Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
صبر بے عملی نہیں p. 144
قرآن میں صبر کی غیر معمولی عظمت بیان ہوئی ہے۔ مثلاًصبر کو اولو العزم پیغمبروں کا طریقہ بتایا گیا ہے(46:35)۔صبر پر اعلیٰ ترین کامیابیوں کی بشارت ہے (7:137)۔ صبر قیادتِ عالم کا زینہ ہے (32:24)۔ صبر حفاظت کا یقینی ذریعہ ہے (12:90)۔ حتی کہ صبر وہ چیز ہے جو آدمی کو بے حساب اجر کا مستحق بناتا ہے (39:10)۔ p. 144original + quote
حدیث میں آیا ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کسی معاملہ میں دیکھو کہ تم اس کو بدلنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہو تو صبر کرو یہاں تک کہ اللہ خوداس کو بدل دے إِذَا رَأَيْتُمْ أَمْرًا لَا تَسْتَطِيعُونَ تَغْيِيرَهُ، فَاصْبِرُوا حَتَّى يَكُونَ اللهُ هُوَ الَّذِي يُغَيِّرُهُ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 7685)۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے اپنی زندگی کا خیر صبر ہی کے ذریعہ حاصل کیا ہےوَجَدْنَا خَيْرَ عَيْشِنَا بِالصَّبْرِ(الزھد لوکیع بن الجراح، جلد1، صفحہ449)۔ ابن حجر العسقلانی نے صبر کی حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صبر تمام اچھے اخلاق کا جامع ہے فالصبرجَامعلمكارم الْأَخْلَاق (فتح الباری، جلد11، صفحہ 305)۔ p. 144quoted source
صبر نہ بزدلی ہے اور نہ وہ بے عملی ہے۔ صبر ایک مثبت قدر ہے۔ صبر بلند ترین ذہنی حالت ہے۔ صبر سب سے بڑا عمل ہے ۔ صبر انسانیت کا تکمیلی درجہ ہے۔ p. 144
آپ سڑک کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں ، کچھ لوگ آتے ہیں اور آپ کے خلاف اشتعال انگیز نعرہ لگا دیتے ہیں۔ اب آپ کے لیے رد عمل کے دو مختلف طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ نعرہ کو سن کر بھڑک اٹھیں۔ آنے والوں کے ساتھ جھگڑنے لگیں۔ یہ بے صبری کا طریقہ ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اشتعال انگیز نعرہ کو سنیں، مگر آپ اس پرمشتعل نہ ہوں ، آپ کا ذہن بدستور اعتدال کی حالت پر باقی رہے۔ آپ اپنے جذبات کو تھام کر یہ سوچیں کہ ایسے موقع پر آپ کو کیا کرنا چاہیے۔ یہ دوسرا طریقہ صبر کا طریقہ ہے۔ p. 145
بے صبری بھی عمل ہے، اور صبر بھی عمل ہے ۔ دونوں میں سے کوئی بھی بے عملی نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ بے صبر آدمی فوری جذبات کے تحت اقدام کر بیٹھتا ہے ، خواہ اس کا نتیجہ کچھ بھی نکلے۔ اس کے برعکس، صبر والا آدمی سوچ سمجھ کر اور مشورہ کر کے اپنے اقدام کا فیصلہ کرتا ہے— بے صبری کی روش تباہی کی طرف لے جاتی ہے اور صبر کی روش کامیابی کی طرف ۔ p. 145