Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
غزوۂ موتہ p. 145
جمادی الاولیٰ8ھ p. 145
موتہ ایک مقام کا نام ہے جو شام کی سرحد پر واقع تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سلاطین اور امراء کے نام دعوت اسلام کے خطوط روانہ فرمائے تو شرحبیل بن عمر غسانی کے نام بھی ایک خط روانہ کیا۔ شرحبیل قیصر کی طرف سے شام کا امیر تھا۔ حارث بن عمیر جب آپ کا خط لے کر مقام موتہ پہنچے تو شرحبیل نے ان کو قتل کرا دیا۔ اس کے بعد آپ نے تین ہزار کا لشکر جمادی الاولیٰ میں موتہ کی طرف روانہ کیا۔ p. 145
زید بن حارثہ کو امیر لشکر مقرر کیا اور یہ کہا کہ اگر زید قتل ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالب امیر لشکر ہوں اور اگر جعفر بھی قتل ہو جائیں تو عبداللہ بن ابی رواحہ امیر لشکر ہوں اور اگر عبداللہ بھی قتل ہو جائیں تو مسلمان جس کو چاہیں اپنا امیر بنالیں۔ p. 145
اور ایک سفید جھنڈا زید بن حارثہ کو دیا اور کہا کہ وہاں پہنچنے کے بعد ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا جب دعوت قبول نہ کریں تب ان سے قتال کرنا۔ اور وصیت کی کہ ہر حال میں تقویٰ اور پرہیز گاری کو ملحوظ رکھنا، اپنے ساتھیوں کی خیر خواہی کرنا۔ p. 145
جب شرحبیل کو اس لشکر کی روانگی کا علم ہوا تو ایک لاکھ کا لشکر مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے جمع کیا۔ اسی کے ساتھ ہر قل بھی مزید ایک لاکھ کی فوج لے کر شرحبیل کی مدد کے لیے پہنچا۔ جب مسلمانوں کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا۔ آخر میں یہ طے ہوا کہ مقابلہ کیا جائے اور موتہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جنگ شروع ہوئی اور یکے بعد دیگرے زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ شہید ہوگئے۔ آخر میں اتفاق رائے سے خالد بن ولید کو امیر لشکر بنایا گیا۔ حضرت خالد نے محسوس کیا کہ یہ مقابلہ بالکل غیر متناسب ہے کیونکہ مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار ہے اور دشمنوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہے اس لیے وہ خاص تدبیر کرکے مدینہ واپس آگئے۔ بعد کو اسامہ بن زید کی سرداری میں مسلمانوں نے پیش قدمی کی اور ان کے اوپر فتح حاصل کی۔ p. 146