Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
نظامِ فطرت p. 196
ایک شاعر کا قطعہ ہے ۔ اپنے ان دوشعروں میں اس نے نہایت سادہ طور پر زندگی کی حقیقت بتادی ہے ۔ وہ قطعہ یہ ہے p. 196
کہا کیا اونٹ پر بیٹھوں کہا ہاں اونٹ پر بیٹھو p. 197
کہا کوہان کاڈر ہے کہا کوہان تو ہو گا p. 197
کہا دریا میں کیا اتروں کہا دریا میں ہاں اترو p. 197
کہا طوفان کاڈرہے کہا طوفان تو ہو گا p. 197
کہا کیا پھول کو توڑوں کہا ہاں پھول کو توڑو p. 197
کہا پَر خار کاڈرہے کہا پَر خار تو ہوگا p. 198
یہی موجودہ دنیا میں زندگی کی حقیقت ہے۔ یہاں اونٹ ہے تو کوہان بھی ہے۔ یہاں ہموار پیٹھ والا کوئی اونٹ موجود نہیں۔ یہاں دریا میں طوفان کا مسئلہ بھی ہے، یہاں کوئی ایسا دریانہیں پایا جاتا جس میں سکون ہی سکون ہو، تموج(waves) نام کی کوئی چیزوہاں موجود نہ ہو۔ اسی طرح یہاں خدا کے اگائے ہوئے باغ میں اگر خوب صورت پھول ہیں تو اسی کے ساتھ خار (نوک دار کانٹے) بھی ۔ p. 198
اس کامطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جو آدمی کوئی چیز حاصل کرنے کا خواہش مند ہوا س کو پیشگی طور پر یہ جان لینا چاہیے کہ یہاں ترقی کا سفر کبھی ہموار راستوں سے طے نہیں ہوتا۔ یہاں مسائل پر قابو پانے کے بعد ہی کسی آدمی کے لیے کامیابی کے دروازے کھلتے ہیں۔ جو آدمی مسائل ومشکلات کو عبور کرنے کا حوصلہ نہ رکھتا ہو، اس کو خدا کی اس دنیا میں کسی قسم کی کامیابی کی امید بھی نہ رکھنا چاہیے۔ p. 198
خدا کی دنیا ویسی ہی رہے گی جیسا کہ اس کو بنا یا گیا ہے۔ اس کو بدلنا یقینی طور پر ہمارے لیے ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں کسی انسان کے لیے یہاں زندگی اور کامیابی کی صرف ایک صورت ہے — دنیا میں قائم شدہ نظامِ فطرت سے وہ اپنے آپ کو ہم آہنگ کرلے۔ اس کے سوا ہر دوسری صورت آدمی کی ناکامی میں اضافہ کرنے والی ہے، نہ کہ اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچا نے والی۔ p. 198