Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مسائل پر صبر p. 272
ایک بستی تھی ۔ وہاں کے لوگ بہت تیز زبان تھے ۔ وہاں دو آدمیوں نے دکان کھولی ۔ ایک نوجوان تھا اور دوسرا بوڑھا ۔ نوجوان کی دکان جلدہی ختم ہوگئی ۔بوڑھے کی دکان چلتی رہی۔ آج وہ اس بستی میں سب سے بڑا دولت مند بنا ہوا ہے ۔ اب ہر آدمی اس سے ادب کے ساتھ بات کرتا ہے۔ p. 273
اس کی وجہ یہ تھی کہ نوجوان دکان دار نے جب دیکھا کہ جو گاہک آتا ہے وہ تیز زبان میں بات کرتا ہے تو اس نے لوگوں کی تیز کلامی کے خلاف جنگ شروع کر دی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے خلاف لوگوں کی تیز کلامی تیز دستی تک پہنچ گئی۔ لوگوں نے اس کو پکڑ کر مارا، یہاں تک کہ وہ دکان بند کر کے وہاں سے بھاگ گیا ۔ p. 273
بوڑھے دکان دار کی کامیابی کا راز یہ تھا کہ اس نے لوگوں کی تیز زبان اور درشت کلام کو نظر انداز کیا ۔ اس نے اپنی نظر صرف لوگوں کی جیب پر رکھی ، اور لوگوں کی زبان سے اپنی نظر ہٹالی۔ اسی پالیسی کا نتیجہ تھا کہ اس نے اپنی دکان داری میں شاندار کامیابی حاصل کی ۔ p. 273
یہ دنیا کی کامیابی کا واقعہ ہے ۔ آخرت کی کامیابی کا اصول بھی یہی ہے ۔ آخرت کی کامیابی کے لیے بھی اسی طرح لوگوں کی زیادتیوں پر صبر کر نا پڑ تا ہے ۔ جو شخص دنیا میں صبر کا طریقہ اختیار نہ کرے، اس کے لیے آخرت کی ’’تجارت‘‘ کو کامیاب بنانا ممکن نہیں۔ p. 273
آخرت کی کامیابی کے لیے اہل ایمان کو جو فرض سونپا گیا ہے ، وہ دعوت الی اللہ ہے ۔ اسی فرض کی انجام دہی پر ان کو وہ کامیابی ملنے والی ہے جس کو آخرت کی جنت کہا گیا ہے ۔ نیز جب اہل ایمان یہ خدائی ذمہ داری ادا کرتے ہیں تو ابتدائی انعام کے طور پر انھیں دنیا میں بھی سربلندی دے دی جاتی ہے ۔ لیکن اگر وہ صبر پر قائم نہ ہو سکیں تو وہ دنیا میں بھی محروم رہتے ہیں اور آخرت میں بھی۔ p. 273
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا کیس ، ایک لفظ میں ، یہ ہے کہ جن باتوں پر انھیں صبر کر نا تھا ان پر وہ لڑرہے ہیں، اور اس کو غلط طور پر جہاد کہتے ہیں۔ اس دنیا میں لازماً ایسا ہو گا کہ مسلمانوں کو دوسروں کی طرف سے زیادتیوں کا تجربہ ہوگا۔ اہل ایمان کو لازماً ایسا کرنا ہے کہ وہ مسائل سے اپنی نظریں ہٹا لیں اور اپنی ساری توجہ صرف فرض کی ادائیگی پر لگا دیں ۔ p. 274