Shatm-e-Rasool Ka Masla

ڈائری سے انتخاب

Shatm-e-Rasool Ka Masla — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (111 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. اسلام مغربی لٹریچر میں
  3. عرض مترجم
  4. شتم رسول کا مسئلہ
  5. امت کا فکری زوال
  6. قرانی پیٹرن کے بجائے فقہی پیٹرن
  7. مقصد تخلیق
  8. یہ اسلام نہیں
  9. جہاد یا سر کشی
  10. جذبات کا اعتبار نہیں
  11. دوسرا باب رشدی کی کہانی
  12. جوابی انعام
  13. اسلام کی تصویر بگاڑنا
  14. ریاض کانفرنس کا فیصلہ
  15. ایک مغالطہ
  16. مضحکہ خیز ردعمل
  17. سورج پر خاک
  18. سطحی کتاب
  19. کتاب کا مضمون
  20. مسلمہ عظمت
  21. فرضی افسانہ
  22. غلط بیانی
  23. ایک مثال
  24. اطاعت یا سر کشی
  25. چند مثالیں
  26. تعمیل حکم یا سر کشی
  27. حکمت اعراض
  28. حضرت عمر کا قول
  29. پرنٹ میڈیا، الکٹرانک میڈیا
  30. دور ازادی
  31. زیادہ بڑی سزا
  32. تیسرا باب شتم و ارتداد
  33. فقہی مسئلہ، شرعی مسئلہ
  34. قول بلا فعل
  35. سامان تضحیک
  36. متفرقات
  37. اخباری بیان
  38. ایک ملاقات
  39. غلط ترجمانی
  40. اشتعال انگیزی نہیں
  41. ملاحظات
  42. جلوس کی سیاست
  43. چند تبصرے
  44. دونوں یکساں
  45. ناقابل فہم
  46. قلم کا جواب قلم
  47. شاتم رسول کی سزا
  48. ابن تیمیہ کی کتاب
  49. ذاتی حق کامعاملہ نہیں
  50. دفاع نہ کہ حد
  51. قیاسی مسئلہ
  52. قران سے استدلال
  53. حدیث سے استدلال
  54. فقہ سے استدلال
  55. پیغمبر اور مستہزئین
  56. زیادہ بڑا مجرم
  57. چوتھا باب مصلحت دعوت
  58. حالات سے بلند ہو کر
  59. پیغمبر کا نمونہ
  60. دعوتی تصویر
  61. بدنامی سے بچت
  62. مزید مثالیں
  63. زیادہ قابل لحاظ
  64. اغیار کو موقع نہ دینا
  65. دو اقتباس
  66. دور اول کی مثال
  67. مستقبل پر نظر
  68. اگلی نسلوں کا انتظار
  69. اج کا دشمن کل کا دوست
  70. اسلام قبول کرنے کے بعد
  71. خدائی ضمانت
  72. خدائی حفاظت
  73. اصل ذمہ داری سے غفلت
  74. پہلا کام اتمام حجت
  75. شتم رسول کا مسئلہ
  76. ڈائری سے انتخاب
  77. پانچواں باب جدید ذہن اور اسلام
  78. ہجر جمیل
  79. غیر فطری رد عمل
  80. دعوت کے حدود
  81. کارٹون
  82. پیغمبر کے نام پر غیر پیغمبرانہ روش
  83. اعراض کی ضرورت
  84. کارٹون کا مسئلہ
  85. بے فائدہ عمل
  86. جذباتی ہنگامہ ارائی
  87. دو اپشن
  88. قصاص کا اصول
  89. پرامن احتجاج
  90. حبل اللہ، حبل الناس
  91. سماجی جرم، اعتقادی جرم
  92. سزا کا تعلق خدا سے
  93. عفوودرگزر کا حکم
  94. شتم اور ارتداد
  95. تاریخ کا سبق
  96. قومی توہین
  97. توہین رسول
  98. دلیل یا سزا
  99. اختلاف رائے کا کیس
  100. تحفظ نبوت، تحفظ کار نبوت
  101. مثبت جواب
  102. نبی رحمت کا طریقہ
  103. خاتمہ سوچنے کی بات
  104. اصل مسئلہ
  105. جدید اسلامی لٹریچر
  106. مثبت طریق کار
  107. قابل تقلید نمونہ
  108. خاموشی کی طاقت
  109. اصل کام
  110. سوال و جواب
  111. خاتمہ کلام

ڈائری سے انتخاب p. 243

زیرِ نظر مضمون مولانا وحید الدین خاں صاحب کی ڈائری سے جمع کیے گئے ہیں p. 243

18 فروري 1989 p. 243

نئي دهلي كے انگريزي اخبار ٹائمس آف انڈيا نے اپنے شماره 18 فروري 1989 ميں ’’شيطاني آيات‘‘ كے مصنف سلمان رشدي كے معامله پر اڈيٹوريل لكھا هے جس كا عنوان هے p. 244other source

Satanic fall-out p. 244

اس اڈيٹوريل ميں ايران كے آيت الله خميني كے اس ’’فتوى‘‘ پر تنقيد كي گئي هے كه سلمان رشدي كو مسلمان قتل كرديں۔ اخبار كے اڈيٹر دليپ پيڈگاؤنكر نے لكھا هے كه ايك فارن نيشنل جو فارن لينڈ ميں رهتا هو، اس كے خلاف اس قسم كي كارروائي دهشت گردي (Terrorism) كے هم معني هے۔ اسي كے ساتھ اڈيٹر نے ايك بهت قيمتي بات لكھي هے۔ اس نے لكھا هے  اسلام كو آيت الله كي جامد، غير روادار اور جارحانه تعبير ِدين كے هم معني قرار نهيں ديا جاسكتا۔ p. 244original + quote

''Islam cannot be equated with the Ayatullah’s rigid, intolerant and aggressive interpretation of it.'' p. 244

اس كا مطلب يه هے كه خمينيت الگ چيز هے اور اسلام الگ چيز۔ بلاشبه حقيقت واقعه يهي هے۔ مگر ٹائمس آف انڈيا كے ايڈيٹر كي زبان سے اس حقيقت كا اعتراف بتاتا هے كه اس ملك ميں اگر كچھ متعصب لوگ بستے هيں تو اسي كے ساتھ بهت سے لوگ ايسے بھي هيں جو تعصب اور فرقه واريت سے اوپر اٹھ كر سوچتے هيں۔ p. 245

21 فروري 1989 p. 245

17 فروري 1989 كو ٹائمس آف انڈيا اور دوسرے اخبارات ميں صفحه اول پر يه خبر تھي كه ايران كے امام خميني نے اعلان كيا هے كه ’’سيٹنك ورسز‘‘كے مصنف سلمان رشدي كو قتل كردے اس كو ايك بڑا انعام ديا جائے گا۔ p. 245other source

سلمان رشدي انگلينڈ كے شهري هيں۔ خميني كے اس اعلان كے بعد هر طرف كھلبلي مچ گئي۔ آخر كار 19 فروري كو يه خبر آئي كه سلمان رشدي نے اپني مذكوره نزاعي كتاب پر معافي مانگ لي هے۔ اگرچه ايراني حكومت نے اس كے بعد بھي اس كي جان بخشي نهيں كي۔ p. 245

اس خبر پر تبصره كرتے هوئے مسٹر ارن شرما (دهلي كے ايك انگلش جرنلسٹ) نے كها كه خميني نےاس بات كو يقيني بتا ديا كه اب صديوں تك يه كتاب چھپتي رهے p. 245other source

''Khomaini has ensured reprint of Satanic Verses for centuries to come.'' p. 246

ٹائمس آف انڈيا (21 فروري 1989) ميں صفحه آخر پر ايك رپورٹ هے جس ميں سلمان رشدي كي كتاب پر مختلف لوگوں كے تبصرے نقل كئے گئے هيں۔ خوشونت سنگھ نے كها كه ناول كي حيثيت سے بھي شيطاني آيات كوئي پڑھنے كے قابل كتاب نهيں۔ p. 246original + quote

مسلمان اگر اس كے خلاف شوروغل نه كرتے تو يه كتاب اپنے آپ ختم هوجاتي۔ مگر انھوں نے شوروغل كركے غير ضروري طورپر اس كتاب كو زندگي دے دي۔ p. 246

23 فروري 1989 p. 246

آج كل ساري دنيا كے مسلمان سلمان رشدي كي كتاب (سيٹينك ورسز) كے خلاف هنگامه كھڑاكئے هوئے هيں۔ آيت الله خميني اور ايراني حكومت كي طرف سے انعام كے اعلان كے بعد اس ميں مزيد بهت زياده تيزي آگئي هے۔ p. 246

اس نے اخباروں كو ايك نيا پر شور عنوان دے ديا هے۔كيونكه اس طرح كي چيزيں عوام ميں خوب پڑھي جاتي هيں۔ جائزے سے معلوم هوا هے كه اخباروں ميں جو اڈيٹوريل هوتے هيں، ان كو صرف 3 في صد لوگ پڑھتے هيں۔ جب كه بڑے بڑے جرائم كي خبريں صد في صد پڑھي جاتي هيں۔ Readability factor كے لحاظ سے كرائم (جرم) كو اخباري صفحات ميں ٹاپ كي جگه حاصل هے۔ اخباروں كا يهي مزاج هے جس نے سلمان رشدي كے خلاف مسلمانوں كے هنگاموں اور توڑ پھوڑ اور قتل كے منصوبوں كو اخبارات كے صفحه اول پر جگه دے دي هے۔ p. 247

اب فرض کیجیے كه ايك مسلمان ٹيلي فون پر سلمان رشدي سے ملاقات كا اپائنٹمنٹ ليتا۔ وه رات كو نمازيں پڑھ كر الله سے دعا كرتا كه خدايا، تو سلمان رشدي كو هدايت عطا فرما۔ اس كے بعد وه اگلے دن سلمان رشدي سے ملاقات كرتا اور تنهائي ميں دل سوزي اور خير خواهي كے ساتھ اس كو نصيحت كرتا ۔ اگر كوئي مسلمان ايسا كرتا تو الله كي نظر ميں وه سب سے بڑا واقعه هوتا۔ مگر اخبار والوں كے نزديك وه اتنا غير اهم هوتا كه گوشه كي چند سطري خبر ميں بھي اس كو جگه نه ملتي۔ p. 247unverified

موجوده زمانه كے مسلمان ان كاموں كو تو بهت دھوم كے ساتھ كررهے هيں جو اخباروالوں كے نزديك اهم هيں۔ مگر ان كاموں سے انھيں كوئي دلچسپي نهيں جو الله تعالي كے يهاں اهميت ركھتے هيں۔ بلاشبه موجوده زمانه كے مسلمانوں كي بربادي كي سب سے بڑي وجه يهي هے۔ p. 247

24 فروري 1989 p. 247

اخبار قومي آواز (22 فروري 1989) ميں ايك مسلم ليڈر كا مراسله چھپا هے۔ وه سلمان رشدي كي كتاب (Satanic Verses) كے خلاف غم وغصه كا اظهار كرتے هوئے لكھتے هيں كه مسلمان اپنے رسول كي توهين كو كسي قيمت پر برداشت نهيں كرسكتا۔ p. 248other source

آج كل هر مسلم اخبار يا رساله ميں اس قسم كے الفاظ چھپ رهے هيں۔ ميرے نزديك يه مسلمانوں كا اپنا بنايا هوا دين هے۔ اس كا خدا اور رسول كے دين سے كوئي تعلق نهيں۔خدا ورسول كے دين ميں اصل اهميت دعوت كي هے۔ نه كه ان چيزوں كي جن كو موجوده مسلمان اهميت دیے هوئے هيں۔ p. 248

اسلامي نقطه نظر سے صحيح بات يه هے كه يه كها جائے كه ’’مسلمان دعوت كے مواقع كي بربادي كو كسي قيمت پر برداشت نهيں كرسكتا۔‘‘ مسلمانوں نے سلمان رشدي كے خلاف جو شوروغل كيا هے اس كا واحد نتيجه يه هوا هے كه دعوت كے مواقع ناقابل تلافي حد تك برباد هوگئے۔ سلمان رشدي نے مذكوره كتاب لكھ كر اپنے آپ كو بدنام كيا تھا مگر مسلم رهنماؤں نے اس كے خلاف هنگامه كركے اسلام كو بدنام كيا هے۔ اصل اهميت كي چيز مواقع دعوت كا تحفظ تھا نه كه ’’توهينِ رسالت‘‘ پر بھڑك كر قتل وغارت گري شروع كردينا۔ p. 248

6 مارچ 1989 p. 248

بعدكے مسلم علماء نے يه مسئله بنا ليا هے كه جو شخص رسول الله صلي الله عليه وسلم پر طعن كرے وه لازماً قتل كيا جائے۔ اس مسئله كے حق ميں كوئي صريح نص قرآن وحديث ميں موجود نهيں هے۔ يه مسئله تمام تر قياسي اور استنباطي هے۔ رسول الله صلي الله عليه وسلم كي زندگي ميں عرب كے بے شمار لوگوں نے آپ پر طعن كيا۔ مگر آپ نے انھيں قتل نهيں كيا۔ حقيقت يه هے كه اگر آپ ايسا كرتے تو اسلام كي تاريخ هي نه بنتي۔ كيونكه يهي لوگ تھے جو بعد كو مومن هو كر اسلام كي طاقت كا ذريعه بنے۔ p. 248

ابن القيم نے اپني كتاب زاد المعاد(جلد5،صفحہ61)ميں اس مسئله پر بحث كرتے هوئے لكھا هے كه قديم عرب ميں ايسے لوگ تھے جنھوں نے رسول الله صلي الله عليه وسلم كي عدالت پر قدح كيا۔ مگر آپ نے انھيں قتل نهيں كيا۔ اس كي وجه يه هے كه اس كاآپ كو حق حاصل تھا۔ آپ كو آزادي تھي كه خواه ايسے شخص كو سزا ديں يا اسے چھوڑ ديں۔ مگر آپ كي امت كے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق كو وصول کرنا ترك کردے(فَذَلِكَ أَنَّ الْحَقَّ لَهُ، فَلَهُ أَنْ يَسْتَوْفِيَهُ، وَلَهُ أَنْ يَتْرُكَهُ، وَلَيْسَ لِأُمَّتِهِ تَرْكُ ‌اسْتِيفَاءِ حَقِّهِ صلى الله عليه وسلم)۔ p. 249unverified

ابن قيم كي يه توجيه نهايت كمزور هے۔ حقيقت يه هے كه اگر اس قسم كي توجيه كو شريعت ميں معتبر مان ليا جائے تو شريعت كا سارا نظام بگڑ كر ره جائے گا۔ p. 249

6 اپريل 1989 p. 249

پيارے لال بھون (نئي دهلي) كے ايك اجتماع ميں شريك هوا اور منتظمين كي دعوت پر مختصر تقرير هوئي۔ يه اجتماع ايك انگريزي كتاب كے اجراء (Release) كي تقريب پر كياگيا تھا۔ يه كتاب ڈاكٹر ماجد علي خاں نے Satanic Verses كے جواب ميں لكھي هے اور اس كا نام The Holy Verses هے۔ p. 249

ميرا تاثر يه تھا كه كوئي شخص بھي سنجيده نهيں۔ نه سننے والے اور نه سنانے والے۔ جو صاحب اس اجتماع كے چيف گيسٹ تھے، انھوں نے اپني تقرير ميں ’’سلمان رشدي‘‘ كا نام نهيں ليا۔ انھوں نے كها ميں اس ملعون كا نام لے كر اپني زبان كو گندا كرنا نهيں چاهتا۔ ان كے اس جمله پر زوردار تالياں بجائي گئيں۔ مگر جب وه اپني تقرير كو مكمل كركے واپس آئے تو ميں نے سنا كه سب سے پهلے انھوں نے سلمان رشدي كا نام ليا۔ ميرے اور مذكوره چيف گيسٹ كے درميان صدر صاحب بيٹھے هوئے تھے۔ انھوں نے صدر صاحب سے كها ’’ميري سمجھ ميں نهيں آتا كه اس شخص نے اپنا نام رشدي كيوں ركھا۔ ايسا معلوم هوتا هے كه يه شخص اپنا ذهني رشته ابن رشد سے جوڑتا هے، كيونكه وه بھي ايك گمراه آدمي تھا۔‘‘ p. 249

14ستمبر 2007 p. 250

آج رمضان 1428ہجری کی پہلی تاریخ ہے ۔ حدیث میں روزے کے بارے میں آیا ہے کہ  مَنْ ‌لَمْ ‌يَدَعْ ‌قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1903)۔ یعنی، جس نے قولِ زُور اور عمل زور ترک نہیں کیا، اللہ کے نزدیک اس کے کھانا اور پانی چھوڑنے کی کوئی اہمیت نہیں۔ p. 250original + quote

اِس حدیث میں قولِ زُورکا مطلب ہے واقعہ کے خلاف بولنا۔ عمل ِزور یعنی جھوٹ پر عمل کرنا کیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ جھوٹ کی بنیا د پر اپنا عملی منصوبہ بنایا جائے۔ مثلاً کسی کو یہ فرضی الزام دیا جائے کہ اس نے رسول اللہ کا شتم کیا ہے اور پھر اس کے قتل کا فتویٰ دے دیا جائے ۔ اِسی طرح مثلاً یہ دعویٰ کیا جائے کہ امریکا اسلام دشمن ہے اور پھر اس کے خلاف ہر قسم کے تشدد کو دفاعِ اسلام قرار دے کر جائز بتایا جائے۔ p. 250

14دسمبر 2007 p. 250

آج راشٹریہ سہارا (اردو)کے نمائندہ مسٹر اسجد ندوی آئے ۔ انھوں نے اپنے اخبار کے لیے شتم ِ رسول کے مسئلے پر ایک انٹرویو کیا۔ میں نے کہا کہ اگر چہ فقہا کی اکثریت یہ مانتی ہے کہ شاتم ِ رسول کو قتل کیا جائے گا (يُقتل حدّاً)،لیکن یہ رائے تمام تر قیاس اور اجتہاد پر مبنی ہے ۔ اِس کے حق میں کوئی صریح نص موجود نہیں،یعنی اِس طرح کا جملہ قرآن یا حدیث میں موجود نہیں کہ’’ مَن شَتَمَ رَسُولَكُم فَاقتُلُوهُ‘‘ جو تمھارے رسول کی شتم کرے اس کو قتل کردو)۔ p. 251unverified

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سارے انسانوں کے خیر خواہ تھے۔ میرے نزدیک سب سے بڑا شتم رسول یہ دعویٰ كرنا هے کہ پیغمبر اسلام نے اپنے پیروؤں کو یہ حکم دیا ہے کہ میری شان میں گستاخی کرنے والے هر شخص كو قتل كردو۔ ميرا ماننا هے كه ایسا کہنا رسول اللہ کو ’’رحمت للعالمین‘‘کی حیثیت سے گرانا ہے ۔ p. 251original + quote

18فروری 2013 p. 251

میں ذاتی طور پر اس مسئلے کو غلط سمجھتا ہوں کہ توہین رسول یا شتم ِ رسول ایک قابلِ سزا جُرم ہے ۔ یہ مسئلہ نہ قرآن میں ہے اور نہ حدیث میں ۔ عباسی دور کے فقہاءنے یہ مسئلہ بنایا ۔ میں ذاتی طور پر اِس کو فقہی بدعت سمجھتا ہوں۔ p. 251

اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ توہین رسول کا مسئلہ توہین محمد کا مسئلہ نہیں ہے ۔ خود فقہاء کے مطابق، اس کا تعلق خدا سے، تمام رسولوں سے اور پیغمبر اسلام سے ہے ۔ مگر عملاً دیکھئے تو مسلمانوں نے اس کو تو ہین محمد کے ہم معنی بنا رکھا ہے۔ خدا کے خلاف سخت ترین باتیں ہوتی ہیں ۔لیکن کوئی مسلمان اس پر نہیں بھڑکتا ۔ دوسرے مسلمانوں کی توہین کی جاتی ہے لیکن اس پربھی کوئی نہیں بھڑکتا ۔ مسلمان استثنائی طور پر صرف پیغمبر اسلام کی توہین پر بھڑکتے ہیں ۔ یہ بلاشبہ جاہلیت ہے خود فقہی مسئلے کے مطابق، مسلمانوں کی یہ روش اسلامی روش نہیں ۔ یہ ایک خود ساختہ شریعت ہے نہ کہ اسلامی شریعت۔ p. 251

17اپریل 2006 p. 252

مجلس التحقیق العلمی(لاہور)کے ترجمان ماہ نامہ محدّث کے شمارہ مارچ 2006میں ایک مضمون اِس عنوان کے تحت شائع ہوا ہے p. 252other source

توہین رسالت اور احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم p. 252

اِس مضمون کے لکھنے والے شیخ الحدیث مولانا محمد علی جاں باز ہیں۔اپنے اس مضمون میں انھوں نے شتم رسول کے متعلق ایک حدیث اس طرح نقل کی ہے مَنْ سَبَّ نَبِيّاً قُتِلَ، وَمَنْ سَبَّ أَصْحَابَهُ جُلِدَ(صفحه41)۔یہ حدیث انھوں نے ابن تیمیہ کی کتاب الصارم المسلول( صفحه 92)کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ میں نے ابن تیمیہ کی کتاب میں اِس حدیث کو نکالا۔ معلوم ہوا کہ یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں ہے ۔ وہ بعض ایسی کتابوں کے حوالے سے ہے جن میں رطب و یا بس روایتیں بھرئی ہوئی ہیں۔ مزید یہ کہ خود ابن تیمیہ نے اس روایت کو ضعیف بتایا ہے’’هَذَا الإِسْنَادُ الشَّرِيفُ قَدْ رُكِّبَ عَلَيْهِ مُتُونٌ نَكِرَةٌ، وَالمُحَدِّثُ بِهِ عَنْ أَهْلِ البَيْتِ يُعَدُّ ضَعِيفًا‘‘ ( الصارم المسلول لابن تیمیہ، صفحہ 93)۔ ایسی حالت میں اس حدیث کو لے کر سبّ و شتم کر نے والے شخص کے قتل کا فتویٰ دینا خود ایک ناقابلِ معافی جسارت ہے۔ p. 252original + quote

19اپریل2000 p. 252

بدنام کتابSatanic Versesکے مصنف سلمان رشدی آج کل ہندوستان میں ہیں۔ اس نسبت سے ان کی شخصیت اور ان کی کتاب کے بارے میں ہندوستان کے اخباروں میں رپورٹیں آرہی ہیں۔ دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کے نمائندہ نے آج ٹیلی فون پر مجھ سے اس موضوع پر تبصرہ پوچھا۔ میں نے کہا کہ میں نے اس موضوع پر ایک مستقل کتاب شائع کی ہے۔ میں اسمعاملہ میں آیت اللہ خمینی کے فتویٰ کو غلط سمجھتا ہوں۔ اسلام میں یہ تعلیم نہیں دی گئی ہے کہ کوئی شخص گستاخی کرے تو اس کو قتل کردو۔میں نے کہا کہ سیٹنک ورسز ایک انتہائی لغو کتاب تھی اور اس کا صحیح جواب یہ تھا کہ اس کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جائے میں نے کہا کہ اس قسم کی چیزوں کے بارے میں اسلام کے خلیفہ ثانی عمر فاروق نے کہا ہے کہ ’’أَمِيتُوا الْبَاطِلَ بِالصَّمْتِ عَنْهُ‘‘۔ یعنی باطل کو ختم کرو اس کے بارے میں خاموشی اختیار کرکے p. 253original + quote

''Kill the falsehood by observing silence over it.'' p. 253

ٹائمس آف انڈیا کے نمائندہ کو حضرت عمر کا یہ قول بہت پسند آیا۔ اس نے کئی بار اس کو دہرایا۔ اصل یہ ہے کہ آج کا انسان تشدد سے نفرت کرتا ہے۔ اس کو صرف امن کی بات اچھی لگتی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان جدید دور کے انسان کی اس نفسیات کو نہیں سمجھتے وہ مختلف انداز میں تشدد کی باتیں کرتے ہیں۔ اور اس طرح لوگوں کو اسلام سے بیزارکررہے ہیں۔ p. 253original + quote

5جون2001 p. 253

ایران کے صدر محمد خاتمی نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ سلمان رشدی کے خلاف قتل کے فتویٰ کے معاملہ کو اب ختم سمجھنا چاہیے۔ ایران حکومت کے سامنے ایسا کوئی منصوبہ نہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ’’رشدی کو قتل کرو‘‘کا نعرہ ساری دنیا کے مسلمانوں کا متفقہ نعرہ تھا۔ مسلم دنیا میں مَیں اکیلا تھا، جس نے اس معاملہ میں اختلاف کیا اور اس کے خلاف ایک مستقل کتاب لکھی جو(زیرِ نظر کتاب کی صورت میں) ’’شتم رسول کا مسئلہ‘‘ کے نام سے چھپ چکی ہے۔ آج تمام دنیا کے مسلمان، بشمول ایران میری رائے پر آچکے ہیں۔ مگر لوگوں کے اندر یہ جرأت نہیں کہ وہ کھلے طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کریں۔ p. 254original + quote

پانچواں باب p. 254