Tazkirul Quran (Urdu)

51. Adh-Dhaariyat

Tazkirul Quran (Urdu) — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (114 chapters)
  1. 1. Al-Faatiha
  2. 2. Al-Baqara
  3. 3. Aal-i-Imraan
  4. 4. An-Nisaa
  5. 5. Al-Maaida
  6. 6. Al-An'aam
  7. 7. Al-A'raaf
  8. 8. Al-Anfaal
  9. 9. At-Tawba
  10. 10. Yunus
  11. 11. Hud
  12. 12. Yusuf
  13. 13. Ar-Ra'd
  14. 14. Ibrahim
  15. 15. Al-Hijr
  16. 16. An-Nahl
  17. 17. Al-Israa
  18. 18. Al-Kahf
  19. 19. Maryam
  20. 20. Taa-Haa
  21. 21. Al-Anbiyaa
  22. 22. Al-Hajj
  23. 23. Al-Muminoon
  24. 24. An-Noor
  25. 25. Al-Furqaan
  26. 26. Ash-Shu'araa
  27. 27. An-Naml
  28. 28. Al-Qasas
  29. 29. Al-Ankaboot
  30. 30. Ar-Room
  31. 31. Luqman
  32. 32. As-Sajda
  33. 33. Al-Ahzaab
  34. 34. Saba
  35. 35. Faatir
  36. 36. Yaseen
  37. 37. As-Saaffaat
  38. 38. Saad
  39. 39. Az-Zumar
  40. 40. Ghafir
  41. 41. Fussilat
  42. 42. Ash-Shura
  43. 43. Az-Zukhruf
  44. 44. Ad-Dukhaan
  45. 45. Al-Jaathiya
  46. 46. Al-Ahqaf
  47. 47. Muhammad
  48. 48. Al-Fath
  49. 49. Al-Hujuraat
  50. 50. Qaaf
  51. 51. Adh-Dhaariyat
  52. 52. At-Tur
  53. 53. An-Najm
  54. 54. Al-Qamar
  55. 55. Ar-Rahmaan
  56. 56. Al-Waaqia
  57. 57. Al-Hadid
  58. 58. Al-Mujaadila
  59. 59. Al-Hashr
  60. 60. Al-Mumtahana
  61. 61. As-Saff
  62. 62. Al-Jumu'a
  63. 63. Al-Munaafiqoon
  64. 64. At-Taghaabun
  65. 65. At-Talaaq
  66. 66. At-Tahrim
  67. 67. Al-Mulk
  68. 68. Al-Qalam
  69. 69. Al-Haaqqa
  70. 70. Al-Ma'aarij
  71. 71. Nooh
  72. 72. Al-Jinn
  73. 73. Al-Muzzammil
  74. 74. Al-Muddaththir
  75. 75. Al-Qiyaama
  76. 76. Al-Insaan
  77. 77. Al-Mursalaat
  78. 78. An-Naba
  79. 79. An-Naazi'aat
  80. 80. Abasa
  81. 81. At-Takwir
  82. 82. Al-Infitaar
  83. 83. Al-Mutaffifin
  84. 84. Al-Inshiqaaq
  85. 85. Al-Burooj
  86. 86. At-Taariq
  87. 87. Al-A'laa
  88. 88. Al-Ghaashiya
  89. 89. Al-Fajr
  90. 90. Al-Balad
  91. 91. Ash-Shams
  92. 92. Al-Lail
  93. 93. Ad-Dhuhaa
  94. 94. Ash-Sharh
  95. 95. At-Tin
  96. 96. Al-Alaq
  97. 97. Al-Qadr
  98. 98. Al-Bayyina
  99. 99. Az-Zalzala
  100. 100. Al-Aadiyaat
  101. 101. Al-Qaari'a
  102. 102. At-Takaathur
  103. 103. Al-Asr
  104. 104. Al-Humaza
  105. 105. Al-Fil
  106. 106. Quraish
  107. 107. Al-Maa'un
  108. 108. Al-Kawthar
  109. 109. Al-Kaafiroon
  110. 110. An-Nasr
  111. 111. Al-Masad
  112. 112. Al-Ikhlaas
  113. 113. Al-Falaq
  114. 114. An-Naas

یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔ آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔

کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔

کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔

کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔

کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔

کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔

کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔

کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔

کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔

کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔

کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔

یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔ آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ موجودہ معلوم دنیا بعد کو آنے والی نامعلوم دنیا کی نشانی بن گئی ہے۔ زمین میں پھیلے ہوئے مادی واقعات اور انسان کے اندر چھپے ہوئے احساسات دونوں بالواسطہ انداز میں اس واقعہ کی پیشگی خبر دے رہے ہیں، جو موت کے بعد براہ راست انداز میں انسان کے سامنے آنے والا ہے۔ انہیں نشانیوں میں سے ایک نشانی نطق (بولنا) ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں جو کچھ ملے گا وہ خود آدمی کے اپنے اعمال ہوں گے جو اس کی طرف لوٹا دیے جائیں گے (إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ تُرَدُّ إِلَيْكُمْ) حلية الأولياء، جلد5، صفحہ 125 ۔گویا آخرت کی دنیا موجودہ دنیا ہی کا مثنی (counterpart) ہے۔ آدمی کا نطق اسی امکان کا ایک جزئی مظاہرہ ہے۔ آدمی کی آواز ٹیپ پر ریکارڈ کردی جائے اور پھر ٹیپ کو بجایا جائے تو عین وہی آواز اس سے نکلتی ہے جو انسان کی آواز تھی۔ ٹیپ کی آواز انسان کی اصل آواز کا مثنی (counterpart) ہے۔ اس طرح آواز جزئی سطح پر اس واقعہ کا تجربہ کرا رہی ہے جو کلی سطح پر آخرت میں ظاہر ہونے والا ہے۔ ’’وہ یقینی ہے تمہارے نطق کی طرح‘‘ یعنی جب تمہارے نطق کی تکرار ممکن ہے تو تمہارے وجود کی تکرار کیوں ممکن نہیں۔ انسانی ہستی کے ایک جزء کی کامل تکرار کا مشاہدہ اسی دنیا میں ہو رہا ہے، اسی سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ انسانی ہستی کے کامل مجموعہ کی تکرار بھی ہوسکتی ہے۔original + quote

اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ موجودہ معلوم دنیا بعد کو آنے والی نامعلوم دنیا کی نشانی بن گئی ہے۔ زمین میں پھیلے ہوئے مادی واقعات اور انسان کے اندر چھپے ہوئے احساسات دونوں بالواسطہ انداز میں اس واقعہ کی پیشگی خبر دے رہے ہیں، جو موت کے بعد براہ راست انداز میں انسان کے سامنے آنے والا ہے۔ انہیں نشانیوں میں سے ایک نشانی نطق (بولنا) ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں جو کچھ ملے گا وہ خود آدمی کے اپنے اعمال ہوں گے جو اس کی طرف لوٹا دیے جائیں گے (إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ تُرَدُّ إِلَيْكُمْ) حلية الأولياء، جلد5، صفحہ 125 ۔گویا آخرت کی دنیا موجودہ دنیا ہی کا مثنی (counterpart) ہے۔ آدمی کا نطق اسی امکان کا ایک جزئی مظاہرہ ہے۔ آدمی کی آواز ٹیپ پر ریکارڈ کردی جائے اور پھر ٹیپ کو بجایا جائے تو عین وہی آواز اس سے نکلتی ہے جو انسان کی آواز تھی۔ ٹیپ کی آواز انسان کی اصل آواز کا مثنی (counterpart) ہے۔ اس طرح آواز جزئی سطح پر اس واقعہ کا تجربہ کرا رہی ہے جو کلی سطح پر آخرت میں ظاہر ہونے والا ہے۔ ’’وہ یقینی ہے تمہارے نطق کی طرح‘‘ یعنی جب تمہارے نطق کی تکرار ممکن ہے تو تمہارے وجود کی تکرار کیوں ممکن نہیں۔ انسانی ہستی کے ایک جزء کی کامل تکرار کا مشاہدہ اسی دنیا میں ہو رہا ہے، اسی سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ انسانی ہستی کے کامل مجموعہ کی تکرار بھی ہوسکتی ہے۔original + quote

اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ موجودہ معلوم دنیا بعد کو آنے والی نامعلوم دنیا کی نشانی بن گئی ہے۔ زمین میں پھیلے ہوئے مادی واقعات اور انسان کے اندر چھپے ہوئے احساسات دونوں بالواسطہ انداز میں اس واقعہ کی پیشگی خبر دے رہے ہیں، جو موت کے بعد براہ راست انداز میں انسان کے سامنے آنے والا ہے۔ انہیں نشانیوں میں سے ایک نشانی نطق (بولنا) ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں جو کچھ ملے گا وہ خود آدمی کے اپنے اعمال ہوں گے جو اس کی طرف لوٹا دیے جائیں گے (إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ تُرَدُّ إِلَيْكُمْ) حلية الأولياء، جلد5، صفحہ 125 ۔گویا آخرت کی دنیا موجودہ دنیا ہی کا مثنی (counterpart) ہے۔ آدمی کا نطق اسی امکان کا ایک جزئی مظاہرہ ہے۔ آدمی کی آواز ٹیپ پر ریکارڈ کردی جائے اور پھر ٹیپ کو بجایا جائے تو عین وہی آواز اس سے نکلتی ہے جو انسان کی آواز تھی۔ ٹیپ کی آواز انسان کی اصل آواز کا مثنی (counterpart) ہے۔ اس طرح آواز جزئی سطح پر اس واقعہ کا تجربہ کرا رہی ہے جو کلی سطح پر آخرت میں ظاہر ہونے والا ہے۔ ’’وہ یقینی ہے تمہارے نطق کی طرح‘‘ یعنی جب تمہارے نطق کی تکرار ممکن ہے تو تمہارے وجود کی تکرار کیوں ممکن نہیں۔ انسانی ہستی کے ایک جزء کی کامل تکرار کا مشاہدہ اسی دنیا میں ہو رہا ہے، اسی سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ انسانی ہستی کے کامل مجموعہ کی تکرار بھی ہوسکتی ہے۔original + quote

اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ موجودہ معلوم دنیا بعد کو آنے والی نامعلوم دنیا کی نشانی بن گئی ہے۔ زمین میں پھیلے ہوئے مادی واقعات اور انسان کے اندر چھپے ہوئے احساسات دونوں بالواسطہ انداز میں اس واقعہ کی پیشگی خبر دے رہے ہیں، جو موت کے بعد براہ راست انداز میں انسان کے سامنے آنے والا ہے۔ انہیں نشانیوں میں سے ایک نشانی نطق (بولنا) ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں جو کچھ ملے گا وہ خود آدمی کے اپنے اعمال ہوں گے جو اس کی طرف لوٹا دیے جائیں گے (إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ تُرَدُّ إِلَيْكُمْ) حلية الأولياء، جلد5، صفحہ 125 ۔گویا آخرت کی دنیا موجودہ دنیا ہی کا مثنی (counterpart) ہے۔ آدمی کا نطق اسی امکان کا ایک جزئی مظاہرہ ہے۔ آدمی کی آواز ٹیپ پر ریکارڈ کردی جائے اور پھر ٹیپ کو بجایا جائے تو عین وہی آواز اس سے نکلتی ہے جو انسان کی آواز تھی۔ ٹیپ کی آواز انسان کی اصل آواز کا مثنی (counterpart) ہے۔ اس طرح آواز جزئی سطح پر اس واقعہ کا تجربہ کرا رہی ہے جو کلی سطح پر آخرت میں ظاہر ہونے والا ہے۔ ’’وہ یقینی ہے تمہارے نطق کی طرح‘‘ یعنی جب تمہارے نطق کی تکرار ممکن ہے تو تمہارے وجود کی تکرار کیوں ممکن نہیں۔ انسانی ہستی کے ایک جزء کی کامل تکرار کا مشاہدہ اسی دنیا میں ہو رہا ہے، اسی سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ انسانی ہستی کے کامل مجموعہ کی تکرار بھی ہوسکتی ہے۔original + quote

ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔ اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔

ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔ اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔original + quote

ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔ اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔original + quote

ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔ اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔original + quote

ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔ اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔original + quote

ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔ اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔original + quote

یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔ آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔

ان آیتوں میں اس منظر کا بیان ہے جب کہ حضرت ابراہیم کے پاس خدا کے فرشتے آئے تاکہ انہیں بڑھاپے میں اولاد کی بشارت دیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہ لمبی مدت تک اپنی قوم کو توحید اور آخرت کا پیغام دیتے رہے۔ مگر آپ کی بیوی اور آپ کے ایک بھتیجے کے سوا کوئی بھی شخص آپ کی بات ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گئے۔ اب آپ کے مشن کا تسلسل باقی رکھنے کے لیے دوسری ممکن صورت صرف یہ تھی کہ آپ کے یہاں اولاد پیدا ہو اور آپ اس کو تربیت دے کر تیار کریں۔ باپ اور بیٹے کے درمیان خونی تعلق ہوتا ہے۔ یہ خونی تعلق ایک اضافی طاقت بن جاتا ہے جو بیٹے کو اپنے باپ کے ساتھ ہرحال میں جوڑے رکھے اور اس کو اس کا ہم خیال بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو آخر عمر میں دو لڑکے عطا کیے۔ ایک، حضرت اسحاق جن کے ذریعہ سے بنی اسرائیل میں دعوت توحید کا تسلسل جاری رہا۔ دوسرے، حضرت اسماعیل جن کے ذریعہ عرب کے صحرا میں ایک ایسی نسل تیار کرنے کا کام لیا گیا جو پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر آپ کے تاریخی مشن کی تکمیل کرے۔original + quote

حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔ قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔

حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔ قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔

حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔ قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔

حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔ قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔

حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔ قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔

حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔ قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔

حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین میں تھے۔ قریب ہی بحر مردار کے پاس سدوم و عمورہ کی بستیاں تھیں۔ جہاں قوم لوط کے لوگ آباد تھے۔ حضرت لوط کی طویل تبلیغ کے باوجود وہ لوگ خدا فراموشی کی زندگی سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ حضرت لوط اور ان کے ساتھی اللہ کے حکم سے باہر آگئے۔ مذکورہ فرشتوں نے زلزلہ اور آندھی اور کنکروں کی بارش سے پوری قوم کو ہلاک کردیا۔ قوم لوط دو ہزار سال پہلے ختم ہوگئی۔ مگر اس کا تباہ شدہ مسکن (بحر مردار کا جنوبی علاقه) آج بھی ان لوگوں کو سبق دے رہا ہے جو واقعات سے سبق لینے کا مزاج رکھتے ہوں۔

فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔ حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔

فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔ حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔

یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔ آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔

فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔ حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔

فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔ حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔

فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔ حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔original + quote

فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔ حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔

فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔ حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔

فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔ حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔

فرعون مصر نے حضرت موسیٰ کے معجزوں کو جادو قرار دیا۔ آپ کا وہ یقین جو آپ کے برسر حق ہونے کو ظاہر کر رہا تھا اس کو اس نے جنون سے تعبیر کیا تھا۔ اسی کا نام تلبیس ہے۔ اور یہي تلبیس ہمیشہ ان لوگوں کا طریقہ رہا ہے جو دلیل کے باوجود حق کو ماننے پر تیار نہیں ہوتے۔ حق کے مقابلہ میں اس قسم کی سرکشی کرنے والے لوگ کبھی خدا کی پکڑ سے نہیں بچتے۔ فرعون اسی بنا پر ہلاک کیا گیا۔ اور قوم عاد اور قوم ثمود اور قوم نوح بھی اسی بنا پر تباہ و برباد کردی گئی۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی دنیا میں کوئی اور فائدہ اس تھوڑے سے فائدہ کے سوا مقدر نہیں جو امتحان کی مصلحت کے تحت انہیں محدود مدت کے لیے حاصل ہوا تھا۔

’’ہم آسمان کو کشادہ کرنے والے ہیں‘‘ اس فقرہ میں غالباً کائنات کی اس نوعیت کی طرف اشارہ ہے جو صرف حال میں دریافت ہوئی ہے۔ یعنی کائنات کا مسلسل اپنے چاروں طرف پھیلنا۔ کائنات کا اس طرح پھیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو کسی پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے۔ کیوں کہ اس پھیلاؤ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ابتدا میں وہ سکڑی ہوئی تھی۔ معلوم مادی قانون کے مطابق کائنات کے اس ابتدائی گولے کے تمام اجزا اندر کی طرف کھینچے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں ان کا بیرونی طرف سفر کرنا کسی خارجی مداخلت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اور خارجی مداخلت کو ماننے کے بعد خدا کا ماننا لازم ہوجاتا ہے۔ ہماری دنیا کا نظام انتہائی بامعنی نظام ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی تخلیق کسی اعلی مقصد کے تحت ہوئی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان نے زمین کو فساد سے بھر رکھا ہے۔ بامعنی کائنات میں یہ بے معنی واقعہ بالکل بے جوڑ ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ایک ایسی دنیا بنے جو ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہو۔ یہاں دوبارہ موجودہ دنیا کے اندر ایک ایسا واقعہ موجود ہے جو اس سوال کا جواب دیتا ہے۔ اور وہ ہے یہاں کی تمام چیزوں کا جوڑے جوڑے ہونا، مادہ میں مثبت اور منفی ذرے، نباتات میں نر اور مادہ، انسان میں عورت اور مرد۔ اس سے کائنات کا یہ مزاج معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اشیاء کی کمی کو اس کے جوڑے کے ذریعہ مکمل کرنے کا قانون رائج ہے۔ یہ ایک قرینہ ہے جو آخرت کے امکان کو ثابت کرتا ہے آخرت کی دنیا گویا موجودہ دنیا کا دوسرا جوڑ اہے جس سے مل کر ہماری دنیا اپنے آپ کو مکمل کرتی ہے۔unverified

’’ہم آسمان کو کشادہ کرنے والے ہیں‘‘ اس فقرہ میں غالباً کائنات کی اس نوعیت کی طرف اشارہ ہے جو صرف حال میں دریافت ہوئی ہے۔ یعنی کائنات کا مسلسل اپنے چاروں طرف پھیلنا۔ کائنات کا اس طرح پھیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو کسی پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے۔ کیوں کہ اس پھیلاؤ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ابتدا میں وہ سکڑی ہوئی تھی۔ معلوم مادی قانون کے مطابق کائنات کے اس ابتدائی گولے کے تمام اجزا اندر کی طرف کھینچے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں ان کا بیرونی طرف سفر کرنا کسی خارجی مداخلت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اور خارجی مداخلت کو ماننے کے بعد خدا کا ماننا لازم ہوجاتا ہے۔ ہماری دنیا کا نظام انتہائی بامعنی نظام ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی تخلیق کسی اعلی مقصد کے تحت ہوئی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان نے زمین کو فساد سے بھر رکھا ہے۔ بامعنی کائنات میں یہ بے معنی واقعہ بالکل بے جوڑ ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ایک ایسی دنیا بنے جو ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہو۔ یہاں دوبارہ موجودہ دنیا کے اندر ایک ایسا واقعہ موجود ہے جو اس سوال کا جواب دیتا ہے۔ اور وہ ہے یہاں کی تمام چیزوں کا جوڑے جوڑے ہونا، مادہ میں مثبت اور منفی ذرے، نباتات میں نر اور مادہ، انسان میں عورت اور مرد۔ اس سے کائنات کا یہ مزاج معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اشیاء کی کمی کو اس کے جوڑے کے ذریعہ مکمل کرنے کا قانون رائج ہے۔ یہ ایک قرینہ ہے جو آخرت کے امکان کو ثابت کرتا ہے آخرت کی دنیا گویا موجودہ دنیا کا دوسرا جوڑ اہے جس سے مل کر ہماری دنیا اپنے آپ کو مکمل کرتی ہے۔unverified

’’ہم آسمان کو کشادہ کرنے والے ہیں‘‘ اس فقرہ میں غالباً کائنات کی اس نوعیت کی طرف اشارہ ہے جو صرف حال میں دریافت ہوئی ہے۔ یعنی کائنات کا مسلسل اپنے چاروں طرف پھیلنا۔ کائنات کا اس طرح پھیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو کسی پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے۔ کیوں کہ اس پھیلاؤ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ابتدا میں وہ سکڑی ہوئی تھی۔ معلوم مادی قانون کے مطابق کائنات کے اس ابتدائی گولے کے تمام اجزا اندر کی طرف کھینچے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں ان کا بیرونی طرف سفر کرنا کسی خارجی مداخلت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اور خارجی مداخلت کو ماننے کے بعد خدا کا ماننا لازم ہوجاتا ہے۔ ہماری دنیا کا نظام انتہائی بامعنی نظام ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی تخلیق کسی اعلی مقصد کے تحت ہوئی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان نے زمین کو فساد سے بھر رکھا ہے۔ بامعنی کائنات میں یہ بے معنی واقعہ بالکل بے جوڑ ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ایک ایسی دنیا بنے جو ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہو۔ یہاں دوبارہ موجودہ دنیا کے اندر ایک ایسا واقعہ موجود ہے جو اس سوال کا جواب دیتا ہے۔ اور وہ ہے یہاں کی تمام چیزوں کا جوڑے جوڑے ہونا، مادہ میں مثبت اور منفی ذرے، نباتات میں نر اور مادہ، انسان میں عورت اور مرد۔ اس سے کائنات کا یہ مزاج معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اشیاء کی کمی کو اس کے جوڑے کے ذریعہ مکمل کرنے کا قانون رائج ہے۔ یہ ایک قرینہ ہے جو آخرت کے امکان کو ثابت کرتا ہے آخرت کی دنیا گویا موجودہ دنیا کا دوسرا جوڑ اہے جس سے مل کر ہماری دنیا اپنے آپ کو مکمل کرتی ہے۔unverified

یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔ آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔

’’ہم آسمان کو کشادہ کرنے والے ہیں‘‘ اس فقرہ میں غالباً کائنات کی اس نوعیت کی طرف اشارہ ہے جو صرف حال میں دریافت ہوئی ہے۔ یعنی کائنات کا مسلسل اپنے چاروں طرف پھیلنا۔ کائنات کا اس طرح پھیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو کسی پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے۔ کیوں کہ اس پھیلاؤ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ابتدا میں وہ سکڑی ہوئی تھی۔ معلوم مادی قانون کے مطابق کائنات کے اس ابتدائی گولے کے تمام اجزا اندر کی طرف کھینچے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں ان کا بیرونی طرف سفر کرنا کسی خارجی مداخلت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اور خارجی مداخلت کو ماننے کے بعد خدا کا ماننا لازم ہوجاتا ہے۔ ہماری دنیا کا نظام انتہائی بامعنی نظام ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی تخلیق کسی اعلی مقصد کے تحت ہوئی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان نے زمین کو فساد سے بھر رکھا ہے۔ بامعنی کائنات میں یہ بے معنی واقعہ بالکل بے جوڑ ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ایک ایسی دنیا بنے جو ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہو۔ یہاں دوبارہ موجودہ دنیا کے اندر ایک ایسا واقعہ موجود ہے جو اس سوال کا جواب دیتا ہے۔ اور وہ ہے یہاں کی تمام چیزوں کا جوڑے جوڑے ہونا، مادہ میں مثبت اور منفی ذرے، نباتات میں نر اور مادہ، انسان میں عورت اور مرد۔ اس سے کائنات کا یہ مزاج معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اشیاء کی کمی کو اس کے جوڑے کے ذریعہ مکمل کرنے کا قانون رائج ہے۔ یہ ایک قرینہ ہے جو آخرت کے امکان کو ثابت کرتا ہے آخرت کی دنیا گویا موجودہ دنیا کا دوسرا جوڑ اہے جس سے مل کر ہماری دنیا اپنے آپ کو مکمل کرتی ہے۔unverified

’’ہم آسمان کو کشادہ کرنے والے ہیں‘‘ اس فقرہ میں غالباً کائنات کی اس نوعیت کی طرف اشارہ ہے جو صرف حال میں دریافت ہوئی ہے۔ یعنی کائنات کا مسلسل اپنے چاروں طرف پھیلنا۔ کائنات کا اس طرح پھیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کو کسی پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے۔ کیوں کہ اس پھیلاؤ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ابتدا میں وہ سکڑی ہوئی تھی۔ معلوم مادی قانون کے مطابق کائنات کے اس ابتدائی گولے کے تمام اجزا اندر کی طرف کھینچے ہوئے تھے۔ ایسی حالت میں ان کا بیرونی طرف سفر کرنا کسی خارجی مداخلت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اور خارجی مداخلت کو ماننے کے بعد خدا کا ماننا لازم ہوجاتا ہے۔ ہماری دنیا کا نظام انتہائی بامعنی نظام ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی تخلیق کسی اعلی مقصد کے تحت ہوئی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان نے زمین کو فساد سے بھر رکھا ہے۔ بامعنی کائنات میں یہ بے معنی واقعہ بالکل بے جوڑ ہے۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ ایک ایسی دنیا بنے جو ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہو۔ یہاں دوبارہ موجودہ دنیا کے اندر ایک ایسا واقعہ موجود ہے جو اس سوال کا جواب دیتا ہے۔ اور وہ ہے یہاں کی تمام چیزوں کا جوڑے جوڑے ہونا، مادہ میں مثبت اور منفی ذرے، نباتات میں نر اور مادہ، انسان میں عورت اور مرد۔ اس سے کائنات کا یہ مزاج معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اشیاء کی کمی کو اس کے جوڑے کے ذریعہ مکمل کرنے کا قانون رائج ہے۔ یہ ایک قرینہ ہے جو آخرت کے امکان کو ثابت کرتا ہے آخرت کی دنیا گویا موجودہ دنیا کا دوسرا جوڑ اہے جس سے مل کر ہماری دنیا اپنے آپ کو مکمل کرتی ہے۔unverified

ایک سنجیدہ آدمی اگر کسی بات کی دلیل مانگے تو دلیل سامنے آنے کے بعد وہ اس کو مان لیتا ہے۔ مگر جو لوگ سرکشی کا مزاج رکھتے ہوں انہیں کسی بھی دلیل سے چپ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ہر دلیل کو نہ ماننے کے لیے دوبارہ کچھ نئے الفاظ پا لیں گے۔ حتی کہ اگر ان کے سامنے ایسی دلیل پیش کردی جائے جس کا توڑ ممکن نہ ہو تو وہ یہ کہہ کر اسے نظر انداز کردیں گے کہ یہ تو جادو ہے۔ یہ ان لوگوں کا حال ہے جن کو قوم کے اندر بڑائی کا درجہ مل گیا ہو۔ ایسے لوگوں کے لیے ان کی بڑائی کا احساس اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کی زبان سے جاری ہونے والی سچائی کو مان لیں۔ ایسے لوگ اگر دعوت حق کو نہ مانیں تو داعی کو مایوس نہ ہونا چاہيے۔ وہ ان دوسرے لوگوں میں اپنے حامی پا لے گا جو جھوٹی بڑائی کے احساس میں مبتلا ہونے سے بچے ہوئے ہوں۔

ایک سنجیدہ آدمی اگر کسی بات کی دلیل مانگے تو دلیل سامنے آنے کے بعد وہ اس کو مان لیتا ہے۔ مگر جو لوگ سرکشی کا مزاج رکھتے ہوں انہیں کسی بھی دلیل سے چپ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ہر دلیل کو نہ ماننے کے لیے دوبارہ کچھ نئے الفاظ پا لیں گے۔ حتی کہ اگر ان کے سامنے ایسی دلیل پیش کردی جائے جس کا توڑ ممکن نہ ہو تو وہ یہ کہہ کر اسے نظر انداز کردیں گے کہ یہ تو جادو ہے۔ یہ ان لوگوں کا حال ہے جن کو قوم کے اندر بڑائی کا درجہ مل گیا ہو۔ ایسے لوگوں کے لیے ان کی بڑائی کا احساس اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کی زبان سے جاری ہونے والی سچائی کو مان لیں۔ ایسے لوگ اگر دعوت حق کو نہ مانیں تو داعی کو مایوس نہ ہونا چاہيے۔ وہ ان دوسرے لوگوں میں اپنے حامی پا لے گا جو جھوٹی بڑائی کے احساس میں مبتلا ہونے سے بچے ہوئے ہوں۔

ایک سنجیدہ آدمی اگر کسی بات کی دلیل مانگے تو دلیل سامنے آنے کے بعد وہ اس کو مان لیتا ہے۔ مگر جو لوگ سرکشی کا مزاج رکھتے ہوں انہیں کسی بھی دلیل سے چپ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ہر دلیل کو نہ ماننے کے لیے دوبارہ کچھ نئے الفاظ پا لیں گے۔ حتی کہ اگر ان کے سامنے ایسی دلیل پیش کردی جائے جس کا توڑ ممکن نہ ہو تو وہ یہ کہہ کر اسے نظر انداز کردیں گے کہ یہ تو جادو ہے۔ یہ ان لوگوں کا حال ہے جن کو قوم کے اندر بڑائی کا درجہ مل گیا ہو۔ ایسے لوگوں کے لیے ان کی بڑائی کا احساس اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کی زبان سے جاری ہونے والی سچائی کو مان لیں۔ ایسے لوگ اگر دعوت حق کو نہ مانیں تو داعی کو مایوس نہ ہونا چاہيے۔ وہ ان دوسرے لوگوں میں اپنے حامی پا لے گا جو جھوٹی بڑائی کے احساس میں مبتلا ہونے سے بچے ہوئے ہوں۔

ایک سنجیدہ آدمی اگر کسی بات کی دلیل مانگے تو دلیل سامنے آنے کے بعد وہ اس کو مان لیتا ہے۔ مگر جو لوگ سرکشی کا مزاج رکھتے ہوں انہیں کسی بھی دلیل سے چپ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ہر دلیل کو نہ ماننے کے لیے دوبارہ کچھ نئے الفاظ پا لیں گے۔ حتی کہ اگر ان کے سامنے ایسی دلیل پیش کردی جائے جس کا توڑ ممکن نہ ہو تو وہ یہ کہہ کر اسے نظر انداز کردیں گے کہ یہ تو جادو ہے۔ یہ ان لوگوں کا حال ہے جن کو قوم کے اندر بڑائی کا درجہ مل گیا ہو۔ ایسے لوگوں کے لیے ان کی بڑائی کا احساس اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کی زبان سے جاری ہونے والی سچائی کو مان لیں۔ ایسے لوگ اگر دعوت حق کو نہ مانیں تو داعی کو مایوس نہ ہونا چاہيے۔ وہ ان دوسرے لوگوں میں اپنے حامی پا لے گا جو جھوٹی بڑائی کے احساس میں مبتلا ہونے سے بچے ہوئے ہوں۔

خدا ہر قسم کا ذاتی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم فرشتوں کو اس نے اپنی وسیع سلطنت کا انتظام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر انسانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان اس لیے پیدا نہیں کیے گئے کہ وہ خدا کی کسی شخصی یا انتظامی ضرورت کو پورا کریں۔ ان کی پیدائش کا واحد مقصد خدا کی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکانا ہے، اپنے آپ کوپوری طرح خدا کا پرستار بنا دینا ہے۔ اس عبادت کا خلاصہ معرفت ہے۔ چنانچہ ابن عباس نے الا لیعبدون کی تشریح الا لیعرفون سے کی ہے(المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر 225 )۔ یہی تفسیر ابن جُرَیج (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 425 ) اور مجاہد تابعی (البحر المحيط، جلد 9، صفحہ 562 ) نے بھی کی ہے۔یعنی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو بطور دریافت کے پائے۔ وہ بن دیکھے خدا کو پہچانے۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں آدمی کی جو زندگی بنتی ہے اسی کو عبادت و بندگی کہا جاتا ہے۔ پانی کا ڈول بھرنے کے بعد ڈوب جاتا ہے اسی طرح آدمی کی مہلت عمل پوری ہونے کے بعد فوراً اس کی موت آجاتی ہے۔ جو شخص ڈول بھرنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلے اس نے اپنے آپ کو بچایا۔ اور جو شخص آخر وقت تک غافل رہا وہ ہلاک ہوگیا۔ ظالم لوگ اگر پکڑے نہ جارہے ہوں تو انہیں یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ وہ چھوڑ دیے گئے ہیں۔ وہ اس لیے آزاد ہیں کہ خدا کا طریقہ جلدی پکڑنے کا طریقہ نہیں، نہ اس لیے کہ خدا انہیں پکڑنے والا نہیں۔original + quote

خدا ہر قسم کا ذاتی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم فرشتوں کو اس نے اپنی وسیع سلطنت کا انتظام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر انسانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان اس لیے پیدا نہیں کیے گئے کہ وہ خدا کی کسی شخصی یا انتظامی ضرورت کو پورا کریں۔ ان کی پیدائش کا واحد مقصد خدا کی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکانا ہے، اپنے آپ کوپوری طرح خدا کا پرستار بنا دینا ہے۔ اس عبادت کا خلاصہ معرفت ہے۔ چنانچہ ابن عباس نے الا لیعبدون کی تشریح الا لیعرفون سے کی ہے(المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر 225 )۔ یہی تفسیر ابن جُرَیج (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 425 ) اور مجاہد تابعی (البحر المحيط، جلد 9، صفحہ 562 ) نے بھی کی ہے۔یعنی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو بطور دریافت کے پائے۔ وہ بن دیکھے خدا کو پہچانے۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں آدمی کی جو زندگی بنتی ہے اسی کو عبادت و بندگی کہا جاتا ہے۔ پانی کا ڈول بھرنے کے بعد ڈوب جاتا ہے اسی طرح آدمی کی مہلت عمل پوری ہونے کے بعد فوراً اس کی موت آجاتی ہے۔ جو شخص ڈول بھرنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلے اس نے اپنے آپ کو بچایا۔ اور جو شخص آخر وقت تک غافل رہا وہ ہلاک ہوگیا۔ ظالم لوگ اگر پکڑے نہ جارہے ہوں تو انہیں یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ وہ چھوڑ دیے گئے ہیں۔ وہ اس لیے آزاد ہیں کہ خدا کا طریقہ جلدی پکڑنے کا طریقہ نہیں، نہ اس لیے کہ خدا انہیں پکڑنے والا نہیں۔original + quote

خدا ہر قسم کا ذاتی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم فرشتوں کو اس نے اپنی وسیع سلطنت کا انتظام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر انسانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان اس لیے پیدا نہیں کیے گئے کہ وہ خدا کی کسی شخصی یا انتظامی ضرورت کو پورا کریں۔ ان کی پیدائش کا واحد مقصد خدا کی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکانا ہے، اپنے آپ کوپوری طرح خدا کا پرستار بنا دینا ہے۔ اس عبادت کا خلاصہ معرفت ہے۔ چنانچہ ابن عباس نے الا لیعبدون کی تشریح الا لیعرفون سے کی ہے(المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر 225 )۔ یہی تفسیر ابن جُرَیج (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 425 ) اور مجاہد تابعی (البحر المحيط، جلد 9، صفحہ 562 ) نے بھی کی ہے۔یعنی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو بطور دریافت کے پائے۔ وہ بن دیکھے خدا کو پہچانے۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں آدمی کی جو زندگی بنتی ہے اسی کو عبادت و بندگی کہا جاتا ہے۔ پانی کا ڈول بھرنے کے بعد ڈوب جاتا ہے اسی طرح آدمی کی مہلت عمل پوری ہونے کے بعد فوراً اس کی موت آجاتی ہے۔ جو شخص ڈول بھرنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلے اس نے اپنے آپ کو بچایا۔ اور جو شخص آخر وقت تک غافل رہا وہ ہلاک ہوگیا۔ ظالم لوگ اگر پکڑے نہ جارہے ہوں تو انہیں یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ وہ چھوڑ دیے گئے ہیں۔ وہ اس لیے آزاد ہیں کہ خدا کا طریقہ جلدی پکڑنے کا طریقہ نہیں، نہ اس لیے کہ خدا انہیں پکڑنے والا نہیں۔original + quote

خدا ہر قسم کا ذاتی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم فرشتوں کو اس نے اپنی وسیع سلطنت کا انتظام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر انسانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان اس لیے پیدا نہیں کیے گئے کہ وہ خدا کی کسی شخصی یا انتظامی ضرورت کو پورا کریں۔ ان کی پیدائش کا واحد مقصد خدا کی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکانا ہے، اپنے آپ کوپوری طرح خدا کا پرستار بنا دینا ہے۔ اس عبادت کا خلاصہ معرفت ہے۔ چنانچہ ابن عباس نے الا لیعبدون کی تشریح الا لیعرفون سے کی ہے(المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر 225 )۔ یہی تفسیر ابن جُرَیج (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 425 ) اور مجاہد تابعی (البحر المحيط، جلد 9، صفحہ 562 ) نے بھی کی ہے۔یعنی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو بطور دریافت کے پائے۔ وہ بن دیکھے خدا کو پہچانے۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں آدمی کی جو زندگی بنتی ہے اسی کو عبادت و بندگی کہا جاتا ہے۔ پانی کا ڈول بھرنے کے بعد ڈوب جاتا ہے اسی طرح آدمی کی مہلت عمل پوری ہونے کے بعد فوراً اس کی موت آجاتی ہے۔ جو شخص ڈول بھرنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلے اس نے اپنے آپ کو بچایا۔ اور جو شخص آخر وقت تک غافل رہا وہ ہلاک ہوگیا۔ ظالم لوگ اگر پکڑے نہ جارہے ہوں تو انہیں یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ وہ چھوڑ دیے گئے ہیں۔ وہ اس لیے آزاد ہیں کہ خدا کا طریقہ جلدی پکڑنے کا طریقہ نہیں، نہ اس لیے کہ خدا انہیں پکڑنے والا نہیں۔original + quote

یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔ آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔

خدا ہر قسم کا ذاتی اختیار رکھتا ہے۔ تاہم فرشتوں کو اس نے اپنی وسیع سلطنت کا انتظام کرنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر انسانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان اس لیے پیدا نہیں کیے گئے کہ وہ خدا کی کسی شخصی یا انتظامی ضرورت کو پورا کریں۔ ان کی پیدائش کا واحد مقصد خدا کی عبادت ہے۔ عبادت کا مطلب اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکانا ہے، اپنے آپ کوپوری طرح خدا کا پرستار بنا دینا ہے۔ اس عبادت کا خلاصہ معرفت ہے۔ چنانچہ ابن عباس نے الا لیعبدون کی تشریح الا لیعرفون سے کی ہے(المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر 225 )۔ یہی تفسیر ابن جُرَیج (تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 425 ) اور مجاہد تابعی (البحر المحيط، جلد 9، صفحہ 562 ) نے بھی کی ہے۔یعنی انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو بطور دریافت کے پائے۔ وہ بن دیکھے خدا کو پہچانے۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے نتیجہ میں آدمی کی جو زندگی بنتی ہے اسی کو عبادت و بندگی کہا جاتا ہے۔ پانی کا ڈول بھرنے کے بعد ڈوب جاتا ہے اسی طرح آدمی کی مہلت عمل پوری ہونے کے بعد فوراً اس کی موت آجاتی ہے۔ جو شخص ڈول بھرنے سے پہلے اپنی اصلاح کرلے اس نے اپنے آپ کو بچایا۔ اور جو شخص آخر وقت تک غافل رہا وہ ہلاک ہوگیا۔ ظالم لوگ اگر پکڑے نہ جارہے ہوں تو انہیں یہ نہ سمجھنا چاہيے کہ وہ چھوڑ دیے گئے ہیں۔ وہ اس لیے آزاد ہیں کہ خدا کا طریقہ جلدی پکڑنے کا طریقہ نہیں، نہ اس لیے کہ خدا انہیں پکڑنے والا نہیں۔original + quote

یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔ آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔

یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔ آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔

یہاں بارش کے عمل کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ پہلے تیز ہوائیں اٹھتی ہیں۔ پھر مختلف مراحل سے گزر کر وہ بادلوں کو چلاتی ہیں۔ اور پھر وہ کسی گروہ پر بارانِ رحمت برساتی ہیں اور کسی گروہ پر سیلاب کی صورت میں تباہ کاریاں لاتی ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ خدا کی اس دنیا میں ’’تقسیم امر ‘‘ کا قانون ہے۔ یہاں کسی کو کم ملتا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کسی کو دیا جاتا ہے اور کسی سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ وہاں تقسیم امر کا یہ اصول اپنی کامل صورت میں نافذ ہوگا۔ ہر ایک کو حد درجہ انصاف کے ساتھ وہی ملے گا جو اسے ملنا چاہیے اور وہ نہیں ملے گا جس کو پانے کا وہ مستحق نہ تھا۔ آسمان میں بے شمار ستارے ہیں۔ یہ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اگر ان کی مجموعی تصویر بنائی جائے تو وہ کسی خانہ دار جال کی مانند ہوگی۔ اس قسم کا حیرت ناک نظام اپنے اندر گہری معنویت کا اشارہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کریں وہ اس میں سبق پائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی عقل کو استعمال نہ کریں ان کے لیے وہ ایک بے معنی رقص ہے جس کے اندر کوئی سبق نہیں۔