Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
سریۂ دومۃ الجندال p. 131
شعبان6ھ p. 131
شعبان6ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے کہا میں تمہیں ایک مہم پر بھیجنے والا ہوں، تیار رہنا۔ اگلے روز جب نماز سے فارغ ہوئے تو عبدالرحمن کو بلایا اور اپنے ہاتھوں سے ان کے سر پر عمامہ باندھا اور جھنڈا دے کر سات سو لوگوں کے ساتھ ان کو دومۃ الجندل کی طرف روانہ کیا۔ روانگی کے وقت آپ نے ان کو یہ وصیت کی، خیانت نہ کرنا، غدر نہ کرنا، کسی کی ناک اور کان نہ کاٹنا، بچوں کو قتل نہ کرنا، اور اسلام پیش کرنا، اگر وہ لوگ دعوت قبول کر لیں تو وہاں کے رئیس کی بیٹی سے نکاح کرنے میں تامل نہ کرنا۔ p. 131unverified
چنانچہ عبدالرحمن بن عوف نے وہاں پہنچنے کے بعد لوگوں کو اسلام کی دعوت دی۔ تین دن تک ان کو اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ تیسرے دن دومۃ الجندل کے رئیس اصبع بن عمر نے اسلام قبول کر لیا اور ان کے ساتھ اور بہت سے لوگ بھی۔ اور ان کی بیٹی تماضر کی شادی حضرت عبدالرحمن سے ہوئی۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن جو مشہور تابعی ہیں، وہ ان ہی کے بطن سے پیدا ہوئے۔ اس نکاح کا مقصد قبیلہ سے رشتہ کا تعلق قائم کرکے اس کو اسلام کے قریب لانا تھا۔ p. 131