Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
واقعۂ افک p. 123
واقعۂ افک اسی سفر میں پیش آیا۔ حضرت عائشہ اس سفر میں آپ کے ساتھ تھیں۔ واپسی میں لشکر نے مدینہ کے قریب پہنچ کر ایک مقام پر قیام کیا۔ حضرت عائشہ قضاء حاجت کے لیے لشکر سے دور چلی گئیں۔ جب لوٹنے لگیں تو ہار ٹوٹ کر گر گیا جس کو تلاش کرنے میں دیر ہوگئی۔ اس اثناء میں لشکر کو کوچ کا حکم دے دیا گیا۔ ہودج کے پردے گرے ہوئے تھے۔ لوگوں نے سمجھا کہ حضرت عائشہ محمل میں ہیں۔اس لیے وہ محمل کو اونٹ پر رکھ کرروانہ ہوگئے۔ جب حضرت عائشہ واپس آئیں تو یہاں کوئی بھی نہ تھا۔ وہ اسی جگہ چادر لپیٹ کر لیٹ گئیں۔ p. 123
صفوان بن معطل جو قافلہ کی گری پڑی چیزوں کے اٹھانے کے لیے پیچھے رہا کرتے تھے۔ وہ حسب معمول وہاں آئے۔ انہوں نے حضرت عائشہ کو پہچان لیا۔ انہوں نے اناللہ و اناالیہ راجعون پڑھا۔ حضرت عائشہ کہتی ہیںوَاللهِ مَا كَلَّمَنِي كَلِمَةً، وَلَا سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً غَيْرَ اسْتِرْجَاعِهِ(مسند احمد، حدیث نمبر 25623)۔ یعنی، خدا کی قسم، صفوان نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی اور نہ میں نے ان کی زبان سے سوا’ان للہ‘ کے کوئی اور کلمہ سنا۔ p. 123original + quote
حضرت صفوان نے اپنا اونٹ لا کر حضرت عائشہ کے قریب بٹھایا۔ حضرت عائشہ اس پرسوار ہوگئیں اور حضرت صفوان نکیل پکڑ کر روانہ ہوئے۔ یہاں تک کہ بقیہ مسلمانوں سے مل گئے۔ جب منافقین کو اس کی خبر ہوئی تو وہ تہمت کی باتیں پھیلانے لگے۔ p. 123
اس واقعہ نے مدینہ میں فتنہ کی شکل اختیار کر لی۔ آخر کار حضرت عائشہ کی برأت میں سورہ النور کی آیتیں نازل ہوئیں اور یہ ہنگامہ ختم ہوا۔ p. 123original + quote