Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
صبر کی جیت p. 192
ایک امریکی مثل ہے کہ صبر کی جیت ہوتی ہے (patience conquers)۔ صبر کی فاتحانہ صفت کے بارے میں یہ ایک عالمی تجربہ ہے جو مختلف الفاظ میں ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔دنیا میں جس شخص نے بھی کوئی بڑی کا میابی حاصل کی ہے، اس نے بلاشبہ صبر و تحمل کے ذریعہ اس کو حاصل کیا ہے ۔ p. 192original + quote
دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے صبر کی ضرورت کیوں پڑتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا بے شمار نا موافق اسباب سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں کا ہر آدمی دوسرے آدمی کے لیے ایک رکاوٹ ہے۔ دنیا کی مثال ایک ایسے باغ کی ہے جہاں نہایت خوش نما پھول ہیں۔ مگر ان پھولوں کا راستہ بے شمار کا نٹوں سے ہو کر گزرتاہے۔ کانٹوں کو برداشت کیے بغیر پھولوں تک پہنچنا ممکن نہیں۔ p. 192
زندگی کا یہی وہ پہلو ہے جو ہر آدمی کے لیے صبر و تحمل کو ضروری قرار دے دیتا ہے۔ اس دنیا میں جو آدمی صبر کرنے پر راضی نہ ہو وہ خود اپنا ہی نقصان کرے گا۔ کیوں کہ اپنی بے صبری کی بنا پر جگہ جگہ وہ انسانوں سے الجھ جائے گا۔ اور پھر اپنی منزل مقصود تک پہنچنا اس کے لیے ممکن نہ ہو سکے گا۔ p. 193
کوئی بھی انسان اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ اپنے مزاج کے خلاف چیزوں کا بالکل خاتمہ کر دے، یا اپنے مخالف انسانوں پر بلڈوزر چلا دے۔ ایسی حالت میں ہر شخص کے لیے کامیابی کا ایک ہی راستہ ہے — وہ ناموافق چیزوں پر صبر کرے ، اور حکمت کا طریقہ اختیار کر کے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ p. 193
مشکلات کو ہم صبر ہی کے ذریعہ حل کر سکتے ہیں۔ ناپسندیدہ اشخاص سے ہم در گزر کرکے ہی نپٹ سکتے ہیں۔ مخالفین کی سازشوں کو ہم تحمل کر کے ہی نا کام بناسکتے ہیں۔ جو لوگ ہمارے سفر میں رکاوٹ بنیں ، ان سے اعراض کر کے ہی ہم اپنا سفر کامیابی کے ساتھ جاری رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں ہر حال میں صبر ہی کرنا ہے ۔ کیوں کہ اس دنیا کے سوا کوئی اور دنیا بنانے پر ہم قا در نہیں۔ p. 193
صبر بے عملی یا بزدلی نہیں، صبر ز ندگی کا ایک اعلیٰ اصول ہے ۔ وہ آدمی جوپختہ عقل کا مالک ہو، وہ صبر کی روش اختیار کرنے والا بھی ضرور ہو گا۔ p. 193