Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
مسئلہ کا حل p. 221
1947ء کے بعد کے دور میں ہندستان کے مسلمانوں کے ذہن پر سب سے زیادہ جو مسئلہ چھایا رہا ہے ، وہ فرقہ وارانہ فساد کا مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ مسلمانوں کو مستقل طور پر عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا رکھتا ہے۔ مگر مذکورہ واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ اس مسئلہ کا حل مسلمانوں کے اپنے اختیار میں ہے۔ مسلمان سادہ طور پر صرف یہ کریں کہ وہ کچھ نہ کریں، اور اس کے بعد یقینی طور پر وہ فساد کی مصیبت سے نجات پا جائیں گے۔ p. 222
عمر بن عبد العزیز (وفات 101 ھ)کا قول ہے کہ صبر مومن کے لیے بچاؤ کا ذریعہ ہےالصَّبْرَ مِعْوَلُ الْمُؤْمِن (الزہد لاحمد بن حنبل،صفحہ238)۔ مذکورہ واقعہ، اور اس طرح کے دوسرے واقعات ، اس قول رسول کی عملی تصدیق ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے صبر واعراض کی صورت میں اہل ایمان کو ایک ایسی ڈھال دے دی ہے جو بے خطا اپنا عمل کرتی ہے۔ جب بھی آپ صبر کی تدبیر اختیار کریں، وہ آپ کے لیے یقینی بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گا۔ p. 222original + quote
انسان عین اپنی پیدائشی ساخت کے مطابق، اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ کسی کے خلاف زیادتی کرنے کے لیے جواز (justification) چاہتا ہے۔ جب آپ کسی کی اشتعال انگیزی پرمشتعل ہوں تو گویا آپ اس کو یہ جواز دے رہے ہیں کہ وہ آپ کے خلاف زیادتی کرے۔ لیکن جب آپ اشتعال انگیزی کے با وجودمشتعل نہ ہوں تو گویا آپ نے اس سے زیادتی کرنے کا جواز چھین لیا۔ p. 222
یہ دوسرارویہ مومن کے حق میں ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب آپ یہ دوسرا رویہ اختیار کریں تو اس کے بعد آپ اپنے حریف کی فطرت کو اپنا وکیل بنا لیتے ہیں۔ اس کے بعد آپ حریف کے اندر اپنا ایک حامی کھڑا کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد آدمی خود اپنی اندرونی کیفیت کے اعتبار سے مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ آپ کے خلاف زیادتی کرنے سے باز رہے۔ اور جو آدمی خود اپنے خلاف شکست کھا جائے، وہ کوئی ظالمانہ اقدام کرنے کے لیے اسی طرح نا اہل ہو جاتا ہے، جس طرح ایک غبارہ ہوا نکلنے کے بعد اڑنے کے لیے ۔ p. 222
صبر و تقویٰ p. 222
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز ہم نے جوڑا جوڑا پیدا کی ہے(51:49)۔ یہ فطرت کا ایک آفاقی اصول ہے۔ یہاں جب بھی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے، وہ دو چیزوں کے تعامل سے رونما ہوتا ہے۔ کوئی بھی چیز تنہا اس دنیا میں کوئی واقعہ یا نتیجہ ظاہر نہیں کر سکتی ۔ p. 223original + quote
اس اصول کا تعلق اجتماعی زندگی سے بھی ہے ۔ اسی کو ایک پرانی مثل میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ ایک آدمی اپنا ہاتھ فضا میں ہلاتا رہے تو اس سے تالی نہیں بجے گی۔تالی بجنے کے لیے ضروری ہے کہ دوسرا ہا تھ اس سے ٹکرائے ۔ جب تک دوسرا ہاتھ نہ اٹھے تالی کا بجنا بھی رکا رہے گا۔ p. 223
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالف کی ضرر رسانی کا معاملہ بھی یہی ہے ۔ مخالف کی ضرر رسانی کا ارادہ اس وقت کامیاب ہوتا ہے، جب کہ فریق ثانی بھی اپنی نادانی یا سادہ لوحی سے اس کے ساتھ تعاون کا معاملہ کر بیٹھے ۔ فریق ثانی اگر’’ دوسرا ہاتھ‘‘ بننے سے رک جائے تو دشمن کی مخالفانہ تالی بھی بجنے والی نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ اہل اسلام کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کو اہل اسلام سے سخت بغض اور عداوت ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ p. 223original + quote
وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (3:120)۔ یعنی،اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو توان کی کوئی تدبیر تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں،اللہ نے ان سب کااحاطہ کر رکھا ہے۔ p. 223original + quote
اس آیت کی تشریح اس طرح کی جاسکتی ہے کہ— دشمن کی سازش صرف50 فی صد حد تک کارگر ہے۔ وہ اپنی تکمیل تک صرف اس وقت پہنچتی ہے جب کہ فریق ثانی اپنی کسی غلطی سے اس کے منصوبہ کا بقیہ50 فی صد حصہ پورا کر دے۔ صبر و تقویٰ اس بات کی ضمانت ہے کہ دشمن کو اس کے منصوبہ کا یہ بقیہ نصف حصہ حاصل نہ ہو ۔ جب ایسا ہوگا تو اس کی مخالفانہ تد بیر لازمی طورپربے نتیجہ ہو کر رہ جائے گی۔ p. 224
اس قانون کے تحت اللہ تعالیٰ نے آپ کے معاملہ کو خود آپ کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔ p. 224