Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مثبت ذہن p. 414
اسلامک سوسائٹی آف آرنج کاونٹی (کیلی فورنیا، امریکا) کے زیر اہتمام چھٹی انٹرنیشنل کانفرنس کیلی فورنیا 25-26دسمبر 1993ء میں ہوئی۔ کانفرنس کی دعوت پر میرا سفر ہوا۔ اس کانفرنس میں امریکا کے مختلف حصوں سے ڈیڑھ ہزار مسلمان شریک ہوئے۔ یہ سب تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ ان میں بہت سے الرسالہ پڑھنے والے بھی ملے۔میں نے پایا کہ جولوگ الرسالہ برابر پڑھتے ہیں ان کے اندر مثبت طرز فکر پائی جاتی ہے ۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ p. 414
قرآن و حدیث کا مطالعہ خالی الذہن ہوکر کیا جائے تو ان میں مثبت فکر کا پیغام ملے گا۔ مثلاًآپ قرآن کھولیں تو اس کی دوسری آیت شکر کی آیت ملے گی(الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) ۔ گویا کہ قرآن وہ ذہن بنانا چاہتا ہے جو احساس یافت سے سرشار ہو۔ مگر آج مسلمانوں کا ذہن احساس محرومی سے بھرا ہوا ہے۔ اسی طرح آپ صحیح البخاری کھولیں تو اس کی پہلی حدیث آپ کو یہ پڑھنے کو ملے گی کہ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ (اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے)۔گو یا پیغمبر اسلام مسلمانوں میں وہ ذہن پیدا کرنا چاہتے ہیں جو اندرونی حقیقتوں کو اہمیت دے اور ظاہری باتوں کو نظرانداز کر دے۔ مگر آج مسلمانوں کی پوری سوچ ظواہر پر اٹکی ہوئی ہے۔ حقائق کی انھیں سرے سے خبر ہی نہیں۔ p. 414original + quote
اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ تعلیم یافتہ مسلمانوں کے فہم اسلامی کا ماخذ حقیقتاًقرآن وحدیث نہیں ہے ۔ اس کا ماخذ ان مفکرین کی کتابیں ہیں جو ردعمل کی نفسیات میں مبتلا تھے۔ اسی نفسیات کے تحت انھوں نے اسلام کی تعبیر پیش کی۔ اس تعبیری لٹر پچر نے مسلمانوں کے اندر قرآن و سنت و الا ذہن نہیں بنایا بلکہ ردعمل کا ذہن بنا دیا۔ یہی منفی ذہن ہے جس کا مظاہرہ آج ہر طرف نظر آتا ہے ۔ اسی ذہن کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ہرجگہ یا تولفظی ٹکراؤ جاری ہے یا شمشیری ٹکراؤ ۔ p. 414