Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
غزوۃ بنی قینقاع p. 108
شوال2ھ p. 108
قبیلہ بنی قینقاع یہودی عالم عبداللہ بن سلام کی برادری سے تعلق رکھتا تھا۔ ان کی شجاعت و بہادری مشہور تھی۔ اکثر لوگ زرگری کا کام کرتے تھے۔ پیغمبر اسلام ان کے بازار میں گئے اور ان کو جمع کرکے انہیں اسلام کا پیغام دیا۔ آپ نے کہا کہ اے گروہ یہود، تم لوگ اللہ سے ڈرو۔ بدر میں جس طرح قریش خدا کی پکڑ میں آگئے، ایسا نہ ہو کہ تم بھی اسی طرح خدا کی پکڑ میں آ جائو۔ اسلام کو مان لو، یقینا تم جانتے ہو کہ میں خدا کا بھیجا ہوا نبی ہوں۔ تم اس کو اپنی کتاب میں پاتے ہواور اللہ نے تم سے اس کا عہد لیا ہے۔ p. 108
یہود اس تقریر کو سن کر بگڑ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے آپ کا مقابلہ ایک ناواقف اور ناتجربہ کار قوم(قریش) سے تھا، جس میں آپ غالب ہوگئے۔ بخدا اگر ہم سے مقابلہ ہو تو آپ جان لیں گے کہ ہم مرد ہیں۔ p. 108original + quote
پیغمبر اسلام جب مکہ کو چھوڑ کرمدینہ آئے تھے تو وہاں کے یہودی قبائل بنی قینقاع اور بنی قریظہ اور بنی نضیر سے یہ معاہدہ ہوا تھا کہ ہم نہ آپ سے جنگ کریں گے اور نہ آپ کے دشمن کو کسی قسم کی مدد دیں گے۔ قینقاع نے عہد شکنی کی اور آپ سے جنگ پر آمادہ ہوگئے۔ یہ یہودی قبیلے مدینہ کے اطراف میں رہتے تھے۔ اس کے بعد پیغمبر اسلام نے مدینہ میں اپنی جگہ ابولبابہ بن عبدالمنذر انصاری کو مقرر کیا۔ اور بنی قینقاع کی بستی کی طرف روانہ ہوئے۔ یہود نے قلعہ میں داخل ہو کر اس کا دروازہ بند کر لیا۔ پیغمبر اسلام نے پندرہ شوال سے یکم ذی قعدہ تک ان کا محاصرہ کیا۔ آخر کار وہ لوگ دو ہفتہ بعد قلعہ سے اترے۔ آپ نے ان کو قتل نہیں کیا البتہ حکم دیا کہ ضروری سامان لے کر وہاں سے چلے جائیں۔ p. 108