Tabeer Ki Ghalati

نقطۂ نظر میں فرق

Tabeer Ki Ghalati — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (43 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. آغاز
  3. دیباچہ طبع ثانی
  4. تمہید
  5. معذرت
  6. گفتگو اور خط و کتابت
  7. پہلا مرحلہ
  8. دوسرا مرحلہ
  9. تیسرا مرحلہ
  10. خط و کتابت مولانا صدرالدین اصلاحی
  11. شبہات
  12. دین کا صحیح تصور
  13. خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
  14. خط و کتابت مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی
  15. خط و کتابت مولانا ابو الاعلیٰ مودودی
  16. ضمیمہ
  17. تصورِ دین
  18. اجتماعی تقاضا
  19. اسلامی مشن کی تعبیر
  20. ایک شبہ
  21. حدیث سے استدلال
  22. فقہ سے استدلال
  23. غلط تعبیر کے نتائج
  24. نقطۂ نظر میں فرق
  25. غیرشعوری عمل
  26. قرآن سے بے تعلقی
  27. دین کو اپنے ذہنی سانچے میں ڈھالنا
  28. نشانے کی تبدیلی
  29. مخاطبین پر اثر
  30. سیاسی انتہا پسندی
  31. غلبۂ دین کی غلط تشریح
  32. نظریاتی دینداری
  33. اصل کام کے بجائے د وسرے کام
  34. نتائج کی خامی نظریاتی خامی کا ثبوت
  35. عبادت کے تقاضے
  36. اطاعت
  37. شہادت حق
  38. نصرت دین
  39. تقابل
  40. نماز کی مثال
  41. کرنے کا کام
  42. قبول حق کی رکاوٹیں
  43. آخری بات

نقطۂ نظر میں فرق p. 349

تعبیرکی اس غلطی کاپہلاکھلا ہوانقصان یہ ہے کہ اس کی وجہ سے ذہنوںمیں دین کا تصور بدل گیا ۔ ہر چیز میں کچھ جزئی پہلو ہوتے ہیں۔ اورایک اس کی مجموعی حقیقت ہوتی ہے۔ جزئی پہلوؤں میں سے کسی کے بارے میں مشاہدہ غلطی کر جائے تو یہ غلطی اپنے مقام پر رکی رہتی ہے، لیکن مجموعی حقیقت کے بارے میں تصورکا بدل جانا پورے وجود کے بارے میں نقطہ نظر کو بدل دیتا ہے۔ ارسطو کا خیال تھاکہ عورتوں کے منھ میں مرد سے کم دانت ہوتے ہیں۔ یہ اگرچہ ایک غلطی تھی، مگر جزئی اورمقامی غلطی تھی۔ اس لیے اس کی وجہ سے زندگی میں کوئی حقیقی خرابی پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بجائے جن مفکرین نے عورت کے بارے میں مساوات کانظریہ پیش کیا اور یہ سمجھا کہ عورت اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے ویسی ہی ہے جیسے مرد، انہوں نے عورت کے پورے وجود کے متعلق غلط رائے قائم کی۔ اس کی وجہ سے عورت کی پوری ہستی کے بارے میں ان کی رائے کچھ سے کچھ ہو گئی۔ جس کے نتیجے میں خاندان اور سماج کے اندر ایسی ایسی خرابیاں پیدا ہوئیں جن کااس فکر کے ابتدائی موجدین نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ p. 349original + quote

زیرِ بحث تعبیر کی غلطی کا تعلق بھی مجموعی فکر سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے جن ذہنوںمیں جگہ بنائی وہ پورے مجموعہ دین کو ایک مختلف نظر سے دیکھنے لگے۔ اور جب مجموعہ کے بارے میں نقطہ نظر بدل جائے تو پھر اسی نسبت سے سارے متعلق اجزاء کی حیثیت میں فرق آ جاتا ہے۔ اس فکر نے دین کی جو تصویربنائی ہے، اس میں بظاہر سارے اجزائے دین موجود ہیں۔ مگر سب کے سب اپنے اصل مقام سے ہٹے ہوئے ہیں۔ اس میں اجزائے دین کی ترتیب کچھ اس ڈھنگ سے ہوئی ہے کہ دیکھنے والا جب اس کو دیکھتا ہے تو اس میں اسلام بحیثیت ’’نظام‘‘ تو بہت ابھرا ہوا نظر آتا ہے، مگر اس کا تعبدی پہلو کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس تصویر میں ایمان، اسلام، تقویٰ،احسان ، سب کچھ موجود ہے۔ { FR 8664 } مگر یہ الفاظ اصلاً تعلق باللہ کے مراحل کو ظاہرنہیں کرتے بلکہ وہ ’’تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں‘‘ ہیں۔ وہ تعلق باللہ کے ان مخصوص مظاہر کے پیمانے ہیں جوامامت صالحہ اور ’’نظام حق کے قیام ‘‘ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ جو اس تعبیر کے نزدیک ’’دین کا حقیقی مقصود‘‘ اور دنیامیں ’’مسلمان کی سعی کا منتہا ہے‘‘۔ یہ حقیقتِ ایمانی کے ظہور کے وہ مراتب ہیں، جو یہ بتاتے ہیں کہ آدمی مذکورہ بالا انقلابی جدوجہد کے اعتبار سے کس مقام پر ہے۔ p. 349

جب دین کا تصور یہ ہو جائے تو پھر آپ کو تعجب نہ کرنا چاہیے۔ اگر ایسے افراد کا دینی تعلق ایک مخصوص سیاسی ڈھانچہ کے نفاذ کے بارے میں تو خوب ظاہر ہوتا ہو، مگر ذکر و شکر اوراخبات وانابت کی حقیقتیں ان کے یہاں غائب ہو گئی ہوں۔ p. 350