Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
سنتِ صبر p. 137
صبر کیا ہے ، صبر یہ ہے کہ جذبات یا اشتعال کے موقع پر اپنے آپ کو تھا ماجائے۔ جوابی کارروائی کرنے سے پہلے اپنے جذبات کو روک کر یہ سوچاجائے کہ میر ے لیے اس موقع پر صحیح ردِّعمل کیا ہے اور زیادہ نتیجہ خیز کا رروائی کیا ہو سکتی ہے۔ p. 137
کبھی جذبات کو روک لینے کانام صبر ہے، کبھی صبر اس کانام ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو جوابی اقدام سے باز رکھا جائے اور کبھی صبر یہ ہوتا ہے کہ اقدام توکیا جائے مگر وہ منصوبہ بنداقدام ہو نہ کہ محض جذباتی اقدام۔ p. 137
سوال کیا جا سکتا ہے کہ ایک مخالف اگر کسی کو نقصان پہنچائے تو وہ اس پر صبر کرلے یا وہ اس کا توڑ کرنے کی کوشش کرے۔ p. 138
جواب یہ ہے کہ صبر کا مطلب خواہ مخواہ نقصان اٹھانا نہیں ہے۔ صبر کامطلب یہ ہے کہ غیر موافق صورت ِحال پیش آنے کے بعد ٹھنڈے ذہن سے آپ یہ سوچیں کہ آپ کاجوابی اقدام آپ کے حق میں کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرے گا یا آپ کے نقصان میں مزید اضافہ کا سبب بن جائے گا۔ صبر کا مطلب اپنے آپ کو مزید نقصان سے بچانا ہے،نہ کہ غیرضروری طور پر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا۔صبر کبھی عمل کانام ہوتا ہے اور کبھی اپنے آپ کو عمل سے روک لینے کا،یہ دراصل حالات ہیں جو فیصلہ کرتے ہیں کہ کسی موقع پر کون ساصبر مطلوب ہے۔ p. 138
صبر اور بے صبری میں یہ فرق ہے کہ بے صبرآدمی نتیجہ پر غور کیے بغیر حالات کے طوفان میں کود پڑتا ہے۔ اورصبر والا آدمی صورتِ حال پیش آجانے کے بعد پہلے سنجید گی کے ساتھ غور کرتا ہے ، لوگوں سے مشورہ کرتا ہے ، اور سوچے سمجھے فیصلہ کے تحت وہ کارروائی کرتا ہے جو زیادہ سے زیادہ نتیجہ خیز ہو سکے ۔ صبر حکمت ِعملی کانام ہے اور بے صبری یہ ہے کہ آدمی وقتی کیفیت سے متاثر ہو کر ایسا اقدام کربیٹھے جس کا حکمت اور دوراندیشی سے کوئی تعلق نہ ہو۔ p. 138