Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
رواداری p. 314
رواداری(tolerance)ایک اعلیٰ انسانی اور اسلامی صفت ہے۔ رواداری کا مطلب دوسروں کی رعایت کرنا ہے۔ اس کے مقابلہ میں عدم رواداری یہ ہے کہ آدمی صرف اپنے آپ کو جانے ، وہ دوسروں کے تقاضے سے بے خبر ہو جائے۔ رواداری ایک اعلیٰ انسانی اسپرٹ ہے۔ اس کو شریعت میں مختلف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً رفق ، تالیفِ قلب، شفقت على الخلق ، و غیره۔ p. 314
آدمی کے اندر جب خدا پرستی اور سچی دین داری آتی ہے تو وہ خود غرضی کے تحت پیش آنے والی تمام برائیوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے ۔ وہ اپنی ذات میں جینے کے بجائے حقائق میں جینے لگتا ہے۔ ایسا انسان اپنےربانی مزاج کے مطابق دوسروں کو محبت کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ وہ دوسروں سے کسی چیز کا امیدوار نہیں ہوتا، اس لیے دوسرے اگر اس سے اختلاف رکھیں یا اس کے ساتھ اچھا سلوک نہ کریں، تب بھی وہ دوسروں کا خیر خواہ بنا رہتا ہے۔ تب بھی وہ دوسروں کی رعایت کرتا ہے۔ تب بھی وہ دوسروں کے ساتھ اپنے روادارانہ سلوک کو باقی رکھتاہے۔ p. 315
رواداری یہ ہے کہ آدمی ہر حال میں دوسرے کی عزت کرے، خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔ وہ ہر حال میں دوسرے کو اعلیٰ انسانی درجہ دے، خواہ وہ اس کا اپنا ہو یا غیر۔ وہ دوسرے کے کیس کو ہر حال میں ہمدردی کا کیس سمجھے۔ خواہ دوسرے کی طرف سے بظا ہر غیر ہمدردانہ سلوک کا اظہار کیوں نہ ہوا ہو۔ p. 315
رواداری کا مطلب در اصل دوسروں کی رعایت کرنا ہے ۔ اجتماعی زندگی میں لازمی طور پر ایک اور دوسرے کے درمیان اختلافات پیش آتے ہیں۔ مذہب، کلچر، رواج اور ذاتی ذوق کا فرق ہر سماج میں باقی رہتا ہے۔ ایسی حالت میں اعلیٰ انسانی طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اصول پر قائم رہتے ہوئے دوسرے کے ساتھ رعایت اور توسع کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ اپنی ذات کے معاملہ میںاصول پسند ہو، مگر دوسرے کے معاملہ میں روادار۔ وہ اپنے آپ کو اعلیٰ معیار کی روشنی میں جانچے ۔مگر جب دوسروں کا معاملہ ہو تو وہ رواداری اور وسعتِ ظرفی کا طریقہ اختیار کرے ۔ یہ رواداری انسانی شرافت کا لازمی تقاضا ہے۔ اسلام آدمی کے اندر یہی اعلیٰ شرافت پیدا کرتا ہے۔ p. 315
مذہبی رواداری، تالیف ِقلب p. 315
آج کل تالیف قلب اور مذہبی رواداری کا بہت زیادہ چرچا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ مذہبی رواداری اور تالیف قلب ایک ہیں یا دونوں میں کوئی فرق ہے۔ ( سید اقبال احمد عمری، عمرآباد، تامل ناڈو) p. 315
جہاں تک میں سمجھتا ہوں رواداری (tolerance) اورتالیف قلب (softening of the heart)اپنی حقیقت کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں۔ البتہ رواداری ایک سیکولراصطلاح (term) ہے، اور تالیف قلب ایک مذہبی اصطلاح۔تاہم دونوں میں ایک فرق ہے۔ رواداری کا لفظ صرف باہمی ٹالرنس کا مفہوم رکھتا ہے۔ جب کہ تالیف قلب اللہ کی رضا کے لیےیک طرفہ طور پرخیر خواہی کرناہے۔ تالیفِ قلب مذہبی معاملات میں رواداری کانام ہے۔ اس کے برعکس، رواداری زیادہ عام ہے۔ رواداری کا مطلب ہے ایسے طرز عمل ، اعتقاد اور خیالات، وغیرہ کو گوارا کرنا جن سے آپ کو اتفاق نہ ہو یا جو آپ کے نزدیک قابل قبول نہ ہوں۔ p. 316
اس کا تعلق زندگی کے ہر معاملے سے ہے، خواہ وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو۔ رواداری کا طریقہ مزاج کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے، وہ قانون کے زور پر قائم نہیں ہوتا۔ یہ دراصل اپنی حقیقت کے اعتبار سے سماجی اخلاقیات کا معاملہ ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر ایک کو مکمل آزادی حاصل ہو، تاکہ وہ آزادی کے ساتھ اپنے رویے کا انتخاب کرسکے۔ p. 316
اس معاملے میں صحت مند طریقہ (healthy method) یہ ہے کہ ہر ایک آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کرے،ا ور اسی کے ساتھ وہ دل سے اس پر راضی ہو کہ دوسرے کو بھی یہ حق ہے کہ وہ جس رائے کو بھی درست سمجھتا ہو، اس کو وہ آزادانہ طور پر ظاہر کرے۔ صحت مند رواداری یہ ہے کہ کسی فریق پر کسی قسم کا دباؤ نہ ڈالا جائے۔ ہر ایک جیو اور جینے دو (live and let live) کے اصول پر قائم رہے۔ ہر ایک کا مزاج یہ ہو کہ جس طرح اس کو خدا کی طرف سے آزادی حاصل ہے ، یعنی جس بات کو وہ حق سمجھتا ہے اس کووہ اختیار کرے، اور جس بات کو وہ ناحق سمجھتا ہے، اس کو وہ ردّ کردے۔اسی طرح خدا کی طرف سے دوسروں کو بھی یہ آزادی ملی ہوئی ہے ۔ ادنیٰ درجے میں بھی کسی کے ساتھ نا انصافی کا سلوک نہ کیا جائے۔ p. 316
ٹالرنس ، فطرت کا اصو ل p. 316
ٹالرنس (ر واداری ، برداشت) فطرت کا ایک یونیورسل اصول ہے۔ شیر اور ہاتھی دونوں انتہائی بڑے جانور ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے حریف کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر بھی دونوں ایک ساتھ جنگل میں رہتے ہیں۔ یہ صرف ٹالرنس کے ذریعہ ممکن ہوتا ہے ۔ چنانچہ جنگلوں میں دیکھا گیا ہے کہ ایک طرف سے ہاتھی آرہا ہو اور دوسری طرف سے شیر گزر رہا ہو تو دونوں اپنا اپنا راستہ بدل کر دائیں اور بائیں سے نکل جاتے ہیں۔ اگر دونوں اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ٹالرنس کا معاملہ نہ کریں تو دونوں آپس میں لڑنے لگیں، یہاں تک کہ دونوں لڑ کر تباہ ہو جائیں۔ p. 317
شیر اور ہاتھی کو یہ طریقہ فطرت نے سکھایا ہے۔ اسی طرح انسان کے جسم میں فطرت نے ٹالرنس کا نظام قائم کر رکھا ہے۔ میڈیکل سائنس میں اس کو حیاتیاتی ٹالرنس (biological tolerance) کہا جاتا ہے ۔ اس سے مراد ایک جسم حیوانی کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ ایک چیز سے برا اثر لیے بغیر اس سے ربط کو یا جسم میں اس چیز کے داخل کیے جانے کو برداشت کرے p. 317original + quote
The ability of an organism to endure contact with a substance, or its introduction into the body, without ill effects. (Encyclopedia Britannica X/31) p. 317other source
جسم کی اسی صلاحیت پر امراض کے علاج کا پورانظام قائم ہے ۔ بیماری کے وقت جسم کے اندر ایسی دوائیں ڈالی جاتی ہیں جو مجموعی حیثیت سے جسم کے لیے مضر ہیں۔ مگر جسم خارجی چیزوں کے معاملہ میں اپنی ساری حساسیت کے باوجود ایسی دواؤں کو برداشت کرتا ہے ۔ وہ ان کے ساتھ ٹالرنس کا معاملہ کرتا ہے۔ اسی حیاتیاتی ٹالرنس کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ یہ دوائیں جسم میں داخل ہو کر اپنا اثر دکھائیں۔ وہ جسم کے اعضاء پر برا اثر ڈالے بغیر اس کے بیمار عضو پر عمل کر کے اس کو اچھا کر سکیں ۔ p. 317
ٹالرنس کا یہی طریقہ انسانی سماج میں بھی مطلوب ہے۔ جنگل کے جانور جو کچھ اپنی جبلت (instinct) کے تحت کرتے ہیں، اور انسانی جسم جو کچھ اپنی فطرت کے تحت کرتا ہے۔ وہی انسان کو اپنے شعور کے تحت کرنا ہے۔ اس کو اپنے سوچے سمجھے فیصلہ کے تحت ٹالرنس کا طریقہ اختیار کر کے دوسروں کے ساتھ زندگی گزارنا ہے ۔ p. 317
جب بھی زیادہ لوگ ساتھ مل کر زندگی گزاریں گے تو ان کے درمیان شکایت اور اختلاف کے واقعات بھی ضرور پیدا ہوں گے۔ ایسا ایک گھر کے اندر ہو گا، سماج کے اندر ہوگا، پورے ملک میں ہو گا ، اور اسی طرح بین اقوامی زندگی میں بھی ہو گا۔ انسان خواہ جس سطح پر بھی ایک دوسرے سے ملیں اور تعلقات قائم کریں، ان کے درمیان ناخوش گوار واقعات کا پیش آنا بالکل لازمی ہے۔ p. 318
ایسی حالت میں کیا کیا جائے ، ٹالرنس اسی سوال کا جواب ہے۔ ایسی حالت میں ایک شخص دوسرے شخص کے ساتھ اور ایک گروہ دوسرے گروہ کے ساتھ رواداری اور برداشت کا معاملہ کرے۔ مل جل کر زندگی گزارنے اور مل جل کر ترقی کرنے کی یہی واحد قابلِ عمل صورت ہے۔ اس اسپرٹ کے بغیر انسانی تمدن کی تعمیر اور اس کی ترقی ممکن نہیں۔ p. 318
ٹالرنس کوئی انفعالی رویہ نہیں، وہ عین حقیقت پسندی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی کے لیے زیادہ بہتر چوائس (choice)لینے کا موقع تھا اور اس نے پست ہمتی کی بنا پر ایک کمتر چوائس کو اختیار کر لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں اس کے سوا کوئی اور چوائس ہمارے لیے ممکن ہی نہیں۔ ٹالرنس ہماری ایک عملی ضرورت ہے، نہ کہ کسی قسم کی اخلاقی کمزوری۔ p. 318
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک صورت حال کو اپنے لیے نا خوش گوار پا کر اس سے لڑنے لگتا ہے اور بالآخر تبا ہی سے دوچار ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی نے اپنی کوتاہ نظری کی بنا پر یہ سمجھا کہ اس کے لیے انتخاب خوش گوار اور نا خوش گوار کے درمیان ہے۔ وہ ناخوش گوار واقعہ کے خلاف ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرتا ہے،تا کہ خوش گوار کو حاصل کر سکے۔ p. 318
حالاںکہ نتیجہ نے بتایا کہ اس کے لیے انتخاب خوش گوار اور ناخوش گوار کے درمیان نہیں تھا، بلکہ اس کے لیے انتخاب ناخوش گوار اور تباہی کے درمیان تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے لیے انتخاب خوش گوار اور ناخوش گوار کے درمیان ہو۔ زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے لیے انتخاب کا موقع کم ناخوش گوار اور زیادہ ناخوش گوار کے درمیان ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں عقل مند ی یہی ہے کہ آدمی زیادہ ناخوش گوار واقعہ سے بچنے کے لیے کم ناخوش گوار واقعہ پر راضی ہو جائے۔ p. 319
بیشتر انسان اسی غلط فہمی کا شکار ہو کر اپنے کو برباد کرتے رہتے ہیں۔ وہ ایک اقدام کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کا اقدام نا پسندیدہ صورت حال کو ہٹا کر پسندیدہ صورت حال کو لانے کے لیے ہے۔ مگر جب موجودہ صورت حال ختم ہو جاتی ہے تو ان کو معلوم ہوتا ہے کہ نئی صورت حال میں و ہی نا خوش گواری زیادہ بڑی مقدار میں موجود ہے جس کی کم مقدار کو برداشت نہ کرنے کی وجہ سے انھوں نے اپنا اقدام کیا تھا۔ p. 319
ٹالرنس اسی حکمت کا نام ہے۔ اس دنیا میں برداشت کرنا آدمی کو زندگی کی طرف لے جاتا ہے، اور بے برداشت ہو جانا صرف موت کی طرف۔ p. 319
ٹالرنس کا طریقہ ہم کو فرصتِ عمل دیتا ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ ہم ناموافق حالات سے ایڈجسٹ کر کے اپنے لیے وہ موقع حاصل کر لیں، جب کہ ہم اپنی زندگی کا سفر معتدل طور پر جاری رکھ سکیں۔ اس کے برعکس، اگر ہم ٹالرنس کو چھوڑ دیں اور جو چیز بھی ہم کو نا موافق نظر آئے اس سے لڑنے لگیں تو اس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ ہم ایک چیز کو’’برائی‘‘ کے نام سے ختم کریں گے ، صرف اس لیے کہ اس کے بعد ایک اور شدید تر برائی میں اپنے آپ کو مبتلا کر لیں۔ p. 319
شیر اور ہاتھی اگر ایک دوسرے کو گوارانہ کریں تو دونوں اپنی موت کو دعوت دیں گے۔ مگر جب وہ ایک دوسرے کو گوارا کرتے ہیں تو دونوں اپنے لیے زندگی کا موقع پالیتے ہیں۔ یہ ٹالرنس کا سب سے بڑا فائدہ ہے۔ ٹالرنس آپ کو فرصتِ عمل دیتا ہے۔ وہ آپ کو عمل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اور اس دنیا میں بلاشبہ سب سے بڑی چیز فرصتِ عمل ہے۔ فرصتِ عمل سے محرومی ہی کا نام بر بادی ہے۔ اور فرصتِ عمل کو پا کر اس کو استعمال کرنے ہی کا نام کامیابی۔ p. 319