Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
سریہ ابی سلمہ عبداللہ بن عبدالاسد p. 117
محرم4ھ p. 117
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ خود اپنی طرف سے جنگی اقدام کا نہ تھا۔البتہ جب آپ کو خبر ملتی کہ فریق مخالف حملہ کرنے والا ہے تو آپ فوراً اس کی طرف اقدام فرماتے تھے۔اس طرح کی جن مہموں میں آپ خود شریک رہے ان کو غزوہ کہا جاتا ہے اور جو مہیمیں کسی صحابی کی سرداری میں بھیجی گئیں ان کو اصطلاحی طور پر سریہ کہا جاتا ہے۔ p. 117original + quote
یکم محرم الحرام4ھ میں آپ کو یہ خبر ملی کہ خویلد کے بیٹے طلیحہ اور سلمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ کے لیے اپنے لوگوں کو جمع کر رہے ہیں۔ تو آپ نے ابو سلمہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ڈیڑھ سو مہاجرین اور انصار کے ساتھ ان کے مقابلہ کے لیے روانہ فرمایا۔ وہ لوگ اس کی خبر پاتے ہی بھاگ گئے۔ p. 117
طلیحہ بن خویلد نے بعدکو اسلام قبول کر لیا۔ لیکن آپ کی وفات کے بعد اسلام سے پھر گئے۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان کے مقابلہ کے لیے خالد بن ولید کو روانہ کیا۔ طلیحہ بھاگ کر شام چلے گئے، اور تائب ہو کر پھر اسلام میں داخل ہوئے۔ اور مسلمانوں کے ساتھ برابر لڑائیوں میں شریک رہے۔ حضرت عمر کے عہد خلافت میں جنگ قادسیہ اور معرکہ نہاوند میں بھی شریک رہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ21ھ میں معرکہ نہاوند میں شہید ہوئے۔ طلیحہ کے دوسرے بھائی سلمہ مسلمان نہیں ہوئے۔ p. 118