Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
خط و کتابت مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی p. 100
مولانا ابواللیث صاحب سے میری خط و کتابت کا ایک حصہ وہ ہے جو اپنی تحریر کے بارے میں جماعت اسلامی کا باضابطہ جواب حاصل کرنے کے سلسلے میں پیش آیا، یہ ایک ضابطہ کی خط و کتابت تھی۔ جس کو یہاں نقل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کا دوسرا حصہ وہ ہے جو میری تحریر کے بارے میں مولانا صدرالدین صاحب کا جواب موصول ہونے کے بعد شروع ہوا۔ 10 اگست 1962ء کو میں نے رام پور سے انھیں بذریعہ خط مطلع کیا کہ ’’مولانا صدر الدین صاحب کے جواب کو کئی بار پڑھنے اور اس پر کافی غور کرنے کے باوجود میرے اصل نقطہ نظر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، بجنبسہٖ باقی ہے، اگر آپ فرمائیں تو زبانی یا تحریری طور پر اپنے خیالات آپ کے سامنے عرض کر سکتا ہوں۔‘‘ اس کے جواب میں ان کی طرف سے حسب ذیل خط موصول ہوا۔ p. 101
دہلی، 13 اگست 1992ء p. 101
برادر عزیز! السلام علیکم و رحمۃ اللہ p. 101
گرامی نامہ ملا۔ یہ معلوم کر کے افسوس ہوا کہ مولانا صدر الدین صاحب کی تحریر پڑھنے کے بعد بھی آپ کے اصل نقطۂ نظر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ بہرحال آپ اپنے خیالات مختصراً قلم بند فرما کر بھیج دیں۔ تو ان پر غور کرنے میں آسانی ہو گی۔ p. 101
والسلام ابواللیث p. 101
اس کے بعد میں نے حسب ذیل مکتوب مولاناابواللیث صاحب کی خدمت میں روانہ کیا۔ p. 102
رام پور، 19 اگست1962ء p. 102
محترمی سلام مسنون p. 102
گرامی نامہ مورخہ 13 اگست 1962ء ملا۔ میرا ارادہ تھا کہ اگر آپ نے مولانا صدرالدین صاحب کی تحریر کے سلسلے میں میرے تاثرات مانگے تو میں ان کے ایک ایک پوائنٹ کے بارے میں واضح طور پر اپنا تبصرہ لکھ کر بھیجوں گا، مگر آپ نے چونکہ فرمایا ہے کہ ’’میں اپنے خیالات مختصراً قلم بند کرکے بھیجوں ‘‘۔ اس لیے چند ضروری باتیں عرض کرتا ہوں۔ p. 102
مولانا صدر الدین صاحب اصلاحی نے سب سے پہلے ’’موضوع بحث کیا ہونا چاہیے تھا‘‘ کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ میں نے جماعت اسلامی کے نصب العین اور اس کی تعبیر دین کی غلطی ثابت کرنے کے لیے اس کے لٹریچر کو بنیاد بنایا ہے۔ حالانکہ صحیح طریقہ یہ تھا کہ پہلے دستور جماعت کی وہ دفعہ پوری نقل کر دی جاتی جس میں نصب العین اوراس کی تشریح درج ہے اور پھر اس پرتنقید کی جاتی۔ p. 103original + quote
عرض ہے کہ میرا اعتراض اصلاً ’’جماعت اسلامی بحیثیت قانونی ڈھانچہ‘‘ پر نہیں ہے بلکہ اس خاص تعبیر دین پر ہے جس کے نتیجے کے طور پر یہ ڈھانچہ وجود میں آیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس تعبیر کی تفصیلات لٹریچر میں ہیں، نہ کہ دستور کی قانونی دفعات میں۔ پھر دستورمیں نصب العین کے فقرے کی تبدیلی کا مطلب جیسا کہ خود تبدیل شدہ دستورکے حاشیہ میں تصریح ہے، یہ نہیں ہے کہ جماعت کاسابقہ تصور دین بدل گیا۔ اس کے برعکس، حقیقت صرف یہ ہے کہ سابقہ تصور دین کو بطور نصب العین ایک قانونی فقرے میں ظاہر کرنے کے لیے جماعت نے اب ایک نیا جملہ استعمال کیا ہے۔ گویا یہ بحث بالکل اضافی ہے کہ جماعت اسلامی کا نصب العین حکومت الٰہیہ ہے یا اقامت دین، کیوں کہ کہ خواہ جو لفظ بھی بولا جائے اس کا تفصیلی مفہوم متعین کرنے کے لیے وہی لٹریچر دیکھنا ہو گا جو پہلے بھی جماعت کا واحد فکری سرمایہ تھااور آج بھی عملی طور پر وہی جماعت کاواحد فکری سرمایہ ہے۔ (واضح ہو کہ یہ بات میں نے محض اصولی طور پر کہی ہے، ورنہ نہ تو ایسا ہے کہ میں نے محض ’’حکومت الٰہیہ‘‘ کے لفظ کو بنیاد بنا کر اپنے مضمون میں ساری تنقید کر ڈالی ہے اور نہ ایسا ہے کہ ’’اقامت دین‘‘ کے لفظ سے وہ بات ثابت ہو جاتی ہے جس کی موصوف ترجمانی کر رہے ہیں) ۔ p. 103unverified
2۔ زیرِ بحث تعبیر کے حق میں سب سے پہلا استدلال ’’شہادت‘‘ کی آیت سے کیا جاتا ہے، ’’شہادت حق‘‘ نامی پمفلٹ کی تشریح کے مطابق شہادت کا کام جس کے لیے انبیاء بھیجے گئے تھے، وہ یہ تھا کہ زبانی تبلیغ کے ساتھ ساتھ اسلام کے پورے نظام کا زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی قومی اور بین الاقوامی شعبوں میں عملی مظاہرہ کیا جائے، اس کے بغیر شہادت اور تبلیغ کی ذمہ داری پوری طرح ادا نہیں ہو سکتی اور نہ نوع انسانی پر اتمام حجت ہو سکتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جماعت اسلامی نے جو انقلابی نصب العین اپنے سامنے رکھا ہے وہ وہی ہے جو شہادت کی آیت کے تحت ہم پر فرض کیا گیا ہے۔ p. 103original + quote
اس استدلال پر میں نے اعتراض کیا تھاکہ شہادت اور اتمام حجت کا یہ مطلب کسی بھی رسول کی زندگی سے ثابت نہیں ہوتا، وہ تمام رسول جن سے ہم واقف ہیں اور جن کا قرآن میں ذکر ہے، انہوں نے زبانی تبلیغ ہی کے ذریعہ شہادت کی ذمہ داری کو ادا کیا تھا۔ کسی بھی رسول نے اس طرح اتمام حجت نہیں کی کہ اس نے اپنی امت دعوت کے سامنے پورے نظام اسلامی کا ہمہ گیر عملی مظاہرہ کر کے دکھایا ہو، قرآن میں درجنوں بلکہ سینکڑوں آیتیں ہیں جن میں نبی کے دعوتی کام کا ذکر ہے، مگر کہیں بھی ’’عملی شہادت‘‘ یا اتمام حجت کے لیے اسلامی نظام زندگی کے ’’مظاہرہ‘‘ کا کوئی ذکر نہیں، بلکہ ہر جگہ ’’کہنے‘‘ اور ’’سنانے‘‘ کی قسم کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں میرے استدلال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں p. 103unverified
’’دراصل انھیں دھوکا ان آیتوںکو دیکھ کر اوران کے سیاق و سباق اور مقصد بیان پر پوری طرح غور نہ کر سکنے کی وجہ سے لگ رہا ہے جن میں یہ فرمایا گیا ہے کہ رسولوں پر اچھی طرح پہنچا دینے کے سوا اورکوئی ذمہ داری نہیں (فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلَاّ الْبَلاغُ الْمُبِين [16:35]، وغیرہ)حالانکہ اس طرح کی آیتیں انبیاء کے پورے کار شہادت اور فریضۂ رسالت کاتعین کرنیوالی ہیں ہی نہیں، یہ تو کار شہادت کے صرف آغاز اور اس کی ابتدائی منزل کا تعین کرتی ہیں، اور جہاں تک حصر کا اسلوب رکھنے والی آیتوں کاتعلق ہے وہ تو صرف ان معاندین حق کے پیش نظر فرمائی گئی ہیں۔ جو کسی طرح بھی دعوت حق کے قبول کرنے پرآمادہ نہیںہوتے۔ اور ان کے فرمانے کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ ایک طرف تو نبی کو یہ اطمینان دلایا جائے کہ ان لوگوں کی حد تک — صرف ان لوگوں کی حد تک — تمہاری ذمہ داری ختم ہو چکی ہے، اس لیے ان کے ایمان نہ لانے کے سلسلے میں تمہیں پریشان نہ ہونا چاہیے۔ دوسری طرف ان منکروں کو متنبہ کردیا جائے کہ تمہیں سمجھانے بجھانے کا مرحلہ اب ختم ہو چکا ہے۔ اب اگر تم نہیں مانتے تواس کے انجام کے تم خود ذمہ دار ہو۔‘‘ p. 104
اگرچہ یہ توجیہ صرف ان آیتوں سے متعلق ہے جو موصوف کے الفاظ میں ’’حصر کااسلوب ‘‘رکھنے والی ہیں، ان کے سوا بے شمار دیگر آیات کے حق میں یہ توجیہ صادق نہیں آتی، تاہم اصل مسئلہ نسبت سے یہ بحث بالکل غیر ضروری ہے۔ اس لیے میں اس کو چھوڑتا ہوں۔ میں یہ پوچھتا ہوں کہ موصوف نے جن ’’معاندین حق‘‘ کا حوالہ دیا ہے، ان کامعاند ہونا کیسے معلوم ہوا تھا، کیا یہ کوئی انکشاف تھا جو محض علم غیب کی بنیاد پر کر دیا گیا تھا، یا تبلیغ و شہادت کی کسی کوشش کے بعد اس کا علم حاصل ہوا تھا آخر حق کو قبول کرانے کی وہ کون سی کوشش تھی جس نے بتایا کہ وہ کسی طرح بھی حق کو قبول کرنے والے نہیں ہیں‘‘۔ اور یہ کہ ان لوگوں کی حد تک نبی کی بات پہنچانے کی ’’ذمہ داری ختم ہو چکی ہے‘‘۔ اب وہ قیامت میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم کو آپ ایک ایسے جرم کی سزا دے رہے ہیں جو ہم پر واضح نہیں کیا گیا تھا، دوسرے لفظوںمیں یہ کہ جو ذمے داری شاہد پر تھی وہ ذمہ داری اب مشہود کی طرف جا چکی تھی، آخر شہادت ادا کرنے یا بات پہنچانے کی وہ کون سی کوشش تھی جس کے نتیجے میں یہ ساری چیزیں متحقق ہوئیں۔ p. 104original + quote
ظاہر ہے کہ یہ کسی ’’نظام حیات‘‘ کی عملی شہادت نہیں تھی، کیوں کہ ایسا کوئی نظام اس وقت تک وجود ہی میں نہیں آیا تھا بلکہ یہ وہی چیز تھی جس کو موصوف نے دوسرے مقام پر ’’دعوتی مساعی‘‘ کے لفظ سے تعبیرکیا ہے، اب اگر موصوف کے ذوق خاص کو یہ ’’محض ابتدائی شہادت‘‘ نظر آتی ہے تو مجھے اس سے کوئی بحث نہیں، کیوں کہ خود موصوف کے اعتراف کے مطابق یہی ابتدائی شہادت اللہ تعالیٰ کی نظر میں ’’ انتہائی شہادت‘‘ بن گئی۔ اور اس کی بنیاد پر اعلان کر دیا گیا کہ ان کے اوپر شہادت حق کی حجت تمام ہو چکی ہے۔ اب آخرت کی عدالت اس حیثیت میں ہو چکی ہے کہ ان کے بارے میں آخری فیصلہ کر سکے۔ p. 104
’’عملی شہادت‘‘ کے نظریہ پر میں نے جو تنقید کی ہے اس سے شاید موصوف کو غلط فہمی ہو گئی ہے۔ لکھتے ہیں p. 104
’’کیا اگر ہم نے اور آپ نے اعلان و اسرار کے ذریعہ (اپنے مخاطبین کے) سامنے اسلام کی بات پہنچا دی اور اس کے برحق ہونے پر دلائل فراہم کر دیے تو ان پر اس طرح کی حجت تمام ہو جائے گی۔ شاید یہ ایک ایسی بات ہو گی جس کا قائل اور مدعی بننے کے لیے ہمیں دنیا کی نہ کوئی خوش فہمی اجازت دے سکے گی نہ کوئی ہٹ دھرمی‘‘۔ p. 105
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موصوف ’’اعلان و اسرار‘‘ کے ذریعہ بات پہنچانے کا مطلب یہ سمجھتے ہیںکہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ سارے شہر میں اعلان کر دیا جائے۔ یا کسی گزرتے ہوئے شخص کے کان میں ایک بار پھونک دیا جائے ۔ اگر اس طرح سے ہماری آواز لوگوں کے کانوں میں پڑ گئی تو بس اتمام حجت ہو گیا۔ حالانکہ ’’اعلان و اسرار‘‘ کا لفظ قرآن میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں آیا ہے جو دو چار دن نہیں بلکہ سینکڑوں برس تک اپنی قوم کو پکارتے رہے۔ داعی کی پکار محض ایک بار سنا دینے کانام نہیں ہوتی، بلکہ وہ ایک انتہائی حکیمانہ اور صابرانہ عمل ہے جو پوری دلسوزی کے ساتھ طویل ترین مدت تک جاری رہتا ہے۔ قرآن و حدیث میں داعیانہ خطاب کی شرائط نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کر دی گئی ہیں۔ ان سب کو شامل کرنے کے بعد دعوتی کام کا جو نقشہ بنتا ہے، اسی کا نام شہادت ہے۔ p. 105
3۔ اقیموالدین کی آیت سے اس تعبیر کے حق میں جو استدلال کیا جاتا ہے، اس کے متعلق میں نے لکھا ہے کہ یہ صحیح نہیں، کیوں کہ اس آیت میں صرف بنیادی تعلیمات دین کی اقامت کا حکم ہے، جب کہ آپ اپنے نصب العین کو ایک مکمل اور ہمہ گیر نظام حیات کا قیام کے الفاظ میں ظاہر کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں لکھتے ہیں p. 105
’’موصوف کونہ جانے اتنی موٹی سی بات کیوں یاد نہ رہی کہ آیت میں جو حکم دیا گیا ہے، اس میں نہ کوئی تخصیص ہے نہ کوئی توقیت، اس کے بخلا ف وہ واضح طور پر ایک عام ہمہ گیر اور اصولی حکم ہے، اوروہ یہ کہ الدین یعنی اللہ کے دین کو قائم کرو۔ اللہ کا دین کوئی ایسا لفظ نہیں جس میں کوئی ابہام یا اجمال ہو، وہ ایک جانی بوجھی حقیقت ہے، سب جانتے ہیں کہ الدین اور اللہ کا دین کسے کہتے ہیں، اس لیے جو چیزبھی اللہ کے دین کا جزء ہو گی ، جس شے پر بھی دین کا اطلاق ہو گا، وہ اس حکم اقامت میں لازماً داخل ہوگی۔‘‘ p. 105unverified
میں کہوں گا کہ اقیموالدین کے دو لفظی ٹکڑے میں تو بے شک کوئی تخصیص نہیں ہے پورے فقرے کو سامنے دیجیےتو صریح طور پر یہاں تخصیص پائی جا رہی ہے، وہ یہ کہ پوری آیت کے مطابق حکم یہ ہے کہ اس دین کو قائم کرو جو تمام انبیاء پر اترا تھا اور چونکہ انبیاء پر اترنے والا دین قرآن کی تصریح کے مطابق دو اجزاء پرمشتمل تھا ایک وہ جو سب میںمشترک ہے اوردوسرا وہ جن میں ان کے درمیان اختلاف تھا، اس لیے مقتضائے کلام کے مطابق یہاں حکم اقامت میں صرف پہلا جزء مراد ہو گا اور دوسرا جزء (اس آیت کی حد تک) اس سے خارج سمجھا جائے گا، جیسا کہ مفسرین نے اسی بنا پر یہاں بالاتفاق کہا ہے (مفسرین کے تفصیلی حوالہ کے لیے ملاحظہ ہو کتاب کا باب ’’پنجم‘‘) ۔ p. 105original + quote
حقیقت یہ ہے کہ صرف اقیمواالدین کے دو الفاظ لے کر یہ دعویٰ کرنا کہ اس میں کوئی تخصیص نہیں پائی جاتی، گویا یہ کہنا ہے کہ تخصیص کو انھیں چند الفاظ میں موجود ہونا چاہیے جن کا حوالہ دیا گیا ہو، اگر اس فلسفہ کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر شاید کوئی ایسی بات نہ ہو گی جو قرآن سے ثابت نہ ہو سکے۔مثلاً p. 106
لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ (4:43)۔ یعنی، نزدیک نہ جاؤ نماز کے۔ p. 106Qur'an
لَيْسَتِ التَّوْبَةُ (4:18)۔ یعنی، توبہ نہیں ہے۔ p. 106
ما مِنْ إِلهٍ (3:62)۔ یعنی، کوئی معبود نہیں۔ p. 106
جیسے سینکڑوں فقرے ملیں گے جو کسی تخصیص اور استثناء کے بغیر ایک حقیقت کا اظہار کر رہے ہیں— افسوس کہ ایک غلط بات کی وکالت نے موصوف کو ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا جہاں وہ خود بھی شعوری طور پر جانا کبھی پسند نہیں کر سکتے۔ p. 107
اسی قسم کی ایک اور دلچسپ دلیل موصوف نے یہ دی ہے کہ امام راغب اصفہانی نے إِقَامَةُ الشَّيْءِ کے معنیتَوْفِيَةُ حَقِّهِ لکھے ہیں(مفردات القران، صفحہ692)۔ اور ظاہر ہے کہ دین کا توفیہ یعنی اس کے پورے حق کی ادئیگی کل دین کی اقامت کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ اس لیے أَقِيمُوا ٱلدِّينَکا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ پورے دین کو قائم و جاری کرو۔ p. 107original + quote
مگر امام راغب کی تشریح کے یہ معنی خود تشریح کے اندر موجود نہیں ہیں بلکہ وہ موصوف کے ذہن میں جا کر بن گئے ہیں۔ اس تشریح کا مطلب تو صرف یہ ہے کہ جس چیز کے لیے بھی اقامت کا لفظ بولا جائے، اس کا توفیہ کرنا، امام راغب کی یہ تشریح مفردات میں ’’ق وم ‘‘باب میں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لفظ اقامت کا مفہوم بتا رہے ہیں، نہ کہ الدین کے حدود متعین کر رہے ہیں، مگر موصوف چوں کہ اپنے ذہن میں الدین کا مفہوم ’’کل شریعت‘‘ لیے ہوئے ہیں، اس لیے انہوں نے الدین کے اپنے اس ذاتی مفہوم کو لفظ اقامت کے متعلق امام راغب کی تشریح کے ساتھ ملا کر یہ سمجھ لیا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ’’کل دین کا توفیہ کرو‘‘۔ حالانکہ اگروہ الدین سے اصل دین مراد لیں تو وہ نہایت آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے ’’اصل دین‘‘ یا دین کی بنیادی تعلیمات کا توفیہ کرو، گویا کہنے والے نے تو صرف ’’چار‘‘ کہاتھا، مگر سننے والے نے اپنے مخصوص ذہن کی وجہ سے اس کو ’’چار روٹیاں‘‘ سمجھ لیا۔ p. 107
أَقِيمُوا الدِّينَ کی آیت کے سلسلے میں میں نے اپنی تحریر میں مفسرین کے اقوال بھی جمع کیے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سب کے سب یہاں الدین سے اصل دین مراد لیتے ہیں، اور تفصیلی شریعت کو اس سے خارج قرار دیتے ہیں، اس حقیقت کے اظہار کے لیے ان میں سے بعض نے یہ فقرہ استعمال کیا ہے p. 107
’’ وَلَمْ يَرِدِ الشَّرَائِعَ الَّتِي هِيَ مَصَالِحُ الأُمَمِ عَلَىٰ حَسَبِ أَحْوَالِهَا، فَإِنَّهَا مُخْتَلِفَةٌ مُتَفَاوِتَةٌ.‘‘(الکشاف للزمخشری، جلد4، صفحہ p. 108other source
؛ تفسیر القرطبی، جلد16، صفحہ10)۔ p. 108
اس فقرے کو لے کر میرے بارے میں فرماتے ہیں کہ فی الواقع انھیں غلط فہمی ہوئی ہے۔ ورنہ مفسرین کا مدعا و منشاء وہ ہرگز نہیں ہے جو انہوں نے لیا ہے۔ اس کے بعد میری ’’غلط فہمی‘‘کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں p. 108original + quote
’’بات دراصل یہ ہے کہ مفسرین کرام نے جو یہ فرمایا ہے کہ ’’اس سے شرائع مراد نہیں ہیں‘‘ تو یہ انہوں نے ایک ظاہری اشکال یا اعتراض کے دفع کرنے کے لیے فرمایا ہے۔ اشکال یا اعتراض یہ پیدا ہو رہا تھا کہ انبیاء کرام کے دین اپنی تفصیلی شکل میں بیعنہٖ ایک سے نہ تھے بلکہ ان کی شریعتوں میں بہت کچھ اختلاف تھا لیکن اس آیت میں دین کی اقامت کا حکم دیتے وقت یہ کہا گیا کہ یہ وہ دین ہے جو سارے انبیاء پر نازل ہوتارہا ہے ۔ تو اس شکل میں آخر اس حکم کی تعمیل کس طرح کی جا سکتی ہے۔ آخر اقامت دین کی وہ کیا صورت ہو سکتی ہے جس سے سارے انبیاء کرام پر نازل ہونے والی ہدایات ربانی کی اقامت اور پیروی کا حق ادا ہو جائے۔ مفسرین کرام کے ذہن میں یہی اشکال تھا جس کا جواب دینے کے لیے انہوں نے اس بات کی وضاحت ضروری سمجھی کہ یہاں شرائع زیرِ بحث ہیں ہی نہیں۔‘‘ p. 108original + quote
میں نہیں سمجھ سکا کہ ان الفاظ میں میری بات کی تردید کا کیا پہلو ہے، ان الفاظ کا مطلب بظاہر سمجھ میں آتا ہے وہ یہ کہ أَقِيمُوا۟ ٱلدِّينَ کا حکم جس آیت میں آیا ہے، اس کے الفاظ اس قسم کے ہیں کہ اگر وہاں دین سے کل دین کی اقامت مراد لی جائے تو فوراً اعتراض واقع ہو جائے گا، اس لیے مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں شریعتیں زیرِ بحث نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک اس ’’حکم کی تعمیل کی صورت‘‘ یہ ہے کہ دین کااتباع کیا جائے۔ آخر اس کے سوا اورکیا بات ہے، جو میں کہہ رہا ہوں۔ کیامیرا دعویٰ یہ ہے کہ بغیر کسی سبب کے مفسرین نے خواہ مخواہ یہ رائے قائم کر لی ہے کہ یہاں صرف اصل دین کی اقامت کا حکم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موصوف کے الفاظ علمائے تفسیر کی رائے کی صرف توجیہ پیش کر رہے ہیں وہ میری ’’غلط فہمی‘‘ کی تردید نہیں کرتے۔ p. 109
اس سلسلے میں موصوف نے دوسرا نکتہ یہ پیش کیا ہے کہ مفسرین نے ’’لم یردالشرائع‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ حالانکہ اگر وہ بات ہوتی جو میں سمجھ رہا ہوں تو اس کے بجائے لم یرد الشریعۃیا لم یرد الشریعۃ المحمدیۃ جیسے الفاظ ہونے چاہئیں تھے۔ p. 109
یہ نکتہ موصوف نے غالباً جلدی میں لکھ دیا۔ حالانکہ اگروہ غور کرتے تو انھیں معلوم ہوتا کہ جمع کا صیغہ اس لیے استعمال ہوا ہے کہ (بشمول آخری نبی) تمام انبیاء کی شریعتوں کے بارے میں کہنا تھا کہ وہ یہاں مراد نہیں ہیں۔ شرائع کے لفظ میں شریعت محمدی آپ سے آپ شامل ہے۔ وہ اس سے خارج نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی لغت میں یہ لکھا ہوا ہو کہ شرائع کے معنی ’’شریعت محمدی کے سوا شرائع‘‘ تو یقیناً موصوف کا یہ استدلال صحیح ہو گا۔ p. 109original + quote
اب میں اس تحریر کے اس حصہ پر آتا ہوں جو اس کا سب سے زیادہ حیرت انگیز حصہ ہے أَقِيمُوا۟ ٱلدِّينَ کی بحث میں میں نے علمائے تفسیر کے جو حوالے دیے ہیں اس سلسلے میںمیری تردید کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ تمام مفسرین کا یہی خیال نہیں ہے، اس موقع پر موصوف نے دو مفسرین کے حوالے نقل کیے ہیں۔ اور دعویٰ کیا ہے کہ ان کے نزدیک ’’اقامت دین کے اس حکم میں شریعت کے تفصیلی احکام بھی داخل ہیں اور پورے کے پورے داخل ہیں۔‘‘ مگر آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ دو مفسرین کے بارے میں یہ جو انکشاف کیا گیا ہے کہ ان کے نزدیک اقیموالدین کے اس حکم میں شریعت کے تمام احکام اپنی پوری تفصیل کے ساتھ داخل ہیں۔ وہ ان کی اصل عبارتوں میں لکھاہوا موجود ہے۔ بلکہ اس کا ماخذ دوسرا ہے۔ اور وہ ہے عبارت کے کچھ حصوں کو حذف کر کے مفسر کی ایک بات کو غلط رنگ میں پیش کرنا۔ p. 109original + quote
جن دو مفسروں کے حوالے دیے گئے ہیں وہ علامہ صاوی اور شیخ سلیمان ہیں، ان دونوں بزرگوں نے جلالین کی شرح لکھی ہے۔ جلالین میں أَنْأَقِيمُواالدِّينَ وَلا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی تھی p. 109
هٰذَا هُوَ الْمَشْرُوعُ الْمُوصَىٰ بِهِ وَالْمُوحَىٰ إِلَىٰ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ التَّوْحِيدُ (تفسیر الجلالین، صفحہ 640)۔ p. 110other source
دونوں شارحین نے اس تفسیر سے اتفاق کیا ہے اور اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ أَقِيمُوا الدِّينَ کے اس مخصوص حکم میں تو توحید ہی کی اقامت مراد ہے۔ مگر اس سے پہلے اَلَّذِي أَوْحَيْنَا إلَيْك کا جو فقرہ ہے وہ اس سے عام ہے اوراس کے مفہوم میں ساری وحی محمدی شامل ہے۔ دونوں کی متعلقہ عبارت ملاحظہ ہو p. 110original + quote
شیخ سلیمان ثُمَّ فَسَّرَ الْمَشْرُوعَ الَّذِي اشْتَرَكَ فِيهِ هَؤُلَاءِ أَعْلَامٌ مِنْ رُسُلِهِ بِقَوْلِهِ ’’أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ‘‘ وَالْمُرَادُ مِنْ إِقَامَةِ الدِّينِ هُوَ تَوْحِيدُ اللَّهِ وَالإِيمَانُ بِهِ وَبِكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، وَطَاعَةُ اللَّهِ فِي أَوَامِرِهِ وَنَوَاهِيهِ وَسَائِرِ مَا يَكُونُ الرَّجُلُ بِهِ مُسْلِمًا، وَلَمْ يُرِدِ الشَّرَائِعَ الَّتِي هِيَ مَصَالِحُ الأُمَمِ عَلَىٰ حَسَبِ أَحْوَالِهَا، فَإِنَّهَا مُخْتَلِفَةٌ مُتَفَاوِتَةٌ… قَوْلُهُ ’’أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ‘‘ الْمُرَادُ بِإِقَامَتِهِ تَعْدِيلُ أَرْكَانِهِ وَحِفْظُهُ مِنْ أَنْ يَقَعَ فِيهِ زَيْغٌ وَالْمُوَاظَبَةُ عَلَيْهِ… وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ… أَيْ لَا تَتَفَرَّقُوا فِي الدِّينِ الَّذِي هُوَ عِبَارَةٌ عَمَّا ذُكِرَ مِنَ الأُصُولِ، دُونَ الفُرُوعِ الْمُخْتَلِفَةِ حَسَبَ اخْتِلَافِ الأُمَمِ بِاخْتِلَافِ الأَعْصَارِ، كَمَا يَنْطَبِقُ بِهِ قَوْلُهُ تَعَالَىٰ ’’لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا‘‘ …قولہ وھوالتوحیدهذا{ FR 8655 } هو المرادُ بالدِّينِ الذي اشترَكَ فيه هؤلاءِ الرُّسُلُ… وأمَّا الذي في قوله ’’وَالَّذِي أَوْحَيْنا إِلَيْكَ‘‘فهو أعمُّ من ذلك، لأنَّ المرادَ به جميعُ الشريعةِ المحمدية، أصولاً وفروعاً (الفتوحات الالٰہیۃ للشیخ سلیمان العجیلی،جلد7، صفحہ 46-48 )۔ p. 110unverified
قال العلَّامةُ الصاوي وقوله ’’شَرَعَ لَكُمْ‘‘ الخطابُ لأمَّةِ محمَّدٍ صلى الله عليه وسلم، والمعنى بيَّنَ لكم وجعلَ لكم ديناً قويًّا واضحاً تطابقت على صحته الأنبياءُ والرُّسلُ من قبلُ… والمقصودُ بإقامةِ الدِّينِ هو تعديلُ أركانه وحفظُه والمواظبةُ عليه… وقوله ’’(وهو التوحيد)‘‘ بيانٌ للمرادِ من الدِّينِ الذي اشترَكَ فيه هؤلاءِ الرُّسُلُ.وأما قوله’’وَالَّذِي أَوْحَيْنا إِلَيْكَ‘‘ فهو أعمُّ من ذلك، إذ إنَّ المرادَ به جميعُ الشريعةِ، أصولاً وفروعاً، وإنَّما اقتصرَ على التَّوحيدِ لأنَّهُ رأسُ الدِّينِ وأساسُهُ (حاشیۃ العلامۃ الصاوی علی تفسیر الجلالین، جلد6، صفحہ 150-151)۔ p. 110unverified
مندرجہ بالا اقتباسات صاف طور پر ظاہر کر رہے ہیں کہ ان کی طرف موصوف نے ایک ایسی بات منسوب کر دی ہے جو انہوں نے خود نہیں کہی تھی۔ دونوں شارحین نے جو کچھ کہا ہے، وہ یہ ہے کہ أَقِيمُوا ٱلدِّينَ کے فقرے میں تو صرف توحید اور اس کے بنیادی تقاضوں کی اقامت کا حکم ہے۔ جیسا کہ جلالین میں مذکور ہے، نہ کہ تفصیلی شریعت کا۔ مگر دوسرے فقرے ٱلَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَکا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ کیوں کہ اس کے مفہوم میں ساری وحی محمدی شامل ہے۔ مگر علامہ صاوی اور شیخ سیلمان نے جو بات ٱلَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَکے بارے میں کہی تھی، اس کو أَقِيمُوا ٱلدِّينَ کے فقرے کے ساتھ جوڑ کر یہ دعویٰ کر دیا گیا کہ دونوں بزرگوںکے نزدیک ’’اقامت دین کے اس حکم میں شریعت کے تفصیلی احکام بھی داخل ہیں اور پورے کے پورے داخل ہیں‘‘۔ p. 111unverified
4۔ ’’اظہار دین‘‘کی آیت کے سلسلے میں میرا موقف یہ ہے کہ اکثر مفسرین نے لیظھرہ کا فاعل خدا کو مانا ہے،اس کے علاوہ دیگر قرآن بھی موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں خدا کا ایک منصوبہ یا فیصلہ بیان کیا گیا ہے، جس کو اس نے رسول کے ذریعہ پورا فرمایا۔ اس لیے اس سے رسول کا وہ مشن اخذ نہیں کیا جا سکتا جس کا وہ بحیثیت ’’انسان‘‘ مکلف ہوتا ہے۔ اور ختم رسالت کے بعد اب جس کی پیروی ہمیں کرنی ہے۔ موصوف نے میرے اس خیال کی تردید کی ہے اور اس کے متعلق اپنے کچھ دلائل دیے ہیں۔ مگر یہ حیرت انگیز بات ہے کہ آگے چل کر انہوں نے خود ہی اپنی بات کی بھی تردید کر دی ہے، فرماتے ہیں p. 111original + quote
’’مانا کہ آیت اظہار دین میں اظہار دین کو صراحت کے ساتھ رسول کامشن نہیں قرار دیا گیا ہے۔‘‘ کاش موصوف اپنے اس اعتراف کے بعد اس آیت سے رسول کا منصبی مشن ثابت کرنے کی کوشش نہ کرتے ۔ کیوں کہ ایسا استدلال جس کے متعلق یہ تسلیم کر لیا گیا ہو کہ وہ ’’صریح‘‘ نہیں ہے مشن جیسے مسئلہ کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔ p. 111original + quote
مندرجہ بالا فقرے میں موصوف نے اگرچہ یہ تسلیم کر لیا ہے کہ لیظھرہ علی الدین کلہ والی آیت اظہار دین کو رسول کا مشن ثابت کرنے کے لیے صریح نہیں ہے۔ مگر اصولاً وہ اسی کے قائل ہیں کہ اظہار دین ہی رسالت کا مشن ہے۔ ان کے نزدیک اس کے لیے دوسرے اس سے زیادہ واضح نصوص موجود ہیں ان کا یہ پورا حصہ میں ذیل میں نقل کرتا ہوں تاکہ موصوف کی بات مکمل طور پر سامنے آ جائے۔ p. 111
’’دین کے غالب کر دیے جانے کا ذکر صرف اسی ایک آیت میں نہیں ہے بلکہ الفاظ و انداز بیان کے فرق کے ساتھ دوسری آیتوں میں (اور کچھ حدیثوں میں بھی موجود ہے، مثلاً وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ ویکون الدین کلہ لِلّٰہ کی آیت اور امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوالاالٰہ الا اللّٰہ کی حدیث۔ مانا کہ آیت اظہار دین میں، اظہار دین کی صراحت کے ساتھ رسول کا مشن نہیں قرار دیا گیا ہے۔ لیکن کیا ان نصوص کے بارے میں بھی ایسا ہی کہا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ نہیں، کیوں کہ ان ارشادات میں یہ بات پوری وضاحت سے فرما دی گئی ہے کہ رسول اس پر مامور ہیں اور اتباع رسول کا یہ فرض ہے کہ اس وقت تک لڑتے رہیں جب تک کہ لوگ اسلام کا اقرار نہ کر لیں اور دین سارے کا سارا اللہ ہی کے لیے نہ ہو جائے، دوسرے لفظوں میں یہ کہ خالص اسلامی اسٹیٹ قائم نہ ہو جائے۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ کفار و مشرکین سے اس وقت تک لڑتے رہنا جب تک وہ لا الٰہ الااللہ کا اقرار نہ کر لیں یا جب تک فتنہ مٹ کر دین پورے کا پورا اللہ ہی کے لیے نہ ہو جائے۔ اور اسلامی نظام یا اسٹیٹ کے لیے جدوجہد کرتے رہنا، ایک ہی حقیقت کی دو مختلف تعبیریں ہیں‘‘۔ p. 112original + quote
میں عرض کروں گا کہ اظہار دین کی آیت کو ’’رسول کا مشن‘‘ ماننے میں جو اشکالات تھے اس سے بدرجہا زیادہ اشکالات اس آیت اور حدیث سے رسول کا مشن اخذ کرنے میں ہیں جس کو موصوف نے پیش کیا ہے۔ حدیث بتاتی ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک ’’قتال‘‘ کیا جائے جب تک وہ لا الٰہ الا اللّٰہ اپنی زبان سے نہ کہہ دیں، اور نماز اور زکوٰۃ کی پابندی اختیار کر لیں۔ کیا یہی رسول کا مشن تھا۔ کیا رسول اسی لیے بھیجا گیا تھا کہ وہ تلوار کی نوک پر لوگوں سے کلمہ پڑھوائے۔ موصوف کو یاد نہیں رہا کہ اس حدیث کو رسول کا ’’مشن‘‘ قرار دینے میں نہ صرف یہ کہ لااکراہ فی الدین سے ٹکراؤ ہو رہا ہے بلکہ آخری رسول کا مشن اپنی نوعیت میں تمام انبیاء سے مختلف قرار پاتا ہے۔ کیوں کہ کسی بھی دوسرے نبی کے بارے میں یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ اس کو یہ حکم ملا تھاکہ وہ تلوارکے زور سے لوگوں کو مسلمان بنائے۔ p. 112original + quote
یہی معاملہ آیت کا بھی ہے۔ یہ آیت معمولی لفظی فرق کے ساتھ دو سورتوں میں آئی ہے (البقرۃ، 2:193؛ الانفال، 8:39)ان دونوں آیتوںمیں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ ’’ان سے جنگ کرتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین خالصتہً اللہ کے لیے ہو جائے اور وہ باز آ جائیں (انتھوا)۔ اس آیت میں تین الفاظ قابل غور ہیں فتنۃ، دین، انتھاء p. 112original + quote
ابن عباس، قتادہ، سدی، حسن، ابوالعالیہ، مجاہد، ربیع، مقاتل، زید بن اسلم اور دوسرے مفسرین کی تقریباً متفقہ تشریح کے مطابق یہاں فتنہ سے مراد شرک ہے۔ دین کا مطلب توحید ہے اور انتہا کا مطلب ہے شرک سے باز آنا، اس تشریح کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہوا کہ ’’ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اپنے دین سے باز آ جائیں اور شرک کو چھوڑ کر توحید قبول کر لیں‘‘۔ p. 112original + quote
اب ظاہر ہے کہ اگر اس آیت کو رسول کے مشن کی آیت قرار دیا جائے تو اس پر وہی اعتراض واقع ہوتا ہے جو اوپر حدیث کے سلسلے میں ہم لکھ چکے ہیں یعنی رسول کو خدا نے اس لیے بھیجا تھا کہ وہ لڑ لڑ کر لوگوں سے کلمہ پڑھوائے ۔ p. 113
موصوف نے اس اشکال کی یہ عجیب و غریب توجیہ پیش کی ہے کہ ’’اس وقت تک لڑتے رہنا جب تک لوگ لا الٰہ الا اللہ نہ کہہ دیں، دوسرے لفظوں میں خالص اسلامی اسٹیٹ قائم ہو جانے کے ہم معنی ہے‘‘۔ یہ توجیہ نہ تاریخ سے ثابت ہوتی ہے اور نہ حکم کے الفاظ سے۔ ظاہر ہے کہ لا الٰہ الا اللہ کہلانے کے معنی ہیں مسلمان بنانا جب کہ اسلامی اسٹیٹ قائم ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کے تمام ماتحتوں نے دین اسلام قبول کر لیا۔ اگر لوگ سیاسی اطاعت اور ملکی قوانین کو تسلیم کر لیں تو اس کے بعد کسی اسلامی اسٹیٹ کو یہ حق نہیں ہے کہ ان سے مطالبہ کرے کہ تم کلمہ پڑھو اور نماز ادا کرنے کے لیے ہماری مسجدوں میں آؤ۔ غرض میں تو اس توجیہ کو بالکل سمجھ نہ سکا۔ البتہ ادارہ ثقافت اسلامیہ یا ادارۂ طلاع اسلام شاید اس کی معنویت سمجھ سکے۔ کیوں کہ وہ اس طرح کی توجیہات میں کافی درک رکھتا ہے۔ p. 113original + quote
اظہار دین کی آیت سے رسول کامشن اخذ کرنے کے سلسلے میں ایک اعتراض میرا یہ تھاکہ قرآن میں کسی اور نبی کے لیے اس قسم کے الفاظ نہیں آئے ہیں۔ اس لیے جب کہ ہمارا اعتقاد ہے کہ ہر رسول ایک ہی کام کے لیے بھیجا گیا تھا، اس آیت سے ہم آخری رسول کامنصبی مشن اخذ نہیں کر سکتے۔ اس کے جواب میں لکھتے ہیں p. 113
’’آخری رسول کا مشن دوسرے انبیاء سے مختلف تو نہیں تھا، مگر وسیع یقیناً تھا۔ دوسرے انبیاء کا خطاب صرف ان کی اپنی قوم سے تھا جو کسی ایک دین کو ماننے والی تھی۔ جب کہ آنحضرت کا خطاب عام تھا۔ ہر گروہ ہر ملت اور ہر د ین کے ماننے والوں کے لیے تھا اس لیے هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (9:33) جیسے الفاظ میں آپ ہی کے مشن کو ظاہر کیا جا سکتا تھا، کسی اور کے نہیں‘‘۔ p. 113original + quote
یہ سطریں پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا موصوف آیت میں لفظ ’’کل‘‘ کے استعمال کی توجیہ فرما رہے ہیں۔ حالانکہ مسئلہ یہ نہیں تھا۔ اصل سوال تو یہ تھا کہ انبیاء کا مشن اپنی نوعیت کے اعتبار سے اگر ’’اظہار دین‘‘ ہوتا ہے تو قرآن میں ہر نبی کے لیے اسی قسم کے الفاظ آنے چاہئیں تھے۔ اب اگر انبیاء کے دائرہ خطاب میں وسعت اور تنگی کا فرق تھا تو اس سے اصل مشن کی تعبیر پر کوئی فرق نہیں پڑ سکتا۔ اس فرق کا مطلب تو صرف یہ تھاکہ دیگر انبیاء کے بارے میں کہا جاتا کہ وہ فلاں مخصوص قوم پر ’’اظہار دین‘‘کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے۔ اور آخری رسول کو تمام اقوام و ملل پر اظہار دین کرنے کے لیے مبعوث کیا گیا۔ موصوف نے آخری رسول اور دیگر انبیاء میں جس فرق کی نشاندہی فرمائی ہے وہ صرف حلقۂ کار یا دائرۂ خطاب کی وسعت اور تنگی کا فرق ہے۔ جب کہ اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے انھیں دونوں کے درمیان نوعیت کا فرق بتانے کی ضرورت تھی۔ p. 113
خادم وحید الدین p. 114
اس مکتوب کو بھیجنے کے بعد مجھے مولانا ابو اللیث صاحب کی طرف سے 27 اگست کا لکھا ہوا ایک خط ملا جس میں حسب ذیل الفاظ درج تھے p. 114other source
’’عبدالحئی صاحب کے ذریعہ لفافہ مل گیا ہے۔ خیال ہو رہا ہے کہ انھیں کے ذریعہ آپ کے تاثرات مولانا صدر الدین صاحب کے پاس بھیج دوں، تاکہ وہ بھی اسے دیکھ لیں اور اگر ان کے سلسلے میں وہ آپ کو کچھ لکھنا چاہیں تو لکھ دیں‘‘ ۔ p. 114other source
مولانا صدر الدین صاحب نے میرا جواب دیکھنے کے بعد دوبارہ اس پر تبصرہ کرنے سے معذوری ظاہر کی جس کی تفصیل مولانا صدر الدین صاحب کی خط و کتابت میں درج ہے۔ p. 114
اب تک کی یہ ساری گفتگو اور بحث میں جماعت اسلامی کے شعبہ تصنیف سے متعلق رہتے ہوئے کر رہاتھا۔ مگر اب یہ بحث جس مقام پر پہنچ گئی تھی اس کے بعد مجھے ضروری معلوم ہوا کہ میں اس وقت شعبہ تصنیف سے علیٰحدہ ہو جاؤں۔ چنانچہ میں نے امیر جماعت کے نام حسب ذیل تحریر روانہ کی۔ p. 115
رام پور ،یکم ستمبر 1962ء p. 115
محترمی مولاناابواللیث صاحب امیر جماعت اسلامی ہند سلام مسنون p. 115
گرامی نامہ مورخہ 27 اگست ملا۔ آپ نے لکھا ہے کہ p. 115
’’مولانا جلیل احسن صاحب کا جواب آ گیا ہے۔ وہ خط و کتابت کے لیے آپ کے گھر جانے کو ضروری نہیں سمجھتے ہیں اور آپ سے ان کی خط و کتابت غالباً شروع بھی ہو چکی ہے۔ اس لیے کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ آپ رام پور ہی میں رہ کر خط و کتابت کریں۔‘‘ p. 116
جواباً عرض ہے کہ اس سے پہلے میں نے آپ کو لکھا تھا کہ مولانا صدر الدین صاحب کا جواب ملنے کے بعد یکم ستمبر تک میں کسی آخری فیصلہ تک پہنچ جانا چاہتا ہوں۔ لیکن میں ابھی کسی فیصلہ تک نہیںپہنچ سکا۔ کیوں کہ اس کے بعد مولانا جلیل احسن صاحب نے کچھ اس طرح کے ناصحانہ خطوط لکھے جس کے بعد مجھے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ میں ان کے تبصرہ کا انتظار کروں، انہوں نے لکھا ہے کہ آپ بے صبری سے کام نہ لیں بلکہ مجھ سے خط و کتابت کریں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ پر اپنی فکر کی غلطی واضح ہو جائے۔ p. 116
ایک طرف یہ صورت حال ہے۔ دوسری طرف اپنی موجودہ ذہنی حالت کے پیش نظر جماعت کے ایک فکری شعبہ سے وابستہ رہنا مجھے مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ اس لیے سمجھ میں آتا ہے کہ میں شعبہ تصنیف کے ساتھ اپنے موجودہ تعلق سے کنارہ کش ہو جاؤں اور اس کے بعد رام پور میں یا اعظم گڑھ میں رہ کر مولانا جلیل احسن صاحب اور دیگر اہل علم رفقاء سے تبادلہ خیال کر کے کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کروں۔ ان کوششوں کا بالآخر جو نتیجہ نکلے گا، اس کے مطابق یا تو جماعت کی موجودہ خدمت میں دوبارہ واپس آ جاؤں گا یا پھر اپنے طور پر جو مناسب معلوم ہو گا کروں گا۔ p. 116
’’فکری اختلاف کی بنا پر شعبۂ تصنیف سے علیٰحدگی ‘‘ کی بات اگرچہ نئی نہیں ہے، آپ کو یاد ہو گا کہ پچھلے دو سال سے بار بار میں آپ سے یہ درخواست کرتا رہا ہوں، مگر اب اس کی حیثیت میں اتنا فرق ہو چکاہے کہ ضروری ہو گیا ہے کہ میں درخواست کے بجائے اصرار کروں۔ کیوں کہ اس سے پہلے جب بھی میں نے کہا تو آپ کا جواب یہ تھا کہ میرے فکر اور جماعت کی فکر میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ محض میری شدت پسندی ہےکہ میں دونوں کو الگ الگ محسوس کرتا ہوں، آپ نے یہ بھی صراحت کے ساتھ فرمایا تھا میں جو کچھ چاہتاہوں، جماعت بھی اسے چاہتی ہے۔ اس لیے میں اپنے فکر کے مطابق کام کرتا رہوں اور خواہ مخواہ کی ذہنی خلش میں مبتلا نہ ہوں۔ p. 116original + quote
آپ کے اس جواب کے تحت اب تک تو میرے لیے شعبۂ تصنیف سے وابستگی کے لیے وجہ جواز نکل سکتی تھی۔ مگر اب صورت حال بدل گئی ہے۔ کیوں کہ آپ کی طرف سے مولانا صدر الدین صاحب کا 22 صفحات کا جو تبصرہ میرے حوالے کیا گیا ہے۔ اس میں اس تصدیق کو تسلیم نہیںکیا گیا ہے بلکہ مکمل طور پر میرے خیالات کی تغلیط کی گئی ہے، اس میں میری فکر کو جماعت کی فکر سے مختلف ظاہر کرتے ہوئے میری تردید ہے اور جماعت کی تائید۔ اس طرح اگرچہ اصالتاً نہیں مگر وکالتاً گویا آپ نے اپنے سابقہ جواب کو واپس لے لیا ہے۔ اس وجہ سے اب یہ بالکل ضروری ہو گیا ہے کہ شعبۂ تصنیف سے علیٰحدگی کے بارے میں میری جس درخواست کو اب تک آپ نے قبول نہیں فرمایاتھا، اب اس کو قبول فرمائیں۔ اور مجھے اس خدمت سے باضابطہ طور پر الگ کر دیں۔ p. 117original + quote
مزید عرض ہے کہ اس سبک دوشی کے بعد میں جہاں رہوں گا وہاں کی مقامی جماعت سے میرا کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ فی الحال میں صرف اپنی ذہنی الجھن کے سلسلے میںمطالعہ ، تبادلۂ خیال یا بیرونی اہل علم سے خط و کتابت وغیرہ میںمصروف رہوں گا۔ اس کے سوا اس دوران میں جماعتی حیثیت سے میرے اوپرکوئی ذمہ داری نہیں ہو گی۔ p. 117
خادم وحید الدین p. 117
رام پور، 5 ستمبر 1962ء p. 117
برادر عزیز السلام علیکم p. 117
آپ کا گرامی نامہ مورخہ یکم ستمبر 62ء موصول ہوا۔ یہ معلوم کر کے مجھے افسوس ہوا کہ جماعت کے نصب العین اور موقف کے بارے میں آپ کو مطمئن کرنے کے لیے جو کوششیں ہماری طرف سے کی گئیں وہ کامیاب نہیں ہو سکیں اور آپ کا فکری اختلاف اپنی جگہ قائم ہے۔ تاہم اس سے یک گو نہ اطمینان محسوس ہو رہا ہے کہ آپ ابھی اپنی ذہنی الجھن کے سلسلے میں مطالعہ اور اور مولانا جلیل احسن صاحب وغیرہ جیسے اہل علم حضرات سے تبادلہ خیال کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔ اور اس سلسلے میں ان سے خط و کتابت بھی کر رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اس کے نتیجے میں آپ کی ذہنی خلش دور ہو جائے اور حسب سابق آپ کی صلاحیتیں تحریک کے لیے مفید ثابت ہوں۔ p. 118
بحالات موجودہ آپ کی یہ خواہش ہر طرح مناسب معلوم ہوتی ہے کہ آپ سردست شعبۂ تصنیف سے اپنا تعلق منقطع کر لیں، تاکہ زیادہ یکسو ہو کرمطالعہ و تحقیق کر سکیں۔ البتہ آپ کی اس خواہش سے میں اتفاق نہیں کر سکتا کہ شعبۂ تصنیف کی ذمہ داریوں سے سبک دوشی کے بعد آپ جہاں رہیں، وہاں کے نظم جماعت سے آپ کا تعلق نہ ہو، اور اس مدت میں مطالعہ و تحقیق کے علاوہ آپ پر جماعتی حیثیت سے کوئی ذمہ داری نہ رہے، آپ اس سے بخوبی واقف ہیں کہ رکن رہتے ہوئے نظم جماعت کی پابندی بہرحال ضروری ہے۔ البتہ آپ کے مخصوص حالات کے لحاظ سے زیادہ سے زیادہ جوگنجائش میں نکال سکتا ہوں، وہ صرف یہ ہو سکتی ہے کہ اس مدت میں آپ پر باقاعدہ دعوتی کام کی کوئی ذمہ داری نہ ڈالی جائے گی، لیکن ہفتہ وار اجتماعات کی شرکت تو بہرحال ضروری ہے۔ کیوں کہ کہ اگر اتنا بھی نہ ہو تو رکنیت کے کوئی معنی نہیں رہ جاتے اور اس سے ذہنوں میں طرح طرح کے سوالات بھی پیدا ہوں گے۔ p. 118
نظم جماعت سے وابستگی کاایک تقاضامیرے نزدیک یہ بھی ہے کہ اس کو باقی رکھتے ہوئے آپ کو جماعت کے اندر اور جماعت سے باہر اپنے مخصوص خیالات کی تبلیغ و اشاعت سے احتراز کرناچاہیے ۔ زیادہ سے زیادہ آپ یہ کر سکتے ہیں کہ اس کے متعلق آپ جماعت کے اہل علم سے تبادلہ خیال کریں اور اگر آپ جماعت کے باہر کے کسی عالم سے تبادلہ خیال ضروری ہی سمجھیں تو اس کے لیے آپ کو خالص علمی انداز اختیار کرنا چاہیے، نہ کہ اس طور پر کہ آپ کو جماعت کے نقطۂ نظر سے کچھ اختلاف ہو چکا ہے۔ p. 118
امید ہے آپ میری ان باتوں سے اتفاق کریں گے اور اپنے جواب سے مطلع فرمائیں گے۔ p. 118
والسلام ابواللیث p. 119
شعبۂ تصنیف سے استعفیٰ منظور ہونے کے بعد رام پور سے رخصت ہو کر میں اپنے وطن اعظم گڑھ چلا آیا۔ یہاں سے کچھ دنوں خطوط کاتبادلہ ہوتا رہا بالآخر میں نے حسب ذیل خط روانہ کیا۔ p. 119
اعظم گڑھ، 15 اکتوبر 1962ء p. 119
محترمی مولاناابواللیث صاحب سلام مسنون p. 119
گرامی نامہ مورخہ9 اکتوبر ملا۔ اس پر غور کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس طرح کی جزئی بحثیں اگر میں نے جاری رکھیں تو وہ کبھی ختم نہیں ہوں گی۔ اس لیے مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کے غور و فکر کے بعد میں جس نتیجے پر پہنچا ہوں اس کو آخری طور پر آپ کے سامنے رکھ دوں۔ p. 120
یہ حقیقت اب کافی کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ مجھ کو جماعت اسلامی کے انداز فکر سے اختلاف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب میرے اور جماعت کے درمیان نظریاتی اتحاد کا رشتہ کمزور ہو چکا ہے۔ مگر اس کے بعد بھی دو امکانات ایسے تھے جن کی بنا پر میں اب بھی جماعت اسلامی سے وابستہ رہنے کے لیے سوچ سکتا تھا۔ مگر افسوس کہ یہ امکانات بھی اب باقی نہیں رہے۔ p. 120
پہلی بات یہ کہ میں سمجھتا تھا کہ میرا نظریاتی اختلاف زیادہ تر صرف مولانامودودی کے لٹریچر سے ہے۔ ورنہ جہاں تک موجودہ ذمہ داروں کا تعلق ہے وہ میرے نقطۂ نظر سے بڑی حد تک اتفاق کریں گے۔ چنانچہ مولانا صدر الدین صاحب نے میرے اندازے کے خلاف مکمل طور پر میری تردید کی تو میں نے رام پورمیں ایک رفیق سے کہا کہ ’’مولانا نے اس میں صدرالدین اصلاحی کی حیثیت سے جواب نہیں دیا ہے بلکہ جماعت اسلامی کی وکالت کی ہے۔‘‘ اس کی ایک نمایاں مثال یہ ہے کہ اس سے پہلے تیسرا القرآن میں قاتِلوهُم حَتّى لا تَكونَ فِتنَةٌکی تشریح میں انہوں نے مولانامودودی سے اختلاف کیا تھااور بعینہٖ وہی بات لکھی تھی جو میں نے اپنی تحریر میں پیش کی ہے۔ مگر اب جو میرا جواب دینے بیٹھے تو لفظ بلفظ مولانا مودودی کی حمایت کر دی (مقابلے کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن اور تیسیرا القرآن میں سورہ بقرہ کی آیت 193 کا حاشیہ)۔ p. 120unverified
مگر ظاہر ہے کہ یہ میرا ذاتی احساس ہے۔ ورنہ آپ حضرات نے اپنے جواب میں جو موقف اختیار کیا ہے، اسی کو مجھے آپ کا واقعی موقف سمجھنا چاہیے۔ اور اس لحاظ سے جب میںسوچتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ میرے لیے اب یہ گنجائش باقی نہیں رہی کہ میں مولانا مودودی کے لٹریچر سے اختلاف کے بعد اس بنیاد پر جماعت اسلامی ہند سے وابستہ رہوں کہ جہاں تک موجودہ ذمے داروں کا تعلق ہے وہ میرے نقطۂ نظر سے قریب ہیں۔ صدر الدین صاحب کا جواب جو آپ کی طرف سے مجھے دیا گیا ہے۔ اس نے میری اس خوش فہمی یا غلط فہمی کو مکمل طور سے ختم کردیا ہے۔ p. 120
دوسری بات عملی صورت حال سے تعلق رکھتی ہے۔ ایسا ہوتا ہے کہ ذہنی اور فکری اختلاف کے باوجود دو اشخاص کسی مشترک مقصد کی خاطر مخلصانہ تعاون کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اور میں کسی بھی مرحلہ میں اپنے آپ کو اس کے لیے راضی کر سکتا تھا۔ مگر اب مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خلوص کی وہ فضا ہمارے اور آپ کے درمیان باقی نہیں رہی ہے جس میں اس طرح کا تعاون ہواکرتا ہے۔ اس سے پہلے مجھے اس سلسلے میں بعض زبانی رپورٹیں ملی تھیں، مگر میں نے کبھی انھیں اہمیت نہیں دی۔ لیکن اب مجھے ذاتی طور پر ایک ایسی تحریر ملی ہے جس کو کسی طرح نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ آپ کا وہ خط ہے جو آپ نے میری جوابی تحریر مولانا صدرالدین صاحب کے پاس بھیجتے ہوئے ان کے نام دہلی سے لکھا تھا۔ صدرالدین صاحب نے جب رامپورمیں مجھے میری تحریر واپس کی تو لفافہ کے اندر آپ کا وہ خط بھی پڑا ہوا تھا۔ یہ خط آپ کے ہاتھ سے پنسل سے لکھا ہوا ہے، اور اس کے ضروری حصہ کی نقل یہ ہے p. 121
وحید الدین خاں صاحب کی تازہ تحریر بھیج رہا ہوں۔ اسے پڑھ کر مطلع فرمائیے کہ ابھی ان سے کچھ بات کرنے کی گنجائش ہے یا ان کو لکھ دیا جائے کہ ہم کو جو کچھ کرناتھا کر چکے۔ اب وہ اپنے لیے جو فیصلہ چاہیں کر لیں۔ مجھے تو اب ان کی طرف سے تقریباً مایوسی ہی ہے۔ مولانا جلیل احسن صاحب نے بھی مراسلت شروع کر دی ہے۔ لیکن اول تو مجھے یہ امید نہیں کہ خاں صاحب ان کے طرز یا طریق کی تاب لا سکیں گے۔ دوسرے وہ اب اس مرحلہ میں داخل ہو چکے ہیں جس میں کسی کی بھی بات شاید کچھ اثرانداز نہ ہو سکے۔ یوں بعد کو پلٹا کھائیں تو بات دوسری ہے۔ بہرحال میں نے جلیل احسن صاحب کو لکھ دیا ہے کہ جو کچھ ان کو پڑھانا لکھانا ہے، جلد اس سے فارغ ہو جائیں اور وحید الدین صاحب کو یہ کہ مراسلت کے لیے اعظم گڑھ جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بہتر یہ ہو گا کہ رام پور ہی میں رہ کر خط و کتابت کریں۔ دیکھیے کیا جواب دیتے ہیں، آپ کا جواب آنے پر پھر اس کے مطابق وحید صاحب کو خط لکھ دوں گا۔ p. 121unverified
(اقتباس خط مورخہ 28 اگست 1962ء) p. 121
آپ کا یہ خط میرے لیے کس قدر تکلیف دہ ہے میں اس کو بیان نہیں کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس خط نے خوش گمانی کی وہ تمام بنیادیں ڈھا دیں جو نظریاتی اختلافات کے باوجود میں نے آپ سے قائم کررکھی تھیں۔ انصر صاحب اور دیگر رفقاء جن سے میںرامپور میں قریبی تعلق رکھتا تھا، وہ گواہی دیں گے کہ میں آپ کے بارے میں کتنے اچھے خیالات رکھتا تھا۔ مگر افسوس کہ آپ کی اس تحریر نے ان تمام باتوں کی تصدیق کر دی جن کو میرے کان عرصہ سے سن رہے تھے۔ مگر میرا دل جن پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا۔ p. 121
کس قدر حیرت کی بات ہے کہ اس طویل مدت میں جب سے میری یہ بحث چل رہی ہے آپ نے ایک بار بھی اپنی اس حق پسندی اور خیرخواہی کا ثبوت نہیں دیا کہ آپ مجھے زبانی یا تحریری طور پرمطمئن کرنے کی کوشش کرتے۔ حتیٰ کہ اس سلسلے میں آپ کو میں نے آپ کا وہ وعدہ یاد دلایا جو آپ نے اپنے خط مورخہ 29 جنوری 1962ء میں کیا تھا، ’’رہا میری ذاتی رائے کا سوال تو اگر آپ اسے معلوم کرنا چاہیں گے تو تحریر پڑھنے کے بعد میں بے تکلف عرض کر دوں گا‘‘۔ پھر بھی آپ خاموش رہے۔ صدر الدین صاحب کی تحریر کے جواب میں جو کچھ میں نے لکھا اور اس میں جو صریح حقیقتیں میں نے پیش کیں، ان پر بھی میرے اصرار کے باوجود آپ نے قطعاً کوئی تبصرہ نہیں فرمایا۔ البتہ کیاتو یہ کہ جلیل احسن صاحب کو لکھ دیا کہ مجھے ’’پڑھانا لکھانا‘‘ شروع کر دیں۔ اس کے باوجود آپ میرے بارے میں وہ الفاظ لکھتے ہیں جو مذکورہ بالا خط کی ابتدا میں درج ہیں۔ پھر آپ کا یہ جملہ کہ ’’یوں بعد کو پلٹا کھائیں تو بات دوسری ہے‘‘۔ وہ تو اتنا سخت ہے کہ اس کو پڑھنے کے بعد مجھے ایسامحسوس ہوا گویا آپ نے مجھے ذبح کر دیا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے میرے اندر یہ حس توزندہ نہیں ہے کہ حق سامنے آئے تو اسے پہچانوں اور اسے قبول کر لوں۔البتہ اس ذلیل حرکت کی ضرور آپ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ ’’مصالح‘‘ کی بنا پر قلابازی کھاؤں اور جس چیز کے خلاف آج تنقید کررہا ہوں، اس کو محض کسی مفاد کے پیش نظر آئندہ بلادلیل قبول کر لوں۔ کاش آپ کا یہ خط دیکھنے کے لیے میں زندہ نہ رہتا، کاش میں اس سے پہلے مر چکا ہوتا۔ p. 121original + quote
آپ کے اس خط پر میں جتنا غور کرتا ہوں میرے ان احساسات میں اضافہ ہی ہوتا جاتاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس میں نہ حق پسندی کا اظہار ہے اور نہ اپنے ایک رفیق کے بارے میں واقعی خیر خواہی کا۔ اس میں نہ جماعت کا درد نظر آتا ہے اور نہ اسلام کا۔ پھر جب میں سوچتا ہوں کہ میرے نام آپ کے خطوط اور مجھ سے آپ کی گفتگوؤں کا انداز اس سے بالکل مختلف رہا ہے جو صدرالدین صاحب کے نام آپ کے اس خط میں نظر آتا ہے تو مزید افسوس ہوتا ہے کیوں کہ دو عملی کا رویہ عام انسانی نقطۂ نظر سے بھی کوئی مناسب بات نہیں ہے۔ p. 122
مندرجہ بالا وجوہ سے اب مجھے جماعت اسلامی ہند سے وابستگی کی کوئی بنیاد نظر نہیں آتی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آخری ٹھہراؤ جو میرے لیے ممکن ہو سکتا تھا وہ بھی اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے۔ اس لیے گزارش ہے کہ جماعت اسلامی کے ارکان کی فہرست سے میرا نام خارج کر دیں۔ p. 122
مندرجہ بالا نظریاتی اختلاف اور بے اعتمادی کی فضا میں اب میرے لیے جماعت میں رہنے کا کوئی سوال نہیں ہے۔ p. 122
وحید الدین p. 122
دہلی، 10 اکتوبر 1962ء p. 123
برادر عزیز السلام علیکم p. 123
گرامی نامہ ملا، اگر آپ نے آخری طور سے یہ فیصلہ ہی فرما لیا ہے کہ آپ کو اپنے فکری اختلاف کی بنا پر جماعت کی رکنیت سے علیٰحدہ ہو نا چاہیے تو ہم اس کے سوا کیا کر سکتے ہیں کہ اسے چارو ناچار برداشت کریں۔ ورنہ میرا اپنا خیال تو یہ ہے کہ آپ نے اس سے پہلے جو فیصلہ فرمایا تھا وہی زیادہ مناسب تھا، یعنی یہ کہ شعبۂ تصنیف سے علیٰحدگی کے بعد آپ اپنا کچھ وقت مزید مطالعہ و تحقیق میں صرف فرمائیں اور اس دوران میں جماعت اور جماعت کے باہر کے اہل علم سے گفتگو و تبادلہ خیال بھی فرماتے رہیں، کیا عجب اس کے نتیجے میں جماعت اور آپ کے نقطۂ نظر میں اتفاق کی کوئی شکل نکل آتی ۔ ابھی تو وہ گفتگو بھی اختتام کو نہیں پہنچی ہے جو آپ کے اور مولانا صدر الدین صاحب کے درمیان چل رہی تھی، اور جیسا کہ میں اس سے پہلے لکھ چکا ہوں وہ آپ کے تبصرہ پر اپنا تبصرہ لکھنے کے لیے بھی آمادہ ہیں بشرطیکہ اس کا اندازہ وہ نہ ہو جو آپ نے پہلے اختیار فرمایاتھا، اور جہاں تک مجھے معلوم ہے، مولانا جلیل احسن صاحب وغیرہ سے بھی آپ کی خط و کتابت کا سلسلہ ابھی جاری ہی ہے ۔ پھر ذرا صبر سے کام لے کر اس کے نتیجے کا کیوں نہ انتظار فرما لیں۔ علیٰحدگی کا دروازہ ہر وقت کھلا ہوا ہے۔ اور کسی علیٰحدہ ہونے والے کو خواہ مخواہ روکنے کی ہرگز ہماری خواہش نہیں ہے۔ لیکن کسی بھی رکن جماعت کی علیٰحدگی ظاہر ہے ہمارے لیے کوئی خوش آئند بات نہیں ہے اور آپ کی علیٰحدگی تو خصوصیت کے ساتھ ہمارے لیے ایک رنجیدہ واقعہ ہو گا اور میں تو ذاتی طور سے بھی اپنے لیے اس کو نہایت تکلیف دہ حادثہ سمجھوں گا۔ اس لیے جی چاہتا ہے کہ آپ کومطمئن کرنے کے لیے ہم آخری حد تک اپنی کوششیں جاری رکھیں اگر خدانخواستہ اس کے بعد بھی اتفاق کی کوئی راہ پیدا نہ ہو سکے تو پھرمجبوری ہے۔ p. 123
رہی یہ بات کہ ہمارے اور آپ کے درمیان اب خلوص کی وہ فضا باقی نہیں رہ گئی ہے جو کسی مشترک مقصد کے لیے مخلصانہ تعاون کے لیے درکار ہے تو اول تو میں نہیں سمجھ سکاکہ گفتگو کے موجودہ مرحلہ میں آپ نے یہ بات کیوں لکھی ہے۔ تعاون کے ہونے یا نہ ہونے کا ابھی سوال ہی کیا ہے۔ آپ اس وقت تو بہرحال رکن جماعت ہی ہیں۔ اور ہمارے اور آپ کے درمیان جو کچھ گفتگو اور خط و کتابت ہو رہی ہے وہ کسی تعاون کے سوال کے بجائے اس مسئلہ سے متعلق ہے کہ آپ آئندہ جماعت کے ساتھ چل سکتے ہیں یا نہیں، اور رکنیت کے مسئلہ کا مخلصانہ تعاون کی فضا سے کوئی براہ راست تعلق میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔ اس لیے میں یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہوں کہ اس کی بنا پر آپ نے اپنے سابقہ فیصلہ کے خلاف دفعتاً اپنی رکنیت ختم کر دینے کا فیصلہ کس طرح فرما لیا ہے۔ p. 123
دوسری بات یہ ہے کہ مجھے اس بات پر انتہائی حیرت ہے کہ آپ نے اس مخلصانہ فضا کے باقی نہ رہنے پر میرے اس خط سے استدلال فرمایا ہے جو میں نے مولانا صدرالدین صاحب کو آپ کے تبصرہ کے ذیل میں لکھا تھا۔ وہ خط میں نے بہت رواروی میں کھڑے کھڑے لکھا تھا۔ کیوں کہ ایک صاحب اسی وقت رام پور جا رہے تھے۔ لیکن آپ کے خط میں اسے غور سے پڑھنے کے بعد بھی مجھے اس میں کوئی ایسی بات نظر نہیں آئی جس سے آپ مخلصانہ تعاون کی فضا باقی نہ رہنے پر استدلال کرسکیں۔ کیا یہ بات تعاون کے فقدان کی دلیل بن سکتی ہے کہ اس بات کے باوجود کہ مجھے آپ کاتبصرہ پڑھنے کے بعد آپ کی طرف سے تقریباً مایوسی ہو چکی ہے، میں مولانا صدرالدین صاحب سے یہ نہیں کہتا کہ اب آپ سے گفتگو کا سلسلہ منقطع کردینا چاہیے۔ بلکہ ان سے دریافت کرتا ہوں کہ ان کے خیال میں بات چیت کی گنجائش باقی ہے یا نہیں۔ اور ان کے جواب کے مطابق میں آپ کو جواب دینے پر آمادگی کااظہار کر رہا ہوں اور مولانا جلیل احسن صاحب کو بھی میں یہ نہیں لکھ رہا ہوں کہ آپ سے اب گفتگو فضول ہے۔ بلکہ یہ کہ ان کو جو کچھ گفتگو کرنی ہے، اسے جلد اختتام کو پہنچانے کی کوشش کریں، اور وہ بھی محض اس لیے کہ آپ ان کی طویل مراسلت کی تاب نہ لا سکیں گے۔ p. 124unverified
بہرحال میں تو اپنے طور سے یہی سمجھ رہا ہوں کہ میرا وہ خط تعاون کی فضا کے قائم و برقرار رہنے بلکہ اس کوقائم و برقراررکھنے کی خواہش کا پتہ دیتا ہے، نہ کہ اس کے ختم ہونے کا۔ البتہ اس کامیرے پاس کوئی علاج نہیں ہے کہ آپ نے غالباً کسی خاص تاثر کی بنا پر اس کے بعض فقروںکو وہ معنی پہنائے ہیں جن کی نہ لفظوں میں کوئی گنجائش ہے اورنہ وہ میرے حاشیہ خیال ہی میں تھے۔ p. 124
پڑھانے لکھانے کا مفہوم غالباً آپ نے یہ سمجھا ہے کہ میں خدانخواستہ آپ کو مبتدی سمجھتا ہوں اور اس بنا پرمولانا جلیل احسن صاحب کو لکھ رہا ہوں کہ وہ آپ کو الف ب پڑھانا شروع کر دیں۔ حالانکہ وہ فقرہ میں نے محض ان کے مخصوص طریق مراسلت کو ذہن میں رکھ کرکچھ بے تکلفی کے انداز میں لکھ دیا تھا۔ یعنی جیسا کہ آپ نے خود بیان فرمایاتھا، وہ آپ کے مضمون پر خود کوئی تبصرہ لکھنا نہیں چاہتے تھے، بلکہ اس کے لیے وہ طریقہ یہ اختیار کرنا چاہتے تھے کہ وہ آپ کے مضمون کے سلسلے میں آپ سے کچھ سوالات کریں گے۔ اور آپ کو ان کا جواب لکھنا ہو گا۔ اور اس طرح سوال و جواب کے ذریعہ آپ اور وہ کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ اگر اس طریق جواب کی تعبیر کے لیے میں لکھانے پڑھانے کا لفظ مولانا صدرالدین صاحب کے نام اپنے پرائیویٹ خط میں لکھ دیا تھا تو کیا واقعی میں نے اتنی بڑی غلطی کی ہے کہ اس پر آپ اس درجہ رنجیدہ ہوں۔ اور اس کے بعد اب آپ کے لیے جماعت کی رکنیت کو فوری طور پر ختم کر دینا ضروری ہو گیا ہو! درآں حالیکہ یہ امر واقعہ بھی ہے جس سے مجھے یقین ہے کہ آپ بھی انکار کرنا نہیں چاہیں گے کہ مولانا جلیل احسن صاحب آپ کے استاد ہیں۔ اس لیے اگر لکھانے پڑھانے کے الفاظ سے تعلیم و تعلم کی طرف کوئی اشارہ نکلتابھی ہو تو یہ آپ کے لیے کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہونی چاہیے۔ p. 124unverified
رہی پلٹا کھانے کی بات تو اس پر آپ نے اپنے جس کرب و اذیت کا اظہار فرمایا ہے۔ اسے پڑھ کر مجھے افسوس تو ضرور ہوا لیکن معاف فرمائیے گا، اس کی کوئی ذمہ داری مجھ پر عائد نہیں ہوتی بلکہ اس کے ذمہ دار آپ خود ہیں۔ کیوں کہ آپ نے خوامخواہ میرے فقروں کو غلط معنوں پر محمول فرمایا ہے۔ اور اس طرح نہ صرف اپنے اوپر بلکہ خود مجھ پر بھی بہت بڑا ظلم کیا ہے۔ آپ کو معلوم نہیں کہ میرے دل میں آپ کی کتنی وقعت ہے۔ اور میں دوسروں کے سامنے آپ کی خوبیوں کا تذکرہ کن لفظوںمیں کرتا رہا ہوں۔ میں اس کا خیال بھی نہیں کر سکتا کہ آپ جس بات کو حق سمجھتے ہوں، اسے مصالح کی بنا پر ٹھکرا دیں یاکسی مفاد کی خاطر کسی غلط بات کو مان لیں۔ البتہ آپ کے بارے میں میرا احساس آج نہیں شروع ہی سے یہ ہے، جس کا میں خود آپ سے متعدد بار اظہار بھی کر چکا ہوں کہ آپ کے مزاج میں شدت ہے، اور اسی لیے آپ جس بات کو صحیح مان لیں پھر اس کے بارے میں کسی کی بات قبول کرنے کے لیے آسانی سے آمادہ نہیں ہوتے۔ ہاں کچھ عرصہ بعد آپ پر کسی طرح اپنی غلطی واضح ہو جائے تو اس صورت میں آپ کو لوٹنے میں بھی پس و پیش نہیں ہوتا یہ تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے بارے میں میرا یہ احساس غلط ہے لیکن میں نے جو بات لکھی ہے وہ بس اسی مفہوم کی حامل ہے۔ لکھتے وقت اس کے سوا اور کوئی مفہوم میرے ذہن میں نہیں تھا، اب آپ کو اختیار ہے کہ آپ میری بات مانیں یا نہ مانیں۔ p. 124unverified
آپ نے اسی ضمن میں مجھ پر دوعملی کا بھی الزام لگایا ہے مجھ میں بہت سے نقائص وعیوب ہیں جن سے میں بخوبی واقف ہوں، لیکن جہاں تک دوعملی یا منافقت کا تعلق ہے میں ہمیشہ اس سے پوری طرح بچنے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔ اور آپ کا یہ الزام پڑھ کر واقعی ٹھنڈے دل سے میں نے اس کا جائزہ لیا کہ خدانخواستہ آپ کے ضمن میں میں کسی درجے میں اس کا مرتکب تو نہیں ہوا ہوں۔ چنانچہ میں نے اس مدت میں آپ کو جو چند خطوط لکھے یا لکھوائے ہیں، ان کی نقول کا بھی مطالعہ کیا۔ اور آپ سے اس مدت میں جو گفتگوئیں ہوئی ہیں ان کو بھی یاد میں لانے کی کوشش کی۔ لیکن آپ کے الزام کی تائید میں نہ خطوط میں مجھے کوئی چیز مل سکی اور نہ کوئی گفتگو یاد آ سکی۔ مجھے تو کچھ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے شدّت تاثر میں تحقیق و اطمینان حاصل کیے بغیر ہی خطوط یا گفتگوؤں کے حوالہ سے یہ الزام عائد کر دیا ہے۔ تاہم اگر میرے کسی خط یا گفتگو کو کسی ایسی بات کی آپ نشاندہی کر سکیں جو مولانا صدر الدین صاحب کے نام میرے خط کے مفہوم و انداز سے متضاد ہو تو ضرور کریں میں آپ کا نہایت ممنون ہوں گا۔ p. 125
آپ نے یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ مولانا صدرالدین صاحب کے نام میری تحریر نے ان تمام باتوں کی تصدیق کر دی جو آپ عرصہ سے میرے بارے میں سن رہے تھے،مگر آپ کا دل یقین کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ میرے خیال میں نصح و خیر خواہی کا تقاضا تو یہ تھا کہ آپ ایسی باتیں پہلے ہی میرے علم میں لاتے جس کا ایک فائدہ یہ بھی ہو سکتا تھاکہ آپ ان کے صحیح یا غلط ہونے کے بارے میں یقین کے ساتھ کوئی رائے قائم کر سکتے تھے۔ لیکن اب جب کہ آپ کو ان پر یقین ہو گیا ہے تو کم از کم اب آپ کو ان کی ضرور ہی نشاندہی کر دینی چاہیے۔ تاکہ اگر واقعی وہ قابل اصلاح باتیں ہوں تو میں اپنی اصلاح کر سکوں۔ p. 125unverified
آپ نے اپنے خط میں اس کی بھی شکایت کی ہے کہ میں نے آپ کو زبانی یا تحریری طور سے مطمئن کرنے کی کوشش نہیں کی۔ دراں حالیکہ میں نے اس کا وعدہ بھی کیاتھا۔ تو یہ بات تو آپ کو معلوم ہے ہی کہ آپ کی تحریر پر مفصل تبصرہ کرنے کے لیے مولانا صدرالدین صاحب کو باقاعدہ متعین کیا گیا تھا، جو ہماری نگاہ میں اس کام کے لیے موزوں تر آدمی تھے، اور اسی کے ساتھ مولانا جلیل احسن صاحب سے بھی خواہش کی گئی تھی کہ وہ بھی آپ کے خیالات سمجھنے اور جماعت کا نقطۂ نظر سمجھانے کے لیے آپ سے خط و کتابت کریں۔ اور اس مدت میں آپ اور مولانا صدر الدین صاحب جو کچھ لکھتے رہے ہیں وہ بہرحال میری نگاہ سے بھی گزرتا رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود میں آج آپ پر یہ ظاہر کردینا چاہتا ہوں کہ میں نے اپنے طور سے بہت پہلے سے یہ طے کر رکھا تھا۔ جس کا اظہار میں نے کچھ رفقاء سے کیا بھی تھا کہ اگر خدانخواستہ آپ کو مطمئن کرنے کے سلسلے کی کوششیں ناکام ثابت ہوئیں تو آخر میں اس موضوع پر میں ضرور آپ سے بات چیت کروں گا۔ مگر معلوم نہیں آپ کی اس تحریر کے بعد اس کا موقع باقی رہا یا نہیں۔ بہرحال میری خواہش یہ ہے کہ میری مذکورہ بالا معروضات کی روشنی میں آپ اپنے خط پرکم از کم اس حد تک ضرور نظرثانی کریں کہ جب تک آپ اپنے ذاتی مطالعہ و تحقیق اور اہل علم سے تبادلہ خیال کر لینے کے بعد اپنے خیالات و نظریات کے بارے میں پوری طرح یکسو نہ ہو جائیں، جماعت سے علیٰحدگی کا فیصلہ ملتوی رکھیں۔ ممکن ہے ہمارے اور آپ کے درمیان اتفاق کی کوئی صورت پیدا ہو جائے جس کے بہرحال ہم دل سے متمنی ہیں۔ لیکن اگر خدانخواستہ آپ کو اپنے فیصلے پر اصرار ہی ہو تو مطلع فرمائیں کہ آپ کے فیصلہ پر چار و ناچار ہمیں راضی ہی ہونا ہے۔ p. 125unverified
خاکسار p. 125
ابواللیث p. 125
جواب p. 126
اعظم گڑھ p. 126
محترمی سلام مسنون p. 126
گرامی نامہ مورخہ 19 اکتوبر62 ء ملا۔ آپ نے اپنے سات صفحات کے اس خط میں یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ جو کچھ میں نے لکھا وہ محض میری غلط فہمی تھی۔ ورنہ آپ کی طرف سے کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے۔ اس کے بعد لکھتے ہیں p. 126
’’اب آپ کو اختیار ہے کہ آپ میری بات مانیں یا نہ مانیں‘‘۔ p. 127
میں بہرحال آپ پر یہ الزام تو عائد نہیں کر سکتا کہ آپ جان بوجھ کر غلط بیانی کریں گے۔ مجھے ماننا چاہیے کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہی صحیح ہو گا۔ مگر افسوس کہ آپ کے الفاظ آپ کے اس بیان کا ساتھ نہیں دیتے۔ مثلاً آپ نے لکھا ہے p. 127
’’میں آج آپ پر یہ ظاہر کر دینا چاہتا ہوں کہ میں نے اپنے طور سے بہت پہلے سے یہ طے کر رکھا تھا جس کا اظہار میں نے کچھ رفقاء سے کیا بھی تھا کہ اگر خدانخواستہ آپ کو مطمئن کرنے کے سلسلے کی کوششیں ناکام ثابت ہوئی تو آخر میں اس موضوع پر میں ضرور آپ سے بات چیت کروں گا۔ مگر معلوم نہیں آپ کی اس تحریر کے بعد اس کا موقع باقی رہا یا نہیں۔‘‘ p. 127
دوسری طرف مولانا صدر الدین صاحب کے نام 28 اگست والے خط پر آپ کے قلم سے یہ الفاظ درج ہیں p. 127
’’وحید الدین خاں کی تازہ تحریر بھیج رہا ہوں۔ اسے پڑھ کرمطلع فرمائیے کہ ابھی ان سے کچھ بات چیت کرنے کی گنجائش ہے یا ان کو لکھ دیا جائے کہ ہم کو جو کچھ کرنا تھا کر چکے۔ اب وہ اپنے لیے جو فیصلہ چاہیں کر لیں۔‘‘ p. 128
ان دونوں فقروں میں کھلا ہوا تضاد ہے۔ صدر الدین صاحب کے نام آپ کی مذکورہ بالا تحریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ انھیں کی بات کو اپنی طرف سے آخری قرار دے رہے ہیں۔ اور اگر وہ کہہ دیں کہ ان کے نزدیک اب مجھ سے ’’بات کرنے کی گنجائش‘‘ نہیں ہے، تو آپ مجھے یہ لکھ دیں گے کہ آپ کو ’’جو کچھ کرنا تھا کر چکے‘‘۔ اب میں اپنے لیے جو فیصلہ چاہوں کر لوں۔ دوسری طرف موجودہ خط کے مندرجہ بالااقتباس میں آپ لکھتے ہیں کہ آپ نے طے کر رکھا تھا کہ صدر الدین صاحب کی کوششوں کی ناکامی کے بعد آپ مجھے میرے حوالے نہیں کر دیں گے بلکہ اس کے بعد آخری طور پر آپ خود بھی ضرور اس موضوع پر مجھ سے بات چیت کریں گے۔ p. 128unverified
بہرحال ان سب باتوں کے باوجود ، جہاں تک میرا تعلق ہے، میں ہر آن آپ سے گفتگو کرنے کے لیے تیار ہوں۔ بلکہ اس کا متمنی ہوں۔ جلیل احسن صاحب جس طرح مجھے ’’پڑھانا لکھانا‘‘ چاہتے ہیں وہ تو میرے نزدیک بے فائدہ ہے۔ اس دوران میں ان کے دو سوالنامے آئے ہیں۔ دونوں کا حال یہ ہے کہ اس میں بالکل مجرد قسم کے سوالات ہیں۔ جیسے امتحان کے پرچے میں طالب علموں سے کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بالکل واضح نہیں کیا کہ ان سوالات کا اصل مسئلے سے کیا تعلق ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی غیر متعلق بحث میں دلچسپی نہیں لےسکتا۔ مگر اس طرز کو چھوڑ کر اصل موضوع کے بارے میں جو بھی مجھ سے گفتگو کرے میں ان شاء اللہ ضرور اس سے گفتگو کروں گا۔ لیکن کسی کے اندر خود ہی آمادگی نہ ہو تو اس کو پکڑ کر زبردستی تو اگلوایا نہیں جا سکتا۔ p. 128
خادم وحید الدین p. 128
دہلی، 27 اکتوبر 1962ء p. 129
برادر عزیز السلام علیکم p. 129
گرامی نامہ ملا۔ میں نے جو طویل خط آپ کو لکھا تھا اس کی ایک خاص غرض یہ تھی کہ میرے جن دو فقروں کے غلط مفہوم کی بنا پر آپ کو تکلیف پہنچی ہے ان کا اصل مدعا آپ پر واضح کر سکوں تاکہ وہ تکلیف کسی طرح ختم ہو سکے۔ لیکن آپ کے خط سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس مقصد میں کہاں تک کامیاب ہو سکا۔ بظاہر تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ میرے پورے بیان ہی کو غلط سمجھ رہے ہیں کیوں کہ آپ کے خیال میں میرے اس خط کی ایک عبارت اس خط کی عبارت سے متصادم ہے جو میں نے مولانا صدر الدین صاحب کو لکھا تھا۔ حالانکہ اگر وہ تضاد مان بھی لیا جائے تو اس کا تعلق ایک دوسرے ہی مسئلہ سے ہے۔ اس لیے محض اس کی بنا پر کم از کم ان دونوں فقروں کے بارے میں تو میری وضاحت کو کلیتاً آپ کو رد نہیں کر دینا چاہیے تھا، خیر اگر آپ کا دل اسے قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ البتہ یہ لکھنا میں ضروری سمجھتا ہوں کہ جس تضاد کا آپ نے تذکرہ فرمایا ہے وہ واقعہ میں موجود نہیں ہے جس کی مختصر توضیح یہ ہے کہ آپ کو یہ معلوم ہی ہے کہ مولانا صدر الدین صاحب اس کام کے لیے باضابطہ طور سے متعین کیے گئے تھے کہ وہ آپ کی تحریر کا جواب لکھیں۔ اس لیے ان کی رائے کے مطابق اگر میں آپ کو وہ بات لکھ بھی دیتا جو ان کے نام کے خط میں میں نے بصورت استفہام ان سے دریافت کی تھی تو اس کے معنیٰ صرف اتنے ہی ہوتے کہ آپ سے جو باضابطہ گفتگو ہو رہی تھی وہ اب ختم ہو گئی ہے۔ لیکن اس کے ختم ہونے کے لازماً معنی یہ نہیں تھے کہ میں نے اپنے طور سے آخر میں گفتگو کرنے کا جو ارادہ کیا تھا اسے زیرِعمل نہ لا سکوں اور نہ اس کا خاتمہ کسی طرح اس کو زیرِ عمل لانے میں مانع بن سکتا تھا۔ کیوں کہ وہ اس باضابطہ گفتگو کے علاوہ بات تھی اور اس کا موقع بھی اس کے ختم ہونے کے بعد ہی آنے والا تھااس لیے یہ عین ممکن تھاکہ مولانا صدرالدین صاحب کی رائے معلوم ہونے پر میں اس باضابطہ گفتگو کے ختم ہونے کی اطلاع دینے کے ساتھ ہی یا ایسا بھی ہو سکتا تھاکہ اس اطلاع کو چند دنوں کے لیے ملتوی کر کے آپ کو گفتگو کی دعوت دیتا۔ بہرحال میری ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے، براہ عنایت اس خط کی روشنی میں ان پر دوبارہ غور فرمائیں ان شاء اللہ آپ کی غلط فہمی دور ہو جائے گی۔ لیکن اس سلسلے میں ایک اور بات بھی عرض کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اگر بالفرض یہ صحیح بھی ہو کہ میری ان دونوں باتوںمیں کوئی تضاد ہے تو کیا آپ کے لیے یہ ضروری ہی ہے کہ آپ اس تضاد کو لامحالہ غلط بیانی پر محمول کریں اور پھر اس سے اتنے سنگین نتائج برآمد کریں۔ اول تو یہ بات بجائے خود بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ ایک نجی پرزے کو جسے آپ کو پڑھنا بھی نہیں چاہیے تھا۔ اور جو جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔ بہت جلدی میں کھڑے کھڑے لکھا گیا تھا۔ اتنی اہمیت دے رہے ہیں کہ اس کی بنا پر بڑے سے بڑا الزام عائد کرنے میں آپ کو کوئی تکلف نہیں ہے اور دوسرے اس کو اس طرح استعمال کرنے میں آپ کسی حسن ظن سے کام لینے کو گویا اپنے لیے حرام ہی سمجھتے ہیں۔ ورنہ آپ بآسانی یہ فرض کر لے سکتے تھے کہ مولانا صدر الدین صاحب کو خط لکھتے وقت ممکن ہے یہ بات میرے ذہن میں مستحضر نہ رہ سکی ہو کہ آپ سے آخر میں بات چیت بھی کرنی ہے۔ یا رہی بھی ہو تو آپ کا مضمون پڑھ کر فوری طور سے اس کے خلاف میں نے طے کر لیا ہو۔ لیکن ظاہر ہے اس طرح کی کسی تاویل سے زیادہ سے زیادہ سہو یا رائے بدل ڈالنے ہی کا آپ الزام عائد کر سکتے تھے۔ حالانکہ آپ کی تسکین کے لیے شاید یہ ضروری تھاکہ اس سے آگے کی بات مثلاً غلط بیانی وغیرہ ثابت کریں۔ بہرحال جہاں تک آپ سے آخری بات چیت کرنے کا سوال ہے میں اب بھی اس کے لیے آمادہ ہوں۔ لیکن اس سے پہلے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جن حضرات سے آپ اس سلسلے میں گفتگو اور تبادلۂ خیالات کر رہے تھے، کیا اب ان سے آپ کو کوئی بات چیت کرنی نہیں ہے۔ یہ معلوم ہونے پر حسب سہولت میں ان شاء اللہ آپ سے گفتگو کے لیے کوئی موقع نکال سکوں گا۔ اس سے پہلے میں آپ کو اطلاع دے چکا ہوں کہ مولانا صدر الدین صاحب آپ کے تاثرات پر تبصرہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بشرطیکہ آپ کی تحریرکا انداز وہ نہ ہو جو پہلے تھا۔ اور مولانا جلیل احسن صاحب کا یہ خیال بھی آپ کو لکھ چکا ہوں کہ انہوں نے آپ سے جو سوالات کیے ہیںوہ قطعاً غیر متعلق نہیں ہیں۔ اسی لیے میں نے آپ کو یہ بھی لکھا تھا کہ اگر یہ بات آپ پر واضح نہ ہو سکی ہو تو اس بار ے میں آپ ان سے دریافت کر سکتے ہیں۔ p. 129unverified
آپ کے خط سے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ آپ نے میری اس درخواست کے بارے میں کیا فیصلہ کیا کہ اپنے خیالات و نظریات کے بارے میں پوری طرح یکسو ہونے تک جماعت سے اپنی علیٰحدگی کا فیصلہ ملتوی رکھیں۔ p. 129
والسلام p. 129
ابواللیث p. 130
اعظم گڑھ، 8 نومبر 1962ء p. 130
محترمی جناب مولانا ابواللیث صاحب امیر جماعت اسلامی ہند۔ سلام مسنون p. 130
آپ کاخط مورخہ 27 اکتوبر ملا۔ مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہےکہ اس خط میں اور اس سے پہلے 19 اکتوبر والے خط میں آپ نے جو انداز اختیار کیا ہے وہ بالکل قانونی اور منطقی قسم کا ہے۔ حالانکہ یہ طریقہ کسی ایسے شخص کے لیے موزوں نہیں ہے جو مسئلہ کوواقعی طور پر حل کرنا چاہتا ہو۔ منطقی طریقہ کا حاصل صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے طور پر یہ سمجھ کرمطمئن ہو جائے کہ اس نے ایک انڈے کو دو انڈا ثابت کر دیا ۔ مگر ظاہر ہے کہ اس طرح کے ’’دلائل ‘‘ سے حقیقت نہیں بدل سکتی۔ p. 130
میں دوبارہ واضح طور پر آپ کے سامنے یہ رکھنا چاہتا ہوں کہ اصل مسئلہ کیا ہے اور آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اصل مسئلہ کی نسبت سے اپنا واضح جواب روانہ فرمائیں۔ p. 131
مسئلہ کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ مجھ کو جماعت اسلامی سے فکری اختلاف پیدا ہوا۔ میں نے اس سلسلے میں اپنے خیالات واضح طور پر لکھ کر آپ کے حوالے کیے۔ اس کے بعد آپ کے الفاظ میں میری تحریر ’’مفصل تبصرہ کرنے کے لیے مولانا صدر الدین صاحب کو باقاعدہ متعین کیا گیا جو جماعت کی نگاہ میں اس کام کے لیے موزوں تر آدمی تھے‘‘۔ یہ تبصرہ میرے سامنے آیا تو اس میں مجھے اپنے خلاف کوئی دلیل نہیں ملی۔ چنانچہ میں نے 10 اگست کے خط میں آپ کو لکھا کہ اس تبصرہ کو بار بار پڑھنے کے باوجود میرے اصل نقطہ نظرمیں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ وہ بجنسہٖ اپنی جگہ باقی ہے۔ اس کے بعد آپ کے حسب ارشاد 19 اگست کو میں نے اس کے متعلق اپنے تاثرات مختصراً قلم بند کر کے آپ کی خدمت میں بھیج دیے۔ میں اس کے لیے بھی تیار تھا کہ مولانا صدر الدین صاحب کی تحریر کا مفصل تجزیہ کرکے بتاؤں کہ وہ کیوں میرے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ اور اس کے بعد صدر الدین صاحب دوبارہ مجھے مطمئن کرنے کی کوشش فرمائیں۔ مگر آپ حضرات مزید افہام و تفہیم کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ آپ لکھتے ہیں کہ —’’مولانا صدر الدین صاحب آپ کے تاثرات پر تبصرہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بشرطیکہ آپ کی تحریر کا انداز وہ نہ ہو جو پہلے تھا‘‘۔ مگر اسی شرط کو میں انکار سمجھتا ہوں۔ کیوں کہ میرا جو انداز ہے وہ یہی ہے کہ میں نے اپنی تحریر میں کچھ ایسے علمی اسباب پیش کیے ہیں جو میرے لیے ان کی بات تسلیم کرنے میں مانع ہیں۔ ظاہر ہے کہ میں یہ انداز چھوڑ کر بلادلیل ان کی بات کو قبول نہیں کر سکتا۔ اس لیے نہ کبھی ان کی شرط پوری ہو گی اور نہ وہ کبھی تبصرہ کریں گے۔ p. 131original + quote
اس طرح میرے سوالات کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اور اس کے بجائے میرے بارے میں یہ کہا جانے لگا کہ ’’مولانا صدر الدین صاحب نے ہر بات کا مکمل جواب دے دیا تھا۔ مگر وہ تو اپنی بات پر اڑے ہوئے ہیں۔ ایسے آدمی کو کون سمجھا سکتا ہے۔ اور ایسی حالت میں مزید گفتگو کا کیا حاصل ہے‘‘۔ p. 131original + quote
مجھے تسلیم ہے کہ میں نے جو مختصر تبصرہ آپ کی خدمت میں روانہ کیا تھا، اس کے سلسلے میں میری بعض غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مگر وہ ’’غلطی‘‘ ایسی ہے کہ مجھے حیرت ہے کہ کہنے والے نے اس کا ذکر ہی کیوں کیا۔ مثلاً آپ کو یاد ہو گا 6 ستمبر 1962ء کو جب آپ رام پور آئے تھے۔ اور ناظم درس گاہ کے کمرے میں میرے مسئلہ پر گفتگو ہو رہی تھی۔ اس وقت آپ کے علاوہ صدر الدین صاحب افضل حسین خاں صاحب، عبدالحئی صاحب، عروج قادری صاحب، اور جلال الدین انصر صاحب بھی موجود تھے، میں نے اپنی جوابی تحریر پر تبصرہ کرنے کے لیے اصرار کیا۔ مگر آخر وقت تک آپ یا صدر الدین صاحب اس پر آمادہ نہیں ہوئے۔ البتہ اس موقع پر گفتگو کے دوران صدر الدین صاحب نے ایک جملہ یہ فرمایا۔ ’’آپ نے تو اپنے جواب میں حوالے کی اتنی بڑی غلطی کی ہے کہ…‘‘ یہ سن کرمیں ڈر گیا۔ میں سمجھا کہ میں نے واقعی کوئی بڑی شدید قسم کی غلطی کر ڈالی ہے۔ مگر پوچھنے کے باوجود صدرالدین صاحب نے اس وقت کچھ نہیں بتایا۔ اور نہ آپ لوگوں نے ان سے یہ کہنے کی ضرورت سمجھی کہ وہ اس کو مجھے بتائیں۔ چند دن بعد میں نے ان کے کمرہ میں ان سے مل کر دریافت کیا تو معلوم ہواکہ حوالے کی غلطی یہ تھی کہ ان کی تحریر کا ایک ٹکڑا اپنے تبصرہ میں نقل کرتے ہوئے ایک جگہ ’’اس طرح کی‘‘ کا لفظ مجھ سے چھوٹ گیا ہے۔ اول تو اس لفظ کے چھوٹنے سے اصل مدعا پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس کے علاوہ اس کے چھوٹنے کی ذمہ داری مجھ سے زیادہ خود صاحب تحریرکے اوپر ہے۔ کیوں کہ اس لفظ کو لکھنے کے بعد انہوں نے دو موٹی لکیروں سے اسے کاٹ دیا تھا۔ اور اس کے بعد پھر اس پر باریک قلم سے صحیح کا دو نشان ( ؐ ؐ) بنا دیا تھا۔ اتفاق سے میری نظر اس نشان پرنہیں پڑی اوروہ نقل کرنے میں رہ گیا۔ p. 131unverified
یہ تنقید اتنی بے وزن ہے کہ اس کو سننے کے بعد میں نے اپنے جی میں کہا ’’کاش صدرالدین صاحب نے اس کا ذکر نہ کیا ہوتا۔ کیوں کہ اس کا ذکر نہ کرنا ان کے حق میں زیادہ اچھا تھا۔‘‘ p. 132
اس کے بعد مولانا جلیل احسن صاحب کو لیجیے جو آپ کے الفاظ میں دوسرے شخص ہیں جن سے ’’خواہش کی گئی تھی کہ وہ بھی میرے خیالات سمجھنے اور جماعت کانقطۂ نظر سمجھانے کے لیے خط و کتابت کریں‘‘ مگر انہوں نے اس مقصد کے لیے ایسا عجیب و غریب طریقہ اختیار کیا جس کو کسی اور پہلو سے خواہ جو بھی اہمیت حاصل ہو۔ مگر اسے کسی بھی طرح ’’جماعت اسلامی کانقطۂ نظر سمجھانے‘‘ کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ پچھلے نو مہینے سے میرا مسئلہ ان کے سامنے ہے۔ مگر آج تک اصل مسئلہ کے بارے میں ایک لفظ انہوں نے نہیں لکھا۔ البتہ دوسری طرح طرح کی باتیں کرتے رہے جس میں سے ایک خاص بات ان کی یہ ’’شرط‘‘ تھی کہ وہ میرے ’’طویل مقالہ‘‘ کو پڑھ کر سوالات کریں گے، توضیح ِ مدعاکے طالب ہوں گے دلائل پر گفتگو کریں گے‘‘۔ میں نے ان کی یہ شرط مان لی۔ مگر جب ان کاسوال نامہ آیا تو میں نے دیکھاکہ اس میں اصل تحریر کے بارے میں کوئی ’’سوال‘‘ نہیں ہے، میرے کسی مدعا کی ’’وضاحت‘‘ دریافت نہیں کی گئی ہے، اور نہ میرے دلائل پر کوئی ’’گفتگو‘‘ ہے۔ اس کے برعکس، اس میں مجرد قسم کے کچھ سوالات تھے جن کے بارے میں قطعاً نہیں بتایا گیا تھا کہ ان کا زیرِبحث مسئلہ سے کیا تعلق ہے۔ اس کے بعد دوسرا سوال نامہ آیا تو وہ بھی بعینہٖ اسی قسم کا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر جلیل احسن صاحب سے میری خط و کتابت نہ چل رہی ہوتی، اوران کے یہ سوال نامے یکایک مجھے ملتے تو میں انھیں واپس بھیج دیتا۔ اور ان کو لکھتا کہ یہ شاید کسی عربی درس گاہ کے امتحان کا پرچہ ہے جو غلطی سے آپ نے میرے نام بھیج دیا ہے۔ میں نے اس طریق مراسلت کے نامناسب ہونے کا ذکر کیا تو ان کایہ جواب آیا p. 132unverified
’’میںاپنے طریق مراسلت پر مصر ہوں۔ اوروہ طریقہ جو دوسروںنے اختیار کیا، وہ آپ کے لیے مضر اور ان کے لیے لاحاصل ہے۔ میں، آپ جانتے ہیں کہ میں ’’پڑھانے لکھانے‘‘ ہی کا کام کرتا ہوں۔ یہ پڑھانے لکھانے کا انداز کیوں کر چھوڑوں۔ اس سے آپ کے فکر رفیع اور علم کبیر کے احساس کو چوٹ لگتی ہے، تو افسوس ہے۔ زیرِ بحث مسئلہ پر غور کرنے اور کرانے کا، بالخصوص آپ کے لیے میرے پاس یہی راستہ ہے جس کو آپ نے پڑھانے لکھانے کا نام دیا ہے۔‘‘ p. 132
جلیل احسن صاحب کے اس جواب میں طنز و تعریض کے سوا اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ اپنے جس طریق مراسلت پر انھیں اصرار ہے، وہ ’’جماعت اسلامی کا نقطۂ نظر سمجھانے کے لیے‘‘ کیوں موزوں ہے۔ موٹی سی بات ہے کہ جب ایک شخص کہتا ہے کہ جماعت اسلامی کا فکر صحیح نہیں ہے اور اس کے لیے کچھ متعین دلائل پیش کرتا ہے تو آپ کو اس کے دعوے اور اس کے دلائل کے بارے میں سوالات کرنے چاہئیں ۔ اس کے بجائے اگر کسی تمہید و تشریح کے بغیر آپ اس قسم کے الفاظ بولنا شروع کر دیں اچھا بتاؤ فلاں آیت میں ولیعلم کا عطف کس پر ہے‘‘ اور فلاں آیت میں ذالک کا مشار‘‘ الیہ کیا ہے‘‘ تو یہی کہا جائے گا کہ یہ الل ٹپ قسم کے سوالات ہیں۔ اور سوال کی حد تک ان کا اصل مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ مولانا جلیل احسن صاحب کے دونوں سوالنامے اسی قسم کے سوالات پر مشتمل ہیں۔ آپ جب بھی چاہیں انھیں دیکھ سکتے ہیں۔ p. 132
جہاں تک ذاتی طور پر آپ کا تعلق ہے ۔ آپ سے میری شکایتیں حسب ذیل ہیں p. 133
میرا شدید احساس ہے کہ اس بحث میں آپ نے حق طلبی اور حق پسندی کا ثبوت نہیں دیا۔ بلکہ اس کو اس طرح دیکھا گویا یہ محض میرا جواب دینے یا ایک اعتراض کو دفع کرنے کا مسئلہ ہے۔ اگر صورت حال یہ ہوتی ہے کہ جو سوالات میں نے چھیڑے ہیں، ان کا آپ کے پاس تشفی بخش جواب ہوتا اور مطالعہ اور غور و فکر کے نتیجے میں علیٰ وجہ البصیرت آپ پر یہ واضح ہو گیا ہوتا کہ میں غلطی پر ہوں، تو بے شک ایسا رویہ آپ کے لیے صحیح ہو سکتا تھا۔ مگر خود آپ کے اعتراف کے مطابق صورت حال یہ نہیں ہے۔ کیوں کہ جب بھی میں نے ان مسائل پر آپ سے رائے دینے کی درخواست کی تو ہمیشہ آپ نے یہی عذر کیا کہ ’’اس پر رائے زنی کے لیے جس تیاری کی ضرورت ہے وہ ابھی میں نہیں کر سکا ہوں اور موجودہ مصروفیتوں میں میرے لیے اس کا موقع بھی نہیں ہے۔‘‘ p. 133original + quote
ایسی حالت میں آپ کے لیے وہ رویہ کسی طرح درست نہیں ہو سکتا جو میری تحریر دیکھنے کے بعد آپ نے اختیار کیا۔ صدر الدین صاحب کی تحریر پر جو تبصرہ میں نے19 اگست کو آپ کی خدمت میں روانہ کیا تھا، مجھے یقین ہے کہ اس میں ایسی باتیں تھیں جن کے متعلق آپ کو ٹھہر کر سوچنا چاہیے تھا۔اور صدرالدین صاحب سے پوچھنا چاہیے تھا کہ اس کا ان کے پاس کیا جواب ہے۔ مگر میری تحریر کے بارے میں آپ صدر الدین صاحب کو جو خط لکھتے ہیں اس کا انداز ایسا ہے گویا کوئی بات ہی نہیں ہوئی۔ اور مولانا صدر الدین صاحب کے الفاظ اب بھی آپ کے نزدیک اسی طرح ثابت شدہ ہیں جیسے وہ آپ کے نزدیک پہلے تھے۔ مجھے آپ کے خط مورخہ 28 اگست (بنام صدر الدین صاحب) پر سب سے زیادہ حیرت اسی پہلو سے ہے۔ یہ وہ پہلا خط ہے جو آپ نے میرا جواب دیکھنے کے بعد مولانا صدرالدین صاحب کو لکھا تھا۔ مگر حیرت ہے کہ اس میں صدر الدین صاحب کی تحریر کے بارے میں میری بعض نہایت واضح قسم کی سنگین گرفتوں تک کا کوئی ذکر نہیں۔ مثلاً اقیموا الدینکی آیت کے سلسلے میںجلالین کے دو شارحین کی طرف غلط انتساب۔ p. 133unverified
ایک ایسا شخص جس کے اندر تلاش حق کا جذبہ ہو، اس موقع پر فوراً اس کے سامنے یہ سوال آئے گا کہ آخر معاملہ کیا ہے۔ ایک آیت جس کے اوپر جماعت اسلامی کے ہمہ گیر انقلابی نصب العین کی عمارت کھڑی کی گئی ہے، اس کے متعلق ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ آیت کے مخصوص الفاظ کی بنا پر علمائے تفسیر نے بالاتفاق اس میں ’’الدین‘‘ سے ہمہ گیر شریعت کا مفہوم مراد نہیں لیا ہے۔ بلکہ صرف دین کی بنیادی تعلیمات مراد لیتے ہیں۔ اس لیے اس آیت سے کوئی ہمہ گیر انقلابی نصب العین اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے جواب میں جماعت کا ایک لائق ترین عالم کئی مہینے کی تلاش و جستجو کے بعد دو حوالے فراہم کرتا ہے۔ اور کہتا ہے کہ مدعی کا یہ کہنا غلط ہے۔ کیوں کہ بعض ایسے مفسر موجود ہیں جن کے نزدیک ’’اقامت دین کے اس حکم میں شریعت کے تفصیلی احکام بھی داخل ہیں۔ اور پورے کے پورے داخل ہیں۔‘‘ p. 133unverified
اب مدعی دوبارہ آپ کے سامنے آتا ہے اور کہتا ہے کہ ان علما کی طرف یہ انتساب بالکل غلط ہے۔ وہ دونوںمفسرین کے مکمل اقتباسات آپ کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ جس سے صریح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے جو بات الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ کے فقرے سے متعلق کہی تھی، اس کو بالکل غلط طور پر اقیمو ا الدین کے فقرے کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ حالانکہ یہ دوسرا فقرہ جو اصلاً زیرِ بحث ہے، اس کے متعلق انہوں نے صراحت کی ہے کہ یہاں عموم مراد نہیں۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایسی کھلی ہوئی گرفتوں کے باوجود آپ کا خاموش رہنا اور صدرالدین صاحب کو اس طرح خط لکھنا گویا کہ ان کے دعاوی اور استدلال میں آپ کے نزدیک اب بھی کوئی فرق نہیں پڑا، کیسے صحیح ہے۔ یہ طرز عمل تو ظاہر کرتا ہے گویا اصل مسئلہ تحقیق حق کا نہیں ہے، بلکہ صرف میری تردید کا ہے۔ آپ کو دلائل اور واقعات پر غور کرنا نہیں ہے بلکہ صرف یہ دیکھنا ہے کہ ایک تنقید جو سامنے آ گئی ہے اس سے کس طرح نپٹا جائے۔ p. 133unverified
حقیقت یہ ہے کہ آپ نے جو طریقہ اختیار کیا اس میں حق کا ساتھ دینے کے بجائے جماعت اسلامی کی وکالت کا سا انداز پیدا ہو گیا ہے۔ جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں اس کی کھلی ہوئی مثال یہ ہے کہ مولانا صدر الدین صاحب نے قَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ والی آیت میں تیسیرالقرآن کے اندر وہی بات لکھی ہے جو میں کہتا ہوں مگر میری تحریر کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے مخالف موقف اختیار کر لیا، کیوں کہ جماعت اسلامی کی بات کو ثابت کرنے کے لیے ایسا کرنا ضروری تھا۔ میری یہ تنقید اگرچہ مولانا صدر الدین صاحب پر ہے۔ مگر ان کی تحریر چونکہ آپ کے اتفاق کے ساتھ خود آپ کی طرف سے مجھے دی گئی تھی، اس لیے ان کی ذمہ داری میں خود آپ بھی اس وقت تک شریک ہیں جب تک آپ اس سے برأت ظاہر نہ کر دیں۔ p. 134original + quote
آپ سے دوسری شکایت یہ ہے کہ میرے بارے میں آپ کی طرف سے خیرخواہی کا رویہ ظاہر نہیں ہوا۔ مولانا صدر الدین صاحب کے نام آپ کا خط مورخہ28 اگست اس کی واضح مثال ہے، جو آپ کی توجیہات کے باوجود ابھی تک مجھے سخت قابلِ اعتراض معلوم ہوتا ہے۔ اور جس کا خود آپ نے بالواسطہ طور پر یہ کہہ کر اعتراف کر لیا ہے کہ ’’یہ ایک نجی پرزہ تھا جسے آپ کو پڑھنا بھی نہیں چاہیے تھا ۔ ‘‘آپ کے خط مورخہ27 اکتوبر کا یہ جملہ مجھ پر اعترض سے زیادہ خود آپ کی اس نفسیاتی کیفیت کا اظہار ہے کہ آپ اپنے اس خط کو ایک ایسی تحریر سمجھ رہے ہیں جس کا میری نظر سے گزرنا آپ کے نزدیک مناسب نہیں تھا۔ ایک نفسیات داں آپ کے اس جملے کو اس کے سوا کسی اور چیز پر محمول نہیں کر سکتا۔ p. 134original + quote
اوپر میں نے جو کچھ لکھا ہے، اس سے مندرجہ ذیل باتیں سامنے آتی ہیں۔ p. 134
1۔ مجھ کو جماعت اسلامی سے جو فکری اختلاف پیدا ہوا ہے۔ اس کے بارے میں آپ حضرات مجھے مطمئن نہیں کر سکے۔ آپ لوگوں نے ایک بار تو میرے سوالات کا جواب دیا۔ مگر یہ جواب جب میری سمجھ میں نہیں آیا اور میں نے اس پر دوبارہ سوالات کیے تو اب جواب دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ اور اس کے لیے یہ عذر لنگ پیش کر رہے ہیں کہ تمہارا سوال کرنے کا طرز ایسا ہے کہ اس کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔ مولانا جلیل احسن صاحب بے شک اب بھی جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ مگر جس چیز کو وہ ’’جواب‘‘ کہہ رہے ہیں وہ محض ایک لاحاصل پوچھ گچھ ہے۔ جس کا اصل مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ p. 134
2۔ لٹریچر سے فکری اختلاف ختم نہ ہونے کی صورت میں جماعت سے ملے رہنے کی دوسری شکل یہ تھی کہ آپ یہ طے کر دیں کہ ’’مولانا مودودی کا لٹریچر جماعت اسلامی کے فکر کی مستند شرح نہیں ہے‘‘۔ رام پورمیں 6 ستمبر 1962ء کی گفتگو میں یہ تجویز بھی میں نے آپ حضرات کے سامنے رکھی، مگر اس کو قبول نہیں کیا گیا اور ا سے رد کر دیا گیا۔ p. 135
3۔ میرے فکری اختلاف کو دور کرنے کی کوشش تو پوری طرح نہیں کی گئی۔ البتہ اس قسم کی باتیں خوب مشہور ہو رہی ہیں کہ یہ تو ہٹ دھرم آدمی ہیں۔ جس چیز کو پکڑ لیتے ہیں پھر اسے نہیں چھوڑتے۔ اب خود ہی کسی وجہ سے ’’پلٹا‘‘ کھائیں تو کھائیں، ورنہ ان کو سمجھانے بجھانے کا کچھ فائدہ نہیں۔ p. 135
یہ ہے اصل صورت حال۔ اب آپ بتائیں کہ ایسی حالت میں جماعت اسلامی سے استعفا نہ دوں تو اور کیا کروں۔ p. 135
خادم وحید الدین p. 135
اس کے بعد امیر جماعت کی طرف سے ایک کارڈ ملا جس میں لکھا تھا۔ p. 136
’’آپ کی تحریریں رام پور سے منگوائی ہیں۔ امید ہے کہ دو تین روز میں آ جائیں گی۔ اس کے بعد ان شاء اللہ آپ کو کچھ لکھ سکوں گا۔‘‘ p. 136
جواب میں میں نے لکھا کہ رام پور میں مولانا صدر الدین صاحب کے پاس میری جو تحریر ہے وہ بہت ناقص اور نامکمل حالت میں ہے۔ اگر آپ میرے خیالات دوبارہ واضح شکل میں دیکھ کر اس پر تبصرہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو میں یہاں سے اس کی ایک نقل آپ کو بھیج دوں۔ p. 136
آپ کا تبصرہ میرے لیے بہت قیمتی ہے۔ اور اس کے لیے اپنی تحریر بھیجنے میں یقیناً مجھے بہت خوشی ہو گی۔ p. 136
اس کے بعد پھر قیم جماعت کی طرف سے تحریر کا تقاضا آیا جس کے جواب میں میں نے لکھا۔ p. 137
اعظم گڑھ، 5 ستمبر 1962ء p. 137
محترمی سلام مسنون p. 137
قیم جماعت اسلامی جناب محمد یوسف صاحب کے دستخط شدہ دو خط مورخہ 27 نومبر اور 3 دسمبر 1962ء وصول ہوئے۔ میں اس سے پہلے 24 نومبر کو ایک خط آپ کے نام روانہ کر چکا ہوں۔ جو گویا ان خطوط کا پیشگی جواب ہے۔ میں نے اس میں لکھا تھا کہ ’’اگر آپ میرے خیالات پر تبصرہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو میں اپنی تحریر موجودہ مکمل شکل میں آپ کی خدمت میں بھیج دوں‘‘ ۔ p. 137
مگر اس کے متعلق آپ کا کوئی جواب نہیں آیا۔ میں دوبارہ عرض کروں گا کہ اگر آپ کی طرف سے بلاکسی شرط کے اس ارادے کا اظہار ہو تو میں ان شاء اللہ بخوشی اپنی تمام تحریریں آپ کی خدمت میں روانہ کر دوں گا۔ لیکن اس یقین دہانی کے بغیر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر کس لیے میں اپنی تحریر آپ کی خدمت میں بھیجوں۔ p. 137
جہاں تک میرے خط مورخہ 8 نومبر کے جواب کامعاملہ ہے، اس سلسلے میں تحریر کے مطالبے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس خط کا جواب دینے کے لیے وہی معلومات کافی ہیں جن کی بنا پر آپ نے شعبۂ تصنیف سے میرااستعفیٰ منظور کیا تھا۔ جس طرح 5 ستمبر کو آپ اس پوزیشن میں تھے کہ ’’فکری اختلاف کی بنا پر شعبہ تصنیف سے علیٰحدگی کے متعلق میری درخواست منظور کریں۔ ٹھیک اسی طرح آج آپ اس پوزیشن میں ہیں کہ میرے مذکورہ بالا خط کا جواب تحریر فرمائیں۔ اگر آپ کا 5 ستمبر کا فیصلہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھاتو یقیناً آج بھی آپ کو میرے خط کا جواب دینے میں کوئی زحمت پیش نہیں آنی چاہیے۔ p. 138
میں اپنے 8 نومبر کے خط کے سلسلے میں آپ کے جواب کا شدت سے انتظار کر رہا ہوں۔ براہ کرم جلد روانہ فرمائیں۔ p. 138
خادم وحید الدین p. 138
اس کے بعد جب کہ میرے خط 8 نومبر کو تقریباً ڈیڑھ مہینے ہو چکے تھے، موصوف کی طرف سے حسب ذیل جواب موصول ہوا۔ p. 138
دہلی 19 دسمبر 1962ء p. 139
برادر عزیز السلام علیکم p. 139
آپ کا خط مورخہ 8 نومبر کا جواب کچھ تاخیر سے دے رہا ہوں جس کی خاص وجہ یہ ہوئی کہ جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں، جواب دینے سے پہلے مجھے آپ کا تبصرہ دیکھنے کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی جو انتظار اور تقاضے کے باوجود دستیاب نہ ہو سکا۔ اور پھر اس بارے میں مجھے مولانا صدرالدین صاحب وغیرہ سے مشورہ بھی کرنا تھا۔ جس کا موقع اب مل سکا ہے۔ p. 139
آپ کا یہ خیال تو مجھے صحیح معلوم نہیں ہوتا کہ ہم آپ کو مطمئن کرنے کے خواہشمند یا اس کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔ مولانا صدر الدین صاحب نے آخر ایک طویل تحریر اسی مقصد ہی کے لیے تو قلم بند کی ہے۔ اور وہ آپ کے تبصرہ پر تبصرہ کرنے کے لیے بھی آمادہ ہی تھے اور اگر نہیں تو آمادہ کیے جا سکتے تھے اور مولانا جلیل احسن صاحب بھی، جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں، جو سوالات کر رہے ہیں و ہ ان کے خیال کے مطابق ہر طرح مسئلہ سے متعلق ہی سوالات ہیں۔ لیکن جب بدقسمتی سے آپ نے یہ خیال قائم کر لیا ہے کہ مولانا صدر الدین صاحب نے آپ کے تبصرہ پر تبصرہ کرنے کے لیے جو شرط پیش کی ہے اس کا منشا یہ ہے کہ وہ آپ سے بے دلیل اپنی باتیں منوانا چاہتے ہیں۔ اور مولانا جلیل احسن کی خط و کتابت محض ایک لاحاصل پوچھ گچھ ہے جس کااصل مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے تو ایسی صورت میں واقعی اب اس بات چیت کو طول دینے سے کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ اس لیے اب اس سلسلے کو ختم کر دینا ہی مناسب ہو گا۔ p. 139
رہا آپ کے استعفیٰ کا مسئلہ تو اگر اب آپ اپنے طور سے اپنے نقطہ نظر کے بارے میں پوری طرح یکسو ہو چکے ہوں تو براہ عنایت اس بارے میں واضح طور سے تحریر فرما دیں تاکہ اس کے مطابق عمل درآمد ہو سکے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے،جماعت کے نصب العین کے بارے میں آپ کا بنیادی نقطۂ اختلاف میری سمجھ میں نہیں آ سکا۔ لیکن فی الحال میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ میں آپ کے طویل مضمون کے دلائل و مندرجات پر کوئی تفصیلی بات چیت کر سکوں اور اس سے اب مجھے کسی خاص فائدے کی بھی کوئی توقع نہیں البتہ اس ضمن کی کچھ باتوں کے سلسلے میں ضرور آپ سے گفتگو کرنے کا خواہش مند ہوں۔ مثلاً میں مثبت طور سے یہ معلوم کرناچاہتا ہوں کہ آپ کےنزدیک مسلمانوں کے کرنے کاکام کیا ہے۔ اور اس کا کیا تفصیلی نقشہ کار آپ کے ذہن میں ہے تاکہ میں اندازہ کر سکوں کہ ہمارے نقشہ کار سے وہ کہاں تک مختلف ہے اور کیا اس اختلاف کے باوجود ہمارے اور آپ کے درمیان کسی درجہ میں اشتراک و تعاون ممکن ہے یا نہیں۔ لیکن ظاہر ہے اس گفتگو کے لیے کسی خاص جلدی کی ضرورت نہیں ہے۔ خدانخواستہ آپ نے جماعت سے اپنی علیٰحدگی ہی کا فیصلہ کر لیا تو بھی یہ بات چیت ہو سکتی ہے۔ ویسے میں وسط جنوری تک اعظم گڑھ آنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اگر آپ پسند فرمائیں گے تو اس وقت بھی بات چیت ہو سکتی ہے۔ p. 140
والسلام p. 140
ابواللیث p. 140
جواب p. 140
اعظم گڑھ، 27 دسمبر 1962ء p. 141
محترمی مولاناابواللیث صاحب سلام مسنون p. 141
گرامی نامہ مورخہ 19 دسمبر ملا۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ اصل مسئلہ سے گریز کر کے ہر بار کچھ ایسی باتیں لکھ دیتے ہیں جس کے بعد آپ کی طرف سے میری تحریر کا ایک قانونی جواب تو ہو جاتا ہے مگر اصل مسئلہ پھر بھی باقی رہتا ہے۔ p. 141
مولانا صدر الدین صاحب کی شرط کو انکار میں نے اس لیے کہا تھا کہ وہ یہ نہیں بتاتے کہ میرے انداز تبصرہ میں وہ کون سی خرابی ہے جس کی بنا پر وہ میرے تبصرہ کا جواب نہیں دے سکتے۔ میں نے خط لکھ کر ان سے پوچھا تھا۔ مگر اس کے جواب میں انہوں نے دوسری بات لکھ دی۔ اور میرے انداز کی خرابی کی وضاحت نہیں فرمائی۔ میں نے اپنے طور پر قیاس کیا تو مجھے یہی نظر آیا کہ میں نے دلیل کی بنیاد پر ان کی باتوں کو رد کیا ہے۔ اگر اس کا نام انداز کی خرابی ہے تو ظاہر ہے کہ میں کس طرح اسے چھوڑ سکتا ہوں۔ اور اگر دوسری کوئی چیز ہے تو ان کو اسے بتاناچاہیے۔ p. 141
مولانا جلیل احسن صاحب کے سوال و جواب کے بارے میں آپ نے اپنے خط مورخہ 20 اکتوبر میں لکھا تھا p. 141
’’مولانا جلیل احسن صاحب نے لکھا ہے کہ انہوں نے جو سوالات آپ کے پاس بھیجے ہیں، وہ قطعاً غیر متعلق نہیں ہیں۔ تاہم ان کا متعلق ہونا واضح نہ ہو تو اس بارے میں آپ ان سے دریافت کر سکتے ہیں‘‘ ۔ p. 142other source
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک ان سوالات کا صرف مولانا جلیل احسن صاحب کے ذہن میں اصل مسئلہ سے متعلق ہونا کافی نہیں ہے۔ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ مجھے معلوم ہو کہ وہ کس طرح میرے مسئلہ سے متعلق ہیں۔ مگر میرے اصرار کے باوجود مولانا موصوف نے اس کی وضاحت نہیں فرمائی۔ اس کے باوجود اب خط میں آپ اس طرح لکھ رہے ہیں گویا مولانا جلیل احسن صاحب کے ذہن میں ان سوالات کا زیرِ بحث مسئلہ سے متعلق ہونا کافی ہے۔ میرے علم میں ان کی اس حیثیت کا آنا ضروری نہیں۔ p. 142
ایسی حالت میں عرض ہے کہ اگر آپ میری باتوں کا واقعی جواب دیں تو یقیناً میں ان پر غور کروں گا۔ مگر اب تک آپ جس طرح جواب دیتے رہے ہیں اگر ویسا ہی جواب پھر دینا ہو تو میں آپ کے الفاظ دہراؤں گا کہ ’’ایسی صورت میں واقعی اب اس بات چیت کو طویل دینے سے کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ اس لیے اب اس سلسلے کو ختم کر دینا ہی مناسب ہو گا‘‘ ۔ p. 142unverified
اس لیے ایسے جواب کے مقابلے میں زیادہ بہتر یہ ہے کہ آپ میرا استعفیٰ منظور فرمائیں۔ اور اس جھنجھٹ سے مجھے نجات دے دیں۔ p. 142
خادم۔ وحید الدین p. 143
اس کے بعد مولانا ابواللیث صاحب کی طرف سے مجھے حسب ذیل خط ملا۔ p. 143other source
دہلی، 7 جنوری 1963 ء p. 143
برادر عزیز السلام علیکم p. 143
گرامی نامہ مل گیا ہے۔ ان شاء اللہ جلد ہی ایک دو روز میں خط لکھوں گا۔ اور اگر موقع نہ مل سکا تو عنقریب میں اعظم گڑھ آ رہا ہوں، ان شاء اللہ وہیں زبانی بات چیت ہو جائے گی۔ p. 144
امید ہے آپ کا مزاج بخیر ہو گا۔ p. 144
والسلام p. 144
ابواللیث p. 144
مولانا ابواللیث صاحب کے مذکورہ بالا خط مورخہ 7 جنوری 1963ء کے مطابق 22 جنوری کو اعظم گڑھ میں ان سے ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات دو نشستوں میں تھی، ایک نماز عصر سے پہلے، دوسری نماز عصر کے بعد۔ پہلی نشست میں عبدالعلیم اصلاحی امیر جماعت اسلامی شہر بنارس بھی شریک تھے۔ اور دوسری میں وہ اور حمید اللہ صاحب ایم اے، امیر جماعت اعظم گڑھ اور ڈاکٹر اکرام احمد خاں صاحب (اعظم گڑھ) موجود تھے۔ p. 145
میں نے کہا کہ میرا اصل مسئلہ مولانا مودودی کے لٹریچر کا مسئلہ ہے۔ بقیہ باتیں جو میں جماعت اسلامی کے افراد، اس کے ڈھانچہ اور پالیسی وغیرہ کے بارے میں کہتا ہوںوہ محض ضمناً ہوتی ہیں، نہ کہ اصلاً۔ چنانچہ یہی بات میں نے رام پور کی روانگی سے قبل وہاں مقامی ارکان شوری کی نشست میں آپ سے کہی تھی۔ مگر آپ نے نہیں مانی۔ تاہم اگر آپ اب بھی اسے مان لیں تو یہ مسئلہ ختم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لٹریچر کو بالکل غلط سمجھیں اور اس کو ترک کر دیں، میں نے کہا کہ میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اس کو بالکل غلط سمجھیں اور نہ مکتبہ یا لائبریری میں اس کی موجودگی پر مجھے اعتراض ہے میرا اعتراض دراصل اس کی حیثیت پر ہے۔ کیوں کہ میرا خیال ہے کہ جماعت اسلامی کے حلقہ میں اس کی حیثیت یہ بن گئی ہے گویا یہی لٹریچر جماعت اسلامی کی فکر کا مستند ترجمان ہے۔ p. 145original + quote
انہوں نے کہا نہیں، لٹریچر کو ہم یہ حیثیت نہیں دیتے۔ حمید اللہ صاحب نے کہا ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا کہ مولانا مودودی کا لٹریچر جماعت اسلامی کے فکر کا واحد ماخذ ہے۔ ابواللیث صاحب اور دیگر حاضرین نے بھی اس کی تائید کی۔ اس وقت لوگوں کی گفتگو کا انداز ایسا تھا جیسے میں ایک بالکل بے بنیاد بات کہہ رہا ہوں، میں جماعت اسلامی کے اوپر ایک ایسا الزام عائد کر رہا ہوں جس کا جماعت اسلامی کے حلقہ میں کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ p. 145original + quote
میں نے مولانا ابو اللیث صاحب سے کہا کہ پھر حمید اللہ صاحب کا یہی جملہ آپ ذمہ دار اعلیٰ کی حیثیت سے مجھے لکھ کر دے دیجیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’مولانا مودودی کا لٹریچر جماعت اسلامی کے فکر کا واحد ماخذ نہیں ہے‘‘ بس یہی الفاظ آپ ایک سادہ کاغذ پر لکھ دیں۔ مگر وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ میں نے بار بار کہا کہ آپ حمید اللہ صاحب کے الفاظ ایک کاغذ پر لکھ کر اپنا دستخط کر دیجیے۔ میں مان لوں گا۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس نشست کے تمام شرکاء جانتے ہیں، اور محلہ بدرقہ، مکان نمبر 9 کی دوسری منزل کا بڑا کمرہ جس میں یہ گفتگو ہوئی اس کے در و دیوار اور اس کا فرنیچر گواہ ہے کہ میں نے اس رپورٹ میں ذرا بھی کمی بیشی نہیں کی ہے۔ p. 145original + quote
میں نے کہا کہ جب آپ لکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو آپ کے زبانی الفاظ میری خلش کو دور کرنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتے۔ بالآخر عبدالعلیم صاحب اصلاحی کی تجویز کے مطابق یہ طے ہوا کہ میں اپنی بات مختصر طور پر ایک کاغذ پر لکھ کر مولانا ابواللیث صاحب کو دے دوں اور وہ اس کا جواب لکھ دیں، چنانچہ میں نے حسب ذیل تحریر لکھ کر انھیں دی۔ p. 145
اعظم گڑھ ، 23 جنوری 1963ء p. 146
محترمی مولانا ابواللیث صاحب امیر جماعت اسلامی ہند سلام مسنون p. 146
آپ کو یاد ہو گا، 6 دسمبر 1962ء کو رام پور میں ناظم درس گاہ کے کمرہ میں صدر الدین صاحب، افضل حسین صاحب، عبدالحئی صاحب، عروج قادری صاحب، اور جلال الدین انصر صاحب کی موجودگی میں میں نے کہا تھا کہ اگر آپ یہ طے کر دیں کہ ’’مولانا مودودی کا لٹریچر جماعت اسلامی کے فکر کی مستند شرح نہیں ہے۔‘‘ تو میں اپنی بحث کو واپس لے لوں گا۔ اور حسب سابق جماعت کے اندر رہ کر اپنا کام جاری رکھوں گا۔ یہی آج بھی میرا اصل مسئلہ ہے اور اسی کے بارے میں میں آپ کا واضح جواب معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ اصل میں میرا احساس یہ ہے کہ مولانا مودودی کا موجودہ لٹریچر جو جماعت اسلامی کے مکتبہ سے شائع ہو رہا ہے، وہ دین کو صحیح رنگ میں پیش نہیں کرتا۔ کسی وجہ سے اس پر خاص طرح کا سیاسی رنگ غالب آگیا ہے۔ اسی کے ساتھ میرا یہ احساس بھی ہے کہ یہ لٹریچر جماعت اسلامی کے افراد کے نزدیک جماعت اسلامی کے فکر کا واحد مستند ماخذ ہے۔ لٹریچر کی یہ حیثیت میرے اپنے احساس کے اعتبار سے، میرے لیے ضمیر کا مسئلہ بن گئی ہے۔ کیوں کہ میں قرآن و حدیث میں دین کا جو تصور پاتا ہوں، اور جس کے مطابق رسالہ زندگی میں پچھلے سالوں میں میرے مضامین شائع ہوتے رہے ہیں، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ لٹریچر کے مخصوص رنگ سے ہٹا ہوا ہے۔ اب چونکہ جماعت اسلامی کا حقیقی فکر وہی ہو سکتا ہے جو جماعت کے عام افراد کے نزدیک اس کا فکر ہو۔ اور جب میرے خیال کے مطابق یہ فکر تمام تر وہ ہے جو مولانا مودودی نے پیش کیا ہے تو جماعت میں رہتے ہوئے اس سے ہٹ کر کسی اور انداز میں دعوتی کام کرنا مجھے دیانت داری کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ p. 146unverified
میری یہ خلش اس طرح دور ہو سکتی ہے کہ آپ مجھے یہ لکھ کر دے دیں کہ جماعت اسلامی کے فکر کاتعین کرنے کے لیے مولانا مودودی کا لٹریچر مستند شرح کی حیثیت نہیں رکھتا۔ p. 146
براہ کرم اپنا جواب نہایت واضح الفاظ میں تحریر فرمائیں۔ p. 147
وحید الدین p. 147
عبدالعلیم صاحب اصلاحی (امیر جماعت اسلامی بنارس) اس وقت مولانا ابواللیث صاحب کے ساتھ موجود تھے۔ وہ چونکہ اس مسئلہ میں خاص دلچسپی لے رہے تھے، اس لیے میں نے کہا کہ اگر چاہیں تو وہ بھی اسے دیکھ لیں۔ انہوں نے دیکھ کرکہاکہ یہ عبارت ذرا لمبی ہے اس کو اور مختصر کر دیجیے ان کے مشورہ کو قبول کرتے ہوئے میں نے ایک اورمختصر تحریر مرتب کی جو حسب ذیل ہے۔ p. 147
اعظم گڑھ، 23 جنوری 1963ء p. 147
محترمی مولانا ابواللیث صاحب سلام مسنون p. 148
عرض یہ کہ میں جماعت اسلامی کے متعلق ایک نظریاتی خلش میں مبتلا ہو گیا ہوں۔ اس سلسلے میں 6 ستمبر 1962ء کو رام پور میں ناظم درس گاہ کے کمرہ میں صدر الدین صاحب افضل حسین خاں صاحب، عبدالحئی صاحب، عروج قادری صاحب اور جلال الدین انصر صاحب کی موجودگی میں میں نے کہا تھا کہ اگر آپ یہ طے کر دیں کہ ’’مولانا مودودی کا لٹریچر جماعت اسلامی کے فکر کی مستند شرح نہیں ہے۔‘‘ تو میری خلش دور ہو جائے گی۔ یہی گزارش دوبارہ تحریری شکل میں کررہا ہوں براہ کرم آپ اس قسم کی ایک تحریر لکھ کر مجھے دے دیں تاکہ میری خلش ختم ہو جائے، اور میں بدستور جماعت اسلامی کے ساتھ رہ کر کام کر سکوں۔ p. 148
آپ جو جواب دیں وہ نہایت واضح الفاظ میں ہونا چاہیے، نہ کہ مبہم الفاظ میں۔ p. 148
خادم وحید الدین p. 148
اس کے بعد میں نے یہ دونوں تحریریں مولانا ابواللیث صاحب کو دے دیں۔ ان کے کہنے کے مطابق یہ طے ہوا کہ دونوںمیں سے جس تحریر کے پیش نظر وہ چاہیں گے اپنا جواب لکھ کر مجھے بھیج دیں گے۔ اس کے بعد وہ رام پور ہوتے ہوئے دہلی واپس چلے گئے۔ اور وہاں سے اپنے دیگر رفقاء سے مشورہ کے بعد حسب ذیل خط روانہ کیا۔ p. 149
دہلی، 29 جنوری 1963ء p. 149
برادر عزیز السلام علیکم p. 149
گرامی نامہ مورخہ 23 جنوری کے جواب میں عرض ہے۔ جماعت اسلامی کے فکر کے تعین کے لیے اصل ماخذ اس کا دستور ہے اور رفقاء جماعت اصلاً محض دستور کے پابند ہیں۔ جس کی ایک دفعہ میں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ ’’قرآن و سنت جماعت کی اساس کار ہوں گی۔ دوسری ساری چیزیں ثانوی حیثیت سے صرف اس حد تک پیش نظر رکھی جائیں گی جس حد تک قرآن و سنت کی روسے ان کی گنجائش ہو۔‘‘ رہا اس کے لٹریچر کا معاملہ تو وہ کسی ایک مصنف کی کتابوں کا نام نہیں ہے بلکہ متعدد مصنفین کی تصنیفات پر مشتمل ہے جو دین کے مختلف گوشوں کی وضاحت کرتا ہے۔ اور یہ لٹریچر بحیثیت مجموعی جماعت کے نصب العین کی صحیح ترجمانی کرتا ہے۔ البتہ جیسا میں پہلے بھی کئی بار اپنی تحریروں میں لکھ چکا ہوں، وہ انسانی ذہن و قلم کا پیدا کردہ ہے۔ اس لیے دیگر تمام مصنفین کی تصنیفات کی طرح اس میں غلطیاں ہو سکتی ہیں بلکہ میں یہ کہنے کے لیے بھی تیار ہوں کہ مجھے خود یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ہمارے لٹریچر میں بعض ایسی چیزیں بھی پائی جاتی ہیں جو ہمارے نصب العین اور اس کی تشریح سے جو دستور میں درج ہے پوری طرح ہم آہنگ نہیں ہیں۔ لیکن چونکہ ہم دستور کے مطابق اپنے نصب العین کی تفصیل و توضیح برابر کرتے رہتے ہیں، اور ہمیں پورااطمینان ہے کہ لوگ ہمارے نصب العین کے سمجھنے کے لیے اصل ماخذ دستور اور اس کی تشریحات کو قرار دیں گے، نہ کہ کسی ایسی عبارت کو جو اس سے پوری طرح ہم آہنگ نہ ہو، اس لیے ہم لٹریچر میں اس طرح کی باتوں کی موجودگی سے کوئی خاص اندیشہ محسوس نہیں کرتے اور تمام افراد جماعت کے بارے میں میرا احساس یہی ہے کہ انہوں نے دستور میں بیان کردہ نصب العین اور اس کی فکر کی تشریح کو سوچ سمجھ کر اختیار کیا ہے۔ اس لیے جو تحریر اس کے مطابق نہ ہو گی اسے وہ قبول نہ کر سکیں گے اور اس سے ہم آہنگی رکھنے والی تحریر خواہ وہ کسی کی ہو ان کے نزدیک جماعت ہی کی فکر شمار ہو گی۔ p. 149unverified
میری یہ وضاحت معلوم نہیں آپ کی خلش دور کرنے کے لیے کافی ہو گی یا نہیں۔ ہماری خواہش تو بہرحال یہی ہے کہ آپ جماعت میں رہ کر بدستور کام کرتے رہیں۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ جماعت میں رہنے کے لیے اس کے نصب العین کو قبول کرنا ایک ضروری شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے ہمارے اطمینان کے لیے صرف اتنی بات کافی نہیں ہو سکتی کہ لٹریچر کے بارے میں آپ کی خلش رفع ہو جائے تو آپ اپنی بحث واپس لے لیں گے۔ اور جماعت میں رہ کر اپنا کام جاری رکھیں گے۔ بلکہ آپ کو یہ اطمینان بھی دلانا ہو گا کہ آپ جماعت کے نصب العین کو قبول کرتے ہیں ۔ اس کی ضرورت مجھے خاص طور سے اس لیے محسوس ہو رہی ہے کہ آپ کی بحث کا نصب العین کے سوال سے بہت گہرا تعلق رہا ہے۔ اور (اعظم گڑھ میں) گفتگو کے وقت میرے دریافت کرنے پر بھی آپ نے اس بارے میں کوئی واضح بات نہیں بتائی کہ اب بھی آپ ہمارے دستور میں درج نصب العین اور اس کی تشریح کو صحیح تسلیم کرتے ہیں یا نہیں۔ اور آپ کی یہ پیش نظر تحریر بھی اس سے خاموش ہے۔ p. 149
میں اس تحریر کے جواب کا منتظر رہوں گا۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ p. 150
والسلام p. 150
ابو اللیث p. 150
اعظم گڑھ، 7 فروری1963ء p. 150
محترمی مولانا ابواللیث صاحب سلام مسنون p. 151
آپ کا خط مورخہ19 جنوری ملا۔ آپ نے لکھا ہے کہ ’’جماعت اسلامی کے فکر کے تعین کے لیے اصل ماخذ اس کا دستور ہے۔‘‘ میں عرض کروں گا کہ یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔ میں نے اپنی تحریر مورخہ23جنوری میں یہ نہیں پوچھا تھا کہ جماعت کے فکر کا تعین کرنے کے لیےماخذ کیا ہے۔ بلکہ میرا سوال اس فکر کی شرح کے بارے میں تھا، میں نے معلوم کیا تھا کہ جماعت اسلامی کے فکر کی شرح کے سلسلے میں مولانا مودودی کے لٹریچر کی حیثیت کیا ہے۔ اس سلسلے میں جہاں تک دستور کا تعلق ہے۔ میں جانتا ہوں کہ دستور کسی جماعت کے فکر کا محض قانونی اظہار ہوتا ہے۔ وہ اس کے فکر کی شرح نہیں ہوتا۔ اس لیےآپ کا یہ جواب دراصل ایک فاضل بات ہے جس کا اصل سوال سے کوئی تعلق نہیں۔ p. 151original + quote
اسی طرح آپ کا یہ جملہ بھی اصل سوال کے لحاظ سے بالکل بے محل ہے کہ ’’رہا جماعت کے لٹریچر کا معاملہ تو وہ کسی ایک مصنف کی کتابوں کا نام نہیں ہے بلکہ وہ متعدد مصنفین کی تصنیفات پر مشتمل ہے۔‘‘ آپ کا یہ جواب اس وقت صحیح ہو سکتا تھا جب میں نے یہ دریافت کیا ہوتا کہ وہ مجموعۂ کتب جس کا نام آپ کے نزدیک ’’جماعتی لٹریچر‘‘ ہے، وہ ایک مصنف کی تصنیفات پر مشتمل ہے یا متعدد مصنفین اس کی فہرست میں شامل ہیں اس کے بجائے میں نے متعین طور پر مولانا مودودی کے لٹریچر کے بارے میں سوال کیا تھا کہ وہ جماعت اسلامی کے فکر کی شرح کے سلسلے میں کیا حیثیت رکھتا ہے۔ p. 151unverified
اپنا یہ جواب درج کرنے کے بعد آپ نے اپنے خط میں لکھا ہے، ’’میری یہ وضاحت معلوم نہیں آپ کی خلش دور کرنے کے لیے کافی ہو گی یا نہیں۔‘‘ یہ الفاظ پڑھ کر مجھے محسوس ہوا کہ مندرجہ بالا جواب لکھتے ہوئے شاید آپ پر خود بھی یہ احساس طاری تھا کہ آپ میری اصل بات کا جواب نہیں دے رہے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ جب لکھنے والا خود ہی مطمئن نہ ہو تو پڑھنے والے کو کس طرح اطمینان ہو سکتا ہے۔ p. 151
تاہم آپ کے خط کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ نے میری زبانی اور تحریری تاکید کے باوجود، اگرچہ کسی وجہ سے میرے سوال کا براہ راست جواب نہیں دیا۔ مگر بالواسطہ طور پر آپ نے بتا دیا ہے کہ میرے اس سوال کا آپ کے پاس کیا جواب ہے اس سے میری مراد آپ کے خط کا حسب ذیل فقرہ ہے۔ p. 152
’’یہ لٹریچر بحیثیت مجموعی جماعت کے نصب العین کی صحیح ترجمانی کرتا ہے۔‘‘ p. 152
آپ کے اس جملہ کا مطلب میرے نزدیک دوسرے لفظوں میں یہی ہے کہ جماعت کے فکر کی ترجمان کے سلسلے میں زیرِبحث لٹریچر کو آپ مستند شرح کا مقام دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کی یہ وضاحت غیر ضروری ہے کہ ’’البتہ وہ انسانی ذہن و قلم کا پیدا کردہ ہے۔ اس لیے دیگر تمام مصنفین کی تصنیفات کی طرح اس میں غلطیاں ہو سکتی ہیں‘‘۔ کیوں کہ جب میں کہتا ہوں کہ جماعت اسلامی کے افراد مولانا مودودی کے لٹریچر کو جماعت کے فکر کی شرح کے سلسلے میں مستند درجہ دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ خدانخواستہ یہ لوگ الٰہی کلام کی طرح اس کو ہر قسم کی غلطیوں سے یکسر پاک سمجھتے ہیں۔ ’’بعض ایسی چیزیں‘‘ جن کا اس لٹریچر میں موجود ہونے کا آپ نے اعتراف کیا ہے وہ تو انسانی کلام کی خصوصیت ہے۔ ایک دو سطریں یا پیراگراف ہر انسانی تحریر میں ایسی ہو سکتی ہیں اور ہوتی ہیں۔ کوئی انسانی کلام اس سے خالی نہیں ہو سکتا۔ دراصل اس قسم کی اتفاقی بھول چوک کا کوئی سوال نہیں ہے بلکہ اس عمومی اور مجموعی ترجمانی کا سوال ہے جو زیرِ بحث لٹریچر کے صفحات میں پھیلی ہوئی ہے۔ اور یہ ترجمانی جیسا کہ آپ نے لکھا، آپ کے نزدیک جماعت اسلامی کے فکر کی صحیح ترجمانی ہے۔ p. 152
اس بنا پر اب میں دوبارہ اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ میرے لیے جماعت اسلامی میں رہنے کا کوئی سوال نہیں ہے۔ جیسا کہ میں واضح طور پر بتا چکا ہوں، مولانا مودودی جس انداز سے دین کی تشریح کرتے ہیں اس سے مجھے اختلاف ہے۔ اور چوں کہ یہی تشریح آپ کے اور عام افراد جماعت کے نزدیک جماعت کے فکر کی صحیح ترجمانی ہے، اس لیے میرے لیے صحیح راہ یہی ہے کہ میں اس سے الگ ہو جاؤں۔ p. 152
یہ ہے اصل بات کے سلسلے میں آپ کے خط کا جواب۔ مگر آپ نے اسی کے ساتھ ایک اور چھیڑ دیا ہے۔ آپ نے لکھا ہے p. 153
’’ہمارے اطمینان کے لیے صرف اتنی بات کافی نہیں ہو سکتی کہ لٹریچر کے بارے میں آپ کی خلش رفع ہو جائے تو آپ اپنی بحث واپس لے لیں اور جماعت میں رہ کر اپنا کام جاری رکھیں۔ بلکہ آپ کو یہ اطمینان بھی دلانا ہو گا کہ آپ جماعت کے نصب العین کو قبول کرتے ہیں۔‘‘ p. 153unverified
معلوم نہیں کس بزرگ نے آپ کو یہ مشورہ دیا ہے کہ آپ مجھ سے نصب العین یا دوسرے لفظوں میں دستور کے ساتھ حلف وفاداری کا مطالبہ کریں۔ آپ نے اپنے خط مورخہ 19 اکتوبر62ء میں میرے بارے میں لکھا تھا کہ ’’آپ اس وقت بہرحال رکن جماعت ہیں‘‘ ایسی حالت میں اگر میں یہ کہوں تو آپ کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہو گا کہ آپ کے الفاظ میں چونکہ ’’رفقاء جماعت اصلاً محض دستور کے پابند ہیں‘‘۔ اس لیے ایک ایسا شخص جس کو آپ ابھی تک رکن تسلیم کر رہے ہوں، اس سے اس قسم کا مطالبہ کرنے سے پہلے آپ کو یہ بتانا ہو گا کہ کس قانونی دفعہ کے تحت آپ اس سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ جماعت اسلامی میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کا یہ خیال ہے کہ دستور میں نصب العین کا فقرہ بدل کر آپ حضرات نے جماعت کا اصل نصب العین ہی بدل دیا ہے۔ پھر کیا آپ نے ایسے ارکان سے موجودہ دستور کا حلف اٹھوایا ہے۔ اور ان حضرات کی طرف سے اس قسم کی تعمیل کے بعد آپ ان کو جماعت میں لیے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے اپنے اس مطالبہ کی نوعیت اور اس کے عواقب پر پوری طرح غور نہیں فرمایا۔ ورنہ آپ ہرگز اس قسم کی بات نہ لکھتے۔ آپ کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ دستور کی شکل میں جو قانونی ڈھانچہ آپ حضرات نے تیار کیا ہے وہ جس طرح آپ کے لیے محفوظ دیوار ہے، اسی طرح دیگر ارکان کے لیے بھی وہ محفوظ دیوار بن سکتا ہے، اور بنارس کے بعض افراد جماعت کا تجربہ تو یہ بتاتا ہے کہ یہ دیواران کے حق میں اتنی محفوظ ہے کہ آپ خواہش کے باوجود اسے توڑ نہیں سکتے۔ p. 153original + quote
لیکن آپ مطمئن رہیں مجھے اس قسم کا کوئی قانونی کھیل نہیں کھیلنا ہے۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ مولانا مودودی کے لٹریچر کی حیثیت کے بارے میں جس بات کا تقاضا میں نے کیا تھا اور جس کے بعد اپنی بحث کو واپس لے لینے کی آمادگی ظاہر کی تھی ، وہ خالص اصولی حیثیت سے میرے لیےکوئی مناسب بات نہیں تھی، مگر یہ صرف آپ لوگ ہیں جنہوں نے مجھ کو اس بات کے لیے آمادہ کیا۔ آپ اور بہت سے دیگر افراد عرصہ دراز سے مجھ سے یہ کہتے رہے ہیں کہ تمہاری تنقیدوں سے قطع نظر، اصولی طور پر بات تم کہتے ہو، وہ جماعت کے افراد کو بالکل اپنے دل کی آواز معلوم ہوتی ہے۔ اس میں اور موجودہ فکر میں کوئی فرق نہیں۔ اس لیے اختلافی بحث کو چھوڑ دو اور مل کر بدستور کام کرتے رہو۔ ابھی حال میں مولانا عبدالعلیم اصلاحی اور دیگر افراد جماعت نے یہی بات شدت سے میرے سامنے رکھی۔ اور آپ نے بھی دوبارہ یہی بات اپنے خط مورخہ19 دسمبر1962ء میں ان الفاظ میں کہی ہے p. 153unverified
’’جہاں تک میرا تعلق ہے، جماعت کے نصب العین کے بارے میں آپ کا بنیادی نقطہ اختلاف میری سمجھ میں نہیں آ سکا۔‘‘ p. 153
مگر اب معلوم نہیں کس خطرے کے پیش نظر آپ مجھ سے اس قسم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بہرحال میں تو بہت پہلے اس رائے پر پہنچ گیا تھا کہ اب میرے لیے جماعت اسلامی میں رہنا ممکن نہ ہو سکے گا۔ مگر آپ حضرات مندرجہ بالا باتوں اور زیرِ بحث مسئلہ کی نزاکت کی وجہ سے اصولی اعتبار سے اپنے کو مجروح کرتے ہوئے میں نے یہ گوارا کر لیا تھا کہ ضمیر کی خلش کا مسئلہ ختم ہو جائے تو میں اپنے آپ کو اس ڈھانچہ میں باقی رکھوں۔ یہ محض مطابقت کی ایک صورت تھی، اور وہ بھی صرف اسی وقت ممکن تھی جب کہ لٹریچر کی حیثیت کے بارے میں آپ وہ بات مان لیتے جو پہلے رام پور میں زبانی اور پھر یہاں سے تحریری شکل میں میں نے آپ کے سامنے رکھی تھی۔ مگر آپ کے مندرجہ بالا جواب کے بعد یہ آخری گنجائش بھی ختم ہو گئی۔ اس لیےگزارش ہے کہ براہ کرم میرے استعفیٰ کی منظوری کی اطلاع دے کر مجھے سبکدوش فرمائیں۔ p. 154
خادم وحید الدین p. 154
دہلی، 21 فروری 1963ء p. 154
برادر عزیز السلام علیکم p. 154
کئی دن پہلے آپ کا گرامی نامہ ملا تھا۔ رمضان میں بحث و مباحثہ پر طبیعت آمادہ نہیں ہے اور معلوم نہیں کیوں دل میں بار بار یہ خیال آرہا ہے کہ آپ سے ایک بار ذرا کھل کر بات چیت ہو جائے تو شاید ہم ایک دوسرے کو آسانی سے چھوڑنا نہیں چاہیں گے۔ اور یوں بھی میں آخر میں آپ سے بات چیت کرنا ہی چاہتا تھا، جیساکہ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔ اس لیےآپ کے خط کے مندرجات کے بارے میں کچھ عرض کرنے کے بجائے میں آپ سے بھی درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ ایک بار میں اور آپ زبانی بات چیت کر لیں اور پھر کوئی فیصلہ کریں۔ ممکن ہے ہمارے اور آپ کے درمیان بُعد و اختلاف کی ایک بڑی وجہ یہی ہو کہ کبھی ہم نے کھل کر زبانی بات چیت نہیں کی ہے، اور اب تو مجھے کچھ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ آپ کے اعظم گڑھ منتقل ہونے کے بعد ایک دوسرے کے بارے میں کچھ بدگمانیاں بھی پیدا ہو گئی ہیں۔ جو اختلاف وبُعد میں اضافہ کا موجب بن رہی ہیں۔ اس لیے آخری فیصلہ سے پہلے ایک موقع صاف صاف بات کا ضرور نکالنا چاہیے۔ میں نے اعظم گڑھ کی پچھلی ملاقات میں بھی کچھ اس کی باتیں کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ لیکن اس کی نوبت اس لیے نہیں آ سکی کہ آپ نے بات لٹریچر تک محدود کر دی اور میں نے بھی سمجھا کہ اب ہمارا اور آپ کا اختلاف ختم ہو رہا ہے، جو بدقسمتی سے غلط ثابت ہوا۔ لیکن میں ابھی اس سے مایوس نہیں ہوا ہوں کہ ہم ایک دوسرے کے بارے میں بدگمانیاں رفع کر کے اختلافی مسائل پر کھل کر بات چیت کر لیں تو نہ صرف لٹریچر کے بارے میں ایک دوسرے کے نقطۂ نظر سے قریب آ سکیں گے بلکہ سب ہی اختلافات ان شاء اللہ ختم ہو سکیں گے۔ p. 155unverified
مجھے ادھر اعظم گڑھ آنے کا کوئی موقع نہیں مل سکے گا۔ رمضان کے بعد میں جنوبی ہند کے دورے پر جا رہا ہوں جہاں سے اوائل اپریل میں ان شاء اللہ واپسی ہو سکے گی۔ جس کے بعد ہی اجتماع شوریٰ کے سلسلے کی مصروفیتیں شروع ہو جائیں گی۔ اس لیے بہتر تو یہ ہو گا کہ آپ شوریٰ کے اجتماع میں شرکت کے لیےآئیں تو اسی موقع پر بات چیت ہوجائے لیکن اگر آپ اس سے پہلے اس سے فارغ ہونا چاہتے ہوں تو اوائل اپریل میں بھی تشریف لا سکتے ہیں۔ کیا میں امید کروں کہ آپ بھی اس بات چیت کی کوئی ضرورت سمجھتے ہیں۔ p. 155
3 مارچ کو مجھے علی گڑھ بھی جانا ہے، اور بورڈ کا اجتماع بھی 8 مارچ سے پہلے منعقد ہو سکتا ہے۔ ورنہ یہ درمیانی وقت گفتگو کے لیےزیادہ موزوں ہوتا ۔ p. 155
والسلام p. 155
ابواللیث p. 156
جواب p. 156
اعظم گڑھ، 26 فروری 1963ء p. 156
محترمی مولانا ابواللیث صاحب سلام مسنون p. 156
گرامی نامہ مورخہ 21 فروری ملا۔ آپ نے اپنے اس خط میں گفتگو کی ضرورت کا اظہار کیا ہے اور لکھا ہے کہ ’’آپ شوریٰ کے اجتماع میں شرکت کے لیے دہلی آئیں تو اس موقع پر بات چیت ہو جائے۔‘‘ مگرموجودہ حالت میںمیرے لیے مجلس شوریٰ کے اجتماع میں شریک ہونا بالکل بے معنی ہے۔ چنانچہ میں نے طے کیا ہے کہ آپ کی طرف سے اگر دعوت نامہ آیا بھی تو اس مرتبہ میں نہیں جاؤں گا۔ اس لیے دہلی میں ملاقات نہ ہو سکے گی۔ البتہ آپ کے خط سے معلوم ہوا کہ آپ مارچ میں بورڈ آف اسلامک پبلی کیشنز کے اجلاس میں شرکت کے لیے علی گڑھ جانے والے ہیں۔ وہاں ملاقات ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ میں بھی جلد ہی دو سالہ قیام کے پروگرام کے تحت علیگڑھ جا رہا ہوں۔ میں نے ’’علم جدید کا چیلنج‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھنا شروع کیا ہے۔ اور اس سلسلے میں دو سال علی گڑھ رہ کر وہاں اس کی تیاری کرنا چاہتا ہوں۔ اگر میرے وہاں پہنچنے کے بعد آپ کا علی گڑھ کا سفر ہوا تو ان شاء اللہ وہاں ملاقات ہو سکے گی۔ p. 157
مگر میری سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ گفتگو آخر کس مسئلہ پر ہو گی۔ گفتگو تو اس سے پہلے اعظم گڑھ میں ہو چکی ہے۔ اس وقت اور اس کے بعد تحریری طور پر آپ کو جو کچھ کہنا تھا، کہہ چکے ہیں۔ پھر اب میری سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کون سی بات ہے جس پر ہم آپ گفتگو کریں گے۔ p. 157
آپ نے لکھا ہے کہ ’’ہم ایک دسرے کے بارے میں بدگمانیاں رفع کر کے اختلافی مسائل پر کھل کر بات چیت کر لیں۔‘‘ مگر مجھے آپ سے کوئی ذاتی شکایت یا بدگمانی نہیں ہے جس کو رفع کرنے کی ضرورت ہو۔ میرا اصل مسئلہ اس نظریاتی تشریح سے متعلق ہے جو مولانا مودودی کے لٹریچر میں پائی جاتی ہے۔ آپ یا جماعت اگر زیرِ بحث آتے ہیں تو صرف اس لیے کہ آپ لوگ اس کو اپنائے ہوئے ہیں۔ اور اس کی طرف سے مدافعت کر رہے ہیں۔ اعظم گڑھ کی گفتگو میں جب میں نے اس کا ذکر چھیڑا تھا تو یہ در اصل گفتگو کو ’’محدود‘‘ کرنا نہیں تھا، جیسا کہ آپ نے لکھا ہے۔ بلکہ اصل مسئلہ کو متعین کرنا تھا۔ کیوں کہ میرا اصل مسئلہ فی الواقع مولانا مودودی کا لٹریچر ہی ہے۔ p. 157original + quote
مولانا مودودی نے جس انداز سے دین کی تشریح کی ہے میرا شدید احساس ہے کہ وہ صحیح تشریح نہیں ہے۔ میرا یہ احساس ان کی کسی ایک کتاب یا کسی کتاب کے چند پیراگراف کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ ان کے سارے ہی دعوتی لٹریچر کے بارے میں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مولانا مودودی کی غلطی کوئی جزئی غلطی نہیں ہے بلکہ دین کا مجموعی فکر قائم کرنے میں وہ غلطی کر گئے ہیں۔ اس لیے دین کے سارے ہی اجزاء کی حیثیت ان کے ذہن میں بدل گئی۔ اور ا س طرح دین کے بارے میں ان کی تمام کی تمام تشریحات اس سے متاثر ہوئی ہیں۔ p. 157
دوسری طرف آپ اور جماعت اسلامی کے دوسرے افراد اس لٹریچر کو جماعت کی فکر کا مستند ترجمان سمجھتے ہیں۔ اور اس لیے قدرتی طور پر دین کی صحیح ترین شرح بھی۔ ایسی حالت میں میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کس طرح جماعت اسلامی کے اندر رہ سکتا ہوں۔ لٹریچر کے بارے میں میرا مندرجہ بالا احساس قدرتی طور پر تقاضا کرتا ہے کہ میں اس کی تردید یا تصحیح کرنے کی کوشش کروں۔ مگر جماعت کے اندر رہتے ہوئے جب میں ایسا کرتا ہوں تو فوراً خیال ہوتا ہے کہ یہ دیانتداری کے خلاف ہے۔ کیوں کہ ایک رکن جماعت کے الفاظ میں یہ جماعت کو اندر سے ’’سبوتاژ‘‘ کرنے کے ہم معنی ہے۔ ایسے کسی شخص کو جماعت کے باہر آ کر اپنا کام کرنا چاہیے، نہ کہ اس کے اندر سے۔ p. 157original + quote
اگر آپ گفتگو کے لیے کہیں تو میں بہرحال آپ کے حکم کی تعمیل کروں گا۔ مگر جب میں دیکھتا ہوں کہ یہ سلسلہ ڈھائی سال سے جاری ہے اور اب تک اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا تو آئندہ کے لیے بھی مجھے کوئی امید نظر نہیں آتی۔ آپ کو یاد ہو گا کہ اس سلسلے میں ہماری آپ کی گفتگو کا آغاز جون 1960ء میں ہوا تھا۔ اس دوران میں بار بار گفتگو کے مواقع آئے۔ مولانا صدر الدین صاحب کی وساطت سے تحریری تبادلہ خیال بھی نہایت تفصیل سے ہوا۔ مگر اصل مسئلہ جہاں ڈھائی سال پہلے تھا ، وہیں اب بھی ہے۔ p. 158
اس لیے درخواست تو یہی ہے کہ اس مسئلہ کو بے جا طول دینے کے بجائے اب آپ اسے ختم کر دیں۔ تاکہ آپ کو بھی، آپ کے الفاظ میں ’’بحث و مباحثہ‘‘ سے چھٹی مل جائے۔ اور میں بھی یکسو ہو کر جو کچھ کرنا چاہوں اسے کر سکوں۔ p. 158
خادم وحید الدین p. 158
میرے اس خط کے جواب میں مولانا ابواللیث صاحب کا خط مورخہ 28 فروری ملا جس میں دوبارہ مجھے مجلس شوریٰ کے اجتماع میں شرکت کرنے کے لیے دہلی بلایا گیا تھا۔ میں نے لکھا کہ p. 158
’’میں دہلی نہ آ سکوں گا۔ اس لیے آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں، اس کو لکھ کر بھیج دیں۔ ان شاء اللہ میں اس پر پوری سنجیدگی کے ساتھ غور کر کے آپ کو اپنے جواب سے مطلع کردوں گا۔‘‘ p. 159
اس کے بعد موصوف کا خط مورخہ 10 اپریل ملا جس میں پھر تاکید کی گئی تھی کہ میں مجلس شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کروں تاکہ اس موقع پر بات چیت بھی ہو سکے۔ ورنہ بصورت دیگر اعظم گڑھ میں ملاقات ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ مولانا عید اضحیٰ سے پہلے اپنے وطن تشریف لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کے بعد خط میں درج تھا p. 159
’’لیکن اگر خدانخواستہ آپ اس تاخیر کے لیےآمادہ نہ ہوں تو پھرمیں بجز اس کے اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ آپ یہ سمجھتے ہوئے اپنے کاموں کا نقشہ بنائیں کہ آپ کا تعلق جماعت سے منقطع ہو چکا ہے، میں یہ جاننے کا منتظر ہوں کہ آپ تشریف لا رہے ہیں یا میری آمد تک معاملہ کو ملتوی رکھنا چاہتے ہیں۔ یا خدانخواستہ آخری گفتگو کے بغیر ہی معاملہ کو فوراً ختم کر دینا چاہتے ہیں۔‘‘ p. 159
مولانا ابو اللیث صاحب کا یہ خط آیا تو اس وقت میں اعظم گڑھ میں موجود نہ تھا۔ واپسی کے بعد میں نے حسب ذیل خط لکھا p. 159
جواب p. 160
اعظم گڑھ، 26اپریل 1963 ء p. 160
محترمی سلام مسنون p. 160
میں دو ہفتہ کے لیےباہر چلا گیا تھا۔ اس لیے آپ کا خط مورخہ 10اپریل مجھے کل شام کو مغرب بعد ملا۔ جواباً عرض ہے کہ اگر آپ کی خواہش ہے کہ آپ سے میری ایک ’’آخری گفتگو‘‘ ہو جائے تو میں اس کے لیے راضی ہوں۔ آپ جو باتیں آخری طور پر کہنا چاہتے ہیں اگر وہ آپ نے خط میں لکھ دیا ہوتا تو اب تک یہ کام بھی ہو گیا ہوتا۔ لیکن بہرحال جب آپ عید اضحیٰ کے پہلے اعظم گڑھ آنے والے ہیں تو یہیں گفتگو ہو جائے گی۔ p. 160
خادم وحید الدین p. 161
یہ جواب چونکہ سفر کی وجہ سے میں بہت دیر میں لکھ سکا تھا۔ اس لیے مولانا کو غلط فہمی ہو گئی کہ میں گفتگو کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوں اور بغیر آخری گفتگو ہی کے فیصلہ حاصل کرنا چاہتا ہوں چنانچہ مندرجہ بالا خط کی روانگی کے دوسرے دن قیم جماعت کے دستخط سے مجھ کو حسب ذیل تحریر موصول ہوئی۔ p. 161
دہلی، 25 اپریل 1963ء p. 161
برادر محترم السلام علیکم و رحمۃ اللہ p. 161
محترم امیر جماعت نے آپ کو10 اپریل 63ء کو جو خط لکھا تھا، اس کا اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا، اور نہ آپ خود تشریف لائے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس خط میں مذکورہ تینوں صورتوں میں سے آخری صورت ہی کو اختیار فرما لیا ہے۔ اس لیے بادلِ نخواستہ آپ کو اطلاع دی جا رہی ہے کہ آپ کا نام فہرست ارکان سے خارج کر دیا گیا ہے۔ p. 161
والسلام علیکم و علیٰ من لدیکم p. 162
اخوکم p. 162
محمد یوسف p. 162