Tameer-e-Shakhsiyat

صبر کی جیت

Tameer-e-Shakhsiyat — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (208 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. تعمیر ِشخصیت
  3. مقدمہ
  4. انسان کی شخصیت
  5. شخصیت کی تعمیر
  6. کنڈیشننگ کا عمل
  7. زندگی کی تعمیر
  8. تعمیر ِخویش کاطریقہ
  9. مومن کا کنسرن
  10. اپنی تعمیر آپ
  11. ایک عظیم عبادت
  12. شکر کا عمل
  13. شکر ایک اعلیٰ عبادت
  14. انسان اور نظامِ ربوبیت
  15. اسمائے حسنیٰ
  16. شکر کی اہمیت
  17. حکمت اور شکر
  18. شکر ایک قربانی کا عمل
  19. شکر سے اضافہ
  20. صبر وشکر
  21. شکر کی تربیت
  22. سب کچھ خدا کا عطیہ
  23. شکر کے دو درجے
  24. حمد اور کَبَد کے درمیان
  25. بیسویں صدی
  26. مذہبی صداقت کا سائنسی ظہور
  27. ایک سادہ مثال
  28. زندگی کی مددگار
  29. پھول اور کانٹا
  30. زحمت میں رحمت
  31. غلطی کا اعتراف
  32. رمضان کا مہینہ
  33. انعام کی شکرگزاری
  34. شکر گزاری، سرکشی
  35. شکر کی حقیقت
  36. نعمت کا اعتراف
  37. منعم کا اعتراف نہیں
  38. شکر میں جینا سیکھیے
  39. ایک تجربہ
  40. شکر کا ایروژن
  41. دور شکر
  42. محرومی ایک نعمت
  43. منفی تجربہ سے مثبت تجربہ
  44. مالداری، غریبی
  45. بے خبرانسان
  46. بولنے کی صلاحیت
  47. شکر، نہ کہ شکایت
  48. فخر اور شکر
  49. ڈس ایڈوانٹج میں ایڈوانٹج
  50. کامیابی کا فارمولا
  51. واقعاتِ شکر
  52. ایک خط
  53. صبر
  54. صبر کیا ہے
  55. صبر کا فلسفہ
  56. سنتِ صبر
  57. صبر کی تعلیم
  58. صبر خدا کے لیے
  59. صبر دین کا خلاصہ
  60. صبر بے عملی نہیں
  61. قرآنی طریقہ
  62. حکمت اور صبر
  63. صبر منسوخ نہیں
  64. نتیجه خیز عمل
  65. اسٹیٹس کو اِزم
  66. صبر کیوں
  67. صبر کی اہمیت
  68. حکمتِ صبر
  69. بااصول زندگی
  70. صبر کی نصیحت
  71. سیلف ڈسپلن
  72. صبر کا مہینہ
  73. ڈسپلن کی اہمیت
  74. صبر واعراض کا اصول
  75. صبر پر بے حساب اجر
  76. صبر کا فائدہ
  77. دانش مندانہ طریقہ
  78. صبر کی عظمت
  79. اجتماعی صبر
  80. صبر پسپائی نہیں
  81. اذیت پر صبر
  82. دعوت اور صبر
  83. صبر وتقویٰ
  84. صبر ، عجلت
  85. صبر ایک عظیم نیکی
  86. صبربہادری ہے
  87. صبر کی جیت
  88. غیرصابرانہ عمل
  89. حقیقت پسندی
  90. نظامِ فطرت
  91. صبر کا انعام
  92. رد عمل نہیں
  93. غلط منصوبہ بندی
  94. صبر کا بدلہ
  95. جنت صبر کے اُس پار ہے
  96. صبر نفسیاتی قربانی
  97. قدرت کا پیغام
  98. داعیانہ صبر
  99. صبر کا سفر
  100. صبر، بے صبری
  101. صبر اور دعوت
  102. صبر ایک مثبت عمل
  103. روزہ صبر کی تربیت
  104. صبر کی عبادت
  105. صبر اور اعراض
  106. مسئلہ کا حل
  107. صبر و توکل
  108. عافیت کی زندگی
  109. قرآن کی ہدایت
  110. رات اور دن
  111. صبر، محاسبہ، توسم
  112. صبر کرنے والے
  113. قدرت کے باوجود
  114. صبر، صبر، صبر
  115. صبر و برداشت
  116. صبر کی زمین پر
  117. صبر— سپیریر سولیوشن
  118. صبر کی طاقت
  119. صبر اسلامی تاریخ میں
  120. دعوت کا دور
  121. خلافت کا دور
  122. ملوکیت کا دور
  123. اشتعال کے بغیر
  124. خاموش تدبیر
  125. صبر کا کرشمہ
  126. ایک کے بعد دوسرا
  127. صبر کا ہتھیار
  128. صبر کا طریقہ
  129. صبر کب تک
  130. صبر اور امن
  131. بے صبری کا نتیجہ
  132. صبر کاپھل
  133. صبر کی ضرورت
  134. مسائل پر صبر
  135. بے صبری نہیں
  136. سوال و جواب
  137. اعراض
  138. اعراض کی حکمت
  139. پریکٹکل وزڈم
  140. غلط فہمی
  141. رواداری
  142. رواداری کااصول
  143. جاہلوں سے اعراض
  144. رُجز سے اعراض
  145. اعراض کاطریقہ
  146. نفرت، دہشت گردی
  147. فساد اور اسبابِ فساد
  148. فخر اور نفرت
  149. مسلمان عالمی محاصرہ میں
  150. نصف ِ ثانی کی سیاست
  151. مقامِ نزاع سے پیچھے ہٹنا
  152. ردّ ِعمل اسلام میں نہیں
  153. نفرت کا بم
  154. مبنی بر نظام یا مبنی بر نفرت
  155. اختلاف کے وقت
  156. نفرت کی تیزاب
  157. ہجر جمیل
  158. غیر فطری رد عمل
  159. انسان کی رعایت
  160. اشتعال نہیں
  161. نفرت نہیں محبت
  162. اسلامی رواداری
  163. توسع اور رواداری
  164. دو ملک ایک واقعہ
  165. حکمت ِ اعراض
  166. ایک واقعہ
  167. اس میں سبق ہے
  168. تدبیر، نه که اشتعال
  169. منفی سوچ کا مزاج
  170. رُجز کو چھوڑو
  171. چُپ کی طاقت
  172. بگ برڈ تھنکنگ
  173. مثبت ذہن
  174. شخصیت کاارتقا
  175. ہلاکت کیا ہے
  176. تاريخ سے سبق
  177. صحیح نقطۂ آغاز
  178. تجربہ سے سبق سیکھیے
  179. مثبت فکر
  180. مثبت جواب
  181. سفر کا آغاز
  182. بحران کا مثبت پہلو
  183. ماضی میں جینا
  184. بھولنا ایک مثبت عمل
  185. اختلافِ رائے
  186. فطرت کا قانون
  187. منفی سوچ نہیں
  188. منفی تجربہ
  189. غصہ کا نقصان
  190. غصہ کا مثبت پہلو
  191. اینگر انرجی
  192. مشتعل نہ ہونے کا کرشمہ
  193. نزاع کا معاملہ
  194. اپنی سوچ درست کیجیے
  195. ایک لفظ کا فرق
  196. منفی پہلو میں مثبت پہلو
  197. مثبت اثر
  198. ’انا‘ کی دیوار
  199. منفی تأثر، مثبت تأثر
  200. احتجاج کوئی پالیسی نہیں
  201. مثبت لٹریچر کی ضرورت
  202. دشمن سے سیکھنا
  203. منفی سوچ اسلام میں نہیں
  204. بحران کا مسئلہ
  205. شخصیت سازی کا عمل
  206. خاتمہ
  207. تعمیر شخصیت کا راز
  208. کامیابی کے دس اصول

صبر کی جیت p. 192

ایک امریکی مثل ہے کہ صبر کی جیت ہوتی ہے (patience conquers)۔ صبر کی فاتحانہ صفت کے بارے میں یہ ایک عالمی تجربہ ہے جو مختلف الفاظ میں ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔دنیا میں جس شخص نے بھی کوئی بڑی کا میابی حاصل کی ہے، اس نے بلاشبہ صبر و تحمل کے ذریعہ اس کو حاصل کیا ہے ۔ p. 192original + quote

دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے صبر کی ضرورت کیوں پڑتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا بے شمار نا موافق اسباب سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں کا ہر آدمی دوسرے آدمی کے لیے ایک رکاوٹ ہے۔ دنیا کی مثال ایک ایسے باغ کی ہے جہاں نہایت خوش نما پھول ہیں۔ مگر ان پھولوں کا راستہ بے شمار کا نٹوں سے ہو کر گزرتاہے۔ کانٹوں کو برداشت کیے بغیر پھولوں تک پہنچنا ممکن نہیں۔ p. 192

زندگی کا یہی وہ پہلو ہے جو ہر آدمی کے لیے صبر و تحمل کو ضروری قرار دے دیتا ہے۔ اس دنیا میں جو آدمی صبر کرنے پر راضی نہ ہو وہ خود اپنا ہی نقصان کرے گا۔ کیوں کہ اپنی بے صبری کی بنا پر جگہ جگہ وہ انسانوں سے الجھ جائے گا۔ اور پھر اپنی منزل مقصود تک پہنچنا اس کے لیے ممکن نہ ہو سکے گا۔ p. 193

کوئی بھی انسان اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ اپنے مزاج کے خلاف چیزوں کا بالکل خاتمہ کر دے، یا اپنے مخالف انسانوں پر بلڈوزر چلا دے۔ ایسی حالت میں ہر شخص کے لیے کامیابی کا ایک ہی راستہ ہے — وہ ناموافق چیزوں پر صبر کرے ، اور حکمت کا طریقہ اختیار کر کے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ p. 193

مشکلات کو ہم صبر ہی کے ذریعہ حل کر سکتے ہیں۔ ناپسندیدہ اشخاص سے ہم در گزر کرکے ہی نپٹ سکتے ہیں۔ مخالفین کی سازشوں کو ہم تحمل کر کے ہی نا کام بناسکتے ہیں۔ جو لوگ ہمارے سفر میں رکاوٹ بنیں ، ان سے اعراض کر کے ہی ہم اپنا سفر کامیابی کے ساتھ جاری رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں ہر حال میں صبر ہی کرنا ہے ۔ کیوں کہ اس دنیا کے سوا کوئی اور دنیا بنانے پر ہم قا در نہیں۔ p. 193

صبر بے عملی یا بزدلی نہیں، صبر ز ندگی کا ایک اعلیٰ اصول ہے ۔ وہ آدمی جوپختہ عقل کا مالک ہو، وہ صبر کی روش اختیار کرنے والا بھی ضرور ہو گا۔ p. 193