پر ٹھہرنا مشکل ہوگیا۔ آندھی انہیں اس طرح اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی کہ کوئی دیوار سے جا کر ٹکراتا تھا اور کوئی درخت سے۔ کسی کی چھت اس کے سر پر گر پڑی۔ یہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ انسان بالکل بے بس ہے، خدا کے مقابلہ میں اس کو کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔

قوم عاد جب خدا کے عذاب کی مستحق ہوگئی تو خدا نے ان پر ایسی تیز آندھی بھیجی جس میں لوگوں کا زمین پر ٹھہرنا مشکل ہوگیا۔ آندھی انہیں اس طرح اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی کہ کوئی دیوار سے جا کر ٹکراتا تھا اور کوئی درخت سے۔ کسی کی چھت اس کے سر پر گر پڑی۔ یہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ انسان بالکل بے بس ہے، خدا کے مقابلہ میں اس کو کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔

پیغمبر ہمیشہ عام انسان کے روپ میں آتا ہے، اس لیے انسان اس کو پہچان نہیں پاتا، اسی طرح خدا کی اونٹنی بھی بظاہر عام اونٹنی کی طرح تھی۔ اس لیے ثمود کے لوگ اس کو پہچان نہ سکے، اور اس کو مار ڈالا۔ موجودہ دنیا اسی بات کا امتحان ہے۔ یہاں لوگوں کو بظاہر ایک عام آدمی میں خدا کے نمائندہ کو دیکھنا ہے۔ بظاہر ایک عام اونٹنی میں خدا کی اونٹنی کو پہچان لینا ہے۔ جو لوگ اس امتحان میں ناکام رہیں وہ کبھی ہدایت کے راستہ کو نہیں پا سکتے۔ قرآن اگرچہ گہرے معانی کی کتاب ہے۔ مگر اس کے انداز بیان میں حد درجہ وضوح (Clarity) ہے۔ اس وضوح کی بنا پر قرآن کا سمجھنا ہر آدمی کے لیے آسان ہوگیا ہے، خواہ وہ ایک عام آدمی ہو یا ایک اعلی تعلیم یافتہ آدمی۔original + quote

پیغمبر ہمیشہ عام انسان کے روپ میں آتا ہے، اس لیے انسان اس کو پہچان نہیں پاتا، اسی طرح خدا کی اونٹنی بھی بظاہر عام اونٹنی کی طرح تھی۔ اس لیے ثمود کے لوگ اس کو پہچان نہ سکے، اور اس کو مار ڈالا۔ موجودہ دنیا اسی بات کا امتحان ہے۔ یہاں لوگوں کو بظاہر ایک عام آدمی میں خدا کے نمائندہ کو دیکھنا ہے۔ بظاہر ایک عام اونٹنی میں خدا کی اونٹنی کو پہچان لینا ہے۔ جو لوگ اس امتحان میں ناکام رہیں وہ کبھی ہدایت کے راستہ کو نہیں پا سکتے۔ قرآن اگرچہ گہرے معانی کی کتاب ہے۔ مگر اس کے انداز بیان میں حد درجہ وضوح (Clarity) ہے۔ اس وضوح کی بنا پر قرآن کا سمجھنا ہر آدمی کے لیے آسان ہوگیا ہے، خواہ وہ ایک عام آدمی ہو یا ایک اعلی تعلیم یافتہ آدمی۔

پیغمبر ہمیشہ عام انسان کے روپ میں آتا ہے، اس لیے انسان اس کو پہچان نہیں پاتا، اسی طرح خدا کی اونٹنی بھی بظاہر عام اونٹنی کی طرح تھی۔ اس لیے ثمود کے لوگ اس کو پہچان نہ سکے، اور اس کو مار ڈالا۔ موجودہ دنیا اسی بات کا امتحان ہے۔ یہاں لوگوں کو بظاہر ایک عام آدمی میں خدا کے نمائندہ کو دیکھنا ہے۔ بظاہر ایک عام اونٹنی میں خدا کی اونٹنی کو پہچان لینا ہے۔ جو لوگ اس امتحان میں ناکام رہیں وہ کبھی ہدایت کے راستہ کو نہیں پا سکتے۔ قرآن اگرچہ گہرے معانی کی کتاب ہے۔ مگر اس کے انداز بیان میں حد درجہ وضوح (Clarity) ہے۔ اس وضوح کی بنا پر قرآن کا سمجھنا ہر آدمی کے لیے آسان ہوگیا ہے، خواہ وہ ایک عام آدمی ہو یا ایک اعلی تعلیم یافتہ آدمی۔

پیغمبر ہمیشہ عام انسان کے روپ میں آتا ہے، اس لیے انسان اس کو پہچان نہیں پاتا، اسی طرح خدا کی اونٹنی بھی بظاہر عام اونٹنی کی طرح تھی۔ اس لیے ثمود کے لوگ اس کو پہچان نہ سکے، اور اس کو مار ڈالا۔ موجودہ دنیا اسی بات کا امتحان ہے۔ یہاں لوگوں کو بظاہر ایک عام آدمی میں خدا کے نمائندہ کو دیکھنا ہے۔ بظاہر ایک عام اونٹنی میں خدا کی اونٹنی کو پہچان لینا ہے۔ جو لوگ اس امتحان میں ناکام رہیں وہ کبھی ہدایت کے راستہ کو نہیں پا سکتے۔ قرآن اگرچہ گہرے معانی کی کتاب ہے۔ مگر اس کے انداز بیان میں حد درجہ وضوح (Clarity) ہے۔ اس وضوح کی بنا پر قرآن کا سمجھنا ہر آدمی کے لیے آسان ہوگیا ہے، خواہ وہ ایک عام آدمی ہو یا ایک اعلی تعلیم یافتہ آدمی۔

پیغمبر ہمیشہ عام انسان کے روپ میں آتا ہے، اس لیے انسان اس کو پہچان نہیں پاتا، اسی طرح خدا کی اونٹنی بھی بظاہر عام اونٹنی کی طرح تھی۔ اس لیے ثمود کے لوگ اس کو پہچان نہ سکے، اور اس کو مار ڈالا۔ موجودہ دنیا اسی بات کا امتحان ہے۔ یہاں لوگوں کو بظاہر ایک عام آدمی میں خدا کے نمائندہ کو دیکھنا ہے۔ بظاہر ایک عام اونٹنی میں خدا کی اونٹنی کو پہچان لینا ہے۔ جو لوگ اس امتحان میں ناکام رہیں وہ کبھی ہدایت کے راستہ کو نہیں پا سکتے۔ قرآن اگرچہ گہرے معانی کی کتاب ہے۔ مگر اس کے انداز بیان میں حد درجہ وضوح (Clarity) ہے۔ اس وضوح کی بنا پر قرآن کا سمجھنا ہر آدمی کے لیے آسان ہوگیا ہے، خواہ وہ ایک عام آدمی ہو یا ایک اعلی تعلیم یافتہ آدمی۔

پیغمبر ہمیشہ عام انسان کے روپ میں آتا ہے، اس لیے انسان اس کو پہچان نہیں پاتا، اسی طرح خدا کی اونٹنی بھی بظاہر عام اونٹنی کی طرح تھی۔ اس لیے ثمود کے لوگ اس کو پہچان نہ سکے، اور اس کو مار ڈالا۔ موجودہ دنیا اسی بات کا امتحان ہے۔ یہاں لوگوں کو بظاہر ایک عام آدمی میں خدا کے نمائندہ کو دیکھنا ہے۔ بظاہر ایک عام اونٹنی میں خدا کی اونٹنی کو پہچان لینا ہے۔ جو لوگ اس امتحان میں ناکام رہیں وہ کبھی ہدایت کے راستہ کو نہیں پا سکتے۔ قرآن اگرچہ گہرے معانی کی کتاب ہے۔ مگر اس کے انداز بیان میں حد درجہ وضوح (Clarity) ہے۔ اس وضوح کی بنا پر قرآن کا سمجھنا ہر آدمی کے لیے آسان ہوگیا ہے، خواہ وہ ایک عام آدمی ہو یا ایک اعلی تعلیم یافتہ آدمی۔

پیغمبر ہمیشہ عام انسان کے روپ میں آتا ہے، اس لیے انسان اس کو پہچان نہیں پاتا، اسی طرح خدا کی اونٹنی بھی بظاہر عام اونٹنی کی طرح تھی۔ اس لیے ثمود کے لوگ اس کو پہچان نہ سکے، اور اس کو مار ڈالا۔ موجودہ دنیا اسی بات کا امتحان ہے۔ یہاں لوگوں کو بظاہر ایک عام آدمی میں خدا کے نمائندہ کو دیکھنا ہے۔ بظاہر ایک عام اونٹنی میں خدا کی اونٹنی کو پہچان لینا ہے۔ جو لوگ اس امتحان میں ناکام رہیں وہ کبھی ہدایت کے راستہ کو نہیں پا سکتے۔ قرآن اگرچہ گہرے معانی کی کتاب ہے۔ مگر اس کے انداز بیان میں حد درجہ وضوح (Clarity) ہے۔ اس وضوح کی بنا پر قرآن کا سمجھنا ہر آدمی کے لیے آسان ہوگیا ہے، خواہ وہ ایک عام آدمی ہو یا ایک اعلی تعلیم یافتہ آدمی۔

خدا موجودہ دنیا میں ایسے واقعات برپا کرتا ہے جو قیامت کو پیشگی طور پر قابلِ فہم بنانے والے ہوں۔ اسی قسم کا ایک واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہجرت سے چند سال پہلے پیش آیا۔ جب کہ لوگوں نے دیکھا کہ چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا کہ دیکھو، جس طرح چاند ٹوٹا ہے اسی طرح پوری دنیا ٹوٹے گی اور پھر نئی دنیا بنائی جائے گی۔ اس طرح کے واقعات میں بلاشبہ سبق ہے۔ مگر ان واقعات سے سبق لینا اسی وقت ممکن ہے جبکہ آدمی اپنی عقل سے اس کے بارے میں سوچے۔ جن لوگوں کے اوپر ان کی خواہشات غالب آگئی ہوں وہ ان کو دیکھ کر کہہ دیں گے کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ وہ واقعات کی توجیہہ اپنی خواہش کے مطابق کرکے ان کو اپنے لیے غیر موثر بنا لیں گے۔ ایسے لوگوں کے لیے بڑی سے بڑی دلیل بھی بے معنی ہے۔ وہ اسی وقت ہوش میں آئیں گے جب کہ قیامت کی چنگھاڑ ظاہر ہو اور ان سے ہوش میں آنے کا موقع چھین لے۔original + quote

پیغمبر ہمیشہ عام انسان کے روپ میں آتا ہے، اس لیے انسان اس کو پہچان نہیں پاتا، اسی طرح خدا کی اونٹنی بھی بظاہر عام اونٹنی کی طرح تھی۔ اس لیے ثمود کے لوگ اس کو پہچان نہ سکے، اور اس کو مار ڈالا۔ موجودہ دنیا اسی بات کا امتحان ہے۔ یہاں لوگوں کو بظاہر ایک عام آدمی میں خدا کے نمائندہ کو دیکھنا ہے۔ بظاہر ایک عام اونٹنی میں خدا کی اونٹنی کو پہچان لینا ہے۔ جو لوگ اس امتحان میں ناکام رہیں وہ کبھی ہدایت کے راستہ کو نہیں پا سکتے۔ قرآن اگرچہ گہرے معانی کی کتاب ہے۔ مگر اس کے انداز بیان میں حد درجہ وضوح (Clarity) ہے۔ اس وضوح کی بنا پر قرآن کا سمجھنا ہر آدمی کے لیے آسان ہوگیا ہے، خواہ وہ ایک عام آدمی ہو یا ایک اعلی تعلیم یافتہ آدمی۔unverified

پیغمبر ہمیشہ عام انسان کے روپ میں آتا ہے، اس لیے انسان اس کو پہچان نہیں پاتا، اسی طرح خدا کی اونٹنی بھی بظاہر عام اونٹنی کی طرح تھی۔ اس لیے ثمود کے لوگ اس کو پہچان نہ سکے، اور اس کو مار ڈالا۔ موجودہ دنیا اسی بات کا امتحان ہے۔ یہاں لوگوں کو بظاہر ایک عام آدمی میں خدا کے نمائندہ کو دیکھنا ہے۔ بظاہر ایک عام اونٹنی میں خدا کی اونٹنی کو پہچان لینا ہے۔ جو لوگ اس امتحان میں ناکام رہیں وہ کبھی ہدایت کے راستہ کو نہیں پا سکتے۔ قرآن اگرچہ گہرے معانی کی کتاب ہے۔ مگر اس کے انداز بیان میں حد درجہ وضوح (Clarity) ہے۔ اس وضوح کی بنا پر قرآن کا سمجھنا ہر آدمی کے لیے آسان ہوگیا ہے، خواہ وہ ایک عام آدمی ہو یا ایک اعلی تعلیم یافتہ آدمی۔

پیغمبر ہمیشہ عام انسان کے روپ میں آتا ہے، اس لیے انسان اس کو پہچان نہیں پاتا، اسی طرح خدا کی اونٹنی بھی بظاہر عام اونٹنی کی طرح تھی۔ اس لیے ثمود کے لوگ اس کو پہچان نہ سکے، اور اس کو مار ڈالا۔ موجودہ دنیا اسی بات کا امتحان ہے۔ یہاں لوگوں کو بظاہر ایک عام آدمی میں خدا کے نمائندہ کو دیکھنا ہے۔ بظاہر ایک عام اونٹنی میں خدا کی اونٹنی کو پہچان لینا ہے۔ جو لوگ اس امتحان میں ناکام رہیں وہ کبھی ہدایت کے راستہ کو نہیں پا سکتے۔ قرآن اگرچہ گہرے معانی کی کتاب ہے۔ مگر اس کے انداز بیان میں حد درجہ وضوح (Clarity) ہے۔ اس وضوح کی بنا پر قرآن کا سمجھنا ہر آدمی کے لیے آسان ہوگیا ہے، خواہ وہ ایک عام آدمی ہو یا ایک اعلی تعلیم یافتہ آدمی۔

حضرت لوط کی دعوت اٹھی تو کچھ لوگوں نے اس کا اعتراف کرلیا، وہ حق کو بڑا مان کر اپنے آپ کو اس کے مقابلہ میں چھوٹا کرنے پر راضی ہوگئے۔ مگر اکثر افراد نے ایسا نہیں کیا۔ وہ دلائل کا اعتراف کرنے کے بجائے اس کو رد کرنے کے لیے جھوٹی بحثیں نکالتے رہے۔ دعوت حق کے مقابلہ میں اس قسم کی روش بہت بڑا جرم ہے، چنانچہ اعتراف کرنے والوں کو چھوڑ کر انکار کرنے والے پکڑ لیے گئے۔ یہ ایک مثال ہے کہ اس دنیا میں حق کا انکار کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے اور حق کا اعتراف کرنے والوں کے لیے نجات۔

حضرت لوط کی دعوت اٹھی تو کچھ لوگوں نے اس کا اعتراف کرلیا، وہ حق کو بڑا مان کر اپنے آپ کو اس کے مقابلہ میں چھوٹا کرنے پر راضی ہوگئے۔ مگر اکثر افراد نے ایسا نہیں کیا۔ وہ دلائل کا اعتراف کرنے کے بجائے اس کو رد کرنے کے لیے جھوٹی بحثیں نکالتے رہے۔ دعوت حق کے مقابلہ میں اس قسم کی روش بہت بڑا جرم ہے، چنانچہ اعتراف کرنے والوں کو چھوڑ کر انکار کرنے والے پکڑ لیے گئے۔ یہ ایک مثال ہے کہ اس دنیا میں حق کا انکار کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے اور حق کا اعتراف کرنے والوں کے لیے نجات۔

حضرت لوط کی دعوت اٹھی تو کچھ لوگوں نے اس کا اعتراف کرلیا، وہ حق کو بڑا مان کر اپنے آپ کو اس کے مقابلہ میں چھوٹا کرنے پر راضی ہوگئے۔ مگر اکثر افراد نے ایسا نہیں کیا۔ وہ دلائل کا اعتراف کرنے کے بجائے اس کو رد کرنے کے لیے جھوٹی بحثیں نکالتے رہے۔ دعوت حق کے مقابلہ میں اس قسم کی روش بہت بڑا جرم ہے، چنانچہ اعتراف کرنے والوں کو چھوڑ کر انکار کرنے والے پکڑ لیے گئے۔ یہ ایک مثال ہے کہ اس دنیا میں حق کا انکار کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے اور حق کا اعتراف کرنے والوں کے لیے نجات۔

حضرت لوط کی دعوت اٹھی تو کچھ لوگوں نے اس کا اعتراف کرلیا، وہ حق کو بڑا مان کر اپنے آپ کو اس کے مقابلہ میں چھوٹا کرنے پر راضی ہوگئے۔ مگر اکثر افراد نے ایسا نہیں کیا۔ وہ دلائل کا اعتراف کرنے کے بجائے اس کو رد کرنے کے لیے جھوٹی بحثیں نکالتے رہے۔ دعوت حق کے مقابلہ میں اس قسم کی روش بہت بڑا جرم ہے، چنانچہ اعتراف کرنے والوں کو چھوڑ کر انکار کرنے والے پکڑ لیے گئے۔ یہ ایک مثال ہے کہ اس دنیا میں حق کا انکار کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے اور حق کا اعتراف کرنے والوں کے لیے نجات۔

حضرت لوط کی دعوت اٹھی تو کچھ لوگوں نے اس کا اعتراف کرلیا، وہ حق کو بڑا مان کر اپنے آپ کو اس کے مقابلہ میں چھوٹا کرنے پر راضی ہوگئے۔ مگر اکثر افراد نے ایسا نہیں کیا۔ وہ دلائل کا اعتراف کرنے کے بجائے اس کو رد کرنے کے لیے جھوٹی بحثیں نکالتے رہے۔ دعوت حق کے مقابلہ میں اس قسم کی روش بہت بڑا جرم ہے، چنانچہ اعتراف کرنے والوں کو چھوڑ کر انکار کرنے والے پکڑ لیے گئے۔ یہ ایک مثال ہے کہ اس دنیا میں حق کا انکار کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے اور حق کا اعتراف کرنے والوں کے لیے نجات۔

حضرت لوط کی دعوت اٹھی تو کچھ لوگوں نے اس کا اعتراف کرلیا، وہ حق کو بڑا مان کر اپنے آپ کو اس کے مقابلہ میں چھوٹا کرنے پر راضی ہوگئے۔ مگر اکثر افراد نے ایسا نہیں کیا۔ وہ دلائل کا اعتراف کرنے کے بجائے اس کو رد کرنے کے لیے جھوٹی بحثیں نکالتے رہے۔ دعوت حق کے مقابلہ میں اس قسم کی روش بہت بڑا جرم ہے، چنانچہ اعتراف کرنے والوں کو چھوڑ کر انکار کرنے والے پکڑ لیے گئے۔ یہ ایک مثال ہے کہ اس دنیا میں حق کا انکار کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے اور حق کا اعتراف کرنے والوں کے لیے نجات۔

حضرت لوط کی دعوت اٹھی تو کچھ لوگوں نے اس کا اعتراف کرلیا، وہ حق کو بڑا مان کر اپنے آپ کو اس کے مقابلہ میں چھوٹا کرنے پر راضی ہوگئے۔ مگر اکثر افراد نے ایسا نہیں کیا۔ وہ دلائل کا اعتراف کرنے کے بجائے اس کو رد کرنے کے لیے جھوٹی بحثیں نکالتے رہے۔ دعوت حق کے مقابلہ میں اس قسم کی روش بہت بڑا جرم ہے، چنانچہ اعتراف کرنے والوں کو چھوڑ کر انکار کرنے والے پکڑ لیے گئے۔ یہ ایک مثال ہے کہ اس دنیا میں حق کا انکار کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے اور حق کا اعتراف کرنے والوں کے لیے نجات۔

خدا موجودہ دنیا میں ایسے واقعات برپا کرتا ہے جو قیامت کو پیشگی طور پر قابلِ فہم بنانے والے ہوں۔ اسی قسم کا ایک واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہجرت سے چند سال پہلے پیش آیا۔ جب کہ لوگوں نے دیکھا کہ چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا کہ دیکھو، جس طرح چاند ٹوٹا ہے اسی طرح پوری دنیا ٹوٹے گی اور پھر نئی دنیا بنائی جائے گی۔ اس طرح کے واقعات میں بلاشبہ سبق ہے۔ مگر ان واقعات سے سبق لینا اسی وقت ممکن ہے جبکہ آدمی اپنی عقل سے اس کے بارے میں سوچے۔ جن لوگوں کے اوپر ان کی خواہشات غالب آگئی ہوں وہ ان کو دیکھ کر کہہ دیں گے کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ وہ واقعات کی توجیہہ اپنی خواہش کے مطابق کرکے ان کو اپنے لیے غیر موثر بنا لیں گے۔ ایسے لوگوں کے لیے بڑی سے بڑی دلیل بھی بے معنی ہے۔ وہ اسی وقت ہوش میں آئیں گے جب کہ قیامت کی چنگھاڑ ظاہر ہو اور ان سے ہوش میں آنے کا موقع چھین لے۔original + quote

حضرت لوط کی دعوت اٹھی تو کچھ لوگوں نے اس کا اعتراف کرلیا، وہ حق کو بڑا مان کر اپنے آپ کو اس کے مقابلہ میں چھوٹا کرنے پر راضی ہوگئے۔ مگر اکثر افراد نے ایسا نہیں کیا۔ وہ دلائل کا اعتراف کرنے کے بجائے اس کو رد کرنے کے لیے جھوٹی بحثیں نکالتے رہے۔ دعوت حق کے مقابلہ میں اس قسم کی روش بہت بڑا جرم ہے، چنانچہ اعتراف کرنے والوں کو چھوڑ کر انکار کرنے والے پکڑ لیے گئے۔ یہ ایک مثال ہے کہ اس دنیا میں حق کا انکار کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے اور حق کا اعتراف کرنے والوں کے لیے نجات۔

فرعون اپنے وقت کا انتہائی طاقت ور بادشاہ تھا۔ مگر حق کا انکار کرنے کے بعد وہ اللہ کی نظر میں بے قیمت ہوگیا۔ اس کے بعد وہ ایک عاجز انسان کی طرح ہلاک کردیا گیا۔ اس دنیا میں حق کے ساتھ کھڑا ہونے والا آدمی زور آور ہے اور حق کے خلاف کھڑا ہونے والا آدمی بے زور۔

فرعون اپنے وقت کا انتہائی طاقت ور بادشاہ تھا۔ مگر حق کا انکار کرنے کے بعد وہ اللہ کی نظر میں بے قیمت ہوگیا۔ اس کے بعد وہ ایک عاجز انسان کی طرح ہلاک کردیا گیا۔ اس دنیا میں حق کے ساتھ کھڑا ہونے والا آدمی زور آور ہے اور حق کے خلاف کھڑا ہونے والا آدمی بے زور۔

پچھلے پیغمبروں کا انکار کرنے والوں کے ساتھ جو واقعات پیش آئے ان میں پیغمبر آخر الزماں کا انکار کرنے والوں کے لیے نصیحت تھی۔ مگر انہوں نے اس سے نصیحت نہ لی۔ یہی تمام قوموں کا حال ہے۔ کھلی نشانیوں کے باوجود ہر قوم نے اپنے آپ کو محفوظ اور مستثنی قوم سمجھ لیتی ہے۔ ہر قوم دوبارہ وہی سرکشی کرتی ہے جو پچھلی قوموں نے کی اور اس کے نتیجہ میں وہ خدائی عذاب کی مستحق ہوگئیں۔

پچھلے پیغمبروں کا انکار کرنے والوں کے ساتھ جو واقعات پیش آئے ان میں پیغمبر آخر الزماں کا انکار کرنے والوں کے لیے نصیحت تھی۔ مگر انہوں نے اس سے نصیحت نہ لی۔ یہی تمام قوموں کا حال ہے۔ کھلی نشانیوں کے باوجود ہر قوم نے اپنے آپ کو محفوظ اور مستثنی قوم سمجھ لیتی ہے۔ ہر قوم دوبارہ وہی سرکشی کرتی ہے جو پچھلی قوموں نے کی اور اس کے نتیجہ میں وہ خدائی عذاب کی مستحق ہوگئیں۔

پچھلے پیغمبروں کا انکار کرنے والوں کے ساتھ جو واقعات پیش آئے ان میں پیغمبر آخر الزماں کا انکار کرنے والوں کے لیے نصیحت تھی۔ مگر انہوں نے اس سے نصیحت نہ لی۔ یہی تمام قوموں کا حال ہے۔ کھلی نشانیوں کے باوجود ہر قوم نے اپنے آپ کو محفوظ اور مستثنی قوم سمجھ لیتی ہے۔ ہر قوم دوبارہ وہی سرکشی کرتی ہے جو پچھلی قوموں نے کی اور اس کے نتیجہ میں وہ خدائی عذاب کی مستحق ہوگئیں۔

پچھلے پیغمبروں کا انکار کرنے والوں کے ساتھ جو واقعات پیش آئے ان میں پیغمبر آخر الزماں کا انکار کرنے والوں کے لیے نصیحت تھی۔ مگر انہوں نے اس سے نصیحت نہ لی۔ یہی تمام قوموں کا حال ہے۔ کھلی نشانیوں کے باوجود ہر قوم نے اپنے آپ کو محفوظ اور مستثنی قوم سمجھ لیتی ہے۔ ہر قوم دوبارہ وہی سرکشی کرتی ہے جو پچھلی قوموں نے کی اور اس کے نتیجہ میں وہ خدائی عذاب کی مستحق ہوگئیں۔

پچھلے پیغمبروں کا انکار کرنے والوں کے ساتھ جو واقعات پیش آئے ان میں پیغمبر آخر الزماں کا انکار کرنے والوں کے لیے نصیحت تھی۔ مگر انہوں نے اس سے نصیحت نہ لی۔ یہی تمام قوموں کا حال ہے۔ کھلی نشانیوں کے باوجود ہر قوم نے اپنے آپ کو محفوظ اور مستثنی قوم سمجھ لیتی ہے۔ ہر قوم دوبارہ وہی سرکشی کرتی ہے جو پچھلی قوموں نے کی اور اس کے نتیجہ میں وہ خدائی عذاب کی مستحق ہوگئیں۔

پچھلے پیغمبروں کا انکار کرنے والوں کے ساتھ جو واقعات پیش آئے ان میں پیغمبر آخر الزماں کا انکار کرنے والوں کے لیے نصیحت تھی۔ مگر انہوں نے اس سے نصیحت نہ لی۔ یہی تمام قوموں کا حال ہے۔ کھلی نشانیوں کے باوجود ہر قوم نے اپنے آپ کو محفوظ اور مستثنی قوم سمجھ لیتی ہے۔ ہر قوم دوبارہ وہی سرکشی کرتی ہے جو پچھلی قوموں نے کی اور اس کے نتیجہ میں وہ خدائی عذاب کی مستحق ہوگئیں۔

دنیا کی ہر چیز کا ایک مقرر ضابطہ ہے۔ یہی اصول انسان کے معاملہ میں بھی ہے۔ انسان کو ایک مقرر ضابطہ کے تحت موجودہ دنیا میں عمل کا موقع دیا گیا ہے۔ اور مقرر ضابطہ ہی کے تحت اس کو عمل کے مقام سے ہٹا کر انجام کے مقام میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ خالق کی قدرت جو موجودہ کائنات میں ظاہر ہوئی ہے وہ یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ یہ معاملہ عین اپنے وقت پر بلا تاخیر پیش آئے گا۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں ریکارڈنگ کا نظام اس حقیقت کا پیشگی اعلان ہے کہ ہر ایک کے ساتھ عین وہی معاملہ کیا جائے گا جو اس کے عمل کے مطابق ہو۔ تاهم یہ باتیں اسی شخص کی سمجھ میں آئیں گی جو اپنے اندر یہ مزاج رکھتا ہو کہ وہ واقعات پر غور کرے۔ اور ظاہر سے گزر کر باطن میں چھپی ہوئی حقیقتوں کو دیکھ سکے۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک کو پوری آزادی حاصل ہے۔ اس لیے موجودہ دنیا میں یہ ممکن ہے آدمی مقعدِ کِذب (جھوٹی نشست) پر بھی بیٹھ کر نمایاں ہوسکے۔ وہ جھوٹ کی زمین پر عزت اور مرتبہ کا مقام حاصل کرلے۔ مگر آخرت میں کسی کے لیے ایسا ممکن نہ ہوگا۔ آخرت میں عزت اور کامیابی صرف ان لوگوں کو ملے گی جو مقعد صدق (سچی نشست) پر بیٹھنے والے ہوں۔ جنہوں نے فی الواقع اپنے آپ کو سچ کی زمین پر کھڑاکیا ہو۔ آخرت میں خدا کی قدرت کامل کا ظہور اس بات کی ضمانت بن جائے گا کہ وہاں مقعد صدق کے سوا کسی اور مقعد پر بیٹھنا کسی کے کچھ کام نہ آسکے۔

خدا موجودہ دنیا میں ایسے واقعات برپا کرتا ہے جو قیامت کو پیشگی طور پر قابلِ فہم بنانے والے ہوں۔ اسی قسم کا ایک واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہجرت سے چند سال پہلے پیش آیا۔ جب کہ لوگوں نے دیکھا کہ چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا کہ دیکھو، جس طرح چاند ٹوٹا ہے اسی طرح پوری دنیا ٹوٹے گی اور پھر نئی دنیا بنائی جائے گی۔ اس طرح کے واقعات میں بلاشبہ سبق ہے۔ مگر ان واقعات سے سبق لینا اسی وقت ممکن ہے جبکہ آدمی اپنی عقل سے اس کے بارے میں سوچے۔ جن لوگوں کے اوپر ان کی خواہشات غالب آگئی ہوں وہ ان کو دیکھ کر کہہ دیں گے کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ وہ واقعات کی توجیہہ اپنی خواہش کے مطابق کرکے ان کو اپنے لیے غیر موثر بنا لیں گے۔ ایسے لوگوں کے لیے بڑی سے بڑی دلیل بھی بے معنی ہے۔ وہ اسی وقت ہوش میں آئیں گے جب کہ قیامت کی چنگھاڑ ظاہر ہو اور ان سے ہوش میں آنے کا موقع چھین لے۔original + quote

دنیا کی ہر چیز کا ایک مقرر ضابطہ ہے۔ یہی اصول انسان کے معاملہ میں بھی ہے۔ انسان کو ایک مقرر ضابطہ کے تحت موجودہ دنیا میں عمل کا موقع دیا گیا ہے۔ اور مقرر ضابطہ ہی کے تحت اس کو عمل کے مقام سے ہٹا کر انجام کے مقام میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ خالق کی قدرت جو موجودہ کائنات میں ظاہر ہوئی ہے وہ یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ یہ معاملہ عین اپنے وقت پر بلا تاخیر پیش آئے گا۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں ریکارڈنگ کا نظام اس حقیقت کا پیشگی اعلان ہے کہ ہر ایک کے ساتھ عین وہی معاملہ کیا جائے گا جو اس کے عمل کے مطابق ہو۔ تاهم یہ باتیں اسی شخص کی سمجھ میں آئیں گی جو اپنے اندر یہ مزاج رکھتا ہو کہ وہ واقعات پر غور کرے۔ اور ظاہر سے گزر کر باطن میں چھپی ہوئی حقیقتوں کو دیکھ سکے۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک کو پوری آزادی حاصل ہے۔ اس لیے موجودہ دنیا میں یہ ممکن ہے آدمی مقعدِ کِذب (جھوٹی نشست) پر بھی بیٹھ کر نمایاں ہوسکے۔ وہ جھوٹ کی زمین پر عزت اور مرتبہ کا مقام حاصل کرلے۔ مگر آخرت میں کسی کے لیے ایسا ممکن نہ ہوگا۔ آخرت میں عزت اور کامیابی صرف ان لوگوں کو ملے گی جو مقعد صدق (سچی نشست) پر بیٹھنے والے ہوں۔ جنہوں نے فی الواقع اپنے آپ کو سچ کی زمین پر کھڑاکیا ہو۔ آخرت میں خدا کی قدرت کامل کا ظہور اس بات کی ضمانت بن جائے گا کہ وہاں مقعد صدق کے سوا کسی اور مقعد پر بیٹھنا کسی کے کچھ کام نہ آسکے۔

دنیا کی ہر چیز کا ایک مقرر ضابطہ ہے۔ یہی اصول انسان کے معاملہ میں بھی ہے۔ انسان کو ایک مقرر ضابطہ کے تحت موجودہ دنیا میں عمل کا موقع دیا گیا ہے۔ اور مقرر ضابطہ ہی کے تحت اس کو عمل کے مقام سے ہٹا کر انجام کے مقام میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ خالق کی قدرت جو موجودہ کائنات میں ظاہر ہوئی ہے وہ یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ یہ معاملہ عین اپنے وقت پر بلا تاخیر پیش آئے گا۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں ریکارڈنگ کا نظام اس حقیقت کا پیشگی اعلان ہے کہ ہر ایک کے ساتھ عین وہی معاملہ کیا جائے گا جو اس کے عمل کے مطابق ہو۔ تاهم یہ باتیں اسی شخص کی سمجھ میں آئیں گی جو اپنے اندر یہ مزاج رکھتا ہو کہ وہ واقعات پر غور کرے۔ اور ظاہر سے گزر کر باطن میں چھپی ہوئی حقیقتوں کو دیکھ سکے۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک کو پوری آزادی حاصل ہے۔ اس لیے موجودہ دنیا میں یہ ممکن ہے آدمی مقعدِ کِذب (جھوٹی نشست) پر بھی بیٹھ کر نمایاں ہوسکے۔ وہ جھوٹ کی زمین پر عزت اور مرتبہ کا مقام حاصل کرلے۔ مگر آخرت میں کسی کے لیے ایسا ممکن نہ ہوگا۔ آخرت میں عزت اور کامیابی صرف ان لوگوں کو ملے گی جو مقعد صدق (سچی نشست) پر بیٹھنے والے ہوں۔ جنہوں نے فی الواقع اپنے آپ کو سچ کی زمین پر کھڑاکیا ہو۔ آخرت میں خدا کی قدرت کامل کا ظہور اس بات کی ضمانت بن جائے گا کہ وہاں مقعد صدق کے سوا کسی اور مقعد پر بیٹھنا کسی کے کچھ کام نہ آسکے۔

دنیا کی ہر چیز کا ایک مقرر ضابطہ ہے۔ یہی اصول انسان کے معاملہ میں بھی ہے۔ انسان کو ایک مقرر ضابطہ کے تحت موجودہ دنیا میں عمل کا موقع دیا گیا ہے۔ اور مقرر ضابطہ ہی کے تحت اس کو عمل کے مقام سے ہٹا کر انجام کے مقام میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ خالق کی قدرت جو موجودہ کائنات میں ظاہر ہوئی ہے وہ یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ یہ معاملہ عین اپنے وقت پر بلا تاخیر پیش آئے گا۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں ریکارڈنگ کا نظام اس حقیقت کا پیشگی اعلان ہے کہ ہر ایک کے ساتھ عین وہی معاملہ کیا جائے گا جو اس کے عمل کے مطابق ہو۔ تاهم یہ باتیں اسی شخص کی سمجھ میں آئیں گی جو اپنے اندر یہ مزاج رکھتا ہو کہ وہ واقعات پر غور کرے۔ اور ظاہر سے گزر کر باطن میں چھپی ہوئی حقیقتوں کو دیکھ سکے۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک کو پوری آزادی حاصل ہے۔ اس لیے موجودہ دنیا میں یہ ممکن ہے آدمی مقعدِ کِذب (جھوٹی نشست) پر بھی بیٹھ کر نمایاں ہوسکے۔ وہ جھوٹ کی زمین پر عزت اور مرتبہ کا مقام حاصل کرلے۔ مگر آخرت میں کسی کے لیے ایسا ممکن نہ ہوگا۔ آخرت میں عزت اور کامیابی صرف ان لوگوں کو ملے گی جو مقعد صدق (سچی نشست) پر بیٹھنے والے ہوں۔ جنہوں نے فی الواقع اپنے آپ کو سچ کی زمین پر کھڑاکیا ہو۔ آخرت میں خدا کی قدرت کامل کا ظہور اس بات کی ضمانت بن جائے گا کہ وہاں مقعد صدق کے سوا کسی اور مقعد پر بیٹھنا کسی کے کچھ کام نہ آسکے۔

دنیا کی ہر چیز کا ایک مقرر ضابطہ ہے۔ یہی اصول انسان کے معاملہ میں بھی ہے۔ انسان کو ایک مقرر ضابطہ کے تحت موجودہ دنیا میں عمل کا موقع دیا گیا ہے۔ اور مقرر ضابطہ ہی کے تحت اس کو عمل کے مقام سے ہٹا کر انجام کے مقام میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ خالق کی قدرت جو موجودہ کائنات میں ظاہر ہوئی ہے وہ یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ یہ معاملہ عین اپنے وقت پر بلا تاخیر پیش آئے گا۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں ریکارڈنگ کا نظام اس حقیقت کا پیشگی اعلان ہے کہ ہر ایک کے ساتھ عین وہی معاملہ کیا جائے گا جو اس کے عمل کے مطابق ہو۔ تاهم یہ باتیں اسی شخص کی سمجھ میں آئیں گی جو اپنے اندر یہ مزاج رکھتا ہو کہ وہ واقعات پر غور کرے۔ اور ظاہر سے گزر کر باطن میں چھپی ہوئی حقیقتوں کو دیکھ سکے۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک کو پوری آزادی حاصل ہے۔ اس لیے موجودہ دنیا میں یہ ممکن ہے آدمی مقعدِ کِذب (جھوٹی نشست) پر بھی بیٹھ کر نمایاں ہوسکے۔ وہ جھوٹ کی زمین پر عزت اور مرتبہ کا مقام حاصل کرلے۔ مگر آخرت میں کسی کے لیے ایسا ممکن نہ ہوگا۔ آخرت میں عزت اور کامیابی صرف ان لوگوں کو ملے گی جو مقعد صدق (سچی نشست) پر بیٹھنے والے ہوں۔ جنہوں نے فی الواقع اپنے آپ کو سچ کی زمین پر کھڑاکیا ہو۔ آخرت میں خدا کی قدرت کامل کا ظہور اس بات کی ضمانت بن جائے گا کہ وہاں مقعد صدق کے سوا کسی اور مقعد پر بیٹھنا کسی کے کچھ کام نہ آسکے۔

دنیا کی ہر چیز کا ایک مقرر ضابطہ ہے۔ یہی اصول انسان کے معاملہ میں بھی ہے۔ انسان کو ایک مقرر ضابطہ کے تحت موجودہ دنیا میں عمل کا موقع دیا گیا ہے۔ اور مقرر ضابطہ ہی کے تحت اس کو عمل کے مقام سے ہٹا کر انجام کے مقام میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ خالق کی قدرت جو موجودہ کائنات میں ظاہر ہوئی ہے وہ یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ یہ معاملہ عین اپنے وقت پر بلا تاخیر پیش آئے گا۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں ریکارڈنگ کا نظام اس حقیقت کا پیشگی اعلان ہے کہ ہر ایک کے ساتھ عین وہی معاملہ کیا جائے گا جو اس کے عمل کے مطابق ہو۔ تاهم یہ باتیں اسی شخص کی سمجھ میں آئیں گی جو اپنے اندر یہ مزاج رکھتا ہو کہ وہ واقعات پر غور کرے۔ اور ظاہر سے گزر کر باطن میں چھپی ہوئی حقیقتوں کو دیکھ سکے۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک کو پوری آزادی حاصل ہے۔ اس لیے موجودہ دنیا میں یہ ممکن ہے آدمی مقعدِ کِذب (جھوٹی نشست) پر بھی بیٹھ کر نمایاں ہوسکے۔ وہ جھوٹ کی زمین پر عزت اور مرتبہ کا مقام حاصل کرلے۔ مگر آخرت میں کسی کے لیے ایسا ممکن نہ ہوگا۔ آخرت میں عزت اور کامیابی صرف ان لوگوں کو ملے گی جو مقعد صدق (سچی نشست) پر بیٹھنے والے ہوں۔ جنہوں نے فی الواقع اپنے آپ کو سچ کی زمین پر کھڑاکیا ہو۔ آخرت میں خدا کی قدرت کامل کا ظہور اس بات کی ضمانت بن جائے گا کہ وہاں مقعد صدق کے سوا کسی اور مقعد پر بیٹھنا کسی کے کچھ کام نہ آسکے۔

دنیا کی ہر چیز کا ایک مقرر ضابطہ ہے۔ یہی اصول انسان کے معاملہ میں بھی ہے۔ انسان کو ایک مقرر ضابطہ کے تحت موجودہ دنیا میں عمل کا موقع دیا گیا ہے۔ اور مقرر ضابطہ ہی کے تحت اس کو عمل کے مقام سے ہٹا کر انجام کے مقام میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ خالق کی قدرت جو موجودہ کائنات میں ظاہر ہوئی ہے وہ یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ یہ معاملہ عین اپنے وقت پر بلا تاخیر پیش آئے گا۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں ریکارڈنگ کا نظام اس حقیقت کا پیشگی اعلان ہے کہ ہر ایک کے ساتھ عین وہی معاملہ کیا جائے گا جو اس کے عمل کے مطابق ہو۔ تاهم یہ باتیں اسی شخص کی سمجھ میں آئیں گی جو اپنے اندر یہ مزاج رکھتا ہو کہ وہ واقعات پر غور کرے۔ اور ظاہر سے گزر کر باطن میں چھپی ہوئی حقیقتوں کو دیکھ سکے۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک کو پوری آزادی حاصل ہے۔ اس لیے موجودہ دنیا میں یہ ممکن ہے آدمی مقعدِ کِذب (جھوٹی نشست) پر بھی بیٹھ کر نمایاں ہوسکے۔ وہ جھوٹ کی زمین پر عزت اور مرتبہ کا مقام حاصل کرلے۔ مگر آخرت میں کسی کے لیے ایسا ممکن نہ ہوگا۔ آخرت میں عزت اور کامیابی صرف ان لوگوں کو ملے گی جو مقعد صدق (سچی نشست) پر بیٹھنے والے ہوں۔ جنہوں نے فی الواقع اپنے آپ کو سچ کی زمین پر کھڑاکیا ہو۔ آخرت میں خدا کی قدرت کامل کا ظہور اس بات کی ضمانت بن جائے گا کہ وہاں مقعد صدق کے سوا کسی اور مقعد پر بیٹھنا کسی کے کچھ کام نہ آسکے۔unverified

خدا موجودہ دنیا میں ایسے واقعات برپا کرتا ہے جو قیامت کو پیشگی طور پر قابلِ فہم بنانے والے ہوں۔ اسی قسم کا ایک واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہجرت سے چند سال پہلے پیش آیا۔ جب کہ لوگوں نے دیکھا کہ چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا کہ دیکھو، جس طرح چاند ٹوٹا ہے اسی طرح پوری دنیا ٹوٹے گی اور پھر نئی دنیا بنائی جائے گی۔ اس طرح کے واقعات میں بلاشبہ سبق ہے۔ مگر ان واقعات سے سبق لینا اسی وقت ممکن ہے جبکہ آدمی اپنی عقل سے اس کے بارے میں سوچے۔ جن لوگوں کے اوپر ان کی خواہشات غالب آگئی ہوں وہ ان کو دیکھ کر کہہ دیں گے کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ وہ واقعات کی توجیہہ اپنی خواہش کے مطابق کرکے ان کو اپنے لیے غیر موثر بنا لیں گے۔ ایسے لوگوں کے لیے بڑی سے بڑی دلیل بھی بے معنی ہے۔ وہ اسی وقت ہوش میں آئیں گے جب کہ قیامت کی چنگھاڑ ظاہر ہو اور ان سے ہوش میں آنے کا موقع چھین لے۔original + quote

خدا موجودہ دنیا میں ایسے واقعات برپا کرتا ہے جو قیامت کو پیشگی طور پر قابلِ فہم بنانے والے ہوں۔ اسی قسم کا ایک واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہجرت سے چند سال پہلے پیش آیا۔ جب کہ لوگوں نے دیکھا کہ چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا کہ دیکھو، جس طرح چاند ٹوٹا ہے اسی طرح پوری دنیا ٹوٹے گی اور پھر نئی دنیا بنائی جائے گی۔ اس طرح کے واقعات میں بلاشبہ سبق ہے۔ مگر ان واقعات سے سبق لینا اسی وقت ممکن ہے جبکہ آدمی اپنی عقل سے اس کے بارے میں سوچے۔ جن لوگوں کے اوپر ان کی خواہشات غالب آگئی ہوں وہ ان کو دیکھ کر کہہ دیں گے کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ وہ واقعات کی توجیہہ اپنی خواہش کے مطابق کرکے ان کو اپنے لیے غیر موثر بنا لیں گے۔ ایسے لوگوں کے لیے بڑی سے بڑی دلیل بھی بے معنی ہے۔ وہ اسی وقت ہوش میں آئیں گے جب کہ قیامت کی چنگھاڑ ظاہر ہو اور ان سے ہوش میں آنے کا موقع چھین لے۔

خدا موجودہ دنیا میں ایسے واقعات برپا کرتا ہے جو قیامت کو پیشگی طور پر قابلِ فہم بنانے والے ہوں۔ اسی قسم کا ایک واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہجرت سے چند سال پہلے پیش آیا۔ جب کہ لوگوں نے دیکھا کہ چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا کہ دیکھو، جس طرح چاند ٹوٹا ہے اسی طرح پوری دنیا ٹوٹے گی اور پھر نئی دنیا بنائی جائے گی۔ اس طرح کے واقعات میں بلاشبہ سبق ہے۔ مگر ان واقعات سے سبق لینا اسی وقت ممکن ہے جبکہ آدمی اپنی عقل سے اس کے بارے میں سوچے۔ جن لوگوں کے اوپر ان کی خواہشات غالب آگئی ہوں وہ ان کو دیکھ کر کہہ دیں گے کہ ’’یہ جادو ہے‘‘ وہ واقعات کی توجیہہ اپنی خواہش کے مطابق کرکے ان کو اپنے لیے غیر موثر بنا لیں گے۔ ایسے لوگوں کے لیے بڑی سے بڑی دلیل بھی بے معنی ہے۔ وہ اسی وقت ہوش میں آئیں گے جب کہ قیامت کی چنگھاڑ ظاہر ہو اور ان سے ہوش میں آنے کا موقع چھین لے۔original + quote

قوم عاد جب خدا کے عذاب کی مستحق ہوگئی تو خدا نے ان پر ایسی تیز آندھی بھیجی جس میں لوگوں کا زمین پر ٹھہرنا مشکل ہوگیا۔ آندھی انہیں اس طرح اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی کہ کوئی دیوار سے جا کر ٹکراتا تھا اور کوئی درخت سے۔ کسی کی چھت اس کے سر پر گر پڑی۔ یہ اس بات کا مظاہرہ تھا کہ انسان بالکل بے بس ہے، خدا کے مقابلہ میں اس کو کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔