Tazkirul Quran (Urdu)

53. An-Najm

Tazkirul Quran (Urdu) — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (114 chapters)
  1. 1. Al-Faatiha
  2. 2. Al-Baqara
  3. 3. Aal-i-Imraan
  4. 4. An-Nisaa
  5. 5. Al-Maaida
  6. 6. Al-An'aam
  7. 7. Al-A'raaf
  8. 8. Al-Anfaal
  9. 9. At-Tawba
  10. 10. Yunus
  11. 11. Hud
  12. 12. Yusuf
  13. 13. Ar-Ra'd
  14. 14. Ibrahim
  15. 15. Al-Hijr
  16. 16. An-Nahl
  17. 17. Al-Israa
  18. 18. Al-Kahf
  19. 19. Maryam
  20. 20. Taa-Haa
  21. 21. Al-Anbiyaa
  22. 22. Al-Hajj
  23. 23. Al-Muminoon
  24. 24. An-Noor
  25. 25. Al-Furqaan
  26. 26. Ash-Shu'araa
  27. 27. An-Naml
  28. 28. Al-Qasas
  29. 29. Al-Ankaboot
  30. 30. Ar-Room
  31. 31. Luqman
  32. 32. As-Sajda
  33. 33. Al-Ahzaab
  34. 34. Saba
  35. 35. Faatir
  36. 36. Yaseen
  37. 37. As-Saaffaat
  38. 38. Saad
  39. 39. Az-Zumar
  40. 40. Ghafir
  41. 41. Fussilat
  42. 42. Ash-Shura
  43. 43. Az-Zukhruf
  44. 44. Ad-Dukhaan
  45. 45. Al-Jaathiya
  46. 46. Al-Ahqaf
  47. 47. Muhammad
  48. 48. Al-Fath
  49. 49. Al-Hujuraat
  50. 50. Qaaf
  51. 51. Adh-Dhaariyat
  52. 52. At-Tur
  53. 53. An-Najm
  54. 54. Al-Qamar
  55. 55. Ar-Rahmaan
  56. 56. Al-Waaqia
  57. 57. Al-Hadid
  58. 58. Al-Mujaadila
  59. 59. Al-Hashr
  60. 60. Al-Mumtahana
  61. 61. As-Saff
  62. 62. Al-Jumu'a
  63. 63. Al-Munaafiqoon
  64. 64. At-Taghaabun
  65. 65. At-Talaaq
  66. 66. At-Tahrim
  67. 67. Al-Mulk
  68. 68. Al-Qalam
  69. 69. Al-Haaqqa
  70. 70. Al-Ma'aarij
  71. 71. Nooh
  72. 72. Al-Jinn
  73. 73. Al-Muzzammil
  74. 74. Al-Muddaththir
  75. 75. Al-Qiyaama
  76. 76. Al-Insaan
  77. 77. Al-Mursalaat
  78. 78. An-Naba
  79. 79. An-Naazi'aat
  80. 80. Abasa
  81. 81. At-Takwir
  82. 82. Al-Infitaar
  83. 83. Al-Mutaffifin
  84. 84. Al-Inshiqaaq
  85. 85. Al-Burooj
  86. 86. At-Taariq
  87. 87. Al-A'laa
  88. 88. Al-Ghaashiya
  89. 89. Al-Fajr
  90. 90. Al-Balad
  91. 91. Ash-Shams
  92. 92. Al-Lail
  93. 93. Ad-Dhuhaa
  94. 94. Ash-Sharh
  95. 95. At-Tin
  96. 96. Al-Alaq
  97. 97. Al-Qadr
  98. 98. Al-Bayyina
  99. 99. Az-Zalzala
  100. 100. Al-Aadiyaat
  101. 101. Al-Qaari'a
  102. 102. At-Takaathur
  103. 103. Al-Asr
  104. 104. Al-Humaza
  105. 105. Al-Fil
  106. 106. Quraish
  107. 107. Al-Maa'un
  108. 108. Al-Kawthar
  109. 109. Al-Kaafiroon
  110. 110. An-Nasr
  111. 111. Al-Masad
  112. 112. Al-Ikhlaas
  113. 113. Al-Falaq
  114. 114. An-Naas

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

پتھر کے بت بنا کر ان کو پوجنا، فرشتوں کو خدا کی بیٹی بتانا، سفارشوں کی بنیاد پر جنت کی امید رکھنا یہ سب غیر سنجیدہ عقیدے ہیں۔ اور غیر سنجیدہ عقیدے ہمیشہ اس ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ خوف لا یعنی کلام کا قاتل ہے۔ اور جو شخص بے خوف ہو اس کا دماغ لا یعنی کلام کا کارخانہ بن جائے گا۔ جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ دلیل اور معقولیت پر دھیان نہیں ديتے، اس لیے وہ امر حق کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ ان سے اعراض کیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہر شخص کی اندرونی حالت کو جانتا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر شخص سے معاملہ فرمائے گا۔

پتھر کے بت بنا کر ان کو پوجنا، فرشتوں کو خدا کی بیٹی بتانا، سفارشوں کی بنیاد پر جنت کی امید رکھنا یہ سب غیر سنجیدہ عقیدے ہیں۔ اور غیر سنجیدہ عقیدے ہمیشہ اس ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ خوف لا یعنی کلام کا قاتل ہے۔ اور جو شخص بے خوف ہو اس کا دماغ لا یعنی کلام کا کارخانہ بن جائے گا۔ جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ دلیل اور معقولیت پر دھیان نہیں ديتے، اس لیے وہ امر حق کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ ان سے اعراض کیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہر شخص کی اندرونی حالت کو جانتا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر شخص سے معاملہ فرمائے گا۔

پتھر کے بت بنا کر ان کو پوجنا، فرشتوں کو خدا کی بیٹی بتانا، سفارشوں کی بنیاد پر جنت کی امید رکھنا یہ سب غیر سنجیدہ عقیدے ہیں۔ اور غیر سنجیدہ عقیدے ہمیشہ اس ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ خوف لا یعنی کلام کا قاتل ہے۔ اور جو شخص بے خوف ہو اس کا دماغ لا یعنی کلام کا کارخانہ بن جائے گا۔ جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ دلیل اور معقولیت پر دھیان نہیں ديتے، اس لیے وہ امر حق کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ ان سے اعراض کیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہر شخص کی اندرونی حالت کو جانتا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر شخص سے معاملہ فرمائے گا۔unverified

پتھر کے بت بنا کر ان کو پوجنا، فرشتوں کو خدا کی بیٹی بتانا، سفارشوں کی بنیاد پر جنت کی امید رکھنا یہ سب غیر سنجیدہ عقیدے ہیں۔ اور غیر سنجیدہ عقیدے ہمیشہ اس ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ خوف لا یعنی کلام کا قاتل ہے۔ اور جو شخص بے خوف ہو اس کا دماغ لا یعنی کلام کا کارخانہ بن جائے گا۔ جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ دلیل اور معقولیت پر دھیان نہیں ديتے، اس لیے وہ امر حق کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ ان سے اعراض کیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہر شخص کی اندرونی حالت کو جانتا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر شخص سے معاملہ فرمائے گا۔

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

پتھر کے بت بنا کر ان کو پوجنا، فرشتوں کو خدا کی بیٹی بتانا، سفارشوں کی بنیاد پر جنت کی امید رکھنا یہ سب غیر سنجیدہ عقیدے ہیں۔ اور غیر سنجیدہ عقیدے ہمیشہ اس ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو پکڑ کا خوف نہ رکھتا ہو۔ خوف لا یعنی کلام کا قاتل ہے۔ اور جو شخص بے خوف ہو اس کا دماغ لا یعنی کلام کا کارخانہ بن جائے گا۔ جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے لوگ دلیل اور معقولیت پر دھیان نہیں ديتے، اس لیے وہ امر حق کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی ایک ہی ممکن تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ ان سے اعراض کیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ ہر شخص کی اندرونی حالت کو جانتا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر شخص سے معاملہ فرمائے گا۔

کائنات اپنے حد درجہ محکم نظام کے ساتھ بتا رہی ہے کہ اس کا خالق و مالک بے حد طاقت ور ہے۔ یہی واقعہ یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ وہ انسان کو پکڑے گا اور جب وہ انسان کو پکڑے گا تو کسی بھی شخص کے لیے اس کی پکڑ سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔ انسان کو بشری کمزوریوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے انسان سے فرشتوں جیسی پاکیزگی کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پوری طرح بتا دیا ہے کہ اس کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ تاہم انسان کے لیے ’’لَمَمَ‘‘ کی معافی ہے۔ یعنی وقتی جذبہ کے تحت کسی برائی میں پڑجانا، بشرطیکہ آدمی فوراً بعد ہی اس کو محسوس کرے اور شرمندہ ہو کر اپنے رب سے معافی مانگے۔

کائنات اپنے حد درجہ محکم نظام کے ساتھ بتا رہی ہے کہ اس کا خالق و مالک بے حد طاقت ور ہے۔ یہی واقعہ یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ وہ انسان کو پکڑے گا اور جب وہ انسان کو پکڑے گا تو کسی بھی شخص کے لیے اس کی پکڑ سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔ انسان کو بشری کمزوریوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے انسان سے فرشتوں جیسی پاکیزگی کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پوری طرح بتا دیا ہے کہ اس کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ تاہم انسان کے لیے ’’لَمَمَ‘‘ کی معافی ہے۔ یعنی وقتی جذبہ کے تحت کسی برائی میں پڑجانا، بشرطیکہ آدمی فوراً بعد ہی اس کو محسوس کرے اور شرمندہ ہو کر اپنے رب سے معافی مانگے۔

بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔ پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔

بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔ پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔

بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔ پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔

بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔ پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔

بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔ پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔

بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔ پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔

بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔ پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔ پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔

بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔ پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔

بہت سے لوگ ہیں جو تھوڑا سا حق کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پھر ان کے مفادات ان پر غالب آتے ہیں اور وہ دوبارہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی غلط روش کی تاویل کے لیے طرح طرح کے خوبصورت عقیدے بنا لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کے جرم کو بڑھاتا ہے، کیوں کہ یہ غلطی پر سرکشی کے اضافہ کے ہم معنی ہے۔ پیغمبروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو حقیقت کھولی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو لازماً اپنے عمل کا بدلہ پانا ہے، نہ کوئی شخص اپنے عمل کے انجام سے بچ سکتا اور نہ کوئی دوسرا شخص کسی کو بچانے والا بن سکتا۔ جو لوگ اس پیغمبرانہ چیتاونی سے متنبہ نہ ہوں، ان سے بڑا نادان خدا کی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔original + quote

دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔original + quote

دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔

دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔

دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔

دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔original + quote

دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔original + quote

دنیا کے ہر واقعہ کا تعلق ایسے ماورائی اسباب سے ہوتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی اور اس کے ظہور پر قادر نہیں ہوسکتا۔ خوشی اور غم، موت وحیات، تخلیقی نظام، امیری اور غریبی، سب ایک بلند و برتر طاقت کا کرشمہ ہیں۔ قدیم انسان ستاروں کو سبب حیات سمجھتا تھا، موجودہ زمانہ میں قانون فطرت کو سبب حیات سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اسباب کے اوپر بھی ایک سبب ہے اور وہ خدائے رب العالمین ہے۔ پھر اس کے سوا کسی اور کو مرکز توجہ بنانا انسان کے لیے کس طرح جائز ہوسکتا ہے۔original + quote

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

ایک قوم ترقی کرتی ہے۔ وہ دوسری قوموں سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ بظاہر ناممکن نظر آنے لگتا ہے کہ کوئی اس کو مغلوب کرسکے۔ اس کے بعد ایسے اسباب ہوتے ہیں کہ وہ قوم هلاک ہوجاتی ہے یا تنزل کا شکار ہو کر تاریخ گزشتہ کا موضوع بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانوں کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے، جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ تاریخ کے یہ واضح واقعات بھی اگر انسان کو سبق نہ دیں تو وہ کون سا واقعہ ہوگا جس سے انسان اپنے لیے سبق لے۔

ایک قوم ترقی کرتی ہے۔ وہ دوسری قوموں سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ بظاہر ناممکن نظر آنے لگتا ہے کہ کوئی اس کو مغلوب کرسکے۔ اس کے بعد ایسے اسباب ہوتے ہیں کہ وہ قوم هلاک ہوجاتی ہے یا تنزل کا شکار ہو کر تاریخ گزشتہ کا موضوع بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانوں کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے، جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ تاریخ کے یہ واضح واقعات بھی اگر انسان کو سبق نہ دیں تو وہ کون سا واقعہ ہوگا جس سے انسان اپنے لیے سبق لے۔

ایک قوم ترقی کرتی ہے۔ وہ دوسری قوموں سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ بظاہر ناممکن نظر آنے لگتا ہے کہ کوئی اس کو مغلوب کرسکے۔ اس کے بعد ایسے اسباب ہوتے ہیں کہ وہ قوم هلاک ہوجاتی ہے یا تنزل کا شکار ہو کر تاریخ گزشتہ کا موضوع بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانوں کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے، جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ تاریخ کے یہ واضح واقعات بھی اگر انسان کو سبق نہ دیں تو وہ کون سا واقعہ ہوگا جس سے انسان اپنے لیے سبق لے۔

ایک قوم ترقی کرتی ہے۔ وہ دوسری قوموں سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ بظاہر ناممکن نظر آنے لگتا ہے کہ کوئی اس کو مغلوب کرسکے۔ اس کے بعد ایسے اسباب ہوتے ہیں کہ وہ قوم هلاک ہوجاتی ہے یا تنزل کا شکار ہو کر تاریخ گزشتہ کا موضوع بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانوں کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے، جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ تاریخ کے یہ واضح واقعات بھی اگر انسان کو سبق نہ دیں تو وہ کون سا واقعہ ہوگا جس سے انسان اپنے لیے سبق لے۔

ایک قوم ترقی کرتی ہے۔ وہ دوسری قوموں سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ بظاہر ناممکن نظر آنے لگتا ہے کہ کوئی اس کو مغلوب کرسکے۔ اس کے بعد ایسے اسباب ہوتے ہیں کہ وہ قوم هلاک ہوجاتی ہے یا تنزل کا شکار ہو کر تاریخ گزشتہ کا موضوع بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانوں کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے، جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ تاریخ کے یہ واضح واقعات بھی اگر انسان کو سبق نہ دیں تو وہ کون سا واقعہ ہوگا جس سے انسان اپنے لیے سبق لے۔

ایک قوم ترقی کرتی ہے۔ وہ دوسری قوموں سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ بظاہر ناممکن نظر آنے لگتا ہے کہ کوئی اس کو مغلوب کرسکے۔ اس کے بعد ایسے اسباب ہوتے ہیں کہ وہ قوم هلاک ہوجاتی ہے یا تنزل کا شکار ہو کر تاریخ گزشتہ کا موضوع بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانوں کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے، جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے۔ تاریخ کے یہ واضح واقعات بھی اگر انسان کو سبق نہ دیں تو وہ کون سا واقعہ ہوگا جس سے انسان اپنے لیے سبق لے۔

پیغمبروں کی تاریخ جو قرآن میں بتائی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کا انکار اور اس کا برا انجام دونوں ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ آدمی کے اندر اگر احساس ہو تو وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہی خدا کی پکڑ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھنے لگے، اور سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے۔ مگر انسان اتنا زیادہ مدہوش ہے کہ اپنے سامنے کی چیز بھی اس کو نظر نہیں آتی۔

پیغمبروں کی تاریخ جو قرآن میں بتائی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کا انکار اور اس کا برا انجام دونوں ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ آدمی کے اندر اگر احساس ہو تو وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہی خدا کی پکڑ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھنے لگے، اور سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے۔ مگر انسان اتنا زیادہ مدہوش ہے کہ اپنے سامنے کی چیز بھی اس کو نظر نہیں آتی۔

پیغمبروں کی تاریخ جو قرآن میں بتائی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کا انکار اور اس کا برا انجام دونوں ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ آدمی کے اندر اگر احساس ہو تو وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہی خدا کی پکڑ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھنے لگے، اور سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے۔ مگر انسان اتنا زیادہ مدہوش ہے کہ اپنے سامنے کی چیز بھی اس کو نظر نہیں آتی۔

پیغمبروں کی تاریخ جو قرآن میں بتائی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کا انکار اور اس کا برا انجام دونوں ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ آدمی کے اندر اگر احساس ہو تو وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہی خدا کی پکڑ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھنے لگے، اور سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے۔ مگر انسان اتنا زیادہ مدہوش ہے کہ اپنے سامنے کی چیز بھی اس کو نظر نہیں آتی۔

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

پیغمبروں کی تاریخ جو قرآن میں بتائی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کا انکار اور اس کا برا انجام دونوں ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ آدمی کے اندر اگر احساس ہو تو وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہی خدا کی پکڑ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھنے لگے، اور سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے۔ مگر انسان اتنا زیادہ مدہوش ہے کہ اپنے سامنے کی چیز بھی اس کو نظر نہیں آتی۔original + quote

پیغمبروں کی تاریخ جو قرآن میں بتائی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کا انکار اور اس کا برا انجام دونوں ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ آدمی کے اندر اگر احساس ہو تو وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہی خدا کی پکڑ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھنے لگے، اور سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے۔ مگر انسان اتنا زیادہ مدہوش ہے کہ اپنے سامنے کی چیز بھی اس کو نظر نہیں آتی۔

پیغمبروں کی تاریخ جو قرآن میں بتائی گئی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کا انکار اور اس کا برا انجام دونوں ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے قریب ہیں۔ آدمی کے اندر اگر احساس ہو تو وہ انکار اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہی خدا کی پکڑ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھنے لگے، اور سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر اطاعت کا طریقہ اختیار کرلے۔ مگر انسان اتنا زیادہ مدہوش ہے کہ اپنے سامنے کی چیز بھی اس کو نظر نہیں آتی۔

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote

لات اور عزی اور منات قدیم عرب کے بت تھے۔ لات طائف میں تھا۔ عزیٰ مکہ کے قریب نخلہ میں اور منات مدینہ کے قریب قُدَید میں۔ یہ تینوں ان کے عقیدہ کے مطابق خدا کی بیٹیاں تھیں، اور وہ ان کو پوجتے تھے۔ اس قسم کا عقیدہ بلا شبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ خود اپنی تردید آپ ہے۔ ان مشرکین کا حال یہ تھا کہ وہ بیٹیوں کو اپنے لیے ذلت کی چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ غور کرو، خدا جو بیٹا اور بیٹی دونوں کا خالق ہے، وہ اپنے لیے اولاد بناتا تو بیٹیاں بناتا۔ ’’کیا انسان وہ سب پا لیتا ہے جو وہ چاہے‘‘ —اس کی تشریح کرتے ہوئے شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں ’’یعنی بت پوجے سےکیا ملتا ہے، ملے وہ جو اللہ دے‘‘۔original + quote