Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
قرآن سے استدلال p. 160
ابن تیمیہ اپنی اس کتاب (الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول) کی ایک فصل ( ’’المَسْأَلَةُ الأُولَى أَنَّ مَنْ سَبَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مُسْلِمٍ أَوْ كَافِرٍ فَإِنَّهُ يَجِبُ قَتْلُهُ‘‘)میں لکھتے ہیں کہ جہاں تک ایسی آیتوں کا تعلق ہے جو شاتم کے کفر اور اس کے قتل پر دلالت کرتی ہوں تو ایسی آیتیں قرآن میں بہت ہیں ’’وَأَمَّا الآيَاتُ الدَّالَاتُ عَلَى كُفْرِ الشَّاتِمِ وَقَتْلِهِ... فَكَثِيرَةٌ ‘‘ (صفحہ28)۔ p. 160original + quote
مگراس کے بعد اس کے ثبوت میں انھوں نے جو آیتیں نقل کی ہیں ، ان کا قتل شاتم کے نظریہ سے کوئی تعلق نہیں ۔ ان کی پیش کی ہوئی چند آیتوں کا ترجمہ یہ ہے p. 161
اور ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو پیغمبر کو دکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص تو کان ہے۔ کہو کہ وہ تمہاری بھلائی کے لیے کان ہے۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اہل ایمان پر اعتماد کرتا ہے۔ اور وہ رحمت ہے ان کے لیے جو تم میں اہل ایمان ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ دیتے ہیں ، ان کے لیے دردناک سزا ہے۔ وہ تمہارے رب کے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو راضی کریں ۔ حالانکہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ حقدار ہیں کہ وہ اس کو راضی کریں ۔اگر وہ مومن ہیں۔ کیا ان کو معلوم نہیں جو اللہ اوراس کے رسول کی مخالفت کرے، اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ یہ بہت بڑی رسوائی ہے(9:61-63)۔ p. 161original + quote
ان آیتوں میں ایسے لوگوں کا ذکر تو یقینا ہے جنھوں نے پیغمبر کو اذیت پہنچائی تھی۔ مگر ان میں صراحۃً یا اشارۃً کسی بھی انداز میں یہ حکم موجود نہیں کہ ایسے لوگوں کو قتل کردو۔ ان آیتوں میں صرف جہنم کی آگ اور آخرت کے رسو اکن عذاب کا ذکر ہے، گویا یہ آیتیں مسلمانوں سے کہہ رہی ہیں کہ تم ان ’’شاتمین‘‘ سے اعراض کا طریقہ اختیار کرو۔ ان کا جو جرم ہے، اس کی سزا انھیں قیامت میں دی جائے گی۔ تمہارا کام دعوت دینا ہے اور اللہ کاکام محاسبہ کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان آیتوں سے قتل شاتم کا مسئلہ نکالنا لغت اور تفسیر کے علم سے کشتی لڑنے کے ہم معنی ہے۔ p. 161
دوسری آیت جو ابن تیمیہ نے قتل شاتم کے ثبوت میں پیش کی ہے، اس میں صرف یہ ہے کہ تم مخالفین رسول سے دوستی نہ رکھو۔ اس کے علاوہ سزائے قتل کا اس میں بھی مطلق کوئی ذکر نہیں ۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے p. 161
تم ایسی قوم نہ پاؤگے جو اللہ پر اورآخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اور وہ ایسے لوگوں سے دوستی رکھے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہیں، اگرچہ وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے خاندان والے کیوں نہ ہوں۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے۔ اور ان كو اپنے فیض سے قوت دی ہے۔ اور وہ ان کو باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا، اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہی لوگ اللہ کا گروہ ہیں اور اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والا ہے(58:22)۔ p. 162Qur'an
اس دوسری آیت کے تحت ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ یہ کہا گیا ہے کہ اس کے نزول کا سبب یہ ہے کہ ابو قحافہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شتم کیا تو ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو قتل کرنا چاہا۔ یا یہ کہ ابن ابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص کی تو اس کے بیٹے نے رسول اللہ صلی علیہ وسلم سے اس کے قتل کی اجازت مانگی۔ اس لیے ثابت ہو گیا کہ رسول سے مخالفت کرنے والا کافر اور قابلِ قتل ہے’’وَقَدْ قِيلَ إِنَّ مِنْ سَبَبِ نُزُولِهَا أَنَّ أَبَا قُحَافَةَ شَتَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرَادَ الصِّدِّيقُ قَتْلَهُ، أَوْ أَنَّ ابْنَ أَبِي تَنَقَّصَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنَ ابْنُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَتْلِهِ لِذَلِكَ، فَثَبَتَ أَنَّ الْمُحَادَّ كَافِرٌ حَلَالُ الدَّمِ‘‘( صفحہ 29)۔ p. 162original + quote
ابن تیمیہ کے یہ الفاظ دلیل نہیں ہیں بلکہ دھاندلی ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ مذکورہ دونوں واقعہ میں ابوبکر صدیق اور ابن اُبی کے بیٹے (عبداللہ) کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ اے خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، اگر آپ اجازت دیں تو میں اس کو قتل کردوں۔ مگر بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی۔ اس واقعہ کا اگلہ حصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں سے کسی کے بھی قتل کی اجازت نہیں دی۔ چنانچہ دونوں ’’شاتم‘‘زندہ رہے اور اپنی طبعی موت مرے۔ (ابو قحافہ کی تفصیل کےلیے دیکھیے، اسباب النزول للواحدی ، سورہ المجادلہ، آیت 22، صفحہ 414 ؛الاصابۃ لابن حجر، جلد4، صفحہ 375، اور عبد اللہ بن ابی کے واقعہ کے لیے دیکھیے، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب لابن عبد البر،جلد3، صفحہ 941 ) p. 162original + quote
ظاہر ہے کہ ان واقعات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ سے شریعت کا حکم اخذ کیا جائے گا ، نہ کہ دو مسلمانوں کے ان الفاظ سے جو ہنگامی حالت میں ان کی زبان سے نکل پڑے تھے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تصدیق نہیں فرمائی۔ p. 162
موجودہ زمانہ میں سلمان رشدی کا کیس سامنے آنے کے بعد جو لوگ اس قتل کی وکالت کررہے ہیں، انھوں نے بھی اس سلسلہ کی کثرت سے مضامین اور بیانات شائع کیے ہیں۔ ان مضامین میںبھی یہ دعوی کیا گیا ہے کہ شاتم کو قتل کرنے کا مسئلہ قرآن سے ثابت ہے۔ مگر ان سب کی دلیلیں بھی اسی طرح بے اصل ہیں جس طرح ابن تیمیہ کی دلیل بالکل بے اصل ہے۔ p. 163
مثال کے طور پر پاکستان کے عالم مولانا قاضی مظہر حسین صاحب، رشدی کے خلاف ایک مضمون میں لکھتے ہیںکہ ’’رشدی جیسے ملعون کا واجب القتل ہونا کئی آیات سے ثابت ہوا ہے‘‘ (ماہنامہ حق چار یار، لاہور، جون1989)۔ اس کے بعد انھوں نے قرآن کی ایک آیت پیش کی ہے، اس آیت کا ترجمہ حسب ذیل ہے p. 163unverified
بے شک جو لوگ اللہ کو اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں، اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت دیتے ہیں، بغیر اس کے کہ انھوں نے کچھ کیا ہو، تو انہوں نے بہتان کا اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھایا (33:57-58)۔ p. 163Qur'an
اس آیت میں رسول کو ایذاء پہنچانے کا ذکر تو ضرور ہے۔ مگر اس میں یہ حکم قطعاً موجود نہیں کہ ایذاء پہنچانے والے شخص کو قتل کردو۔ اس آیت میں صرف خدا کی لعنت اور خدا کے عذاب کا ذکر ہے۔ دنیا کے قانونی سزا کے ذکر سے یہ آیت بالکل خالی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صاحبِ مضمون نے قرآن سے لفظ ’’ایذاء‘‘ لیا، اور ’’قتل‘‘ کا لفظ اس میں اپنی طرف سے جوڑ دیا۔ اگر اس طرح سے بھی کوئی بات ثابت ہو تی ہو تو کون سی بات ہے جو قرآن سے ثابت نہ کی جاسکے۔ p. 163
جس شخص نے بھی قتلِ شاتم کے مسئلہ کو قرآن سے ثابت کرنا چاہا ہے، اس نے اسی قسم کا انداز اختیار کیا ہے جس کی دو مثالیں اوپر نقل کی گئیں ۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سارے قرآن میں ایسی کوئی آیت موجودہی نہیںجس میں یہ حکم دیا گیا ہو کہ شاتم کو قتل کر دو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام تر ایک خود ساختہ مسئلہ ہے ۔ اس کا خدا کی کتاب سے قطعاًکوئی تعلق نہیں۔ p. 164